tgindex
📚 اردو نصیحتیں 📕 Urdu Naseehaten

📚 اردو نصیحتیں 📕 Urdu Naseehaten

Статистика

اِس چینل پر دینی، اخلاقی، اصلاحی، سماجی، اور خوب صورت تحریری گل دستے پیش کیے جائیں گے ۔ اِن شاء اللہ

Последний пост
13 авг.
Последнее чтение
15 авг.
Постов за неделю
5
Всего постов
30
Тип
открытый
Язык
ur
Категория
Картинки
В каталоге с
13 авг.
Подписчики
2 975
−8 за 4 дн.
Сутки
−8
−0,27%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
221
30 постов
Вовлечённость
7,4%
к подписчикам
Постов в день
0,7
всего 30
Упоминаний
0
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
108
1/48двое суток
123
1/72трое суток
133

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • 🌙 جمعہ کی خوبصورت یاد دہانی 🌙 مغرب کی اذان کے ساتھ ہی جمعہ شروع ہو چکا ہے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے… ایک اور جمعہ ہماری زندگی میں آ گیا ہے۔ 😢 نہ جانے کتنے جمعے آئے اور گزر گئے، اور ہم سمجھتے رہے کہ اگلا جمعہ بھی تو آئے گا… لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ جمعہ بھی ہماری زندگی سے گزر جائے گا، اور شاید اگلا جمعہ ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو۔ تو آئیے! اس جمعے کو غفلت میں نہ گزاریں۔ اپنے رب کو یاد کریں، توبہ کریں، دعائیں مانگیں، اور اپنے نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درودِ ابراہیمی پڑھیں۔ 🌿 📖 سورۃ الکہف کی تلاوت بھی ضرور کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ کیا معلوم… ہماری زندگی کا یہ جمعہ ہی اللہ کی طرف لوٹنے سے پہلے آخری جمعہ ہو۔ 😢 اس لیے وقت کو ضائع نہ کیجیے، آج کا جمعہ اللہ کے نام کر دیجیے۔ 🤲🏻 اللہ تعالیٰ ہمیں اس جمعے کی قدر کرنے، کثرت سے درود پڑھنے، سورۃ الکہف کی تلاوت کرنے اور اپنی رضا والے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲🏻🌸

  • 🌿 صحت اور جوانی کو غنیمت جانیے 🌿 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ» “دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فراغت۔” صحیح بخاری ذرا اپنے آس پاس دیکھیے… 😢 کتنے لوگ آج ہسپتالوں میں صرف صحت کی ایک سانس کے لیے ترس رہے ہیں۔ کسی کو بیماری نے بستر تک محدود کر دیا، کسی کی آنکھیں اپنے بچوں کے لیے رو رہی ہیں، اور کوئی صرف یہ چاہتا ہے کہ کاش وہ دوبارہ پہلے کی طرح چل سکے، نماز پڑھ سکے اور اپنے اپنوں کے ساتھ بیٹھ سکے۔ میری ایک دوست بھی کینسر جیسی مہلک بیماری سے گزر رہی ہے۔ اس کے تین معصوم بچے ہیں، جن میں سب سے چھوٹی بچی ابھی صرف سوا سال کی ہے۔ دل کانپ جاتا ہے یہ سوچ کر کہ وہ ننھی بچی اپنی ماں کو دیکھ کر شاید بیماری کو نہیں سمجھتی… اسے تو صرف ماں کی گود چاہیے۔ 😭 اور ماں؟ وہ اپنے بچوں کو دیکھ کر نہ جانے کتنی دعائیں کرتی ہوگی: “یا اللہ! میرے بچوں کو میرے بغیر بے سہارا نہ کرنا…” ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ آج ہماری سانسیں چل رہی ہیں، ہمارے قدم چل رہے ہیں، ہم اپنے بچوں کو دیکھ سکتے ہیں، اپنے والدین کے پاس بیٹھ سکتے ہیں اور سجدے میں جا سکتے ہیں۔ لیکن افسوس… ہم ان نعمتوں کی قدر اکثر تب کرتے ہیں جب وہ ہم سے چھننے لگتی ہیں۔ آج اگر آپ صحت مند ہیں تو الحمدللہ کہیے۔ آج اگر والدین زندہ ہیں تو ان کے پاس بیٹھ جائیے۔ آج اگر بچے آپ کے پاس ہیں تو انہیں محبت دیجیے۔ آج اگر سجدے کی طاقت ہے تو اللہ کے سامنے جھک جائیے۔ کل کا انتظار مت کیجیے… کیا خبر جس نعمت کو ہم آج معمول سمجھ رہے ہیں، کل اسی کے لیے ہماری آنکھیں ترس رہی ہوں۔ 😢 🌿 بیماری آنے سے پہلے صحت کو غنیمت جان لیجیے۔ 🌿 بڑھاپا آنے سے پہلے جوانی کو غنیمت جان لیجیے۔ 🌿 موت آنے سے پہلے زندگی کو نیکی میں لگا لیجیے۔ 🤲 یا اللہ! تمام بیماروں کو کامل شفا عطا فرما، اس ماں کو صحت دے، اس کے معصوم بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھ، اور ہمیں اپنی صحت، جوانی اور زندگی کی قدر کرنے والا بنا۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲😭 *ازقلم : بنت محمد اظہر الدین*

  • جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اس وقت کوئی اور شیطان نہیں تھا، تو پھر اسے کس نے ورغلایا؟ سب کے لیے ایک سوچنے اور غور کرنے والا سوال! بہت ہی اہم سوال: جب شیطان نے اللہ کی نافرمانی کی، تو اس کا شیطان کون تھا؟ یہ جاننے کے لیے کہ ہمارا حقیقی شیطان کون ہے، یہ چند سطریں پڑھیں: "نفس" کا لفظ انتہائی حساس اور اہم ہے، اور یہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں ذکر ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورة ق میں فرماتا ہے: {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ} "اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو وسوسے اس کے دل میں اٹھتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔" ہم اللہ عزوجل پر ایمان رکھتے ہیں، اس کا ذکر کرتے ہیں، مسجد میں نماز پڑھتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، صدقہ دیتے ہیں... وغیرہ۔ اس کے باوجود ہم سے گناہ اور غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں! تو ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے حقیقی دشمن کو چھوڑ دیا اور ایک کمزور دشمن کے پیچھے لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ اپنی محکم کتاب میں فرماتا ہے: {إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا} "بیشک شیطان کا مکر (اور چال) کمزور ہے۔" اصل اور حقیقی دشمن تو (نفس) ہے۔ جی ہاں... نفس ایک ٹائم بم اور انسان کے اندر موجود ایک سرنگ (لغم) کی مانند ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورة الإسراء میں فرماتا ہے: {اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا} "پڑھ اپنا نامہ اعمال، آج اپنا حساب لینے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔" اور سورة غافر میں فرماتا ہے: {الْيَوْمَ تُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ۚ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ} "آج ہر نفس کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا، آج کوئی ظلم نہیں، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔" اور سورة المدثر میں فرماتا ہے: {كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ} "ہر نفس اپنے اعمال کے بدلے گروی ہے۔" اور سورة النازعات میں فرماتا ہے: {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ} "اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکا۔" اور سورة التكوير میں فرماتا ہے: {عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ} "تب ہر نفس جان لے گا کہ وہ کیا پیش کر کے لایا ہے۔" غور کریں کہ یہ تمام آیات لفظ "نفس" کے گرد گھومتی ہیں، تو یہ نفس آخر کیا ہے؟ علماء کرام فرماتے ہیں کہ وہ تمام جھوٹے معبود جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی تھی (جیسے اللات، العزى، مناة، سواع، ود، يغوث، يعوق، اور نسر)... یہ تمام بت تو توڑ دیے گئے، مگر ایک جھوٹا معبود ایسا ہے جس کی آج بھی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: {أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ} "کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا؟" اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نفس کی خواہش انسان پر غالب آ جاتی ہے تو وہ کسی شرعی حکم یا دینی مانع پر کان نہیں دھرتا، بلکہ وہی کرتا ہے جو اس کا دل چاہتا ہے۔ امام بوصیری اپنی بردہ میں فرماتے ہیں: "نفس اور شیطان دونوں کی مخالفت کرو اور ان دونوں کی نافر مانی کرو۔" قابیل کے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کرنے کے واقعے کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: {فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ} "پس اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر دیا۔" جب آپ کسی ایسے شخص سے پوچھیں جو کسی گناہ میں مبتلا ہوا اور بعد میں تائب و نادم ہوا کہ "تمہیں اس کام پر کس نے ابھارا؟" تو وہ کہے گا: "مجھے شیطان نے بہکایا تھا!" اس کی اس بات سے ایسا لگتا ہے جیسے ہر برے کام کے پیچھے صرف شیطان ہی ہو۔ حالانکہ گناہوں اور معاصی کا سبب یا تو شیطان ہوتا ہے یا پھر برائی پر ابھارنے والا نفس (نفسِ امارہ)۔ شیطان یقیناً خطرناک ہے... لیکن نفس اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے! انسان پر شیطان کا داخلہ غفلت اور بھول کے ذریعے ہوتا ہے، وہ انسان کو ثواب و عذاب سے غافل کر دیتا ہے جس کی وجہ سے انسان گناہ کر بیٹھتا ہے۔ اللہ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتا ہے: {وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ} "اور میں اپنے نفس کی پاکی بیان نہیں کرتا، بیشک نفس تو برائی پر ابھارنے والا ہی ہے۔" آخر میں، ہم بارگاہ الٰہی میں عاجزی کے ساتھ دعا گو ہیں: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔ آ مین ثم آمین ثناءاللہ حسین:7/8/26 اسلام آباد

  • ہم کونسے درجے پر فائز ہیں؟ 🎙️فضیلة الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب انسان کسی مصیبت یا پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے، تو اس کے ردِعمل کے لحاظ سے چار درجات ہیں: ١. جازع (بے صبری کرنے والا) یہ شخص حرام کام کا مرتکب ہوتا ہے۔ وہ اللہ رب العالمین کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتا ہے، چیختا چلاتا ہے یا دل میں شکوے پالتا ہے۔ یہ درجہ گناہ کا ہے... ٢. صابر (صبر کرنے والا) اس شخص نے اپنا واجب (فرض) ادا کر دیا۔ صابر وہ ہے جسے مصیبت ناگوار گزرتی ہے، وہ اسے کڑوا گھونٹ اور مشقت سمجھتا ہے، لیکن وہ خود کو قابو میں رکھتا ہے اور اپنی زبان یا عمل سے کسی حرام کام کا ارتکاب نہیں کرتا... ٣. راضی (رضا بالقضا والا) اس کا درجہ صابر سے بلند ہے۔ اسے اس مصیبت کی اتنی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ وہ اللہ کے فیصلے پر کامل طور پر راضی رہتا ہے اور اس کے دل میں کوئی پچھتاوا یا حسرت باقی نہیں رہتی... ٤. شاکر (شکر ادا کرنے والا) یہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے کہ انسان مصیبت پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ اس کے شکر کی دو وجوہات ہوتی ہیں: پہلی وجہ: وہ اپنے سے بڑی مصیبت میں مبتلا لوگوں کو دیکھتا ہے اور شکر کرتا ہے کہ اللہ نے اسے اتنی بڑی آزمائش سے بچا لیا۔ دوسری وجہ: اسے یقین ہوتا ہے کہ اس تکلیف کے بدلے اس کے گناہ جھڑ رہے ہیں اور (صبر کی صورت میں) اللہ کے ہاں اس کے درجات بلند ہو رہے ہیں۔ "ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں مصیبتوں کے وقت بھی شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔" 📚 ( الشرح الممتع (٣٩٥/٥) https://t.me/UrduNaseehaten

