🌸Salafi Sisters🌸
СтатистикаSharing authentic Islamic ilm based on the Qur'an & Sunnah, following the methodology of the Salaf. Translating & sharing fatwas/content from prominent Salafi scholars Languages: Arabic, English, Urdu, Hindi & Roman Urdu Backup https://t.me/dr_khalidakazi
- Последний пост
- 04:35
- Последнее чтение
- 09:36
- Постов за неделю
- 54
- Всего постов
- 139
- Тип
- открытый
- Язык
- английский
- Категория
- Языки
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- 86
- 1/48двое суток
- 98
- 1/72трое суток
- 106
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
🖊 الميلادُ النبويُّ بصورته المروَّجة لم يثبت عن الكتاب والسنة، ولا عن النبي ﷺ ولا عن الصحابة رضي الله عنهم، فالتقرُّب به إلى الله بدعة. وأما الصلاة والسلام على النبي ﷺ فعبادةٌ عظيمةٌ مشروعة، لكن تخصيصُها بالمولد على الهيئة المحدثة لا أصل له. فالواجب الاقتصار على ما ثبت من صيغ الصلاة والسلام، وترك المحدثات والمنكرات.
без подписи
Assalamu Alaikum wa Rahmatullahi wa Barakatuhu Sawal: Kya iddat wali aurat apne jeth, devar, damad aur jeth o devar ke baligh beton ke saamne aa sakti hai? Kya iddat ki halat mein un ke saath parde ke ahkaam mein koi farq hoga? Wa Alaikumus Salam wa Rahmatullahi wa Barakatuhu Al-Jawaab bi 'Awnillahil Wahhab: Aurat ke liye iddat aur aam halaat mein mahram aur ghair-mahram ke ahkaam mein koi farq nahin hai. Lehaza jo shakhs aam halaat mein us ke liye ghair-mahram hai, woh iddat ke dauran bhi ghair-mahram hi rahega. Aurat apne baligh jeth aur devar ke saamne bhi parda karegi, kyunki woh us ke liye ghair-mahram hain. Iddat ki wajah se un ke hukm mein koi tabdeeli nahin aati. Balke Rasulullah ﷺ ne devar ke bare mein sakht tanbeeh farmayi hai. Uqbah bin Amir رضي الله عنه se riwayat hai ke Rasulullah ﷺ ne farmaya: «إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ: الْحَمْوُ الْمَوْتُ» Tarjuma: Uqbah bin Amir رضي الله عنه se riwayat hai ke Rasulullah ﷺ ne farmaya: "Awraton ke paas jaane se bacho." Ek Ansari shakhs ne arz kiya: "Allah ke Rasool! Shohar ke rishtedaron ke bare mein aap ka kya hukm hai?" Aap ﷺ ne farmaya: "Shohar ka rishtedaar maut hai." (Sahih al-Bukhari: 5232, Sahih Muslim: 2172) Lehaza jeth aur devar ke saath bhi ghair-mahram ke ahkaam hi honge aur un se parda karna wajib hoga. Albatta damad aurat ke liye abadi mahram hai, is liye aurat apne damad se iddat aur ghair-iddat dono halaat mein parda nahin karegi. Allah Subhanahu wa Ta'ala ka irshad hai: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ Tarjuma: "Tum par tumhari maayen, tumhari betiyan, tumhari behnen, tumhari phoophiyaan, tumhari khaalaen, bhatijiyan, bhanjiyan, tumhari woh maayen jinhon ne tumhein doodh pilaya, tumhari razaai behnen, tumhari biwiyon ki maayen, aur tumhari un biwiyon ki betiyan jin se tum ne izdwaji ta'alluq qaim kiya ho aur jo tumhari parwarish mein hon, haram ki gayi hain. Phir agar tum ne un se izdwaji ta'alluq qaim na kiya ho to tum par koi gunah nahin, aur tumhare sulbi beton ki biwiyan, aur yeh bhi ke tum do behnon ko ek nikah mein jama karo, magar jo pehle guzar chuka. Beshak Allah bahut bakhshne wala, nihayat rahm karne wala hai." (An-Nisa: 23) Lehaza aurat ka damad us ke liye mahram hai, jabke jeth, devar aur un ke baligh bete ghair-mahram hain. Is liye iddat ho ya iddat na ho, jeth, devar aur un ke baligh beton se parda karna wajib hai, jabke damad se parda nahin hai. Wallahu Ta'ala A'lam. ✍️ Dr. Tariq Safiur Rahman Mubarakpuri Hafizahullah #أحكام_الحجاب_والسفور #أحكام_العدة_والحداد https://t.me/drtariq_mubarakpuri
