عبداللہ مسافر
Статистикаلاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا،
- Последний пост
- 13 авг.
- Последнее чтение
- 15 авг.
- Постов за неделю
- 10
- Всего постов
- 31
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- 63
- 1/48двое суток
- 72
- 1/72трое суток
- 77
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
https://x.com/i/status/2087932467277693000
без подписи
без подписи
без подписи
بلوچستان کو آزادی کا تحفہ جی ایچ کیو میں بیٹھے کتوں نے ہمیشہ اپنی قوم کے خون پر ہی کشن آزادی منایا ہے
مزاحمت ہے زندگی اب لومڑی اس ہرن کے بچے کو کہے کہ شاھین کےحملے کےجواب میں بھاگو بھی مت اور اگر اتفاقیہ بچ گئے تو اس خلاف کوئی بات بھی نہیں کرنا ۔۔ اتفاقیہ بچنے کی وجہ سے جج بھی اسی کو سزا دیں پھر بھی جنگل کے قانون کا لحاظ رکھنا ہے۔ بس پاکستان اور درباریوں کے فتووں کی یہی کہانی
عبداللہ مسافر pinned «https://x.com/wahidi4you پہلا والا اکاؤنٹ مہینے کے لیے لاک ہوگیا فی الحال اسکو فالو کریں»
https://x.com/wahidi4you پہلا والا اکاؤنٹ مہینے کے لیے لاک ہوگیا فی الحال اسکو فالو کریں
افغان اردو آییسپار کا پیڈ اکاؤنٹ ہے اسی وجہ سے اپنے ابوکی گرفتاری پر پریشان ہے
صوبیدار عبدالرحیم کا بیانیہ دفن ہو گیا شیخ سعید فودہ نے حالیہ جمہوری مسلم حکومتوں اور حکمرانوں کی اطاعت سے متعلق واضح کیا کہ 'حدیث میں جن حکمرانوں کی اطاعت کا حکم ہے، وہ یہ جمہوری و دین سے دُور حکمرانوں کی اطاعت سے متعلق نہیں ہے' معاصر اشعری علماء میں شمار کیے جانے والے شیخ سعید فودہ نے اپنی کتاب 'الشرح الكبير على العقيدة الطحاوية' میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ: 'مسلم حکمرانوں کی اطاعت سے متعلق وارد احادیث کو موجودہ دور کی ریاستوں اور حکومتوں پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔' انہوں نے لکھا: «وهذا كله لا يجوز قياسه على الدول والحكومات المعاصرة بلا شك ولا ريب؛ فإنها كلها لا تحكم بما أنزل الله تعالى.» جس کا ترجمہ ہے: 'یہ تمام احکام بلا شک و شبہ موجودہ ریاستوں، حکومتوں اور حکمرانوں پر قیاس نہیں کیے جا سکتے، کیوں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکومت نہیں کرتیں۔" شیخ سعید فودہ نے مزید لکھا کہ: 'ماضی میں حکمرانوں کی اطاعت کے حوالے سے جو فقہی اختلاف پایا جاتا تھا، وہ اُن حکمرانوں کے بارے میں تھا، جو اسلام کے مطابق حکومت کرتے تھے، اگرچہ بعض اوقات ظلم کے مرتکب ہوتے تھے۔' تاہم ان کے بقول 'جو حکمران دین اور ریاست کے شرعی قوانین کو ہی تبدیل کر دیں، ان کا معاملہ مختلف ہے۔' انہوں نے اس ضمن میں لکھا: «إنما الخلاف السابق كان فيمن حكم بالإسلام والتزم به إلا أنه ظلم، وأما من غير وبدل شرائع الدين والدولة، فأمره بيّن، وهذا هو المدرج قطعاً تحت قول الرسول عليه السلام: "إلا أن تروا كفراً بواحاً"، والله أعلم.» اس عبارت کا ترجمہ یوں ہے: 'پہلا اختلاف اس شخص کے بارے میں تھا، جو اسلام کے مطابق حکومت کرتا ہو اور اس کا پابند ہو، اگرچہ ظلم کرے۔ لیکن جس نے دین اور ریاست کے شرعی قوانین کو ہی تبدیل کر دیا، اس کا معاملہ واضح ہے اور وہ یقینی طور پر رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کے تحت آتا ہے: 'إلا أن تروا كفراً بواحاً'، یعنی 'جب تک تم کھلا اور صریح کفر نہ دیکھ لو۔' واللہ اعلم۔' یہ اقتباسات شیخ سعید فودہ کی کتاب الشرح الكبير على العقيدة الطحاوية (صفحات 1050–1051) میں درج ہیں
میں نے بہت پہلے ایک کالم لکھا تھا جس میں بشارت بھائی کا ذکر کیا تھا۔جی یہ وہی بشارت عباسی ہیں جو جرنلسٹ تھے۔اور پھر کشمیر چلے گئے تھے۔وہاں شہید ہوگئے تھے۔باغ،دھیر کوٹ سیسر سے ان کا تعلق تھا۔میں نے ان کی شہادت کے بعد سکول یا کالج دور میں لکھا تھا کہ وہ اکثر خواب میں آتے ہیں۔ ایک دن خواب میں آئے اور مجھ سے مخاطب ہوئے شہزاد تم کب آو گے؟...اُس کالم کے اختتام پہ میں نے لکھا تھا کہ اب بشارت بھائی یہ نہیں پوچھتے کہ تم کب آو گے؟وہ پوچھتے ہیں کہ تم آو گے بھی کہ نہیں؟؟؟؟؟؟؟ بس آج کئی دہائیوں بعد ان کو بتادیتا ہوں کہ نہیں بشارت بھائی میں نہیں آوں گا۔۔۔ میں مجبوریوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوں۔۔۔ مجھے بھوک افلاس نے قید کررکھاہے۔ذمہ داریاں مجھے مجبور کئے ہوئے ہیں۔۔۔۔بے حسی نے میرا دماغ جھکڑا ہوا ہے۔میں نہیں آوں گا۔۔۔ بس ادھر ہی کسی دن مَر مُرجاوں گا ۔۔اتنی گمنام قبروں میں ایک اور قبر کا اضافہ ہو جائے گا۔۔۔لیکن ادھر مقبوضہ کشمیر نہیں آوں گا۔ پتہ ہے بشارت بھائی ایچ ایٹ کے بعد ایچ الیون والا قبرستان بھی بھر چکا ہے۔۔۔ اب اس میں قبر مشکل سے ہی ملتی ہے ابھی سی ڈی اے کیا پتہ فتح جنگ کے قریب کوئی قبرستان کی جگہ مختص کردے۔ بہر حال جو بھی ہے ادھر ہی کہیں مَر مُر جاوں گا لیکن وہاں نہیں آوں گا۔۔۔ اب تو میں پار کے کشمیریوں کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں سمجھتا خود کو۔۔۔کیا منہ دکھاوں ان کو۔۔۔اب وہ 80 ،90 والی دہائی نہیں رھی۔ہماری ترجیحات بدل چکی ہیں ۔۔۔وہ جذباتی باتیں تھیں اب ہم سیانڑے(سمجھدار) ہوچکے ہیں۔۔۔بس بشارت بھائی اب آخرت میں ملاقات ہوگی۔وہاں بھی پتہ نہیں ہوگی کہ نہیں۔۔آپ تو جنت میں ہوگے اور ہم دوسری طرف۔۔۔ لیکن بھائی اگر ممکن ہوا تو ملنا ضرور۔۔۔ still V love u..... آپ سے پیار اسی طرح ہے۔۔۔۔ اور آپ جیسوں سے محبت اور بڑھی ہے لیکن بے بسی نے بغیرت بنا دیا ہے اب تو کچھ لکھتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔۔۔۔پار کا کیا لکھنا اب آر کا بھی لکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کیا پتہ کسی کو کون سی بات بری لگ جائے۔ آپ تو جانتے ہو بشارت بھائی بزدل اور ڈرپوک نہیں تھا۔لیکن کمبخت حالات انسان کو مجبور کردیتے ہیں۔بس آپ انتظار نہ کرنا۔میں کیا اب شاید کوئی بھی اس پار سے ادھر نہ آسکے۔ہم تو اتنے بے بس ہیں کی علی گیلانی کی قبر تک کی فوٹیج تو کیا تصویر تک نہیں ہمارے پاس۔بس جب بے بسی اور مجبوری آپ پہ حاوی ہوجائے تو پھر کیا جینا کیا مرنا۔۔۔۔بیغرت بن کے سانسیں تو انسان لیتا ہے لیکن جیتا کب ہے۔۔۔ سوری بشارت بھائی once again سوری۔۔۔۔۔۔۔ love u sooo much...... nd Miss u ... شہزاد چوہدری