  • from telegra.ph

  • 🌿✨ مایوسی سے امید کی طرف — اللہ کی رحمت پر یقین ✨🌿 🍃 کبھی زندگی ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں دل تھک جاتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور سمجھ نہیں آتا کہ آگے کیسے بڑھیں… 🥀 مگر یاد رکھیں… 🌱 آپ کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ 🌸 🌿 جس رب نے ایک ننھے سے بیج کو مٹی کے اندھیرے سے نکال کر پھول بنا دیا، وہ آپ کی زندگی میں بھی خوبصورت بہار لا سکتا ہے۔ 🌷 🍃 خود کو بے مقصد مت سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ آپ کی زندگی قیمتی ہے، آپ کا وجود بے معنی نہیں۔ 🌱 🤲🏻 اگر دل بوجھل ہے تو لوگوں کے سامنے نہیں تو اپنے رب کے سامنے دل کھول دیں۔ 🌙 سجدے میں کہہ دیں: "یا اللہ! میں تھک گئی ہوں، مجھے سنبھال لے۔ مجھے وہ راستہ دکھا جس میں تیری رضا اور میرے لیے خیر ہو۔" 🌿 🌱 پھر آہستہ آہستہ آگے بڑھیں… 🍃 ایک دن، ایک قدم، ایک دعا۔ 🍃 🌸 یقین رکھیں، مشکل وقت ہمیشہ نہیں رہتا، مگر اللہ کی رحمت ہمیشہ رہتی ہے۔ 🌿 🍃 مایوسی کو دل میں جگہ نہ دیں؛ اپنے رب کی رحمت سے امید وابستہ رکھیں۔ 🌷 🌿✨ آپ قیمتی ہیں… اور آپ کی زندگی اللہ کی عطا ہے۔ ✨🌿 *ازقلم : بنت محمد اظہر الدین*

  • اپنے شوہر کی معصومیت اور نیک نیتی پر میں حیران رہ گئی تھی مجھے احساس ہوا تھا کہ اج ہم دنیا میں جہاں جی رہے ہیں وہاں اس دنیا کے قائم رہنے میں میرے شوہر جیسے بہت سارے لوگوں کا ہاتھ ہے ورنہ جس طرح کے ہمارے اعمال ہیں ہم لوگوں پر کب کا اللہ تعالی کا قہر اور عذاب نازل ہو چکا ہوتا میں جس دن سے اس گھر میں ائی ہوں اس دن سے لے کر اج تک میری کوئی نماز قضا نہیں ہوئی اس دن سے لے کر اج تک مجھے کبھی کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور یہ سب کچھ یقینا صرف اسی وجہ سے ہے کہ یہ گھرانہ مکمل طور پر دین اسلام پر عمل پیرا ہے اختتام اگر تحریر پسند ائے تو پڑھنے کے بعد شیئر ضرور کر دیں۔۔۔

  • نمبر دے دیا ہمارا سفر اختتام کو پہنچا جب میں پاکستان میں گھومنے پھرنے کے بعد واپس فرانس اپنے والدین کے پاس چلی گئی تو میں نے وہاں جا کر ان کو اس شخص کے بارے میں بتایا اور پھر ان کو اپنے دل کے حالات بتائے پھر ان کو بتایا کہ میں اس شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں میرے والدین نے اس کا اتا پتہ پوچھا تو میں نے ان کو ساری روداد سنا دی کہ میں کس طرح اور کہاں اس سے ملی ہوں اور کتنا اس کو جانتی ہوں میری بات سن کر میرے والدین مسکرائے اور کہا کہ تم ایسا کرو پہلے اس سے پوچھو اگر وہ تم سے شادی کے لیے راضی ہو تو پھر اس کی ہم سے بات کرواؤ پھر ہم تصدیق کر لیں گے اس کو ڈھونڈ لیں گے میں نے اس شخص سے بات کی اس نے کہا کہ میں نے اپنا یہ حق اپنے والدین کو دے رکھا ہے میں نے اس کے والدین کا نمبر لیا اس کے والدین سے بات کی اس کے والدین کو اپنا سب کچھ بتایا انہوں نے کہا ہم اپنے بیٹے کی مرضی جاننے کے بعد اپ سے بات کریں گے رابطہ کریں گے میں ان کا انتظار کرنے لگی ٹھیک 15 دن بعد مجھے اس شخص کے والدین کی کال ا گئی انہوں نے کہا کہ اپ لوگ ہماری دعوت پر روس ائیں رشیا کے متعلق سن کر میرے والدین حیران رہ گئے خیر ہم نے ان کی دعوت قبول کر لی اور ہم لوگ رشیا چلے گئے ایک بار پھر وہاں ہمارا سارا خاندان اپس میں ملا وہیں پہ ہمارا رشتہ طے ہوا اور پھر فیصلہ ہوا کہ ہم سب لوگ مل کر عمرہ کرنے کے لیے جائیں گے وہاں ہی ہم نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں گے پھر ہم نے بالکل ایسے ہی کیا اور یوں میری شادی ہو گئی شادی کے بعد میں نے اپنے شریک حیات جو کہ کبھی میرا شریک سفر تھا اس سے پوچھا کہ تمہارا اخلاق اتنا بہترین کیوں ہے تو وہ میری بات سن کر حیران ہوا اور پھر کہا کہ تم کو نہیں پتہ اسلام میں اخلاق کی کتنی اہمیت ہے اسلام کی بنیاد ہی اخلاق ہے پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہ اتنا بڑا کاروبار کیسے کھڑا کیا تو اس نے جواب دیا کہ میں نے صرف کوشش کی یہ سب کچھ میرے والدین کی دعاؤں کو نتیجہ تھا میں اج جہاں پر کھڑا ہوں میں اسے اپنے والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہی سمجھتا ہوں پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ میری کس چیز نے تمہیں سب سے زیادہ متاثر کیا ہے تو میں نے اسے بتایا کہ تمہاری سب سے زیادہ بات جو مجھے پسند ائی ہے وہ اس کھلے ڈلے ماحول میں رہتے ہوئے بھی اسلامی نظریات کو مد نظر رکھنا ہے میری بات سن کر انہوں نے مجھے بتایا کہ پتہ ہے میں ان اسلام نظریات کو مد نظر کیوں رکھتا ہوں میں نے اس کے جواب میں کہا کہ مجھے بھلا یہ سب کچھ کیسے پتہ ہوگا؟ میری بات سن کر اس نے جواب دیا کہ ایک بار میں نے کوئی ایسا عمل کیا تھا کوئی ایسا کام کر لیا تھا جس کی وجہ سے میری والدہ مجھ سے ناراض ہو گئی تھی شاید وہ کام شرع کے خلاف تھا میں نے وہ حرکت اپنے غیر مسلم دوست کے کہنے پر کی تھی تب میری ماں نے مجھے کہا تھا کہ بیٹا یاد رکھنا یہ دوستی یاری یہ تعلق واسطے اور یہ دنیا کے کام یہاں ہی رہ جائیں گے وہاں تمہارے ساتھ صرف تمہارے کیے گئے اعمال جائیں گے اج جس چھوٹی سی خوشی کے لیے تم نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالا ہے تمہیں اندازہ بھی ہے کہ اس سے تمہارا اللہ تم سے کتنا ناراض ہوا ہوگا اللہ کے رسول تم سے کتنا ناراض ہوا ہوگا اور قبر میں یا روز محشر تم کتنی سزا کے مستحق ٹھہرو گے اگر تم میری اولاد ہو تو ائندہ کبھی بھی کوئی ایسا عمل نہ کرنا جس کی وجہ سے تمہارے رب اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم یا تمہاری والدہ کو پسند نہ آئے اور وہ رنجیدہ ہوں یاد رکھنا تمہارا ایمان واحد ایسی چیز ہے جو تمہارے ساتھ قبر میں جائے گا جتنا تمہارا ایمان مضبوط ہوگا اتنا ہی تمہیں اللہ اور اس کے رسول کا قرب ملے گا اور جتنا تمہارا ایمان کمزور ہوگا اتنے ہی تم اللہ اور اس کے رسول سے دور ہوتے جاؤ گے اس لیے زندگی میں کوئی بھی ایسا کام نہ کرنا جو تجھے اسلام کے اصولوں کے خلاف جا کر کرنا پڑے میری والدہ نے مجھے فقط پانچ سے سات منٹ کا یہ لیکچر دیا والدہ کی بات اختتام کو پہنچ گئی اس کے بعد کبھی میری والدہ کو مجھے سمجھانے کی نوبت نہیں ہے مجھے پتہ چل گیا کہ میں نے کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا اگر میں کہیں تذبذب کا شکار ہوتا ہوں الجھ جاتا ہوں یا مجھے خوف ہوتا ہے کہ میں یہاں کوئی فیصلہ کروں گا تو غلط کر بیٹھوں گا تب میں اپنی والدہ سے ڈسکس کر لیتا ہوں اگر میری والدہ مجھے مکمل طور پر مطمئن نہیں کر سکتی تو وہ مجھے کہتی ہیں تم کسی عالم سے مشورہ کر لو والدہ کی اس دن کی نصیحت سے لے کر اج تک میں نے کوئی ایسا عمل اپنی طرف سے جان بوجھ کر نہیں کیا جس کی وجہ سے مجھے اللہ تعالی اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا اپنی والدہ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا

  • نگہت غوری صاحبہ جو کہ کاروباری خاتون ہے اور روس میں مقیم ہیں وہ اپنے ایک دلچسپ سفر کے متعلق بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ بالکل 100 فیصد ٹھیک مقولہ ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو پہچاننا ہو یا اس کی خصلتوں کے بارے میں جاننا ہو تو اس کے ساتھ سفر کر لو اس کے بعد وہ اپنی روداد سناتی ہیں کہ ایک بار وہ امریکہ سے پاکستان ارہی تھی ان کے پاس بزنس کلاس کی ٹکٹ تھی ان کا بتانا ہے کہ وہ شروع سے ہی بیرون ملک رہی ہیں ان کی پرورش یورپ میں ہوئی ہے ان کی پیدائش بھی وہیں کی ہے اور پھر تعلیم کے لیے وہ امریکہ منتقل ہوئی ان کے والدین فرانس میں رہتے ہیں اور اپنا کاروبار کرتے ہیں وہ فرانس سے امریکہ اپنے کسی دوست کی شادی کا فنکشن اٹینڈ کرنے کے لیے گئی تھیں اور پھر وہاں کچھ دن رکی رہی اپنے باقی دوستوں سے ملاقات کی اس کے بعد وہ پاکستان ارہی تھیں پاکستان انے کے لیے ان کے پاس جرمنی کی ایک نجی ایئر لائن کی ٹکٹ تھی ٹکٹ بزنس کلاس تھی وہ کہتی ہیں کہ جب سفر شروع کرنے سے پہلے میں اپنی فلائٹ میں سیٹ پر جا کر بیٹھی تو میرے پہلو والی سیٹ بھی کسی پاکستانی بزنس مین کی تھی وہ انتہائی خوبصورت اور نوجوان شخص تھا میں اس کو دیکھتے ہی اس کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئی اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں وہ ا کر اپنی سیٹ پر بیٹھا اسی دوران اس نے بیل بجائی تو ایئر ہوسٹس ان کے پاس اگئی انہوں نے ایئر ہوسٹس سے سرگوشی میں کوئی بات کی ائیرہوسٹس نے نفی میں سر ہلایا تو ائیرہوسٹس کا جواب سن کر وہ تھوڑے متذبذب دکھائی دیے جب بھی اپ کے پڑوس میں کچھ ایسا ہو جاتا ہے اپ کی توجہ خود بخود ان کی طرف منتقل ہو جاتی ہے گو کہ میرے بالکل ساتھ بیٹھے ہوئے وہ اتنے سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے کہ میں ان کی بات سمجھ نہیں پا رہی تھی تھوڑی دیر دونوں اپس میں گفتگو کرتے رہے پھر وہ صاحب ایرہوسٹس کے ساتھ اٹھ کر پیچھے اکانومی کلاس میں گیا ہے مگر تھوڑی دیر بعد وہ اسی میزبان خاتون کے ہمراہ واپس اگئے واپس ا کر میزبان خاتون مجھ سے مخاطب ہوئی اور پوچھا کہ ان صاحب کا کہنا ہے اپ میرے ساتھ سفر کرتے ہوئے اگر کسی قسم کی تکلیف محسوس کرتی ہیں تو اپ کو کسی خاتون کے ساتھ ایڈجسٹ کر دیتے ہیں تاکہ اپ کا سفر اسانی سے گزر جائے؟ میرے لیے یہ ایک انہونی بات تھی کیونکہ میں جس ماحول میں رہی تھی وہاں ایسا ہونا تو دور کے بعد ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا مجھے بھلا اس شخص کے ساتھ بیٹھنے سے کیا فرق پڑتا لیکن پھر بھی میں نے اخلاق کا دامن ہاتھ میں رکھتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے ان کے ساتھ سفر کرنے میں کسی قسم کی کوئی دشواری نہیں ہے اگر ان کو میری وجہ سے کوئی پرابلم ہو تو یہ اپنی سیٹ ضرور بدل سکتے ہیں جب میں نے یہ بات کی تو وہ صاحب ڈائریکٹ مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ دراصل میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ غیر مرد ہونے کے ناطے اپ میری وجہ سے سفر میں تنگ نہ ہوں کیونکہ سفر لمبا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اپ کا سکون میری وجہ سے خراب ہو اس شخص کا لہجہ اتنا دھیما تھا کہ جب وہ مجھ سے مخاطب تھا تو شاید ایئر ھوسٹس اس کی بات نہیں سن پا رہی تھی میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ہم دونوں اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے جیسے ہی ہمارا جہاز محو پرواز ہوا تو میں اپنے موبائل میں مشغول ہو گئی اور انہوں نے اپنا لیپ ٹاپ کھول لیا میں موبائل چلاتے چلاتے سو گئی اسی دوران پتہ نہیں کیا ہوا کہ مجھے شدید قسم کی کھانسی ہونے لگی یہ میرے لیے زندگی کا پہلا موقع تھا کہ میں اتنی شدید کھانسی کر رہی تھی یہاں تک کہ مجھے کسی کو مدد کے لیے بلانے کا بھی موقع مل نہیں رہا تھا ان صاحب نے جو اپنا کام کر رہے تھے وہ اسی وقت چھوڑ دیا اپنا لیپ ٹاپ بند کر دیا فضائی میزبان کو بلایا اس سے پانی لانے کے لیے کہا میرے لیے پانی اگیا مجھے پانی پلایا گیا جب میرے کچھ حواس بحال ہوئے تو میں نے ان کا شکریہ ادا کیا فضائی میزبان نے مجھ سے پوچھا کہ اور کسی قسم کی کوئی ضرورت ہو تو بتاؤ جہاز کے اندر ایک ڈاکٹر بھی موجود ہے اگر اپ کو طبی معائنہ کروانا ہے تو بھی بتائیں میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس وقت میں ٹھیک ہوں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے اپ جا سکتی ہیں میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ فضائی میزبان میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اس کے بعد میں نے اپنی سیٹ پر ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کا بھی شکریہ ادا کیا اسی دوران ہماری گفتگو شروع ہو گئی اس شخص کے بولنے کا انداز اتنا پیارا تھا جیسے کوئی شخص واعظ کر رہا ہو اواز اتنی رسیلی ہو کے اس کے الفاظ سن کر اس کا لہجہ دیکھ کر غیر مسلم بھی اسلام قبول کر لے میں اس شخص سے بہت متاثر ہوئی اتنا متاثر کہ وہ میرے دل میں اتر گیا میں نے اس سے نمبر لے لیا تاکہ بعد میں بھی اس سے رابطے میں رہ سکوں پہلے پہلے وہ نمبر دینے سے انکاری رہا پھر میں نے اس کو بتایا کہ مجھے بزنس میں اپ کی رہنمائی کی ضرورت ہوگی اگر اپ مجھ پر یہ احسان کر سکتے ہیں تو کر دیں اس پر اس شخص نے مجھے اپنا

