tgindex
🌿ایک غلط سوچ🌿

🌿ایک غلط سوچ🌿

Статистика

لوگوں میں موجود غلط باتیں۔ ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر بہت سارے نظریات و عقائد اور خیالات ایسے ہیں جو شریعت اور سنت ﷺ کے مطابق قابل اصلاح ہیں۔ ان کی اصلاح کے لیے یہ ایک کوشش اور ایک قدم ہے۔ -:اقتباس:- 🔸 کتاب: ایک غلط سوچ 🔸 مصنف: سیف خان بابُر

Последний пост
11 июл.
Последнее чтение
14 авг.
Постов за неделю
0
Всего постов
20
Тип
открытый
Язык
ur
Категория
Книги
В каталоге с
13 авг.
Подписчики
1 138
−2 за 4 дн.
Сутки
0
0,00%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
2 786
20 постов
Вовлечённость
244,8%
к подписчикам
Постов в день
0,0
всего 20
Упоминаний
10
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
1/48двое суток
1/72трое суток

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • 11 июл.731из LinkkaSarChasma

    ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ ۲۴ محرم الحرام ۱۴۴۸هـ | 11 جولائی 2026م اردو زبان کے چند بہترین چینلز اور گروپس: ❍╍╍❨ فہرست  ◄ ❹ ❩╍╍❍ :- ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 🔴 تلاوت القرآن الکریم ▫️ مختلف قراء کی قراءت 🔴 علم العروض علم العروض کے مکمل اسباق 🔴 ڈاکٹر فرحت ہاشمی موصوف کے بیانات 🔴 دلچسپ اور عجیب معلومات  چینل ▫️ کہانیاں اور دلچسپ معلومات سینڈ 🔴 پیغام انسانیت سلسلے وار پوسٹ 🔴 صحیح البخاری ترجمہ اور تشریح حافظ عبد الستار الحمادپرمشتمل 🔴 اسلامک اردو شاعری - Islamic Urdu Poetry اچھے اشعار کا مطالعہ کیا جائے تو وہ انسان کو بھلائی کے راستے پر لگاتے ہیں 🔴 ڈاکٹر اسرار احمد صاحب آفیشل چینل موصوف کے بیانات 🔴 قرآنی دعائیں ▫️قرعانی دعائیں 🔴 میر تقی میر ▫️ اشعار کے لیے 🔴 قرآن کریم سـے نصیحت ▫️ قران و حدیث کی تعلیم 🔴 قرآن کورین ٹرانسلیٹ ▫️ ترجمہ کورین زبان 🔴 العقیدہ ▫️ انسان کی دنیوی و آخروی زندگی کا صحیح عقیدہ 🔴 زندگی بدلنے والے اقوال مثبت سوچ اور کامیاب زندگی کی طرف ایک قدم 🔴 اسلام کی بیٹیاں ▫️ اصلاح معاشرہ کے لئے 🔴 کائن ماسٹر سیکھیں || kain mastar ▫️ کائن ماسٹر مکمل معلومات حاصل کرنے کے لئے 🔴 چینل دارالکتب ▫️ ہرطرح اور ہر موضوع کی کتاب 🔴 ڈاکٹر اسرار احمدصاحب گروپ ▫️ موصوف کے بیانات 🔴 پیام انسانیت ▫️ ایک سے بڑھ ایک اسلامک پوسٹ 🔴 اشعار غالب دلچسپ اور خوبصورت شعر وشاعری 🔴 واقعات و حکایات عمدہ قسم کے سبق آموز واقعات وحکایات 🔴 قاری عبدالحنان اوفیشل موصوف کے بیانات 🔴 مفتی طارق مسعود آفیشل مشہور و معروف عالم کے بیانات اور اپڈیٹس 🔴 محسن ملت روحانی مرکز جادو,سحر,سفلی پڑھائی کاکاٹ ,جسمانی مرض علاج 🔴 اولیاء اللہ کی باتیں اولیاء اللہ کی باتوں امتِ مسلمہ 🔴 لطیفوں کا خزانہ چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنا 🔴 السلاسل التدريبية عربی زبان وادب کی تدریس اور نشرو اشاعت 🔴 ڈاکٹر فرحت ہاشمی موصوف کے بیانات 🔴 حدیث کی خوبصورتی- 𝑇ℎ𝑒 𝐵𝑒𝑎𝑢𝑡𝑦 𝑜𝑓 𝐻𝑎𝑑𝑖𝑡ℎ𝑠 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں تک (میری تعلیمات) پہنچا دو خواہ وہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ 🔴 علم و ادب ▪️اقوال زریں چھوٹی مگر سبق آموز 🔴 طب نبوی آن لائن علاج ▪️پیچیدہ امراض کا علاج 🔴 حمد نعت بیان دیوبند ▪️ نبی کی تعریف میں اشعار 🔴 صحیح مسلم ▪️ترجمہ تشریح پروفیسرمححمديحي جلالپوری 🔴 محمد رضا ثاقب مصطفائی ▪️موصوف کے بیانات 🔴 مرزا اسداللہ خان غالب 🔴 حــــدیثِ رســــــولﷺ ▪️سـرورِ کائناتﷺ کی مستنـد صحیــح احادیث 🔴 داستان شجاعت ▪️ اسلامی تاریخی ناولز 🔴 شمسی اصلاحی چینل ▪️ قرآن کریم کی روز ایک آیت 🔴 گرافکس خزانہ ▪️ بہترین قسم کی گرافکس ڈیزائنز 🔴 تلاوت القرآن الکریم گروپ ▪️قرآن آڈیو اور ویڈیو 🔴 رعـــد بن محمــد الكـــردي ▪️تلاوت 🔴 آداب مباشرت ▪️ شب زفاف (سہاگ رات)، طریقہ ہمبستری کا سنت طریقہ 🔴 محمّد امجد رضا قادری آفیشل ▪️ مختلف اسلامی موضوعات پر اپنی تقاریر 🔴 دلچسپ اور عجیب معلومات گروپ ▫️ کہانیاں اور دلچسپ معلومات 🔴 حضرت واصف علی واصف آفیشل ▫️ کلام سینڈ کیا جاتا ہے 🔴 کتب بینی ▪️ کتب بینی و کتاب خوانی کی روایات کو فروغ دینا 🔴 طارق بن زیاد ▫️ اور غازیوں کے واقعات 🔴 آخرت کا سفر ▫️ محض ادبی مضامین وسبق آموز تحاریر اور اشعار وغزلیا 🔴 استادہ رخسانہ اعجاز صاحبہ ▫️ موصوف کے بیانات 🔴 ڈاکٹر زاکر نائک موصوف کے بیانات 🔴 زاہدہ ملک ( الفلق ویلفیئر فاؤنڈیشن ) دوسروں کی مدد کیلئے وقف دینی و دنیاوی مفت تعلیم 🔵 تاریخ اسلام اور اسلامی کہانیاں ▫️ اسلامک تاریخ 🔴 مجموعہ داعــیــانِ اســــلام ▫️ حدیث دعائیں اسلامک پوسٹ 🔴 القدس ٹائمز ▪️القدس، غزہ اور فلسطین کی معتبر خبریں  مسجد اقصیٰ کی آزادی اور فلسطینی جدوجہدِ مزاحمت کی آواز دنیا تک 🔴 وعظ ونصیحت ▪️مولانا محمد الیاس گھمن کے بیانات 🔴 اسلامک کارٹون اردو اور انگلش میں اسلامک کارٹون ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ نوٹ : جو حضرات اپنے گروپ و چینل کی تشہیر کروانا چاہتے ہیں وہ اپنے چینل یا گروپ کا نام، مختصر تعارف اور ممبر کی تعداد لکھ کر ارسال فرمائیں ↶ 👉 @PleasingAllah 👉 @Adoring_Allah