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته السؤال: کیا عدت والی عورت اپنے جیٹھ، دیور، داماد اور جیٹھ و دیور کے بالغ بیٹوں کے سامنے آ سکتی ہے؟ کیا عدت کی حالت میں ان کے ساتھ پردے کے احکام میں کوئی فرق ہوگا؟ وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته الجواب بعون الله الوهاب: عورت کے لیے عدت اور عام حالات میں محرم اور غیر محرم کے احکام میں کوئی فرق نہیں ہے۔ لہذا جو شخص عام حالات میں اس کے لیے غیر محرم ہے، وہ عدت کے دوران بھی غیر محرم ہی رہے گا۔ عورت اپنے بالغ جیٹھ اور دیور کے سامنے بھی پردہ کرے گی، کیونکہ وہ اس کے لیے غیر محرم ہیں۔ عدت کی وجہ سے ان کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ بلکہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے دیور کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ عقبہ بن عامر رضی الله عنه سے روایت ہے رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ: الْحَمْوُ الْمَوْتُ» ترجمہ: عقبہ بن عامر رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: "عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔" ایک انصاری شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شوہر کے رشتہ داروں کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: "شوہر کا رشتہ دار موت ہے۔" (صحيح البخاري: ٥٢٣٢، صحيح مسلم: ٢١٧٢) لہذا جیٹھ اور دیور کے ساتھ بھی غیر محرم کے احکام ہی ہوں گے اور ان سے پردہ کرنا واجب ہوگا۔ البتہ داماد عورت کے لیے ابدی محرم ہے، اس لیے عورت اپنے داماد سے عدت اور غیر عدت دونوں حالتوں میں پردہ نہیں کرے گی۔ اللہ سبحانہ وتعالى کا ارشاد ہے: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ ترجمہ: "تم پر تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا، تمہاری رضاعی بہنیں، تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری ان بیویوں کی بیٹیاں جن سے تم نے ازدواجی تعلق قائم کیا ہو اور جو تمہاری پرورش میں ہوں، حرام کی گئی ہیں، پھر اگر تم نے ان سے ازدواجی تعلق قائم نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں، اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں، اور یہ بھی کہ تم دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرو، مگر جو پہلے گزر چکا۔ بے شک الله بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔" (النساء: 23) لہذا عورت کا داماد اس کے لیے محرم ہے، جبکہ جیٹھ، دیور اور ان کے بالغ بیٹے غیر محرم ہیں۔ اس لیے عدت ہو یا عدت نہ ہو، جیٹھ، دیور اور ان کے بالغ بیٹوں سے پردہ کرنا واجب ہے، جبکہ داماد سے پردہ نہیں ہے۔ والله تعالى أعلم د. طارق صفي الرحمن المباركفوري حفظه الله #أحكام_الحجاب_والسفور #أحكام_العدة_والحداد https://t.me/drtariq_mubarakpuri
Fatawa Eid Meelad Dr. Fadhlur Rahman Madani Rahimahullah https://t.me/kkews001/7880 https://t.me/kkews001/7881 https://t.me/kkews001/7882 https://t.me/kkews001/7883 https://t.me/kkews001/7884 https://t.me/kkews001/7885 https://t.me/kkews001/7886 https://t.me/kkews001/7887 https://t.me/kkews001/7889 https://t.me/kkews001/7890 https://t.me/kkews001/7891 https://t.me/kkews001/7892 اسے نشر کریں بارک اللہ فیکم
عید میلاد کی ایک فاسد دلیل سوال: یہاں بعض لوگ بتاتے ہیں کہ کوئی ابن حجر مکی ہیں، ان کی ایک کتاب ”التحفۃ الکبری“ ہے، اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ: "جو عید میلاد النبی منائے گا، وہ میرے ساتھ جنت میں جائے گا"۔ اس سے وہ عید میلاد النبی کی مشروعیت کے لیے استدلال کرتے ہیں، تو ان کو کیا جواب دیا جائے گا؟ جواب: ان سے پوچھئے کہ ادلۂ شرعیہ کیا ہیں؟ اگر وہ بتائیں کہ ادلۂ شرعیہ: کتاب و سنت، اجماع اور قیاس ہیں، یا وہ نہ بتا سکیں تو آپ انہیں یہ بتائیں، پھر وضاحت کریں کہ: ابن حجر مکی کا یہ قول (بشرط صحت) ان چاروں میں سے نہیں ہے، اس واسطے حجت نہیں ہے۔ پھر پوچھئے: ابن حجر مکی کے لیے کس نے جنت کی ضمانت دی ہے؟ کیا کہیں صحیح حدیث میں ان کے لیے جنت کی بشارت ہے؟ پھر انہیں کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ اپنے ساتھ جنت میں عید میلاد النبی منانے والے بدعتیوں کو بھی لے جا سکیں؟ بدعتیوں کو تو دور سے ہی (رسول اللہ ﷺ کی زبانی): "سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي" (متفق عليه) کہہ کر بھگا دیا جائے گا۔ بہرحال ان لوگوں کا یہ استدلال فاسد ہے، اور ابن حجر مکی رحمہ اللہ کے قول کی صحت اور ثبوت بھی محلِ غور اور قابلِ تحقیق ہے۔ 📌نعمة المنان مجموع فتاوى فضيلة الدكتور فضل الرحمن جلد اول، صفحہ: 235–236 #البدع_والمحدثات https://t.me/kkews001
