tgindex
📚 FIKR E RAZA ✒

📚 FIKR E RAZA ✒

Статистика

AHLE SUNNAT KA BEBAAK TARJUMAN

Последний пост
3 авг.
Последнее чтение
15 авг.
Постов за неделю
0
Всего постов
28
Тип
открытый
Язык
ur
Категория
Религия (по похожим)
В каталоге с
13 авг.
Подписчики
824
+2 за 2 дн.
Сутки
0
0,00%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
68
28 постов
Вовлечённость
8,3%
к подписчикам
Постов в день
0,0
всего 28
Упоминаний
2
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
59
1/48двое суток
67
1/72трое суток
72

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • ان تمام احادیث پر فرداً فرداً غور کیجیے۔ جو شخص ان میں سے کسی ایک حدیث کو پکڑ کر باقی کو چھوڑ دے گا وہ گمراہی پھیلائے گا۔ صرف پہلی حدیث میں سے بارہ خلفاء کا لفظ پکڑ لینے والے اگر اگلے الفاظ كُلُّهُمْ مِنْ قُریشٍ ہی پڑھ لیتے تو روشنی ہو جاتی۔ 🔥 علماء کا فیصلہ!!! 🔥 ان تمام احادیث کو مدِ نظر رکھتے ہوئے علماء نے فیصلہ دیا ہے کہ ان خلفاء میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ، سیدنا عمر فاروق ، سیدنا عثمانِ غنی، سیدنا علی المرتضیٰ ، سیدنا امام حسن، حضرت سیدنا امیر معاویہ، حضرت عبداللّٰہ بن زبیر اور حضرت عمر بن عبدالعزیز اور امام مہدی رضی اللّٰہ عنہم شامل ہیں۔ باقی تین کا تعین نہیں ہو سکا 📖 ( تاریخ الخلفاء علامہ سیوطی صفحہ 17 ، فتاویٰ رضویہ جلد 9 صفحہ 25)۔ تقریباً یہی بات فتاویٰ مہریہ صفحہ 147 پر بھی موجود ہے۔ خصوصاً چاروں خلفائے راشدین کو بارہ اماموں میں سر فہرست شامل کیا گیا ہے 📖 ( شرح نووی جلد 1 صفحہ 119 ، فتح الباری جلد 13 صفحہ 244، عمدۃ القاری جلد 20 صفحہ 206 ، صواعق محرقہ صفحہ 20, 21 ، اشعة اللمعات جلد 4 صفحہ 633)۔ جن لوگوں نے پوری صورتِ حال سامنے نہیں رکھی ان میں سے کسی نے خلفاءِ راشدین کو ان میں سے نکال دیا اور کسی نے یزید پلید کو بھی ان میں شامل کر دیا۔ یہ دونوں باتیں غلط ہیں ۔ امام اہلِ سنت شاہ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ مذکورہ بالا تمام احادیث نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں : لگتے لگانے والوں میں جس نے سب طرقِ حدیث نہ دیکھے ایک آدھ طریق کو دیکھ کر کوئی احتمال نکال دیا الخ 📖 ( فتاویٰ رضویہ جلد 9 صفحہ 24)۔ اے عزیز! ہم نے کوشش کی ہے کہ اپنی طرف سے کچھ لکھنے اور زیادہ تبصرہ کرنے کی بجائے آپ کو مکمل احادیث سنادی جائیں ، ہم نے ہر حدیث کو تسلیم کرنے کے بعد اس کے ساتھ ہی دوسری احادیث بھی رکھ دی ہیں ، اب اگر کوئی ناراض ہو تو بتائیے وہ کس پر ناراض ہو رہا ہے؟ اور اگر کوئی انکار کرتا ہے تو بتائیے وہ کس کا انکار کر رہا ہے؟ کیا کسی محقق اور خدا کا خوف رکھنے والے شخص کو زیب دیتا ہے کہ کسی مسلمان سے بدگمانی کرے؟ اور اگر کوئی ہماری نیت میں شک کرتا ہے۔ تو بتائیے اہلِ سنت کی نیت میں شک کرنا کون سے مذہب کا پرانا وطیرہ ہے؟ 📖 (اہلِ سنت کی پہچان 26تا29) ✍️ مرجع المحققین شیخ الحدیث والتفسیر پیر سائیں غلام رسول قاسمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ • 🌹 12 امام اور روافض (شیعہ) کی گھڑی ہوئی اصطلاحات: روافض کی 12 اماموں کے بارے میں گھڑی ہوئی اصطلاح، اور اس کا قرآن و سنت میں کوئی وجود نہیں ہے ؟ روافض 12 اماموں کو جس اصطلاح میں مانتے ھیں وہ کہتے ہیں کہ 12 امام : 1️⃣یہ نبیوں سے اوپر ہیں، 2️⃣ان پر وحی اترتی ہے، 3️⃣یہ مامور من اللّٰہ ہے، 4️⃣ان کی امامت پر نص ہے، 5️⃣اور یہ معصوم ہیں۔ یہ سب روافض کے جھوٹ ہیں۔۔۔۔۔ اے عزیز!!! ہمیں ان 12 شخصیات کا انکار نہیں ہے اُس جھوٹ کا انکار ہے جو روافض نے نفس پرستی اور اسلام سے دشمنی کے باعث اپنی اصطلاح گھڑی ہے۔ • 🌹عقیدہ اہلسنت!! اہلسنت کا ان 12 ائمہ کرام علیہم الرضوان کے بارے میں عقیدہ یہ ہے کہ 12 امام: 1️⃣ یہ ولی ہیں، 2️⃣صاحبِ سلسلہ ہے ، 3️⃣اللہ کے پیارے ہیں ، 4️⃣اور سنیوں کا یہ بھی عقیدہ ہے یہ صرف 12 امام ہی نہیں بلکہ جس بھی اللّٰہ کے ولی کی ولایت پر امت کا اتفاق اور اجماع ہو اس کی ولایت کا انکار کرنے والا گمراہ ہو جائے۔ 6️⃣اور یہ 12 امام علیہم الرضوان اجمعین نبیوں سے اوپر نہیں ہیں۔ ان پر وہی نہیں آتی تھی۔ ان کی امامت پر نص موجود نہیں اور یہ معصوم بھی نہیں ہیں۔ اور نہ ہی مأمور من اللّٰہ ہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کرام ہیں۔ اور مامور من اللّٰہ جاننا روافض کا عقیدہ ہے۔ • 🌹 روافض کی 12 اماموں کی تخصیص کی وجہ: روافض نے اُن 12 شخصیات کا انکار کرنے کے لئے جلدی سے 12 اماموں کا تعین کیا تاکہ جن 12 کے بارے میں صحاح ستہ میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کلھم من قریش۔ بعض احادیث میں صراحتاً ہے کہ ان 12 اماموں میں سے چار خلفاء راشدین ہونگے۔ اور فقط دو اہل بیت سے ہونگے۔ مرتا کیا نہ کرتا اگر یہ ان 12 اماموں کو جو نبی کریم ﷺ نے صحاح ستہ میں بار بار بیان کیے ان کو مانتے تو ان کے مذھب کی بنیاد ہی ختم ہوجاتی۔ تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے فرامین کے مخالف اپنی نفس پرستی اور اسلام دشمنی کی بنا پر بارہ اماموں کا تعین کیا۔ اور حدیث میں آئے ھوے اماموں کا انکار کیا۔ جبکہ ان کو پتہ نہیں کہ غیرت مسلم زندہ ہے۔ ✍️ شیخ الحدیث و التفسیر پیر سائیں غلام رسول قاسمی دامت برکاتہم العالیہ ❤️