  • без подписи

  • 21 июн. 2020 г.10,3 тыс6

    #مومن_مرد

  • 20 июн. 2020 г.6 5045из SaifKhanBabar

    جاننا اچھا ہے ‼️

  • گزشتہ سے پیوستہ

  • 01127713166*_

  • ......... | *﷽* | ......... قِســط # 111 🌴🌱 *_ِایــک غلــط ســوچ_* 🌱🌴 « *چاند کی مخصوص تاریخ میں شادی* » 👈🏻 ہمارے معاشرے میں کچھ جگہوں پر یہ رواج ھے کہ شادی بیاہ کو چاند کی مخصوص تاریخ اور دن کے مخصوص وقت میں کرنے کو باعثِ برکت اور باعثِ ثواب سمجھتے ہیں، اور اس کے بر خلاف ہونے کو باعثِ نقصان و بے برکتی سمجھتے ہیں۔ *سو یہ ایک غلط سوچ ھے* *🔹اَصل:-* اس سوچ کی ہم مسلمانوں میں آنے کی وجہ ہندو ہیں۔ ہندو دھرم چونکہ بے حساب وہم، وسواس اور بدعات سے بھرا ہوا ھے، جس کی اصل وجہ ان کے پادری ہیں۔ موجودہ بے شمار تہم پرستیاں بھی ماضی میں ان پادریوں و پنڈتوں کے ہاتھوں کی لکھی کتب کا نتیجہ ھے۔ چونکہ اسلام ایک جامع اور مکمل دین ہے جس میں کمی بیشی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس خطے کے مسلمانوں کا لمبا عرصہ ہندوؤں کے ساتھ گزرا، بلکہ اکثریت مسلمان ہندو دھرم کو چھوڑ کر مسلمان ہوئے اسی لیے مسلمانان برصغیر میں موجودہ تقریبا تمام غلط سوچوں کی جڑ ہندو دھرم ہے، جنہیں وہ مسلمان ہونے کے بعد بھی شاید چھوڑ نہ پائے یا پھر مسلمان ہونے کے بعد ساتھ رہنے کی وجہ سے ہندوؤں سے اپنا لیں۔ ہندوؤں کے چیدہ چیدہ عقائد ملاحظہ ہوں: *☆ مہرت/مہرتا/محورات:* ہندوؤں کے عقائد کے مطابق کسی بھی کام کے لیے ایک خاص وقت متعین ہوتا ھے، اگر اسے اس کے خاص وقت پر نہ کیا جائے تو وہ کام بے برکت بلکہ بد نصیبی کا باعث بن جاتا ھے، اسی طرح کچھ افعال کو خاص وقت پر "نہ کرنا" ضروری ہوتا ھے ورنہ وہ نقصان دہ ثابت ہو گا۔ اس مخصوص وقت کو ہندو دھرم میں "مہرتا" کہا جاتا ھے۔ *"مہرت"* سب سے زیادہ فائدہ مند وقت ہوتا ہے جس میں کسی واقعے کو انجام دینے یا شروع کرنے کا انتخاب کیا جاتا ہے تاکہ یہ کام بغیر کسی رکاوٹ کے انجام پائے۔ ایک شبھ (خوش قسمت) محورات سیاروں اور دیگر ستوتیش عوامل کی توانائی کو ایک اچھے طریقے سے مرکوز کرنے میں مدد کرتا ہے، تاکہ برے اثرات کو ختم کیا جاسکے اور کام سب سے زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوسکے۔ (ملاحظہ ہو:- تائیتیریا شاکھا - از: کرشنا یاجرویدہ) (ملاحظہ ہو:- What is Muhurat - by Vipin Kapoor) (ملاحظہ ہو:- Demystifying Brahminism and Re-Inventing Hinduism: Volume 1 - Demystifying Brahminism - by: Shri, Satya) *شادی کے لیے مہرت:* ہندو دھرم میں شادی بیاہ کے لیے شبھ (خوش قسمت) مہرت (یعنی وہ لمحہ، وقت یا دن جس دن شادی بیاہ کرنے سے دلہا اور دلہن خوش قسمت اور ہر پریشانی سے دور رہیں گے) نکالنا ایک لازمی جز ہے۔ اس کے بغیر اور خلاف شادی کی رسم کو کرنا بہت برا اور قابلِ نقصان سمجھا اور مانا جاتا ہے۔ سب سے پہلے دلہا اور دلہن کا علم الاعداد کے تحت کُنڈلی (زائچہ) نکالی جاتا ہے۔ پھر جوتشی (عالم نجوم) دلہا کا چاند کے لحاظ سے اور دلہن کا سورج کے لحاظ سے شبھ مہرت (مبارک لمحہ، دن، تاریخ، مہینہ وغیرہ) نکالتا ہے، جس پر شادی کی رسم کرنا فائدہ مند اور اس کے خلاف وقت میں کرنا نقصان دہ ثابت ہو گی۔ ہندوؤں میں مبارک ترین مہینہ اکشائیہ تریتیا (اکھا تییج) کا ہوتا ہے۔ (Celebrating Akshaya Tritiya - by: Arasa, Veekshitha) *🔹اِضافی:-* ہندوؤں میں شادی کے وقت کو متعین کرنے کے لیے مہرتا نکالا جاتا ھے، یعنی جیسے قسمت کے حال کے لیے فال نکالی جاتی ھے۔ اس متعین کردہ وقت کو "شبھ" یا "اشبھ" گھڑی کہا جاتا ھے، یعنی کسی کام کو سر انجام دینے کے لیے "اچھا" اور برا" وقت۔ ہندوؤں کا عقیدہ تو اوپر بتلایا جا چکا ھے کہ کس طرح مہرتا ان کے دھرم کا حصہ ھے اور وہ اس مہرتا پر کتنا زیادہ ایمان رکھتے ہیں۔ مگر کیا ہم مسلمانوں کے لیے، جن کا دین "اسلام" ھے، اس طرح کی ہندوانہ عقائد پر مبنی باتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے؟۔ ۔ ۔یہ جو ہمارے معاشرے میں مخصوص وقت، دن اور مخصوص لمحات میں نکاح کرنے کا جو رواج پیدا ہو چکا ھے، اس کی اصل ہندوؤں کا "مہرتا" ھے جسے جانے نا انجانے میں مسلمان اپنا بیٹھے ہیں۔ *⬤ حاصلِ کلام:-* درج بالا تفصیل و بحث سے یہ ثابت ہوا کہ ہمارے معاشرے میں موجود یہ سوچ کہ نکاح (شادی) و برات (جبکہ برات بھی ہندوؤں کی ایجاد ھے) کو مخصوص وقت، دن، لمحے میں کرنا چاہیے, اس سے برکت زیادہ ہوتی ہے تو یہ خالص ہندوؤں سے آیا عقیدہ ھے جس کا رواج اب زیادہ پڑنے لگا ھے، جو کہ بلا مبالغہ سارا کا سارا اثر ہندوانہ تمثیلات (فلموں و ڈراموں) کا ھے۔ دینِ اسلام نے نکاح کے لیے کوئی خاص وقت یا دن مقرر نہیں کیا۔ زیادہ برکت کی خواہش ہے تو نکاح کو عین سنت ﷺ کے مطابق کریں (جسے آج کل غریب کی شادی سمجھا جاتا ہے!)۔ پس درج بالا تمام سوچیں غلط اور خلاف شرع ہیں۔ اللّٰه ﷻ ہمیں ہدایت عطا فرمائیں کہ ہم ہندوؤں کی رسومات کو برا سمجھیں اور اپنی زندگیوں سے انہیں نکال باہر پھینکیں۔ ۔ ۔آمین! ( ۵ ربیع الاول ۱۴۴۱ھ - گلیگا ملائشیا ) ☘🍃🌿 [ کتـاب: _ایک غلط سوچ_ ] 📖 [ تالیف: _سیف خان بابُر_ ] ✍🏻 🌿☘🍀 🤳🏻 _*+6

