- Последний пост
- 18 янв.
- Последнее чтение
- 15 авг.
- Постов за неделю
- 0
- Всего постов
- 20
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- В каталоге с
- 15 авг.
- 1/24сутки в ленте
- —
- 1/48двое суток
- —
- 1/72трое суток
- —
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
♨ عدت وفات عورت غیر حامل کے لیے مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ صغیرہ ہو یا کبیرہ چار ماہ دس دن ہے ا____________________ 📜 فکر رضا دارالافتاء 📱موبائل : 00971-559060076 ٹیلیگرام: t.me/fikrerazadarulifta ا_____________________ ⏳ سوال : شوہر کے انتقال کر جانے کے بعد…
_____ الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت مفتی عثمان غنی اشک مصباحی صاحب ، نائب قاضئی شریعت دارالقضا ادارۂ شرعیہ، اورنگ آباد، بہار _____ الجواب حق و صواب و المجیب نجیح و مثاب و ھکذا ینبغی التحقیق و اللہ ولی التوفیق واللہ اعلم و علمہ احکم۔ حضرت مفتی شمیم القادری نعیمی صاحب شیخ الحدیث دارالعلوم صمدیہ محمدیہ للبنات داونگیرے _____ الجواب صحیح حضرت علامہ مفتی علاؤالدین رضوی منظری صاحب ، شیخ الحدیث دارالعلوم حسینیہ للبنات بنکاپور _____ الجواب صحیح حضرت مفتی عبدالرحمن قادری صاحب دارالافتاء غریب نواز ، لمبی جامع مسجد ملاوی وسطی افریقہ _____ الجواب صحیح حضرت مفتی کاشف مشتاق نعیمی صاحب ، دارالافتاء النور کراچی _____ الجواب صحیح حضرت مفتی عرفان نعیمی صاحب ، دارالافتاء کنزالایمان کراچی _____ الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت مفتی محمـد اسمـاعـیل خـان امجـدی صاحب ، انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی _____ حضرت مفتی شہزاد نعیمی صاحب ، دارالافتاء النور کراچی _____ حضرت مفتی مفتی آصف نعیمی صاحب ، دارالافتاء النور کراچی _____ تاریخ التصحیح : 11/01/2026
یہاں یہ بھی خیال میں رہے کہ شیعہ حضرات صرف بارہ اماموں کا عقیدہ رکھتے ہیں جن میں اول حضرت سیدنا امیر المومنین علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سب سے آخر حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کو مانتے ہیں ، اور ان بارہ اماموں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ باقی تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰت و السلام سے افضل جانتے اور انہیں معصوم مانتے ہیں چنانچہ امام اہلسنت فرماتے ہیں " کفر دوم : ان کا ہر تنفس سید نا امیر المومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ الکریم و دیگر ائمہ طاہرین رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو حضرات عالیات انبیاء سابقین علیہم الصلوٰت و التحیات سے افضل بتاتا ہے اور جو کسی غیر نبی کو نبی سے افضل کہے باجماع مسلمین کافر بے دین ہے " (فتاویٰ رضویہ ، کتاب السیر ، رسالہ ردالرفضہ ، ۱۴/۲۶۳) اور علامہ پیر سید محمد جلال الدین شاہ مشہدی حنفی متوفی ۱۴۰۶ھ فرماتے ہیں " امت محمدیہ میں صرف بارہ امام ہیں ، ان کے علاوہ کوئی امام نہیں، یہ بات رافضی شیعہ کرتے ہیں، جنہیں کتابوں میں اثنا عشریہ یا امامیہ لکھا جاتا ہے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ بارہ امام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ باقی انبیائے کرام علیہم السلام سے افضل اور معصوم ہیں ، ان کا یہ عقیدہ کفریہ ہے۔اہلسنت کا عقیدہ یہ ہے کہ غیر نبی جتنا بھی بلند مرتبہ ہو جائے، نبی کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا، چہ جائیکہ افضل ہو، اور انسانوں میں سے صرف انبیائے کرام علیہم السلام ہی معصوم ہیں ، غیر نبی سے اگر کوئی گناہ سر زد نہ ہو تو وہ پھر بھی معصوم نہیں، اسے محفوظ کہتے ہیں " (فتاوی بھکی شریف ، کتاب العقائد ، ۱/۷۹ ، مطبوعہ جلالیہ پبلیکیشنز) فلہذا اس پس منظر کے تحت سرکار امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کیلئے لفظ " امام علی " کا استعمال نہ کرنے میں ہی بھلائی ہے کہ اس سے بارہ اماموں کا وہ عقیدہ جو روافض کے نزدیک ہے خود بخود باطل و مردود ہو جاتا ہے ھذا ما ظھر لی والعلم الحقیقی عند ربی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ ____ *محمد شکیل اخترالقادری النعیمی غفرلہ* *شیخ الحدیث والمفتی بمدرسۃالبنات مسلک اعلیٰ حضرت صدر صوفہ ہبلی کرناٹک الھند* *۱۹/ رجب المرجب ۱۴۴۷ھ مطابق ۹/ جنوری ۲۰۲۶م* ___🌴__ الجواب صحیح والمجیب نجیح ، (حضرت) عبدہ الدکتور المفتی محمد عطاء اللہ نعیمی غفرلہ (صاحب) شیخ الحدیث جامعۃ النور و شیخ الحدیث دارالعلوم مصلح الدین ، و رئیس دارالافتاء النور ، جمیعۃ اشاعۃ اہل السنّۃ (باکستان) کراتشی _____ الجواب صحیح حضرت مفتی قاضی ابراہیم مصباحی مقبولی صاحب ، سربراہ اعلیٰ جامعہ امام احمد رضا ، رتنا گیری کوکن مہاراشٹر _____ الجواب صحیح والمجیب مصیب ومثاب حضرت مفتی محمد شرف الدین رضوی صاحب ، شیخ الحدیث دارالعلوم قادریہ حبیبہ فیل خانہ ہوڑہ بنگال _____ الجواب صحیح حضرت مفتی منظور احمد رضوی مصباحی صاحب ، مفتی وقاضی ادارہ شرعیہ بلگام کرناٹک _____ الجواب صحیح و المجیب نجیح و مثاب عند اللہ حضرت مفتی محمد مقصود عالم فرحت ضیائی صاحب ، فخر ازہر دارالافتاء والقضاء ہاسپیٹ وجے نگر کرناٹک _____ الجواب صحیح حضرت مفتی جنید عطاری نعیمی صاحب ، دارالافتاء النور ، کراچی _____ الجواب صحیح والمجیب مصیب حضرت مفتی راجہ کاشف نعیمی صاحب ، دارالافتاء ہاشمیہ کراچی _____ ماشاء اللہ بہت عمدہ ۔ الجواب صحیح والمجیب نجیح ومثاب حضرت مفتی محمد شہروز عالم اکرمی صاحب ، دار الافتاء دارالعلوم قادریہ حبیبیہ فیلخانہ ہوڑہ _____ الجواب صحیح حضرت مفتی ہاشم رضا مصباحی صاحب ، دارالافتاء والقضاء کھرگون ایم پی _____ الجواب صحیح والمجیب نجیح ۔ امام علی کے کہنے سے شیعوں کے عقیدے کی تائید ہوتی ہے لہذا نہ صرف یہ کہ امام علی کا استعمال نہ کرنے میں ہی بھلائی ہے بلکہ بہر صورت بچنا ہی چاہیے۔کہ خواہی نہ خواہی ان کے عقیدے کی تائید ہوگی واللہ تعالی اعلم حضرت مفتی محمد اسلم مصباحی صاحب چیف قاضی ادارہ شرعیہ جامعہ حضرت بلال ، بنگلور کرناٹک _____ صح الجواب والمجیب مثاب حضرت مفتی سلمان احمد القادری الازھری صاحب ، ممبئی مہاراشٹر _____ الجواب صحیح حضرت مفتی عطا محمد مشاہدی صاحب ، دارالافتاء حشمت الرضا ، پیلی بھیت شریف _____ آپ نے بہت ہی مفصل مدلل جواب عطافرمایابالکل حق وصواب ہے حضرت مفتی محمدشبیراحمدصدیقی صاحب ، قاضی شرع ادارہ شرعیہ احمد آباد گجرات _____ الجواب صحیح حضرت مفتی محمد مجاهد رضا قادری مصباحی صاحب ، استاذ دارالعلوم نوری کھجرانہ اندور
🌴 حضرت سیدنا امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ الکریم کیلئے لفظ " امام علی " کا استعمال کیسا ہے ؟🌴 ___ سوال: مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کے نام پاک کے ساتھ " امام علی " لکھنا شیعہ لوگوں میں ہی معروف ہے یا ہمارے ائمہ اہلسنت میں بھی رائج ہے ، فی زمانہ شیعوں کے ساتھ نام نہاد مولائی فرقہ کے لوگوں میں زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے تو ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا ؟ تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں سائل : عبداللہ ، ہبلی کرناٹک الھند ____ الجواب بعون الملک الوھاب بیشک سیدنا سرکار امیر المومنین ، امام المسلمین ، مظہر العجائب والغرائب ، امام المشارق والمغارب حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم ہم سب کے ، تمام مسلمانوں کے " امام " ہیں بلکہ تمام اماموں کے امام ہیں اور بیشک معنوی اعتبار سے اس لفظ " امام علی " میں کوئی حرج نہیں ہے مگر حضرت سیدنا مولائے کائنات کرم اللہ وجہہ الکریم کیلئے یہ لفظ عموماً علمائے اہلسنت استعمال نہیں کرتے ، بلکہ حضرت سیدنا مولائے کائنات ، شیر خدا ، حیدر کرار ، اشجع الاشجعین ، امام المتقین ، داماد رسول ، زوج بتول ، فاتح خیبر وغیرہا القاب عالیہ استعمال کرتے ہیں (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تو لفظ " امام علی " میں اگرچہ لفظی و معنوی طور پر کوئی حرج نہیں ہے مگر فی زمانہ یہ روافض کا کثرت استعمال ہے ، نیز ہمارے دیار میں یہ لفظ اب نام نہاد " مولائی فرقہ " کے لوگ بھی جوکہ گمراہی والے نظریات رکھتے ہیں بکثرت استعمال کرتے ہیں اور استعمال کرنے والے کو " مولائی " سمجھا جاتا ہے فلہذا جس لفظ کو ہمارے اکابر و ائمہ اہلسنت نے عام طور پر استعمال نہیں کیا اور جس کا استعمال فی زمانہ عموماً روافض و فرقہ مولائی کا طریقہ بن گیا ہے تو جہاں ایسے لوگ ہوں اور اس لفظ یا اس جیسے دوسرے کسی لفظ کے استعمال پر متہم بالرفض ہونے کا اندیشہ صحیح ہو وہاں اس کے استعمال سے بچنا چاہئے جیساکہ لفظ " محمد صاحب " (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کا اطلاق لفظی و معنوی اعتبار سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم ذات اقدس پر بالکل درست ہے مگر بایں ہمہ چونکہ اس طرح کہنا لکھنا آریوں ، پادریوں کا طریقہ ہے لہذا اس سے مسلمانوں پر احتراز لازم ہے چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں *" حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر اطلاق صاحب خود قرآن عظیم میں وارد :" وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى مَا ضَلَّ صَاحِبَكُمْ وَ مَا غَوى "* *(ت) اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اترے، تمھارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے " مگر نام اقدس کے ساتھ اس طور پر لفظ صاحب کا ملانا آریوں اور پادریوں کا شعار ہے وہ اسے معروف تعظیم میں لاتے ہیں جو زید و عمر کے لئے رائج ہے کہ شیخ صاحب، مرزا صاحب، پادری صاحب ، پنڈت صاحب ، لہذا اس سے احتراز چاہئے، ہاں یوں کہا جائے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہمارے صاحب ہیں آقا ہیں مالک ہیں مولی ہیں "* (فتاویٰ رضویہ ، کتاب السیر ، رقم المسئلہ ۲۴۴ ، ۱۴/۶۱۵ ، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور) معلوم ہوا کہ کسی لفظ کا اطلاق درست ہونا اور ہے اور اسے بعض اوقات و حالات و مقامات پر استعمال کرنا شئے دیگر ، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نامی اسم گرامی کے ساتھ لفظ " صاحب" لغوی و معنوی اعتبار سے بالکل درست ہے بلکہ خود قرآن کریم میں ہے مگر آریوں ، پادریوں کا طریقہ ہونے کے سبب مسلمانوں کیلئے اس کے استعمال سے اجتناب چاہئے یونہی لفظ " امام علی " کا اطلاق لفظی و معنوی اعتبار سے مولائے کائنات شیر خدا رضی اللہ عنہ پر بالکل درست ہے مگر چونکہ اس کا استعمال عموماً فی زمانہ روافض و مولائی کرتے ہیں لہذا طریقہ روافض سے بچنے کیلئے مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے اجتناب چاہئے اور علمائے اہلسنت کے استعمال کردہ مشہور و معروف القاب جو اس سے بھی اعلیٰ درجے کے ہیں استعمال کرنا چاہئے تاکہ فرق رہے اور اس اجتناب کی اصل قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمائی گئی کہ *" وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ "* (القرآن الکریم ، ۱۱/۱۱۳) ترجمہ: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آ گ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہاراکوئی حمایتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے اور حدیث پاک میں یوں فرمایا گیا کہ " من تشبہ بقوم فھو منہم " (سنن ابی داؤد ، کتاب اللباس ، باب فی لبس الشھرۃ ، رقم الحدیث ۴۰۳۱ ، ص۷۵۰ ، مطبوعہ دارالفکر بیروت) یعنی ، جو جس قوم سے مشابہت اختیار کرےگا وہ انہیں میں سے ہے لیکن اگر کوئی نادانی میں استعمال کرلے تو محض اس بناء پر اسے شیعہ یا مولائی نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ اس کی رافضیت و مولائیت پر دلیل شرعی قائم نہ ہو
بچوں کی دادی کے پاس چنانچہ امام اہلسنت فرماتے ہیں *" سائل مظہر کہ پسر کی عمر گیارہ سال ہے اور ایک دختر کی دس سال اور دوسرے کی تین سال، پس صورت مستفسرہ میں لڑکا جوان ہونے تک زید کے چچازاد بھائی کے پاس رہے گا "* (ایضاً ، ص۳۹۹ ، رقم المسئلہ ۱۴۵) دوسری جگہ فرماتے ہیں *" لڑکیاں اپنے چچاکے پاس رہیں گی کہ جب نو برس کی ہو جائے تو ماں بھی اسے نہیں رکھی سکتی چچا کو دلادی جائے گی، نانی و غیر ہا تو دوسرا درجہ ہے "* (ایضاً ، ص۳۸۸ ، رقم المسئلہ ۱۳۸) اسلم کی بیوہ کیلئے جائز نہیں کہ جس چیز کا اسے شرعاً حق نہیں اس کا دعویٰ کرے یا اس کے حصول کیلئے کورٹ کچہری میں مقدمہ دائر کرے یاد رہے کہ چچا ، دادی یا کوئی اور اگر بچوں کو ماں سے ملنے سے روکے یا ماں کے خلاف بہکانے کی کوشش کرے گا تو یہ سخت حرام و ناجائز ہوگا چنانچہ امام اہلسنت فرماتے ہیں *" مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچہ ماں سے بالکل تڑا لیا جائے اس سے ملنے تک نہ دیں، یہ حرام اور سخت حرام ہے "* (ایضاً ، ص۴۱۱ ، رقم المسئلہ ۱۵۰) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ ___ محمد شکیل اخترالقادری النعیمی غفرلہ شیخ الحدیث والمفتی بمدرسۃالبنات مسلک اعلیٰ حضرت صدر صوفہ ہبلی کرناٹک الھند ۱۳ جمادی الثانی ۱۴۴۷ھ مطابق ۵ دسمبر ۲۰۲۵م ____ الجواب صحیح استاذ العلماء والفقہاء ڈاکٹر مفتی عطاء اللہ نعیمی صاحب قبلہ مدظلہ العالی حضرت مفتی جنید صاحب قبلہ مفتی راجہ کاشف صاحب قبلہ مفتی عمران صاحب قبلہ مفتی کاشف مشتاق صاحب قبلہ مفتی آصف صاحب قبلہ مفتی عبید رضا صاحب قبلہ مفتی قاسم صاحب قبلہ مفتی مہتاب صاحب قبلہ
*💚 سات سال سے اوپر کی عمر کے بچے کفالت کا حق ماں کو ہے یا باپ دادا کی غیر موجودگی میں چچا کو ؟ 💚* __ـ____ السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بیٹے اسلم جس کا چار سال پہلے انتقال ہو چکا ہے اس کے تین بیٹے ہیں بڑا بارہ سال ، اس سے چھوٹا گیارہ سال اور سب سے چھوٹا چھ سال کا ہے ، بڑے دونوں بچے ہبلی میں اسکول جاتے ہیں ، میری بہو اپنے شوہر اسلم کے انتقال کے بعد تین سال تک یہاں میرے پاس رہی ، ادھر گیارہ مہینے سے اپنے چھوٹے بیٹے کو لے ماں کے گاؤں کوپل میں ہے ، اور مجھ سے اپنے دونوں بچوں کو مانگ رہی ہے کہ میں ان بچوں کو لے کر کوپل میں رہوں گی جب کہ بچے ماں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ہیں اور میں بھی ان بچوں کے بغیر نہیں رہ سکتی اور ان بچوں کے علاوہ میرے لئے کوئی سہارا بھی نہیں ہے حکم شرعی بیان فرمائیں مہربانی ہوگی سائلہ ـ۔ ام عبداللہ ، ہبلی (نوٹ) :- جن کی معرفت سوال آیا ہے وہ جید عالم دین ہیں انہوں نے بتایا کہ ان بچوں کا سگا چچا موجود ہے جو اپنی ماں اور ان بچوں کے اخراجات کی کمی کو پورا کرتا ہے ____ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب باپ کے انتقال کے بعد بچوں کا حق پرورش سب سے پہلے ماں کو ہی ہے جب تک کہ وہ بچوں کے غیر محرم آدمی سے نکاح نہ کرلے یا یہ کہ وہ فاسقہ فاجرہ ، لاپروا ہو یا وہ خود ہی پرورش سے انکار کردے چنانچہ امام شمس الدین محمد تمرتاشی حنفی متوفی ۱۰۰۴ھ فرماتے ہیں *" تثبت للام ولو بعد الفرقة الا أن تكون مرندة أو فاجرة أو غير مأمونة أو أمة أوأم ولد أو مدبرة أو مكاتبة ولدت ذلك الولد قبل الكتابة أو متزوجة بغير محرم أو ابت أن تربيه مجانا والاب معسر "* (تنویر الابصار ، کتاب الطلاق ، باب الحضانۃ ، ص۸۳ ، مطبوعہ المکتبۃ النبویہ مصر ، الطبعۃ الاولی:۱۳۳۲ھ) یعنی حق پرورش ماں کیلئے ثابت ہے اگرچہ فرقت کے بعد ہو مگر جب کہ وہ مرتد ہو یا فاجرہ ہو یا اس عورت سے امن نہ ہو یا وہ عورت لونڈی ہو یا ام ولد یا مدبرہ یا مکاتبہ ہو اس نے عقد مکاتبت سے قبل بچے کو جنا ہو یا اس عورت نے بچے کے غیر محرم سے نکاح کرلیا ہو یا وہ معاوضہ کے بغیر پرورش کرنے سے انکار کردے جب کہ باپ تنگدست ہے اور ماں کیلئے یہ حق پرورش لڑکے میں صرف سات سال تک اور لڑکی میں صرف نو سال تک ہے چنانچہ علامہ علاؤالدین حصکفی حنفی متوفی ۱۰۸۸ھ فرماتے ہیں *" (والحاضنة) أما أو غيرها (أحق به أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب ... والام والجدة أحق بها حتى تحيض وغيرهما أحق بها حتى تشتهى وقدر بتسع، وبه يُفتى "* (الدرالمختار ، کتاب الطلاق ، باب الحضانۃ ، ص۲۵۶ ، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ، الطبعۃ الاولی:۱۴۲۳ھ) یعنی ، پرورش کرنے والی ماں ہو یا کوئی اور وو بچے کو اپنے پاس رکھنے کی زیادہ حق دار ہوگی یہاں تک وہ عورتوں کی خدمت میں مستغنی ہو جائے ۔ یہ عمرسات سال مقدر کی گئی ہے۔ اور اسی پر فتوی دیا جاتا ہے ... ماں اور نانی یا دادی بچی کو پاس رکھنے کے زیادہ حق دار ہیں یہاں تک کہ اسے حیض آ جائے ان کے علاوہ بچی کو اپنے پاس رکھنے کے حق دار ہیں یہاں تک کہ اسے دیکھ کر شہوت آجائے ۔ اس کی عمر نو سال مقدر کی گئی ہے لڑکے کی عمر سات اور لڑکی کی عمر نو سال پورے ہونے کے بعد بچوں کو سب سے قریبی عصبہ(وہ نسبی رشتہ جس سے نکاح ہمیشہ کیلئے حرام ہوتاہے) کے سپرد کیا جائے گا چنانچہ امام افتخار الدین طاہر بن احمد بخاری حنفی متوفی ۵۴۲ھ فرماتے ہیں *" و بعد ما استغنی الغلام و بلغت االجاریۃ فالعصبۃ اولی یقدم الاقرب فالاقرب "* (خلاصۃ الفتاویٰ ، کتاب النکاح ، فصل فی الحضانۃ ، ۲/۷۲ ، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) یعنی ، بچے کے مستغنی ہونے اور بچی کے بالغ ہونے کے بعد عصبہ کو ولایت حاصل ہوگی سب سے قریب تر کو پہلے حق ہوگا اور امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں *" حق حضانت لڑکے میں سات اور دختر میں نو برس کی عمر تک رہتا ہے اس کے بعد عصبہ کے پاس رہے گی جو عصوبت میں مقدم ہے یہاں بھی مقدم ہے بشر طیکہ فاسق بد چلن نہ ہو اس سے صغیر پر اندیشہ نہ ہو اور دختر کے لئے اس کا محرم ہونا بھی شرط "* (فتاویٰ رضویہ ، کتاب الطلاق ، باب الحضانۃ ، ۱۳/۴۰۲ ، رقم المسئلہ ۱۴۶ ، رضافاؤنڈیشن لاہور) صورت مسئولہ میں جب کہ مرحوم اسلم کا بڑا اور منجھلا بیٹا بالترتیب بارہ اور گیارہ سال کے ہوچکے ہیں تو ماں کیلئے ان کو اپنے پاس رکھنے کا شرعاً کوئی حق نہیں اور چونکہ دونوں بچوں کے باپ دادا نہیں ہیں لہذا ان دونوں لڑکوں کو ان کے چچا کے حوالے کیا جائے گا اور جوان ہونے تک وہ انہی کے پاس رہیں گے ، البتہ چھوٹا بیٹا جو ابھی چھ سال کا ہے اس کی پرورش کا حق سات سال مکمل ہونے تک ماں کو ہے ، سات سال مکمل ہونے کے بعد اسے بھی اس کے چچا کے حوالے کیا جائے گا اور جوان ہونے تک اسی کے پاس رہےگا یا اس کی مرضی سے اس کی ماں یعنی
تصوف اور نظام خانقاہی سے ان کا کوئی تعلق نہیں قال اللہ تبارک وتعالیٰ *" وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ "* *📕(القرآن الکریم ، ۶/۶۸)* ترجمہ: اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھ *ھذا ما ظھر لی والعلم الحقیقی عند ربی* *واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب* *کتبہ ___* *محمد شکیل اخترالقادری النعیمی غفرلہ* *شیخ الحدیث والمفتی بمدرسۃالبنات مسلک اعلیٰ حضرت صدر صوفہ ہبلی کرناٹک الھند* *۳/ ربیع الاوّل ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۷/ اگست ۲۰۲۵م* ا__(💚)____ الجواب صحیح والمجیب نجیح ، عبدہ الدکتور المفتی محمد عطاء اللہ النعیمی غفرلہ ، شیخ الحدیث جامعۃ النور و رئیس دارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد جنید النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح والمجیب مصیب فقط ابو آصف راجہ محمد کاشف مدنی نعیمی رئیس دارالافتاء ھاشمیہ آگرہ تاج کالونی لیاری کراچی ا__(💚)____ الجواب صحیح مہتاب احمد قمر النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد آصف النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد شہزاد النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد عرفان النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح عبد الرحمٰن قادری غفرلہ دارالافتاء غریب نواز ملاوی وسطی افریقہ ا__(💚)____ الجواب صحیح جلال الدین احمد امجدی نعیمی غفرلہ جامعہ گلشن فاطمہ پیپل گاؤں مہاراشٹر ا__(💚)____ تاریخ التصحیح: 29/08/2025
*📔(فتاویٰ رضویہ ، کتاب الشتی ، ۲۶/۵۸۰ ، رقم المسئلہ ۲۹۷ ، رضافاؤنڈیشن لاہور)* علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی حنفی متوفی ۱۱۷۶ھ اس خلافت و امارت کی شرطیں بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں *🖋️" من شروط الخلافة أن يكون الخليفة مسلماً... ومنها: أن يكون الخليفة عاقلاً بالغاً ... ومنها: أن يكون الخليفة ذكراً دون أنثى ... ومنها : أن يكون الخليفة متكلّماً سميعاً بصيراً ... ومنها : أن يكون الخليفة شجاعاً ... ومنها: أن يكون الخليفة عدلاً ... ومنها : أن يكون الخليفة مجتهداً ... ومنها : أن يكون الخليفة قرشياً من ناحية نسب الآباء "* *📔(إزالة الخفاء عن خلافة الخلفاء ، الفصل الأول في بيان الخلافة العامة ، ۱/۸۹ تا ۹۳ ، مطبوعہ دارالقلم دمشق ، الطبعۃ الاولی:۱۴۳۴ھ)* یعنی ، خلیفہ کی شرطوں میں سے یہ ہے کہ خلیفہ مسلمان ہو ، عاقل ہو ، مذکر ہو مؤنث نہ ہو ، متکلم ، سمیع ، بصیر ہو ، بہادر ہو ، عادل ہو ، مجتہد ہو اور باپ کی طرف سے قریشی ہو علامہ شاہ ولی محدث دہلوی خلاصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں *🖋️" فالخلافة الكاملة الخاصة هي التي حصل لنا الوثوق بصاحبها بنص من الشارع أو إشاراته .... وفي الحقيقة إن عهد الخلافة الراشدة كان تتمة عهد النبوة "* *📔(ایضاً ، الفصل الثاني في بيان لوازم الخلافة الخاصة ، ص۱۱۰, ۱۳۷)* یعنی ، خلافت کاملہ خاصہ (یعنی راشدہ) وہ ہے جو ہمیں صاحب خلافت کے بارے میں شارع علیہ السلام کے نص یا اشارہ سے وثوق کے ساتھ حاصل ہو ،... فی الحقیقت خلافت راشدہ کا زمانہ عہد نبوت کا تتمہ ہے ان تصریحات سے روز روشن کی طرح واضح ہوا کہ " خلیفہ راشد یا خلفائے راشدین " کا لفظ ایک مخصوص اصطلاح ہے جس کا اطلاق مخصوص حضرات پر ہوتا ہے ، اسے دوسرے کیلئے بولنا جیساکہ قائل نے اپنی وضاحت میں کہا ہے درست نہیں ، ورنہ ہر پیر کا خلیفہ " خلیفہ راشد " ہونے کا دعویٰ کرےگا اور یہ باعظمت لفظ بازیچہ اطفال بن جائےگا نیز امام ابن رسلان کے حوالے سے اوپر مذکور ہوا کہ " راشدین " کا لفظ اگرچہ ہر اس کے حق میں عام ہے جو چار یار کے سچے متبعین ہوں مگر بایں ہمہ اس لفظ سے مراد چار یار رضی اللہ عنہم ہی ہیں ، فلہذا قائل اپنی توضیح کے مطابق اگر عمومی معنی بھی لے تو کیا مذکورہ پیر صاحب اور ان کے متبعین کے واقعی وہ صفات عالیہ ہیں جو خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اندر تھیں ؟ خدارا انصاف کریں کہ کہاں وہ ذوات قدسیہ اور کہاں اس دور پرفتن کے پیران کرام اور ان کے خلفاء ! یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ٹمٹماتا ہوا چراغ چمکتے دمکتے سورج سے ہمسری کا دعویٰ کرے ، فلہذا شخص مذکور اللہ رب العزت کے سامنے حاضری اور جوابدہی سے ڈرے اور اپنے اس قول سے علی الاعلان رجوع کرے قال اللہ تبارک وتعالیٰ *" فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى "* *📕(القرآن الکریم ، ۵۳/۳۲)* ترجمہ: تو اپنے آپ کی پاکیزگی بیان نہ کرو وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں اور اگر مذکورہ دعویٰ بر بنائے خود نمائی و استکبار ہے تو بیشک مریض قلب و بد باطن ہے اور بر بنائے رافضیت ہے تو رافضیت وہابیت کی طرح ہی کفریات کا مجموعہ مرکب ہے جو حکم روافض کا ہے وہی حکم اس کا بھی ہوگا چنانچہ امام ظہیر الدین بخاری حنفی متوفی ۶۱۹ھ فرماتے ہیں *🖋️" ھؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام و احکامھم احکام المرتدین "* *📔(الفتاوی الظہیریۃ ، کتاب السیر ، النوع السابع ، ۱/۱۸۵ ، مخطوطہ ، دارالکتب القطریۃ)* یعنی ، یہ لوگ ملت اسلامیہ سے خارج ہیں اور ان کے احکام مرتدین کے احکام جیسے ہیں اور امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی فرماتے ہیں *🖋️" اپنے نام سے لفظ غلام (نہ لکھنا) اس بنا پر ہے کہ حضور خواجہ خواجگان رضی اللہ تعالی عنہ و عنہم کا غلام بننے