tgindex
کیا آپ جانتے ہیں..؟

کیا آپ جانتے ہیں..؟

Статистика

دلچسپ معلومات کے لیے ٹیلیگرام چینل کی لنک اپنے دوستوں میں ضرور شئیر کریں تاکہ وہ بھی معلومات سے مستفید ہو سکیں۔

Последний пост
11 авг.
Последнее чтение
14 авг.
Постов за неделю
0
Всего постов
20
Тип
открытый
Язык
ur
Категория
Познавательное
В каталоге с
14 авг.
Подписчики
531
мало замеров
Замеров пока мало
Сутки
0
0,00%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
150
20 постов
Вовлечённость
28,2%
к подписчикам
Постов в день
0,0
всего 20
Упоминаний
0
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
87
1/48двое суток
99
1/72трое суток
107

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • 🌏 کیا آپ جانتے ہیں؟ *سائنس تو ثبوت مانگتی ہے پھر بھی سائنسدانوں نے بغیر دیکھے ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کے وجود پر کیسے یقین کر لیا ؟* ڈارک میٹر کے شواہد تو بہت واضح ہیں جو ہمیں لگ بھگ ایک سو سال سے معلوم ہیں۔ 1933 میں فرٹز زویکی نے یہ معلوم کیا تھا کہ کہکشاؤں میں ستاروں کے گھومنے کی رفتار اس قدر زیادہ ہے کہ اگر ان کہکشاؤں کا تمام ماس صرف ویزیبل ماس ہے تو انہیں اربوں سال پہلے بکھر جانا چاہیے تھا۔ اس نظر نہ آنے والے ماس کو ڈارک میٹر کا نام دیا گیا۔ ہمیں یہ علم ہے کہ یہ ماس موجود ہے کیونکہ ہم اس کی کشش ثقل کے اثرات واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ البتہ ہمیں یہ علم نہیں ہے کہ ڈارک میٹر کس چیز سے بنا ہے کیونکہ یہ ویزیبل میٹر سے کشش ثقل کے علاوہ اور کسی بھی طریقے سے کوئی تعاملات نہیں کرتا۔ اسی طرح ہم یہ مشاہدہ کر چکے ہیں کہ کہکشاؤں کی ہم سے دور جانے کی رفتار میں اضافہ ہو رہا ہے یعنی کوئی ایسی انرجی موجود ہے جو کہکشاؤں کے درمیان سپیس کے پھیلاؤ کی رفتار کو بڑھا رہی ہے۔ اس انرجی کے نتائج ہم صاف طور پر دیکھ سکتے ہیں (یعنی سائنسی آلات سے سپیس کے پھیلاؤ کی شرح میں اضافہ دیکھ سکتے ہیں)۔ اس انرجی کے بارے میں ہمیں یہ معلوم نہیں کہ یہ کیوں ہے اور کیا ہے۔ گویا اس کی موجودگی کے شواہد تو واضح ہیں، لیکن اس کی موجودگی کی وضاحت میسر نہیں ہے۔ اس لیے یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ سائنس دانوں نے 'بغیر دیکھے' ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی پر 'یقین' کر لیا ہے https://whatsapp.com/channel/0029Va5FSpn9sBIFQ7yD2d0l

  • без подписи

  • 🌏 کیا آپ جانتے ہیں؟ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں "ویڈنگ" (Wedding) اور "میرج" (Marriage) میں واضح فرق ہے، اگرچہ عام بول چال میں لوگ اکثر ان دونوں کو ایک ہی معنی میں استعمال کر دیتے ہیں۔ ان کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے: 📎 *ویڈنگ (Wedding)* سے مراد شادی کی تقریب، جشن یا وہ خاص دن ہے جس میں دو لوگ قانونی یا مذہبی طریقے سے ایک رشتے میں بندھتے ہیں۔ یہ ایک عارضی یا مختصر وقت کا واقعہ (Event) ہے جو چند گھنٹوں یا ایک دو دن تک رہتا ہے۔مثالیں.. شادی کا کارڈ، ہال کی بکنگ، ولیمہ، بارات، دلہن کا لباس اور کھانا۔ یہ سب ویڈنگ کا حصہ ہیں۔ 📎 *میرج (Marriage)* میرج سے مراد وہ قانونی، مذہبی اور سماجی رشتہ (Relationship) ہے جو شادی کے بعد میاں بیوی کے درمیان قائم ہوتا ہے۔ یہ ایک طویل مدتی حالت یا زندگی بھر کا سفر ہے جو شادی کا دن گزرنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ مثالیں..میاں بیوی کا ایک ساتھ رہنا، ذمہ داریاں اٹھانا، باہمی تعجب و محبت اور ازدواجی زندگی۔ یہ سب میرج کا حصہ ہیں۔ (شادی کی تقریب ایک دن کی ہوتی ہے، لیکن ازدواجی رشتہ پوری زندگی کا ہوتا ہے) https://whatsapp.com/channel/0029Va5FSpn9sBIFQ7yD2d0l

  • 🌍 کیا آپ جانتے ہیں؟ دنیا کے 10 نوبیل انعام یافتہ سائنسدان سائنس نے انسانی زندگی کو بدلنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے، اور اس میدان میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والوں کو دنیا کا سب سے باوقار اعزاز نوبیل انعام دیا جاتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں ایسے 10 عظیم سائنسدانوں کے بارے میں جن کی دریافتوں نے دنیا پر گہرا اثر ڈالا۔ 🔬 میری کیوری تابکاری (Radioactivity) پر تحقیق کی بدولت دو مختلف شعبوں میں نوبیل انعام حاصل کرنے والی پہلی شخصیت بنیں۔ 🧠 البرٹ آئن اسٹائن فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کی وضاحت پر نوبیل انعام حاصل کیا، جبکہ نظریۂ اضافیت نے سائنس میں انقلاب برپا کیا۔ 🧬 الیگزینڈر فلیمنگ پینسلین دریافت کر کے لاکھوں جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 🧪 ڈوروتھی ہوڈکن ایکس رے کرسٹل گرافی کے ذریعے اہم حیاتیاتی مالیکیولز کی ساخت دریافت کی۔ 🌌 چندر شیکھر وینکٹ رامن روشنی کے بکھراؤ پر تحقیق کے لیے نوبیل انعام حاصل کیا، جسے آج "رامن ایفیکٹ" کہا جاتا ہے۔ 🦠 باربرا میک کلنٹاک جینیات میں "جمپنگ جینز" دریافت کر کے حیاتیات میں نئی راہیں کھولیں۔ ⚛️ رچرڈ فائن مین کوانٹم الیکٹرو ڈائنامکس میں انقلابی خدمات انجام دیں۔ 🧫 جیمز واٹسن ڈی این اے کی ڈبل ہیلکس ساخت کی دریافت میں اہم کردار ادا کیا۔ 🧬 فرانسس کریک ڈی این اے کی ساخت کی وضاحت میں واٹسن کے ساتھ مل کر جدید جینیات کی بنیاد مضبوط کی۔ 🧪 احمد زویل فیمٹو کیمسٹری کے بانی سمجھے جاتے ہیں، جنہوں نے انتہائی مختصر وقت میں ہونے والے کیمیائی عمل کو دیکھنے کا طریقہ متعارف کرایا۔ ✨ ان سائنسدانوں کی محنت، تحقیق اور لگن نے نہ صرف سائنس کو آگے بڑھایا بلکہ انسانیت کے لیے بے شمار آسانیاں پیدا کیں۔ ان کی کہانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ علم، تحقیق اور مستقل مزاجی دنیا بدل سکتی ہے۔ https://whatsapp.com/channel/0029Va5FSpn9sBIFQ7yD2d0l

  • без подписи

  • 🌏 کیا آپ جانتے ہیں؟ *کیا کائنات کے ستاروں اور سیاروں میں بھی وہی تمام عناصر یعنی ہائڈروجن، آئرن، کاربن، آکسیجن، گولڈ وغیرہ ہیں جو پیریاڈک ٹیبل پر موجود ہیں، یا کچھ اور عناصر بھی ہوسکتے ہیں؟* جہاں تک عام مادے کا تعلق ہے، تو اس کا سیدھا سا جواب ہے، جی ہاں! پوری کائنات بالکل انہی عناصر سے بنی ہے جو ہمارے پیریاڈک ٹیبل میں موجود ہیں۔ فزکس کے قوانین کائنات کے ہر کونے میں یکساں ہیں۔ زمین پر موجود کاربن کا ایٹم اور اربوں نوری سال دور کسی ستارے میں موجود کاربن کا ایٹم بالکل ایک جیسے ہیں۔ البتہ کائنات میں ہائیڈروجن اور ہیلیم سب سے زیادہ ہیں، جبکہ سونا، لوہا، اور آکسیجن جیسے بھاری عناصر ستاروں کے اندر دھماکوں سپرنوا کے نتیجے میں بنتے ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات میں انتہائی بھاری عناصر بھی بن سکتے ہیں جو ابھی تک ہم نے دریافت نہیں کیے، لیکن وہ بننے کے چند مائیکرو سیکنڈز بعد ہی ٹوٹ کر دوبارہ عام عناصر میں بدل جاتے ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ کچھ مادے ایسے ہیں جو اس پیرڈیاک ڈیبل سے باہر ہے کیوں کہ ان میں ایٹم ہوتے ہی نہیں ہیں۔ مثلا، » ڈارک میٹر :ـ کائنات کا 85 فیصد مادہ ڈارک میٹر ہے۔ یہ پیریاڈک ٹیبل میں اس لیے نہیں ہے کیونکہ یہ پروٹون، نیوٹران یا الیکٹران سے بنا ہی نہیں ہے۔ یہ کوئی نامعلوم ذرہ ہے جو روشنی سے تعامل نہیں کرتا۔ » نیوٹران سٹار کا مادہ :ـ Neutronium، یہ کائنات کا کثیف ترین مادہ ہے جو صرف اور صرف پچکے ہوئے نیوٹرانز پر مشتمل ہوتا ہے۔ چونکہ اس میں پروٹون اور الیکٹران کا وجود ختم ہو جاتا ہے، اس لیے یہ ایٹم یا عنصر نہیں بناتا۔ » بلیک ہول کا مادہ:ـ اس کے بارے میں یہ طئے کرنا مشکل ہے کہ یہ مادہ ہے یا توانائی، ہم اس کی کیفیت کو ڈیفائن نہیں کر سکتے » کوارک گلوآن پلازما:ـ (Quark-Gluon Plasma)، یہ ایٹم بننے سے بھی پہلے کی انتہائی گرم حالت ہے۔ بگ بینگ کے فوراً بعد درجہ حرارت اتنا زیادہ تھا کہ ایٹم کے بنیادی ذرات ٹوٹی ہوئی حالت میں تھے اور چھوٹے ذرات کوارکس کے سوپ کی حالت میں موجود تھے۔ » اینٹی میٹر:ـ اینٹی میٹر عام مادے کا الٹ ہے۔ اس کا اپنا ایک مکمل اینٹی پیریاڈک ٹیبل ہو سکتا ہے۔ سرن (CERN) لیبارٹری میں سائنسدانوں نے مصنوعی طور پر Anti-hydrogen بنائی ہے۔ اس میں ایک منفی پروٹون اور ایک مثبت الیکٹران ہوتا ہے۔ عام کائنات بالکل اسی پیریاڈک ٹیبل سے بنی ہے جسے ہم جانتے ہیں۔ لیکن جب کائناتی حالات انتہائی شدید ہو جائیں ۔ جیسے بلیک ہول یا نیوٹران سٹار میں، تو مادے کا عام ایٹمی ڈھانچہ مکمل طور پر ٹوٹ جاتا ہے اور وہ پیریاڈک ٹیبل کی حدود سے باہر نکل کر مادے کی عجیب و غریب حالتیں اختیار کر لیتا ہے۔ https://whatsapp.com/channel/0029Va5FSpn9sBIFQ7yD2d0l

  • без подписи

  • 🌏 کیا آپ جانتے ہیں؟ *ویب سائٹ کوکیز کیا ہوتی ہیں؟* براؤزر پر مختلف ویب سائٹس کھولتے ہوئے آپ کے سامنے کوکیز قبول کرنے کا آپشن دیا جاتا ہے ، ویب سائٹ کوکیز (Website Cookies) دراصل چھوٹی ٹیکسٹ فائلیں (Text Files)ہوتی ہیں جو کوئی بھی ویب سائٹ آپ کے براؤزر (جیسے Chrome، Safari، یا Firefox) میں محفوظ کرتی ہے جب آپ کسی ویب سائٹ پر جاتے ہیں، تو وہ سائٹ آپ کے کمپیوٹر یا موبائل پر ایک چھوٹا سا ڈیٹا (کوکی) رکھ دیتی ہے تاکہ اگلی بار جب آپ وہاں جائیں، تو وہ ویب سائٹ آپ کو یاد رکھ سکے۔ 📎 *کوکیز کیا کام کرتی ہیں؟* » آپ کو لاگ ان رکھنا:- اگر آپ فیس بک یا جی میل پر ایک بار لاگ ان کرتے ہیں، تو کوکیز کی وجہ سے ہی آپ کو ہر نیا پیج کھولنے پر دوبارہ پاس ورڈ نہیں ڈالنا پڑتا۔ » پسندیدہ ترجیحات (Preferences): اگر آپ نے کسی سائٹ کو "ڈارک موڈ" پر سیٹ کیا ہے یا زبان اردو منتخب کی ہے، تو کوکیز اس انتخاب کو یاد رکھتی ہیں۔ » آن لائن شاپنگ کارٹ: جب آپ کسی ای کامرس ویب سائٹ پر چیزیں کارٹ (Cart) میں ڈالتے ہیں اور سائن ان کیے بغیر دوسرے پیجز دیکھتے ہیں، تو وہ چیزیں کوکیز کی وجہ سے ہی غائب نہیں ہوتیں۔ » اشتہارات (Ads): کچھ کوکیز یہ ٹریک کرتی ہیں کہ آپ نے انٹرنیٹ پر کیا سرچ کیا، تاکہ آپ کو آپ کی پسند کے مطابق اشتہارات دکھائے جا سکیں۔ *📎 کوکیز کی بنیادی اقسام* » سیشن کوکیز (Session Cookies): یہ عارضی ہوتی ہیں۔ جیسے ہی آپ ویب براؤزر بند کرتے ہیں، یہ ختم ہو جاتی ہیں۔ » اپرسسٹنٹ کوکیز (Persistent Cookies): یہ آپ کے کمپیوٹر میں ایک مقررہ وقت تک موجود رہتی ہیں (مثلاً ایک مہینہ یا ایک سال)۔ یہ آپ کے لاگ ان اور سیٹنگز کو یاد رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ » تھرڈ پارٹی کوکیز (Third-Party Cookies): یہ وہ کوکیز ہوتی ہیں جو وہ ویب سائٹ نہیں بلکہ کوئی تیسری کمپنی (جیسے اشتہار دینے والے ادارے) آپ کے براؤزر میں ڈالتی ہے تاکہ آپ کی انٹرنیٹ کی سرگرمیوں کو ٹریک کیا جا سکے۔ 📎 *کیا کوکیز خطرناک ہوتی ہیں؟* نہیں۔ کوکیز کوئی وائرس یا مالویئر (Malware) نہیں ہوتیں اور نہ ہی یہ آپ کے کمپیوٹر سے کوئی ذاتی فائلیں چوری کر سکتی ہیں۔ تاہم، پرائیویسی کے لحاظ سے "تھرڈ پارٹی کوکیز" پر اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں کیونکہ یہ آپ کے انٹرنیٹ کے استعمال پر نظر رکھتی ہیں۔ اسی لیے آج کل ویب سائٹس آپ سے کوکیز قبول کرنے کی اجازت (Accept Cookies) مانگتی ہیں۔ https://whatsapp.com/channel/0029Va5FSpn9sBIFQ7yD2d0l

  • без подписи

  • 🌏 کیا آپ جانتے ہیں؟ ایک دن میں 24 گھنٹے ، ایک گھنٹے میں 60 منٹ، ایک منٹ میں 60 سیکنڈ ہوتے ہیں، لیکن ایک سیکنڈ کو مانپنے کی اکائی کیا ہے؟ یعنی ہم کس کلیے سے سیکنڈ کو ناپ سکتے ہیں۔ 📎ایک *سیکنڈ* کو ماپنے کے لیے بنیادی اکائی خود *سیکنڈ (s)* ہی ہے 1967 سے سیکنڈ کو "اٹامک کلاک" سے ناپا جاتا ہے۔ سیزیم 133 کے ایٹم کے الیکٹرانز کی مختلف انرجی لیولز کے درمیان کی ٹرانزیشن کی بنیاد پر ایک سیکنڈ کا پیمانہ بنایا گیا۔ جتنی دیر میں وہ الیکٹران 9,192,631,770 ٹرانزیشنز یا وائبریشن مکمل کرتا ہے اس وقت کو ایک سیکنڈ کہتے ہیں۔ جو ہمیشہ یکساں ہوتی ہیں۔ 📎ایک سیکنڈ سے چھوٹی اکائیاں یہ ہیں: 1 سیکنڈ = 1000 ملی سیکنڈ (Milliseconds) 1 ملی سیکنڈ = 1000 مائیکرو سیکنڈ (Microseconds) 1 مائیکرو سیکنڈ = 1000 نینو سیکنڈ (Nanoseconds) 1 نینو سیکنڈ = 1000 پیکو سیکنڈ (Picoseconds) اس کے بعد مزید چھوٹی اکائیاں بھی ہیں، جیسے فیمٹو سیکنڈ (Femtosecond)، ایٹو سیکنڈ (Attosecond) وغیرہ۔ https://whatsapp.com/channel/0029Va5FSpn9sBIFQ7yD2d0l

  • без подписи

  • 🌏 کیا آپ جانتے ہیں؟ *ڈائنامائٹ اور نوبل انعام* ڈائنامائٹ کے موجد کا نام الفریڈ نوبل تھا وہ 21 اکتوبر سنہ 1833 میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک کیمیاءدان، انجنیئر اور موجد تھے۔ اس زمانے میں پہاڑ کاٹ کر سڑکیں بنانے کے لیے ایک انتہائی انتہائی طاقتور دھماکہ خیز مادہ استعمال ہوتا تھا جسے نائیرو گلیسرین کہا جاتا ہے۔ یہ معمولی جھٹکے سے بھی پھٹ سکتا تھا جس کی وجہ سے کئی حادثات پیش آئے اس حادثہ کے بعد الفریڈ نوبل نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک ایسا طریقہ ایجاد کریں گے، جس سے یہ دھماکہ خیز مادہ زیادہ محفوظ ہو جائے۔ کئی سال کی محنت کے بعد انہوں نے نائٹرو گلیسرین کو ایک خاص جاذب مادے میں جذب کرکے ایک نئی شکل دی، جسے ڈائنامائٹ کہا گیا۔ اس ایجاد کا پیٹنٹ 1867ء میں حاصل کیا گیا۔ڈائنامائٹ نے تعمیرات کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ سرنگیں بنانا، پہاڑ کاٹنا، کانوں سے معدنیات نکالنا اور بڑے ڈیم تعمیر کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگیا۔ لیکن ہر طاقتور ایجاد کی طرح ڈائنامائٹ کا غلط استعمال بھی ہوا۔ جنگوں میں بھی اسے استعمال کیا گیا، جب الفریڈ نوبل ایک اخبار میں غلطی سے اپنی وفات کی خبر اور خود کو "موت کا سوداگر" لکھا دیکھا تو انھوں نے یہ سوچا کہ لوگ انہیں کس نام سے یاد رکھیں گے؟ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اپنی زیادہ تر دولت انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ ان کی وصیت کے مطابق نوبیل اانعام کا آغاز ہوا، جو آج سائنس، ادب، طب اور امن سمیت مختلف شعبوں میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔ الفریڈ نوبیل کے نام 355 سے زیادہ ایجادات کے پیٹینٹ تھے۔ https://whatsapp.com/channel/0029Va5FSpn9sBIFQ7yD2d0l

  • без подписи

  • 🌏 *کیا آپ جانتے ہیں؟* امریکہ میں پیدا ہونے والے *کم پیک (Kim Peek)* کو تاریخ کے سب سے حیران کن قابلیت والے اور غیر معمولی ذہانت والے شخص میں شمار کیا جاتا ہے۔کم پیک بیک وقت دو صفحے پڑھ سکتا تھا۔ ایک آنکھ سے دایاں، دوسری آنکھ سے بایاں۔ ایک کتاب صرف ایک گھنٹے میں ختم کر دیتا تھا اور تقریباً سارا مواد یاد بھی ہو جاتا تھا۔کم پیک کو *12 ہزار کتابیں* یاد تھیں۔ انسائیکلوپیڈیا، نقشے، تاریخ، ادب، ہر چیز ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتا تھا۔ دلچسپ بات یہ کہ کم پیک کا دماغ عام لوگوں سے مختلف تھا۔ اس کے دماغ میں دونوں حصوں کو جوڑنے والا *corpus callosum* موجود ہی نہیں تھا۔ 2009 میں *58 سال* کی عمر میں وہ دنیا سے رخصت ہو گیا۔ https://whatsapp.com/channel/0029Va5FSpn9sBIFQ7yD2d0l

  • 🌏 کیا آپ جانتے ہیں ؟ نُلاربر کلِفس کو "دنیا کا آخری کنارہ" یا "The Edge of the World" کہا جاتا ہے ،نُلاربر پلین ہزاروں کلومیٹر تک بالکل چپٹا، درختوں سے خالی میدان ہے۔ آپ گھنٹوں گاڑی چلائیں، منظر نہیں بدلے گا۔ پھر اچانک 90 میٹر اونچی سیدھی دیوار آتی ہے اور اس کے بعد صرف سمندر۔ لگتا ہے جیسے زمین کا نقشہ یہاں پھٹ گیا ہو، چٹان کے نیچے گریٹ آسٹریلین بائٹ ہے۔ اس کے بعد ہزاروں کلومیٹر تک کوئی زمین نہیں، سیدھا انٹارکٹیکا۔ بیچ میں کوئی جزیرہ، کوئی چٹان نہیں۔ واقعی لگتا ہے کہ دنیا یہیں ختم ہو گئی۔ یہاں انسانی آبادی نہیں، سگنل نہیں، شور نہیں۔ ایک طرف لامحدود ویران میدان، دوسری طرف لامحدود سمندر۔ درمیان میں آپ اور 200 کلومیٹر لمبی چٹان۔ یہ تنہائی اور "آخری سرے" کا احساس دیتی ہے۔ دنیا میں اور بھی سمندری چٹانیں ہیں، مگر 200 کلومیٹر تک مسلسل، بغیر کسی ساحل کے، بغیر کسی خلیج کے — ایسی سیدھی دیوار صرف یہیں ہے۔ اس لیے سیاح اسے "The End of the Earth" بھی کہتے ہیں۔ https://whatsapp.com/channel/0029Va5FSpn9sBIFQ7yD2d0l

  • 🤔سوچا تھا 🧾2026 میں Comeback😎 کروں گا۔ پر یہاں تو آدھا 🧾2026 نکل گیا... مسئلہ یہ کہ Comeback تو دور کی بات Go fornt🤥 بھی تو نہیں ہو رہا۔ 🫩🫪🫪🫩

  • 🌏 کیا آپ جانتے ہیں ؟ 1963 میں، ترکی کے کیپاڈوشیا کے علاقے میں اپنے تہہ خانے کی تزئین و آرائش کرنے والے ایک شخص نے اتفاقی طور پر آتش فشاں چٹان میں گہرائی میں تراشے ہوئے زیر زمین شہر ڈیرنکیو کا ایک پوشیدہ دروازہ دریافت کیا۔ یہ کمپلیکس تقریباً 85 میٹر نیچے 18 سطحوں پر پھیلا ہوا ہے اور مویشیوں اور سامان کے ساتھ 20,000 لوگوں کو پناہ دینے کے قابل تھا۔ اس میں رہنے کی جگہیں، کچن، گرجا گھر، اصطبل، وینٹیلیشن شافٹ، اور تنگ گزرگاہیں شامل ہیں، یہ سب صدیوں سے بنائے گئے اور بازنطینی دور میں حملوں سے تحفظ کے لیے پھیلائے گئے تھے۔ 1969 میں عوام کے لیے کھولا گیا، جہاں جانے والے اس پہاڑی علاقے کے سحر میں کھو سے جاتے ہیں۔دور سے دیکھنے میں تو شاید یہ ویران ٹیلے نظر آئیں لیکن حقیقت میں یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ترکی کا سحر انگیز سیاحتی مقام کیپا ڈوشیا ہے۔ چرچ ، ہوٹل ، میوزیم اور پتھروں کے گھر یہاں سنگلاخ چٹانوں کے نیچے ایک دنیا آباد ہے۔پتھروں کی تراش خراش سے بنے ان گھروں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ کیپا ڈوشیا طلبا کے لیے بھی ایک بہترین سیاحتی مقام ہے۔ کیپا ڈوشیا کے سحر انگیز مقامات کی سیر کا بہترین طریقہ یہاں فضا میں جا بجا اڑتے گرم ہوا کے غبارے ہیں جس میں سوار افراد یقیناً اس علاقے کی خوبصورتی کبھی نہ بھلا پاتے ہونگے۔تاریخی اعتبار سے اس شہر کو پہلی اور دوسری صدی عیسوی میں عیسائیوں نے تعمیر کیا تھا۔ https://whatsapp.com/channel/0029Va5FSpn9sBIFQ7yD2d0l

  • без подписи

  • 🌏 کیا آپ جانتے ہیں ؟ دنیا کی سب سے پرانی "کسٹمر کمپلینٹ" تقریباً 4,000 سال پرانی ہے۔تقریباً 1750 قبل مسیح، یعنی آج سے 3,775 سال پہلے قدیم میسوپوٹیمیا کا شہر اُر، جو عراق میں واقع ہے۔ تانبا خریدنے والے ایک تاجر نے تانبا بیچنے والے ایک بیوپاری کو مٹی کی تختی پر کیل نما رسم الخط "کیونیفارم" میں پوری شکایت لکھوا دی۔ *تم نے میرے نوکر کے ذریعے جو تانبا بھیجا وہ ناقص ہے۔ تم نے کہا تھا اچھا دو گے، لیکن یہ تو خراب ہے۔ تم میرے نوکر کی بے عزتی کرتے ہو۔ اب میں خود آؤں گا اور اپنی مرضی کا تانبا لے کر جاؤں گا۔ زندگی بھر یاد رکھوں گا کہ تم نے مجھے کیسے ذلیل کیا۔* برطانوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو یہ تختی اُر شہر کے کھنڈرات سے ملی۔ آج یہ برٹش میوزیم، لندن میں رکھی ہے اور "Complaint tablet to Ea-nasir" کے نام سے مشہور ہے۔ https://whatsapp.com/channel/0029Va5FSpn9sBIFQ7yD2d0l

  • 🌏 کیا آپ جانتے ہیں ؟ *ڈر و خوف کی وجہ سے چہرے کا رنگ کیوں اتر جاتا ہے ؟* »جب ہم کسی اچانک خطرے یا خوف کا سامنا کرتے ہیں تو ہمارا مدافعتی نظام خودکار طور پر فائٹ کا رد عمل شروع کر دیتا ہے۔ اس ہنگامی صورتحال میں جسم اپنی تمام تر توانائی کسی بڑے خطرے سے نمٹنے یا وہاں سے تیزی سے نکلنے کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایڈرین لین ہارمون کے اخراج کی وجہ سے جلد کی سطح پر موجود خون کی باریک نالیاں سکڑ جاتی ہیں اور خون کا زیادہ تر بہاؤ چہرے اور جلد جیسے بیرونی حصوں سے ہٹ کر اہم اندرونی اعضاء، یعنی دل، پھیپھڑوں اور پٹھوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے تاکہ انہیں فوری طور پر زیادہ آکسیجن اور توانائی فراہم کی جا سکے ۔ چونکہ چہرے کی جلد کی رنگت وہاں موجود خون کی گردش کی مرہونِ منت ہوتی ہے اس لیے وہاں خون کی سپلائی اچانک کم ہونے سے چہرہ زرد پڑ جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے رنگ اڑ گیا ہو۔ https://whatsapp.com/channel/0029Va5FSpn9sBIFQ7yD2d0l