  • ڈیوڈ گاگنز (David Goggins) دنیا کے سب سے مضبوط ذہنی صلاحیت رکھنے والے انسانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ امریکی نیوی سیل (Navy SEAL) کے سابق اہلکار، الٹرا رنر اور مصنف ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان اپنے دماغ کو قابو میں کر کے کس طرح ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ یہاں ان کے سکھائے ہوئے 7 اہم ترین اسباق اردو میں پیش ہیں: --- ### 1۔ 40 فیصد کا قانون (The 40% Rule) جب آپ کا دماغ آپ سے کہتا ہے کہ "بس اب میں تھک گیا ہوں اور مزید کچھ نہیں کر سکتا،" تو حقیقت میں آپ ابھی صرف اپنی 40 فیصد صلاحیت تک پہنچے ہوتے ہیں۔ باقی 60 فیصد طاقت آپ کے اندر محفوظ ہوتی ہے۔ گاگنز کا کہنا ہے کہ جب آپ اس تھکن کے باوجود آگے بڑھتے رہتے ہیں، تو آپ اپنے ذہن کی اصل طاقت کو انلاک (unlock) کرتے ہیں۔ ### 2۔ جوابدہی کا آئینہ (The Accountability Mirror) گاگنز کہتے ہیں کہ اپنے آپ سے جھوٹ بولنا بند کریں۔ وہ خود ایک آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی خامیوں کو کاغذ پر لکھ کر چپکا دیتے تھے (جیسے: "تم موٹے ہو"، "تم سست ہو")۔ جب تک آپ آئینے میں دیکھ کر اپنی سچائی اور کمزوریوں کو تسلیم نہیں کریں گے، آپ خود کو بدل نہیں سکتے۔ خود سے مخلص ہونا ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ ### 3۔ دماغ کو قابو کرنا (Taking Souls) جب آپ کسی مشکل مقابلے، نوکری یا امتحان میں ہوں، تو اپنی محنت اور کارکردگی سے سامنے والے (یا اپنے حریف) پر ایسا ذہنی غلبہ حاصل کر لیں کہ وہ دنگ رہ جائے۔ اس کا مطلب کسی کو نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ اپنی محنت سے دوسروں کا حوصلہ پست کرنا اور خود کو سب سے آگے لے جانا ہے۔ ### 4۔ کوکی جار کا تصور (The Cookie Jar) جب زندگی میں بہت مشکل وقت آئے اور آپ ہار ماننے والے ہوں، تو اپنے دماغ کے "کوکی جار" (بسکوٹ کے ڈبے) میں ہاتھ ڈالیں۔ اس خیالی ڈبے میں آپ کی زندگی کی وہ تمام پرانی کامیابیاں اور مشکلات موجود ہیں جن پر آپ پہلے فتح پا چکے ہیں۔ اپنے ماضی کی مشکلات کو یاد کریں کہ "جب میں اس وقت نہیں ہارا، تو اب کیوں ہاروں؟" یہ چیز آپ کو فوری حوصلہ دے گی۔ ### 5۔ تکلیف سے پیار کرنا (Embrace the Suck) کامیابی کا راستہ آرام دہ نہیں ہوتا۔ اگر آپ کو وزن کم کرنا ہے، پڑھائی کرنی ہے یا کوئی بڑا مقصد حاصل کرنا ہے، تو آپ کو اس کے لیے ہونے والی تکلیف، صبح جلدی اٹھنے اور سخت محنت سے پیار کرنا پڑے گا۔ گاگنز کے مطابق، آرام پسندی انسان کو کمزور بناتی ہے، جبکہ تکلیف انسان کو فولاد بناتی ہے۔ ### 6۔ اپنے ذہن کے مالک بنیں (Master Your Mind) اگر آپ اپنے دماغ کو نہیں چلائیں گے، تو آپ کا دماغ آپ کو چلائے گا۔ صبح جب الارم بجتا ہے اور دماغ کہتا ہے کہ "تھوڑی دیر اور سو جاؤ، باہر سردی ہے،" تو اسی وقت آپ کو اپنے دماغ کو حکم دینا ہے کہ "نہیں، مجھے اٹھنا ہے"۔ زندگی کے فیصلے اپنے آرام کے مطابق نہیں، بلکہ اپنے نظم و ضبط (Discipline) کے مطابق کریں۔ ### 7۔ کبھی بھی مطمئن نہ ہوں (Never Settled) چاہے آپ نے زندگی میں کتنا ہی بڑا مقصد کیوں نہ حاصل کر لیا ہو، کبھی بھی یہ نہ سوچیں کہ "بس میں نے کر لیا"۔ گاگنز کے نزدیک زندگی ایک مسلسل سفر ہے۔ ایک پہاڑ سر کرنے کے بعد، دوسرے اونچے پہاڑ کی تلاش شروع کر دیں۔ ہمیشہ سیکھتے رہیں اور خود کو چیلنج کرتے رہیں کیونکہ جمود (رک جانا) ذہنی موت ہے۔ https://t.me/UrduNaseehaten