  • без подписи

  • без подписи

  • ......... | *﷽* | ......... قِســط # 109 🌴🌱 *_ِایــک غلــط ســوچ_* 🌱🌴 « *لڑکی کا ناک و کان چھدوانا، نکاح و پردے پر اثر* » 👈🏻 خصوصاً دیہی علاقے کے لوگوں میں مشہور ھے کہ: • لڑکی اگر ناک نہ چھدوائے تو اس کا نکاح نہیں ہوتا • نکاح سے پہلے لڑکی کا ناک چھدوانا لازمی ھے ورنہ نکاح صحیح نہیں ہوگا، یعنی گناہ ملے گا • شادی سے پہلے کان چھدوانا لازمی ھے • نکاح کے وقت لڑکی کے لیے ناک میں نتھلی پہننا لازم ھے • لڑکی کا نکاح کے وقت چھدے ہوئے ناک میں کچھ پہننا حدیث سے ثابت ھے • جب تک ناک نہ چھدوائی جائے تب تک پردہ فرض نہیں ناک کا چھدوانا باکرہ لڑکی کی نشانی ھے ۔ ۔ ۔وغیرہ *یہ ایک غلط سوچ ھے* *🔹اَصل:-* شادی بیاہ کے موقع پر ۸۰ فیصد رسومات اور مختلف خیالات کا مسلمانوں میں آنے کی وجہ ہندو ہیں۔ ہندوؤں کے دھارمک عقائد کا ہندوؤں کے ذریعے مسلمانوں میں آ جانا ایک عام بات ھے۔ کیونکہ مسلمانوں نے بہت طویل عرصہ ہندوؤں کے ساتھ ہی گزارا ھے۔ عورت کا ناک، کان چھدوانا اور اس سے متعلق مسلمانوں، بالخصوص پاکستان کے دیہی علاقوں کے لوگوں میں مشہور مختلف عقائد بھی برِصغیر کے ہندوؤں سے آئے ہیں۔ کچھ چیدہ چیدہ نکات کو درج کیا جا رہا ھے تاکہ لوگوں کو شعور آئے کہ جس عقیدے پر وہ عمل کر رہے ہیں وہ درِحقیقت ہندوؤں کے ہیں۔ ملاحظہ ہوں: *☆ ہندوؤں کا دھارمک عقیدہ:* لڑکی کا بلوغت کے فوراً بعد ناک چھدوانا لازمی عمل ھے۔ یہ لازمی اس لیے ھے کہ چھدی ہوئی ناک سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ یہ لڑکی اب شادی کے قابل ھے اور باکرا بھی ھے۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت ھے کہ گھر والے اپنی بیٹی کو بلوغت کی خوشی میں زیب و زینت کے لیے دنیاوی زیورات دیتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی بیٹی کو لکشمی دیوی کی نائب مانتے ہیں، جس وجہ سے ان کے گھر میں خوشحالی اور دھن آئے گا۔ 👈🏻 نوجوان لڑکیوں کے شادی سے پہلے ناک چھدوانا ہندو دھرم کے کچھ مسلکوں میں لازم ھے، مثلاً: راجپوت (جو کہ سنسکرت لفظ راجہ پترا سے اخز ھے) فرقے کے لوگوں میں نوجوان لڑکیاں جب ۱۲ سال کی ہو جائیں تو ناک چھدوانا لازمی ھے کیونکہ یہ مذہبی جز ھے۔ (ملاحظہ ہو:- Nose Rings for Hindu Girls; Religion and Cultural Practices & Beliefs - by: M mantra) • شادی شدہ عورت کی علامتوں میں منگل ستر، سِندور اور ناک میں نتھ پہننا سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں • شادی کے وقت ناک میں چوڑی نما نتھ پہننا اور شادی کے بعد ناک میں نتھلی پہنے رکھنا ہندو معاشرے میں لازمی ھے، اگرچہ نئی نسل باقی دھارمک رسومات کی طرح اس سے بھی جدا ہوتی جا رہی ھے • ناک کو بائیں جانب سے چھیدنا اور اس میں نتھ پہننے سے عورت کو حیض کے دِنوں کی تکلیف میں کمی واقع ہوتی ھے • عورت کا بائیں ناک کو چھدوانے سے اس کی صحت پر بہت اچھا اثر پڑتا ھے • بائیں طرف کا ناک چھدوانا ناک کی بیماری سے نجات دلاتا ھے (ملاحظہ ہو:- چِکِٹسا ستھانا | باب ۱۹ - از: سوشروتا سمھیتا) (ملاحظہ ہو:- ناک چھدوانا؛ انڈین لڑکی کی زندگی - از: اے جَگی | کورا ) *🔹 اِضافی:-* ہندو عقائد جاننے کے بعد اب رہی بات کہ کیا دینِ اسلام میں اس عنوان پر کوئی بحث موجود ھے یا نہیں۔ لوگوں کا کہنا ھے کہ ناک چھدوانے کا نکاح پر اثر ہونے کی روایت ایک حدیث سے ملتی ھے۔ خوب سمجھ لیجئے کہ اس عنوان پر کسی طرح کی کوئی حدیث موجود نہیں۔ فقط لوگوں کی من گھڑت باتیں ہیں۔ *◯ فتویٰ:* ناک و کان کے چھدوانے اور اس سے نکاح یا پردے پر کسی قسم کا کوئی اثر پڑنے کے بارے میں جب پاکستان و بھارت کے دو بڑے دارالافتاوں سے سوال کیا گیا تو ان کا جواب کچھ یوں تھا، ملاحظہ ہو: *☆ فتویٰ اوّل:* عورت کے لیے ناک چھدوانا ضروری نہیں، بلکہ ایک مباح عمل ہے، ناک چھدوائے بغیر بھی عورت کا نکاح ہوجاتا ہے، یہ بات درست نہیں کہ جب تک عورت ناک نہ چھدوائے اس پر پردہ فرض نہیں ہوتا۔ فقط واللّٰه ﷻ اعلم (ملاحظہ ہو:- جامعہ علوم اسلامیہ پاکستان - فتویٰ عدد: ۱۴۳۹۰۴۲۰۰۰۳۷) *☆ فتویٰ دوم:* ناک چھدوانا اور اس میں زینت کے لیے کوئی زیور پہننا جائز ہے، لڑکیوں کے لیے زیور پہننے کے لیے کان یا ناک چھدوانا جائز ہے، واجب یا سنت و ضروری نہیں ہے؛ اس لیے ناک چھدوائے بغیر بھی نکاح ہوجاتا ہے اور ناک نہ چھدوانے میں شرعاً کچھ گناہ نہیں۔ والله تعالیٰ اعلم (ملاحظہ ہو:- دارالعلوم انڈیا - فتویٰ عدد: ۲۶۶-۲۵۶/N=۴/۱۴۳۸) *⬤ حاصلِ کلام:-* ناک یا کان چھدوانا اگرچہ جائز ھے مگر مبالغہ آرائی کو دینِ اسلام نے ناپسند فرمایا ھے۔ مبالغہ آرائی سے مراد ھے کسی چیز کو لازم سمجھ لینا یا اس سے متعلق مختلف عقائد بنا لینا۔ جیسا کہ درج بالا بحث و دلائل سے ثابت ہوتا ھے کہ ناک یا کان چھدوانا نہ نکاح کے لیے شرط ھے اور نہ ہی پردے کے لیے۔ حتی کہ شادی کے موقع پر ناک میں چوڑی نما نتھ پہننے کا رواج بھی ہندوؤں سے آیا ھے، ہندوؤں کے تو اس کے پہننے کے پیچھے مختلف عقائد پنہاں ہیں مگر

  • ......... | *﷽* | ......... قِســط # 108 🌴🌱 *_ِایــک غلــط ســوچ_* 🌱🌴 « *عید یا جمعہ پر نئے کپڑوں کا حساب نہیں* » 👈🏻لوگوں میں عید اور جمعہ کے متعلق کچھ باتیں مشہور ہیں کہ: • جو کپڑے عید پر پہننے کی نیت سے خریدے یا سلوائے جائیں، آخرت میں ان کا حساب اللّٰه ﷻ نہیں لیں گے • جمعہ کے دن نئے پہنے کپڑوں کا حساب و کتاب نہیں ہوگا *یہ ایک غلط سوچ ھے* *🔹اَصل:-* اسلام میں دو عیدوں کو مسلمانوں کے لیے تحفہ کے طور پر عطا کیا گیا ھے اور اس پر بہترین کھانے اور بہترین پہننے کی تلقین کی گئی ھے۔ بہترین سے مراد یہ ھے کہ جس شخص میں جتنی استطاعت ھے وہ اس کے مطابق اچھا کھائے اور اچھا پہنے۔ فضول خرچی اور اسراف کو اس موقع پر بھی منع فرمایا گیا ھے۔ نئے لباس کو زیبِ تن کرنے کی تلقین احادیث مبارکہ سے ثابت ھے۔ البتہ لوگوں میں مشہور یہ بات کہ عیدین یا جمعہ پر پہنے کپڑوں کا حساب نہیں ہوگا تو اس غلط فہمی کی وجہ یہ بات ھے کہ؛ بقدرِ ضرورت چیز کا استعمال یا لباس وغیرہ آخرت میں حساب و کتاب کے کھاتے میں نہیں آتا۔ لیکن اس بات کو ذہن نشین کر لیجئے کہ صراحتاً کسی روایت یا مقام پر یہ بات نہیں آئی کہ خصوصی عید و جمعہ پر کپڑوں کا حساب نہیں ہوگا۔ اسی لیے لوگوں کا اس بات پر ذور دینا ایک غلط سوچ کے زمرے میں آتا ھے۔ *◯ فتویٰ:* برِصغیر کے دو بڑے دارالافتاوں سے "عید یا جمعہ کے دن جو نیا لباس پہنا جائے اس کا اللّٰه ﷻ حساب کتاب نہیں لیتے" کے بارے میں استفسار کیا گیا، ان کا جواب درج ذیل ھے، ملاحظہ ہو: *☆ فتویٰ اوّل:* عید کے دن پہنے جانے والے نئے کپڑوں کا آخرت میں کوئی حساب نہیں ہوتا“ اس سلسلے میں ہم کو کوئی حدیث نہیں مل سکی؛ البتہ عید کے دن نیا یا پہلے سے موجود کپڑوں میں سے اچھا کپڑا پہننا مستحب ہے، اگر اللہ نے کسی کو وسعت دی ہے، تو اُس کے لیے عید کے دن نئے کپڑے پہننے میں مضائقہ نہیں؛ بلکہ مستحب ہے؛ لیکن اعتدال بہرحال ہر چیز میں ضروری ہے اور لباس میں تکبر، تفاخر اور دکھلاوے سے احتراز ضروری ہے، عید کے موقع پرنئے کپڑے پہننے میں یہ نیت ہونی چاہیے کہ اس دن شریعت میں اچھا لباس پہننے کی تعلیم دی گئی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (ملاحظہ ہو:- دارالعلوم انڈیا - فتویٰ عدد: ۹۴۳-۹۰۶/Sd=۱۱/۱۴۳۷) *☆ فتویٰ دوم:* جمعہ کے دن پہنے جانے والے نئے کپڑوں کا آخرت میں کوئی حساب نہیں ہوتا“ اس سلسلے میں تلاش کے باوجود کوئی حدیث ہمیں نہیں مل سکی۔ البتہ ایک حدیث ہے: ترجمہ: رسول الله ﷺ جب کوئی نیا لباس استعمال فرماتے تو جمعہ کے دن اسے زیبِ تن فرماتے تھے۔ فقط واللہ ﷻ اعلم (ملاحظہ ہو:- جامعہ علوم اسلامیہ پاکستان - فتویٰ عدد: ۱۴۴۰۰۸۲۰۱۸۸۴) *⬤ حاصلِ کلام:-* اسلام نے مسلمانوں کو دو عیدوں سے نوازا ھے۔ دونوں عیدوں پر مسلمان نئے کپڑے وغیرہ سلواتے یا خریدتے ہیں۔ جمعہ کے دن کو باقی دنوں پر فضیلت حاصل ھے اور اگر نیا کپڑا پہننا ہو تو جمعہ کے دن کو اختیار کرنا مسنون ھے۔ مگر لوگوں میں ان دنوں میں کپڑوں سے متعلق درج بالا تمام سوچیں غلط ہیں، جن کا شریعتِ اسلامیہ سے کچھ ثبوت نہیں ھے۔ فقط لوگوں کا بے بنیادی گمان ھے۔ بہرحال آخرت میں حساب کس چیز کا ہوگا اور کس چیز کا نہیں اس کا دارومدار انسان کی نیت، استعمال اور معاملے پر منحصر کرتا ھے جسے اللّٰه ﷻ ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہاں البتہ اللّٰه ﷻ سے امید ھے کہ بقدر ضرورت استعمال کردہ چیز پر حساب و کتاب کے بعد پکڑ نہیں ہو گی۔ اللّٰه ﷻ ہمیں سنت و شریعت کا پابند بنا دیں۔ ۔ ۔آمین! ( ۱ ربیع الاول ۱۴۴۱ھ - سِری پتالنگ ملائشیا) ☘🍃🌿 [ کتـاب: _ایک غلط سوچ_ ] 📖 [ تالیف: _سیف خان بابُر_ ] ✍🏻 🌿☘🍀 🤳🏻 _*+601127713166*_

