کلام نور
Статистика✅علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔ 💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس: https://www.facebook.com/klmnoor http://klmnoor.blogspot.com https://t.me/klmnoor 📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے: @Klmnoor_admin
- Последний пост
- 13 авг.
- Последнее чтение
- 15 авг.
- Постов за неделю
- 10
- Всего постов
- 69
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- Категория
- Познавательное
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- 39
- 1/48двое суток
- 44
- 1/72трое суток
- 48
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
۱/ ربیع الاول #لیلۃ_المبیت #شب_ہجرت
📚حوالہ جات: ۱۔ تقریب المعارف، ص۲۵۱؛ مناقب آل ابی طالب، ج۱، ص۲۲۷؛ کشف المحجۃ، ص۱۲۵؛ مستدرک الوسائل، ج۲، س۴۸۶۔۔۔ ۲۔ خصال: ص۳۷۲؛ اختصاص، ص۱۷۱؛ ارشاد القلوب، ج۲، ص۳۴۹۔۔۔ ۳۔ احتجاج، ج۱، ص۹۶؛ الغدیر، ج۵، ص۳۷۲؛ ج۷، ص۸۱؛ الہجوم علی بیت فاطمہ، ص۱۲۰۔۔۔ ۴۔ ارشاد مفید، ج۱، ص۱۸۹؛ بحار الانوار، ج۲۲، ص۵۱۹۔۔۔ ۵۔ تقریب المعارف، ص۲۵۶؛ بحار الانوار، ج۳۰، ص۲۹۰۔۔۔ ۶۔ الہجوم علی بیت فاطمہ، ص۶۹؛ البدء و التاریخ، ج۵، ص۶۵ ۷۔ الہجوم علی بیت فاطمہ، ص۶۹؛ المنصف ابن ابی شیبہ، ج۸ ص۵۷۲۔۔۔ ۸۔ تقریب المعارف، ص۲۵۱؛ بحار الانوار، ج۳۰، ص۳۸۶۔۔۔ ۹۔ مناقب ابن شهر آشوب، ج۱، ص۲۹۷؛ بحار الانوار، ج۲۲، ص۵۲۴؛ الہجوم علی بیت فاطمہ، ص۶۷۔۔۔ ۱۰۔ الہجوم علی بیت فاطمہ، ص۷۲؛ سنن بیہقی، ج۳، ص۴۰۹؛ تاریخ الاسلام (ذهبی)، ج۱، ص۵۸۲۔۔۔ ۱۱۔ کافی، ج۸، ص۳۳۹؛ مسار الشیعہ، ص۲۷؛ مصباح المتہجد، ص۷۳۲۔۔۔ ۱۲۔ سورہ بقرہ، آیت ۲۰۷ ۱۳۔ [ارشاد، ج۱، ص۵۳؛ امالی طوسی، ص۲۵۲۔۔۔ ۱۴۔ مناقب آل ابی طالب، ج۲، ص۷۷؛ الجواہر السنیہ، ص۳۰۸۔۔۔ ۱۵۔ اس موضوع کی تفصیل کے لئے رجوع فرمائیں: بحار الانوار، ج۵۵، ص۳۵۱۔۳۵۰؛ الصحیح من السیرہ، ج۴، ص۲۰۶۔۱۷۴۔۔۔ ۱۶۔ بحار الانوار، ج۲۸، ص۱۹۱،۔۔۔۵؛ الغدیر، ج۵، ص۳۷۲۔۔۔ ۱۷۔ تفسیر فرات، ص۳۹۸؛ کافی، ج۸، ص۱۸۔۔۔ ۱۸۔ کتاب سلیم، ص۱۲۸ (ج۲، ص۶۶۵)؛ احتجاج، ج۱، ص۹۸، ۲۸۱۔۔۔ ۱۹۔ احتجاج، ج۱، ص۹۵، ۱۱۱؛ الجمل شیخ مفید، ص۵۷۔۔۔ ۲۰۔[کتاب سلیم، ص۸۲، ۲۴۹؛ بصائر الدرجات، ص۲۹۵۔۔۔ ۲۱۔ ارشاد، ج۲، ص۲۳۶؛ مناقب آل ابی طالب، ج۴، ص۴۵۵۔۔۔ ۲۲۔ مصباح المتہجد، ص۷۳۲؛ مصباح کفعمی، ج۲، ص۵۳۳۔۔۔ ۲۳۔ مسار الشیعہ، ص۲۸؛ فیض العلام، ص۲۰۵ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor
خطاب ہوا: "زمین کی طرف توجہ کرو اور دیکھو کہ کس طرح علی (علیہ السلام) نے اپنی حیات کو اپنے بھائی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ پر فدا کردی اور ان کی جگہ پر سو کر اپنی جان کو قربان کردیا ہے، زمین پر جاؤ اور ان کی حفاظت کرو"۔ وہ زمین پر آئے اور جبرئیل امیر المومنین علیہ السلام کے سر کی جانب اور میکائیل آپ علیہ السلام کی پائینتی کی طرف تشریف فرما ہوئے اور آواز دی: "بخ بخ من مثلک یابن ابی طالب، خدا ملائکہ کے سامنے آپ پر مباہات کررہا ہے" اس وقت یہ آیت شریفہ نازل ہوئی: "و من الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات اللَّه"۔ [۱۴] ۳ - #ہجرت_پیغمبر_صلی_اللہ_علیہ_و_آلہ حضرت پیغمبر صلّی اللَّہ علیہ و آلہ نے بعثت کے ۱۳ سال بعد مدینہ طیبہ کی جانب ہجرت فرمائی۔ ۴– #ہجری_قمری_کی_تاریخ_کا_آغاز سب سے پہلے جس نے ہجری قمری تاریخ کے سلسلہ میں حکم دیا وہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ تھے۔ خلیفہ ثانی کے دور میں حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام اسے تفصیل سے بیان فرمایا اور ہجری قمری تقویم کو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی ہجرت سے قرار دیا گیا۔ ہجری قمری تاریخ مقرر کرنے کے سلسلہ میں دوسروں کی طرف نسبت دینا غلط ہے۔ [۱۵] ۵ – #خانہ_وحی_پر_ہجوم اس دن حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے دولتکدہ پر پہلا ہجوم ہوتا ہے۔ جس وقت حضرت امیر المومنین علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی تجہیز و تکفین اور تدفین کی کوشش میں تھے، غاصبین خلافت سقیفہ میں تھے۔ آپ علیہ السلام نے یکم ربیع الاول کی شب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کے بدن اقدس کو دفن فرمایا اور پھر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی وصیت کے مطابق قرآن جمع کرنے میں مصروف ہوگئے۔ [۱۶] کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا تھا: "اے علی! تین دن گھر سے باہر نہ نکلنا اور قرآن جمع کرنا۔۔۔"۔ [۱۷] ان دنوں میں تین بار آپ علیہ السلام کے گھر پر لوگوں کا ہجوم ہوا، پہلی بار یکم ربیع الاول میں بیعت لینے کے لئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک قرآن مکمل جمع نہ کرلوں گھر سے باہر قدم نہیں رکھوں گا تو وہ لوگ واپس چلے گئے۔ اس کے بعد حضرت امیر المومنین علیہ السلام راتوں میں حضرت صدیقہ طاہرہ اور حسنین علیہم السلام کے ساتھ اصحاب کے پاس جاتے اور مدد کا تقاضا فرماتے تھے۔ [۱۸] دوسری بار، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کے جسم اقدس کی تدفین کے سات دن بعد، اس وقت کہ جب زبیر اور بعض دوسرے لوگ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے بیت اقدس پر جمع ہوگئے تھے۔ اس دن زبیر نے عمر کے قصد سے تلوار نکال لی تھی لیکن شمشیر ان کے ہاتھ سے لے لی گئی۔ [۱۹] اور تیسری بار آپ علیہ السلام کے بیت پر ہجوم ہوا، تو دروازے کو آگ لگائی گئی، حضرت صدیقۂ طاہرہ کو زخمی کیا گیا، حضرت محسن کو شہید کیا گیا، اور حضرت امیر المومنین علیہ السلام کو رسن بستہ گھر سے باہر لایا گیا۔ [۲۰] ۶ - #مسمومیت_امام_عسکری_علیہ_السلام امام حسن عسکری علیہ السلام زہر سے مسموم ہوئے اور آپ کی بیماری کا آغاز ہوا۔ [۲۱] ایک قول کے مطابق حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت سنہ ۲۶۰ھ میں اسی روز واقع ہوئی ہے۔ [۲۲] اور دوسرے قول کے مطابق آپ علیہ السلام کی شہادت چوتھی ربیع الاول یا آٹھویں ربیع الاول کو واقع ہوئی ہے۔ [۲۳] 📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۱/ربیع الاول، ص۹۰۔
