Maktabus Suffah Ⓡ
описание
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬ مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ Maktabus Suffah Ⓡ 👇🔻👇🔻👇🔻👇 www.MSuffah.com https://telegram.me/MSuffah https://youtube.com/@msuffah ▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬ ♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲ ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
2 722
подписчиков
Охват к подписчикам
29,9%
ERR
Реакции к просмотрам
0,13%
27 на 25 постов
Пересылки к просмотрам
0,33%
70
Постов в день
0,0
всего 26
Где отзываются чаще
доля реакций к просмотрам- 7 июл.کلام پاک میں اگر کوئی بچہ صحت اور اداءیگی میں زیادہ کمزور ہو تو یہ تختیاں مشق کرائی جائے بہت فائدہ ہوگا ان شاء اللہ تعالیٰ 👇👇👇👇 ▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬ مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ Maktabus Suffah Ⓡ 👇🔻👇🔻👇🔻👇 www.MSuffah.com https://telegram.me/MSuffah https://youtube.com/@msuffah ▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬ ♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲ ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ0,48%
- 2 авг.بچوں پر ظلم مکتب حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب https://telegram.me/MSuffah0,43%
- 5 сент. 2025 г.без подписи0,37%
- 12 июл.*پریشان کیوں ہوتے ہو ؟ اللہ تمہیں تراش رہا ہے* کبھی کبھی زندگی کا بوجھ سہارنا مشکل ہو جاتا ہے، اور ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بھی کام آپ کی مرضی کے مطابق نہیں ہو رہا۔ لیکن یاد رکھیے—یہ اللہ کی طرف سے کوئی سزا نہیں، بلکہ وہ آپ کی تربیت فرما رہا ہے۔ راستے کی ہر رکاوٹ، ہر وہ صدمہ جس نے آپ کا دل توڑا، اور ہر مشکل گھڑی دراصل آپ کی شخصیت کو نکھار رہی ہے تاکہ آپ وہ بن سکیں جو بننا آپ کا مقدر ہے۔ اللہ بخوبی جانتا ہے کہ آپ کے اندر کتنی ہمت ہے، وہ کبھی بھی اپنے بندے کو بے مقصد کسی آزمائش میں نہیں ڈالتا۔ اس کی مصلحت اور اس کے وقت پر کامل یقین رکھیے، تب بھی جب اس کی حکمت آپ کی سمجھ سے بالاتر ہو۔ ایک دن جب آپ پلٹ کر دیکھیں گے، تو آپ کو شدت سے احساس ہوگا کہ وہ ہر کٹھن راستہ دراصل آپ کو کسی عظیم نعمت کی طرف لے جا رہا تھا—بالکل اسی منزل کی طرف، جس کی تمنا کبھی آپ نے دعاؤں میں کی تھی۔ https://t.me/MSuffah0,30%
- 13 апр. 2025 г.без подписи0,28%
- 7 авг.اختلاف کا ادب امام شافعی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد تھے، جن کا نام یونس تھا۔ ایک مسئلے میں ان کا اپنے استاد امام شافعی رحمہ اللہ سے اختلاف ہو گیا۔ یونس ناراض ہو کر درس چھوڑ گئے اور اپنے گھر چلے گئے۔ رات ہوئی تو کسی نے ان کے دروازے پر دستک دی۔ یونس کہتے ہیں: جب میں نے دروازہ کھولا تو سامنے امام شافعی رحمہ اللہ کھڑے تھے۔ آپ نے فرمایا: "اے یونس! سینکڑوں مسائل ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں، کیا ایک ہی مسئلہ ہمیں ایک دوسرے سے جدا کر دے؟!" پھر امام شافعی رحمہ اللہ نے نہایت قیمتی نصیحتیں فرمائیں: اے یونس! ہر اختلاف میں اپنی بات منوانے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ بعض اوقات دل جیتنا، موقف جیتنے سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اے یونس! ان رشتوں اور پلوں کو مت توڑو جنہیں تم نے محبت سے بنایا ہے، ممکن ہے ایک دن تمہیں انہی کے ذریعے واپس لوٹنا پڑے۔ میں ہمیشہ غلطی سے نفرت کرتا ہوں، مگر غلطی کرنے والے سے نہیں۔ میں معصیت کو ناپسند کرتا ہوں، لیکن گناہ گار کے لیے میرے دل میں رحمت، معافی اور اصلاح کی خواہش رہتی ہے۔ اے یونس! بات یا رائے پر تنقید کرو، مگر کہنے والے کی عزت برقرار رکھو؛ کیونکہ ہمارا مقصد مرض (خرابی) کا خاتمہ ہے، مریض (انسان) کو ختم کرنا نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اختلاف کے باوجود حسنِ اخلاق، احترام اور محبت کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ https://whatsapp.com/channel/0029VaAXunpBlHpVz1X9nJ2s0,26%
- 3 авг.*ملفوظات حضرت مولانا مفتی ابوبکر جابر صاحب قاسمی دامت برکاتہم ناظم ادارہ کہف الایمان حیدر اباد* بتاریخ 29 جولائی 2026ء کو مدرسہ عربیہ مدینۃ العلوم کھوری گلی لاتور مہاراشٹر میں منعقدہ "تدریب المعلمین والمعلمات" کے پروگرام میں حضرت مولانا مفتی ابو بکر جابر صاحب قاسمی، دامت برکاتہم کے کیے گئے خطاب سے منتخب پچاس ملفوظات (1) قیادت کا بحران نہیں ہے بلکہ متبعین کا فقدان ہے۔ (2) بدگمانی سے کوئی اجتماعیت چل نہیں سکتی۔ (3) سورۂ حجرات وحدتِ امت کی بنیاد ہے۔ (4) بہت بڑے عارف باللہ دامت برکاتہم نے فرمایا چوروں ڈاکوؤں کے بڑے بڑے کام حسن ظن سے ہوتے ہیں اور دین کے خادموں کے کام بدگمانی سے ہوتے ہیں ۔ (5) حضرت مولانا عمر صاحب پالنپوری رحمہ اللہ نے فرمایا: "کچھ گھروں میں چولہا بجھتا ہے تو کچھ گھروں میں دین کا چراغ جلتا ہے۔" (6) کسی بھی کام کی ترقی کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں: (1) اطلاعِ احوال (2) اتباعِ ہدایات (7) تنبیہ کے بغیر کہیں ترقی نہیں ہوتی۔ (8) آدمی زندہ ہے فکر کی زندگی سے۔ (9) آدمی بڑا بنتا ہے چھوٹوں کی قدر کرنے سے۔ (10) مقبول بندوں کی دو علامتیں: (1) چھوٹوں میں مقبول ہوتے ہیں (2) بڑوں کے معتمد ہوتے ہیں۔ (11) مردود بندوں کی دو علامتیں: (1) چھوٹوں پر مسلط ہوتے ہیں (2) بڑوں کے چاپلوس ہوتے ہیں۔ (12) مدرسے کی بات گھر پر نہ جائے اور گھر کی بات مدرسے میں نہ آئے۔ (13) اصل بنیاد اہلیت ہے۔ نہ قربت کو دیکھا جائے اور نہ قرابت کو دیکھا جائے۔ حضرت مولانا سلمان صاحب بجنوری دامت برکاتہم نے اپنی نجی مجلس میں فرمایا کہ اہلیت کے ساتھ قرابت یا قربت ہے تو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ (14) چار ضرورتیں جب تک عملہ کی پوری نہیں ہوں گی، یکسوئی حاصل نہیں ہو سکتی۔ - (1) مہینے کا راشن - (2) پُرامن رہائش - (3) علاج - (4) بچوں کی تعلیم (15) مفتی احمد صاحب خان پوری دامت برکاتہم فرماتے ہیں: تدریس مزاجِ نبوت کے منتقلی کا نام ہے۔ (16) حضرت شاہ جمال الرحمن صاحب فرماتے ہیں: بڑے کام بڑے ظرف والوں سے ہوتے ہیں، چھوٹے ظرف والوں سے بڑے کام نہیں ہوتے۔ (17) معاشرتی زندگی اخلاق سے چلتی ہے، قانون سے نہیں۔ (18) سب سے بڑی بیماری ہے احساس کا ختم ہو جانا۔ (19) عاملہ کا بننا اصل ہے، عمارت کا بننا اصل نہیں۔ (20) جان و مال کی قربانی آسان ہے، رائے کو قربان کرنے سے۔ (21) جن بندوں سے اللہ نے کام لیا، وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم کام کی بدولت چل رہے ہیں، کام ہماری بدولت نہیں چل رہا ہے۔ (22) فتوحات کو اللہ کی طرف اور ناکامیوں کو اپنی طرف منسوب کرنا، یہ مزاجِ نبوت ہے۔ (23) مولانا احمد عبداللہ طیب صاحب نے فرمایا: طلبہ کو مانوس کرو، مایوس نہیں۔ اگر وہ نہیں پڑھے گا تو اس کی اولاد پڑھے گی۔ (24) جب بندہ اختیاری تربیت نہیں کرتا تو اللہ اضطراری تربیت کراتے ہیں۔ (25) حضرت ہردوئی رحمہ اللہ نے فرمایا: اصول سے کام ہو تو ادارے مقروض نہیں ہو سکتے۔ (26) دین کا کام چلتا ہے علماء کے علم سے، اغنیاء کے مال سے، غرباء کی دعاؤں سے، سیاست دانوں کے قانون سے۔ (27) قناعت زوال کی ابتدا ہے۔ دنیاوی چیزوں میں قناعت ٹھیک ہے، علم میں نہیں۔ (28) تحمل اور تسلسل کے ساتھ محنت کرے، اللہ کامیاب کریں گے۔ (29) وہ لوگ بڑے بیوقوف ہوتے ہیں جو دوسروں کی تحقیر میں اپنی عزت سمجھتے ہیں۔ (30) حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے فرمایا: اتحاد نام ہے اشتراک کا، نہ کہ انضمام کا۔ (31) اپنی انفرادیت باقی رکھتے ہوئے اجتماعیت میں شامل ہونے سے اتحاد پیدا ہوتا ہے۔ (32) ایک سالانہ جلسے سے سال بھر کے جرائم پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ (33) حضرت مفتی سبیل صاحب، دامت برکاتہم نے فرمایا: یہ سرپرستی نہیں بلکہ زبردستی ہے کہ سرپرست سے کوئی مشورہ نہ کیا جائے۔ (34) ہمیں کسی مربی سے رابطہ پیدا کرنا چاہیے۔ (35) پڑھانے والے اندھوں کو بھی پڑھا دیتے ہیں، اور نہ پڑھانے والے صحت مندوں کو بھی بھگا دیتے ہیں۔ (36) حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے فرمایا: کریم ابن الکریم،ابن الکریم، یعنی حضرت یوسف علیہ السلام فرماتے ہیں: وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي اور ہم اپنے نفس سے بے خبر ہیں۔ (37) حضرت علی میاں رحمہم اللہ نے فرمایا: جہالت گوارا ہے، بے حیائی گوارا نہیں۔ (38) اپنی ذات کے لیے غیروں سے نہ مانگیں، ہاں طلبہ کے لیے کوشش کریں۔ (39) حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: ایسے آدمی سے چندہ لو جسے اپنے چندے کی بے حیثیتی کا اعتراف ہو۔ (40) اغنیاء کے بجائے فقراء کے چندے پر زور دیا جائے۔ (41) باسی مطالعے سے تازہ فتنوں کا مقابلہ کیسے ہو سکتا ہے؟ (42) مدارس کو جزیرہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مدارس کی جڑیں اطراف و اکناف کے علاقوں میں ہونی چاہئیں۔ (43) نظام انجمن کے استحکام کے بغیر گونگے مولوی پیدا ہوں گے۔ (44) بچوں میں شرارت نہیں بڑھی، بلکہ ہم میں حلم کم ہو گیا۔ (45) امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: علم ڈھلان کی طرف آتا ہے، اونچائی کی طرف نہیں۔0,16%
- 3 июл.اگر آپ کا بچہ بہت شریف ہے تو وہ بیمار ہے ! بچہ تین چیزوں سے سیکھتا ہے! بہت اہم کلپ 🥰 تمام والدین دادا دادی تک اس ویڈیو کو شیئر کریں ناشر : مکتب الصفہ اچلپور https://whatsapp.com/channel/0029VaAXunpBlHpVz1X9nJ2s/6440,15%
- 21 июл.*احساسِ کمتری کی ایک وجہ: بچوں کے سامنے ان کی خامیوں کا تذکرہ* فکری و اصلاحی مضمون ✍️تحریر: محمد زکریا اچلپوری *شخصیت سازی کی نازک وادی* بچہ قدرت کا وہ تراشا ہوا گوہر ہے جس کی چمک دمک کا تمام تر انحصار اس تراش خراش پر ہوتا ہے جو اسے اپنے ماحول، والدین اور اساتذہ سے ملتی ہے۔ بچپن کا ذہن ایک شفاف آئینے اور کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہے؛ اس پر جو عکس بھی ڈال دیا جائے، وہ ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم تربیت اور اصلاح کے نادانستہ نام پر بچوں کے نازک ذہنوں پر ایسے منفی نقوش ثبت کر دیتے ہیں جو آگے چل کر ان کی شخصیت میں "احساسِ کمتری" کی گہری جڑیں بن جاتے ہیں۔ اس المیے کی سب سے بڑی اور مہلک وجہ بچے کی موجودگی میں، دوسروں کے سامنے اس کی خامیوں اور کمزوریوں کا بے باکانہ تذکرہ کرنا ہے۔ *شکایت اور سرزنش کا انداز* جب ہم اپنے تعلیمی و تربیتی ماحول پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ تلخ منظر عام دکھائی دیتا ہے کہ بچے کی اصلاح کا مقصد تو نیک ہوتا ہے، لیکن اس کا طریقہ کار نہایت غیر سائنسی اور غیر اسلامی ہوتا ہے۔ اس بے احتیاطی کی سب سے بڑی مثال اس وقت سامنے آتی ہے جب اساتذہ مہتمم یا پرنسپل کے سامنے بچے کی موجودگی ہی میں اس کی نالائقیوں کا دفتر کھول دیتے ہیں کہ "یہ بڑا کمزور ہے، اس کا دھیان بورڈ پر نہیں رہتا یہ بار بار بھول جاتا ہے وغیرہ۔ یہی معاملہ والدین کے سامنے بھی ہوتا ہے جہاں والدین کو بلا کر بچے کے عین سامنے اس کی خامیوں اور کوتاہیوں کی پوری فہرست پیش کر دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بچہ اپنے والدین اور اساتذہ کی نظروں میں گرنے کا شدید نفسیاتی صدمہ محسوس کرتا ہے۔ بات صرف شکایتوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ سرزنش کے دوران بچے کی اصلاح کے بجائے اس کی ذات کو منفی القابات کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسے "تم کند ذہن ہو"، "تم بے وقوف ہو" یا "تمہیں کچھ یاد نہیں رہتا" جیسے جملوں سے نوازا جاتا ہے۔ ہمارا خام خیال یہ ہوتا ہے کہ بچے کو اس کی خامیاں گنا کر ہم اسے غیرت دلائیں گے اور وہ سدھر جائے گا، حالانکہ اس کا نتیجہ بالکل الٹ نکلتا ہے۔ جب بچے کے سامنے مسلسل اس کی تحقیر کی جائے اور اسے نالائق کہا جائے، تو اس کا نازک ذہن ان منفی جملوں کو اپنی حتمی سچائی مان لیتا ہے، اور یوں وہ کمی دور ہونے کے بجائے اس کے وجود کا مستقل حصہ بن کر اسے احساسِ کمتری کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ *ایک آنکھوں دیکھا واقعہ: نادانستہ جملے کا ہلاکت خیز اثر* اصلاحِ تربیت کا ایک تلخ اور عبرت انگیز واقعہ مجھے خوب یاد ہے؛ جب میں درجۂ اولا یا ثانیہ (عربی اول یا دوم) میں زیرِ تعلیم تھا، تو ہمارے ایک نہایت محترم استاد نے کلاس کے دیگر بچوں کی موجودگی میں ایک طالب علم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "یہ لڑکا تو مجھے احساسِ کمتری کا شکار معلوم ہوتا ہے!" اس وقت اس لڑکے کو یہ خبر تک نہ تھی کہ 'احساسِ کمتری' کس بلا کا نام ہے! لیکن اس جملے نے اس کے ذہن میں ایک تجسس پیدا کر دیا۔ اس نے اس لفظ کی کھوج شروع کی، کتابوں میں تلاش کیا کہ احساسِ کمتری آخر ہوتی کیا چیز ہے؟ جیسے جیسے اسے اس کے معنی و مفہوم کی آگاہی ہوتی گئی، ویسے ویسے وہ خوف اور منفی سوچ اس کے دل و دماغ میں جڑ پکڑتی گئی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بچہ، جو محض ایک غیر محتاط جملے کا نشانہ بنا تھا، واقعی احساسِ کمتری کے تاریک اندھیروں میں ڈھلتا چلا گیا اور رفتہ رفتہ اس کی تمام تر خداداد صلاحیتیں دَب کر رہ گئیں۔ یہ واقعہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ زبان سے نکلا ہوا ایک غیر محتاط لفظ کسی بچے کی ابھرتی ہوئی شخصیت کو کس طرح ہمیشہ کے لیے اپاہج بنا سکتا ہے۔ *جدید نفسیات کی روشنی میں: منفی تعبیرات کے نتائج* اسی فکری تسلسل کو اگر ہم جدید نفسیات کے آئینے میں دیکھیں تو ماہرین اس طرزِ عمل کو "لیبلنگ تھوری" (Labeling Theory) (Pygmalion Effect) (Self-Fulfilling Prophecy) کیتے ہیں۔ نفسیات دان کہتے ہیں کہ جب کسی بچے پر مسلسل "کند ذہن" یا "لاپروا" کا لیبل لگایا جائے تو بچے کا لاشعور اس کیفیت کو قبول کر لیتا ہے۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ "جب میں ہوں ہی کند ذہن، تو محنت کا کیا فائدہ؟" یوں وہ آگے بڑھنے کی کوشش ہی چھوڑ دیتا ہے۔ *مثبت تلقین اور اعتماد کی طاقت* اس کے برعکس، اگر کوئی بچہ پڑھائی میں واقعتاً کمزور ہو، لیکن اس کے سامنے اس کی صلاحیت کا اعتراف کیا جائے مثلاً یہ کہا جائے کہ "ماشاء اللہ! تم بہت سمجھدار ہو، تم میں آگے بڑھنے کی پوری صلاحیت ہے، بس تھوڑی سی توجہ اور محنت کی ضرورت ہے، واہ ماشاءاللہ تم نے تو بہت اچھا پڑھا بہت اچھا یاد کیا وغیرہ" تو بچے کا لاشعور اس مثبت پیغام کو جذب کرتا ہے اور اس کی سوئی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔0,15%
- 3 авг.(46) جب طلبہ کو مارنے کا جی چاہے تو مصلّٰی بچھا کر ان کے لیے دعا فرمائیں۔ (47) عملہ میں باہم تعاون نہ ہو، دلوں میں جوڑ نہ ہو، تو وہ اس دیوار کی طرح ہیں جس میں سیمنٹ نہ ہو۔ طے (48) حضرت مولانا عبیداللہ اسعدی نے فرمایا: قاری صدیق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شفقت اور انتظام میں عدم مداخلت کی وجہ سے ہم پچاس سال سے ہتورا میں بیٹھے ہیں۔ (49) داعی صلاحیتوں کا بھوکا ہوتا ہے۔ (50) بے پردگی کسی قسم کی برداشت نہیں ہونی چاہیے۔ از مفتی ارشد قاسمی مفتی ملتزم قاسمی خادم مدرسہ مدینۃ العلوم کھوری گلی لاتور https://whatsapp.com/channel/0029VaAXunpBlHpVz1X9nJ2s/6670,14%
- 16 июл.کھیل بھی اور ذہنی و جسمانی صلاحیت بھی https://t.me/MSuffah0,13%
- 16 июл.اگر نبی سے محبت ہے ۔۔۔۔۔ مولانا محمود مدنی صاحب https://t.me/MSuffah0,12%