ISLAM WITH EMAN
описание
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
1 299
подписчиков
Охват к подписчикам
6,5%
ERR
Реакции к просмотрам
0,11%
3 на 23 постов
Пересылки к просмотрам
0,26%
7
Постов в день
1,1
всего 23
Где отзываются чаще
доля реакций к просмотрам- 11 авг.جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اس وقت کوئی اور شیطان نہیں تھا، تو پھر اسے کس نے ورغلایا؟ سب کے لیے ایک سوچنے اور غور کرنے والا سوال! بہت ہی اہم سوال: جب شیطان نے اللہ کی نافرمانی کی، تو اس کا شیطان کون تھا؟ یہ جاننے کے لیے کہ ہمارا حقیقی شیطان کون ہے، یہ چند سطریں پڑھیں: "نفس" کا لفظ انتہائی حساس اور اہم ہے، اور یہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں ذکر ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورة ق میں فرماتا ہے: {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ} "اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو وسوسے اس کے دل میں اٹھتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔" ہم اللہ عزوجل پر ایمان رکھتے ہیں، اس کا ذکر کرتے ہیں، مسجد میں نماز پڑھتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، صدقہ دیتے ہیں... وغیرہ۔ اس کے باوجود ہم سے گناہ اور غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں! تو ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے حقیقی دشمن کو چھوڑ دیا اور ایک کمزور دشمن کے پیچھے لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ اپنی محکم کتاب میں فرماتا ہے: {إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا} "بیشک شیطان کا مکر (اور چال) کمزور ہے۔" اصل اور حقیقی دشمن تو (نفس) ہے۔ جی ہاں... نفس ایک ٹائم بم اور انسان کے اندر موجود ایک سرنگ (لغم) کی مانند ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورة الإسراء میں فرماتا ہے: {اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا} "پڑھ اپنا نامہ اعمال، آج اپنا حساب لینے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔" اور سورة غافر میں فرماتا ہے: {الْيَوْمَ تُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ۚ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ} "آج ہر نفس کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا، آج کوئی ظلم نہیں، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔" اور سورة المدثر میں فرماتا ہے: {كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ} "ہر نفس اپنے اعمال کے بدلے گروی ہے۔" اور سورة النازعات میں فرماتا ہے: {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ} "اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکا۔" اور سورة التكوير میں فرماتا ہے: {عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ} "تب ہر نفس جان لے گا کہ وہ کیا پیش کر کے لایا ہے۔" غور کریں کہ یہ تمام آیات لفظ "نفس" کے گرد گھومتی ہیں، تو یہ نفس آخر کیا ہے؟ علماء کرام فرماتے ہیں کہ وہ تمام جھوٹے معبود جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی تھی (جیسے اللات، العزى، مناة، سواع، ود، يغوث، يعوق، اور نسر)... یہ تمام بت تو توڑ دیے گئے، مگر ایک جھوٹا معبود ایسا ہے جس کی آج بھی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: {أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ} "کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا؟" اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نفس کی خواہش انسان پر غالب آ جاتی ہے تو وہ کسی شرعی حکم یا دینی مانع پر کان نہیں دھرتا، بلکہ وہی کرتا ہے جو اس کا دل چاہتا ہے۔ امام بوصیری اپنی بردہ میں فرماتے ہیں: "نفس اور شیطان دونوں کی مخالفت کرو اور ان دونوں کی نافر مانی کرو۔" قابیل کے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کرنے کے واقعے کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: {فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ} "پس اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر دیا۔" جب آپ کسی ایسے شخص سے پوچھیں جو کسی گناہ میں مبتلا ہوا اور بعد میں تائب و نادم ہوا کہ "تمہیں اس کام پر کس نے ابھارا؟" تو وہ کہے گا: "مجھے شیطان نے بہکایا تھا!" اس کی اس بات سے ایسا لگتا ہے جیسے ہر برے کام کے پیچھے صرف شیطان ہی ہو۔ حالانکہ گناہوں اور معاصی کا سبب یا تو شیطان ہوتا ہے یا پھر برائی پر ابھارنے والا نفس (نفسِ امارہ)۔ شیطان یقیناً خطرناک ہے... لیکن نفس اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے! انسان پر شیطان کا داخلہ غفلت اور بھول کے ذریعے ہوتا ہے، وہ انسان کو ثواب و عذاب سے غافل کر دیتا ہے جس کی وجہ سے انسان گناہ کر بیٹھتا ہے۔ قران کریم میں ہے کہ: {وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ} "اور میں اپنے نفس کی پاکی بیان نہیں کرتا، بیشک نفس تو برائی پر ابھارنے والا ہی ہے۔" آخر میں، ہم بارگاہ الٰہی میں عاجزی کے ساتھ دعا گو ہیں: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔ آمین یارب العالمین۔1,32%
- 8 авг.без подписи0,85%
- 8 авг.без подписи0,77%
- 13 авг.۳۸۔ سخاوت کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: الابْتِدَاءُ بِالعَطِيَّةِ قَبْلَ المَسْأَلَةِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ فِي المَحْلِ۔ ترجمہ: سخاوت یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے عطا کیا جائے اور قحط و تنگ دستی کے زمانے میں لوگوں کو کھانا کھلایا جائے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۲، ح ۲۔ ۳۹۔ احسان جتانا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ عَدَّدَ نِعَمَهُ مَحَقَ كَرَمَهُ۔ ترجمہ: جو شخص اپنی عطاؤں اور احسانات کو شمار کراتا رہے، وہ اپنی سخاوت کی قدر و قیمت مٹا دیتا ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔ ۴۰۔ دنیا کی رغبت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: الرَّاغِبُ فِيهَا عَبْدٌ لِمَنْ يَمْلِكُهَا۔ ترجمہ: جو شخص دنیا کا حریص ہو، وہ اس شخص کا غلام بن جاتا ہے جو دنیا کا مالک ہے۔ ماخذ: كنز العمّال، ج ۱۶، ص ۲۱۴، ح ۴۴۲۳۶۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕0,00%
- 13 авг.۲۷۔ فرائض کا فلسفہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: إِنَّ اللّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِمَنِّهِ وَرَحْمَتِهِ لَمَّا فَرَضَ عَلَيْكُمُ الفَرَائِضَ لَمْ يَفْرِضْهَا عَلَيْكُمْ لِحَاجَةٍ مِنْهُ إِلَيْكُمْ، بَلْ رَحْمَةً مِنْهُ عَلَيْكُمْ... لِيُمَيِّزَ الخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ، وَلِيَبْتَلِيَ مَا فِي صُدُورِكُمْ، وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ۔ ترجمہ: اللہ عزوجل نے اپنے فضل و رحمت سے جب تم پر فرائض عائد کیے تو انہیں اس لیے فرض نہیں کیا کہ اسے تمہاری ضرورت تھی، بلکہ یہ تم پر اس کی رحمت ہے؛ تاکہ پاکیزہ کو ناپاک سے جدا کرے، تمہارے سینوں کے اندر موجود چیزوں کو آزمائے اور تمہارے دلوں کو پاک و خالص کرے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۲۳، ص ۹۹، ح ۳۔ ۲۸۔ تفکر اور بصیرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: التَّفَكُّرُ حَيَاةُ قَلْبِ البَصِيرِ۔ ترجمہ: غور و فکر صاحبِ بصیرت کے دل کی زندگی ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۵، ح ۱۱۔ ۲۹۔ تفکر؛ خیر کی بنیاد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللّهِ وَإِدَامَةِ التَّفَكُّرِ؛ فَإِنَّ التَّفَكُّرَ أَبُو كُلِّ خَيْرٍ وَأُمُّهُ۔ ترجمہ: میں تمہیں تقوائے الٰہی اور مسلسل غور و فکر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ تفکر ہر خیر کا باپ بھی ہے اور ماں بھی۔ ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۱، ص ۵۲۔ ۳۰۔ قناعت اور رضا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اعْلَمْ أَنَّ مُرُوَّةَ القَنَاعَةِ وَالرِّضَا أَكْثَرُ مِنْ مُرُوَّةِ الإِعْطَاءِ۔ ترجمہ: جان لو کہ قناعت اور رضا کی مروّت، عطا و بخشش کی مروّت سے بھی برتر ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۱، ح ۶۔ ۳۱۔ معرفتِ الٰہی اور تواضع امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: لَا يَنْبَغِي لِمَنْ عَرَفَ عَظَمَةَ اللّهِ أَنْ يَتَعَاظَمَ، فَإِنَّ رِفْعَةَ الَّذِينَ يَعْلَمُونَ عَظَمَةَ اللّهِ أَنْ يَتَوَاضَعُوا، وَعِزَّ الَّذِينَ يَعْرِفُونَ مَا جَلَالُ اللّهِ أَنْ يَتَذَلَّلُوا لَهُ۔ ترجمہ: جو شخص اللہ کی عظمت کو پہچان لے، اسے زیب نہیں دیتا کہ وہ خود کو بڑا سمجھے۔ جو لوگ اللہ کی عظمت سے آشنا ہوتے ہیں، ان کی رفعت تواضع میں ہے، اور جو اس کے جلال کو پہچانتے ہیں، ان کی عزت اللہ کے سامنے فروتنی اختیار کرنے میں ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۴، ح ۳۔ ۳۲۔ کھانے کے آداب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: فِي المَائِدَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ خَصْلَةً يَجِبُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَعْرِفَهَا: أَرْبَعٌ مِنْهَا فَرْضٌ، وَأَرْبَعٌ سُنَّةٌ، وَأَرْبَعٌ تَأْدِيبٌ... ترجمہ: دسترخوان کے بارہ آداب ہیں جنہیں ہر مسلمان کو جاننا چاہیے: ان میں سے چار فرض، چار سنت اور چار آداب ہیں۔ فرض: معرفت، رضا، تسمیہ اور شکر۔ سنت: کھانے سے پہلے وضو کرنا، بائیں جانب بیٹھنا، تین انگلیوں سے کھانا اور انگلیاں چاٹنا۔ آداب: اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا رکھنا، اچھی طرح چبانا اور کھاتے وقت دوسروں کے چہروں کو کم دیکھنا۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۳، ص ۳۰۵، ح ۲۳۔ ۳۳۔ علم سیکھنا اور سکھانا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: عَلِّمِ النَّاسَ وَتَعَلَّمْ عِلْمَ غَيْرِكَ، فَتَكُونَ قَدْ أَتْقَنْتَ عِلْمَكَ وَعَلِمْتَ مَا لَمْ تَعْلَمْ۔ ترجمہ: لوگوں کو علم سکھاؤ اور دوسروں کا علم بھی سیکھو؛ اس طرح تم اپنے علم کو پختہ کرو گے اور وہ کچھ جان لو گے جس سے پہلے ناواقف تھے۔ ماخذ: كشف الغمّة، ج ۲، ص ۱۹۷۔ ۳۴۔ غصہ اور درست رائے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: لَا يَعْزِبُ الرَّأْيُ إِلَّا عِنْدَ الغَضَبِ۔ ترجمہ: غصے کے وقت درست رائے انسان سے دور ہو جاتی ہے۔ ماخذ: نزهة الناظر، ص ۷۲، ح ۱۴۔ ۳۵۔ علم اور ذمہ داری امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: قَطَعَ العِلْمُ عُذْرَ المُتَعَلِّمِينَ۔ ترجمہ: علم نے علم حاصل کرنے والوں کے تمام عذر ختم کر دیے ہیں۔ ماخذ: تحف العقول، ص ۲۳۶۔ ۳۶۔ آخرت کی تیاری امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَمْ تَزَلْ فِي هَدْمِ عُمُرِكَ مُنْذُ سَقَطْتَ مِنْ بَطْنِ أُمِّكَ، فَخُذْ مِمَّا فِي يَدَيْكَ لِمَا بَيْنَ يَدَيْكَ؛ فَإِنَّ المُؤْمِنَ يَتَزَوَّدُ، وَالكَافِرَ يَتَمَتَّعُ۔ ترجمہ: اے ابنِ آدم! جب سے تو اپنی ماں کے بطن سے دنیا میں آیا ہے، اسی وقت سے تیری عمر کم ہوتی جا رہی ہے۔ لہٰذا جو کچھ تیرے پاس ہے، اسے اس منزل کے لیے استعمال کر جو تیرے سامنے ہے؛ کیونکہ مؤمن زادِ راہ تیار کرتا ہے، جبکہ کافر محض دنیاوی لذتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۲، ح ۶۔ ۳۷۔ دل کی سلامتی امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: أَسْلَمُ القُلُوبِ مَا طَهُرَ مِنَ الشُّبُهَاتِ۔ ترجمہ: سب سے زیادہ سلامت دل وہ ہے جو شکوک و شبہات سے پاک ہو۔ ماخذ: تحف العقول، ص ۲۳۵۔0,00%
- 13 авг.۱۴۔ سوال کرنے کی ضرورت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: إِنَّ المَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: دَمٍ مُفْجِعٍ، أَوْ دَيْنٍ مُقْرِحٍ، أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ۔ ترجمہ: کسی سے مالی مدد طلب کرنا صرف تین صورتوں میں جائز ہے: ۱۔ خون بہا کی ادائیگی کی ضرورت ہو؛ ۲۔ ایسا سخت قرض ہو جس نے انسان کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہو؛ ۳۔ انتہائی فقر و فاقہ لاحق ہو۔ ۱۵۔ سوال سے پہلے عطا کرنا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: الإِعْطَاءُ قَبْلَ السُّؤَالِ مِنْ أَكْبَرِ السُّؤْدُدِ۔ ترجمہ: کسی کے سوال کرنے سے پہلے اسے عطا کرنا اعلیٰ درجے کی بزرگی ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔ ۱۶۔ شجاعت کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے شجاعت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: مُوَاقَفَةُ الأَقْرَانِ، وَالصَّبْرُ عِنْدَ الطِّعَانِ۔ ترجمہ: شجاعت یہ ہے کہ ہم پلہ حریف کے مقابل ڈٹ کر کھڑا ہوا جائے اور معرکے میں ضربیں سہتے ہوئے ثابت قدم رہا جائے۔ ماخذ: تحف العقول، ص ۲۲۶۔ ۱۷۔ تشیع کا حقیقی مفہوم ایک شخص نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے کہا: "میں آپ کے شیعوں میں سے ہوں۔" آپؑ نے فرمایا: يَا عَبْدَ اللّهِ، إِنْ كُنْتَ لَنَا فِي أَوَامِرِنَا وَزَوَاجِرِنَا مُطِيعًا، فَقَدْ صَدَقْتَ... ترجمہ: اے بندۂ خدا! اگر تم ہمارے اوامر کی پیروی اور ہماری نواہی سے اجتناب کرتے ہو تو تمہارا یہ دعویٰ درست ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں کرتے تو اپنے گناہوں میں یہ ایک اور گناہ شامل نہ کرو کہ ایسی عظیم منزلت کا دعویٰ کرو جس کے اہل نہیں ہو۔ یہ کہنے کے بجائے کہ "میں تمہارے شیعوں میں سے ہوں"، یوں کہو: "میں تم سے محبت کرنے والوں میں سے ہوں، تمہارے دوستوں سے محبت کرتا ہوں اور تمہارے دشمنوں سے دشمنی رکھتا ہوں۔" ایسی صورت میں تم خیر پر ہو اور خیر ہی کی طرف گامزن ہو۔ ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۰۶۔ ۱۸۔ خاموشی کا وقار امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: قَدْ أَكْثَرَ مِنَ الهَيْبَةِ الصَّامِتُ۔ ترجمہ: خاموش رہنے والا شخص زیادہ باوقار ہوتا ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۳، ح ۷۔ ۱۹۔ خاموشی کی افادیت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: نِعْمَ العَوْنُ الصَّمْتُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ كُنْتَ فَصِيحًا۔ ترجمہ: بہت سے مواقع پر خاموشی بہترین مددگار ثابت ہوتی ہے، خواہ تم کتنے ہی فصیح و بلیغ کیوں نہ ہو۔ ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔ ۲۰۔ مصیبت اور اجر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: المَصَائِبُ مَفَاتِيحُ الأَجْرِ۔ ترجمہ: مصیبتیں اجر کے دروازے کھولنے والی چابیاں ہیں۔ ۲۱۔ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: صَاحِبِ النَّاسَ مِثْلَ مَا تُحِبُّ أَنْ يُصَاحِبُوكَ بِهِ۔ ترجمہ: لوگوں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں۔ ماخذ: أعلام الدين، ص ۲۹۷۔ ۲۲۔ عقل اور دونوں جہان امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: بِالعَقْلِ تُدْرَكُ الدَّارَانِ جَمِيعًا، وَمَنْ حُرِمَ مِنَ العَقْلِ حُرِمَهُمَا جَمِيعًا۔ ترجمہ: عقل کے ذریعے دنیا و آخرت، دونوں جہان حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور جو عقل سے محروم رہا وہ دونوں جہانوں کی خیر سے محروم رہا۔ ماخذ: كشف الغمّة، ج ۲، ص ۱۹۷۔ ۲۳۔ عقل اور صبر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے عقل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: التَّجَرُّعُ لِلغُصَّةِ حَتَّى تَنَالَ الفُرْصَةَ۔ ترجمہ: عقل یہ ہے کہ انسان تلخیوں کو برداشت کرتا رہے، یہاں تک کہ مناسب موقع حاصل ہو جائے۔ ماخذ: معاني الأخبار، ص ۲۴۰، ح ۱۔ ۲۴۔ عقل اور امانتِ قلب امام علی علیہ السلام نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے عقل کے بارے میں پوچھا تو آپؑ نے فرمایا: حِفْظُ قَلْبِكَ مَا اسْتَوْدَعْتَهُ۔ ترجمہ: عقل یہ ہے کہ تمہارا دل ان چیزوں کی حفاظت کرے جو تم نے اس کے سپرد کی ہیں۔ ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔ ۲۵۔ عادات کا غلبہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: العَادَاتُ قَاهِرَاتٌ، فَمَنِ اعْتَادَ شَيْئًا فِي سِرِّهِ وَخَلَوَاتِهِ، فَضَحَهُ فِي عَلَانِيَتِهِ وَعِنْدَ المَلَإِ۔ ترجمہ: عادتیں انسان پر غالب آ جاتی ہیں۔ جو شخص خلوت اور تنہائی میں کسی کام کا عادی ہو جائے، وہی عادت بالآخر اسے لوگوں کے سامنے رسوا کر دیتی ہے۔ ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۱۳۔ ۲۶۔ غفلت کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: الغَفْلَةُ تَرْكُكَ المَسْجِدَ، وَطَاعَتُكَ المُفْسِدَ۔ ترجمہ: غفلت یہ ہے کہ تم مسجد کو چھوڑ دو اور کسی مفسد و بدکردار شخص کی اطاعت اختیار کر لو۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۵، ح ۱۰۔0,00%
- 13 авг.*چالیس احادیث از امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام* ۱۔ عقل اور ادب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: لَا أَدَبَ لِمَنْ لَا عَقْلَ لَهُ۔ ترجمہ: جس شخص میں عقل نہیں، اس میں ادب بھی نہیں۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۱۱، ح ۶۔ ۲۔ بخل کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے بخل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: أَنْ تَرَى مَا فِي يَدَيْكَ شَرَفًا، وَمَا أَنْفَقْتَ تَلَفًا۔ ترجمہ: بخل یہ ہے کہ انسان اپنے پاس موجود مال کو باعثِ عزت سمجھے اور جو کچھ خرچ کرے اسے ضائع شدہ تصور کرے۔ ماخذ: وسائل الشیعة، ج ۱۶، ص ۵۳۹، ح ۱۔ ۳۔ بزدلی کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے بزدلی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: الجُرْأَةُ عَلَى الصَّدِيقِ، وَالنُّكُولُ عَنِ العَدُوِّ۔ ترجمہ: بزدلی یہ ہے کہ آدمی دوست کے مقابلے میں بے جا دلیری دکھائے اور دشمن کے مقابلے سے پسپا ہو جائے۔ ۴۔ جہالت کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے جہالت کی حقیقت دریافت کی گئی تو فرمایا: سُرْعَةُ الوُثُوبِ عَلَى الفُرْصَةِ قَبْلَ الاسْتِمْكَانِ مِنْهَا، وَالامْتِنَاعُ عَنِ الجَوَابِ۔ ترجمہ: جہالت یہ ہے کہ انسان کسی موقع کو پوری طرح اپنے اختیار میں آنے سے پہلے ہی اس پر جھپٹ پڑے اور جہاں جواب دینا چاہیے وہاں جواب دینے سے گریز کرے۔ ماخذ: معاني الأخبار، ص ۴۰۱، ح ۶۲۔ ۵۔ حلم کی حقیقت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے حلم کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: كَظْمُ الغَيْظِ وَمِلْكُ النَّفْسِ۔ ترجمہ: حلم یہ ہے کہ انسان اپنے غصے کو پی جائے اور اپنے نفس پر قابو رکھے۔ ۶۔ اللہ کی بندگی کا ثمر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ عَبَدَ اللّهَ عَبَّدَ اللّهُ لَهُ كُلَّ شَيْءٍ۔ ترجمہ: جو شخص اللہ کی بندگی اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے ہر چیز کو مسخر کر دیتا ہے۔ ماخذ: تنبيه الخواطر، ج ۲، ص ۱۰۸۔ ۷۔ دعا اور اجابت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَا فَتَحَ اللّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى أَحَدٍ بَابَ مَسْأَلَةٍ فَخَزَنَ عَنْهُ بَابَ الإِجَابَةِ۔ ترجمہ: اللہ عزوجل جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھولتا ہے، اس کے لیے قبولیت کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ ۸۔ دعا کی قبولیت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: أَنَا الضَّامِنُ لِمَنْ لَمْ يَهْجُسْ فِي قَلْبِهِ إِلَّا الرِّضَا أَنْ يَدْعُوَ اللّهَ فَيُسْتَجَابَ لَهُ۔ ترجمہ: میں اس شخص کے لیے ضمانت دیتا ہوں جس کے دل میں اللہ کی رضا کے سوا کوئی اور خواہش نہ ہو کہ وہ اللہ سے دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۲۵، ص ۳۵۱، ح ۴۳۔ ۹۔ قرآن اور قبولیتِ دعا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ قَرَأَ القُرْآنَ كَانَتْ لَهُ دَعْوَةٌ مُجَابَةٌ، إِمَّا مُعَجَّلَةً وَإِمَّا مُؤَجَّلَةً۔ ترجمہ: جو شخص قرآن کی تلاوت کرتا ہے، اس کے لیے ایک مستجاب دعا ہوتی ہے؛ خواہ اس کی قبولیت جلد ظاہر ہو یا مؤخر ہو کر۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۹۳، ص ۳۱۳، ح ۱۷۔ ۱۰۔ اللہ کے انتخاب پر رضا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ اتَّكَلَ عَلَى حُسْنِ الاخْتِيَارِ مِنَ اللّهِ، لَمْ يَتَمَنَّ أَنَّهُ فِي غَيْرِ الحَالِ الَّتِي اخْتَارَهَا اللّهُ لَهُ۔ ترجمہ: جو شخص اللہ کے حسنِ انتخاب پر بھروسا رکھتا ہے، وہ اس حالت کے علاوہ کسی دوسری حالت کی تمنا نہیں کرتا جسے اللہ نے اس کے لیے منتخب کیا ہے۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۷۸، ص ۱۰۶، ح ۶۔ ۱۱۔ تقدیرِ الٰہی پر رضا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: كَيْفَ يَكُونُ المُؤْمِنُ مُؤْمِنًا وَهُوَ يَسْخَطُ قِسْمَتَهُ، وَيُحَقِّرُ مَنْزِلَتَهُ، وَالحَاكِمُ عَلَيْهِ اللّهُ؟ ترجمہ: مؤمن حقیقی مؤمن کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ وہ اپنی قسمت پر ناراض اور اپنی حالت کو حقیر سمجھتا ہو، حالانکہ اس پر حکم چلانے والا اللہ ہے؟ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۴۳، ص ۳۵۱، ح ۲۵۔ ۱۲۔ زکوٰۃ اور مال امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مَا نَقَصَتْ زَكَاةٌ مِنْ مَالٍ قَطُّ۔ ترجمہ: زکوٰۃ نے کبھی کسی مال کو کم نہیں کیا۔ ماخذ: بحار الأنوار، ج ۹۶، ص ۲۳، ح ۵۶۔ ۱۳۔ بیٹی کے لیے شوہر کا انتخاب ایک شخص نے اپنی بیٹی کے نکاح کے بارے میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے مشورہ کیا تو آپؑ نے فرمایا: زَوِّجْهَا مِنْ رَجُلٍ تَقِيٍّ، فَإِنَّهُ إِنْ أَحَبَّهَا أَكْرَمَهَا، وَإِنْ أَبْغَضَهَا لَمْ يَظْلِمْهَا۔ ترجمہ: اپنی بیٹی کا نکاح کسی متقی شخص سے کرو؛ کیونکہ اگر وہ اسے پسند کرے گا تو عزت و اکرام سے رکھے گا، اور اگر اسے ناپسند بھی کرے گا تو اس پر ظلم نہیں کرے گا۔ ماخذ: مكارم الأخلاق، ج ۱، ص ۴۴۶، ح ۱۵۳۴۔0,00%
- 11 авг.🏴 شہادت امام حسن علیہ السلام 🏴 حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت پر امام زمانہ عج اور تمام مؤمنین کی خدمت میں ہدیہ تعزیت و تسلیت عرض ہے۔ جعدہ کا باپ اشعث بن قیس کندی تھا جو اپنے قبیلہ کا سردار تھا اور جنگجو بھی تھا۔ کوفہ میں اشعث کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا لہذا وہ اس تلاش میں تھا کہ کوفہ میں کسی نہ کسی طرح سے اپنی حیثیت قائم کرے۔ یہ بات سبط ابن الجوزی متوفیٰ ۶۶۵ کی کتاب تذکرۃ الخواص میں نقل ہوئی ہے... کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے کوفہ کے ایک بزرگ اور محترم شخص سے امام حسن علیہ السلام کے لیے رشتہ مانگا۔ اسی دوران اشعث کوفہ پہنچا اور از قضا اس شخص کی اشعث سے ملاقات ہوئی تو اس کے حالات کے بارے میں باز پرس کی تو اس نے سادہ لوحی یا اپنی منزلت بیان کرنے کی غرض سے اشعث سے کہہ دیا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ہماری لڑکی کا رشتہ مانگا ہے۔ اشعث بن قیس اتنی بات سنتے ہی فورا امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پاس پہنچا اور گلے شکوے کرنے لگا کہ ہمارے اندر اتنے کون سے عیب ہیں کہ آپ نے فلاں کے گھر رشتہ بھجوایا ہے؟ در حقیقت اس نے دبے الفاظ میں اپنی لڑکی کو امام حسن علیہ السلام کے لیے امیرالمؤمنین کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے بھی اخلاق پیغمبر(ص) کی پیروی کرتے ہوئے اسے قبول کر لیا تاکہ اس کی توہین نہ ہو۔ اور یوں اپنی بیٹی کا رشتہ مولا علی علیہ السلام کے بیٹے امام حسن علیہ السلام کو کو دینے کی بات پر راضی کر دیا.. جعدہ کے یہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا اور امام حسن علیہ السلام نے دوسری شادیاں کر لیں اور ان سے ان کو اولاد ہوئی۔ امام حسن مجتبی علیہ السلام کو شہید کرنے کیلیے امیر شام نے جعده لع کو ایک لاکھ درھم اور یزید لع سے شادی کرنے کا لالچ دیا، اس ملعونه نے منظور کر لیا- أس دن امام حسن مجتبی علیہ السلام روزہ سے تھے، جعده لع نے افطار کے وقت امام حسن علیہ السلام کو دودھ کے پیالے میں زہر ملا کر دیا- امام علیہ السلام نے دودھ سے پیا اور محسوس کیا کہ یہ زہر تھا- امام حسن علیہ السلام نے فرمایا: "تو نے مجھے قتل کیا، خدا تجھے قتل کرے، خدا کی قسم تیری آرزو کبھی پوری نه ھو گی، تم ذلیل ھوگی." مصائب آل محمد، صفحہ 76 اللهم العن قتلة الامام الحسن المجتبٰیؑ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕0,00%
- 11 авг.ﺯﯾﻨﺐ ﺑﻨﺖ ﺣﺎﺭﺙ، ﺳﻠّﺎﻡ ﺑﻦ ﻣﺸﮑﻢ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﺟﻨﮓ ﺧﯿﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭﮮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ، ﻧﮯ ﺑﮭﯿﮍ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺣﺼﮧ ﮐﻮ ﺯﮨﺮ ﺁﻟﻮﺩ ﮐﯿﺎ ﺟﺴﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡؐ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﮦ ﮔﻮﺷﺖ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮؐ ۖﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ. ﺁﻧﺤﻀﺮﺕۖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻟﻘﻤﮧ ﺑﮭﯽ ﺗﻨﺎﻭﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖؐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﯾﮧ ﻏﺬﺍ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺯﮨﺮﺁﻟﻮﺩ ﮨﮯ. ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺑﺮﺍﺀ ﮐﮧ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻟﻘﻤﮧ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ. 🔹️ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮمؐ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻠﺖ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﺸﺮ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ: ﯾﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺍﺳﯽ ﻟﻘﻤﮧ ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﯿﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ. 🔹️ ﺟﺐ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕؐ ﻧﮯ زہر دینے ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﺗﻮ اس ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ آپ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ہیں ﺗﻮ ﺯﮨﺮ سے ﺁﮔﺎﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻭﺭﻧﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ. 🔹️ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺆﺭﺧﯿﻦ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡۖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﯾﺎ ﺍﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ؟ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ: ﺩﻭ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﯾﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡۖ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭﺟﺐ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺑﺮﺍﺀ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻗﺼﺎﺹ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ. 🔹️ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡۖ ﮐﻮ ﺯﮨﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕۖ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﯿﺎ. (ﺍﻟﻤﻐﺎﺯﯼ: ٦٧٩٢) 🔹️ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡۖ ﮐﻮ ﺯﮨﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﺆﺭﺧﯿﻦ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮨﮯ. ﺍﺑﻦ ﺍﺣﺎﻕ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ: ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡۖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻏﺬﺍ ﮐﺎ ﻟﻘﻤﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ. ﻟﯿﮑﻦ ﻭﺍﻗﺪﯼ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ: ﺁﻧﺤﻀﺮﺕۖ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻏﺬﺍ ﮐﮭﺎﺋﯽ. ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺿﺢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺸﺮ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﻮﺕ ﮨﻮﺋﮯ. ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺻﻞ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡۖ ﮐﯽ ﺭﺣﻠﺖ ﮐﻮ ﻣﺆﺭﺧﯿﻦ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ. 📚 (ﺳﯿﺮﮦٔ ﮨﺸﺎﻡ: ﺝ٢، ﺹ٣٣٧۔ ﺍﻟﻤﻐﺎﺯﯼ: ﺝ٢، ﺹ٦٧٧۔ ﺍﻟﻄﺒﻘﺎﺕ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼ: ﺝ٢، ﺹ٨٢ ﺍﻭﺭ ١٥٤۔ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﻟﯿﻌﻘﻮﺑﯽ: ﺝ١، ﺹ٣٧٥۔ ﺍﻟﺘﻨﺒﯿﮧ ﺍﻻﺷﺮﺍﻑ: ٢٢٤۔ ﺟﺎﻣﻊ ﺍﻟﺴﯿﺮﺓ: ١٦٩۔ ﺍﻟﺮﻭﺽ ﺍﻻٔﻧﻒ: ﺝ٦، ﺹ٥٧١۔ ﺍﻟﺮﻭﺽ ﺍﻻٔﻧﻒ: ﺝ٦، ﺹ٥٧١.) 🔲 شھادت یا رحلت: رسولخداؐ کی مظلومیت میں سے من جملہ ایک یہ بھی ھے کہ آپ کی شھادت کے موضوع کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اور لوگوں کے درمیان آپ کی رحلت مشھور ھے. درحالانکہ کتب سیرہ و حدیث میں آپؐ کی زھر سے شھادت کی تصدیق ھوتی ھے اور اس موضوع پر حد تواتر تک احادیث ذکر ہوئی ھیں. ان میں سے من جملہ یہاں ذکر کی جاتی ھیں۔۔۔ 💧1= ابن سعد کہتا ھے کہ پیامبرؐ مسموم اس دنیا سے گئے اور ان کی عمر 63 سال تھی. 💧2= علامہ حلی نے رسولخداؐ کی شھادت کی بوسیلہ زھر تایید کی ھے. 💧3= کتاب جامع الرواہ میں آیا ھے کہ پیامبرؐ مدینہ میں زہر کی وجہ سے شھید ھوئے. 💧4= شیخ طوسی بھی فرماتے ھیں کہ رسول اکرمؐ دھم ھجری کو مسموم شھید ھوئے. 💧5= بھیقی نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ھے کہ عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ میں 9 بار قسم کھاؤں کہ آپؐ رحلت کر گئے میرے لیے اس سے محبوب تر یہ ھے کہ میں کہوں کہ آپ رحلت نہیں کر گئے کیونکہ خداوند نے آپؐ کو شھید قرار دیا ھے. 💧6= حاکم نیشاپور نے رسولخداؐ کی زہر سے شھادت کی تایید کی اور اس قول کی نسبت شعبی سے دی. 📚 حوالہ جات: ١-المجدد فی الانساب. محمد بن محمد علوی ص۶. ٢-منتهی المطلب حلی ج۲ ص۸۸۷. ٣-جامع الرواه محمد علی اردبیلی ج۲ص۴۶۳. ٤-تهذیب الاحکام ج۶ص۱ و بحار الانوار ج۲۲ص۵۱۴. ٥-السیره النبویه ابن کثیر دمشقی ج۴ص۴۴۹. ٦-المستدرک. ج۳ص۶۰. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕0,00%
- 11 авг.🏴 شہادت ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ مصطفٰیؐ 🏴 پیغمبرِاسلامؐ کی شہادت کے موقع پر خصوصاً امام زمانہ عج کی خدمت میں اور عموماً تمام عالم اسلام کی خدمت میں ہدیۂ تعزیت پیش کرتے ہیں۔ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺍﺳﻢ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﻣﺤﻤﺪؐ، ﺁﭖؐ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﺍﺳﻢ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺁﭖؐ کی ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﺎ ﺍﺳﻢ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﺁﻣﻨﮧ ﺑﻨﺖ ﻭﮨﺐ ﺗﮭﺎ. ﺁﭖؐ ﻋﺎﻡ ﺍﻟﻔﯿﻞ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻃﻠﻮﻉ ﺻﺒﺢ ﺻﺎﺩﻕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺘﺮﮦ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ، ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻋﺎﺩﻝ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﺴﺮﯼ ﻧﻮﺷﯿﺮﻭﺍﻥ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺗﮭﺎ. ﺟﺐ ﺁﭖؐ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺑﺮﺱ ﮐﮯ ﮨﻮﺋﮯ، 27 ﺭﺟﺐ ﺍﻟﻤﺮﺟﺐ ﮐﻮ ﻣﺒﻌﻮﺙ ﺑﺮﺳﺎﻟﺖ ﮨﻮﺋﮯ. ﺁﭖؐ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﻗﺖ ﻣﮑﮧ ﮐﮯ ﺣﺮﺍﺀ ﻧﺎﻣﯽ ﭘﮩﺎﮌ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺎﻡ ﺧﻠﻮﺕ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﺟﻨﺎﺏ ﺟﺒﺮﺋﯿﻞ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﺭﺕ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ. "ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ. ﺍﻗﺮﺍ ﺑﺎﺳﻢ ﺭﺑﮏ ﺍﻟﺬﯼ ﺧﻠﻖ، ﺧﻠﻖ ﺍﻻﻧﺴﺎﻥ ــــــــــــــــــ." ﺍﺱ ﺣﮑﻢ ﮐﮯﺑﻌﺪ ﺁﭖؐ ﭘﯿﺎﻡ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻣﮑﮧ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﺳﮯ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﻣﮑﮧ ﮐﯽ ﮔﻠﯽ ﮐﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ. "ﺍﯾﮭﺎ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻗﻮﻟﻮﺍ ﻻﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ ﻓﺘﻔﻠﺤﻮﺍ." (ﻟﻮﮔﻮ! ﻻﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎﺅ) ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﮨﻞ ﻣﮑﮧ ﻣﺸﺮﮎ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﺁﭖؐ ﮐﺎ ﻧﻈﺮﯾﮧ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﺮﺍﻧﮕﯿﺨﺘﮧ ﮨﻮﺋﮯ، ﺁﭖؐ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺫﯾﺘﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮟ، ﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﺁﭖؐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: "ﻣﺎ ﺍﻭﺫﯼ ﻧﺒﯽ ﻣﺜﻞ ﻣﺎ ﺍﻭﺫﯾﺖ." ﺟﺘﻨﯽ ﺍﺫﯾﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﺒﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻣﺖ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﺫﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﯽ. ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻟﺒﯿﮏ ﮐﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﻡﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼ ﺗﮭﯿﮟ، ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺑﮭﯽ ﺣﻠﻘﮧ ﺑﮕﻮﺵ ﺍﺳﻼﻡ ﮨﻮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺌﮯ. ﺟﺐ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﻣﮑﮧ ﮐﯽ اﯾذﺍﺭﺳﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖؐ ﻧﮯ ﻣﮑﮧ ﺳﮯ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺪینہ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺴﮑﻦ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﻣﺖ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺍﺳﻼﻡ ﻭﺳﯿﻊ ﮨﻮﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩﯼ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﭘﮭﯿﻠﺘﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ، ﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺟﺐ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺭﻭﺋﮯ ﺍﺭﺽ ﭘﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺳﮯ ﺑﻠﻨﺪ، ﺩﯾﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﭘﺮ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺩﯾﻦ ﭘﺮ ﻏﺎﻟﺐ ﺁﮔﯿﺎ. ﻣﺪﻧﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ، ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺴﺎئیوں ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺟﺎﺭﺣﯿﺖ ﮐﮯ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﺟﻨﮕﯽ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺍ. ﮨﺮ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺤﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻧﺼﺐ ﺍﻟﻌﯿﻦ ﺭﺣﻢ، ﻋﻔﻮ ﻭ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖؐ ﮐﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﻃﯿﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺍﺯ ﺭﻭﺋﮯ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﻘﺘﻮﻟﯿﻦ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ، ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺁﻧﺤﻀﻮﺭؐ ﮐﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﯼ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﺷﮩﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺘﻮﻟﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮐﻢ ﻭ ﺑﯿﺶ ﭼﻮﺩﮦ ﺳﻮ ﺍﺳﯽ (1480) ہے. ﺁﭖؐ ﺟﺎﻣﻊ ﺍﻟﻔﻀﺎﺋﻞ، ﺧﺰﯾﻨﮧ ﺷﺮﻑ ﮔﻨﺠﯿﻨﮧ ﮐﺮﻡ، ﻋﻠﻢ ﻭ ﻋﻤﻞ، ﻋﺪﻝ ﻭ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻣﺤﻮﺭ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻣﺎﺿﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺗﺸﺒﯿﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺗﺸﺒﯿﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ، ﯾﮧ ﺗﮭﮯ ﺍﻣﺖ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﻧﺒﯽؐ، ﺟﻦ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﺍﺳﻼﻡ ﮨﮯ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺩﯾﻦ ﮨﺮ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ، ﺟﻦ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﺮ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﻧﺎﺳﺦ ﮨﮯ، ﺑﺎﻃﻞ ﻧﮧ ﺗﻮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻋﻘﺐ ﺳﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﺁﻭﺭ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﺣﮑﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺣﻤﯿﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻧﺎﺯﻝ ﮐﺮﺩﮦ ﮨﮯ. (ﻣﺮﺟﻊ ﻋﺎﻟﯽ ﻗﺪﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍٓﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﻌﻈﻤﯽٰ ﺳﯿﺪ ﺻﺎﺩﻕ ﺷﯿﺮﺍﺯﯼ ﺩﺍﻡ ﻇﻠﮧ ﺍﻟﻌﺎﻟﯽ) 🔲 پیغمبرِاسلامؐ کی زندگی کے آخری لمحات: پیغمبرِاسلامؐ نے اپنی حیات کے آخری لمحوں میں علیؑ کو بلایا اور فرمایا علیؑ میرا سر اپنی آغوش میں لے لو کہ امرِخُدا آن پہنچا ہے۔ اے علیؑ جب میں دنیا میں نہ رہوں تو مجھے غسل دینا اور پہلی بار مجھ پر نماز پڑھنا۔ آپؐ کا سر علیؑ کی گود ہی میں تھا کہ آپؐ رحمت باری سے جا ملے۔ یہ عظیم حادثہ 28 صفر 11 ہجری بروز پیر کو رونما ہوا۔ حضرت علیؑ نے رسولِخداؐ کے پاکیزہ جسم کو غسل دیا، کفن پہنایا اور نماز پڑھی اس عالم میں کہ آنسو آپؐ کی آنکھوں سے رواں تھے اور فرمایا: ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اے اللہ کے رسول،ؐ بیشک آپ کے مرنے سے وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ وہ چیز جو دوسرے پیغمبروں کی موت کے بعد منقطع نہیں ہوئی۔ اگر آپ صبر کا حکم نہ دیتے اور نالہ و فغاں سے منع نہ فرماتے تو میں آپ کے فراق میں اتنا روتا کہ میرے اشکوں کا سر چشمہ خشک ہوجاتا۔ رسولِخداؐ کی رحلت کی خبر نہایت تیزی سے مدینہ میں پھیل گئی، علیؑ جب غسل وکفن میں مشغول تھےاس وقت ایک گروہ پیغمبرِاسلامؐ کے جانشین کا مسئلہ حل کرنے کے لیے سقیفہ میں الجھ رہا تھا۔ غسل دینے کے بعد پہلے علیؑ نے نماز پڑھی پھر مسلمان دستہ دستہ آتے گئے اور نماز پڑھتے گئے، پھر رسولِخداؐ کو مسجد کے پہلو میں آپ کے گھر میں دفن کر دیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔ 📚 تاریخ اسلام، تالیف: مدرسین حوزہ علمیہ قم۔ 🔲 رسولخدا محمد مصطفٰیؐ ﮐﻮ ﺯﮨﺮ ﺩﯾﻨﺎ: ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡؐ ﮐﮯ ﻣﺴﻤﻮﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﻣﻨﺎﺑﻊ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺣﺪ ﺗﮏ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺷﮏ ﻭ ﺷﺒﮧ ﮐﯽ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ. ﻣﺆﺭﺧﯿﻦ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ:0,00%
- 8 авг.https://t.me/islamwitheman/73090,00%
- 8 авг.کیا یہ سچ ہے کہ حضرت عمر دامادِ جناب علی ہیں؟ 1- تاریخ کہتی ہے کہ جب عمر بن خطاب اسلام لائے تو ان کی عمر چالیس 40 برس تھی، اور جب تئیسویں ہجری 26 ذوالحج کو اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کی عمر مبارک 63 برس تھی۔ 2- تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ دعوتِ ذوالعشیرہ یعنی اسلام کی پہلی دعوت کے وقت امام علی کی عمر مبارک 9 برس تھی۔ 3- تمام شیعہ، سنی مورخین کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ امام علی کا جناب فاطمہ زہرا سے نکاح 25 برس کی عمر میں ہوا۔۔۔ یعنی دعوتِ ذوالعشیرہ کے 16 برس بعد۔ 4- یعنی عمر بن خطاب، دعوتِ ذوالعشیرہ کے 7 سال بعد اسلام لائے۔۔۔ یعنی جب انہوں نے کلمہ پڑھا تو اس وقت امام علی کی عمر مبارک 16 برس تھی۔ 5- حضرت عمر کے اسلام لانے کے 9 برس بعد امام علی کا نکاح بحکمِ خدا جناب زہرا سے ہوا۔تمام مورخین نے یہ بھی لکھا کہ امام علیؑ کی شادی کے ایک سال بعد امام حسنؑ کی ولادت باسعادت ہوئی اور 2 برس بعد امام حسینؑ دنیا میں تشریف لائے اور پھر 4 برس بعد سیدہ زینبؑ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ ٹھیک! 6- اہل سنت مورخین کے مطابق جناب ام کلثوم بنت امام علیؑ، جناب زینبؑ کے 2 سال بعد پیدا ہوئیں۔ 7- تو بی بی ام کلثوم کی پیدائش پر عمر بن خطاب کی عمر 55 برس تھی (49+6=55) 9- جناب ام کلثوم کی ولادت کے ٹھیک 8 سال بعد حضرت عمر قتل ہوگئے یعنی 63 سال کی عمر میں (63-55=8) اب نتیجہ نکالتے ہیں۔۔۔ اہل سنت تاریخ دانوں کے مطابق عقدِ ام کلثوم حضرت عمر کے قتل سے 3 سال پہلے ہوا اور سب نے یہ بھی لکھا کہ اس مبینہ نکاح سے حضرت عمر کے ہاں ام کلثوم سے ایک بیٹا بھی پیدا ہوا، جس کا نام زید بن عمر تھا۔ یعنی شادی کے وقت ام کلثوم کی عمر 5 برس ہوئی (8-3=5) لو جی افسانۂ عقدِ ام کلثوم کے موجودہ باراتیوں کا تو جنازہ ہی نکل گیا۔۔۔ ذرا باراتی مجھے بتائیں گے کہ کس عقلی اور منطقی قانون کے تحت 5 برس کی عمر میں کسی بچی کی شادی بھی ہو جائے اور اس سے ایک بچہ بھی پیدا ہو جائے۔۔۔؟؟؟ 🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷0,00%