۱/ ربیع الاول ۱ – #پیغمبر_صلی_اللہ_علیہ_و_آلہ_کے_جسم_مطہر_کی_تدفین یکم ربیع الاول کی آدھی رات کو امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے حضرت خاتم الانبیاء و المرسلین صلّی اللہ علیہ و آلہ کے جسم اطہر کو دفن فرمایا۔[۱] ایک طرف پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ کی رحلت کی جانکاہ مصیبت اور اس پر آنحضرت ص کی بے حرمتی اور غسل و کفن اور دفن کی طرف سے لوگوں کی بے توجہی ایسے دردناک غم تھے جو امیر المومنین علیہ السلام کو نڈھال کیے دے رہے تھے۔ [۲] جیسا کہ آپ علیہ السلام ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «کیا میں نبی اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ کے جسم اطہر کو تنہا چھوڑ دیتا اور دفن کیے بغیر خلافت اور حکومت کے سلسلہ میں لڑتا جھگڑتا؟» [۳] شیخ مفید فرماتے ہیں: «لوگوں کی اکثریت پیغبر صلّی اللہ علیہ و آلہ کے دفن میں حاضر نہیں ہوئی، اور انہوں نے آنحضرت ص پر نماز نہیں پڑھی، کیونکہ مہاجرین و انصار کے درمیان امر خلافت پر مشاجرہ چل رہا تھا۔ [۴] اعمش کہتے ہیں: پیغمبر ص دنیا سے رخصت ہوگئے اور لوگوں کو اس کی کوئی پروا نہ تھی سوائے اس کے کہ کچھ لوگ کہیں: «امیر ہم میں سے ہوگا» اور دوسرے کہیں کہ: «امیر ہم میں سے ہوگا»۔ [۵] نبی اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ کی رحلت کے وقت مغیرہ نے حضرت ابوبکر و عمر سے مخاطب ہوکر کہا: اگر مستقبل میں لوگوں سے آپ کا کوئی مطلب ہے تو ان کی خبر لیں۔ [۶] لہذا ابوبکر و عمر نبی اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ کی تدفین پر حاضر نہ تھے، بلکہ وہ ان لوگوں کے درمیان تھے جو سقیفہ میں اپنا امیر چن رہے تھے، اور اس سے پہلے کہ وہ لوگ واپس آئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کا بدن مبارک دفن ہوچکا تھا۔ [۷] عبداللَّہ بن حسن کہتے ہیں: خدا کی قسم ابوبکر و عمر نے پیغمبر صلّی اللَّہ علیہ و آلہ پر نماز نہیں پڑھی، اور تین دن تک آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کا جسم اطہر دفن نہ ہوا، لیکن پھر بھی اہل سقیفہ اپنے کام میں مشغول رہے۔ [۸] حضرت امام باقر علیہ السّلام فرماتے ہیں: لوگ دوشنبہ کے دن اور سہ شنبہ کی رات آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ پر نماز پڑھتے رہے، عام لوگوں یہاں تک کہ خاص اور قریبیوں نے نماز ادا کی، لیکن سقیفہ والوں میں سے کوئی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے غسل و کفن و دفن میں شریک نہ ہوا۔ امیر المومنین علیہ السلام نے بریده اسلمی کو خبر دینے کے لئے ان کی جانب بھیجا لیکن انہوں نے توجہ نہ دی اور دفن کے بعد ان کی بیعت کا کام بھی ختم ہوگیا۔ [۹] اس بارے میں عائشہ بنت ابی بکر نے جو فرمایا ہے، قابل توجہ ہے: "واللہ ہمیں پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ کے دفن کی خبر نہ لگی یہاں تک کہ بدھ کی رات میں ان کے حجرے سے بیلچوں کی آوازیں سنیں"۔ یعنی دفن کے بعد ہمیں خبر لگی۔ [۱۰] وہ لوگ جو غصب خلافت میں سب چیز بھول بیٹھے تھے ان سے پوچھنا چاہئے: نبی اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ نے اپنی حیات میں سقیفہ کی تاکید فرمائی تھی یا غدیر کی؟ خدا کی جانب سے سقیفہ میں شوریٰ کی تشکیل کا حکم آیا تھا یا غدیر کے سلسلہ میں؟ سقیفہ میں مسلمانوں کے اکثر شہروں کے لوگ موجود تھے یا غدیر میں؟ سقیفہ میں سب لوگ حاضر تھے یا غدیر میں جہاں خواتین نے بھی بیعت کی تھی؟ ۲ - #لیلۃ_المبیت اس مہینہ کی پہلی رات میں پیغمبر صلّی اللَّہ علیہ و آلہ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی۔ اس رات ہمارے آقا و مولا امیر المومنین علیہ السلام نے جانثاری کا مظاہرہ فرمایا اور حضرت رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ کی جگہ ان کے بستر پر سوگئے۔ [۱۱] کیونکہ کفار قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کے قتل کا ارادہ کر لیا تھا۔ اسی مناسبت سے آیت نازل ہوئی: "وَ مِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَ اللَّهُ رَءُوفُ بِالْعِبَادِ" اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی رضاجوئی میں اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور اللہ ایسے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ [۱۲] جو کہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ [۱۳] غزالی اپنی کتاب احیاء العلوم جلد ہفتم باب ایثار میں لکھتے ہیں: جس رات حضرت امیر المومنین علیہ السلام حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی جگہ سوئے، خدا نے جبرئیل و میکائیل کو خطاب کرکے فرمایا کہ میں نے تم دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا اور تم میں سے ایک کی عمر دوسرے سے زیادہ قرار دی، تم میں سے کون ہے جو ایثار کرتے ہوئے وہ عمر دوسرے کو دے دے؟ تو دونوں نے اپنے لئے طولانی عمر کا انتخاب کیا۔
◾️آخرِ صفر #شہادت_امام_رضا_علیہ_السلام.
◾️آخرِ صفر #شہادت_امام_رضا_علیہ_السلام ثامن الحجج حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام نے سن ۲۰۳ھ میں اور معتبر روایات کے مطابق [۱] حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کے دو سال بعد شہادت پائی۔عمر مبارک ۴۹ یا ۵۱ یا ۵۵ تھی۔ [۲] حضرت رضا علیہ السلام ایک روایت کے مطابق ۲۷/صفر کو شہید ہوئے، [۳] لیکن مشہور آخر ماہ صفر ہے۔ ۲۸/ صفر کو مامون نے مسموم انگور یا انار کے زہر آلود شربت کے نوش کرنے پر حضرت امام رضا علیہ السلام کو مجبور کیا۔ [۴] ◾️امام علیہ السلام پر مامون کی ایذاء رسانیاں: مامون نے آپ علیہ السلام کو آزار و اذیت پہونچانے میں کوئی کوتاہی نہ برتی، یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کو سرخس کے زندان میں کئی ماہ تک قید رکھا۔ [۵] ولایت عہدی کے بعد، آپ علیہ السلام کی پہلی مصیبت خود منافق و ملعون مامون کے ساتھ معاشرت کے سبب تھی۔ وہ ظاہر میں امام علیہ السلام کی تعظیم و تکریم کیا کرتا تھا، لیکن اندر سے تکلیفیں پہونچا پہونچا کر اس نے حجت خدا کو اپنی موت پر راضی بنا دیا تھا۔ یاسر کہتے ہیں: جمعہ کو جب آپ علیہ السلام مسجد جامع سے واپس تشریف لاتے، تو عرق آلود بدن اور غبار سے اٹے ہوئے ہاتھوں کو بارگاہ الہی میں بلند فرماتے اور کہتے تھے: "اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ فَرَجِي مِمَّا أَنَا فِيهِ بِالْمَوْتِ فَعَجِّلْهُ إِلَيَّ السَّاعَة" اگر میری مشکل کا حل میری موت میں ہے تو خدایا اس میں تعجیل فرما۔ آپ علیہ السلام مسلسل حزن و غم کے عالم میں تھے یہاں تک کہ عالم غربت میں رحلت فرما گئے۔ [۶] مامون نے ایک روز و شب تک امام علیہ السلام کی شہادت کو چھپائے رکھنے کے بعد امام صادق علیہ السلام کے فرزند محمد اور آل ابو طالب ع کے کچھ لوگوں کو بلوایا تاکہ امام کے جسم اطہر کا معائنہ کرلیں اور اس کے بعد گریہ و زاری شروع کر دی!! [۷] ◾️جسم اطہر کی تدفین: تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ کے بعد جو حضرت امام جواد علیہ السلام کے ذریعہ انجام پائی، [۸] آپ علیہ السلام کو حمید بن قحطبہ کے مکان میں ہارون کی قبر کے آگے موجودہ جگہ پر دفن کیا گیا۔ [۹] بعض روایات کے مطابق مامون نے لوگوں کے فتنے کے خوف سے آپ علیہ السلام کو رات میں دفن کرنے کا حکم صادر کیا۔ [۱۰] آپ علیہ السلام کی مدت امامت ۲۰ سال تھی، [۱۱] امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے وقت امام جواد علیہ السلام کا سن شریف ۷ سال اور چند ماہ کا تھا۔ [۱۲] آپ علیہ السلام کی تاریخ شہادت کے بارے میں دیگر اقوال مندرجہ ذیل ہیں: پہلی رمضان، [۱۳] ۲۱/ رمضان،[۱۴] ۲۳/ رمضان، [۱۵] ۲۴/ رمضان، [۱۶] ۱۴/ صفر، [۱۷] ۱۷/ صفر، [۱۸] صفر کے ۶ دن باقی رہنے پر (۲۳ یا ۲۴) [۱۹] ۲۷/ صفر، [۲۰] ۱۸/ جمادی الاولی، [۲۱] اور ۲۳/ ذی القعدہ۔ [۲۲] بزرگان شیعہ نے مختلف کتابوں میں شہادت کو صفر میں اور اکثر نے یوم شہادت کو آخر صفر میں ذکر کیا ہے، لیکن شہادت کے سال ماہ صفر کے ۲۹ یا ۳۰ دن ہونے کے بارے میں تذکرہ نہیں کیا ہے۔ 📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، آخر صفر، ص۸۳ 📚حوالہ جات: [۱] کافی، ج۱، ص۴۸۶؛ بحار الانوار، ج۴۹، ص۲۹۲؛ اعلام الوری، ج۲، ص۴۱.... [۲] کشف الغمه، ج۲، ص۲۶۷؛ بحار الانوار، ج۴۹، ص۲۹۲، ۲۹۳۔ [۳] تاج الموالید، ص۵۰؛ شرح الاخبار، ج۳، ص۳۴۳۔ [۴] ارشاد، ج۲، ص۲۷۰؛ مستدرك سفینه البحار، ج۶، ص۲۹۶؛ بحار الانوار، ج۴۹، ص۲۹۵، ۲۹۸۔۔۔ [۵] عیون اخبار الرضا، ج۱، ص۱۹۷؛ بحار الانوار، ج۴۹، ص۹۱، ۱۷۰؛ وسائل الشیعہ، ج۴، ص۹۸۔۔۔ [۶] عیون اخبار الرضا، ج۱، ص۱۸؛ بحارالانوار، ج۴۹، ص۱۴۰؛ وسائل الشیعه، ج۲، ص ۴۵۰۔۔۔ [۷]ارشاد، ج۲، ص۲۷۱؛ بحارالانوار، ج۴۹، ص۳۰۹؛ کشف الغمہ، ج۲، ص۲۸۲۔۔۔ [۸]عیون اخبار الرضا، ج۱، ص۲۷۳، ۲۷۶؛ امالی صدوق، ص۷۶۱؛ ارشاد، ج۲، ص۲۷۱۔۔۔ [۹] عیون اخبار الرضا، ج۱، ص۲۱۹؛ ج۲، ص۲۸؛ ارشاد، ج۲، ص۲۷۱؛ تاج الموالید، ص۵۱۔۔۔ [۱۰] عیون اخبار الرضا، ج۱، ص۲۷۰؛ بحارالانوار، ج۴۹، ص۲۹۹، ۳۰۰؛ مستدرک الوسائل، ج۲، ص۳۰۶۔۔۔ [۱۱]ارشاد، ج۲، ص۲۴۷؛ بحارالانوار، ج۴۹، ص۴؛ تاج الموالید، ص۴۹۔۔۔ [۱۲]عیون اخبار الرضا، ج۲، ص۲۸؛ بحارالانوار، ج۴۹، ص۲۲۲، ۳۰۴، ۳۰۹؛ ارشاد، ج۲، ص۲۷۱۔۔۔ [۱۳]العدد القویہ، ص۲۷۶؛ بحارالانوار، ج۴۹، ص۲۹۳؛ ج۹۵، ص۱۹۸۔ [۱۴]عیون اخبار الرضا، ج۲، ص۲۸، ۲۷۴؛ بحارالانوار، ج۴۹، ص۱۳۱، ۳۰۳۔۔۔ [۱۵]کشف الغمہ، ج۲، ص۲۹۷؛ العدد القویہ، ص۲۷۶؛ بحارالانوار، ج۴۹، ص۳، ۲۹۳۔۔ [۱۶]بحارالانوار، ج۹۹، ص۴۳۔ [۱۷]العدد القویہ، ص۲۷۶؛ منتہی الامال، ج۲، ص۳۱۲۔ [۱۸]مصباح کفعمی، ج۲، ص۵۹۶؛ بحارالانوار، ج۴۹، ص۲۹۳، ج۹۹، ص۴۳۔۔ [۱۹]تاریخ قم، ص۱۹۹۔ [۲۰]تاج الموالید، ص۵۰؛ شرح الاخبار، ج۳، ص۳۴۳۔ [۲۱]رجال النجاشی، ص۱۰۰؛ خاتمۃ المستدرک، ج۱، ص۲۲۲؛ تھذیب المقال، ص۵۳۲۔۔ [۲۲]منتخب التواریخ، ص۵۷۷؛ العدد القویۃ، ص۲۷۵؛ مسار الشیعہ، ص۱۶۔۔ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor
۲۸/ صفر
اس کے بعد حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے فرمایا: اگر میرے بھائی کی وصیت نہ ہوتی تو تمہیں معلوم ہوتا کہ الہی شمشیر تم لوگوں پر کہاں اور کس طرح پڑتی۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام کے جسم اطہر کو بقیع میں لایا گیا اور جدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد کے قریب دفن کیا گیا۔ [۲۶] حضرت امام حسن علیہ السلام کی ۱۵ اولادیں تھیں لیکن جعدہ سے کوئی بھی اولاد نہ تھی۔ [۲۷] 📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۲۸/صفر، ص۷۶ 📚حوالہ جات: [۱] مسار الشیعہ، ص۲۷؛ المقنعہ، ص۴۵۶؛ ارشاد، ج۱، ص۱۸۹؛ تہذیب الاحکام، ج۶، ص۲؛ جامع الاخبار، ص۲۴؛ اعلام الوری، ج۱، ص۴۵، ۵۳، ۲۶۹؛ تاج الموالید، ص۷؛ معالم الزلفی، ج۱، ص۴۲۶؛ بحار الانوار، ج۲۲، ص۵۲۹، ج۹۷، ص۱۶۸؛ مجمع البیان، ج۲، ص۲۱۴؛ قصص الانبیاء راوندی، ص۳۵۷؛ شرح احقاق الحق، ج۱۰، ص۴۳۵؛ کشف الغمہ، ج۱، ص۱۶؛ تحریرالاحکام، ج۱، ص۱۳۰؛ روضۃ الواعظین، ص۷۱؛ الدروس، ج۲، ص۶؛ تقویم المحسنین، ص۱۵؛ اختیارات، ص۲۲؛ ینابیع المودہ، ج۲، ص۳۳۹؛ شرح نہج البلاغہ، ج۱۰، ص۱۸۴۔ [۲] کتاب سلیم، ج۲، ص۸۳۸۔۸۳۷؛ بصائر الدرجات، ص۵۰۳؛ کافی، ج۱، ص۵۳۳؛ المحاسن، ج۲، ص۲۶۲؛ المقنعہ، ص۴۵۶؛ تہذیب الاحکام، ج۶، ص۲؛ اعلام الوری، ج۱، ص۸۰؛ بحارالانوار، ج۱۷، ص۴۰۵۔۴۰۶؛ ج۳۳، ص۲۶۷؛ ج۴۳، ص۳۶۷؛ الخرائج و الجرائح، ج۱، ص۳۸، ۲۲۴، ۲۴۱؛ مصائب رسول اللہ، ص۲۱؛ معالم الزلفی، ج۱، ص۴۲۵؛ جامع الاصول، ج۱۱، ص۳۸؛ مستدرک سفینۃ البحار، ج۶، ص۲۹۶؛ الطبقات الکبری، ج۲، ص۲۰۰؛ سنن ابی داؤد، ج۴، ص۱۷۴؛ شرح نہج البلاغہ، ج۱۰، ص۲۲۱۔ [۳] تفسیر قمی، ج۲، ص۳۷۶؛ تفسیر عیاشی، ج۱، ص۲۰۰؛ الصراۃ المستقیم، ج۳، ص۱۶۸؛ تفسیر صافی، ج۱، ص۳۹۰۔۳۸۹؛ ج۵، ص۱۹۴؛ بحارالانوار، ج۲۲، ص۲۳۹،۲۴۶، ۵۱۶؛ ج۲۸، ص۲۱، ۹۷؛ ج۳۱، ص۶۴۱؛ اربعین قمی، ص۶۲۷؛ معالم الزلفی، ج۱، ص۴۲۵؛ تفسیر برہان، ج۱، ص۳۲۰؛ ارشاد القلوب، ج۲، ص۳۳۱۔۳۳۰؛ تفسیر کنز الدقائق، ج۲، ص۲۵۱؛ تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۴۰۱؛ ج۵، ص۳۶۷۔ [۴] مستدرك سفینه البحار، ج۶، ص۲۹۵؛ وقائع المشہور، ص۵۵۔ [۵] کافی، ج۱، ص۲۹۶؛ ج۸، ص۱۴۷؛ بحارالانوار، ج۲۲، ص۴۶۵۔۴۶۱۔ [۶] کافی: ج۲، ص ۲۸۲۔۲۸۱؛ بحارالانوار، ج۲۲، ص۴۸۱؛ مجمع النورین، ص۹۴، ۳۴۹۔ [۷] کتاب سلیم بن قیس، ج۲، ص۵۷۱، ۵۷۸؛ فقہ الرضا، ج۱، ص۱۸۹؛ ارشاد، ج۱، ص۱۸۹۔۱۸۷؛ اعلام الوری، ج۱، ص۲۷۰؛ بحارالانوار، ج۲۲، ص۵۱۷، ۵۱۸، ۵۲۹؛ کفایۃ الاثر، ص۱۲۵؛ ینابیع المودہ، ج۲، ص۳۳۹؛ غایۃ المرام، ج۲، ص۲۴۰۔ [۸] سوره احزاب: آیت ۵۶۔ [۹] مزید تفصیلات کے لئے: کتاب این دفن النبی صلّی اللہ علیہ و آلہ کی طرف رجوع کریں۔ [۱۰] ارشاد: ج۱، ص۱۸۸، اعلام الوری، ج۱، ص۲۷۰؛ قصص الانبیاء رواندی، ص۳۵۷؛ بحارالانوار، ج۲۲، ص۵۱۸، ۵۲۹؛ ینابیع المودہ، ج۲، ص۳۳۹۔ [۱۱] مناقب آل ابی طالب، ج۱، ص۲۲۲؛ کشف الغمہ، ج۱، ص۱۶؛ منتخب التواریخ، ص۳۶ الی ۴۶۔ [۱۲] ارشاد، ج ۱، ص۱۸۷؛ امالی صدوق، ص۶۹۲؛ دلائل الامامۃ، ص۱۳۱؛ صحیح بخاری، ج۴، ص۱۸۳، ۲۱۰؛ صحیح مسلم، ج۷، ص۱۴۳؛ مسند احمد، ج۶، ص۲۸۲؛ طبقات الکبری، ج۸، ص۲۸۔ [۱۳] بحار الانوار، ج۹۷، ص۳۸۴؛ تحفۃ الزائر، ص۱۴۲۔ [۱۴] الہجوم علی بیت فاطمہ، ص۸۴؛ خصال، ۳۸۵؛ اختیارات، ص۲۲؛ تتمۃ المننہی، ص۹۔ [۱۵] مسار الشیعہ، ص۲۷؛ مصباح المتہجد، ص۷۹۰؛ اعلام الوری، ج ۱، ص۴۰۳؛ بحارالانوار، ج۹۵، ص۲۰۰؛ فیض العلام، ص۱۹۹؛ منتہی الامال، ج۱، ص۲۳۱؛ مستدرک سفینۃ البحار، ج۶، ص۲۹۵؛ العدد القویہ، ص۳۵۰۔ [۱۶] کافی، ج۱، ص۴۶۱؛ کفایۃ الاثر، ص۲۲۹؛ روضۃ الواعظین، ج۱، ص۱۶۸؛ بحار الانوار، ج۴۴؛ ص۱۳۹؛ ۱۴۰؛ ج۹۷، ص۲۱۰۔ [۱۷] بحار الانوار، ج ۴۴، ص۱۶۱؛ کشف الغمہ، ج۱، ص۵۸۴؛ شرح احقاق الحق، ج۲۶، ص۵۷۶؛ تاریخ دمشق، ج۱۳، ص۳۰۲۔ [۱۸] ارشاد، ج ۲، ص 1۵؛ بحار الانوار، ج۴۴، ص۱۴۹؛ کشف الغمۃ، ج۱، ص۵۸۴؛ تاریخ الخلفاء، ص۱۹۲۔ [۱۹] دلائل الامامہ، ص۱۶۲؛ ارشاد، ج۲، ص۱۵؛ تتمہ المنتہی، ص ۴۱۔ [۲۰] ارشاد، ج۲، ص۱۷؛ بحار الانوار، ج۴۴، ص۱۵۴؛ مناقب آل ابی طالب، ج۴، ص۵۰؛ امالی طوسی، ص۱۶۱؛ الخرائج و الجرائح، ج۱، ص۲۴۲؛ کشف الغمہ، ج۱، ص۵۸۴۔ [۲۱] امالی طوسی، ص۱۶۰؛ مدینۃ المعاجز، ج۳، ص۳۷۸؛ بشارۃ المصطفیٰ، ص۴۱۹؛ کلمات الامام الحسین، ص۲۲۰۔ [۲۲] عیون المعجزات، ص۵۸؛ بحار الانوار، ج۴۴، ص۱۴۱؛ مدینۃ المعاجز، ج۳، ص۳۷۳؛ کلمات الامام الحسین، ص۲۲۸۔ [۲۳] تحفۃ الابرار فی مناقب الائمۃ الاطھار، ص۲۵۷؛ شرح احقاق الحق ج۳۳، ص۵۴۴؛ مصائب رسول اللہ، ص۲۲۔ [۲۴] مناقب آل ابی طالب، ج۴، ص۵۰؛ مزار بن مشہدی، ص۲۹۸؛ الصوارم المہرقہ، ص۱۶۲؛ انوار البہیہ، ص۹۳؛ شرح احقاق الحق، ج۳۳، ص۵۴۴؛ منتہی الامال، ج۱، ص۲۳۵۔ [۲۵] کافی، ج۱، ص۳۰۰، ۳۰۲؛ مجمع البحرین، ج۱، ص۴۵۴؛ بحار الانوار، ج۴۴، ص۱۴۲؛ وسائل الشیعہ، ج۳، ص۱۶۳۔ [۲۶] ارشاد، ج۲، ص۱۷؛ بحار الانوار، ج۴۴، ص۱۵۶؛ مناقب آل ابی طالب، ج۴، ص۵۰؛ روضۃ الواعظین، ص۱۶۸۔ [۲۷] ارشاد، ج۲، ص۲۰؛ تاج الموالید، ص۲۷۔ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor
۵۲ سال گیارہ مہینہ تیرہ دن کی عمر پر آپ صلّی اللہ علیہ و آلہ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ ہجرت کے بعد تقریبا دس سال مدینہ میں رہے یہاں تک کہ ۲۸ صفر سن ۱۱ ہجری میں مسموم ہوکر دنیا سے رحلت فرمائی۔ [۱۱] نبی اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ کی رحلت پر حضرت زہرا سلام اللَّہ علیہا نے بہت زیادہ گریہ فرمایا۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہا نے انہیں اپنے قریب بلایا اور ایسی بات کہی کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا حزن و اندوہ کم ہو گیا۔ جب ان سے اسکی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا: "میرے بابا نے مجھے خبر دی ہے کہ اہل بیت میں سے سب سے پہلے جو فرد ان سے ملحق ہوگی وہ میں ہوں اور یہ فراق بہت طولانی نہیں ہوگا". [۱۲] ۲ - #آغاز_امامت_امیرالمومنین_علیہ_السلام حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی امامت کا یہ پہلا دن ہے، اور اس دن آپ علیہ السلام کی زیارت مستحب ہے۔ [۱۳] ۳ - #آغاز_غصب_خلافت یہ دن حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی خلافت کے غصب کرنے، خانہ نشیں کرنے اور سقیفہ بنی ساعدہ والوں کی جانب سے یوم غدیر کی بیعت کے توڑے جانے کا پہلا دن ہے۔ [۱۴] ۴ - #شہادت_امام_حسن_مجتبی_علیہ_السلام اس روز سنہ ۵۰ھ میں حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی۔ [۱۵] ایک قول کے مطابق آپ علیہ السلام کی شہادت ۷ صفر یا آخر صفر میں ہوئی ہے، [۱۶] دوسرے قول کے مطابق آپ علیہ السلام کی شہادت ۵ ربیع الاول میں واقع ہوئی ہے۔ [۱۷] جعدہ بنت اشعث بن قیس نے آپ علیہ السلام کو اس زہر سے شہید کیا جسے معاویہ نے اسے بھیجا تھا۔ معاویہ نے زہر کے ہمراہ ایک لاکھ درہم بھیجے اور وعدہ کیا کہ اس کا عقد یزید سے کردے گا، لیکن وعدہ پورا نہ کیا۔ [۱۸] ←امام علیہ السلام کی مسمومیت حضرت امام حسن علیہ السلام کی مسمومیت چالیس دن تک جاری رہی۔ [۱۹]جب بدن مبارک پر زہر کے اثرات نمایاں ہونے لگے اور شہادت کا وقت قریب آگیا تو آپ علیہ السلام نے حضرت سید الشہداء علیہ السلام سے فرمایا: «مجھے زہر سے مسموم کردیا گیا ہے اور میرے جگر کے ٹکڑے طشت میں ہیں۔ میں تم سے جدا ہونے والا اور خدا سے ملحق ہونے والا ہوں، اور میں جانتا ہوں کہ کس نے مجھے زہر دیا ہے لیکن میں تمہیں اپنے حق کا واسطہ دیتا ہوں اس بارے میں کچھ نہ کہنا، اور جب میں اس دنیا سے چلا جاؤں تو میری آنکھ کو بند کردینا اور غسل و کفن دینا اور مجھے میرے جد پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ کی قبر کے پاس لے جانا تاکہ تجدید عہد کروں، اس کے بعد بقیع میں دادی فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کے قریب دفن کرنا۔ مجھے معلوم ہے میرے دشمن خیال کریں گے کہ تم مجھے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ کے جوار میں دفن کرنا چاہتے ہو اور وہ مانع ہونگے۔ تمہیں خدا کی قسم ہے ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے خون بہایا جائے». اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اپنے بابا حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی طرح اپنی اولاد و اہل بیت سے وصیتیں فرمائیں اور دنیا سے رخصت فرما گئے۔ ←امام علیہ السلام کی تشییع جنازه حضرت امام حسین علیہ السلام نے تجہیز و تکفین اور نماز کے بعد آپ علیہ السلام کو مرقد پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی جانب لے گئے، تو بنی مروان اور بنی امیہ جو جناب عائشہ کے ساتھ مسلح ہوکر وہاں پر حاضر تھے، انہیں یقین ہوگیا کہ آپ علیہ السلام کو پیغبر صلی اللہ علیہ و آلہ کے قریں دفن کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا وہ سامنے آگئے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے لگے، عائشہ جو ایک خچر پر سوار تھیں کہہ رہی تھیں: "میرا تم سے کیا تعلق ہے، کہ تم میرے گھر میں اسے دفن کرنا چاہتے ہو جسے میں دوست نہیں رکھتی؟" مروان نے بھی اسی طرح کی باتیں کیں۔ ابن عباس نے اسے اور عائشہ کو اس کا جواب دیا۔ اولاد عثمان بھی سامنے آگئی اور کہا: ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ عثمان تو بدترین جگہ دفن کئے جائیں اور حسن کو رسول خدا کے ساتھ دفن کیا جائے۔ [۲۰] حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس نے مکہ و حرم کو محترم قرار دیا، حسن بن علی و فاطمہ علیہما السلام حضرت رسول خدا پر ان لوگوں سے کہیں زیادہ حقدار ہیں جو بغیر اذن کے ان کے گھر میں داخل ہوگئے، خدا کی قسم وہ اس عثمان سے کہیں زیادہ حقدار ہیں جنہوں نے ابوذر کو جلا وطن کیا۔ [۲۱] عائشہ قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ پر آگئیں اور کہا: جب تک میرے سر پر ایک بھی بال باقی ہے انہیں اس جگہ دفن نہیں ہونے دونگی! [۲۲] اور پھر دوسروں کو جنازے پر تیر بارانی کا حکم دے دیا۔ [۲۳] اس وقت بنی مروان نے جنازہ پر تیر چلانا شروع کردیا، بنی ہاشم نے قبضہ شمشیر کو ہاتھ میں لے لیا لیکن امام حسین علیہ السلام نے انہیں روکا اور فرمایا: میرے برادر کی وصیت کو ضائع نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد جنازے سے ۷۰ تیر نکالے گئے۔ [۲۴] حضرت امام حسن علیہ السلام نے پہلے امام حسین علیہ السلام کو خبر دے دی تھی کہ ان کی شہادت کے بعد عایشہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرنے والی ہیں۔ [۲۵]