  • ⬆️⬆️⬆️ 💫🌹 بارہ اماموں کے بارے میں مکمل صورتحال 🔷⬅️ 🔥 بارہ اماموں کے بارے میں مکمل صورتحال🔥 •🌹(1)۔ " لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " 📖(بخاری: 7222، 7223، مسلم: 4706) ترجمہ: لوگوں کے حکومتی معاملات چلتے رہیں گے جب تک ان پر بارہ خلفاء ہوں گے ، وہ سب کے سب قریش میں سے ہوں گے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بارہ خلفاء سب کے سب حکمران بادشاہ اور والیِ ملک ہوں گے۔ • 🌹(2)۔ " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً، كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ". 📖(مسلم: 1821، 4708، 4709، 4710، ابوداؤد: 4280) ترجمہ: یہ امر بارہ خلفاء تک غالب رہے گا، وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بارہ خلفاء کے زمانے میں دین اسلام غالب رہے گا۔ • 🌹(3)۔ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَنْقَضِي حَتَّى يَمْضِيَ فِيهِمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً، كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ". 📖(مسلم: 4705) ترجمہ: یہ امر اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک ان میں بارہ خلفاء پورے نہ ہوجائیں وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔ آپ نے دیکھا کہ بارہ اماموں کیلئے قریش کا لفظ بار بار آ رہا ہے۔ اگر بارہ اماموں کو صرف بنی ہاشم میں ہی تلاش کیا جائے تو قریش کا لفظ بے فائدہ ہو کر رہ جائے گا۔ • 🌹(4)۔ " لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، أَوْ يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ". 📖﴿مسلم : 4711(1822)﴾ ترجمہ: دین اس وقت تک قائم رہے گا حتی کہ قیامت آجائے گی یا تم پر بارہ خلفاء ہوں گے، وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان کے دور میں دین قائم اور مضبوط رہے گا۔ • 🌹(5)۔ " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً، كُلُّهُمْ تَجْتَمِعُ عَلَيْهِ الْأُمَّةُ ". 📖 (ابوداؤد: 4279) ترجمہ: دین قائم دائم رہے گا حتیٰ کہ تم پر بارہ خلیفے ہوں گے، ان سب پر امت کا اجماع ہوگا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بارہ خلفاء میں سے ہر ایک کی خلافت پر اجماع ہوگا اور اہلِ حق انہیں صحیح خلیفہ تسلیم کریں گے۔ • 🌹(6)۔ عن ابن مسعود رضی اللّٰه عنه أنّه هَلْ سُئِلَ كَمْ يَمْلِكُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ خَلِيفَةٍ ؟ فَقَالَ سَأَلْنَا عَنْھَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " اثْنَا عَشَرَ، كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ". 📖 (مسند احمد: 3781، البزار 190/5)۔ فیه مُجَالِدٍ بنُ سعیدٍ وھو ضعیف بقیّةُ رجالهٖ ثقاتٌ۔ ترجمه: حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اس امت میں کتنے خلفاء حکمرانی کریں گے؟ فرمایا: ہم نے اسکے بارے میں رسول اللّٰہ ﷺ سے سوال کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان کی تعداد بارہ ہوگی بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد کی طرح۔ اس حدیث میں ملک یعنی حکومت کا لفظ موجود ہے۔ یعنی بارہ امام حکمران بھی ہوں گے۔ • 🌹(7) - إِنَّهُ لَا تَهْلِكُ هَذِهِ الْأُمَّةُ حَتَّى يَكُونَ مِنْهَا إِثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ يَعْمَلُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ مِنْهُمْ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 📖( رواه مسدد في مسنده الكبير عن ابى الخلد کما فی تاریخ الخلفاء للسیوطی صفحه 16 ) ۔ ترجمہ: یہ امت اس وقت تک ہلاک نہیں ہوگی جب تک اس میں بارہ خلفاء نہ آجائیں، وہ سب ہدایت اور دینِ حق کے مطابق حکومت کریں گے ، ان میں دو آدمی اہلِ بیتِ محمد ﷺ میں سے ہوں گے۔ اس حدیث میں ہے کہ بارہ میں سے صرف دو خلیفے اہلِ بیت اطہار علیہم الرضوان میں سے ہوں گے نہ کہ سب۔ • 🌹(8)۔ سَيَكُونُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً ، أَبُو بَكْرِ الصِّدِّيقُ لَا يَلْبَثُ بَعْدِي إلا قليلاً الحدیث یعنی جلد ہی بارہ خلفاء ہوں گے ، ان میں سے ابوبکر میرے بعد تھوڑا ہی زندہ رہے گا ، اور گھومتی چکی والا تعریف کے ساتھ زندہ رہے گا اور شہادت کی موت پائے گا ، عرض کیا گیا یا رسول اللّٰہ ﷺ وہ کون ہے؟ فرمایا عمر بن خطاب (رضی اللّٰہ عنہ ) پھر آپ عثمان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا لوگ تم سے مطالبہ کریں گے کہ اس قمیض کو اتار دو جو تمہیں اللّٰهُمہ عزوجل نے پہنائی ہے، اللّٰہ کی قسم! اگر تم نے اسے اتار دیا تو پھر تم جنت میں داخل نہیں ہو سکو گے جب تک اونٹ سوئی کے سوراخ میں سے نہیں گزرتا 📖( السنۃ لابن ابی عاصم حدیث: 1186، المعجم الکبیر للطبرانی: 12، المعجم الاوسط : 8749، مجمع الزوائد : 8918، اشعۃ اللمعات جلد 4 صفحہ 632)۔ فِيهِ مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ ابْنُ عَدِى : لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثاً مُنْكَراً غَيْرَ هَذَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا ۔ اس حدیث میں سیدنا صدیق اکبر، عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہم کے اسماءِ گرامی کی تصریح موجود ہے۔

  • 💫🌹 بارہ اماموں کے بارے میں مکمل صورتحال ✍️ شیخ الحدیث و التفسیر پیر سائیں غلام رسول قاسمی دامت برکاتہم العالیہ ❤️ ⬇️⬇️⬇️⬇️⬇️ تفصیل

  • اکثر بزرگ لوگوں کے فنگر پرنٹس کا مسلہ بن جاتا ہے اس کا علاج یہ۔ہے کے بازار سے سفید پھٹکڑی لے آئیں اس کو پانی میں حل کر کے تھوڑا گرم کریں اور روزانہ پانچ منٹ اس میں انگوٹھا ڈبو کر رکھیں دو ہفتے میں فنگر پرنٹس واپس آ جائیں گے فنگر پرنٹ کےلئے جانے سے کچھ دیر پہلے بھی اس طرح کر کے کام چلایا جا سکتا. ✍️ والسلام حکیم ذوالقرنین https://www.facebook.com/share/p/1DMkiLtX8L/

  • *فرمانِ مصطفیٰﷺ* حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا: "وہ میری بیٹیوں میں سے سب سے افضل ہے کہ وہ میری وجہ سے مصیبت میں مبتلا کی گئی۔" ( المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ج4 ص48) 🤲 نعمان علی

  • ترجمہ: پھر ہم نے ہوا کو اس کے تابع کر دیا کہ وہ اس کے حکم سے بڑی نرمی سے چلتی تھی جہاں اسے پہنچنا ہوتا وَالشَّيَاطِيْنَ كُلَّ بَنَّـآءٍ وَّغَوَّاصٍ (37 اور شیطانوں کو جو سب معمار اور غوطہ زن تھے۔ وَاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِى الْاَصْفَادِ(38) اور دوسروں کو جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ هٰ

  • حصن حصین کی شرح میں ملا علی قاری اس روایت کے تحت فرماتے ہیں کہ "اللہ کے بندوں سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا مسلمان, یا جن یا رجال الغیب یعنی ابدال" مزید فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے اور مسافروں کو اس کی بڑی حاجت ہے. اگر جنگل میں جانور بھاگ جائے تو آواز دو کہ اے اللہ کے بندو اسے روکو".(الحرزالثمین شرح حصن حصین. صفحہ 202 مطبوعہ مکۃ المکرمہ سعودیہ) یہ کتاب عموما حاجیوں کو تحفہ میں دی جانے والی کتابوں میں بھی شامل ہوتی ہے. اک پتھر تھا جس کو ستر سال پہلے جہنم میں پھنکا گیا تھا اُس کی آواز صحابہ کرام نے بھی سُنی❓ خلف بن خلیفہ نے کہا : ہمیں یزید بن کیسان نے ابوحازم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ نے کسی بہت وزنی چیز کے گرنے کی آواز سنی ، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو ، یہ کیسی آواز تھی ؟‘‘ کہا : ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا :’’ یہ ایک پتھر تھا جس کو ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا ، یہ اب اس میں گرا ہے ، یہاں تک کہ اس کی گہرائی تک پہنچ گیا ہے ۔‘‘ صحیح مسلم#7167 امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے خصائص کبر یٰ میں بیہقی ، صابونی ، خطیب او رابن عساکر کے حوالہ سے نقل فرمایا : وأخرج البيهقي والصابوني في المأتين والخطيب وابن عساكر في تاريخيهما عن العباس بن عبد المطلب قال قلت يا رسول الله دعاني إلى الدخول في دينك امارة لنبوتك رأيتك في المهد تناغي القمر وتشير إليه باصبعك فحيث اشرت اليه مال قال إني كنت احدثه ويحدثني ويلهيني عن البكاء واسمع وجبته حين يسجد تحت العرش۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی نبوت کی ایک علامت میرے اسلام میں داخلہ کا باعث بنی ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوگہوارے میں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم چاند سے باتیں فرماتے او رجس طرف اشارہ فرماتے وہ اسی سمت جھک جاتا – حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا: میں اس سے باتیں کرتا تھا او روہ مجھ سے باتیں کرتا تھا وہ مجھ کو رونے سے بہلایا کرتا تھا او رجب وہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا تو میں اس کے گرنے کی آواز سنا کرتا ۔ (خصائص کبریٰ ، ج :1،ص:53) از:حضرت ضیاء ملت مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم العالی اولیاءاللہ کی دور و نزدیک سے تصرف کرنے کی قوت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ﷺ اکرم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اُس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں اور میرا بندہ ایسی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب نہیں پاتا جو مجھے فرائض سے زیادہ محبوب ہو اور میرا بندہ نفلی عبادات کے ذریعے برابر میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں (اللہ تعالی) اس (بندے) کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں. اور اگر وہ میری پناہ مانگتا ہے تو میں ضرور اسے پناہ دیتا ہوں. (البخاري في الصحيح، کتاب : الرقاق، باب : التواضع، 5 / 2384، الرقم : 6137، وابن حبان في الصحيح، 2 / 58، الرقم : 347، والبيهقي في السنن الکبري، 10 / 219، باب (60)، وفي کتاب الزهد الکبير، 2 / 269، الرقم : 696 امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ سورہ کہف کی آیت نمبر 9 کے تحت فرماتے ہیں کہ "جب بندہ نیکیوں کی پابندی کرتا ہے تو اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔ کہ میں اس بندے کی سمع و بصر ہو جاتا ہوں پس جب نورِ جلالت اس کا سمع ہو جاتا ہے تو وہ دور و نزدیک سے سنتا ہے اور جب یہ نور اس کی بصر ہو جاتا ہے تو وہ دور و نزدیک سے دیکھتا ہے اور جب یہ نور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے تو وہ بندہ مشکل و آسان، دور و نزدیک امور میں بھی تصرف کرنے پر قادر ہوتا ہے۔" تفسیر کبیر. انور شاہ کشمیری دیوبندی نے بھی اپنی شرح بخاری میں اس حدیث کی یہی شرح کی ہے۔ تاوقت کسی نے امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ اور کشمیری صاحب پر شرک کا الزام نہیں لگایا. اس بات کو علامہ اقبال نے یوں بیان کی ہے. ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مؤمن کا ہاتھ غالب و کار آفریں کارکشا کار ساز جو لوگ یہ کہتے پھرتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور اولیاءاللہ رحمہم اللہ کی کرامات میں انکا اپنا کچھ عمل دخل نہیں ہوتا اور انہیں کوئی اختیار نہیں ہوتا وہ "سورہ ص" کی ان آیات مبارکہ کو بغور پڑھ کر اپنے عقیدہ کی اصلاح کر لیں۔ فَسَخَّرْنَا لَـهُ الرِّيْحَ تَجْرِىْ بِاَمْرِهٖ رُخَـآءً حَيْثُ اَصَابَ (36)

  • آپ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجدنبوی کے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ یَاسَارِیَۃُ الْجَبَل (یعنی اے ساریہ!پہاڑکی طرف اپنی پیٹھ کرلو) حاضرین مسجد حیران رہ گئے💕 کہ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو سرزمین نہاوند میں مصروف جہاد ہیں اورمدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر ہیں۔آج امیر المؤمنین نے انہیں کیونکر اورکیسے پکارا ؟ لیکن نہاوند سے جب حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاصد آیا تو اس نے یہ خبر دی کہ میدان جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلا چلا کریہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ ! تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو ۔ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز ہے، یہ کہا اورفوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کر کے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو ایک دم اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اوردم زدن میں اسلامی لشکرنے کفار کی فوجوں کو روندڈالا اورعساکر اسلامیہ کے قاہرانہ حملوں کی تاب نہ لاکر کفار کا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواج اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا۔ (مشکوٰۃ باب الکرامات ، بیہقی، طبرانی ،ابو نعیم وتاریخ الخلفاء) : وَمَا ھُوَ عَلَی الغَیبِ بِضَنِین ٍ(التکویر، 81: 24) (اور یہ نیی ﷺ غیب بتانے میں ہر گز بخیل نہیں)۔ اس قرآنی ارشاد کے مطابق غیب بتانے میں بخیل نہ ہونا تب ہی ممکن ہو سکتا ہے اگر باری تعالیٰ نے کمال فراوانی کے ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ کو علوم و اَخبارِ غیب پر مطلع فرمایا ہو، اگر سرے سے علمِ غیب عطا ہی نہ کیا گیا ہو تو حضور نبی اکرم ﷺکا غیب بتانا کیسا اور پھر اس پر بخیل نہ ہونے کا کیا مطلب؟ سو معلوم ہوا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطلع علی الغیب ہونے کی قطعاً نفی نہیں بلکہ نفع و نقصان پر خود قادر و مالک اور بالذات عالم الغیب ہونے کی نفی ہے کیونکہ یہ شان صرف اللہ تعالیٰ کی ہے نبیِّ کریم ﷺ کے علم غیب پر منافقین اعتراض نبیِّ کریم ﷺ نے صحابَۂ کرام سے فرمایا: میری اُمّت مجھ پر ایسے پیش کی گئی جیسے حضرتِ آدم علیہ السَّلام پر پیش کی گئی تھی تو میں نے جان لیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا۔ یہ بات جب منافقین تک پہنچی تو انہوں نے کہا: مَعَاذَاللہ محمدﷺ گمان کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کون ان پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرےگا حالانکہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور وہ ہمیں نہیں جانتے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی منافقوں کا اعتراض سُن کر ہمارے پیارے نبی کریمﷺ منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ کریم کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:ان لوگوں کا کیا حال ہے جو میرے علم پر اعتراض کرتے ہیں لَا تَسْألُونِي عَن شَيءٍ فِيما بَينَكُم وَبَينَ السَّاعَةِ اِلّا نَبَّاْ تُكُم بِهٖ یعنی تمہارے اور قیامت کے درمیان جو کچھ بھی ہے تم مجھ سے ان میں سے جس کسی چیز کے بارے میں سُوال کرو گے میں تمہیں اس کی خبر دوں گا۔ حضرتِ سیّدُنا عبد اللہ بن حُذَافہ سَہمی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: مَنْ اَبِيْ يَا رَسُولَ اللّٰه؟ یعنی يارسولَ اللّٰه! میرا والد کون ہے ؟ ارشاد فرمایا: حُذافہ، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کی: يا رسولَ اللّٰه! صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، ہم اللہ پاک کے ربّ ہونے، اسلام کے دین ہونے، قراٰن کے امام و پیشوا ہونے اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہوئے، اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائے ہمیں معاف فرما دیجئے۔نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دو مرتبہ فرمایا: فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ تو کیا تم باز آئے ، پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے اس پر اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی حصن حصین جو کہ امام جزری رحمہ اللہ کی مرتب کردہ ہے جس میں انہوں نے مسنوں دعائیں اور ازکار جمع کیے ہیں. ان کے فرمان کے مطابق اس کتاب میں سب کچھ صحیح یعنی مستند ہے. حصن حصین تمام مکاتب فکر کے نزدیک معتبرترین مسنون وظائف کی کتاب ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے امام جزری سے اس کی اجازت لی تھی۔ اسی حصن حصین میں امام جزری رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں. "جب مدد لینا چاہے تو کہے اے اللہ کے بندو میری مدد کرو, اے اللہ کے بندو میری مدد کرو, اے اللہ کے بندو میری مدد کرو ". (حصن حصین ص 22).

  • عمر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ لوگوں کے لیے بارش کی دعا مانگے. انہیں بارش دی جائے گی اور انہیں کہو کے اِحتیاط کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہیں. وہ صحابی رضی اللّٰہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ماجرا سنایا. حضرت عمر رو دئیے. اور کہا یا اللہ : میں اپنی بساط بھر کوتاہی نہیں کرتا. (الاستیعاب علامہ قرطبی) فارق اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے دور میں 18 ھجری میں دوبارہ قحط واقع ہوا. حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللّٰہ عنہ سے انکی قوم بنو مزینہ نے کہا, ہم مرے جا رہے ہیں. کوئ بکری ذبح کیجیے. فرمایا بکریوں میں کچھ نہیں رکھا. اصرار پر ایک بکری ذبح کی, جب کھال کھینچی تو نیچے سرخ ہڈی تھی. یہ دیکھ کر حضرت بلال مزنی رضی اللّٰہ عنہ نے پکارا. یا محمداہ! رات ہوئ تو خواب میں دیکھا رسول اللہ علیہ السلام فرما رہے ہیں تمھیں زندگی مبارک ہو.(البدایہ والنہایہ ابن کثیر جلد 7 ص 91) حضرت اوس بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ شریف میں قحط آیا. لوگوں نے امی عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے شکایت کی. آپ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا. " نبی اکرم علیہ السلام کے مزار مبارک کو دیکھو اور آسمان کی طرف اس کا روشن دان کھول دو تاکہ اس کے اور آسمان کے درمیان چھت حائل نہ رہے. انہوں نے ایسا ہی کیا. اتنی بارش ہوئی کہ سبزہ اگا, اونٹ موٹے ہو گئے حتی کہ چربی سے انکے بدن پھٹنے لگے یعنی بہت فربہ ہو گئے. چنانچہ اس سال کا نام عام الفتق رکھ دیا گیا. ".(سنن دارامی جلد اول، باب ما اکرم اللہ تعالیٰ نبیہ بعد موتہ، رقم الحدیث 92) شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام الباب الثامن فی التوسل صفحہ 371، دار الکتب العلمیۃ احمد بن حسين البيهقي نے دلائل النبوۃ للبہیقی میں اور امام جلال الدین سیوطی نے الخصائص الکبری میں اس حدیث کو نقل فرمایا ہے حافظ زکی الدین عبد العظیم نے الترغیب والترہیب میں او رحافظ الہیثیمی نے مجمع الزوائد میں اس حدیث کو بیان کرکے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے بلکہ ابن تیمیہ نےکہ جو غیر مقلدین کے امام ہیں اس حدیث کی سند کوفتاوی ابن تیمیہ جلد ۱ صفحہ ۲۷۳مطبوعہ با مر فہد بن عبد العزیز آل السعود میں صحيح کہا ہے) جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ فوج کی تعداد ساٹھ ہزار تھی. جبکہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی. مقابلہ بہت سخت تھا. ایک وقت نوبت یہاں تک پہنچی کہ مسلمان مجاہدین کے پاؤں اکھڑنے لگے. حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰہ عنہ سپہ سالار تھے. انہوں نے یہ حالت دیکھی تو انہوں نے مسلمانوں کی علامت کے ساتھ ندا کی. یا محمداہ اور جنگ کا پانسہ پلٹ گیا. (البدایہ والنہایہ جلد 6 صفحہ 324). حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے حضرت کعب بن ضمرہ رضی اللّٰہ عنہما کو ایک ہزار کا لشکر دے کر حلب کی طرف روانہ کیا. جب وہ حلب پہنچے تو یوقنا پانچ ہزار افراد کے ساتھ حملہ آور ہوا. مسلمان جم کر لڑے اتنے میں پانچ ہزار اورں نےحملہ کر دیا. اس خطرناک صورتحال میں حضرت کعب بن جمرہ نے جھنڈا تھامے ہوئے بلند آواز سے نعرہ لگایا یا محمد! یا محمد یا نصراللہ انزل. یا محمد یا محمد اے اللہ کی مدد نزول فرما. مسلمان ان کے گرد جمع ہو گئے اور کمال ثابت قدمی سے لڑے اور فتح پائی. (فتوح الشام, جلد 1 ص 96). ایسے ہی فتح بہسنا میں ایک دن رات بھر لڑائ ہوتی رہی اور مسلمانوں کا شعار تھا یا محمد یا محمد جا نصر اللہ انزل پکارنا تھا.(فتوح الشام جلد 2) علامہ ابن کثیر حضرت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ کے کے زمانہ خلافت کے احوال لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ "اس زمانہ کا شعار یا محمداہ پکارنا تھا".)البدایہ والنہایہ جلد 6 ص 324 مطبوعہ دارلفکر بیروت). امام عبدالرحمن بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا. آپ رضی اللّٰہ عنہ کا پاؤں سن ہو گیا. میں نے عرض کی اسے پکاریئے جو آپ کو سب سے محبوب ہے. انہوں نے کہا یا محمد. وہ اسی وقت بھلے چنگے ہو گئے گویا قید سے آزاد کر دیے گئے ہوں.(کتاب الاذکار باب مایقول اذا اخدرت, امام نووی صفحہ 271 ). حضرت زینب بنت مولا علی رضی اللّٰہ عنہما نے کربلا کی اسیری میں پڑھا. "یا محمداہ یا محمداہ صل علیک و ملک السماہ ھذا حسین بالعراہ........... ان کی پرسوز آواز نے ہر اپنے بیگانے کا رلا دیا. (البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 193). امام زین العابدین اپن مشہور نعتیہ قصدہ میں فرماتے ہیں. یارحمۃ للعالمین ادرک الذین العابدین. محبوس ایدی الظالمین فی موکب المذدہم ترجمہ : اے رحمۃ للعالمین زین العابدین کی مدد کو پہنچو. وہ اژدھام میں ظالموں کی قید میں ہے. امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالاربنا کر نہاوند کی سرزمین میں جہاد کے لیے روانہ فرمادیا۔

  • أخرجه البزار في المسند، 5 / 308، الرقم : 1925، والجهضمي في فضل الصلاة علی النبي صلی الله عليه وآله وسلم، 1 / 38. 39، الرقم : 25. 26، وابن سعد في الطبقات الکبری، 2 / 194، والشاشي في المسند، 2 / 253، الرقم : 826، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 183، الرقم : 686، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 24، والحارث في المسند، 2 / 884، الرقم : 953. ’’حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میری زندگی بھی تمہارے لئے خیر ہے کیونکہ (بذریعہ وحی الٰہی اور میری سنت) تمہیں نئے نئے احکام ملتے ہیں اور میری وفات بھی تمہارے لئے خیر ہے کیونکہ (میری قبر میں بھی) تمہارے اعمال میرے سامنے پیش ہوا کریں گے۔ چنانچہ اگر نیکیاں (تمہاری) دیکھوں گا تو ﷲ کا شکر بجا لایا کروں گا اور اگر برائیاں دیکھوں گا تو تمہارے لئے ﷲ تعالیٰ سے استغفار کیا کروں گا۔‘‘ اس حدیث کو امام بزار، جہضمی، شاشی اور ابن سعد نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا :’’ میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کیے گئے ، میں نے اس کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو دیکھا ، اس کے برے اعمال میں بلغم کو پایا جو مسجد میں ہوتا ہے اور اسے دفن نہیں کیا جاتا صحیح مسلم(1233) سیّدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت مجھ پر اپنے اچھے اور برے اعمال کے ساتھ پیش کی گئی، میں نے ا ن کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اور برے اعمال میں مسجد میں غیر مدفون کھنکاردیکھا ہے۔ (مسند 1350) جب کبھی آپ کا امتی کسی گوشہ سے فریاد کرتا ہے تو آپ اس کی فریاد سن کر حاجت روائی فرماتے ہیں او راس کی مدد فرماتے ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو رات کے وقت یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ وضوخانہ میں تھے: نصرت نصرت ، تیری مد دکر دی گئی تیری مدد کردی گئی ، میں نے آپ سے اس ارشادکے متعلق دریافت کیا توآپ نے فرمایا : یہ قبیلہ بنی کعب کا ایک شخص تھاجو مجھ سے مد د طلب کررہا تھا۔ عَنْ جَعْفَرِ بن مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بنتُ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، ثُمَّ قَامَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاةِ، فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِهِ:لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، ثَلاثًا،وَنُصِرْتَ وَنُصِرْتَ، ثَلاثًا، قَالَتْ: فَلَمَّا خَرَجَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، ثَلاثًا، وَنُصِرْتَ وَنُصِرْتَ ، ثَلاثًا، كَأَنَّكَ تُكَلِّمُ إِنْسَانًا فَهَلْ كَانَ مَعَكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ:هَذَا رَاجِزُ بني كَعْبٍ يَسْتَصْرِخُنُي- (معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر: 19482 – معجم صغیر طبرانی،حدیث نمبر: 965 – مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، حدیث نمبر: 10232- فتح الباری کتاب المغازی باب غزوۃ الفتح، الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ فتح مکۃ ، ج 3،ص 3) ام المومنین حضرت میمونہ بنت ہارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک صبح رسول اللہ ﷺ تہجد کی نماز کے لئے وضو فرما رہے تھے کہ اچانک آپ نے لبیک لبیک لبیک فرمایا اور اس کے فوراً بعد نصرت نصرت نصرت فرمایا، میں نے عرض کی یا رسول اللہ اس کا سبب کیا ہے❓ آپ نے فرمایا ”عمر بن سالم رضی اللہ عنہ اپنے سفر سے مدینہ کی جانب واپس آرہے ہیں اور راستے میں انہیں قریش مکہ سے حملہ کا خطرہ محسوس ہوا اور انہوں نے مجھے مدد کے لئے پکارا اور کہا کہ یارسول اللہ میری مدد فرمایئے اور میں جواب میں یہ کہہ رہا تھا لبیک لبیک لبیک (میں نے تمہاری مدد کردی)💕 ۔( معجم صغیر لطبرانی،جلد دوم) یہ روایت بانیء فرقہ وہابیہ محمد بن عبدالوھاب نجدی کے بیٹے عبداللہ بن محمد بن عبدالوھاب نجدی نے اپنی کتاب "مختصر سیرت الرسول " میں بھی لکھی ہے جو مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور میں صفحہ 333 پر اور جامعہ العلوم الاثریہ جہلم سے چھپنے والی کتاب کے صفحہ 528 پر بھی موجود ہے۔ یاد رہے کہ تین دن کی مسافت سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فریاد کی گئی اور آپ علیہ السلام نے سماعت فرمائی حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے دور میں قحط پڑھ گیا. حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللّٰہ عنہ حضور علیہ السلام کی قبر انور پر حاضر ہوئے اور عرض کی. یا رسول اللہ اپنی امت کے لیے بارش کی دعا مانگیے کیونکہ ہم لوگ ھلاک ہوئے جا رہے ہیں. خواب میں نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا.

  • سّنی (حنفی شافعی مالکی حنبلی) عقائد 💕💯 کیا اللہ کے سوا کسی کو الہ (معبود) جانے بغیر پکارنا بھی شرک ہے قرآن کریم ارشاد ہے إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ۔ المائدة،( 5 : 55 ’’بیشک تمہارا ولی (دوست، مددگار) تو اﷲ اور اس کا رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہی ہے اور وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اﷲ کے حضور عاجزی سے) جھکنے والے ہیں۔‘‘ ایک مقام پر ارشاد ہے سورہ التحريم،( 66:4)فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ ’’بیشک اللہ اُن کا دوست و مددگار ہے، اور جبریل اور صالح مومنین بھی اور اس کے بعد فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘ ایک دوسری جگہ ارشاد وَمَا نَقَمُواْ إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ "ان کو اللہ اور رسول نے غنی یعنی مالدار کر دیا. "( 9 : 74) نبی پاک علیہ السلام نے اپنے ِصحابی ربیعہ بن کعب رضی اللّٰہ عنہ سے خوش ہو کر فرمایا " مانگو کیا مانگتے ہو؟ انہوں نے عرض کی (اسئلک) آپ سے مانگتا ہوں جنت میں آپ کی رفاقت. فرمایا کچھ اور مانگنا ہے؟ عرض کی بس یہی. فرمایا کثرت نوافل سے میری مدد کر. (مسلم شریف کتاب الصلاۃ) مشکوۃ شریف کے دونوں شارحین ملا علی قاری اور شیخ عبدالحق محدث دھلوی اد حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی علیہ السلام جس کو جو چاہیں اللہ کے حکم سے عطا فرما دیں. (آج تک کسی نے دونوں بزرگوں کو شرک کہا ہو تو ہمارے علم میں بھی لایا جائے جبکہ سنی اور وہابیوں کے دونوں گروہ یعنی دیوبندی اور اہلحدیث ان کی کتب سے استفادہ کرتے ہیں۔) وسیلہ امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عثمان بن حنیف (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا ‘ اس نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا ‘ آپ سے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے ٹھیک کر دے۔ آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے دعا کروں اور اگر تم چاہو تو میں اس کو مؤخر کر دوں اور یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ اس نے کہا آپ دعا کر دیجئے ‘ آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اچھی طرح سے وضو کرے ‘ پھر دو رکعت نماز پڑھے اور یہ دعا کرے اے اللہ ! میں تیرے نبی محمد ﷺ نبی رحمت کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں اے محمد ﷺ میں آپ کے وسیلہ سے اپنی اس حاجت میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ‘ تاکہ میری حاجت پوری ہو ‘ اے اللہ میرے متعلق آپ کی شفاعت قبول فرما۔ (امام ابن ماجہ نے لکھا ہے کہ ابو اسحاق نے کہا ‘ یہ حدیث صحیح ہے عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم موذن (کی اذان) کو سنو تو اس کے کلمات کی مثل کہو ‘ پھر مجھ پر درود پڑھو ‘ کیونکہ جس شخص نے ایک مرتبہ مجھ پر درود پڑھا ‘ اللہ اس پر دس رحمتیں بھیجے گا۔ پھر میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو ‘ کیونکہ وسیلہ جنت میں ایک ایسا درجہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندہ کو حاصل ہوگا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں۔ سو جس شخص نے میرے لیے وسیلہ کا سوال کیا ‘ اس کے حق میری شفاعت جائز ہوجائے گی۔🌹 (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ (٣٨٤) ٨٢٦‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٢٣‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٣٤‘ صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٦١٤‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٧٧‘ عمل الیوم واللیلہ للنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٥‘ عمل الیوم واللیلہ لابن السنی ‘ رقم الحدیث :‘ ٩٤‘ مسند احمد ‘ بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٦٥٦٨‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٩٦٢‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ١١٤٤٢‘ ١١٦٨١‘ ١١٧٩٩‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١‘ ص ٤١٠۔ ٤٠٩‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٨٨‘ مطبوعہ مکتبہ اثریہ ‘ فیصل آباد امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو حضرت عمر بن الخطاب (رض) حضرت المطلب (رض) کے وسیلہ سے بارش کی دعا کرتے اور یہ عرض کرتے اے اللہ ہم اپنے نبی کریم ﷺ کے وسیلہ سے بارش کی دعا کیا کرتے تھے تو تو ہم پر بارش برساتا تھا (اب) ہم اپنے نبی کے عم (محترم) کو تیری طرف وسیلہ پیش کرتے ہیں ‘ تو تو ہم پر بارش نازل فرما۔ حضرت انس نے کہا پھر لوگوں پر بارش ہوتی۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١ رقم الحدیث : ١٠١٠‘ مطبوعہ دارالکتب ‘ العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ ‘ المعجم الکبیر ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٨٤‘ کتاب الدعاء للطبرانی ‘ رقم الحدیث : ٩٦٥‘ شرح السنہ للبغوی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ١١٦٠)

  • ☘️💞 تنقید نہیں اصلاح عقائدِ مسلکِ حق اہلِ سنت وجماعت https://t.me/fikr_e_raza Fikr_e_raza Ahle Sunnat Ka Bebaak Tarjuman تفصیل نیچے پڑھیں ⬇️⬇️⬇️⬇️

  • 💫🌹 تنقید نہیں اصلاح عقائد مسلکِ حق اہل سنت وجماعت ⬅️ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کبھی میلاد کی محفل سجائی ؟؟؟ 🌹 ایک غلط فہمی کا ازالہ کہ صحابہ نے کبھی محفلِ میلاد نہیں سجائی! https://t.me/fikr_e_raza Fikr_e_raza Ahle Sunnat Ka Bebaak Tarjuman

  • « طالبِ علمِ دین کے لیئے بھوک کتنی ضروری ہے » #طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 163 آپ *اعلی سے اعلی* کھانا کھائیں تو پاخانہ آئے گا زیادہ کھائیں گے تو زیادہ آئے گا عمدہ مشروبات پئیں تو پیشاب آئے گا زیادہ پئیں تو زیادہ آئے گا زیادہ جماع کریں تو منی زیادہ آئے گی یہ سب ناپاک ہیں اور ان تینوں سے *طلوعِ فجر* سے لیکر *غروبِ آفتاب* تک بچ جانے کا نام روزہ ہے یعنی کھانا پینا اور جماع زیادہ کریں گے تو آپ میں نجاست زیادہ جمع ہوگی اور کثیر خارج ہوگی *نجاست دور کرنے کے لیئے ناپاک جگہ پر بار بار جانا ہوگا* کم کھائیں پئیں تو نجاست کم جمع ہوگی اور کم ناپاک جگہ پر جاتا ہوگا علم زیادہ پڑھیں گے تو آپ کے دل و دماغ میں علم جمع ہوگا اور منہ سے حکمت کے موتی جھڑیں گے زیادہ کھانے سے دل سخت باطن سیاہ ہوتا ہے کم کھانے سے دل نرم اور باطن روشن ہوتا ہے علم کی کثرت دل روشن کرتی ہے زندگی پر سکون کرتی ہے *اعلی حضرت* نے فتاویٰ رضویہ میں فرمایا کہ ہر فساد کی جڑ پیٹ ہے یعنی پیٹ بھرے گا تو گناہ کرے گا بھوک حق تبارک و تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جس شے کی کثرت کا انجام ناپاکی ہے وہ زیادہ کیوں کریں ؟ اور جس کی کثرت کا انجام *طہارت و سکون* ہے وہ کم کیوں کریں *ہر مسلمان کو تجربہ ہوتا ہے کہ وضوء کی حالت میں اعتماد و سکون محسوس ہوتا ہے ناپاکی کی حالت میں بے سکونی سی ہوتی ہے* طالبِ علمِ دین اگر اسلاف کی صفوں میں کھڑا ہونا چاہتا ہے تو _پہلی شرط بھوک ہے_ • بھوک سے بار بار وضوء کی نوبت نہیں آئے گی کیونکہ پیٹ بھرنے سے بار بار وضوء ٹوٹتا ہے • نیند نہیں آئے گی کیونکہ پیٹ بھر جائے تو نیند زیادہ آتی ہے • مطالعہ میں ذہن منتشر نہیں ہوگا کیونکہ بھرے پیٹ سے بخارات ذہن کی طرف اٹھتے ہیں • شہوت پر قابو رہے گا کیونکہ زیادہ کھانے سے زیادہ خواہشات پیدا ہوتی ہیں • سستی نہیں ہوگی کیونکہ زیادہ کھانے سے زیادہ سستی آتی ہے • غصہ و غیبت و فضول کلامی سے بچت رہے گی کیونکہ بھوک اندر کے نفس کو مار دیتی ہے • علم و روحانیت و نورانیت ملے گی کیونکہ بھوک سے علمِ نافع نصیب ہوتا ہے اور پیٹ بھرنے سے نفسانیت و شیطانیت کا غلبہ ہوتا ہے *آپ بہترین طالبِ علم بننا چاہتے ہیں یا طلباء کو بہترین بنانا چاہتے ہیں تو بھوک بھوک بھوک کو لازم کر لیں* جو کہے کہ ہمشیہ پیٹ بھرے اور عالم بن جائے وہ احمق ہے پیٹ بھرائی کے ساتھ حاصل کیا گیا علم نِرا فتنہ ہے ✍️ سید_مہتاب_عالم

  • без подписи

  • « علماء کو مقدس اسفار پر روانہ کریں » #ذاتی_مطالعہ 196 *سیدی سفیان الثوری* کو کہا گیا آپ امام زھری کے پاس جا کے علم حاصل کیوں نہیں کرتے فرمایا *قلة الدراهم* پیسوں کی کمی ہے « تاریخِ دمشق ٤٠٤ » علماء عموماً *علمی سفر* اور حج و زیاراتِ مقدسہ کی طرف سفر مال کی کمی کی وجہ سے نہیں کر پاتے مسلمان مالداروں کو چاہئے کہ علماء کو ایسے سفروں پر روانہ کیا کریں *والله العظيم* کل قیامت میں یہی علماء اپ کی شفاعت کریں گے آپ کا مال گلے کا پھندہ بن جائے اور اسے نکالنے والے یہی علماء ہوں گے علماء سفید پوش ہوتے ہیں سوال نہیں کرتے آپ آگے بڑھ کے خدمت کیا کریں ماہانہ ایک ہزار اگر آپ عالم کو دیں تو اس کی برکات خود دیکھ لیں گے *الله بھلا کرے اس مسلمان مالدار کا جو کسی عالمِ دین کو کافی ہو جائے* کل قیامت میں وہی عالم اس مالدار کو کافی ہو جائے گا ✍️ سید_مہتاب_عالم

  • 💫☘️ تنقید نہیں اصلاح عقائد مسلکِ حق اہل سنت وجماعت https://t.me/fikr_e_raza Fikr_e_raza Ahle Sunnat Ka Bebaak Tarjuman

  • без подписи

  • без подписи

  • без подписи