مروجہ میلاد النبی ﷺ میں صلاۃ و سلام پڑھنا سوال: میلاد شریف میں صلاۃ و سلام پڑھنا کیسا ہے؟ جواب: مروجہ میلاد کا ثبوت: 🔹کتاب و سنت 🔹عہدِ نبوی 🔹اور عہدِ صحابہ سے نہیں ہے، اس واسطے اس کو عبادت اور ثواب سمجھ کر کرنا بدعت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ" (سنن النسائی: 3 /188، رقم: 1578، وقال الألبانی: صحیح) یعنی: دین میں ہر نئی ایجاد کردہ چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں پہنچانے والی ہے۔ رہا نبی ﷺ پر درود و سلام، تو یہ بذاتِ خود ایک بہت ہی نیک اور باعثِ ثواب عمل ہے، مگر میلاد میں مروجہ طریقے پر پڑھنا بے ثبوت ہے۔ نیز آج کچھ لوگوں نے بہت سے صلاۃ و سلام اپنی جانب سے گھڑ لیے ہیں، جن کا احادیث سے کوئی ثبوت نہیں۔ اس لیے مروجہ میلاد اور من گھڑت صلاۃ و سلام کو ترک کر کے صرف مسنون درود و سلام پر اکتفا کرنا چاہئے۔ 📌نعمة المنان مجموع فتاوى فضيلة الدكتور فضل الرحمن جلد اول، صفحہ: 235–236 #البدع_والمحدثات https://t.me/kkews001
عید میلاد النبی کی مناسبت سے بلڈ کیمپ لگانا سوال: عید میلاد النبی اور بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے ایک جماعت نے بلڈ کیمپ لگا رکھا ہے، اور اپنے پمفلٹ میں یہ لکھ رکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دین کی خاطر خون اور جان کی قربانی پیش کی ہے، اس واسطے آپ لوگ بھی خون کا عطیہ دیجئے۔ تو کیا اس دن خون کے عطیہ کی خصوصی فضیلت سمجھ کر یہ کام کرنا درست ہے؟ جواب: یقیناً رسول اللہ ﷺ نے دین کی خاطر بڑی قربانیاں دیں ہیں، اور غزوہ اُحد میں آپ کے دندان مبارک بھی شہید ہوئے، اور چہرۂ مبارک زخمی اور لہو لہان ہوا۔ لیکن اس طرح خون کا عطیہ دینا خاص طور سے 12 ربیع الاول کو آپ ﷺ سے ثابت نہیں، اس واسطے اس دن خون کے عطیہ کی کوئی خاص فضیلت نہیں ہے۔ البتہ بوقتِ ضرورت کسی مریض کو خون کا عطیہ دینا جائز ہے، اس کے لئے کسی خاص دن کی قید نہیں ہے۔ لہٰذا اگر: صحت ٹھیک ہے اور ڈاکٹر کے مشورہ کے مطابق آپ کسی مریض کو خون کا عطیہ دے سکتے ہیں تو ڈاکٹر کی نگرانی میں آپ خون کا عطیہ دے سکتے ہیں، اور حاجت کی شدت کے اعتبار سے اس کی اہمیت اور نیکی بڑھ جائے گی۔ مگر 12 ربیع الاول کی مناسبت سے اس کی کوئی خاص اہمیت اور فضیلت نہیں ہے۔ اگر لوگ اس عقیدہ کے ساتھ یہ پروگرام چلا رہے ہوں تو اس سے اجتناب کرنا ہی اولیٰ ہے۔ 📌 نعمة المنان مجموع فتاوى فضيلة الدكتور فضل الرحمن جلد اول، صفحہ: 236-237 #البدع_والمحدثات https://t.me/kkews001
بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے ہری جھنڈیاں بنانے والوں کے ہاتھوں ہرے کپڑے فروخت کرنا سوال: ہمارے بڑے بھائی صاحب کپڑے کی دکان پر 12 ربیع الاول کی مناسبت سے ہری جھنڈیاں بنانے والوں کے ہاتھوں ہرے کپڑے بیچتے ہیں، تو کیا ایسے موقع پر ان لوگوں سے ہرے کپڑے بیچنا چاہئے یا نہیں؟ جواب: اگر معلوم ہے کہ خریدنے والا اس کپڑے سے 12 ربیع الاول کو عید میلاد النبی کے جلوس وغیرہ کے لئے جھنڈیاں ہی بنائے گا، تو اس کے ہاتھ اسے نہیں بیچنا چاہئے، کیونکہ: ▫️عید میلاد النبی منانا ▫️اس مناسبت سے ہری جھنڈیاں لگانا ▫️چراغاں کرنا ▫️جلوس نکالنا وغیرہ سب بدعت ہیں، اور ان کے ہاتھوں ہرے کپڑے کے فروخت کرنے میں بدعت میں تعاون ہے، جو شرعاً درست نہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (المائدة: 2) اور نیکی اور تقویٰ کے کام میں تعاون کرو، اور گناہ و سرکشی کے کام میں تعاون نہ کرو۔ اس واسطے اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔ د. فضل الرحمن المدني رحمه الله 📌 نعمة المنان مجموع فتاوى فضيلة الدكتور فضل الرحمن جلد اول، صفحہ: 237 #البدع_والمحدثات https://t.me/kkews001
سوال: مجلس میلاد میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت کے ذکر کے وقت جو قیام بہت سے لوگ کرتے ہیں، یہ قیام اگر اس عقیدہ کے ساتھ ہو کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ کی روح مبارک تشریف لاتی ہے تو کیا حکم ہے؟ اور اگر یہ عقیدہ نہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ جواب: اگر یہ قیام اس اعتقاد کے ساتھ ہو کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ کی روح مبارک تشریف لاتی ہے تو بہت سے علماء کے نزدیک یہ شرک ہے۔ قاضی شہاب الدین رحمہ اللہ اپنی کتاب ”تحفۃ القضاۃ“ میں فرماتے ہیں: "وما يعمله الجهال على رأس كل حول في شهر ربيع الأول ليس بشيئ، ويقومون عند ذكر مولده ﷺ ويزعمون أن روحه ﷺ يجيئ، فزعمهم باطل، بل هذا الإعتقاد شرك، وقد منع الأئمة الأربعة مثل هذا" انتهى. یعنی: ہر سال جاہل لوگ ربیع الأول کے مہینے میں جو اعمال (عید میلاد النبی وغیرہ) کرتے ہیں، وہ بے اصل ہیں۔ اور جو آپ کی ولادت کے ذکر کے وقت قیام کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کی روح تشریف لاتی ہے تو ان کا یہ قول باطل اور یہ عقیدہ شرک ہے، اور چاروں أئمہ کرام نے اس قسم کی چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ اور اگر یہ قیام بغیر اس عقیدہ کے ہو کہ آپ ﷺ کی روح تشریف لاتی ہے تو بدعت ہے۔ قاضی نصیر الدین رحمہ اللہ اپنی کتاب ”طریقۃ السلف“ میں لکھتے ہیں: "وقد أحدث بعض جهال المشايخ أمورا كثيرة لا تجد لها أثرا في كتاب ولا سنة، منها القيام عند ذكر ولادة سيد الأنام عليه التحية والسلام" یعنی: بعض جاہل پیروں نے بہت سی ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں جن کا کتاب و سنت میں کوئی نام و نشان نہیں ملتا۔ انہیں میں سے سید الأنام علیہ التحیۃ والسلام کی ولادت کے ذکر کے وقت سب کا کھڑا ہوجانا ہے۔ اور سیرت شامی میں ہے: "جرت عادة كثير من المحبين إذا سمعوا بذكر وضعه ﷺ أن يقوموا تعظيما له ﷺ، وهذا القيام بدعة لا أصل لها" یعنی: بہت سے محبین کی عادت ہو چکی ہے کہ جب وہ آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر سنتے ہیں تو آپ ﷺ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں، اور یہ کھڑا ہونا بدعت ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ: آپ ﷺ کی ولادت کے ذکر کے وقت کا قیام اگر اس عقیدہ کے ساتھ ہو کہ آپ کی روح مبارک وہاں تشریف لاتی ہے تو شرک ہے۔ اور اگر اس عقیدہ کے بغیر ہو تو بدعت ہے۔ اور ہر بدعت ضلالت ہے، جیسا کہ حدیث نبوی ہے: "كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ" ہر بدعت گمراہی ہے۔ اس واسطے اس قسم کی مجلسوں اور قیامِ تعظیمی سے اجتناب کرنا چاہئے۔ 📚 (انظر للتفصیل: فتاوی نذیریہ: 1 /214-215) 📌عيد ميلاد النبي ﷺ كى شرعى حیثیت تالیف: دکتور فضل الرحمن المدنی حفظه الله #البدع_والمحدثات https://t.me/kkews001
سوال: وقتِ ذکرِ ولادتِ نبوی قیام کرنا و ہاتھ باندھنا کیسا ہے؟ اور آج کل بازاروں میں جو میلاد نامے ملتے ہیں، ان کے سننے اور پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ جواب: بوقتِ ذکرِ ولادتِ نبوی قیام کرنا و ہاتھ باندھنا بدعت و ناجائز ہے، کیونکہ کسی دلیلِ شرعی سے اس کا ثبوت نہیں۔ اور اگر یہ قیام کرنا و ہاتھ باندھنا اس عقیدہ اور نیت کے ساتھ ہو کہ رسول اللہ ﷺ بوقتِ ذکرِ ولادت تشریف لاتے ہیں اور مجلسِ میلاد میں حاضر ہوتے ہیں، تو یہ شرک ہے، کیونکہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہونے (اپنے علم و قدرت کے اعتبار سے) کی صفت اللہ تعالی کے سوا اور کسی میں نہیں پائی جاتی ہے۔ نیز یہ بات بھی محلِّ غور ہے کہ اگر ایک ہی وقت میں کئی جگہ مجلسِ میلاد کا انعقاد اور آپ کی ولادت کا ذکر ہو تو ان سب جگہوں پر بیک وقت آپ کی روح کیسے تشریف لائے گی؟ رہا حکم آج کل بازاروں میں نظم و نثر میں موجود میلاد ناموں کا، تو ان کا خریدنا، پڑھنا اور سننا سب ممنوع اور حرام ہے، کیونکہ وہ: ناجائز مضامین، جھوٹ، افتراء، اور موضوع روایات و حکایات سے پُر ہوتے ہیں، اور ان کو پڑھنے سے گمراہی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اس کی صراحت علماء محققین نے کی ہے۔ 📚 (دیکھئے: فتاوی نذیریہ: 1 /215-232) 📌 عيد ميلاد النبي ﷺ كى شرعى حیثیت تالیف: دکتور فضل الرحمن المدنی رحمه الله #البدع_والمحدثات https://t.me/kkews001
سوال: یہ مجالس میلاد جن کا انعقاد ماہ ربیع الأول میں بکثرت ہوتا ہے، جائز و مستحب ہیں یا بدعت و حرام؟ جواب: ان مجالس کا انعقاد بدعت و ضلالت ہے، کیونکہ ان کے انعقاد کی کتاب و سنت اور اجماع و قیاس سے کوئی دلیل نہیں ہے، اور خیر القرون کے بہت بعد سلطان ابو سعید مظفر کے زمانے میں عمر بن محمد نامی ایک شخص نے سب سے پہلے اسے ایجاد کیا ہے۔ اور جو کام اس طرح کا ہو وہ بدعت و ضلالت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ" دین میں ہر نئی نکالی گئی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ علامہ عبدالرحمن مبارکپوری صاحب تحفہ الاحوذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "عقد مجالس الميلاد الشائعه في هذا الزمان بدعة لامرية في كونها بدعة، لأن عقدها أمر محدث، وكل محدث بدعة، فعقدها بدعة، اما الصغرى فظاهرة، فان هذه المجالس لم تكن تعقد في الزمن النبوي، ولا في زمن من بعده من الصحابة والتابعين، والأئمة المجتهدين رضي الله تعالى عنهم أجمعين، وأيضا هذه المجالس المشتملة على أنواع من المفاسد والبلاياء والشرور والرزايا، لا يستنبط جوازها البتة، لا من كتاب الله ولا من سنة رسول الله ﷺ، ولا من الإجماع ولا من القياس الصحيح، فهل هذا إلا من محدثات الأمور، وأما الكبرى فقد قال رسول الله ﷺ: "إِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ" رواه أحمد وأبو داؤد والترمذي وابن ماجه، كذا في المشكاة في باب الإعتصام، وأيضا قال ﷺ: "شرر الأمور محدثاتها، وكل بدعة ضلالة" رواه مسلم، كذا في الباب المذكور، وقد صنف علماء اهل الحديث في الرد على هذه المجالس والإنکار علیها رسائل عديدة، فمن شاء الإطلاع على هذه المسألة مع مالها وما عليها، فليطالع تلك الرسائل، والله أعلم. كتبه محمد عبد الرحمن المبارکفوري عفا الله عنه اور اس پر علامہ سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کی تصدیقی مہر ہے، نیز انہوں نے بھی ایک فتویٰ فارسی میں لکھا ہے جس میں مجلس میلاد کو بدعتِ سیئہ کہا ہے، اور اس بارے میں ابن الحاج کا قول المدخل سے اور علامہ تاج الدین فاکہانی کا قول ان کے رسالہ سے نقل کیا ہے، جو اس طرح ہیں: "قال ابن الحاج في المدخل: ومن جملة ما احدثوه من البدع مع اعتقادهم أن ذلك من أكثر العبادات وإظهار الشعائر، ما يفعلونه في شهر (ربيع الأول) من المولد، وقد احتوى ذلك على بدع ومحرمات." انتهى. وقال تاج الدين الفاكهاني في رسالته: "لا أعلم لهذا المولد أصلا في كتاب ولا سنة، ولا ينقل عمله عن أحد من علماء الأمة الذين هم القدوة في الدين المتمسكون بآثار المتقدمين، بل هو بدعة أحدثها البطالون، وشهوة نفس اعتنى بها الأكالون." انتهى. (فتاوی نذیریہ: 1 /221-223) اور مولانا عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کے فتوے کا خلاصہ یہ ہے کہ: یہ مجالس میلاد بدعت ہیں اور ان کے بدعت ہونے میں کسی قسم کا کلام نہیں ہے، کیونکہ یہ دین میں نیا کام ہے، اور دین میں نئے نکالے گئے کام بدعت ہیں۔ اس مقدمہ کا صغری تو ظاہر ہے، کیونکہ یہ مجالس رسول ﷺ اور صحابہ و تابعین اور تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین کے زمانے میں نہیں ہوتی تھیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی برائیاں اور مفاسد موجود ہیں جن کو نہ قرآن، نہ اجماعِ صحابہ، اور نہ قیاسِ صحیح سے مستنبط کیا جا سکتا ہے، تو یہ نیا کام ٹھہرا۔ اور کبری یہ کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: "نئے کاموں سے بچو کہ وہ بدعت ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔" اور یہ فرمایا: "بدترین کام دین میں نئے نکالے ہوئے کام ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے" لہٰذا یہ بھی گمراہی ہے۔ علماء نے اس کی تردید میں بہت سے رسائل تصنیف کئے ہیں، اس کی پوری تفصیل مطلوب ہو تو ان کا مطالعہ کریں۔ علامہ سید نذیر حسین محدث دہلوی نے ابن الحاج کی جو عبارت نقل کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ: ان بدعات میں سے جن کو لوگ اکثر عبادت اور شعائر اللہ سمجھتے ہیں، ربیع الاول کے مہینہ میں مجالس میلاد کا انعقاد ہے، جس میں کئی طرح کی بدعتیں اور حرام امور ہیں۔ اور تاج الدین فاکہانی کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ: اس میلاد کا کوئی اصل نہ کتاب و سنت میں ہے اور نہ ہی یہ سلف صالحین سے منقول ہے، بلکہ یہ بدعت ہے جس کو باطل پرستوں اور پیٹ کی پوجا کرنے والوں نے ایجاد کیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ: مجالس میلاد کا انعقاد بدعت اور موجبِ گمراہی ہے۔ 📌عيد ميلاد النبي ﷺ كى شرعى حیثیت تالیف: دکتور فضل الرحمن المدنی رحمه الله #البدع_والمحدثات https://t.me/kkews001
سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہر نئی نکالی گئی اور ایجاد کی گئی چیز بدعت و ضلالت ہے، تو اس کی بنا پر عید میلاد النبی ﷺ کو حرام کہنے والے لوگ سائیکل، موٹر سائیکل، اور کار و ہوائی جہاز پر کیوں سوار ہوتے ہیں؟ یہ سب چیزیں بھی تو عہد نبوی اور عہد صحابہ میں نہیں تھیں اور نئی ایجاد کردہ ہیں؟ جواب: ان حضرات نے یا تو حدیثِ نبوی: "كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ" کا مفہوم نہیں سمجھا، اور بالکل جاہل اور ناسمجھ لوگ ہیں، کیونکہ حدیثِ نبوی کا مطلب دین میں نئی نکالی گئی چیزوں کو بدعت کہنا ہے، دنیوی امور میں نہیں۔ اور سائیکل، موٹر سائیکل، نیز کار اور ہوائی جہاز وغیرہ دینی امور میں سے نہیں ہیں کہ انہیں بدعت کہا جا سکے۔ یا پھر یہ لوگ جان بوجھ کر عوام الناس کو بیوقوف بنا رہے ہیں اور انہیں گمراہی پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ أعاذنا الله من ضلالاتهم وإغوائهم۔ 📌عيد ميلاد النبي ﷺ كى شرعى حیثیت تالیف: دکتور فضل الرحمن المدنی رحمه الله #البدع_والمحدثات https://t.me/kkews001
سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ: مجالس میلاد منعقد کرنا بدعت حسنہ ہے، کیونکہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کی شان و شوکت کا اظہار ہوتا ہے، اس کا کیا جواب ہے؟ جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: "وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ" یعنی: ہر بدعت گمراہی ہے۔ اس واسطے بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیئہ کی تقسیم ہی غلط ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث "وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ" کی بنا پر ہر بدعت ضلالت ہے، اور دین میں نئی نکالی گئی کوئی بھی چیز بدعتِ حسنہ نہیں ہے۔ اور جو لوگ بدعت حسنہ کی مثال میں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اپنے عہد میں نمازِ تراویح کو دوبارہ باجماعت پڑھنے کا حکم دینا، حضرت ابو بکر و عثمان رضی اللہ عنہما کا قرآن کریم کو جمع کرنا اور سب کو ایک نسخہ "الأم" پر جمع کرنا پیش کرتے ہیں وہ غلط بیانی کرتے ہیں یا وہم کا شکار ہیں، کیونکہ ان میں سے کوئی بھی بدعت نہیں ہے، بلکہ ان کی اصل موجود ہے۔ مثلاً: نمازِ تراویح باجماعت خود رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی ہے، اور جب اس کو ترک کیا تو یہ کہہ کر ترک کیا کہ: یہ نماز باجماعت اللہ کو بہت پسند ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ میری امت پر فرض نہ کر دی جائے، اور پھر وہ ادا نہ کر سکیں۔ اور جب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد یہ خوف ختم ہوگیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں دوبارہ اس عمل کو جاری کر دیا۔ اسی طرح قرآن کی کتابت و جمع کا کام رسول اللہ ﷺ اپنی حیاتِ مبارکہ میں کراتے تھے، مگر آپ کی حیاتِ مبارکہ میں نزولِ قرآن کا سلسلہ جاری تھا، اس واسطے ایک مصحف کی شکل میں اسے تیار نہ کیا جا سکا۔ اور اسی کو ابو بکر و عثمان رضی اللہ عنہما نے آپ کی وفات کے بعد نہایت اطمینان بخش طریقہ پر کرایا۔ اسی طرح جتنی چیزیں یہ حضرات بدعتِ حسنہ کی مثال میں پیش کرتے ہیں: یا تو ان کی اصل کتاب و سنت میں موجود ہے اور وہ بدعت (یعنی دین میں نئی نکالی ہوئی چیز) نہیں ہیں یا وہ دینی امور میں سے نہیں ہیں، اس واسطے انہیں بدعت کہنا غلط ہے۔ نہ وہ بدعتِ حسنہ ہیں، نہ بدعتِ سیئہ۔ اور اسی قبیل سے موٹر کار، ریل گاڑی، اور ہوائی جہاز وغیرہ کی ایجاد اور استعمال ہے۔ یاد رہے: مجالسِ میلاد کے انعقاد سے اسلام کی شان و شوکت کا نہیں، بلکہ بدعات و خرافات کی شان و شوکت کا اظہار ہوتا ہے، اور مسلمانوں کی دولت اور قیمتی اوقات کا ضیاع ہوتا ہے۔ اور کفار کو اپنے کفریہ و شرکیہ تہواروں کو اس سے زیادہ شان و شوکت کے ساتھ منعقد کرنے کی ترغیب و تحریض ہوتی ہے، جیسا کہ اس کے مناظر ہر جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 📌عيد ميلاد النبي ﷺ كى شرعى حیثیت تالیف: دکتور فضل الرحمن المدنی رحمه الله #البدع_والمحدثات https://t.me/kkews001
سوال: مجالس میلاد کا انعقاد کب سے شروع ہوا؟ جواب: یہ بات سب کے نزدیک مسلم ہے کہ عید میلاد النبی ﷺ یا مجالس میلاد النبی کا انعقاد عہدِ نبوی، عہدِ صحابہ اور عہدِ تابعین—جو خیر القرون ہیں—میں بالکل نہیں ہوتا تھا۔ اس واسطے یہ بہرحال بدعت ہے۔ اور یہ کب ایجاد ہوا؟ کس نے ایجاد کیا؟ اگر نہ معلوم ہو تو بھی اس سے اس کی عدم مشروعیت اور بدعت ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ رہا یہ سوال کہ ان مجالس کا انعقاد کب سے شروع ہوا؟ تو اس سلسلے میں ایک قول یہ ہے کہ موصل کے اربل شہر کا ایک بادشاہ تھا جس کا نام سلطان ابو سعید مظفر تھا۔ اس سلطان کے زمانے میں 604 ھجری میں عمر بن محمد نامی ایک شخص نے مولود کو ایجاد کیا اور بادشاہ مظفر نے اس کو رواج دیا۔ اس کے بعد اس کے بیٹے اور قائم مقاموں نے اس کی خوب ترویج کی۔ یہ بات علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے ”حسن المقصد في عمل المولد“ میں اور علامہ شامی نے سیرت میں لکھی ہے۔ (دیکھئے: فتاوی ثنائیہ : 1 /117) اور ظاہر ہے کہ جس عمل کا چھ سو برس تک اسلام اور مسلمانوں میں نام و نشان نہ رہا ہو، اس کے بدعت ہونے میں ذرا بھی شک نہیں کیا جا سکتا۔ اگر یہ اچھا اور باعثِ ثواب عمل ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اسے ضرور بتاتے اور صحابہ کرام اور تابعین عظام ضرور کرتے۔ 📌 عيد ميلاد النبي ﷺ كى شرعى حیثیت تالیف: دکتور فضل الرحمن المدنی حفظه الله #البدع_والمحدثات https://t.me/kkews001
سوال: عید میلاد منانے والوں کا یہ کہنا کہ چونکہ عیسائی اور دیگر غیر مسلم اقوام اپنے بزرگوں کی پیدائش کے دن جشن مناتی ہیں، اس واسطے ہمیں بھی اپنے نبی اور بزرگوں کی پیدائش کے دن خوشیاں اور جشن منانا چاہئے، کیا درست ہے؟ جواب: ان کی یہ بات قطعا درست نہیں ہے، کیونکہ مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول کی اتباع کرنی چاہئے اور صحابہ کرام اور تابعین عظام کے طریقہ پر چلنا چاہئے، نہ کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین و کفار کے طریقہ پر۔ مسلمانوں کو ﴿اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ﴾ (محمد: ٣٣) کا حکم دیا گیا ہے، اور غیر مسلموں کے طریقہ پر چلنے اور ان کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ارشادِ نبوی ہے: ”مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ“ یعنی: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہیں میں سے ہوگا۔ غور کیجئے کہ یہ لوگ کس طرح مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ اور ہندو بنانا چاہتے ہیں؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا کرنے کی تعلیم دی ہے: ﴿اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ○ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ﴾ (الفاتحة: ٦-٧) "اے اللہ! ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے، ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تیرا انعام ہوا (یعنی انبیاء اور صلحاء کے راستے پر چلا)، اور ان لوگوں کے راستے پر نہ چلا جن پر تیرا غضب نازل ہوا، اور نہ ان کے طریقے پر چلا جو تیری راہ سے بھٹک گئے ہیں (یعنی یہود و نصاریٰ کے طریقے پر نہ چلا، جیسا کہ احادیث میں صراحت ہے)۔" اور یہ حضرات قرآن و حدیث کے برخلاف یہود و نصاریٰ کے طریقے پر خود چل رہے ہیں اور دوسرے مسلمانوں کو بھی چلانا چاہتے ہیں، جو یقیناً بہت بڑی گمراہی اور اسلام دشمنی ہے۔ اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ۔ 📌عيد ميلاد النبي ﷺ كى شرعى حیثیت تالیف: دکتور فضل الرحمن المدنی رحمه الله #البدع_والمحدثات https://t.me/kkews001
ما قولكم فيمن يقول إن السلفية جمعت بين مذهب الخوارج ومذهب المرجئة، لأنهم بزعمهم يكفرون الدعاة ويسكتون عن الكلام في الحكام ومعاصيهم ؟ جواب الشَّــيخ العَلّامَــة رَبِــيعْ بن هَادِي عُمــيْر الــمدخلي-رحمه الله- لا، قل لهم: هذا كذب، والصحيح أن هناك جماعة وهي "الإخوان المسلمين" جمعت بين الرفض وبين الخروج وبين #الإرجاء وبين الاعتزال وبين الاشتراكية وبين العلمانية وبين كل المذاهب الهدامة، هي فرقة "الإخوان المسلمين" كل ما يخطر ببالك من الضلال والبدع تجده في هذا المعرض الكبير، معرض الإخوان، أما نحن -إن شاء الله- فعلى منهج السلف وما نكفر الدعاة، لا نكفر الدعاة حتى احترزنا من تبديعهم، وهذا من أكاذيبهم، ومن خصائصهم الكذب والافتراء والبهت، 🔘 #فالإرجاء نحن نحاربه -والله- الإرجاء موجود في صفوفهم، وفكر #الخوارج -والله- نحاربه -ووالله- في صفوفهم وفي أدمغتهم فكر الخوارج، فكر الخوارج -والله- متغلغل في قلوبهم وفي أدمغتهم ونحن -والله- نحارب فكر الخوارج -ولله الحمد- وبيننا وبينهم ميدان هذه كتبنا وهذه أشرطتنا وهذه مواقفنا [تحارب كل] من الإرجاء والخوارج من كتبنا من أشرطتنا من دروسنا من أي شيء، ونحن مستعدون نخرج كل شيء من هذا المعرض الذي قلته لكم، من هذه الشركة، اذهب عندهم واسألهم عن الإرجاء، هذا كله كذب في كذب، عندهم الآن الأمة مرجئة وهذا مذهب القدرية لأن القدرية -بارك الله فيكم- والزيدية والشيعة يسمون أهل السنة جبرية ومرجئة يسمونهم مجسمة، يلقبونهم بألقاب خبيثة وهم برءاء منها، 🔘 فهل تعرفون الإرجاء أنتم؟ هل نحن نقول: الإيمان لا يزيد ولا ينقص؟ إذا قلنا الآن الأحناف مرجئة ويقولون: الإيمان لا يزيد ولا ينقص، من سيحارب عنهم؟ هم الإخوان المسلمون: تفرقون الأمة! أنتم لماذا تقولون مثل هذا الكلام؟ رأيتم أم لا؟ إذا قلنا: الأحناف يقولون: العمل ليس من الإيمان، والله أول [المدافعين] الإخوان المسلمين، يقول لك: لماذا تتكلم أنت تفرق الأمة، عرفتم، المرجئة داخلين في تنظيماتهم، الإخوان في سوريا والإخوان في الهند وباكستان كلهم مرجئة، منهم، ليسوا منا أبدا، والسلفيون في كل بلد يحاربون الإرجاء، ارجع إلى مؤلفاتنا ماذا تجد فيها ومؤلفات شيوخنا ماذا تجد فيها؟ ومنهجنا ماذا تجد فيه؟ محاربة الإرجاء وإلا مدحه وتطبيقه؟ الآن الإرجاء لهم اصطلاح جديد، كل من لم يأخذ بمذهب سيد قطب، كل من لم يأخذ به فهو مرجئ، فالأمة كلها مرجئة عندهم، ولهذا تجد محمد قطب في مناقشته رسالة سفر -يعني- يقول: الإرجاء هذا ما هو يعني العقيدة التي كان يعرفها الناس، هذه ظاهرة في الأمة من الظواهر هذه الكونية المشهورة، فالأمة قال محمد قطب: إن الإرجاء في أول الإسلام والدفع الإسلامي قوي كان الإرجاء في ظروف عادية ما استطاع أن ينزل إلى الساحة لأن الأمة كلها تطبق الإسلام، ثم مرت فترة فانحسر الإسلام مثلا عشرة في المئة فغطى الإرجاء هذه المساحة ثم على مر الأيام انحسر العمل بالإسلام مثلا خمسين في المئة فغطى الإرجاء هذه المساحة ثم انحسر الإسلام بعد قليل من هذا بالكلية فغطى الإرجاء كل المساحات، يعني الأمة أصبحوا كلهم كفار، لماذا؟ لأن في هذه المناقشة في هذه المقدمة قال: الإرجاء إن لم يكن شرا من العلمانية فهو لا يقل عنها، فالأمة الآن كلها في وضع إن لم تكن فيه شرا من العلمانية فهي لا تقل عن العلمانية، عرفتم، لماذا؟ لأنهم ما يعملون بمنهج سيد قطب ومحمد قطب!، فإذا عملوا بمنهجهما، خلاص ذهب الإرجاء، وإذا خالفوا هذا المنهج لو عملوا ليل نهار وجاهدوا وحاربوا وناضلوا هم مرجئة، عرفت، أي بارك الله فيك، 🔘 المرجئة يقولون: الإيمان تصديق ولا يزيد ولا ينقص والعمل ليس من الإيمان، وغلاتهم يقولون: لا ينفع مع الكفر طاعة ولا يضر مع الإيمان معصية، يعني إذا آمنت خلاص وجد هذا التصديق اذهب ازني اقتل اذبح، لا يضرك! هذا هو الإرجاء يا أخي، هل نحن نقول بهذا المذهب أو نحاربه؟ [ النقد منهج شرعي ]
без подписи
🌸Salafi Sisters🌸 pinned «#أهل_الحديث_هم_أهل_النبي»
#أهل_الحديث_هم_أهل_النبي