۲۸/ صفر ۱ - #شہادت_رسول_خدا_صلی_اللہ_علیہ_و_آلہ اس روز سنہ ۱۱ھ میں اشرف المخلوقات، خاتم الانبیاء حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی ۶۳ برس کی عمر میں [۱] زہر کے ذریعہ شہادت واقع ہوئی۔ [۲] اور بعض روایات کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کو دو عورتوں نے مسموم کیا تھا۔ [۳] ۲۴/ صفر کو پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ کی طبیعت مزید ناساز ہوئی۔ [۴] اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: "میرے حبیب کو میرے پاس بلاؤ"۔ جناب عائشہ اور حفصہ نے اپنے اپنے والد کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں حاضر کیا، تو آپ صلّی اللہ علیہ و آلہ نے اپنا رخ مبارک پھیر لیا اور فرمایا: "میرے حبیب کو میرے پاس حاضر کیا جائے" تو پھر کسی کو علی بن ابی طالب علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا، جیسے ہی آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ کی نظر مبارک آپ علیہ السلام پر پڑی تو انہیں اپنے قریب بلایا اور کچھ باتیں کہیں۔ جب علی بن ابی طالب علیہ السلام آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ کے پاس سے واپس ہوئے تو حضرت عمر و ابوبکر نے پوچھا: "آپ کے خلیل نے آپ سے کیا فرمایا؟" فرمایا: "مجھے انہوں نے علم کے ہزار باب تعلیم دیے کہ جس کے ہر باب سے ہزار باب کھلتے ہیں" [۵] ←پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ کی وصیتیں: پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ نے اپنی عمر شریف کے آخری لمحات میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے وصیتیں فرمائیں اور جبرئیل و میکائیل اور ملائکہ مقربین کو اس پر گواہ قرار دیا۔ جو کلمات جبرئیل پیغمبر صلّی اللَّہ علیہ و آلہ سے فرما رہے تھے اور امیر المومنین علیہ السلام سن رہے تھے ان میں سے ایک یہ ہے: "تمہارے حق کو چھینا جائے گا، تمہارا خمس غصب کیا جائے گا، حرمت پامال کی جائے گی، اور محاسن کو سر کے خوں سے رنگین کیا جائے گا" امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: «جب میں نے ان کلمات کو سنا تو نعرہ مار کر زمین پر گر پڑا" اس کے بعد حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور حسنین علیہم السلام سے کچھ گفتگو کی، پھر اس وصیت پر خالص سونے کی کچھ مہریں لگائی گئیں اور حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے سپرد کیا گیا۔ [۶] ←پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ کی تجہیز و تکفین و نماز: امیرالمؤمنین علیہ السّلام نے غسل دینے کے بعد آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ پر اکیلے نماز جنازہ پڑھی۔ [۷] اصحاب سقیفہ کے سوا دوسرے سبھی لوگ مسجد میں حاضر تھے تاکہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ پر نماز اور تدفین میں شرکت کرسکیں۔ امیر المومنین علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا: "رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ اپنی حیات میں بھی اور وفات کے بعد بھی ہمارے امام ہیں" یہ اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ پر جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی جائے گی۔ اس وقت لوگ گروہ کی شکل میں آتے اور بغیر کسی امام کے "إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا" [۸] کی تین بار تلاوت کرتے اور باہر آجاتے تھے۔ ← پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ کی تدفین: اس کے بعد حضرت مولی الموحدین علیہ السلام نے فرمایا: خدا جس مکان میں اپنے پیغمبر کی روح قبض کرتا ہے اسی مکان میں دفن پر راضی ہے، لہذا میں آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ کو اسی حجرہ میں دفن کرنا چاہوں گا جہاں وہ دنیا سے گئے ہیں۔ اور وہ حجرہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا حجرہ تھا جس پر کثرت کے ساتھ دلائل موجود ہیں۔ [۹] امیرالمؤمنین علیہ السّلام نے چند لوگوں کی مدد سے ایک قبر تیار کی اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کے بدن اطہر کو اس قبر میں قرار دیا۔ پھر خود قبر میں اترے اور پیغمبر صلّی اللَّہ علیہ و آلہ کے چہرے کو کھولا اور داہنے رخ کو زمین پر قرار دے کر لحد کو بند کیا اور اس پر مٹی ڈالی۔ [۱۰] ←حیات پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ پر مختصر روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ ابھی دو ماہ کے تھے، اور ایک روایت کے مطابق ابھی حمل میں تھے کہ والد بزرگوار جناب عبد اللہ بن عبد المطلب کی رحلت ہوگئی۔ ۴ یا ۷ یا ۸ برس کے تھے تبھی مادر گرامی جناب آمنہ بن وہب "ابواء" میں رحلت فرما گئیں۔ ۸ سال دو ماہ اور دس روز کا سن شریف تھا کہ جد بزرگوار جناب عبد المطلب دنیا سے چلے گئے۔ ۲۵ برس کے ہوئے تو جناب خدیجۃ الکبریٰ علیہا السلام سے عقد ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ جب ۳۰ برس کے ہوئے تو حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ ۴۰ برس کی عمر میں آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ کی بعثت ہوئی ۔ ۴۵ برس کی عمر میں معراج پر تشریف لے گئے اور بعثت کے پانچویں سال حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت ہوئی۔ جب آپ صلّی اللہ علیہ و آلہ کی عمر مبارک ۵۰ سال کی ہوئی تب جناب ابوطالب اور خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا کی رحلت ہوگئی۔