  • یہ تحریر اُردو ترجمہ: --- کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں آپ اپنا وقت اس سے زیادہ دیتے ہیں جو آپ خود کو دیتے ہیں، اُن کے لیے اپنا دل کھول دیتے ہیں اس سے پہلے کہ اپنا دروازہ کھولیں، اُن کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں، اُن کی غیرموجودگی میں اُن کا دفاع کرتے ہیں، اُن کی مصیبت میں اُن کا ساتھ دیتے ہیں، اُن کی خوشی پر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے وہ آپ کی اپنی خوشی ہو – پھر وہ لمحہ آتا ہے جب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کچھ اُن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا، اور وہ آپ میں ایک ذریعے یا عارضی اسٹیشن کے سوا کچھ نہیں دیکھتے تھے جو ضرورت ختم ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ تکلیف کسی کے جانے سے نہیں – ہر انسان اپنی پسند میں آزاد ہے – لیکن تکلیف اس بات سے ہے کہ کچھ لوگ مخلصانہ موقفوں کا ایک طویل وقت ایک لمحے کی مصلحت، ایک معمولی سی بات، یا تنگ نظری کی وجہ سے بھول جاتے ہیں۔ تب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ مسئلہ آپ کی وفاداری میں نہیں تھا، بلکہ اس میں تھا کہ آپ نے اپنا اعتماد اُن لوگوں کو دیا جو اعتماد کی قدر نہیں جانتے۔ دنوں نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ سچا بھائی تالیوں کے وقت نہیں بلکہ خاموشی کے وقت ظاہر ہوتا ہے، اور سہارا خوبصورت الفاظ کی تعداد سے نہیں بلکہ اُن موقفوں کی تعداد سے ماپا جاتا ہے جو اُس نے آپ کے ساتھ بغیر کسی مطالبے کے گزارے ہیں – کیونکہ صرف موقف ہی وہ زبان ہے جو جھوٹ نہیں جانتی۔ اور باوجود اس سب کے جو میں نے دیکھا، میں مایوسی کو اپنے اصول بدلنے نہیں دوں گا۔ میں وفادار رہوں گا کیونکہ وفا ایک اخلاق ہے، کوئی سودا نہیں۔ میں بھلائی کرتا رہوں گا کیونکہ بھلائی اپنے لوگوں کو پسند کرتی ہے، اس لیے نہیں کہ ہر کوئی اس کا مستحق ہے۔ اور میں دنوں کو حقائق سے پردہ اٹھانے دوں گا – وہ ایسے قاضی ہیں جو غلطی نہیں کرتے، اور ایسا آئینہ ہے جو کسی کی خوشامد نہیں کرتا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنے پیاروں کو دھوکا دیا اور پہلی ہی آزمائش پر موقف رکھنے والوں کا ساتھ چھوڑ دیا – تو وہ یاد رکھیں کہ زندگی ایک چکر ہے، دن بھولتے نہیں، اور جو وفا بوئے وہ محبت کاٹتا ہے، اور جو دھوکا بوئے گا ایک دن وہ اپنے کیے کی کڑواہٹ چکھے گا۔ اور آخر میں، مجھے افسوس اس بات کا نہیں کہ میں وفادار رہا، بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ میں نے وفا اُن لوگوں کو دی جنہیں اس کی قدر معلوم نہیں۔ پھر بھی میں اس یقین پر قائم رہوں گا کہ انسان کا اندازہ اُس کے آس پاس کے لوگوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اُس کے اصولوں کی قدر سے ہوتا ہے، اور اصیل شخص اصیل ہی رہتا ہے چاہے وہ اکیلا ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ عزت اور وفا کو کسی سامعین کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک زندہ ضمیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ سلام ہے ہر اس دل پر جس نے وفا کا مطلب پہچانا، اور جسے مفادات نے بدلا نہیں اور حالات نے تبدیل نہیں کیا۔ 👌👌👌