  • نت کی خوش خبری دوں گا“۔ اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے صفر کے مہینے کو منحوس سمجھا جاتا ہے، طریقہء استدلال یہ ہے کہ چوں کہ اس مہینہ میں نحوست تھی؛ اس لیے سرکارِ دو عالم ﷺ نے اس مہینے کے صحیح سلامت گزرنے پر جنت کی خوش خبری دی ہے۔ تو اس بارے میں جان لینا چاہیے کہ یہ حدیث موضوع ہے، نبی اکرم ﷺ کی طرف اس کی نسبت کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ ظالموں کی جانب سے نبی ﷺ پر جھوٹ باندھا گیا ہے۔ *☆ ماہِ صفر کے آخری بدھ کو روزہ/غسل/خوشی:* ماہِ صفر کے بارے میں لوگوں میں مشہور غلط عقائد و نظریات میں ایک ”ماہِ صفر کے آخری بدھ“ کا نظریہ بھی ہے، کہ اس بدھ کو نبی اکرم ﷺ کو بیماری سے شفا ملی اور آپ نے غسلِ صحت فرمایا، لہٰذا اس خوشی میں مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں، شیرینی تقسیم کی جاتی ہے اور بہت سے علاقوں میں تو اس دن خوشی میں روزہ بھی رکھا جاتا ہے اور خاص طریقے سے نماز بھی پڑھی جاتی ہے؛ حالانکہ یہ بالکل خلاف حقیقت اور خلاف واقعہ بات ہے۔ اس دن تو نبی اکرم ﷺ کے مرضِ وفات کی ابتداء ہوئی تھی، نہ کہ مرض کی انتہاء اور شفاء۔ یہ افواہ اور جھوٹی خبر دراصل (اس وقت کے) یہودیوں کی طرف سے آپ کی مخالفت میں آپ کے بیمار ہونے کی خوشی میں پھیلائی گئی تھی اور مٹھائیاں تقسیم کی گئی تھیں۔ ذیل میں اس باطل نظرئیے کی تردید میں فتاویٰ درج کیے گئے ہیں، تاکہ لوگ ان کو پڑھ کر اپنے عقائد درست کریں۔ *◯ فتویٰ:* اس دن خصوصیت سے نفلی روزہ رکھا جاتا ہے اور شام کو کچوری یا حلوہ پکا کر کھایا جاتا ہے، عوام اس کو *”کچوری روزہ“* یا *”پیر کا روزہ“* کہتے ہیں، شرعاً یہ سب بالکل غلط اور بے اصل ہے، اس (روزہ) کو خاص طور سے رکھنا اور ثواب کا عقیدہ رکھنا بدعت اور ناجائز ہے، نبی اکرم ﷺ اور تمام صحابہ رضوان اللّٰه ﷻ علیہم سے کسی ایک ضعیف حدیث میں بھی اس کا ثبوت بالالتزام مروی نہیں اور یہی دلیل ہے اس کے بطلان و فساد اور بدعت ہونے کی؛ کیونکہ کوئی عبادت ایسی نہیں، جو نبی اکرم ﷺ نے امت کو تعلیم کرنے سے بخل کیا ہو۔ (ملاحظہ ہو:- فصل فی صوم النذر و صوم النفل - از: امداد المفتین - فتویٰ عدد: ۴۱۶) *☆ صفر کے آخری چہار شنبہ:* صفر کے آخری چہار شنبہ کو اکثر عوام خوشی و سرور وغیرہ میں اطعامُ الطعام (کھانا کھلانا) کرتے ہیں، شرعاً اس باب میں کچھ بھی ثابت نہیں، سب جہلاء کی باتیں ہیں۔ (ملاحظہ ہو:- فتویٰ عدد: ۱۷۱ - از: عالمی مجلس تحفظِ اسلام پاکستان) *☆ صفر کے آخری بدھ کو چُری کرنا:* پاکستان کے علاقے صوبہ خیبر پختونخوا میں ماہِ صفر میں خیرات کرنے کا ایک خاص طریقہ رائج ہے، جس کو پشتو زبان میں (چُری) کہتے ہیں، عوام الناس کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول ﷺ کی صحت یابی کی خوشی میں کی تھی۔ اس کے بارے میں اسی صوبہ کے بڑے دارالافتا سے استفسار کیا گیا، جن کا فتویٰ درج ذیل ھے۔ *◯ فتویٰ:* چونکہ چُری نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور نہ آثار اور کتبِ فقہ سے۔ لہٰذا اس کو ثواب کی نیت سے کرنا بدعتِ سیئہ ہے اور رواج کی نیت سے کرنا رسمِ قبیحہ اور التزام ما لا یلزم ہے، نیز حاکم کی روایت میں مسطور ہے کہ حضور ﷺ کی بیماری کے آخری چہار شنبہ میں زیادتی آئی تھی اور عوام کہتے ہیں کہ بیماری میں خفت آگئی تھی اور عوام حضور ﷺ کی طرف نسبت کرتے ہیں کہ ”انہوں نے چُری مانگی“ اور یہ نسبت وضع حدیث اور حرام ہے۔ (فتویٰ عدد: ۱/۲۹۶ - از: فتاویٰ فریدیہ مکتبہ دارالعلوم صوابی پاکستان) *☆ صفر المظفر کے آخری بدھ کو خوشی منانا:* ماہِ صفر المظفر کو منحوس سمجھنا خلافِ اسلام عقیدہ ہے اور رسول ﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے، اس ماہِ مبارک میں نہ تو آسمان سے بلائیں اترتی ہیں اور نہ اس کے آخری بدھ کو اوپر جاتی ہیں اور نہ ہی امامُ الانبیاء حضرت محمد ﷺ کو اس دن مرض سے شفاء یابی ہوئی تھی؛ بلکہ موٴرخین نے لکھا ہے کہ ۲۸ صفر کو آنحضرت ﷺ بیمار ہوئے تھے۔ مسلمانوں کے لیے آخری چہار شنبہ کے طور پر خوشی کا دن منانا جائز نہیں۔ شمس التواریخ میں ہے کہ ۲۶/صفر ۱۱ھ دو شنبہ کو آں حضرت ﷺ نے لوگوں کو رومیوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا اور ۲۷صفر سہ شنبہ کو اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ امیرِ لشکر مقرر کیے گئے۔ ۲۸ صفر چہار شنبہ کو اگرچہ آپ ﷺ بیمار ہوچکے تھے؛ لیکن اپنے ہاتھ سے نشان تیار کر کے اُسامہ کو دیا تھا، ابھی (لشکر کے) کوچ کی نوبت نہیں آئی تھی کہ آخر چہار شنبہ اور پنج شنبہ میں آپ ﷺ کی علالت خوفناک ہوگئی اور ایک تہلکہ سا مچ گیا، اسی دن عشاء سے آپ ﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللّٰه ﷻ عنہ کو نماز پڑھانے پر مقرر فرمایا۔ (ملاحظہ ہو:- شمس التواریخ: ۲/۱۰۰۸) اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ۲۸ صفر کو چہار شنبہ (بدھ) کے روز آنحضرت ﷺ کے مرض میں زیادتی ہوئی تھی اور یہ دن ماہِ صفر کا آخری چہار شنبہ تھا۔ یہ دن مسلمانوں کے لیے تو خوشی کا ہے ہی نہیں؛ البتہ یہود وغیرہ کے لیے شادمانی کا دن ہو سکتا ہے۔ اس روز کو تہوار ک

  • ......... | *﷽* | ......... قِســط # 107 🌴🌱 *_ِایــک غلــط ســوچ_* 🌱🌴 « *ماہِ صفر سے متعلق* » 👈🏻 ہر سال جب بھی اسلامی مہینہ "صفر" آتا ھے، تو لوگوں میں بہت سے عجیب معاملات دیکھنے کو ملتے ہیں، اور لوگوں میں اس مہینے سے متعلق مختلف سوچیں بھی رائج ہیں، جیسا کہ: • اس مہینہ کو نبی ﷺ نے غم کا مہینہ کہا ھے • یہ مہینہ منحوس ھے • اس مہینے میں مشکلات، آفات، حادثات، تکالیف، بیماریاں نازل ہوتی ہیں • ازواجی تعلقات سے منع کیا جاتا ھے، ورنہ بچہ معذور پیدا ہو گا • اس مہینے میں طبیعت میں غصہ اور مزاج میں تیزی آ جاتی ھے • ماہ صفر میں نکاح و خوشی منانا ناجائز ھے • اس مہینے کے آخری عشرے کو غم و نحوست سے نجات کا عشرہ مانا جاتا ھے • ماہ کے آخری بدھ کو اس ماہ کے ختم ہونے کی خوشی منائی جاتی ھے، جس میں مختلف پکوان خیرات کیے جاتے ہیں، جن میں چُوری اور چنے زیادہ مشہور ہیں • شروع کے ۱۳ دن بہت بھاری ہوتے ہیں • کاروبار اور رزق میں کمی واقع ہوتی ھے • مٹی کے برتن گھر سے باہر رکھنے یا توڑ دینے چاہیے ۔ ۔ ۔وغیرہ *یہ تمام ایک غلط سوچ کا حصہ ہیں* *🔹اَصل:-* ہر معاشرے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اپنے مذہبی معاملات میں جاہل ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے پاس دینی علم نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ صحیح علم کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ ایسے پسماندہ علاقوں میں رہتے ہیں جہاں ان کی رسائی اہل علم سے نہیں ہو پاتی اور کچھ کا دوسرے مذہب کے لوگوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے عقائد میں بگاڑ آ جاتا ھے۔ کچھ یہی حالت اس موضوع کو لے کر بھی ھے۔ اہل علم حضرات ہمیشہ سے لوگوں کو ماہ صفر ہو یا ماہ محرم، ان پر ہونے والی بدعات، خرافات، بد شگونیوں سے روکتے رہے ہیں، امت کا کچھ حصہ تو اہل علم کی بات کو سن کر اس پر عمل کرتے ہیں لیکن باقی جو کہ اکثریت ھے وہ اپنے قبائل اور خاندانی رسومات و عقائد پر ہی چلتی رہتی ھے۔ اور اپنے آباؤاجداد کی باتوں کو علماء و مولوی کرام کی تعلیمات پر ترجیح دیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو معلوم پڑے گا کہ ماہ صفر سے متعلق جتنی باتوں پر عمل کیا جاتا ھے وہ اکثریت ان گھرانوں میں ھے جو فقط نام کے مسلمان ہیں، مگر علمی و عملی طور پر خاندانی نظام میں جکڑے ہیں۔ اس بات کو ذہن نشین کر لیجئے کہ درج بالا تمام باتوں کو ثبوت نہ قرآن سے ھے اور نہ ہی کسی حدیث سے، نہ ہی کسی صحابہ کے عمل سے اور نہ ہی کسی امام کی تعلیمات سے۔ یہ لوگوں کی خود ساختہ غلط فہمیاں اور لغو سوچیں ہیں۔ مگر اس کا بڑا اثر برِصغیر کے ہندوؤں سے ھے۔ جن کا ذکر درج ذیل ھے: *☆ ہندوؤں کے عقائد:* مہینوں کا منحوس ہونا اور تاریخوں کا انسانی زندگی پر کسی بھی طرح کا اثر ہونا، خالصتاً ہندو دھرم کی تعلیمات ہیں۔ جن کو برِصغیر میں رہنے والے مسلمانوں نے ماحول کے اثر کی وجہ سے اپنا لیا۔ پھر وہ تعلیمات نسل در نسل چلتی آئین، تھوڑی بدلتی گئیں اور کچھ میں شدد آتی گئی جن کی جڑیں بالآخر اتنی مضبوط ہو گئیں کہ لوگ اسے دینِ اسلام کی تعلیمات سمجھنے لگے۔ پھر کچھ ظالموں نے تو اپنے آباؤاجداد کے عقائد کو سچ ثابت کرنے کے لیے من گھڑت احادیث بنا لیں۔ • ہندوؤں میں ۱۳ ہندسے کو منحوس سمجھا جاتا ھے • ہندو دھرم کے شعبہ "جیوتر ویگیان" کے مطابق مختلف مہینوں کا انسانی زندگی پر مختلف اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن میں کامیابی و ناکامی دونوں شامل ہیں جیوتش شاسترا کے مطابق ہر مہینے کا تیرواں دن بہت بھاری ہو سکتا ھے (ملاحظہ ہو:- منحوس ۱۳ - از: شیام سندر گپتا) (ملاحظہ ہو:- نواگراہ - از: جیوتش شاسترا) (ملاحظہ ہو:- انسان پر ۱۲ مہینوں کا اثر - از: ہندو جیوتش شاسترا) *🔹 اِضافی:-* صَفَرُ المُظَفَّر دوسرا اسلامی مہینہ ھے اور یہ مہینہ انسانیت میں زمانہ جاہلیت سے ہی منحوس، آسمانوں سے بلائیں اترنے والا اور آفتیں نازل ہونے والا مہینہ سمجھا جاتا ہے، زمانہ جاہلیت (کفار) کے لوگ اس ماہ میں خوشی کی تقریبات (شادی، بیاہ اور ختنہ وغیرہ) قائم کرنا منحوس سمجھتے تھے اور قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ یہی نظریہ نسل در نسل آج تک چلا آرہا ہے؛ حالاں کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے بہت ہی صاف اور واضح الفاظ میں اس مہینے کے بارے میں باطل نظریات کی تردید اور نفی فرما دی، ملاحظہ ہو: *▪ حدیث ﷺ کا مفہوم ھے کہ:* ماہِ صفر کی نحوست کوئی چیز نہیں (ملاحظہ ہو:- رقم الحدیث: ۵۷۷۰ - از: صحیح البخاری) *☆ ماہِ صفر کے بارے میں ایک روایت کا جائزہ:* ماہِ صفر کے متعلق نحوست والا عقیدہ پھیلانے کی خاطر دشمنانِ اسلام نے سرکارِ دو عالم ﷺ کی طرف منسوب جھوٹی روایات پھیلانے جیسے مکروہ اور گھناؤنے افعال سے بھی دریغ نہیں کیا، ذیل میں ایک ایسی ہی من گھڑت روایت کا ذکر کیا گیا ھے، ملاحظہ ہو: ”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ“ ترجمہ:- ”جو شخص مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوش خبری دے گا ،میں اُسے ج

  • ......... | *﷽* | ......... قِســط # 106 🌴🌱 *_ِایــک غلــط ســوچ_* 🌱🌴 « *دوا سے پہلے بسمہ اللّٰه نہیں پڑھنی چاہیے* » 👈🏻 دوا سے متعلق لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ: • دوا کھاتے وقت بسم اللہ نہیں پڑھنی چاہیے کیونکہ بسم اللہ پڑھنے سے ہر کام میں برکت پیدا ہوتی ہے اور دوا میں برکت ہونے سے بیماری میں بھی برکت پیدا ہوگی تو مرض مزید بڑھے گا نا کہ ختم ہوگا • سنا ھے کہ دوا کھانے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھنا چاھیے۔ کیونکہ دوا میں برکت ھوگی بیماری لمبی ھوگی۔ • حدیث میں ھے کہ دوا سے پہلے بسمہ اللہ نہیں پڑھنی چاہیے *یہ ایک غلط سوچ ھے* *🔹اَصل:-* دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ بیشک اس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اسلام کی شریعت مطہرہ ایک مکمل مضمون ھے، جسے ہر عام شخص کا درست طریقہ سے سمجھنا ممکن نہیں۔ اسی لیے بعض اوقات جو لوگ شریعت پر خود سے قیاس آرائیاں کرتے ہیں تو شیطان کے دھوکے میں آ کر نئے بے بنیاد مسائل گھڑ لیتے ہیں اور اسے آگے پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ستم یہ ھے کہ ۸۰ فیصد عوام نسل در نسل ان مسائل پر آنکھیں بند کر کے عمل کرتی جاتی ھے، اور گمراہی کا شکار ہوئے رہتے ہیں۔ یہی حال اس دوا کے معاملے کے ساتھ بھی ھے۔ لوگ کہتے ہیں دوا سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھیں، یہ ان لوگوں کی بڑی عجیب منطق ہے، کیونکہ دوا کھاتے وقت ﷽ پڑھنے سے بیماری میں کیسے برکت بڑھے گی؟؟۔ ۔ ۔ جبکہ اصل میں تو دوا میں برکت بڑھے گی جس سے بیماری جلدی سے بھاگ جائے گی مگر شیطان نے یہاں عجیب وسوسہ پیدا کیا ہے اور ایک سنت کو ختم کرنے کا انوکھا ہتھگنڈہ ایجاد کروایا ہے۔ یہ شیطانی وسوسہ خیر کی نیت سے ایجاد کیا گیا ہے، بے شک شیطان کا ادھورے علم والے حضرات کو گمراہی میں مبتلا کرنا زیادہ آسان ھے۔ دوسری بات یہ مشہور ھے کہ حدیث میں دوا سے پہلے ﷽ پڑھنے کی ممانعت آئی ھے تو خوب ذہن نشین کر لیجئے کہ یہ جھوٹ ھے۔ ایسی کوئی بات کسی حدیث میں بھی واقع نہیں ھے۔ جبکہ صحیح احادیث میں صراحتاً بتلا دیا گیا ھے کہ ہر فعل کو اللّٰه ﷻ کا نام لے کر شروع کیا جائے۔ ہر فعل میں کھانا، پینا، بولنا، اوڑھنا، چلنا، سونا غرض تمام امور شامل ہو گئے۔ *▪ حدیث ﷺ کا مفہوم ھے کہ:* _ ہر اہم کام جو اللّٰه ﷻ کے نام سے شروع نہ کیا جائے وہ ادھورا اور ناقص رہتا ہے _ اس سے یہ بات واضح ہوتی ھے کہ اگر دوا کھانے سے پہلے ﷽ نہیں پڑھیں گے تو ہو سکتا ھے وہ دوا اثر نہ کرے اور بیماری میں کمی واقع نہ ہو۔ لیکن اگر ﷽ پڑھ کر کھائی جائے گی تو دوا میں برکت ہو گی اور اللّٰه ﷻ اپنی قدرت سے بیماری کو جلد دفع فرما دیں گے۔ *◯ فتویٰ:* بسم اللہ الرحمن الرحیم دل سے پڑھ کر وہ دوا کھالیں یا بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شیء فی الأرض ولا في السماء وہو السمیع العلیم پڑھ کر دوا کھالیا کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (ملاحظہ ہو:- دارالعلوم انڈیا - فتویٰ عدد: ۵۳۲۸۱) *⬤ حاصلِ کلام:-* دوا کھانے سے پہلے بسمہ اللّٰه نہ پڑھنے والی سوچ بالکل غلط ھے۔ بلکہ دوا سے پہلے ﷽ لازمی پڑھنا چاہیے تاکہ جلد شفاء حاصل ہو۔ لوگوں میں موجود درج بالا تمام سوچیں بے بنیاد اور خود ساختہ غلط قیاس آرائیاں ہیں جو قابل ترک ہیں۔ اللّٰه ﷻ ہمیں شیطانی وسواس سے بچا کر رکھیں۔ ۔ ۔آمین! ( ۲۷ صفر ۱۴۴۱ھ - کوالالمپور ) ☘🍃🌿 [ کتـاب: _ایک غلط سوچ_ ] 📖 [ تالیف: _سیف خان بابُر_ ] ✍🏻 🌿☘🍀 🤳🏻 _*+601127713166*_

  • без подписи

  • (بسنت کا تاریخی جائزہ - از: نعیم اصغر ترار) (ملاحظہ ہو:- An Encyclopedia of Holidays, Festivals, Solemn Observances & Spiritual Commemorations (2011) - by: J. Gordon Melton) *⬤ حاصلِ کلام:-* ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ھے کہ بہت سے معاملات ایسے ہیں جنہیں نسل در نسل بغیر اس کی اصل جانے اختیار کیا جا رہا ھے۔ اگلی نسل بھی اپنے بڑوں اور معاشرے کے دیکھا دیکھی ان امور پر عمل کرنا شروع کر دیتی ھے۔ اس بات کی فکر بہت کم لوگوں کو ہوتی ھے کہ کسی بھی عمل کی بنیاد کو جانیں۔ بسنت تہوار بھی ایسے ہی امور میں سے ایک ھے، جس کی بنیاد ایک کافر شخص کی یاد میں منائے جانے والا تہوار ھے۔ وہ بھی کوئی عام شخص نہیں بلکہ ایسا شخص جو ہمارے آخری رسول ﷺ اور اہل بیت پر نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے جرم میں پھانسی چڑھا۔ وقت گزرتا گیا اور ہندوؤں سے دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی اس تہوار کو اختیار کیا اور اگلی نسلوں نے بنیاد کو جانے بغیر پتنگ بازی کو بسنت کا حصہ اور ایک کھیل و میلہ سمجھ لیا۔ حالانکہ تاریخی لحاظ سے "بسنت" ایک الگ تہوار تھا۔ الغرض پتنگ بازی کو آج "حقیقت رائے" کی یاد میں نہیں منایا جاتا مگر اس میلے پر اسراف، انسانی جانوں کا ضیاع، موسیقی، وقت کا ضیاع اور ہر طرح کے نقصانات ہونے کی وجہ سے شرعی طور پر یہ تہوار منانا بھی ناجائز ھے۔ پس ایک مسلمان کو اس طرح کے لغو مشاغل میں لگنے کے بجائے، صحت مندانہ کھیلوں میں حصہ لینا چاہیے۔ اللّٰه ﷻ ہمیں ہمارے ہر معاملے کی اصل جاننے کی جستجو میں لگا دیں۔ ۔ ۔آمین! ( ۲۵ صفر ۱۴۴۰ھ - کوالالمپور ) ☘️🍃🌿 [ کتـاب: _ایک غلط سوچ_ ] 📖 [ تالیف: _سیف خان بابُر_ ] ✍🏻 🌿☘️🍀 🤳🏻 _*+601127713166*_

  • ......... | *﷽* | ......... قِســط # 105 🌴🌱 *_ِایــک غلــط ســوچ_* 🌱🌴 « *بسنت کا تہوار* » 👈🏻 بسنت کا نام سنتے ہی لوگوں کے ذہنوں میں پہلا خیال "پتنگ بازی" کا آتا ھے۔ اسی لیے بسنت سے جڑے لوگوں میں موجود جو تہوار اور اس سے جڑے مختلف خیالات ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں: • بسنت پتنگ بازی کا تہوار ھے • بسنت پاکستان کے شہر لاہور کے پنجابیوں کی ایجاد ھے • بسنت پر پتنگ بازی محض ایک تفریح کا کھیل ھے *یہ ایک غلط سوچ ھے* *🔹اصل:-* بسنت کو جس سوچ کے ساتھ آج کے زمانے میں منایا جاتا ھے، تاریخی حقائق اس سے بالکل متضاد ہیں۔ مختصر یہ کہ "بسنت پنچمی" صدیوں سے چلتا آ رہا پنجاب کے ہندوؤں کا ایک تہوار ھے اور "بسنت" پتنگ بازی کا ہرگز نام نہیں تھا۔ اس خوبصورت تہوار کو پتنگ بازی کا تہوار بنانے کی اصل ایک ایسے شخص پر مبنی ھے، جس پر گستاخِ صحابیہ کا الزام ثابت ھے۔ لوگوں کے علم میں اضافے کے لیے بسنت کے اصل اور موجودہ تہوار کو مختصر بیان کیا جاتا ھے، ملاحظہ ہوں: *☆ بسنت کا تاریخی جائزہ:* اصل میں اس تہوار کو وسنتوتسو (وسنت + اوتسو) کہا جاتا تھا اور اسے "وسنت پنچمی" یعنی ہندو بہار کے تہوار کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سنسکرت میں، *وسنت* کے معنی "بہار" اور *پنچمی* کے معنی ہیں "پانچواں دن۔" جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے، یہ تہوار ہندو مہینے ماگھ (فروری) کے پانچویں دن پڑتا ہے، جو بہار کے موسم کا آغاز ہوتا ہے۔ پنچمی، "شُکلا پاکش" کا پانچواں دن ہے، جو ہندو ماہ کے ماگھ میں دمکتے چاند کی پندرہویں ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ ہر سال "بسنت میلہ" کے نام سے تہوار کو لاہور میں منعقد کروایا کرتے تھے، جو دس سے بارہ روز تک جاری رہتا تھا۔ اس وقت پتنگ بازی کا اس تہوار میں کوئی نام و نشان نہ تھا۔ اسے برِصغیر کے خطوں میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ھے، جیسا کہ: • اردو: بہار • سنسکرت: وسنتا • ہندی: بسنت • بنگالی: بسنتا • پنجابی: بساتا • تامل: واسنتم *☆ وسنتوُتْسَو ہندو تہوار:* بسنت، یعنی سال کا وہ وقت جس وقت سردی کا موسم ختم ہو کر اگلا موسم شروع ہو رہا ہوتا ھے، جس میں نئے پتے نکلتے ہیں اور فصلوں میں نئی بوٹیاں نکلتی ہیں۔ اس بسنت کے موقع پر برصغیر میں ہندو ایک تہوار منایا کرتے تھے، جس کا نام *"وستوتسو (وسنت اوتسو)"* ھے۔ *☆ سرسوتی اور وسنتوتسو:* ہندو دھرم میں اس تہوار کو علم و دانش کی دیوی سرسوتی کے نام کیا گیا ہے۔ وہ بھگوان براہما کی نسائی ہم منصب سمجھی جاتی ہیں، جو ہندو دھرم کے مطابق کائنات کا تخلیق کار ھے۔ سرسوتی کو نوجوان دیوی کے طور پر دکھایا جاتا ہے، جو سفید اور پیلے لباس میں ملبوس ہوتی ہے۔ چونکہ بسنت (بہار) کے مہینے میں سرسوں کے کھیت زرد پھولوں کی وجہ سے پیلے مائل ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے وسنتوتسو کو سرسوتی کی طرف منسوب کیا جاتا ھے۔ *☆ بسنت یا بہار؟:* ہمارے معاشرے میں بسنت کو "پتنگ بازی" کے تہوار کا نام سمجھا جاتا ھے، حالانکہ بسنت دوسری زبانوں میں ویسا ہی ھے جیسے ہماری زبان میں "بہار"۔ 👈🏻 پنچمی(بسنت) کے موقع پر ماضی میں ہونے والے کام: ۱۔ چند رتوں میں سے پہلی رات جب آفتاب برج حمل و حوت میں ہوتا ہے، مارچ (چیت) سے آخر مئی (بیساکھ) تک رہتا ہے (ہندو اس کی آمد کا تہوار مناتے اور بسنتی لباس پہنتے ہیں) ۲۔ وہ میلہ جو بہار کے موسم کی آمد پر منایا جاتا ہے ہندو دیوتاوں کے استھانون پر اور مسلمان فقرا کے مزاروں پر زرد پھول یا چادر چڑھاتے ہیں *◯ پتنگ بازی (بسنت میلہ) کی تاریخ:* جب ذکریا خان (۱۷۵۹ء تا ۱۷۰۷ء) پنجاب کا گورنر تھا۔ حقیقت رائے باکھ مل پوری سیالکوٹ کے ایک کھتری کا اکلوتا لڑکا تھا۔ حقیقت رائے نے نبی ﷺ اور حضرت فاطمہ رضی اللّٰه ﷻ عنہا کی شان میں نازیبا الفاظ استعال کئے، اس جرم پر حقیقت رائے کو گرفتار کر کے عدالتی کارروائی کیلئے لاہور بھیجا گیا۔ جہاں اسے موت کا حکم سنایا گیا۔ اس واقعہ سے ساری غیر مسلم آبادی کو شدید دھچکا لگا۔ کچھ ہندو افسر ذکریا خان کے پاس گئے (جو اس وقت پنجاب کا گورنر تها) کہ حقیقت رائے کو معاف کردیا جائے لیکن ذکریا خان نے کوئی سفارش نہ سنی اور سزائے موت کے حکم پر نظر ثانی سے انکار کر دیا جس کے اجراء میں پہلے مجرم کو ایک ستون سے باندھ کر کوڑوں کی سزا دی گئی اور پھر اسے سزائے موت ہو گئی۔ جس پر پنجاب کی ساری غیر مسلم آبادی نوحہ کناں رہی" حقیقت رانے کی یادگار (مڑہی) کوٹ خواجہ سعید (کھوجے شاہی) لاہور میں واقع ہے اور اب یہ جگہ "باوے دی مڑہی" کے نام سے مشہور ہے۔ جہاں ہندو رئیس "کالو رام" نے بسنت میلے کا آغاز کیا۔ کالو رام کی یادگار بھی اسی علاقہ میں قبرستان کے ساتھ اب بھی موجود ہے۔ پنجاب کا بسنت میلا اسی "حقیقت رائے" کی یاد میں منایا جاتا ھے۔ (ملاحظہ ہو:- پنجاب آخری مغل دور حکومت میں ۱۷۰۷ء-۱۷۵۹ء - از: ڈاکٹر بخشیش سنگھ نجار) (ملاحظہ ہو:- عرس اور میلے ۱۹۵۸ء - از: امان اللہ خان آرمان) (بسنت - از: وکیپیڈیا)

  • 👆🏻👆🏻 پاکستان اور گرد و نواح میں کچھ دنوں میں سورج گرہن ہونا ہے، (ان شاء الله تعالیٰ) ۔ سورج گرہن سے متعلق ہمارے معاشرے میں ہندوانہ عقائد اور ان کی تحقیق درج بالا PDF-File میں ملاحظہ ہوں ۔ 👆🏻👆🏻

  • без подписи

  • جاننا اچھا ہے۔ ۔ ۔ ‼️