#سخاوت ▫️ حضرت امام علی علیہ السلام: ▫️ السَّخَاءُ مَا كَانَ ابْتِدَاءً- [فَإِذَا] فَأَمَّا مَا كَانَ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَحَيَاءٌ وَ تَذَمُّمٌ۔ ▫️ سخاوت وہ ہے جو ازخود اور بغیر مانگے کی جائے؛ لیکن جو کچھ کسی کے مطالبے پر دیا جائے، وہ یا تو شرم و حیا کی بنا پر ہوتا ہے یا ملامت سے بچنے کے لیے۔ 📚 نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص۴۷۸، ح [۵۱] ۵۳ ▫️▫️▫️▫️▫️ ✍🏼 سخاوت کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ انسان کے باطن میں موجود ایک ایسی کیفیت اور فضیلت ہے جو اسے مستحقین اور حاجت مندوں کو کسی عوض کے بغیر اپنا مال عطا کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس طرح اگر کوئی شخص کسی سے درخواست کرے اور اپنی حاجت بیان کرکے اپنی عزتِ نفس کو داؤ پر لگائے، تو اس کے بعد جو مال اسے بطورِ عطیہ دیا جاتا ہے، وہ حقیقت میں اس کی آبرو کے عوض دیا گیا ہے۔ ایسی عطا کو آسانی سے سخاوت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح درخواست کے بعد کی جانے والی بخشش کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر عطا نہ کی جائے تو درخواست کرنے والا یا وہ لوگ جو اس معاملے سے واقف ہو جائیں، عطا نہ کرنے والے کو ملامت اور مذمت کا نشانہ بنائیں گے۔ لہٰذا ایسی بخشش دراصل لوگوں کی ملامت سے نجات کے عوض ہے اور یوں وہ بھی کسی نہ کسی عوض سے خالی نہیں۔ عام تعبیر میں اسے محض پاس و لحاظ یا شرمندگی سے بچنے کے لئے دینا کہا جا سکتا ہے۔ لہذا خالص اور حقیقی سخاوت یہ ہے کہ انسان باعزت اور خوددار حاجت مندوں کی ضرورت سے آگاہ ہونے پر، پوشیدہ طور پر ان کی مشکلات دور کرنے کی کوشش کرے اور مطالبے کی نوبت نہ آئے۔ قرآن مجید نے سورۂ بقرہ میں انفاق کی اہمیت اور اس کے آثار و برکات کے ذکر کے ساتھ، ایسے لوگوں پر خرچ کرنے کی خصوصی تاکید کی ہے جو کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کرتے اور ان کی عفت اور خودداری کی وجہ سے ناواقف لوگ انہیں خوش حال سمجھتے ہیں۔ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِیَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسیمَاهُمْ لاَ یَسْئَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا "ناواقف لوگ ان کی حیا اور عفت کی بنا پر انہیں مال دار خیال کرتے ہیں؛ حالانکہ تم آثار سے ان کی غربت کا اندازہ کرسکتے ہو، وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے"۔ [سورۂ بقرہ، آیت۲۷۳] آیات و روایات میں سخاوت کی اہمیت کے بارے میں بہت کچھ بیان ہوا ہے۔ چنانچہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی ایک حدیث میں منقول ہے: السَّخاءُ خُلْقُ اللّهِ الاْعْظَمِ "سخاوت اللہ تعالیٰ کی عظیم صفت ہے"۔ [کنز العمال، میزان الحکمہ کے حوالے سے، مادۂ سخاء] ایک دوسری حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: السَّخَاءُ مِنْ أَخْلَاقِ الْأَنْبِيَاءِ وَ هُوَ عِمَادُ الْإِيمَانِ وَ لَا يَكُونُ مُؤْمِنٌ إِلَّا سَخِيّاً ''سخاوت انبیاء کے اخلاق میں سے ہے، یہ ایمان کا ستون ہے، اور کوئی مؤمن ایسا نہیں جو سخی نہ ہو''۔ [بحار الانوار، ج۶۸، ص۳۵۵، ح۱۷] بیشک سخاوت جتنی زیادہ ہو، اور کسی بھی مادی یا معنوی عوض سے پاک ہو اور مکمل طور پر ازخود کی جائے، اتنی ہی زیادہ قدر و قیمت کی حامل ہوگی۔ 📚 پیام امام امیر المومنین علیہ السلام، آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی، ج۱۲، ص۳۳۹۔ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor
#سخاوت ▫️ حضرت امام علی علیہ السلام: ▫️ السَّخَاءُ مَا كَانَ ابْتِدَاءً- [فَإِذَا] فَأَمَّا مَا كَانَ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَحَيَاءٌ وَ تَذَمُّمٌ۔ ▫️ سخاوت وہ ہے جو ازخود اور بغیر مانگے کی جائے؛ لیکن جو کچھ کسی کے مطالبے پر دیا جائے، وہ یا تو شرم و حیا کی بنا پر ہوتا ہے یا ملامت سے بچنے کے لیے۔ 📚 نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص۴۷۸، ح [۵۱] ۵۳ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor
۲۰/ صفر #اربعین_حسینی
۲۰/ صفر #اربعین_حسینی ← ۱ - اربعین سیّدالشّهداء علیه السّلام ▪️اس دن حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اہل بیت و اصحاب با وفا کی شہادت جیسے دردناک واقعہ کے چالیس روز ہوجاتے ہیں۔ اہل بیت علیہم السلام کے شیعوں اور محبّوں کو چاہئے کہ آج کے دن سیاہ لباس، کسب و کار کی تعطیل، مجلس عزا کے انعقاد، مجلس و ماتم میں شرکت اور ذکر مصیبت کے ذریعہ اس دن کی تعظیم بجا لائیں۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام فرما تے ہیں: عَلَامَاتُ الْمُؤْمِنِ خَمْسٌ صَلَاةُ الْإِحْدَى وَ الْخَمْسِينَ وَ زِيَارَةُ الْأَرْبَعِينَ وَ التَّخَتُّمُ فِي الْيَمِينِ وَ تَعْفِيرُ الْجَبِينِ وَ الْجَهْرُ بسم الله الرحمن الرحيم۔ مؤمن کی پانچ علامتیں ہیں: ۱- ۵۱ رکعت نماز پڑھنا، ۲- زیارت اربعین پڑھنا، ۳- دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، ۴- سجدہ میں پیشانی کو خاک پر رکھنا، ۵- بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا۔ [وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۴۷۸؛ مصباح المتہجد، ج۲، ص۷۷۸؛ تہذیب الاحکام، ج۶، ص۵۲؛ بحار الانوار، ج۸۲، ص۷۵؛ مزار شیخ مفید، ص۵۳؛ مزار ابن مشہدی، ص۳۵۲؛ اقبال، ج۳، ص۱۰۰؛ عوامل اللئالی، ج۴، ص۳۷؛ روضۃ الواعظین، ص۱۹۵] ← ۲ – جابر کا کربلا کی زیارت کے لئے جانا ▪️اسی دن سن 61 ھ میں جناب جابر بن عبد اللہ انصاری اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے تقریبا چالیس دن بعد مدینہ سے کربلا میں وارد ہوئے؛ انہوں نے عطیّہ کے ہمراہ اپنے حبیب حضرت سید الشہداء کی زیارت کی۔ [توضیح المقاصد، ص ۶؛ مسار الشیعه، ص۲۶؛ مصباح المتجهد، ج۲، ص ۷۷۸؛ العدد القویه، ص۲۱۹؛ بحار الانوار، ج۹۸، ص۳۳۵؛ وسائل الشیعه، ج۱۴، ص۴۷۸؛ زاد المعاد، ص۲۵۰] ← ۳ – اہل حرم کا کربلا واپس آنا ▪️بنا بر مشہور اسی روز اہل بیت علیہم السلام شام سے کربلا واپس تشریف لاتے ہیں۔ [توضیح المقاصد، ص ۶۔۷؛ معالی السبطین، ج۲، ص۱۹۱؛ بحار الانوار، ج۹۸، ص۳۳۴؛ اقبال الاعمال، ج۳، ص۱۰۰؛ زاد المعاد، ص۲۵۰؛ کتاب "تحقیقی پیرامون اولین اربعین سید الشہداء علیہ السلام" حبیب السیر] ← ۴ - سر مطهر امام حسین علیه السّلام کا بدن مطهر کے ساتھ ملحق ہونا ▪️اسی دن حضرت امام حسین علیه السّلام سر اقدس حضرت امام زین العابدین علیه السّلام کے ذریعہ شام سے کربلا لایا گیا اور آپ علیہ السلام کے بدن مطہر سے ملحق کیا گیا۔ [ بحار الانوار، ج ۴۴ ، ص ۱۹۹؛ ج۹۸، ص۳۳۴؛ لہوف، ص۲۲۵؛ اقبال الاعمال، ج۳، ص۹۸؛ شرح احقاق الحق، ج۳۳، ص۷۰۳؛ الاتحاف بحب الاشراف، ص۱۲] 📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ص۶۸ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor
#زائر_کربلا #جابر_بن_عبد_اللہ_انصاری
فرزند سید نقیبان ہیں، دلبند سیدۃ النساء حضرت فاطمہ س ہیں اور کیوں ایسے نہ ہوں، کہ سید المرسلین نے خود اپنے ہاتھوں سے آپ کو کھانا کھلایا، اور دامان متقین میں آپ کی پرورش ہوئی سینہ ایمان سے دودھ پیا اور دامن اسلام میں رہے، آپ نے پاک زندگی گزاری اور خوشی کے ساتھ گئے۔ لیکن مومنین کے قلوب آپ کے فراق پر غمگین ہیں، اور جو آپ پر گذری اس میں آپ کے لئے خیر کے سلسلہ میں کوئی شک نہیں؛ خدا کی خوشنودی اور سلام ہو آپ پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے وہی راستہ انتخاب کیا جس پر آپ کے بھائی یحیی بن زکریا چلے تھے۔ اسکے بعد انہوں نے قبر کے اطراف پر نظر ڈالی اور کہا: سلام ہو آپ پر اے پاک روحیں جو امام حسین علیہ السلام سے مل گئیں، آستان حسین علیہ السلام پر وارد ہوئیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی، زکات ادا کی، نہی عن المنکر اور امر بالمعروف انجام دیا، اور ملحدوں سے جہاد کیا، اور خدا کی عبادت کی یہاں تک کہ موت کا وقت آگیا۔ اس خدا کی قسم جس نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو نبی برحق بناکر بھیجا، جس راستے پر آپ چلے ہم بھی اس میں شریک ہیں۔ ▪️عطیہ کہتے ہیں: میں نے جابر سے کہا: ہم کیسے ان کے کام میں شریک ہیں جبکہ نہ ہم نے کسی وادی کو طے کیا، نہ پہاڑوں کی بلندیوں کو سر کیا، نہ ہی تلوار چلائی؛ لیکن ان کے سروں کو جدا کردیا گیا، ان کے بچے یتیم ہوگئے اور ان کی مخدرات کی مانگیں اجڑ گئیں؟ جابر نے عطیہ کو جواب دیا: اے عطیہ! اپنے حبیب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا کہ فرمارہے تھے: جو شخص کسی گروہ کو دوست رکھتا ہے وہ اسی کے ساتھ محشور ہوگا اور جو شخص کسی گروہ کے عمل کو دوست رکھتا ہو وہ اس عمل میں شریک ہے۔ قسم اس خدا کی جس نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو اپنا نبی بناکر بھیجا، میری اور میرے اصحاب کی نیت وہی ہے جو حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی تھی۔ اور کہا: مجھے کوفیوں کے گھروں کی طرف لے چلو۔ جب ہم نے کچھ راستہ طے کرلیا، مجھ سے کہا: اے عطیہ! شاید اس سفر کے بعد تم سے ملاقات نہ کرسکوں میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے محبین کو دوست رکھنا جب تک وہ ان کی محبت پر باقی ہوں، اور خاندان محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے دشمنوں سے دشمنی رکھنا جب تک وہ دشمنی پر باقی رہیں اگرچہ کثیر الصوم و صلواۃ ہوں، اور آل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) کے دوستداروں کے ساتھ رفاقت سے پیش آنا، اگرچہ گناہوں کی وجہ سے ان کے قدم میں لغزش آگئی ہو، لیکن دوسرا قدم ان کی محبت کی وجہ سے ثابت رہے گا، اہل بیت محمد علیہم السلام کا چاہنے والا جنت کی طرف جائے گا اور ان کا دشمن دوزخ کی طرف۔ 📚 بشارة المصطفى لشيعة المرتضى، عماد الدين طبرى، المكتبة الحيدرية، نجف اشرف، ص۷۴-۷۵ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor
#زائر_کربلا #جابر_بن_عبد_اللہ_انصاری ▪️صحابی رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ مجاہد صدر اسلام جناب جابر بن عبد اللہ انصاری علیہ الرحمۃ و الرضوان▪️ 📜عنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِ زَائِرَيْنِ قَبْرَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ع فَلَمَّا وَرَدْنَا كَرْبَلَاءَ دَنَا جَابِرٌ مِنْ شَاطِئِ الْفُرَاتِ فَاغْتَسَلَ ثُمَ اتَّزَرَ بِإِزَارٍ وَ ارْتَدَى بِآخَرَ ثُمَ فَتَحَ صُرَّةً فِيهَا سُعْدٌ فَنَثَرَهَا عَلَى بَدَنِهِ ثُمَّ لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلَّا ذَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَ الْقَبْرِ قَالَ أَلْمِسْنِيهِ فَأَلْمَسْتُهُ فَخَرَّ عَلَى الْقَبْرِ مَغْشِيّاً عَلَيْهِ فَرَشَشْتُ عَلَيْهِ شَيْئاً مِنَ الْمَاءِ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ يَا حُسَيْنُ ثَلَاثاً ثُمَّ قَالَ حَبِيبٌ لَا يُجِيبُ حَبِيبَهُ ثُمَّ قَالَ وَ أَنَّى لَكَ بِالْجَوَابِ وَ قَدْ شُحِطَتْ أَوْدَاجُكَ عَلَى أَثْبَاجِكَ وَ فُرِّقَ بَيْنَ بَدَنِكَ وَ رَأْسِكَ فَأَشْهَدُ أَنَّكَ ابْنُ خَاتِمِ النَّبِيِّينَ وَ ابْنُ سَيِّدِ الْمُؤْمِنِينَ وَ ابْنُ حَلِيفِ التَّقْوَى وَ سَلِيلُ الْهُدَى وَ خَامِسُ أَصْحَابِ الْكِسَاءِ وَ ابْنُ سَيِّدِ النُّقَبَاءِ وَ ابْنُ فَاطِمَةَ سَيِّدَةِ النِّسَاءِ وَ مَا لَكَ لَا تَكُونُ هَكَذَا وَ قَدْ غَذَّتْكَ كَفُّ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَ رُبِّيتَ فِي حَجْرِ الْمُتَّقِينَ وَ رَضَعْتَ مِنْ ثَدْيِ الْإِيمَانِ وَ فُطِمْتَ بِالْإِسْلَامِ فَطِبْتَ حَيّاً وَ طِبْتَ مَيِّتاً غَيْرَ أَنَّ قُلُوبَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ طَيِّبَةٍ لِفِرَاقِكَ وَ لَا شَاكَّةٍ فِي الْخِيَرَةِ لَكَ فَعَلَيْكَ سَلَامُ اللَّهِ وَ رِضْوَانُهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ مَضَيْتَ عَلَى مَا مَضَى عَلَيْهِ أَخُوكَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ثُمَّ جَالَ بَصَرَهُ حَوْلَ الْقَبْرِ وَ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَيَّتُهَا الْأَرْوَاحُ الَّتِي حَلَّتْ بِفِنَاءِ الْحُسَيْنِ وَ أَنَاخَتْ بِرَحْلِهِ وَ أَشْهَدُ أَنَّكُمْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَ آتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَ أَمَرْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَ نَهَيْتُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ جَاهَدْتُمُ الْمُلْحِدِينَ وَ عَبَدْتُمُ اللَّهَ حَتَّى أَتَاكُمُ الْيَقِينُ وَ الَّذِي بَعَثَ مُحَمَّداً بِالْحَقِّ نَبِيّاً لَقَدْ شَارَكْنَاكُمْ فِيمَا دَخَلْتُمْ فِيهِ قَالَ عَطِيَّةُ فَقُلْتُ لَهُ يَا جَابِرُ كَيْفَ وَ لَمْ نَهْبِطْ وَادِياً وَ لَمْ نَعْلُ جَبَلًا وَ لَمْ نَضْرِبْ بِسَيْفٍ وَ الْقَوْمُ قَدْ فُرِّقَ بَيْنَ رُءُوسِهِمْ وَ أَبْدَانِهِمْ وَ أُوتِمَتْ أَوْلَادُهُمْ وَ أَرْمَلَتْ أَزْوَاجُهُمْ؟ فَقَالَ يَا عَطِيَّةُ سَمِعْتُ حَبِيبِي رَسُولَ اللَّهِ ص يَقُولُ مَنْ أَحَبَّ قَوْماً حُشِرَ مَعَهُمْ وَ مَنْ أَحَبَّ عَمَلَ قَوْمٍ أُشْرِكَ فِي عَمَلِهِمْ وَ الَّذِي بَعَثَ مُحَمَّداً بِالْحَقِّ نَبِيّاً أَنَّ نِيَّتِي وَ نِيَّةَ أَصْحَابِي عَلَى مَا مَضَى عَلَيْهِ الْحُسَيْنُ ع وَ أَصْحَابُهُ خُذْنِي نَحْوَ إلى أَبْيَاتِ كُوفَانَ فَلَمَّا صِرْنَا فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ يَا عَطِيَّةَ هَلْ أُوصِيكَ وَ مَا أَظُنُّ أَنَّنِي بَعْدَ هَذِهِ السَّفْرَةِ مُلَاقِيكَ أَحْبِبْ مُحِبَّ آلِ مُحَمَّدٍ ص مَا أَحَبَّهُمْ وَ أَبْغِضْ مُبْغِضَ آلِ مُحَمَّدٍ مَا أَبْغَضَهُمْ وَ إِنْ كَانَ صَوَّاماً قَوَّاماً وَ ارْفُقْ بِمُحِبِّ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ فَإِنَّهُ إِنْ تَزِلَّ لَهُ قَدَمٌ بِكَثْرَةِ ذُنُوبِهِ ثَبَتَتْ لَهُ أُخْرَى بِمَحَبَّتِهِمْ فَإِنَّ مُحِبَّهُمْ يَعُودُ إِلَى الْجَنَّةِ وَ مُبْغِضَهُمْ يَعُودُ إِلَى النَّارِ۔ ▪️عطیہ عوفی کہتے ہیں: ⚪️ ہم جابر بن عبداللہ کے ساتھ زیارت امام حسین علیہ السلام کی غرض سے نکلے، جب کربلا پہونچے، جابر فرات کی طرف گئے اور غسل کیا ایک کپڑا کمر میں باندھا اور دوسرا شانہ پر ڈالا اور خود کو معطر کیا۔ پھر ذکر خدا کرتے ہوئے قدموں کو آگے بڑھایا، یہاں تک کہ قبر مبارک تک پہونچے، کہا: میرے ہاتھ کو قبر سے مس کردو، میں نے ان کے ہاتھ کو قبر پر رکھا، جابر نے خود کو قبر پر گرادیا اور (اتنا زیادہ گریہ کیا) کہ بے ہوش ہوگئے، میں نے ان پر پانی چھڑکا تو انہیں غش سے افاقہ ہوا، انہوں نے تین بار کہا: یاحسین! پھر کہا: کیا دوست اپنے دوست کو جواب نہیں دیگا؟! اور کیسے جواب دیں گے جب کہ آپ کی گردن کی رگوں کو کاٹ ڈالاگیا اور سر کو تن سے جدا کر دیا گیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خاتم النبیین کے فرزند، سید الوصیین کے دلبند نسل ہدایت، ہم پیمان تقوی، خامس اصحاب کساء ہیں،
#اربعین #زیارت #دور_سے «السَّلامُ عَلَيكَ يا أبا عَبدِ اللّهِ، السَّلامُ عَلَيكَ و رَحمَةُ اللّهِ و بَرَكاتُهُ»
#اربعین #زیارت #دور_سے ◽️حضرت امام صادق علیہ السلام ◾️ يا سَدِيرُ تَزُورُ قَبْرَ الْحُسَيْنِ ع فِي كُلِّ يَوْمٍ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ لَا قَالَ مَا أَجْفَاكُمْ فَتَزُورُهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ قُلْتُ لَا قَالَ فَتَزُورُهُ فِي كُلِّ سَنَةٍ قُلْتُ قَدْ يَكُونُ ذَلِكَ قَالَ يَا سَدِيرُ مَا أَجْفَاكُمْ لِلْحُسَيْنِ ع أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى أَلْفَ أَلْفِ مَلَكٍ شُعْثٌ غُبْرٌ يَبْكُونَ وَ يَزُورُونَ وَ لَا يَفْتُرُونَ وَ مَا عَلَيْكَ يَا سَدِيرُ أَنْ تَزُورَ قَبْرَ الْحُسَيْنِ ع فِي كُلِّ جُمْعَةٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ أَوْ فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُ فَرَاسِخُ كَثِيرَةٌ فَقَالَ لِيَ اصْعَدْ فَوْقَ سَطْحِكَ ثُمَّ الْتَفِتْ يَمْنَةً وَ يَسْرَةً ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ تَنْحُو نَحْوَ الْقَبْرِ فَتَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ تُكْتَبُ لَكَ بِذَلِكَ زَوْرَةٌ وَ الزَّوْرَةُ حَجَّةٌ وَ عُمْرَةٌ قَالَ سَدِيرٌ فَرُبَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فِي الشَّهْرِ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً. ◾️حضرت امام صادق علیه السلام اپنے صحابی سے فرماتے ہیں: اے سَدیر! کیا تم ہر روز امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرتے ہو؟ سدیر کہتے ہیں میں نے عرض کیا: آپ پر قربان جاؤں، نہیں۔ فرمایا: تم نے کس قدر جفا کی!!! تو کیا ہر مہینہ میں زیارت کرتے ہو؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: تو کیا ہر سال میں ایک بار؟ عرض کیا: ہاں کبھی سال میں ایک بار زیارت کرلیتا ہوں۔ امام نے فرمایا: اے سدیر! تم کس قدر امام حسین پر جفا کررہے ہو! کیا تم نہیں جانتے کہ خداوند کے ہزار ہزار پراکندہ حال اور غبار آلود فرشتے ہیں جو امام حسین (ع) پر گریہ کرتے ہیں اور زیارت کرتے ہیں اور کبھی تھکتے نہیں۔ ← اے سدیر کیوں خود کو اس کا پابند نہیں بناتے کہ ہر ہفتہ پانچ بار یا ہر دن ایک مرتبہ قبر حسین علیہ السلام کی زیارت کرو؟ میں نے عرض کیا: آپ پر قربان جاؤں، ہمارے اور کربلا کے درمیان کئی فرسخ کا فاصلہ ہے۔ تو امام علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اپنے گھر کی چھت پر جاؤ، اپنے داہنے بائیں توجہ کرو، اور پھر سر کو آسمان کی جانب بلند کرو، پھر امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک کی طرف رخ کر کے کہو: «السَّلامُ عَلَيكَ يا أبا عَبدِ اللّهِ، السَّلامُ عَلَيكَ و رَحمَةُ اللّهِ و بَرَكاتُهُ» تو اس عمل سے تمہارے لیے ایک زیارت لکھی جائے گی اور وہ زیارت حج اور عمرہ کے برابر ہو گی۔ سدیر کہتے ہیں: اس کے بعد سے میں نے کبھی کبھی اس عمل کو مہینے میں بیس مرتبہ سے زیادہ انجام دیا ہے۔ 📚 من لا يحضره الفقيه، ج۲، ص۵۹۹، ح۳۲۰۳، باب ما يقوم مقام زيارة الحسين و زيارة غيره من الأئمة ع لمن لا يقدر على قصده لبعد المسافة..... «السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَهُ اللَّهِ وَ بَرَکَاتُهُ» https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor
#اربعین #زیارت #مقربان_الہی ▫️حضرت امام صادق علیہ السلام: ▪️قَبْرُ اَلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ عِشْرُونَ ذِرَاعاً فِي عِشْرِينَ ذِرَاعاً مُكَسَّراً رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ اَلْجَنَّةِ مِنْهُ مِعْرَاجٌ إِلَی اَلسَّمَاءِ فَلَيْسَ مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَ لاَ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ إِلاَّ وَ هُوَ يَسْأَلُ اَللَّهَ أَنْ يَزُورَهُ فَفَوْجٌ يَهْبِطُ وَ فَوْجٌ يَصْعَدُ ▪️امام حسین بن علی علیہما السلام کی قبر مطہر کی لمبائی چوڑائی بیس بیس ذراع پر محیط ہے، یہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، اس مقام سے آسمان کی جانب معراج ہوتی ہے، کوئی مقرب فرشتہ یا کوئی نبی مرسل ایسا نہیں جو اللہ سے اس کی زیارت کی درخواست نہ کرتا ہو، اس طرح ایک گروہ زیارت کے لئے اتر رہا ہوتا ہے تو دوسرا گروہ آسمان پر جارہا ہوتا ہے۔ 📚 کامل الزيارات ج ۱، ص ۱۱۴، الباب التاسع و الثلاثون زيارة الملائكة الحسين بن علي عليه السلام https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor