tgindex
The Sunni Way Youths Forum : Ballari

The Sunni Way Youths Forum : Ballari

Статистика
Последний пост
14 авг.
Последнее чтение
13 авг.
Постов за неделю
1
Всего постов
21
Тип
открытый
Язык
ur
В каталоге с
13 авг.
Подписчики
588
0 за 1 дн.
Сутки
0
0,00%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
81
21 постов
Вовлечённость
13,8%
к подписчикам
Постов в день
0,1
всего 21
Упоминаний
0
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
3
1/48двое суток
3
1/72трое суток
3

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • видео или голосовое, без подписи

  • موضوعات کی آسان تفہیم کے لیے ذیلی عناوین (سرخیاں) کا اہتمام، اور جو سرخیاں ادارے کی جانب سے اضافہ کی گئی ہیں، انہیں قوسین میں رکھا گیا ہے. طویل عبارات اور تفصیلی مباحث میں نمبرنگ کا اہتمام، تاکہ مطالعہ مزید سہل اور منظم ہو سکے. فارسی عبارات کا اردو ترجمہ بھی شامل کیا گیا ہے، جو (۳۰ جلدوں والی) فتاویٰ رضویہ سے ماخوذ ہے. کتاب میں مذکور شخصیات کا مختصر تعارف بھی حواشی میں درج کیا گیا ہے، تاکہ قارئین ان کے علمی مقام اور خدمات سے واقف ہو سکیں، انہیں اپنا نمونۂ عمل بنائیں اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں. آغاز کتاب میں مصنف رحمۃ اللہ علیہ کا جامع تعارف پیش کیا گیا ہے. آخر میں مندرجات، مصادر و مراجع اور دیگر ضروری فہرستوں کو بھی نہایت عمدہ ترتیب کے ساتھ شامل کیا گیا ہے. الحاصل یہ کہ مجموعہ خطبات وأسانيد وإجازات اور مجموعہ رسائل رسم افتا باب رضویات کے محققین اور ارباب افتاء کے لیے مدتوں تک مرجع و ماخذ کی حیثیت رکھے گا، اور دار الملک کے تحقیقی ذوق اور اشاعتی معیار کا روشن مظہر ثابت ہوگا. طارق محمود رضوی بتاریخ: ٢٠/صفر المظفر ١٤٤٨ھ مطابق: ٥/اگست ٢٠٢٦ء

  • دوسرا باباسانید وطرق کے روح پرور گلستان سے معطر ہے، اور یہ چار فصلوں پر مشتمل ہے. پہلی فصل میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی سند فقہ حنفی کو ذکر کیا گیا ہے. دوسری فصل میں آپ کی سند حدیث اور حدیث مسلسل بالأولیہ کی اسانید کو شیخ عبد الحق محدث دہلوی، شاہ عبد العزیز دہلوی اور شیخ احمد حسن صوفی مرادآبادی رحمہم اللہ کے تین طرق سے نقل کیا گیا ہے. تیسری فصل مصافحات کی اسانید سے متعلق ہے، جس میں جنیہ، خضریہ، معمریہ اور منامیہ کی چار اسانید جمع کی گئی ہیں. جبکہ چوتھی فصل میں سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ کی سند کو نہایت اہتمام کے ساتھ درج کیا گیا ہے. تیسرا باب سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے حاصل کی گئی اجازات کے لیے خاص کیا گیا ہے، اور یہ دو فصلوں میں تقسیم ہے. پہلی فصل علماء عرب کو عطا کی گئی اجازات پر مشتمل ہے، جس میں پچیس مباحث شامل ہیں، جبکہ دوسری فصل علماء ہند سے متعلق اجازات کو محیط ہے، اور اس میں پانچ مباحث ذکر کیے گئے ہیں. اس مجموعہ نے اہل علم و دانش کے حلقوں میں شائع ہوتے ہی غیر معمولی پذیرائی حاصل کی اور اپنی انفرادیت اور علمی تحقیق کے باعث خوب داد و تحسین سمیٹی. تیسرا مجموعہ، یعنی چھٹی جلد، سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے فقہ حنفی میں رسم افتاء، اس کے اصول، آداب اور قواعد سے متعلق تین نہایت اہم رسائل پر مشتمل ہے:أجلى الإعلام أن الفتوى مطلقاً على قول الإمام، جلي النص في أماكن الرخص، الفضل الموهبي في معنى: إذا صحّ الحديث فهو مذهبي.  ان میں سے ہر رسالہ رسم افتا میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی غیر معمولی مہارت، وسعت نظر اور دقیق فقہی بصیرت کا ایسا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اسے دیکھ کر چشم فلک بھی دیدۂ حیراں بن جائے اور مخالفین انگشت بدنداں رہ جائیں. یہ چھ جلدیں عربی زبان میں اہل علم سے خراج تحسین وصول کر چکی ہیں، اور اب ان شاء اللہ بہت جلد سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا تیس جلدوں پر مشتمل عظیم علمی خزانہ بھی اسی تحقیقی اور عصری اسلوب کے ساتھ حقیقت کا پیکر بن کر نگاہوں کے سامنے ہوگا. اور یہ رضویات کی تاریخ کا ایک عظیم سنگ میل اور ایک تاریخ ساز کارنامہ ہوگا، جس کی گونج مدتوں تک سنائی دے گی اور جسے رہتی دنیا تک قدر وتحسین کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا، کیونکہ اس کے ذریعے سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے افکار و تحقیقات نئی نسل خصوصا اہل عرب تک منتقل ہوں گے. اردو زبان میں عظیم خدمات عربی ایڈیشن کی طرح سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے مکمل رسائل جدید تحقیقی منہج اور عصری ماڈل کے مطابق اردو زبان میں مرحلہ وار زیور طباعت سے آراستہ کیے جائیں گے. اس عظیم منصوبے کی پہلی کڑی رواں سال عرس رضوی کے پربہار موقع پر مجموعہ خطبات، اسانید و اجازات اور دوسری کڑی رسائل رسم افتاء کی صورت میں منظر عام پر آئے گی، یوں ہی اس سلسلے کی تیسری کڑی رسائل کتاب الطہارہ، چوتھی کڑی رسائل کتاب الصلاۃ ھلم جرا بہت جلد ہماری نگاہوں کے سامنے ہوں گی. اور یہ خدمت بھی رضویات کے میدان میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد خدمت ہوگی، اس عظیم منصوبے کو شائع کرنے کا اعزاز بھی دار الملک کے حصے میں آیا ہے، جو رضویات کے احیا اور فروغ کے لیے اس ادارے کی سعی پیہم وجہد مسلسل کا منہ بولتا ثبوت ہے. اللہ تعالیٰ پر یقین ہے کہ یہ منصوبہ جلد حقیقت قالب میں ڈھل جائے گا ان شاء اللہ. اردو رسائل پر کام کی کچھ تفصیل رسم افتاء سے متعلق رسائل پر جس محنت، دقت نظر اور عرق ریزی کے ساتھ کام کیا گیا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ أجلى الإعلام أن الفتوى مطلقاً على قول الإمام اور جلي النص في أماكن الرخص کی تحقیق میں دو دو مطبوعہ نسخوں سے تقابل کیا گیا، جبکہ الفضل الموهبي في معنى: إذا صحّ الحديث فهو مذهبي کی تحقیق میں تین مختلف نسخوں کو بنیاد بنایا گیا. مزید برآں، ان تمام نسخوں کے رموز بھی قاری کی سہولت کے لیے متعین کر دیے گئے ہیں، تاکہ اختلاف نسخ کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے. تحقیق متن کے ساتھ کتاب کی تصحیح، ترتیب، تسہیل اور عصری تحقیقی تقاضوں کی رعایت کے ساتھ متعدد قابل قدر خدمات بھی انجام دی گئی ہیں، جن میں نمایاں طور پر درج ذیل امور شامل ہیں: جدید قواعد کتابت کے مطابق مکمل کمپوزنگ، نیز علامات ترقیم اور پیرا بندی کا اہتمام. کتاب میں موجود لفظی اور املائی اغلاط کی حسب استطاعت اصلاح. اردو رسائل میں تمام عربی عبارات پر مکمل اعراب کا اہتمام. آیات قرآنیہ، احادیث مبارکہ اور اقوال ائمہ کی مکمل تخریج. مفہوم کی وضاحت کے لیے حسبِ ضرورت بعض توضیحی عبارات کو [ ] کے درمیان درج کرنا. مشکل الفاظ اور دقیق اصطلاحات کی تشریح کے لیے مفید حواشی و تعلیقات کا اضافہ.

  • 5 авг.35из tariq9587

    باب رضویات میں اپنی نوعیت کا منفرد اور اولیں کام الحمد للہ! اس وقت اہل سنت میں فکری بیداری کی ایک خوش آئند لہر اٹھ رہی ہے. اس بیداری کا ایک اہم اور روشن پہلو "یاد رفتگاں ضائع مکن"، بالفاظ دیگر اسلاف شناسی ہے. اب یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ اسلاف کے علمی و فکری ورثے کو محض تبرک اور تذکرے کی حد تک محدود رکھنے کے بجائے اس پر علمی، فنی اور تحقیقی زاویوں سے ازسرنو کام کیا جائے. ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اسلاف شناسی پر مشتمل ہمارا موجودہ ذخیرہ علمی و فنی اعتبار سے کس قدر وزنی اور مؤثر ہے؟ اس میں اہل عرب وعجم کے لیے عصر حاضر کے فکری و عملی مسائل کا حل کس حد تک موجود ہے؟ اور کہاں یہ محض معلومات کے انبار اور اقوال کے مجموعے کی صورت اختیار کر گیا ہے؟ ان سوالات کی کوکھ سے اسلاف شناسی کا ایک جدید اور عصری ماڈل تشکیل پانے لگا کہ اسلاف امت کو صرف قابل احترام شخصیات کے طور پر نہ دیکھا جائے، بلکہ انہیں علمی و فکری رول ماڈل مان کر ان کے علوم وفنون، تحقیقات وتدقیقات اور مناہج وافکار کو منظم انداز میں نئی نسل تک منتقل کیا جائے، تاکہ اہل سنت فکری و فنی لحاظ سے دنیا کی قیادت کا فریضہ انجام دے سکیں.    اس تناظر میں دار الملک کی خدمات خصوصی توجہ کی مستحق ہیں، جو ۲۰۱۷ء میں بروز جمعہ بریلی شریف سے اپنے علمی سفر کا آغاز کرنے والا ایک منفرد تحقیقی واشاعتی ادارہ ہے. اس ادارے نے نہایت مختصر مدت میں برصغیر کے علماء، بالخصوص سیدی حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے علمی اور تحقیقی کارناموں کو اہل عرب کے سامنے معیاری انداز اور عصری اسلوب میں پیش کر کے ایک نمایاں خلا کو پر کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے. لمبے عرصے سے یہ احساس شدت اختیار کر چکا تھا کہ امت مسلمہ کی فکری کشتی کو تلاطم افکار سے نکالنے کے لیے سیدی حضور اعلیٰ حضرت کے عظیم علمی و فنی ورثے کو جدید طریقے سے عرب دنیا تک منتقل کیا جائے، تاکہ اہل عرب آپ کے مقام و مرتبہ، علمی وسعت، فقہی بصیرت، حدیثی مہارت اور تجدیدی خدمات سے براہ راست آگاہ ہو سکیں، اور وہ خلا جو آپ اور اہل عرب کے درمیان پیدا ہوگیا، اسے پر کیا جا سکے. یہی وجہ ہے کہ بانی ادارہ حضرت مولانا شیخ شیراز احمد ملک نظامی ازہری حفظہ اللہ کی تمنائے شوق ہر آن قوت فکر وعمل کو مہمیز دیتی رہتی ہے، جس کے نتیجے میں ہر سال عرس رضوی کے مبارک موقع پر دیدہ زیب اور مخصوص نور و نگہت کے ساتھ اپنے حسین خوبصورت اور دلکش انداز میں ایک قیمتی علمی خزانہ بزم علماء کی زینت بنتا رہتا ہے، جس سے  ایک طرف مسلک اعلی حضرت کی خدمات بھی ہو رہی ہوتی ہے، وہیں دوسری طرف سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت بھی پیش ہو جاتا ہے، جس سے یہ پیغام دینا بھی پیش نظر ہوتا ہے کہ عرس کا مقصد صاحب عرس کی تعلیمات کو عصری منہج کے مطابق زیادہ سے زیادہ عام کرنا ہونا چاہیے. اب آپ گزشتہ عرس رضوی کے پرنور منظر کو اپنی نگاہوں میں لائیے تو آپ کو علمائے عرب کے قرطاس وقلم کی میز پر ایک گلدستہ روح افزا چھ جلدوں کی حسین صورت میں اپنی علمی عظمت واشاعتی حسن کے ساتھ باذوق حضرات کی نگاہوں کو خیرہ کرتا ہوا نظر آئے گا، اس گلدستے کا پہلا مجموعہ چار جلدوں پر مشتمل ہے، القول المرتضي في ترجمة الإمام أحمد رضا، جهود الامام البريلوي وآثاره في التفسير، جهود الامام البريلوي وآثاره في الحديث وعلومه، جهود الامام البريلوي وآثاره في إصلاح الأمة. اور دوسرا مجموعہ جو کہ پانچویں جلدی ہے مجموعة خطبات وأسانيد وإجازات کے نام سے  اور تیسرا مجموعہ جو کہ چھٹی جلد ہے بنام مجموعة رسائل في رسم الإفتاء اپنی برکتوں کے ساتھ شائع ہوئے، جنہوں نے عرب علمی حلقوں میں رضویات کے تعارف کی ایک نئی راہ ہموار کی. پانچویں جلد پر انجام دیا جانے والا کام اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد ہے، بلکہ باب رضویات میں اسے ایک اوّلین اور امتیازی کاوش قرار دیا جانا زیادہ مناسب ہے، چنانچہ مقدمہ کتاب میں خود اس کی انفرادیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے: هذه المجموعة تكون بإذن الله تعالى مفيدة جداً؛ لأنها لم تطبع من قبل بهذا الشكل، فالآن تُنشر لأول مرة بهذا الترتيب من قبل مؤسستنا العلمية دار الملك. اس مجموعہ کے افتتاحی خطبہ میں سیدی حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے ایک سو پچہتر رسائل کے نام یکجا کیے گئے ہیں، جو اس مجموعہ کے مرتب کی دقت نظر اور غیر معمولی علمی صلاحیت کا بین ثبوت ہیں. یہ مجموعہ چار ابواب پر مشتمل ہے. پہلے باب میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے رسائل سے ماخوذ ایک سو تیس افتتاحی خطبات جمع کیے گئے ہیں، ان خطبات میں وارد قرآنی آیات  واحادیث طیبہ کی تخریج وتحقیق اور أعلام وأسماء کی جامع ومختصر تشریح حواشی میں نہایت عمدہ انداز سے پیش کی گئی ہے، جس نے اس باب کی علمی افادیت کئی گنا بڑھا دی ہے.

  • 29 июл.65из tariq9587

    مسلمانوں کی وہ پاک دامن بیٹیاں جو تیس، پینتیس برس کی عمر کو پہنچ جاتی ہیں، لیکن پھر بھی حرام کے قریب نہیں جاتیں، شادی میں تاخیر کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں، مثلاً: - مالی تنگی - ظاہری حسن کی کمی - صرف اپنی برادری میں شادی کرنے کی شرط - یا خاندان سے باہر رشتہ نہ کرنا ان وجوہات کی بنا پر وہ زیادہ عمر ہونے کے باوجود اپنے گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں، صرف اس امید پر کہ کوئی عزت کے ساتھ نکاح کرکے انہیں اپنے گھر لے جائے گا۔ ورنہ گناہ کے دروازے تو ان کے لیے بھی کھلے ہوتے ہیں، اور آج کے دور میں گناہ کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں بھی جو اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے رکھے، یہ بہت بڑی بات ہے۔ یہی تو ایمان والی، اللہ سے ڈرنے والی اور عزت دار ماں باپ کی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ ورنہ آج پندرہ، سولہ سال کی عمر کی بعض لڑکیاں بھی خود کو گناہوں سے محفوظ نہیں رکھ پاتیں۔ لہٰذا اپنی اولاد پر ظلم نہ کریں۔ اگر اپنی برادری میں مناسب رشتہ نہیں مل رہا تو کلمۂ اسلام کی بنیاد پر رشتہ کر دیں۔ اگر لڑکا کم آمدنی والا ہو تب بھی اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ ہر انسان اپنے نصیب کا رزق ہی کھاتا اور پہنتا ہے۔ آخر کیوں اپنی بیٹیوں کی قیمتی عمر ضائع کر رہے ہیں ؟؟ اگر آپ اس پوسٹ سے متفق ہیں تو پوسٹ کو لاٸک اور شیٸر کریں ۔ شکریہ

  • 25 июл.76из tariq9587

    (١) مطلقاً حرام و ناجائز ہے: حتی کہ اگر نہر جاری میں وضو کرے یا نہائے اس وقت بھی بلاوجہ صرف گناہ و ناروا ہے، یہ قول بعض شافعیہ کا ہے جسے خود شیخ مذہب شافعی سیدنا امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں نقل فرما کر ضعیف کر دیا اور اسی طرح دیگر محققین شافعیہ نے اس کی تضعیف کی. (٢) مکروہ ہے: اگر چہ نہر جاری پر ہو اور کراہت صرف تنزیہی ہے، اگر چہ گھر میں ہو یعنی گناہ نہیں صرف خلاف سنت ہے، حلیہ وبحر الرائق میں اس کو اوجہ اور امام نووی نے اظہر اور بعض دیگر ائمہ شافعیہ نے صحیح کہا. (٣) مطلقا مکروہ تک نہیں: نہ تحریمی نہ تنزیہی صرف ایک ادب و امر مستحب کے خلاف ہے، بدائع امام ملک العلما ابوبکر مسعود وفتح القدیر امام محق علی الاطلاق ومنیۃ المصلی وغیرہا میں ترک اسراف کو صرف آداب ومستحبات سے شمار کیا، سنت تک نہ کہا اور مستحب کا ترک مکروہ نہیں ہوتا بلکہ سنت کا (ترک مکروہ ہوتا ہے). (٤) نہر جاری میں اسراف جائز کہ پانی ضائع نہ جائے گا اور اس کے غیر میں مکروہ تحریمی. مدقق علائی نے درمختار میں اس کو مختار رکھا علامہ مدقق عمر بن نجیم نے نہر الفائق میں کراہت تحریم ہی کو ظاہر کہا اور اسی کو امام قاضی خان و امام شمس الائمہ حلوانی و غیرہما اکابر کا مفاد کلام قرار دیا. (ان اقوال پر طویل محققانہ بحث فرمانے کے بعد تقدیر شرعی (تثلیث) سے زیادہ پانی ڈالنے کی مختلف صورتیں بیان فرمائیں اور پھر مذکورہ بالا چاروں اقوال کے محامل نہایت نفیس انداز میں واضح فرمائے) چنانچہ فرماتے ہیں: تقدیر شرعی سے زیادہ پانی ڈالنا سہوا ہوگا یا بحال شک یا دیدہ و دانستہ. اول یہ کہ تین بار استیعابا دھو لیا اور یاد رہا کہ دو ہی بار دھویا ہے، اور دوم یہ کہ مثلاً دو یا تین میں شبہ ہو گیا، یہ دونوں صورتیں یقینا ممانعت سے خارج ہیں. اور دیدہ ودانستہ کسی غرض صحیح وجائز کے لیے ہوگا یا غرض فاسد وممنوع کے لیے یا محض بلا وجہ، بر تقدیر اول کسی طرح اسراف نہیں ہو سکتا، نہ اس سے منع کی کوئی وجہ، عام ازیں کہ وہ غرض مطلوب شرعی ہو جیسے: منہ سے ازالہ بدبو یا پان یا چھالیہ کے ریزوں کا اخراج یا حسب بیانات سابقہ وضو علی الوضو کی نیت یا غرض صحیح جسمانی جیسے: میل کا ازالہ یا شدت گرما میں تحصیل برودت. تو اب نہ رہیں مگر دو صورتیں اور یہی ان اقوال اربعہ میں زیر بحث ہیں. ان صورتوں میں کی اول یعنی غرض فاسد و ناروا کے لیے تقدیر شرعی پر زیادت مطلقا ممنوع و ناجائز ہے اگر چہ پانی اصلا ضائع نہ ہو. قول اول کا یہی محمل ہے اور حق صریح بلکہ مجمع علیہ ہے اور اس پر حمل کے لیے ہمارے علماء نے حدیث ہشتم ( جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر عضو تین تین بار دھویا پھر فرمایا : هكذا الوضوء فمن زاد على هذا أو نقص فقد اساء وظلم = وضو اسی طرح ہے تو جس نے اس پر بڑھایا گھٹایا تو یقینا اس نے برا کیا اور ظلم کیا) کو صورت فساد اعتقاد پر محمول فرمایا یعنی جبکہ جانے کہ تقدیر شرعی سے زیادہ ہی میں سنت حاصل ہوگی. ظاہر ہے کہ اس نیت فاسدہ سے نہر نہیں سمندر میں ایک چلو بلکہ ایک بوند زیادہ ڈالنا اسراف وگناہ ناجائز ہوگا کہ اصل گناہ اس نیت میں ہے، گناہ کی نیت سے جو کچھ کرے گا سب گناہ ہوگا. رہی صورت اخیرہ کہ محض بلا وجہ زیادت ہو، اوپر واضح ہو لیا کہ یہاں تحقیق اسراف وحصول ممانعت اضاعت پر موقوف ہے تو اس صورت میں دیکھنا ہوگا کہ پانی ضائع ہوا یا نہیں، اگر ہوا مثلا زمین پر بہہ گیا اور کسی مصرف میں کام نہ آیا تو ضرور اسراف ناروا ہے. اور یہی محمل قول چہارم ہے اور یقینا صواب و صیح بلکہ متفق علیہ ہے، کون کہے گا کہ بے کار پانی ضائع کرنا جائز و روا ہے. باقی رہی ایک شکل کہ زیادت ہو تو بلا وجہ مگر پانی ضائع نہ ہو. مثلا: بلا وجہ چوتھی بار پانی اس طرح ڈالے کہ نہر میں گرے یا کسی پیڑ کے تھالے میں جسے پانی کی حاجت ہے یا کسی برتن میں جس کا پانی اسپ و گاؤ وغیرہ جانوروں کو پلایا جائے گا یا گارا بنانے کے لیے تغار میں پڑے گا یا زمین ہی پر گراگر موسم گرما ہے چھڑکاؤ کی حاجت ہے یا ہوا سے ریتا اڑتا ہے اس کے دبانے کی ضرورت ہے اور انہیں کے مثل اور اغراض صحیحہ جن کے سبب پانی ضائع نہ جائے، یہ غرضیں اگر چہ صحیح وروا ہیں، جن کے سبب اضاعت نہ ہوگی مگر اعضا پر یہ پانی مثلاً چوتھی بار ڈالنا محض بے وجہ ہی رہا کہ یہ غرضیں تو برتن میں ڈالنا یا زمین پر بہانا چاہتی ہیں، عضو پر ڈال کر گرانے کو ان میں کیا دخل تھا، لاجرم وہ عبث محض رہا مگر پانی ضائع نہ ہوگیا تو اسراف کی کوئی صورت متحقق نہ ہوئی اور اس کے ممنوع و ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں یہی قول دوم وسوم کا محمل ہے اور قطعاً مقبول و بے خلل ہے بلکہ اتفاق و اطباق کا محمل، اب نہ باقی رہی مگر ان دونوں قولوں پر نظر وہ ایک مقدمہ کی تقدیم چاہتی ہے.