"عارضی تکلیف برداشت کر لو، مگر ہمیشہ کسی دوسرے ملک کے سہارے پر مت رہو۔" اب اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں رہے گا۔ کیونکہ ایک خود کفیل افغانستان صرف اپنی معیشت نہیں بدلتا۔ وہ پورے خطے کے معاشی نقشے کو بدل دیتا ہے۔ اور شاید اسی لیے دنیا آپ کو اتنی دلچسپی سے دیکھ رہی ہے۔ ملا جان! آپ نے جنگ کے بغیر ایک اور جنگ شروع کر دی ہے۔ یہ جنگ بندوقوں سے نہیں۔ بازاروں سے لڑی جا رہی ہے۔ یہ جنگ ٹینکوں سے نہیں۔ تجارت کے راستوں سے لڑی جا رہی ہے۔ یہ جنگ سرحدوں پر نہیں۔ انحصار کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔ اور اگر آپ واقعی افغانستان کو اس انحصار سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے تو شاید آنے والے برسوں میں تاریخ یہ نہیں لکھے گی کہ افغانستان جنگوں سے تباہ ہوا تھا۔ شاید تاریخ یہ لکھے: "افغانستان جنگوں کے بعد دوبارہ کھڑا ہوا، اور سب سے پہلے اس نے یہ سیکھا کہ دوسروں کے دروازے پر کھڑے ہو کر کوئی ملک طاقتور نہیں بنتا۔" افغانوں! اپنے ہی خنجر سے خود پر وار کرنا بند کرو۔ مشکلات سے گھبرا کر اپنے راستے مت چھوڑو۔ اگر راستے بند ہیں تو نئے راستے بناؤ۔ اگر بازار بند ہیں تو نئی منڈیاں تلاش کرو۔ اگر دنیا تمہیں کمزور سمجھتی ہے تو اسے اپنی محنت سے جواب دو۔ کیونکہ عارضی مشکلات برداشت کرنے والی قومیں ہی مستقل خوشحالی کی بنیاد رکھتی ہیں۔ اور ہاں… پاکستان کو بھی شاید پہلی مرتبہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ: افغانستان کو روکنے سے پہلے یہ دیکھ لیا کرو کہ کہیں وہ راستہ بدلنے کی تیاری تو نہیں کر رہا۔ — ملا جان کی خاموش حکمتِ عملی
ملا جان کی خاموش حکمتِ عملی پاکستان اور افغانستان کے درمیان 300 روزہ تجارتی ناکہ بندی بس یہی خبر کافی ہے یہ سمجھنے کے لیے کہ ملا جان نے بندوق چلائے بغیر پاکستان کی معیشت پر کتنا بڑا وار کیا ہے۔ ذرا ٹھہریے! پوسٹ پڑھنے سے پہلے ایک بات سمجھ لیجیے۔ میں ملا جان کی بصیرت سے بہت حیران ہوں۔ واقعی بہت حیران! ایک طرف امریکا نے افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے، دوسری طرف 20 سال سے زیادہ جنگ کے بعد ایک ایسی حکومت ملی جس کا خزانہ خالی، ادارے مفلوج اور معیشت بیرونی امداد کی عادی تھی۔ دنیا کو یقین تھا کہ افغانستان چند ماہ میں بھوک، افلاس اور انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ لیکن ملا جان نے شاید دنیا کے معاشیات کے سارے فارمولے ہی غلط ثابت کرنے کی ٹھان لی تھی۔ بینک مفلوج تھے، چل پڑے۔ کرنسی ڈوبنے والی تھی، سنبھل گئی۔ معیشت تباہ ہونے والی تھی، کھڑی ہو گئی۔ دنیا قرض اور امداد کے دروازے دکھا رہی تھی، ملا جان نے مقامی پیداوار کا دروازہ کھول دیا۔ اور سب سے حیران کن بات؟ جس افغانستان کو بتایا جا رہا تھا کہ تم پاکستان کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے، اس افغانستان نے آہستہ آہستہ پوچھنا شروع کر دیا: "پاکستان کے بغیر ہم کیوں نہیں کر سکتے؟" یہی سوال اصل خطرہ ہے۔ ملا جان نے پنجاب کی فیکٹریوں کو بند نہیں کیا۔ بس افغان بازار کا دروازہ دوسری طرف کھول دیا۔ اور ادھر پاکستان کی صنعت کار برادری نے پہلی مرتبہ سوچنا شروع کیا کہ شاید بازار ہمیشہ کے لیے ہمارا نہیں ہوتا۔ سیمنٹ چاہیے؟ دوسری جگہ سے لے لیں گے۔ ادویات چاہیے؟ دوسرا راستہ تلاش کر لیں گے۔ تعمیراتی سامان چاہیے؟ متبادل پیدا کر لیں گے۔ کھانے پینے کی اشیا چاہیے؟ سرحد کے اُس پار سے لانے کی ضرورت نہیں، کہیں اور سے منگوا لیں گے۔ یہی تو ملا جان کی اصل "شرارت" ہے۔ اس نے افغانستان کو یہ سکھانا شروع کر دیا کہ تجارت صرف پڑوسی کی محتاجی کا نام نہیں، متبادل راستے پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔ پھر ملا جان نے ایک اور عجیب کام کیا۔ تاجکستان کی طرف دیکھا۔ ازبکستان سے ہاتھ ملایا۔ ایران کو قریب کیا۔ چین سے راستے نکالے۔ روس سے تعلقات بڑھائے۔ بھارت کو برآمدی منڈی کے طور پر استعمال کیا۔ اور یوں افغانستان نے دنیا کو ایک انتہائی خطرناک سبق دے دیا: جس ملک کے پاس سمندر نہ ہو، ضروری نہیں کہ اس کے پاس راستے بھی نہ ہوں۔ اب ذرا پاکستان کی طرف دیکھیے۔ 300 دن تک راستہ بند رہا۔ پاکستان خوش تھا کہ افغانستان کو نقصان ہو رہا ہے۔ افغانستان شاید یہ سوچ رہا تھا: "ٹھیک ہے، راستہ بند ہے… دوسرا راستہ بناتے ہیں۔" پھر ایک دن معلوم ہوا کہ جس راستے کو پاکستان نے افغانستان کے خلاف ہتھیار سمجھا تھا، افغانستان اسی راستے کی بندش کو نئے راستے تلاش کرنے کی وجہ بنا چکا ہے۔ واہ ملا جان! آپ نے تو کمال کر دیا۔ آپ نے پاکستان کی فیکٹریاں بند نہیں کیں۔ بس ان کی مصنوعات کے خریدار کم کر دیے۔ آپ نے پاکستان کے مزدوروں کو بے روزگار نہیں کیا۔ بس ان کے کارخانوں کے آرڈر کم کر دیے۔ آپ نے پاکستان کی برآمدات پر پابندی نہیں لگائی۔ بس افغان مارکیٹ کو متبادل دے دیے۔ اور اب پاکستانی صنعت کار پوچھ رہے ہیں: "افغانستان واپس ہماری مصنوعات کیوں نہیں خرید رہا؟" جناب! وہی تو سوال ہے۔ جس ملک کو آپ 40 سال سے اپنی منڈی، اپنی سڑک اور اپنی بندرگاہ کا محتاج سمجھتے رہے، اس نے اچانک یہ سوچنا شروع کر دیا کہ: "اپنی منڈی بھی بنائی جا سکتی ہے، اپنا راستہ بھی نکالا جا سکتا ہے اور اپنا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔" ملا جان! آپ سے پہلے افغان عوام کے نام پر اربوں ڈالر کی امداد آتی رہی۔ کاغذوں پر اسکول بنے۔ کاغذوں پر ہسپتال بنے۔ کاغذوں پر ادارے مضبوط ہوئے۔ اور حقیقت میں؟ کرپشن نے اپنا ایسا محل بنایا کہ افغان عوام باہر کھڑے دیکھتے رہے۔ پھر آپ آئے۔ دنیا نے کہا: "یہ لوگ افغانستان چلائیں گے؟" اور آپ نے جواب دیا: "ہم کوشش تو کریں گے۔" دنیا نے کہا: "معیشت تباہ ہو جائے گی۔" آپ نے کہا: "دیکھتے ہیں۔" دنیا نے کہا: "افغان کرنسی نہیں بچے گی۔" آپ نے کہا: "یہ بھی دیکھ لیتے ہیں۔" دنیا نے کہا: "افغانستان تنہا ہو جائے گا۔" آپ نے ایک ایک کر کے دروازے کھولنے شروع کر دیے۔ چین۔ روس۔ ایران۔ وسطی ایشیا۔ بھارت۔ اور اب دنیا حیران ہے کہ جس افغانستان کو ہمیشہ "مسئلہ" سمجھا گیا، وہ آہستہ آہستہ خود کو "منڈی" اور "راہ داری" میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو اصل سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ پڑوسی کو ہمیشہ محتاج سمجھنا خارجہ پالیسی نہیں ہوتی۔ سرحد بند کرنا طاقت کا مظاہرہ ہو سکتا ہے، مگر اگر دوسرا فریق متبادل راستہ بنا لے تو وہی سرحد آپ کے لیے بھی نقصان کا دروازہ بن سکتی ہے۔ اور ملا جان! آپ نے سب سے بڑا کام یہ کیا کہ افغانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ:
💔 میری ماں! آپ جہاں کہیں بھی ہیں، ایک بار واپس آ جائیں... میں اسد اللہ ہوں۔ آج برسوں بعد بھی میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش صرف ایک ہے کہ مجھے میری ماں بی بی زہرا مل جائیں۔ سن 2010 میں قانونی کارروائی کے باعث ہم بہن بھائی اپنی والدہ سے جدا ہو گئے۔ تقریباً دو سال ہم اپنی ماں سے دور رہے۔ اس دوران میری والدہ پشاور کے علاقے اشنغری، مومن ٹاؤن، بورڈ بازار میں رہائش پذیر تھیں۔ اہلِ علاقہ کے مطابق میری ماں تقریباً دو سال تک ہر روز سڑک کے کنارے بیٹھ کر ہمارے واپس آنے کا انتظار کرتی رہیں۔ لیکن جب ہم رہائی کے بعد واپس آئے تو معلوم ہوا کہ میری ماں طویل انتظار کے بعد کہیں چلی گئی تھیں، اور پھر آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ میری والدہ کا نام: بی بی زہرا میرے نانا کا نام: سردار محمد میرے ماموں کا نام: خان محمد میرے مرحوم والد کا نام: امین اللہ ہم تین بہن بھائی ہیں: 👦 بڑا بھائی: عزیز اللہ 👦 میں: اسد اللہ 👧 میری بہن: شکوفہ آج 12 سال گزر چکے ہیں۔ ہم اپنی ماں کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ نہ جانے وہ کس حال میں ہوں گی، لیکن ہمیں یقین ہے کہ اگر وہ زندہ ہیں تو آج بھی اپنے بچوں کو یاد کرتی ہوں گی، اور ہم بھی ہر دن صرف ان کی ایک جھلک دیکھنے کی دعا کرتے ہیں۔ امی! اگر آپ یہ پیغام کہیں سن رہی ہیں، یا کوئی یہ پیغام آپ تک پہنچا دے، تو جان لیجیے کہ آپ کے بچے آج بھی آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہمیں آپ سے کوئی شکوہ نہیں، بس ایک بار آپ کو دیکھنا، آپ کو گلے لگانا اور آپ کے قدم چومنا چاہتے ہیں۔ 🙏 خدارا، میری آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں۔ اللہ تعالیٰ کے بعد اب ہماری امید اور سہارا آپ جیسے دردِ دل رکھنے والے لوگوں سے ہے۔ شاید آپ کی ایک شیئر ہماری برسوں کی جدائی ختم کر دے اور ہمیں ہماری ماں سے ملا دے۔ 📞 اگر کسی شخص کو میری والدہ بی بی زہرا کے بارے میں کوئی بھی معلومات ہوں تو براہِ کرم فوراً رابطہ کریں۔ رابطہ نمبر: 0317-8235986 آپ کی ایک شیئر شاید برسوں سے بچھڑے ہوئے ایک خاندان کو دوبارہ ملا دے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس نیکی کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔
صومالیہ والوں نے پہلے امریکیوں کی ٹھکائی کی تھی کچھ عرصہ سے علاقائی مزدوروں کی ٹھکائی کر رہے تھے ۔ اب سدا کے غلام بھی مجاھدین کے خلاف علاقائی غلاموں کے ساتھ شامل ہو رہے ۔۔ اللہ رب العزت الشباب مجاھدین کو رائل آرمی کی بھی بھرپور ٹھکائی کی توفیق عطا فرمائے
اگر کوئی عالم یا مقرر گھنٹوں یہ بحث کرتا رہے کہ "ٹی ٹی پی یا افغان طالبان اقامتِ دین کی جدوجہد کر رہے ہیں یا نہیں"، تو اسے اسی دیانت کے ساتھ یہ بھی بتانا چاہیے کہ پاکستان میں ہر صوبے میں پھیلے ہوئے ظلم، ناانصافی، بدعنوانی، عوامی حقوق کی پامالی، عدالتی نظام کی کمزوریاں، احتساب کا فقدان، اور عوام کے حقیقی مسائل کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا مؤقف کیا ہے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ افغانستان یا ٹی ٹی پی اقامتِ دین کی صحیح نمائندگی نہیں کرتے، تو پھر یہ بھی واضح کریں کہ آپ خود کس عملی جدوجہد میں مصروف ہیں؟ کیا صرف اسٹیجوں پر بیٹھ کر گھنٹوں تبصرے کرنا، اور اپنے معاشرے کے ظلم و ناانصافی پر خاموش رہنا، اقامتِ دین کی ذمہ داری پوری کر دیتا ہے؟ اقامتِ دین صرف بندوق یا نعرے کا نام نہیں، بلکہ عدل قائم کرنا، مظلوم کی آواز بننا، امانت و دیانت کو فروغ دینا، ظلم کے خلاف حق بات کہنا، اور معاشرے کی اصلاح کی کوشش کرنا بھی اس کا حصہ ہے۔ اگر کسی کے نزدیک افغانستان یا ٹی ٹی پی کا راستہ درست نہیں، تو وہ دلیل سے اس کی تردید کرے، لیکن پھر اپنے ملک کے اندر موجود ظلم، کرپشن، انتخابی بے ضابطگیوں، عدالتی کمزوریوں، انتظامی خرابیوں اور عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی پر بھی اتنی ہی بے باکی سے بولے۔ ورنہ صرف دوسروں پر گفتگو اور اپنے معاشرے کی خرابیوں پر خاموشی علمی دیانت کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔( سراسر خیانت اور دھوکا ہے ) علماء اور اہلِ علم سے توقع یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں حق اور انصاف کی بات کریں، خواہ وہ کسی بھی ملک، حکومت، جماعت یا گروہ کے متعلق ہو۔ یہی قرآن و سنت کا اصول ہے، نہ کہ منتخب موضوعات پر مسلسل گفتگو اور باقی مسائل پر خاموشی۔ عیسی شفقت
لو جی پہلے سات دن اور اب انتیس دن کی پابندی
سمیع سادات تو قندھار میں ابھی تک نظر نہیں آیا۔ البتہ مفتی نور ولی صاحب خیبر سے کرم تک آزادانہ گھومتے نظر آرہے
اسرائیل کے بعد الجزیرہ پر پابندی لگانے والا پاکستان دوسرا ملک ہے ان کے تو سارے کرتوت کارنامے ایک جیسے ۔۔ پابندی کی وجہ بھی دونوں کی ایک ہے ۔۔ اسرائیل کا غزہ پر ظلم اور پاکستان کا افغانستان و پاکستان کے اندر مظالم دکھانے پر پابندی لگائی گئی۔ کوئی اور وجہ نہیں تھی ۔۔
انڈیا سے صرف تجارتی و سفارتی تعلق پر طعنہ دینے والے خود امریکی ایف سولہ کے ذریعے بمباری کرتے لیکن شرم ان کو بلکل بھی نہیں آتی ۔۔ یہ بھی اچھا نکتہ اٹھایا امریکی ایف سولہ کی طرف تو کسی کا دھیان ہی نہیں گیا