سے انکار و استکبار رکھتا ہے، تو بد ستور گمراہ اور بحکم حدیث مذکورہ عدو اللہ ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ، قال الله " اليْسَ فِي جَهَنَّمَ مَشْوَى لِلْمُتَكَبِرِينَ . الله تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: کیا نہیں جہنم میں ٹھکانا متکبرین کار) اور اگر بر بنائے وہابیت ہے کہ غلام اولیائے کرام بننے والوں کو مشرک اور غلام محی الدین و غلام معین الدین کو شرک جانتا ہے تو وہابیہ خود زندیق، بے دین، کفار و مرتدین ہیں وَلِلْكَفِرِينَ عَذَابٌ مُهِين " اور کفار کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے "* *📔(فتاوی رضویہ ، کتاب السیر ، ۱۵/۲۶۷ ، رقم المسئلہ ۳۸)* خلاصہ کلام یہ کہ ___ شخص مذکور کا قول اور اس کی بے بنیاد توضیح کسی طرح شرعاً قابل قبول نہیں ہے ، اگر بر بنائے جہالت و لاعلمی یا تکبر و ہٹ دھرمی ہے تو فوراً علی الاعلان رجوع و توبہ کرے اور اگر بربنائے رافضیت ہے تو رافضیت کفر ہے جو احکام روافض کا ہے وہی احکام اس کے بھی ہیں ، مسلمانوں پر فرض ہے کہ جس طرح دیگر کفار و مشرکین و مرتدین سے دور رہتے ہیں اسی طرح اس سے بھی دور و نفور رہیں ، چاہے وہ نام نہاد پیر ہوں یا ان کے نام نہاد خلفاء ، ان سے اعراض لازم ہے کہ
*🍀 اگر کسی پیر کے خلفاء خود کو " خلفائے راشدین " کہیں تو شرعاً کیا حکم ہے ؟ 🍀* _______ مکرمی مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ایک شخص جو ایک ٹرسٹ کا صدر ہے ہم نے اس کو ایک ویڈیو میں یہ کہتے سنا کہ " خلفائے راشدین " کا لفظ حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی رضی اللہ عنہم اجمعین کیلئے مخصوص نہیں ہے بلکہ جہاں کہیں چار خلیفہ بیٹھ جائیں وہی خلفائے راشدین کہلاتے ہیں یہ جملہ ہم نے کبھی کسی پیر یا بزرگ سے نہیں سنا ، ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ یہ بیان خلفائے راشدین کی کھلی گستاخی ہے ، ایسا شخص جو خود کو خلفائے راشدین میں شامل کرتا ہو وہ بے علم ہی نہیں بلکہ گستاخ صحابہ ہے لہذا ہماری گزارش ہے کہ اس معاملہ پر آپ شریعت اسلامیہ کے مطابق فتویٰ جاری فرمائیں سائل ۔ بندہ خدا ، بیلگام کرناٹک ______ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب " خلفائے راشدین " ایک خاص شرعی اصطلاح ہے جو حضرات عالیہ ابوبکر صدیق ، عمر فاروق ، عثمان غنی ، مولا علی اور امام حسن بن علی رضی اللہ عنہم اجمعین پر بولی جاتی ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے ارشاد فرمایا *" عليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين تمسكوا بها "* *📙(سنن ابی داؤد ، کتاب السنۃ ، باب في لزوم السنة ، ص۸۶۲ ، رقم الحدیث ۴۶۰۷ ، مطبوعہ دارالفکر بیروت ، الطبعۃ الاولی:۱۴۲۵ھ)* ترجمہ: تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھامے رہو امام شہاب الدین احمد بن رسلان مقدسی شافعی متوفی ۸۴۴ھ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں *🖋️" (الراشدين والمراد بـ «المهديين الراشدين الخلفاء الأربعة : أبو بكر وعمر وعثمان وعلي، وإن كان اللفظ عاما في كل من سار سيرهم من الأئمة "* *📔(شرح سنن ابی داؤد لابن رسلان ، کتاب السنۃ ، باب فی لزوم السنۃ ، ۱۸/۱۲۰ ، مطبوعہ دارالفلاح ، الطبعۃ الاولی ۱۴۳۷ھ)* یعنی ، قولہ راشدین ؛ مہدیین راشدین سے مراد چاروں خلفاء ہیں یعنی ابوبکر و عمر و عثمان و علی ، اگرچہ لفظ عام ہے ہر اس امام و حاکم کے حق میں جو ان کے طریقے پر چلے دوسری حدیث پاک میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا *" الخلافة في امتي ثلاثون سنة ثم ملك بعد ذلك ."* *📕(جامع الترمذی ، کتاب الفتن ، بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخِلَافَةِ ، ص۶۴۹ ، رقم الحدیث ۲۲۳۳ ، دارالفکر ، ۱۴۲۵ھ)* ترجمہ: میری امت میں خلافت تیس سال ہے اس کے بعد بادشاہت ان تیس سالوں کی تفصیل خود راوی حدیث حضرت سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نے خود بیان فرمائی کہ *" امسك خلافة ابي بكر، ثم قال: وخلافة عمر، وخلافة عثمان، ثم قال لي: امسك خلافة علي، قال: فوجدناها ثلاثين سنة "* *📔(ایضاً)* یعنی ، ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت، عمر رضی الله عنہ کی خلافت، عثمان رضی الله عنہ کی خلافت اور علی رضی الله عنہ کی خلافت شمار کرو تیس سال پورے ہونے میں چھ مہینے باقی تھے کہ حضرت مولائے کائنات علی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوگئی لہذا حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شش ماہہ ایام بھی خللافت راشدہ میں شامل ہیں چنانچہ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی حنفی متوفی ۱۰۵۲ھ فرماتے ہیں *🖋️" و تمامی سی سال بشهادت امیر المؤمنين على مرتضى شد و تحقیق آن است که شش ماه از سی سال باقی بود که امام المسلمین حسن بن علی بن ابی طالب دروی خليفہ بود و تمامی خلافت به مدت وی شد "* *📔(تکمیل الایمان فارسی ، ص ۱۶۹ ، مطبوعہ الرحیم اکیڈمی کراچی ، ۱۴۲۱ھ)* یعنی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے ساتھ تیس سال کا عرصہ مکمل ہو جاتا ہے۔ تحقیق یہ ہے ابھی تیس سال میں سے چھ ماہ باقی تھے کہ امام المسلمین حضرت حسن بن علی ابی طالب خلیفہ رہے ، آپ کی وفات کے ساتھ ہی خلافت کا تیس سالہ دور ختم ہوگیا نیز خلافت سے مراد پیری مریدی والی خلافت نہیں ہے ، بلکہ وہ حکومت و ریاست ہے جو علی منہاج النبوہ یعنی نبوی طریقے پر ہو اور جس میں نبوت کی مکمل نیابت ہو ، فلہذا نہ کسی پیر کی خلافت کو شرعی خلافت کہا جاسکتا ہے نہ پیر کے خلیفہ کو شرعی خلیفہ چنانچہ حضرت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت مسروق رحمۃ اللہ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا *🖋️" إن الإمارة ما أتمر فيها، وإنَّ الملك ما غلب عليه بالسيف "* *📔(سیر اعلام النبلاء ، مسروق ، ۴/۶۶ ، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ ۱۴۱۷ھ)* یعنی ، امارت یعنی خلافت وہ ہے جسے قائم کرنے میں مشورہ کیا گیا ہو اور بادشاہی وہ ہے جس پر تلوار کے زور سے غلبہ حاصل کیا گیا ہو اور امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں *🖋️" خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دست اقدس پر بیعتیں ان کو امام ماننے اور ان کی اطاعت کرنے کی تھیں جیسے ہر جدید بادشاہ کے ہاتھ پر کی جاتی ہیں "*
*🌴 کسی مسلمان کو حرامی نسل کہنا شرعاً کیسا ہے ؟ 🌴* _____ مفتیانِ کرام کی بارگاہ میں سوال یہ ہے کہ کسی مسلمان کو حرامی نسل کہنا از روئے شریعت کیسا ہے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں سائل ۔ عبداللہ کرناٹک ______ الجواب بعون الملک الوھاب بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو " حرامی نسل " کہنا سخت ناجائز و حرام ہے ، کیونکہ یہ مسلمان کے نسب پر طعن بھی ہے اور عرف عام میں مسلمان کو گالی بھی ، جو مسلمان کے ایذاء سبب ہے ، اور یہ دونوں باتیں ناجائز و حرام ہیں لہذا کہنے والے پر فرض ہے کہ معافی مانگے اور توبہ واستغفار کرے چنانچہ حدیث پاک میں ہے *" اثْتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرُ : الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ ، والنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيْتِ "* *📙(صحیح المسلم ، کتاب الایمان ، باب إطلاق اسم الكُفْرِ على الطَّعْنِ في النَّسَبِ والنِّيَاحَة ، رقم الحدیث ۱۳۱ ، ص۶۰ ، مطبوعہ دارالفکر بیروت)* ترجمہ: لوگوں میں دو خصلتیں ایسی ہیں جو کفر کے قریب ہیں:نسب میں طعن کرنا، اور میت پر نوحہ کرنا اور دوسری حدیث پاک میں ہے *" من آذى مُسلما فقد آذاني ، ومَنْ آذَانِي فقد آذى الله "* *📙(المعجم الاوسط للطبرانی ، من اسمہ سعید ، ۴/۶۱ ، رقم الحدیث ۳۶۰۷ ، دارالحرمین)* ترجمہ: جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی اور امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں *🖋️" بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو ایسے الفاظ سے یاد کرنا مسلمان کو ناحق ایذا دینا ہے اور مسلمان کی ناحق ایذا شرعا حرام "* *📔(فتاویٰ رضویہ ، کتاب الحدود والتعزیر ، ۱۳/۶۴۴ ، رقم المسئلہ ۲۷۶ ، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور)* واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ _ محمد شکیل اخترالقادری النعیمی غفرلہ شیخ الحدیث والمفتی بمدرسۃالبنات مسلک اعلیٰ حضرت صدر صوفہ ہبلی کرناٹک الھند ۲/ ربیع الاوّل ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۶/ اگست ۲۰۲۵م