  • 25 июл.52из tariq9587

    رد المحتار کے اسراف فی الوضو کی تفہیم فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں آج کئی دنوں کے بعد سیدی حضور مفتی فیضان المصطفیٰ قادری حفظہ اللہ کے نایاب درس رد المحتار میں شرکت کر کے علمی جواہر سمیٹنے کی سعادت نصیب ہوئی، باادب ہو کر آپ کے درس میں شریک ہونے والے کی کیفیت کچھ یوں ہوتی ہے: ان کی محفل سے لوٹنے والے لوٹ کر ہر بہار پھرتے ہیں البتہ افسوس کہ اس آن لائن درس میں بعض ناقدرے بھی شریک ہو جاتے ہیں، جو بے ادبی اور غیر سنجیدہ رویّے سے علمی ماحول کو پراگندہ کر دیتے ہیں. بہرحال، آج رد المحتار کے درس میں فضول خرچی پر نہایت مفصل اور وقیع بحث ہوئی، جس میں فقہائے کرام کے متعدد اقوال ذکر کیے گئے. اسی دوران ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ سیدی حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے رسالہ «بركات السماء في حكم إسراف الماء» کی روشنی میں اس بحث کا ایک مختصر خلاصہ پیش کر دیا جائے، تاکہ ساتھیوں کے ساتھ دیگر باذوق بھی اس سے مستفید ہو سکیں. سیدی حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے وضو میں پانی کے استعمال کے احکام پر نہایت محققانہ کلام فرمایا ہے، ابتدا میں اسراف اور اس کے مراتب، ان کی تعریفات اور مثالیں ذکر فرمائیں، پھر ان اصولوں کو وضو میں پانی خرچ کرنے کی مختلف صورتوں پر منطبق کرتے ہوئے احکام بیان فرمائے چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں: مراتب پانچ ہیں: (١) ضرورت، (٢)حاجت (٣) منفعت (٤) زینت (٥) فضول. ضرورت: یہ کہ کھانے میں لقیمات يقمن صلبه چھوٹے چھوٹے چند لقمے کہ سد رمق کریں، ادائے فرائض کی طاقت دیں، لباس میں خرقة تواری عورته اتنا ٹکڑا کہ ستر عورت کرے. حاجت: یہ کہ بے اُس کے ضرر ہو، جیسے مکان اتنا کہ گرمی جاڑے برسات کی تکلیفوں سے بچا سکے، کھانا اتنا جس سے ادائے واجبات وسنن کی قوت ملے، کپڑا اتنا کہ جاڑا روکے اتنا بدن ڈھکے جس کا کھولنا نماز و مجمع ناس میں خلاف ادب وتہذیب ہے، مثلاً: خالی پاجامے سے نماز مکروہ تحریمی ہے. یونہی تنہا پاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والا ساقط العدالہ، مردود الشهادہ خفيف الحرکات ہے. یہ مسئلہ خوب یاد رکھنے کا ہے کہ آج کل اکثر لوگوں میں اس کی بے پرواہی پھیلی ہے خصوصاً وہ جن کے مکان سر راہ ہیں. منفعت: یہ کہ بغیر اس کے ضرر تو موجود نہیں مگر اس کا ہونا اصل مقصود میں نافع و مفید ہے، جیسے: مکان میں بلندی ووسعت، کھانے میں سرکہ چٹنی سیری، لباس نماز میں عمامہ. زینت: یہ کہ مقصود سے محض بالائی زائد بات ہے جس سے ایک معمولی افزائش حسن وخوشنمائی کے سوا اور نفع وتائید غرض نہیں، جیسے: مکان کے دروں میں محرابیں، کھانے میں رنگتیں کہ قورمہ خوب سرخ ہو، فرنی نہایت سفید براق ہو، کپڑے میں بخیہ باریک ہو قطع میں سج نہ ہو. فضول: یہ کہ بے منفعت چیز میں حد سے زیادہ توسع و تدقیق، جیسے: مکان میں سونے چاندی کے کلس، دیواروں پر قیمتی غلاف، کھانا کھانے پر میوے شیرینیاں، پائچے گٹوں سے نیچے. اول مرتبہ فرض میں ہے، دوم واجب و سنن مؤکده، سوم وچہارم سنن غیر مؤکدہ سے مستحبات وآداب زائدہ تک، پنجم باختلاف مراتب مباح ومکروہ تنزیہی و تحریمی سے حرام تک. طہارت میں ان مراتب کا منطبق کرنا: آپ فرماتے ہیں: انہیں مراتب کو طہارت میں لحاظ کیجیے تو جس عضو کا جتنا دھونا فرض ہے اس کے ذرے ذرے پر ایک بار پانی تقاطر کے ساتھ اگر چہ خفیف، بہہ جانا مرتبہ ضرورت میں ہے کہ بے اس کے طہارت ناممکن اور تثلیث مرتبہ حاجت میں ہے یونہی وضو میں منہ دھونے سے پہلے کی سنن ثلاث کہ یہ چاروں مؤکدات ہیں اور ان کے ترک میں ضرر، (من زاد أو نقص فقد تعدی وظلم جس نے اس سے زیادہ یا کم کیا تو اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا ) اور ہر بار پانی بفراغت بہنا جس سے کمال تثلیث میں کوئی شبہ نہ گزرے اور ہر ہر ذرہ عضو پر غور وتامل کی حاجت نہ پڑے یہ منفعت ہے اور غرہ وتحجیل کی اطالت (چہرہ، ہاتھ اور پاؤں جتنا فرض ہے اس سے تھوڑ ا زیادہ دھونا) زینت اور کسی عضو کو قصداً چار بار دھونا فضول. پھر دقیق علمی بحث کے بعد وضو میں اعضاء کو تین مرتبہ سے زیادہ دھونے کے متعلق سیدی حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے فقہائے کرام کے چار مختلف اقوال نقل فرمائے، بعدہ اپنے مخصوص محققانہ انداز میں ان کے درمیان ایسی نفیس تطبیق دی کہ ہر قول کا الگ محمل واضح ہو گیا، یوں بظاہر مختلف اقوال میں کوئی تعارض باقی نہ رہا، بلکہ ہر ایک کو اس کے مناسب مقام پر قرار دے کر اختلاف کو اتفاق کا رنگ عطا فرما دیا، چنانچہ اقوال ائمہ ذکر کرتے ہوئے خود فرماتے ہیں: ملاحظہ کلمات علماء سے اس میں چار قول معلوم ہوتے ہیں، ان میں قوی تر، دو ہیں اور فضل الہی سے امید ہے کہ بعد تحقیق وحصول توفیق اختلاف ہی نہ رہے وبالله التوفیق.

  • 25 июл.441из tariq9587

    الحمد للہ ثم الحمد للہ فقیر کی ذاتی نوری لائبریری میں علم حدیث کی عظیم الشان اور مایۂ ناز تصنیف "نصب الرایة لأحاديث الهداية" بھی اپنی پوری علمی شان و شوکت کے ساتھ جلوہ گر ہو چکی ہے، یہ وہ گراں قدر علمی خزانہ ہے جس میں علامہ جمال الدین زیلعی رحمہ اللہ نے الہدایہ میں مذکور (١) ہر حدیث کے اصل مراجع، متعدد طرق، شواہد، متابعات اور مختلف اسانید کو جمع کیا ہے، اور (٢) صرف تخریج پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال نقل کر کے رواۃ کے احوال اور حدیث کے درجے پر بھی گفتگو کی ہے، (٣) جہاں ضرورت پیش آئی وہاں مخالف دلائل بھی ذکر کیے، پھر ان کا علمی جائزہ لے کر راجح موقف کی وضاحت کی، (٤) ایک اہم بات یہ کہ فقہ حنفی اور حدیث کے درمیان مضبوط ربط کا بہترین شاہکار جو اس اعتراض کا عملی جواب ہے کہ فقہ حنفی کی بنیاد قیاس پر ہے، (٥) بعد کے محدثین اور فقہاء نے اسے تخریج حدیث کے باب میں بنیادی مرجع قرار دیا، فقہ حنفی اور علم حدیث کے تعلق کو سمجھنے والے ہر طالب علم کے لیے یہ ایک لازمی مرجع کی حیثیت رکھتی ہے. اللہ تعالیٰ مطالعے کی توفیق اور اس کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے آمین طارق محمود رضوی بروز جمعہ

  • 22 июл.573из tariq9587

    تین سال قبل لکھی گئی ایک ایمان افروز تحریر مزاح ہو تو ایسا! کہ مسکرایا بھی جائے اور شریعت کی خلاف ورزی بھی نہ کی جائے    کچھ دنوں قبل ایک تحریر نظروں سے گزری، جس میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے مروی حدیث پاک بیان کی گئی تھی: روحوا القلوب ساعة وساعة (زهر الفردوس، رقم الحدیث: ١٥٩٦،ج:٤/ص:٥٥٥) اپنے دلوں کو وقتاً فوقتاً تازگی بخشا کرو! یعنی ہر وقت سنجیدہ نہ رہا کرو ہلکا پھلکا مزاح کرنا مزاجِ اسلام کا حصہ ہے! یہاں تک تو کوئی بات قابل گرفت نہیں لیکن صاحب تحریر نے مزاح کے لیے جس چیز کا سہارا لیا وہ ناجائز وحرام تھی، اور اس کی حرمت اور عدم جواز مجوزین تصویر کے یہاں بھی مسلم ہے، یہ ایک جاندار کی ویڈیو تھی، جس میں بے ستری بھی تھی اور قہقہہ بھی.   بہر کیف اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ شریعت کی حدود میں رہ کر مزاح کرنا کوئی مشکل کام نہیں.    واقعہ کچھ یوں ہے کہ عالم اسلام کی سب سے زیادہ برگزیدہ اور محتاط شخصیت، استاذ الاساتذہ، ممتاز الفقہا حضور محدث کبیر صاحب استاذ محترم مفتی فیضان المصطفی قادری صاحب کی گزارش پر ٢/محرم الحرام ١٤٤٥ھ بروز جمعہ عقیدے کے اعتبار سے لکھنؤ کی گلابی سرزمین پر مفتی صاحب قبلہ کے قائم کردہ عظیم الشان عالمی ادارے جامعہ امام اعظم ابو حنیفہ میں تشریف لائے، تقریباً چار گھنٹے حضور ممتاز الفقہا کا قیام رہا، فقیر ایک لمحہ کے لیے بھی اس دوران حضرت کی خدمت گزاری سے الگ نہ ہوا اور وافر مقدار میں فیض حاصل کیا؛ تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں    حضرت نے ناشتے کے بعد آرام کیا، آرام وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد حضرت نے دریافت فرمایا: کیا کرنا ہے؟ فقیر نے عرض کیا حضور! استاذ محترم کی خواہش کے مطابق بچوں کو نصیحت کرنا ہے، تو حضرت نے مسکراتے ہوئے فرمایا: اس دور میں بَچُّوں اور چَچُّوں دونوں کو نصیحت کی ضرورت ہے.    پھر حضرت نے چالیس منٹ احادیث سے مدلل دلوں کو تازگی بخشتے ہوئے ناصحانہ خطاب فرمایا، اس میں اذہان کو جو سرور و انبساط ملا وہ حاضرین کا ہی حصہ ہے، امام کے سجدہ سہو والا واقعہ تو کون بھول سکتا ہے!    پھر جب حضرت تشریف لے جانے لگے تو گاڑی میں بیٹھنے کے بعد پیچھے تین لوگوں کی جگہ تھی، جس میں حضرت کے صاحبزادے مولانا أبو یوسف صاحب ، حضور فقیہ ملت کے پوتے مولانا ارشد صاحب تشریف فرما ہوئے اور فقیر کو بھی حضرت کو لکھنؤ کے ائیر پورٹ تک چھوڑنے کا موقع میسر آیا؛ درد کے دل کو بنایا مخزن فوارۂ نور میری تاریکیٔ قسمت کے اجالے ساقی نے     تو ہم تین لوگوں کے بیٹھنے کے بعد ایک اور صاحب بیٹھنا چاہتے تھے لیکن جگہ تھی نہیں کہ کچھ گفت وشنید ہوئی تو حضرت کے کانوں تک آواز پہنچی تو حضرت نے فرمایا: ایک صاحب گاڑی کی ڈگی میں بیٹھ جائیں.   یہ ہے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے فرمان: روحوا القلوب ساعة وساعة پر عمل کہ مزاح بھی فرمایا اور یہ پیغام دیا کہ شریعت کی حدود میں آپ جس طرح چاہیں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لائیں. ہمیں مل گیا ہے ترا آستانہ کہیں اب نہ آنا کہیں اب نہ جانا مقدر سے بگڑا ہو جس کے زمانہ یہاں اپنی بگڑی وہ قسمت بنا لے اللہ رب العزت حضرت کا سایہ تادیر قائم رکھے اور عالمی ادارے جامعہ امام اعظم ابو حنیفہ کو دن گیارہویں اور رات بارہویں ترقیاں عطا فرمائے آمین ثم آمین. طارق محمود رضوی     ١٤٤٥/٠١/٠٢ء    ٢٠٢٣/٠٧/٢١ء

  • 21 июл.63из tariq9587

    Saif e Makhdoomi bar gardan e tafzeeli ............................... Eemaan ke liye shert hai is baat ki tasdeeq Har amr mein Awwal hain faqat Hazrate SIDDIQUE Hain A,alam o Ashja, bhi wo hi Afzal o Ashraf Inkaar kare jo bhi wo hi Faasiq o ZINDEEQ .......................................................... Risaala Qabriya.... Huzoor Makhdoom e Simnaan .......................................................... سیف مخدومی بر گردن تفضیلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایماں کے لئے شرط ہے اس بات کی تصدیق ہر امر میں اول ہیں فقط حضرت صدیق ہیں اعلم و اشجع بھی وہ ہی افضل و اشرف انکار کرے جو بھی وہ ہی فاسق زندیق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسالہ قبریہ ۔۔۔حضور مخدوم سمناں

  • 19 июл.74из tariq9587

    سینکڑوں ارمان ہیں کچھ فکر تنہائی نہیں یاد جاناں میں یہاں کب محفل آرائی نہیں الحمد للہ نوری لائبریری میں یہ علمی خزانہ شامل ہو چکا ہے؛ ١- الكفاية في علم الرواية — للخطيب البغدادي (ت ٤٦٣هـ) اصول حدیث اور آدابِ روایت پر لکھی گئی بنیادی کتاب ہے، اس میں محدثین کے مناہج پر تفصیلی بحث ہے، اس سے بعد کے ائمۂ اصول حدیث نے بھرپور استفادہ کیا. ٢- مقدمة ابن الصلاح في علوم الحديث — لابن الصلاح (ت ٦٤٣هـ) علوم حدیث کی مشہور ترین کتاب، جس میں تقریباً پینسٹھ انواع حدیث کو منظم انداز سے بیان کیا گیا ہے، اور بعد کی بیشتر تصانیف کی اساس ہے. ٣- الطبقات الكبرى — للإمام شعراني (ت ٩٧٣هـ) اولیائے کرام اور اہل تصوف کے تراجم پر مشتمل معروف کتاب، جسے حروف تہجی کی ترتیب پر جمع کیا گیا ہے، یہ صوفیانہ سوانح کا اہم ماخذ ہے. ٤- الطبقات الصغرى — للإمام شعراني (ت ٩٧٣هـ) اہل اللہ کے مختصر حالات و مناقب پر مشتمل کتاب، جو الطبقات الكبرى کا مختصر نمونہ ہے. ٥- المزهر في علوم اللغة وأنواعها — لجلال الدين السيوطي (ت ٩١١هـ) علوم لغت پر لکھی گئی جامع کتاب ہے، اس کی ترتیب علوم حدیث کے منہج پر ہے، اس میں لغت کی تدوین، عربی زبان کی خصوصیات، مترادفات، مشترکات، معرّب، اشتقاق، لہجات اور زبان سے متعلق متعدد علوم و فنون کو نہایت علمی انداز میں بیان کیا گیا ہے، یہ عربی لغت کے طلبہ اور محققین کے لیے ایک بنیادی مرجع کی حیثیت رکھتی ہے. طارق محمود رضوی

  • 19 июл.62из tariq9587

    видео или голосовое, без подписи

  • 16 июл.94из tariq9587

    باسمہ سبحانہ و تعالیٰ المدد یا غوث اعظم دستگیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا لعنت کرے گستاخ تفضیلی کی ظلمت پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوشل میڈیا کا دور ہے، اہلسنت کی محافل سے احباب آشنا کرنے کا احسان کرتے رہتے ہیں ۔ ان کے نیک جذبات کو ہزاروں سلام ۔ ایک محفل ہے، ممکن ہے صوبہ بہار میں کہیں انعقاد پذیر ہو، خطابت کی گوہر افشانی غالباً کوئی منعمی لاحقہ سے مشہور سفید ریش پورے ساٹھ سال سے زیادہ کے بوڑھے شیخ صاحب فرما رہے ہیں ۔ منعمی صاحب غالباً سحر پروفیسری کے بھی شکار ہیں ۔ پروفیسر ہوں اور سر سید کی کریلا اور نیم چڑھا والی دو آتشہ نہ شامل ہو تو ذوقِ رندی کو مستوں سے داد کیسے ملے ۔ خدا بہتر جانے منکر نکیر پر پروفیسری کا رعب کیسے جھاڑیں گے ۔ شاید بے حساب خلد خامنئ جانے کا شوق فراواں ہے ۔ مبارکباد ایسے جذبۂ دروں پر ۔ موصوف آیت کریمہ ۔۔۔لن تنالوا البر حتیٰ تنفقوا ۔۔۔۔پہ نکتہ آفرینی کے گل کھلا رہے ہیں کہ اس کا کامل ترین انطباق حضرت مولیٰ علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کی ذات والا صفات پر ہوتا ہے کہ اپنی پسندیدہ مرغوب کا انفاق فی سبیل اللہ تین بار فرمایا ۔ منعمی کہانی سے پہلے ناظرین خود وقت کی قربانی دے کر تفاسیر کی ورق گردانی فرما لیں کہ نزول آیت کے بعد کسی نے پسندیدہ باندی آزاد کردی کسی نے اپنا گھوڑا صدقہ فرما دیا ۔ سب سے آگے سب سے اول حضرت سیّدنا مولیٰ ابو طلحہ انصاری نظر آتے ہیں کہ اپنا پسندیدہ قیمتی باغ راہ خدا میں خرچ کر دیا ۔۔ اب منعمی کہانی سنیۓ ۔ موصوف فرماتے ہیں کہ حضرت صدیق کی خلافت کا معاملہ آیا، مولیٰ علی نے اپنی پسندیدہ کا انفاق فرمایا ۔ خلافت فاروقی تسلیم کرنے کا مرحلہ آیا، پسندیدہ کو خرچ کر دیا ۔ انتخاب عثمان کی صورت حال در پیش آئی، اپنی پسندیدہ کو قربان کر دیا ۔۔ گویا مولیٰ علی نے تین بار پسندیدہ کو طلاق دے دی ۔۔ ننگ خلائق راقم الحروف کا عقل منعمی پہ نوحہ ۔۔۔ خلافت صدیقی تک حضرت مولیٰ علی اپنے جذبۂ انفاق کو روکے رکھا اور آیت مبارکہ پر عمل سے جانے کیوں خود محروم رکھا ۔ خدا بچائے ایسے باطل خیال سے ۔آمین پھر برسوں کچھ خرچ بھی کیا ہو تو کم کم پسندیدہ ۔ پسندیدہ کے انفاق کے لیۓ اعلان خلافت فاروقی کا انتظار کرتے رہے، اور کمال انفاق سے جان بوجھ کر خود کو محروم رکھا ۔۔استغفر اللہ استغفراللہ برا ہو مولانا احمد رضا خاں بریلوی اعلیٰ حضرت سے خود ارادی دوری کا اور لعنت ہو منعمی فکر کی نحوست پر کہ انتخاب عثمان کے معاملے میں حضرت مولیٰ علی با قاعدہ مجلس شوریٰ میں شامل رہے اور بسم اللّٰہ ہی میں پسندیدہ کو طلاق نہ دی بلکہ پسندیدہ کی پسند کی جوت جگائے رکھا اور اعلان خلافت عثمان کے بعد منعمی کو خواب بتایا کہ میں نے تیسری بار ۔۔۔لن تنالوا البر حتیٰ تنفقوا ۔۔۔کی عملی تفسیر کا مظاہرہ فرمایا ۔ معاملہ اصل نسل صفا وجہ وصل خدا کی ذات اقدس کا ہے اس لۓ دست و قلم و قرطاس لرزش میں ہے ورنہ اس منعمی ضلالت و ذلالت پر بے لاگ لکھتا ۔۔حضرت عثمان والے معاملے میں تو معاذاللہ معاذاللہ منعمی کے مطابق حضرت مولیٰ علی نے کامل منافقانہ روش کا اظہار فرمایا، استغفراللہ العظیم منعمی امر خلافت کو سراسر مردار دنیا سے تعبیر کرتے نظر آرہے ہیں اور گونگے شیطان خواص کی صفوں میں بیٹھے بہ ذوق استحسان داد تبسم سے نواز رہے ہیں ۔ مولیٰ علی کو معاذاللہ تین بار کی طلاق شدہ ڈائن شوہر کش بس کی گانٹھ حرافہ ہی پسند آئی ۔ بالآخر شیر خدا خیبر شکن کو بوڑھی حرافہ نے زیر کر لیا ۔۔اللہ بچانے ایسے مکر و فریب کے تاجروں سے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم علی کی عظمتوں کو کور باطن خاک کر بیٹھا خدا لعنت کرے گستاخ تفضیلی کی ظلمت پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر بیت اللہ قادری ، مدینہ نگر بیجاپور کرناٹک ٧٤٨٣٨١٥٦٤٦

  • 15 июл.711из tariq9587

    ایک عظیم خزانہ دستیاب ہو گیا، مگر اسکیم کے ساتھ! فقیر کو اچھی طرح یاد یے کہ جب ثالثہ میں زیر تعلیم تھا، تب امام احمد رضا اکیڈمی سے چند کتابیں منگوائی تھیں، ہر کتاب کا سرورق اس قدر دیدہ زیب اور دل آویز تھا کہ نظر پڑتے ہی لبوں پر مسکراہٹ کے پھول کھل اٹھے تھے، مگر جیسے ہی کتاب کھول کر اندر کی کتابت پر نظر پڑی، وہ مسکراہٹ یوں غائب ہوگئی تھی جیسے گدھے کے سر سے سینگ. تقریباً آٹھ سال بعد آج پھر وہی کیفیت پیش آئی، فتاویٰ رضویہ شریف کی بتیس جلدوں کا عظیم خزانہ ہاتھ آیا تو سرورق کی رعنائی نے نگاہوں کو خیرہ کر دیا اور دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا، مگر جیسے ہی اندر کی کتابت پر نظر پڑی تو دل کی وہ تازگی ماند پڑ گئی، کتابت ایسی محسوس ہوئی جیسے چھوئی موئی کا پودا، جس پر ذرا سی نظر پڑتے ہی دل کی کلیاں مرجھا گئیں. بہرحال، ظاہری طباعت اپنی جگہ، اصل علمی سرمایہ اپنا مقام ہے. اس خوشی پر شکر بجا ہے کہ اب نوری لائبریری میں فتاویٰ رضویہ شریف کی بارہ جلدوں کے ساتھ بتیس جلدوں کا مکمل مجموعہ بھی شامل ہو گیا. فللہ الحمد والمنۃ طارق محمود رضوی

  • اتنا ضرور کما لینا چاہیے کہ جب کسی اچھی کتاب کو خریدنے کا دل چاہے تو قیمت دیکھ کر دل نہ رکے، اور علم کی طلب جیب کی تنگی کی محتاج نہ بنے، کیونکہ کتاب پر خرچ کیا جانے والا مال، خرچ نہیں بلکہ اپنی فکر، شخصیت اور مستقبل میں سرمایہ کاری ہے. تو میرے پیارے جس دن…

  • 8 июл.1321из tariq9587

    اتنا ضرور کما لینا چاہیے کہ جب کسی اچھی کتاب کو خریدنے کا دل چاہے تو قیمت دیکھ کر دل نہ رکے، اور علم کی طلب جیب کی تنگی کی محتاج نہ بنے، کیونکہ کتاب پر خرچ کیا جانے والا مال، خرچ نہیں بلکہ اپنی فکر، شخصیت اور مستقبل میں سرمایہ کاری ہے. تو میرے پیارے جس دن کتاب خریدنے سے پہلے قیمت سوچنی نہ پڑے، سمجھ لیجیے علم کی خدمت کے لیے اللہ نے وسعت عطا فرما دی. طارق محمود رضوی

  • 6 июл.1551из tariq9587

    ایک ہفتہ قبل قلم کی اہمیت وافادیت پر منعقدہ ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا، جہاں قلم کو تہذیبوں کا معمار، افکار کا امین اور امت کی علمی میراث کا محافظ قرار دیا گیا، پھر گزشتہ کل ایک درس میں شریک ہوا، جہاں مدرس صاحب نے فرمایا: اس مادیت پرستی کے دور میں قلم کی کوئی اہمیت نہیں رہی، بولا کرو، اصل اثر تقریر میں ہے، حالانکہ انہوں نے خود قلم وقرطاس کی طویل منزلیں طے کر کے یہ مقام حاصل کیا ہے. نتیجہ یہ نکلا کہ زندگی میں آپ کو ایک ہی مسئلے پر متضاد افکار رکھنے والی شخصیات ملیں گی، البتہ فیصلہ آپ ہی کو کرنا ہے کہ کس فکر کو اختیار کریں، کس شخصیت کی بات کو اپنے دل میں جگہ دیں، اور کس راستے کو اپنا کر اپنی زندگی میں واقعی چار چاند لگائیں. یاد رکھیے! بولنے والے لمحوں تک زندہ رہتے ہیں، مگر لکھنے والے صدیوں تک پڑھے جاتے ہیں. طارق محمود رضوی

  • 27 июн.1591из tariq9587

    کل بروز اتوار لکھنؤ کی علم وادب نواز سرزمین پر جامعہ امام اعظم ابو حنیفہ کے عظیم علمی و ادبی مشن ماہنامہ امام اعظم سے دنیائے اہلسنت کو روشناس کرایا جائے گا، اس علمی وادبی سیمینار میں ملک بھر سے ایک سے بڑھ کر ایک نامور شہسوار قلم اور انمول دانشور اپنی علمی و فکری رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوں گے، اور انہی اکابر کی موجودگی میں ماہنامہ امام اعظم ابو حنیفہ کا اجرا ہوگا. فقیر جامعہ کے تمام فارغین وفارغات اور زیر تعلیم طلبہ وطالبات سے پرخلوص گزارش کرتا ہے کہ اس تاریخی اور یادگار تقریب میں شرکت فرما کر اپنے علمی و ادبی ذوق کو جلا بخشیں، اور اگر حاضر ہو کر اس کے فیضان سے مستفید ہونا ممکن نہ ہو، تو کم از کم خود کو اس کے فیضان مطالعہ سے محروم نہ رکھیے. اس کے لیے ماہنامہ کی سالانہ ممبر شپ حاصل کیجیے، اس کی فیس اتنی معمولی ہے کہ روزانہ کے اعتبار سے ایک روپے سے بھی نہیں بنتی ہے، اور اگر چھ سو روپے والی سالانہ ممبرشپ اس نیت سے حاصل کریں کہ جامعہ کے اس عظیم علمی وتحقیقی مشن میں ہمارا بھی جگنو کی مانند ایک معمولی سا حصہ شامل ہو جائے، تو ان شاء اللہ اس دینی خدمت میں شریک ثواب ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی روحانی برکتوں سے بھی مالا مال ہوں گے، جبکہ یہ ممبرشپ بھی روزانہ کے حساب سے دو روپے سے کم ہے، مگر اس کے ذریعے ایک عظیم علمی کام میں ممد ومعاون ہونے کا شرف حاصل ہوگا. اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم مشن کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور نبیرۂ سیدی صدر الشریعہ خلیفۂ سیدی حضور تاج الشریعہ و سیدی حضور محدث کبیر سیدی حضور مفتی فیضان المصطفی قادری حفظہ اللہ کے دست وبازو بن کر مسلک اعلی حضرت کی خدمت کرتے رہنے کی سعادت نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین. طارق محمود رضوی https://whatsapp.com/channel/0029VaEknGm8vd1OtwQRwp0H

  • видео или голосовое, без подписи

  • 27 июн.120из tariq9587

    видео или голосовое, без подписи

The Sunni Way Youths Forum : Ballari — tgindex