(۴) :- مسجد و مدرسہ کی رقم ذاتی استعمال میں لانا بھی ناجائز و حرام ہے (۵) :- اگر متولی و اراکین جماعت پر خیانت کا شبہ ہو انہیں معزول کرنا واجب ہے (۶) :- مساجد و مدارس میں صدقاتِ واجبہ مثلاً زکوٰۃ ، فطرہ وغیرہ لگائے نہیں جا سکتے ان کے علاوہ ہر حلال و پاکیزہ مال لگایا جا سکتا ہے ، البتہ ضرورت دینی و شرعی کے تحت حیلہ شرعی کے ذریعہ صدقاتِ واجبہ کو بھی بالخصوص مدارس اسلامیہ میں لگانا جائز و درست ہے *واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب* *(نوٹ) "یہ مذکورہ احکام اسی صورت میں ہیں جب کہ سائل کے سوالات واقعی میں درست ہوں ورنہ سائل کو یہ فتویٰ کوئی فائدہ نہ دےگا "* *کتبہ __* *محمد شکیل اخترالقادری النعیمی غفرلہ* *شیخ الحدیث والمفتی بمدرسۃالبنات مسلک اعلیٰ حضرت صدر صوفہ ہبلی کرناٹک الھند* *۲۵/ صفر المظفر ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۰/ اگست ۲۰۲۵م* ا__(💚)____ الجواب صحیح والمجیب نجیح ، عبدہ الدکتور المفتی محمد عطاء اللہ النعیمی غفرلہ ، شیخ الحدیث جامعۃ النور و رئیس دارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد جنید النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح والمجیب مصیب فقط ابو آصف راجہ محمد کاشف مدنی نعیمی رئیس دارالافتاء ھاشمیہ آگرہ تاج کالونی لیاری کراچی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد سجاد عثمان النعیمی دارالافتاء الضیاٸیہ عظیم پلازہ کراچی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد آصف النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح کاشف مشتاق العطاری النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب الصحیح فقط جلال الدین احمد امجدی نعیمی ارشدی خادم جامعہ گلشن فاطمہ للبنات پیپل گاؤں نائیگاؤں ضلع ناندیڑ مہاراشٹر الھند ا__(💚)____ تاریخ التصحیح:24/08/2025
ترجمہ: اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسےتمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو پولیس کمپلینٹ کرنے والوں پر لازم ہے کہ کمپلینٹ واپس لیں اور ان مظلوم مسلمانوں سے معافی مانگیں نیز چونکہ مدرسہ اور مسجد الگ الگ وقف ہیں لہذا مدرسہ کا چندہ مسجد میں اور مسجد کا چندہ مدرسہ میں استعمال کرنا جائز نہیں حتی کہ ایک مسجد کا پیسہ دوسری مسجد میں بھی لگانا حرام ہے چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی فرماتے ہیں *🖋️" مسجد جب تک آباد ہے اس کا مال نہ کسی مدرسے میں صرف ہو سکتا ہے نہ دوسری مسجد میں ، یہاں تک کہ اگر ایک مسجد میں سو چٹائیاں یا لوٹے حاجت سے زیادہ ہوں اور دوسری مسجد میں ایک بھی نہ ہو تو جائز نہیں کہ یہاں کی ایک چٹائی یا لوٹا دوسری مسجد میں دے دیں "* *📔(فتاوی رضویہ ، ۱۶/۲۸۱ ، رقم المسئلہ ۱۳۵)* اور دوسری جگہ فرماتے ہیں *🖋️" وقف جس غرض کے لئے ہے اسکی آمدنی اگرچہ اس کے صرف سے فاضل ہو دوسری غرض میں صرف کرنی حرام ہے وقف مسجد کی آمدنی مدرسہ میں صرف ہونی در کنار دوسری مسجد میں بھی صرف نہیں ہو سکتی، نہ ایک مدرسہ کی آمدنی مسجد یا دوسرے مدرسہ میں "* *📔(ایضاً ، ص۲۰۶ ، رقم المسئلہ ۷۶)* یونہی مسجد و مدرسہ کی رقم اپنے ذاتی استعمال میں لانا بھی ناجائز و حرام ہے چنانچہ امام اہلسنت فرماتے ہیں *🖋️" حرام حرام لانه تعدى على الوقف والقيم اقيم حافظ لا متلف ( کیونکہ یہ وقف پر تعدی ہے حالانکہ متولی کو بطورمحافظ مقرر کیا جاتا ہے نہ کہ ضائع کرنے والا "* *📔(ایضاً ، ص۵۷۱ ، رقم المسئلہ ۳۶۷)* اگر متولی یا اراکینِ جماعت خائن ہو یا خیانت کا ان پر شبہ بھی ہو اور درست حساب نہ دیتے ہوں تو ایسے متولی و اراکین کو معزول کرنا واجب ہے چنانچہ امام اہلسنت فرماتے ہیں *🖋️" متولی اور منتظم پر اتباع شرع و شرائط ضروری ہے ان کے خلاف کسی فعل کا ان کو اختیار نہیں، اور اگر کریں تو مسلمانوں کو ان کی مزاحمت چاہئے، اور اگر خیانت یا ان کے باعث وقف پر ضرر ثابت ہو تو فورا نکال دئے جائیں۔ در مختار میں ہے : ينزع وجوباً ولو الواقف فغیره بالا ولی غیر مامون ؛ غبن و تغلب یقینی در کنار اگر مظنون بھی ہو تومسلمانوں کو ان سے حساب سمجھنے کا حق پہنچتا ہے اور انکا اعراض سخت قابل اعتراض "* *📔(ایضاً ، ص۶۰۶ ، رقم المسئلہ ۴۲۰)* صدقات واجبہ مثلاً زکوٰۃ ، فطرہ ، نذور شرعیہ کی رقم مسجد و مدرسہ میں نہیں لگائی جا سکتی ان کے علاوہ ہر حلال و پاکیزہ مال مسجد و مدرسہ میں لگایا جا سکتا ہے کیونکہ ان کی ادائیگی کیلئے تملیک فقیر شرط ہے جو مساجد و مدارس میں نہیں پائی جاتی چنانچہ علامہ علاؤالدین حصکفی حنفی متوفی ۱۰۸۸ھ فرماتے ہیں *🖋️" لا يصرف إلى بناء نحو مسجد "* *📔(الدرالمختار ، کتاب الزکاۃ ، باب المصرف ، ص۱۳۷ ، دارالکتب العلمیہ بیروت)* یعنی ، زکوٰۃ مسجد کی تعمیر میں نہیں صرف کی جا سکتی اور دوسری جگہ فرماتے ہیں *🖋️" وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف "* *📔(ایضاً ، ص۱۴۱)* یعنی ، صدقہ فطر مصرف میں زکوٰۃ کی طرح ہے البتہ ضرورت دینی و شرعی کی بنا پر حیلہ شرعی کے ذریعے صدقات واجبہ بھی صرف کرنا درست ہے چنانچہ امام اہلسنت مدارس دینیہ کے بارے میں فرماتے ہیں *🖋️" مدرسہ علم دین میں دینا چاہیں تو اس کے تین " حیلے ہیں "* *📔(فتاوی رضویہ ، ۱۶/۲۷۳)* اور صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۶۷ھ فرماتے ہیں *🖋️" اگر اس قسم کی مدوں کو نکال دیا جائے تو مدرسے کی آمدنی اس زمانے میں اتنی کم رہ جائے گی جس سے اس کا چلنا دشوار ہو جائے گا اور تحصیل علم کا دروازہ بند ہوتا نظر آئے گا ۔ لہذا ان چیزوں میں زکوۃ اور صدقہ فطر بطور حیلہ کے صرف کیا جائے کہ اس قسم کے امور خیر کے لیے حیلہ کرنے میں کسی قسم کی کراہت یا قباحت نہیں ، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ یہ رقمیں کسی فقیر یا مسکین کو بطور تملیک دے دی جائیں ، وہ اپنی طرف سے مدرسے کو دے دے تو اب اس رقم کا تنخواہ مدرسین و عمارت میں صرف کرنا جائز ہو جائے گا ۔ اور زکاۃ و صدقہ فطر ادا ہو جائے گا چنانچہ عموماً مدارس میں ایسا ہی کیا جاتا ہے "* *📔(فتاوی امجدیہ ، کتاب الزکاۃ ، ۱/۳۷۶ ، رقم المسئلہ ۵۱۷)* خلاصہ کلام یہ کہ (۱) :- اگر متولی یا کمیٹی پر خیانت کا شبہ ہو تو اہل محلہ ہی نہیں بلکہ عام مسلمان بھی حساب پوچھنے کا حق رکھتے ہیں (۲) محض حساب پوچھنے پر جن لوگوں نے پولیس کمپلینٹ کیا انہوں نے ظلم کیا ، ان پر لازم ہے کہ کمپلینٹ واپس لیں اور ان بے قصور مسلمانوں سے معافی مانگیں (۳) مسجد و مدرسہ الگ الگ وقف کی حیثیت رکھتے ہیں لہذا ایک کا مال دوسرے میں استعمال کرنا ناجائز و حرام ہے
*💚 مسجد کمیٹی سے حساب طلب کرنا 💚* _______ سوال: کچھ لوگوں نے مسجد انتظامیہ کمیٹی سے مسجد کا حساب مانگا تو کمیٹی نے منع کردیا ، جب اصرار بڑھا تو حساب پوچھنے والوں پر ماضی جماعت اور نئی جماعت والوں نے مل کر پولس کمپلیٹ کیا ہے۔ لہذا مذکورہ تمہید کے بعد دریافت طلب مسائل یہ ہیں۔ سوال نمبر ۱ - مسجد کمیٹی پر حساب درست رکھنا اور پوچھے جانے پر حساب پیش کرنا شرعاً ضروری ہے یا نہیں ؟ سوال نمبر۲۔ مسجد کی کمیٹی سے حساب پوچھنے والوں پر پولیس کمپلینٹ کرنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے۔ سوال نمبر۳۔ کیا مدرسہ کا چندہ مسجد کے کسی بھی کام کے لئے استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اسی طرح مسجد کا چندہ مدرسہ کے لئے استعمال کرنا کیسا ہے سوال نمبر۴ - مسجد اور مدرسہ کا چندہ کا حساب صرف محلے والے ہی پوچھ سکتے ہیں یا دوسرے کسی بھی مسلمان کو پوچھنے کا حق رہتا ہے۔ سوال نمبر۵۔ مسجد اور مدرسہ کی رقم اپنے ذاتی کام میں استعمال کرنا کیسا ہے۔ سوال نمبر۶ ۔مکمل حساب نہ دینے والے اور اس کی تفصیلات نہ بتانے والے پر شرعی کیا حکم عائد ہوتا ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جوابات عنایت فرمائيں سوال نمبر۷۔ مسجد کی تعمیر کے لیے کون کون سی رقم (چنده) چلتا ہے اور کون کون سی رقم نہیں چلتی اور مدرسہ کے لیے کون کون سی رقم (چنده) چلتا ہے اور کون کون سی رقم نہیں چلتی الستفتي : عبداللہ ، کرناٹک ____ــ__ الجواب بعون الملک الوھاب مساجد و مدارس کا مال وقف کا مال ہے اور مال وقف یتیم کے مال کے حکم میں ہے چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں *" مال وقف حکم مال یتیم میں ہے "* *📔(فتاوی رضویہ ، کتاب الوقف ، ۱۶/۲۲۱ ، رقم المسئلہ ۸۳ ، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور)* اور مال یتیم ناحق کھانے والا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے چنانچہ اللہ رب العزت نے اپنے کلام پاک میں ارشاد فرمایا *" اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا "* *📕(القرآن الکریم ، ۴/۱۰)* ترجمہ: وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے (بھڑکتی آگ)میں جائیں گے جب مال وقف کا حکم اس قدر شدید ہے تو اس کا حساب کتاب درست رکھنا نہایت ضروری ہے ، اسی لئے متولی پر اس کا حساب شرعاً واجب ہے اگرچہ تحریری طور پر واجب نہیں چنانچہ علامہ زین ابن نجیم مصری حنفی متوفی ۹۷۰ھ فرماتے ہیں *🖋️" ان الحساب واجب عليه "* *📔(البحر الرائق ، کتاب الوقف ، ۵/۲۶۳ ، مطبوعہ بولاق مصر)* یعنی متولی پر حساب واجب ہے اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ فرماتے ہیں *🖋️" وَلَا يَجُوزُ الْأَخْذُ عَلَى نَفْسِ المُحَاسَبَةِ؛ لِأَنَّ الحِسَابَ وَاجِبٌ عَلَيْهِ "* *📔(العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ ، کتاب الوقف ، ۱/۳۷۴ ، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)* یعنی ، متولی نفس حساب پر اجرت نہیں لے سکتا کیونکہ اس پر حساب واجب ہے اور امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی فرماتے ہیں *🖋️" فأفادان الكتابة لا تجب عليه حتى جازله اخذ الاجرة عليها فعلم ان الامين في معاملة لا يجب عليه كتابة حسابه وان كان نفس الحساب و اجبا عليه "* *📔(فتاوی رضویہ ، کتاب الشرکۃ ، ۱۶/۱۰۶ ، رقم المسئلہ ۷ ، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور)* یعنی ، اس سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ وہاں لکھائی واجب نہ ہوگی جہاں اجرت لینا جائز ہوگا تو اس سے معلوم ہوا کسی معاملہ منتظم پر حساب کی لکھائی واجب نہیں اگر چہ نفس حساب اس پر واجب ہے فلہذا جب متولی و اراکین پر حساب واجب ہے تو جہاں خیانت کا گمان ہو وہاں اہل محلہ کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کو بھی حساب پوچھنے کا حق ہے چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے *🖋️" مطالبہ حساب کا البتہ سب کو اختیار ہے "* *📔( فہرست ، ۱۶/۲۱)* امام اہلسنت ایک جگہ فرماتے ہیں *🖋️" متولی جو بات خلاف شرائط وقف کرے مصلی بلکہ عامہ مسلمین اس سے بازپرس کر سکتے ہیں "* *📔(ایضاً ، ص۵۱۰)* ایک اور جگہ فرماتے ہیں *🖋️" اگر ان کا انتظام خلاف شرع ہو تو ہر مسلمان اس میں دست اندازی کر سکتا ہے اور اس کے روکنے کا حق کسی کو نہیں "* *📔(ایضاً ، ص۴۱۹)* نیز محض حساب پوچھنے پر پولیس کمپلینٹ کرنا بھی ظلم عظیم ہے چنانچہ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے *" يا عبادي إني حرمت الظلم على نفسي وجعلته بينكم محرما فلا تظالموا "* *📙( مشکوٰۃ المصابیح ، باب الاستغفار و التوبۃ، الفصل الاول ، ۲/۷۱۹ ، رقم الحدیث ۲۳۲۶ ، مطبوعہ المکتب الاسلامی)*
*کتبہ ۔۔* *محمد شکیل اخترالقادری النعیمی غفرلہ* *شیخ الحدیث والمفتی بمدرسۃالبنات مسلک اعلیٰ حضرت صدر صوفہ ہبلی کرناٹک الھند* *۲/ صفر المظفر ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۸/ جولائی ۲۰۲۵م* ا__(💚)____ الجواب صحیح والمجیب نجیح ، عبدہ الدکتور المفتی محمد عطاء اللہ النعیمی غفرلہ ، شیخ الحدیث جامعۃ النور و رئیس دارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد جنید النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح والمجیب مصیب فقط ابو آصف راجہ محمد کاشف مدنی نعیمی رئیس دارالافتاء ھاشمیہ آگرہ تاج کالونی لیاری کراچی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد سجاد عثمان النعیمی دارالافتاء الضیاٸیہ عظیم پلازہ کراچی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد عرفان النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح مہتاب احمد قمر النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ تاریخ التصحیح:5/8/2025
*🍀 مرتد کی دعا رد ہوتی ہے یا قبول 🍀* السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ سوال - ایک شخص دعا مانگتا ہے اور بعد میں اس سے کفر سرزد ہو جاتا ہے تو کیا اس کی دعا بھی رد ہو گئی؟ المستفتی۔۔ اسمی سید امیر الحسین واسکن فی مدینۃ بریلی الشریفۃ الہند ا__(💚)____ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب دعا سے مراد اگر نفس دعا یعنی قضائے حاجت کی التجا ہے تو دنیا میں قبول ہونا ممکن ہے کہ رب چاہے تو قبول فرما لے اور رد نہ فرمائے چنانچہ ابلیس لعین کے کفر و ارتداد کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی قال اللہ تبارک وتعالیٰ *" قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ()قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ()اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ()"* *📕(القرآن الکریم ، ۳۸/۷۹,۸۰,۸۱)* ترجمہ: اس نے کہا: اے میرے رب! (اگرایسا ہی ہے) تو مجھے لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک مہلت دے۔ اللہ نے فرمایا: پس بیشک تو مہلت والوں میں سے ہے۔ معین وقت کے دن تک اور حدیث پاک میں ہے *" إن الكافر ليدعو الله عز وجل في حاجته ، فتقضي له وإن المؤمن ليدعو الله تعالى ، فتبطىء عليه الاجابة . "* *📙(کنز العمال ، الباب الثامن فی الدعاء ، الفصل الثانی فی آداب الدعاء ، ۲/۸۶ ، رقم الحدیث ۳۲۶۲ ، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ، الطبعۃ الخامسۃ: ۱۴۰۵)* یعنی ، کافر اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت کی دعا کرتا ہے تو اس کی حاجت پوری کردیتا ہے اور مومن دعا کرتا ہے تو دعا کی قبولیت میں تاخیر فرماتا ہے اور دوسری حدیث پاک میں ہے *" إن جبريل موكل بحوائج بني آدم ،فاذا دعا العبد الكافر قال الله تعالى ياجبريل : إقض حاجته ، فاني لا أحب أن أسمع* *دعاءه ، وإذا دعا العبد المؤمن ، قال يا* *جبريل : إحبس حاجته ، فاني أحب أن أسمع دعاءه "* *📙(ایضاً ، رقم الحدیث ۳۲۶۳)* یعنی ، جبریل علیہ السلام بنی آدم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقرر ہیں ، جب کوئی کافر بندہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ائے جبریل! اس کی حاجت پوری کر دے، میں اس کی آواز سننا نہیں چاہتا، اور جب کوئی بندہ مومن دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے جبریل ! اس کی حاجت روک رکھ، میں مزید اس کی پکار سننا چاہتا ہوں اور ایسا ہی احسن الوعاء فی آداب الدعاء ، ص۹۹ ، مطبوعہ المدینۃ العلمیۃ کراتشی میں بھی ہے جن آیتوں میں دعائے کافر کی عدم قبولیت کا ذکر ہے وہاں آخرت میں قبول نہ ہونا مراد ہے جیساکہ کتب تفاسیر میں ہے اور اگر دعا سے ثواب مراد ہے تو ارتداد سے صرف دعا ہی نہیں بلکہ سارے اعمال اکارت ہو جاتے ہیں ، کیونکہ دعا بھی ایک عبادت ہے بلکہ عبادت مغز ہے " چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ *📕(القرآن الکریم ، ۴۰/۶۰)* ترجمہ: اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا بیشک وہ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کرجہنم میں جائیں گے اس آیت کریمہ میں دعا کو عبادت فرمایا گیا اور حدیث پاک میں ہے *" الدعاء مخ العبادة "* *📙(جامع ترمذی ، كتاب الدعوات ، باب ما جاء في فضل الدعاء ، رقم الحدیث ۳۳۷۱)* یعنی ، دعا عبادت کا مغز ہے اور علامہ علاؤالدین حصکفی حنفی متوفی ۱۰۸۸ھ فرماتے ہیں " أنه حبط بالردة. " یعنی ، ارتداد سے اس کا عمل باطل ہوگیا اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ فرماتے ہیں " إحباط الأعمال جزاء الردة " *📔(الدرالمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاۃ ، باب قضاء الفوائت ، ۲/۵۳۷ ، مطبوعہ دارعالم الکتب ریاض)* یعنی ، اعمال کا اکارت ہونا ارتداد کی سزا ہے ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ دعا کا ثواب ارتداد سے باطل ہو جاتا ہے البتہ اگر توفیق توبہ نصیب ہو اور ایمان لے آئے تو اللہ کے فضل سے امید ہے کہ ثواب دوبارہ عطا فرما دے چنانچہ علامہ شامی فرماتے ہیں " ولعل معنى كونها مؤثرة في الثواب بعد أن الله تعالى يثيبه عليها ثواباً جديداً بعد رجوعه إلى الإسلام غير الثواب الذي بطل، أو أن الثواب بمعنى الاعتداد بها وعدم مطالبته بفعلها ثانياً وإن حكمنا ببطلانها، لأن ذلك فضل من الله تعالى . تأمل . *📔(ایضاً ، ص۵۳۸)* یعنی ، اس کے مؤثر فی الثواب ہونے کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ رجوع الی الاسلام کے بعد اللہ تعالٰی اسے رد شدہ ثواب کے علاوہ نیا ثواب عطا فرما دے یا یہ کہ ثواب اس پر آمادگی اور دوبارہ اس فعل کے عدم مطالبہ کے معنی میں ہے اگرچہ ہم اس کے بطلان کا حکم لگائیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل و کرم ہے *واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب*
دارالعلوم قادریہ حبیبیہ فیلخانہ ہوڑہ کلکتہ ا__(💚)____ الجواب صحیح مہتاب احمد النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد آصف النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد شہزاد النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح ابواسید عبید رضا المدنی النعیمی غفرلہ مرکزی دارالافتاء اہلسنت عیسیٰ خیل ا__(💚)____ تاریخ التصحیح:30/05/2025
*🌹 بیوی شوہر کے پاس آنا چاہے مگر شوہر قرض کی وجہ سے نہ لانا چاہے تو کیا حکم ہے ؟🌹* ا__(💚)____ محترمی و مکرمی السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مسئلہ یہ ہے کہ ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ دو سال پہلے ہوا تھا ، اور دونوں سے ایک لڑکا ہوا جس کی عمر آٹھ ماہ ہے ، لیکن ناگزیر حالات کی وجہ سے ان دونوں میں نااتفاقی ہوئی اور آٹھ ماہ سے دونوں اپنے اپنے ماں باپ کے پاس رہ رہے ہیں ، جماعت کے پاس جب یہ مسئلہ آیا تو جماعت والوں نے دونوں کو ملانے کی بہت کوشش کی ، اور اس بات پر لڑکی ہندہ شوہر کو ایک موقع دے کر زندگی گزارنے کیلئے راضی ہوئی ، لیکن لڑکا زید جس اوپر سترہ لاکھ روپے کا قرض ہے وہ جماعت والوں سے دس سال کا وقت مانگ رہا ہے اور اس کے بعد وہ بیوی کو اپنائےگا ، ان حالات میں براہ کرم مسئلہ کا حل قرآن و حدیث کی روشنی میں فرما دیں ، اور شکریہ کا موقع دیں سائل __ عبداللہ ، جونی ہبلی کرناٹک _______ وعلیکم السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں یوں ہندہ کو معلقہ کرکے رکھنا زید کیلئے ہرگز جائز نہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے *" فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ۪-وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْاۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗؕ "* *📕(القرآن الکریم ، ۲/۲۳۱)* ترجمہ: یا بھلائی کے ساتھ روک لو یا نکوئی (اچھے سلوک)کے ساتھ چھوڑ دو اور انہیں ضرر دینے کے لیے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا *" فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِؕ "* *📕(۴/۱۲۹)* ترجمہ: تو یہ نہ کروکہ ایک ہی طرف پورے پورے جھک جاؤ اور انہیں لٹکتی ہوئی چھوڑ دو جب ہندہ آنا چاہتی ہے تو زید پر واجب ہے کہ اپنی بیوی کو گھر لے آئے ، اور نان و نفقہ و حقوق زوجیت ادا کرے چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں *🖋️" بالجملہ عورت کو نان و نفقہ بھی واجب اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب اور گاہ گاہ اس سے جماع کرنا بھی واجب جس میں اسے پریشان نظری نہ پیدا ہو ، اور اسے معلقہ کر دینا حرام ، اور بے اس کے اذن و رضا کے چار مہینے تک ترک جماع بلا عذر صحیح شرعی نا جائز "* *📔(فتاویٰ رضویہ ، کتاب الطلاق ، باب النفقہ ، ۱۳/۴۴۶ ، رقم المسئلہ ۱۶۸ ، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور)* دوسری جگہ فرماتے ہیں *🖋️" اور جب نکاح باقی ہے تو اس صورت میں زید پر فرض ہے کہ یا تو اسے طلاق دے دے یا اس کے نان نفقہ کی خبر گیری کرے ورنہ یوں معلق رکھنے میں زید بیشک گنہ گار ہے اور صریح حکم قرآن کا خلاف کرنے والا "* *📔(ایضاً ، ص۴۳۵ ، رقم المسئلہ ۱۶۱)* ایک جگہ اور فرماتے ہیں *🖋️" یوں ہی جب تک وہ شوہر کے گھر ہے یا اس کے گھر آنے سے انکار نہ کرے، اس کا نفقہ شوہر پر واجب ہے جو زن و شوہر دونوں کے حال کی رعایت سے بقدر متوسط دلایا جائے گا "* *📔(ایضاً ، ص۴۷۷ ، رقم المسئلہ ۱۸۴)* سترہ لاکھ کا قرض اس کے اوپر ہونا ادائے نفقہ و حقوق زوجیت سے مانع نہیں چنانچہ امام اہلسنت فرماتے ہیں *🖋️" رہا شوہر کا مدیون ہونا ! اقول : ظاہراً اس کے سبب نفقہ زن میں تنگی نہیں کر سکتے کہ یہ بھی مطالبہ عبد ہے "* *📔(ایضاً ، ص۴۶۷ ، رقم المسئلہ ۱۸۰)* جماعت والوں کو یہ اختیار نہیں ہے کہ زید کو اس قسم کی مہلت دیں کیونکہ غیر ناشزہ منکوحہ عورت کیلئے نفقہ و حق زوجیت حق شرع ہے جسے ختم کرنے کا حق و اختیار کسی جماعت کے پاس نہیں ، جماعت والے یا تو زید کو نفقہ و حقوق زوجیت ادا کرنے کا حکم دیں یا پھر اسے مجبور کریں کہ ہندہ کو طلاق دے دے یا ہندہ کا خلع منظور کرے ، اگر پھر بھی نہیں مانتا تو مقامی دارالقضاء میں مقدمہ دائر کریں وہ شرعی اصول کے مطابق فیصلہ کریں گے *واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب* *کتبہ __* *محمد شکیل اخترالقادری النعیمی غفرلہ* *شیخ الحدیث والمفتی بمدرسۃالبنات مسلک اعلیٰ حضرت صدر صوفہ ہبلی کرناٹک الھند* *یکم ذوالحجہ ۱۴۴۶ھ مطابق ۲۹/ مئی ۲۰۲۵م* ا__(💚)____ الجواب صحیح والمجیب نجیح ، عبدہ الدکتور المفتی محمد عطاء اللہ النعیمی غفرلہ ، شیخ الحدیث جامعۃ النور و رئیس دارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد جنید النعیمی غفرلہ المفتی بدارالافتاء النور لجمعیۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان)کراتشی ا__(💚)____ الجواب صحیح محمد شرف الدین الرضوی غفرلہ
*📔(مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ ، باب الامامۃ ، الفصل الثانی ، ۳/۱۷۹ ، رقم الحدیث ۱۱۲۲ ، دارالکتب العلمیہ بیروت ، الطبعۃ الاولی :۱۴۲۲ھ)* یعنی ، شرعاً مذموم کام کی وجہ سے ناراضی ہو تو یہ حکم ہے ، اور اگر اس کے بر خلاف ہوتو عیب ان لوگوں پر ہے اور اس کی امامت میں کوئی کراہت نہیں ، امام ابن مالک نے فرمایا کہ بدعت یا فسق یا عدم علم کی بنا پر ناپسند کرتے ہوں ، لیکن اگر ان کے درمیان ناراضگی و دشمنی دنیاوی سبب کی وجہ سے ہو تو یہ حکم نہیں ہوگا نیز دو چار اہل علم یا احکام شرعیہ سے ناواقف کثیر مقتدیوں کی ناراضگی کا بھی شرعاً اعتبار نہیں بلکہ اگر مقتدی زیادہ ہوں تو اکثر کا اور اہل علم مقتدیوں کی ناراضگی کا اعتبار ہوگا چنانچہ امام ترمذی متوفی ۲۷۹ھ فرماتے ہیں *🖋️" إذا كرہ واحد أو اثنان أو ثلاثة فلا بأس أن يصلي بهم حتى يكرهه أكثر القوم. "* *📔(جامع الترمذی ، ص۱۲۵)* یعنی ، ایک یا دو یا تین کی ناراضگی کی وجہ نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ، حتی کہ اکثر لوگ نا پسند کریں اور علامہ علی قاری حنفی فرماتے ہیں *🖋️" أي لمذموم شرعي أما إذا كرهه البعض فالعبرة بالعالم. ولو انفرد وقيل : العبرة بالأكثر ورجحه ابن حجر ولعله محمول على أكثر العلماء، إذا وجدوا وإلا فلا عبرة بكثرة الجاهلين "* *📔(مرقاۃ المفاتیح ، ۳/۱۷۹)* یعنی ، مذموم شرعی کی وجہ سے نا پسندیدگی میں عالم کا اعتبار ہے ، عالم میں بھی اعتبار اکثر علماء کا ہے ورنہ جاہلوں کی کثرت کا کوئی اعتبار نہیں (۳) __ مذکورہ امام نے کس قسم کے فتنے پھیلائے ہیں ، اس کی تفصیل مطلوب ہے ، بغیر تفصیل کے حکم شرع بیان نہیں کیا جاسکتا (۴)____ سماعت و بصارت کی کمزوری مانع امامت نہیں ، اور اگر موجودین میں وہی اعلم و اصلح ہو تو وہی مستحق امامت ہے اور اس کے پیچھے نماز بلا کراہت درست ، ہاں ! اگر واقعی مکمل اندھا یا بہرہ ہو اور ان سے بہتر لائق امامت موجود ہو تو مکروہ تنزیہی ۔ کما فی الفتاوی الرضویہ (۵)_ اگر امام صاحب غیر حاضر ہونے کی صورت میں کسی اور جگہ باجماعت نماز پڑھ لیتے ہیں تو ان کی اقتداء میں نماز بلاکراہت درست ہوجائے گی ورنہ ترک نماز و جماعت کی وجہ سے فاسق و واجب العزل ہیں ۔ کما ھو مصرح فی کتب الفقہ والفتاوی خلاصہ کلام _ یہ کہ اگر مذکورہ امام صاحب ثانی امام پر بغیر کسی ثبوت شرعی کے جھوٹا الزام لگاتے ہیں تو وہ فاسق ہیں قابل امامت نہیں ، ان پر لازم ہے سچی توبہ کریں اور ثانی امام سے معافی مانگیں ، بعد توبہ صادقہ و معافی وہ قابل امامت ہوں گے بشرطیکہ اور دوسرا کوئی منع شرعی نہ پایا جائے ، اور اگر ان کے پاس ان الزامات پر شرعی ثبوت موجود ہے تو امام مذکور پر کوئی الزام نہیں اور ان کے پیچھے نماز بلا کراہت درست ہے نیز احکام شرعیہ سے واقف مقتدیوں میں اکثر دینی و شرعی وجوہات کی بنا پر ان کی امامت سے ناراض ہیں تو ان کی امامت مکروہ ہے ورنہ کوئی کراہت نہیں ، احکام شرعیہ سے ناواقف مقتدیوں کی ناراضگی کا کوئی اعتبار نہیں ، یونہی صرف سماعت و بصارت کی تھوڑی بہت کمزوری سے بھی امامت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ، البتہ اگر مکمل بہرہ یا اندھا ہو تو اس سے اعلم و اصلح کی موجودگی میں اس کی امامت مکروہ تنزیہی ہے ورنہ بلا کراہت جائز نیز اگر غیر حاضر ہونے کی صورت میں دوسری کسی جگہ باجماعت نماز پڑھ لیتے ہیں تو ان کے پیچھے بلا کراہت درست ہے ورنہ ترک نماز و جماعت کی بنا پر فسق کی وجہ سے اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے اور اسے امامت سے برخاست کرنا لازم *واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب* *کتبہ ___* *محمد شکیل اخترالقادری النعیمی غفرلہ* *شیخ الحدیث والمفتی بمدرسۃالبنات مسلک اعلیٰ حضرت صدر صوفہ ہبلی کرناٹک الھند* *۲۲/ ذوالقعدہ ۱۴۴۶ھ مطابق ۲۱/ مئی ۲۰۲۵م* ___(💚)____ *الجواب صحیح والمجیب مصیب ومثاب* *محمد شرف الدین رضوی ، خادم التدريس دارالعلوم قادریہ حبیبہ فیل خانہ ہوڑہ بنگال*
*🍀 کسی مسلمان پر جھوٹا الزام لگانا ، مقتدی اگر امام سے ناراض ہوں تو شرعاً کیا حکم ہے 🍀* __(💚)___ السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ قابل احترام مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ ہمارے محلے کی مسجد میں ایک مسئلہ پیش آیا ہے کہ امام مسجد نے ثانی امام پر یہ الزام لگایا ہے کہ ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ، امام مسجد کا کہنا ہے کہ ثانی امام کا تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ تعلق ہے ، اور ترک نماز اور ترک جماعت کا الزام لگاتے ہیں ، گیارہ مہینے سے فجر کی نماز نہیں پڑھتے ، اور صحیح طریقہ سے قرات نہیں کرتے ۔ یہ تمام جھوٹے الزام ہیں ، ایسے جھوٹے امام کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں ؟ اور مذکورہ امام مسجد کے پیچھے کئی لوگ نماز نہیں پڑھتے دوسرے محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں ، جہاں پر مقتدی ناراض ہوں وہاں پر ایسے امام کو امامت کرنا کیسا ہے ؟ اور اس امام مسجد نے محلہ میں فتنہ پیدا کیا ہے امام مسجد کی کمزوری بھی ہے کہ ان کو سنائی بھی کم پڑتا ہے اور آنکھوں کی بھی کمزوری ہے اور بار بار نمازوں میں غیر حاضر رہتا ہے اس صورت حال میں کمیٹی والوں کا کیا فرض ہوتا ہے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مفتیانِ کرام جواب عنایت فرمائیں سائل ____ عبداللہ ، جونی ہبلی ، ہبلی کرناٹک ___(💚)____ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب ہمیں زید و بکر وغیرہ کسی خاص فرد سے کوئی غرض نہیں حکم شرعی کا بیان مقصود ہے بر صدق مستفتی صورت مسئولہ میں (۱) ___ اگر واقعی امام مسجد نے ثانی امام پر ثبوت شرعی کے بغیر جھوٹا الزام لگایا ہے تو بیشک وہ گناہگار ہیں کہ جان بوجھ کر بہتان لگانا حرام و گناہ کبیرہ ہے چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے *" والَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا "* *📕(القرآن الکریم ، ۳۳/۵۸)* ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا *" وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ الله رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ "* *📙(سنن ابی داؤد ، كتاب الأقضية ، باب فيمن يعين على خصومة من غير أن يعلم أمرها ، ص۶۷۶ ، رقم الحدیث ۳۵۹۷ ، دارالفکر بیروت ، الطبعۃ الاولی:۱۴۲۵ھ)* ترجمہ: جو کسی مسلمان کی بُرائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو اللھ عَزَّوَجَلَّ اس وقت تک رَدْغَۃ ُ الخَبال(یعنی جہنم میں وہ جگہ جہاں دوزخیوں کی پِیپ اور خون جمع ہوگا۔ اس) میں رکھے گا جب تک اس کے گناہ کی سزا پوری نہ ہولے اور حضرت مولائے کائنات علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے *" البهتان على البراء أثقل من السموات "* *📙(کنزالعمال ، الباب الثانی فی الاخلاق المذمومۃ ، ۳/۸۰۲ ، رقم الحدیث ۸۸۱۰ ، مؤسسۃ الرسالہ بیروت ، الطبعۃ الخامسہ:۱۴۰۵ھ)* یعنی ، کسی بے گناہ پر بہتان لگانا آسمانوں سے بھی زیادہ بھاری ہے اور امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ فرماتے ہیں *🖋️" تہمت لگانی حرام قطعی ہے خصوصا معاذ اللہ اگر تہمت زنا ہو "* *📔(فتاوی رضویہ ، کتاب الحظر والاباحۃ ، حسن سلوک و حقوق العباد ، ۲۴/۳۸۷ ، رقم المسئلہ ۱۵۹ ، رضافاؤنڈیشن لاہور)* البتہ اگر امام صاحب نے ثبوت شرعی کی بنیاد پر ایسا کہا ہے تو ان پر کچھ بھی مواخذہ نہیں (۲)__ اگر مقتدیوں میں اکثر اہل علم لوگ امام سے دینی و شرعی وجوہات کی بنا پر ناراض ہیں مثلاً امام فاسق، فاجر یا لاپرواہ ہو، یا اس کا عقیدہ درست نہ ہو، یا وہ سنتوں کی رعایت نہ کرتا ہو اور مقتدی اس وجہ سے اس سے ناراض ہیں تو ایسی ناراضی کا اعتبار ہے اور ایسی صورت میں یقیناً اس امام کے پیچھے نماز مکروہ ہوگی ، اور اگر ناراضی دنیاوی دشمنی یا مخالفت کی وجہ سے ہو یا اس میں نفس کو دخل ہو تو ایسی ناراضی کا اعتبار نہیں ہے اور اس امام کی امامت بالکل درست ہے ، چنانچہ حدیث پاک میں ہے *" لعن رسول الله ثلاثة : رجل أم قوماً وهم له كارهون ۔ الخ "* *📙(جامع الترمذی ، کتاب الصلاۃ ، باب مَا جَاء فِيمَنْ أَمْ قَوْماً وَهُمْ لَهُ كارهون ، ص۱۲۵ ، رقم الحدیث ۳۵۸ ، دارالفکر بیروت)* ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ان میں سے ایک وہ ہے جو لوگوں کی امامت کرے اس حال میں کہ لوگ اس سے ناراض ہوں اور علامہ علی قاری حنفی متوفی ۱۰۱۴ھ فرماتے ہیں *🖋️" أي لمعنى مذموم في الشرع وإن كرهوا الخلاف ذلك فالعيب عليهم ولا كراهة. قال ابن الملك : أي كارهون لبدعته أو فسقه أو جهله، وأما إذا كان بينه وبينهم كراهة وعداوة بسبب أمر دنيوي، فلا يكون له هذا الحكم "*
الجواب صحیح محمد ہاشم رضا مصباحی غفرلہ دارالافتاء والقضاء کھرگون ایم پی ____💚______ الجواب صحیح محمد شہروز عالم اکرمی غفرلہ دارالافتاء دارالعلوم قادریہ حبیبیہ فیلخانہ ہوڑہ کلکتہ ____💚______ الجواب صحیح عطا محمد مشاہدی غفرلہ دارالافتاء حشمت الرضا پیلی شریف ____💚______ تاریخ التصحیح: 13/05/2025