  • 🌿 مغرب کے ساتھ ہی جمعہ کی مبارک ساعتیں شروع ہو چکی ہیں۔ ذرا سوچیے...! کتنی تیزی سے وقت ہماری زندگی سے رخصت ہو رہا ہے۔ نہ جانے کتنے جمعے ہماری زندگی سے گزر چکے، اور نہ معلوم کتنے باقی ہیں۔ ہر گزرتا لمحہ ہمیں اپنی آخری منزل، یعنی موت، کے مزید قریب کر رہا ہے۔ 😥 اس لیے اس مبارک جمعہ کو غنیمت جانیے۔ اپنی زبان کو کثرتِ درودِ پاک ﷺ سے تر رکھیے، اور سورۂ الکہف کی تلاوت کا اہتمام کیجیے۔ کون جانتا ہے... شاید یہ جمعہ ہماری زندگی کا آخری جمعہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک دن کی قدر کرنے، اپنی مغفرت حاصل کرنے، اور اپنی رحمتوں سے بھرپور حصہ پانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

  • 🥀 "بہو نہیں... کسی کی بیٹی ہے، اسے بے بس نہ کریں۔۔۔ ایک بیٹی جب اپنے باپ کا گھر چھوڑتی ہے تو صرف ایک دروازہ بند نہیں ہوتا... اس کی پوری دنیا بدل جاتی ہے۔ وہ اپنے والدین کی محبت، اپنے بچپن کی یادیں، اپنے محفوظ آنگن اور ہر اس رشتے کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے جس کے سہارے اس نے زندگی گزاری ہوتی ہے۔ وہ نئے گھر میں یہ سوچ کر قدم رکھتی ہے کہ یہاں اسے عزت ملے گی، اپنائیت ملے گی، محبت ملے گی... مگر جب اس کا استقبال محبت سے نہیں بلکہ طعنوں سے ہو... جب جہیز کو اس کی عزت کا پیمانہ بنا دیا جائے... جب ہر بات پر اسے کمتر، حقیر اور بے وقعت محسوس کرایا جائے... جب اس کے آنسو بھی کسی کو نظر نہ آئیں... تو وہ بولنا چھوڑ دیتی ہے۔ اس کی ہنسی پہلے خاموش ہوتی ہے... پھر اس کی خواہشیں مر جاتی ہیں... اور آخر میں وہ خود زندہ رہ کر بھی اندر سے ٹوٹ جاتی ہے۔ وہ کئی بار سوچتی ہے: "اگر یہ گھر بھی میرا نہیں... تو پھر میرا گھر ہے کہاں؟" نہ وہ والدین کو اپنا دکھ سنا سکتی ہے کہ وہ پریشان ہوں گے، نہ سسرال میں کوئی اس کی فریاد سننے والا ہوتا ہے۔ وہ بس رات کے اندھیرے میں اپنے رب کے سامنے ٹوٹ کر رو پڑتی ہے۔ یاد رکھیں... کسی عورت کو بے بس کرنا طاقت نہیں، ظلم ہے۔ کسی کی بیٹی کی عزت چھین لینا بہادری نہیں، انسانیت کی شکست ہے۔ جس گھر میں عورت کے آنسو معمول بن جائیں، وہاں سکون نہیں رہتا۔ بیٹی کو عزت دیجیے... کیونکہ وہ آپ کے گھر صرف رشتہ نبھانے نہیں آتی، وہ اپنا پورا وجود آپ کے سپرد کر دیتی ہے۔ اس کے دل کو مت توڑیے... کیونکہ ٹوٹے ہوئے دل کی آہ عرش تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔

  • 🌙✨ اگر آج آپ غمگین ہیں... ✨🌙 😔 اگر دل پر غموں کا بوجھ ہے... 😢 اگر آنکھیں خاموشی سے آنسو بہا رہی ہیں... 🥀 اگر روح ہر چیز سے تھک چکی ہے... 🤲 تو یقین رکھیں... اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔ وہ آپ کے ہر آنسو سے واقف ہے، ہر تکلیف کو جانتا ہے، ہر خاموش دعا کو سن رہا ہے، اور آپ کے لیے ایسے فیصلے فرما رہا ہے جو آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں۔ 🌸 🌧️ کبھی کبھی زندگی کی سب سے تاریک رات... 🌅 سب سے روشن صبح کی نوید لے کر آتی ہے۔ 🌙 آج رات سونے سے پہلے... ⏰ تہجد کے لیے الارم ضرور لگائیں۔ 🤲 اپنے رب سے ملاقات کی نیت کریں۔ کیا معلوم... ✨ یہی رات قبولیت کی رات ہو۔ ✨ یہی سجدہ آپ کے غموں کا خاتمہ بن جائے۔ ✨ یہی دعا تقدیر کے بند دروازے کھول دے۔ ✨ اور اللہ اسی رات آپ کو وہ عطا فرما دے جس کا آپ مدتوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ 🌌 جب ساری دنیا سو رہی ہوگی... 🤲 آپ کا رب آپ کو اپنی بارگاہ میں بلا رہا ہوگا۔ 📿 آج ہی الارم لگائیں۔ ⏰ 🌙 تہجد کی نیت کریں۔ 🤲 اور اپنے رب سے وہ مانگیں جو صرف وہی عطا کر سکتا ہے۔ 🌺 کیا خبر... یہی رات آپ کی زندگی کی سب سے خوبصورت رات بن جائے۔ ⏰ ابھی الارم لگائیں... اور اپنے رب کے ساتھ تنہائی کے ان قیمتی لمحوں کو ضائع نہ کریں۔ 🌙🤲

  • 🌸 *ماں کی توجہ* ایک چھوٹی بچی ہر روز اپنی ماں کے پاس آ کر کہتی: "امی... مجھے دیکھیں!" لیکن ماں کے ہاتھ میں ہمیشہ موبائل ہوتا۔ وہ مسکرا کر کہتی: "بس ایک منٹ..." یہ "ایک منٹ" دنوں، ہفتوں اور مہینوں میں بدل گیا۔ ایک دن بچی نے اپنی ڈرائنگ ماں کے سامنے رکھی۔ اس میں ایک گھر تھا... ایک چھوٹی سی بچی تھی... اور ماں کے چہرے کی جگہ ایک موبائل بنا ہوا تھا۔ ماں کچھ لمحوں کے لیے خاموش رہ گئی۔ اسے احساس ہوا کہ بچے صرف ہمارے الفاظ نہیں، ہماری ترجیحات بھی پڑھنا سیکھ جاتے ہیں۔ 💭 غوروفکر: آج میرا بچہ میری توجہ پا رہا ہے... یا صرف میرا "ایک منٹ" سن رہا ہے؟

  • عورت کا کردار کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے جب وہ سیدھے راستے پر چلتی ہے تو اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ اور شاندار بنا دیتی ہے اس کے برعکس اگر وہ خود غلط راستوں اور گمراہی کا انتخاب کر لے تو وہ نہ صرف اپنی ذات کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ پورے خاندانی نظام کو تباہ کر دیتی ہے🥀🫠

  • 🌿 اگر تم زندگی کی آزمائشوں سے ٹوٹ چکے ہو... تو یہ چند لمحے اپنے رب کے نام کر دو۔ 🌿 کبھی ایسا لگتا ہے کہ اب ہمت ختم ہو گئی ہے... دعائیں جیسے آسمان تک پہنچ ہی نہیں رہیں... آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں... اور دل بار بار یہی کہتا ہے: "یا اللہ! آخر کب تک؟" اگر آج تمہارا دل بھی یہی کہہ رہا ہے... تو اپنے رب کی قدرت کو یاد کرو۔ 🌊 نوح علیہ السلام کے سامنے طوفان تھا، مگر اللہ پر توکل، طوفان سے بڑا تھا۔ 🔥 ابراہیم علیہ السلام کے سامنے دہکتی آگ تھی، مگر یقین اتنا مضبوط تھا کہ آگ بھی اللہ کے حکم سے سلامتی بن گئی۔ 🌊 موسیٰ علیہ السلام کے سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا لشکر، مگر ایک یقین نے سمندر کو راستہ بنا دیا۔ 🕳️🤲 یوسف علیہ السلام کنویں میں تھے، پھر قید خانے میں بھی رہے، مگر انہوں نے اپنے رب سے امید نہیں توڑی، اور اللہ نے انہیں عزت عطا فرمائی۔ 🐋🌌 یونس علیہ السلام تاریکیوں کے اندر تاریکی میں تھے، مگر ایک سچی پکار نے نجات کا دروازہ کھول دیا۔ 🤲🩺 ایوب علیہ السلام برسوں بیماری میں رہے، مگر شکوہ نہیں کیا، صبر کیا، اور اللہ نے شفا عطا فرمائی۔ 🤲🏻 زکریا علیہ السلام نے بڑھاپے میں بھی دعا کرنا نہیں چھوڑی، اور اللہ نے انہیں ایسی خوشی عطا فرمائی جس کا دنیاوی اسباب سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا۔ اب اپنے دل سے ایک سوال کرو... کیا تمہاری آزمائش، طوفان سے بڑی ہے؟ کیا تمہارا غم، آگ سے زیادہ شدید ہے؟ کیا تمہاری بے بسی، سمندر کے سامنے کھڑے موسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر ہے؟ کیا تمہاری تنہائی، کنویں یا مچھلی کے پیٹ کی تاریکی سے زیادہ ہے؟ اگر نہیں... تو پھر اپنے رب سے امید کیوں کم ہو گئی؟ یاد رکھو... اللہ دیر کر سکتا ہے، مگر اپنے بندے کو چھوڑتا نہیں۔ وہ آزماتا ہے، مگر تنہا نہیں چھوڑتا۔ وہ رلاتا ہے، مگر بے مقصد نہیں رلاتا۔ ہر آنسو، ہر سجدہ، ہر دعا... اس کے علم میں ہے۔ تمہاری کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی... ہو سکتا ہے آج کا صبر، کل کی سب سے بڑی خوشخبری بن جائے۔ 🤲 اس لیے ہمت نہ ہارو، دعا نہ چھوڑو، سجدے نہ چھوڑو، اور اپنے رب پر توکل کبھی نہ چھوڑو۔ جس رب نے اپنے انبیاء علیہم السلام کو ہر آزمائش سے نکالا، وہی رب آج بھی زندہ و قائم ہے، اور وہ تمہاری دعا بھی سننے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ ازقلم : بنت محمد اظہر الدین صاحب

  • без подписи

  • ⚠️ یہ صرف ایک ویڈیو نہیں... ہر والدین کے لیے ایک آئینہ ہے! ⚠️ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے۔ اس میں ایک باپ نے اپنے بیٹے سے فجر کی نماز چھوڑنے پر کمپیوٹر واپس لے لیا۔ سوچیے...! جس باپ نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے کمپیوٹر خریدا، وہی باپ…

  • ⚠️ یہ صرف ایک ویڈیو نہیں... ہر والدین کے لیے ایک آئینہ ہے! ⚠️ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے۔ اس میں ایک باپ نے اپنے بیٹے سے فجر کی نماز چھوڑنے پر کمپیوٹر واپس لے لیا۔ سوچیے...! جس باپ نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے کمپیوٹر خریدا، وہی باپ جب دیکھتا ہے کہ یہی سہولت اس کے بچے کو اللہ کی نماز سے دور کر رہی ہے، تو وہ خاموش نہیں رہنا چاہئے ، بلکہ ایک سخت فیصلہ کرتا ہے۔ ❓ہم خود سے پوچھیں... کیا ہم نے کبھی اپنے بچوں سے یہ پوچھا کہ فجر پڑھی؟ یا صرف یہ پوچھتے ہیں: "موبائل چارج ہے؟" "آن لائن کلاس ہوئی؟" "یا گیم کھیلتے ہے تو دیکھ کر اگنور کرتے ہے؟" آج بہت سے گھروں میں موبائل اور کمپیوٹر کھلونا بن چکے ہیں، جبکہ نماز، قرآن اور مسجد اجنبی ہوتے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیے! وہ باپ کامیاب نہیں جس نے اولاد کو صرف دنیا کی ہر سہولت دے دی، بلکہ وہ باپ کامیاب ہے جس نے اپنی اولاد کو سجدہ کرنا سکھا دیا۔ آج اگر ہم اپنی اولاد کو نماز کا پابند نہیں بنائیں گے، تو کل یہی اسکرینیں ان کے ایمان، اخلاق اور وقت کو نگل جائیں گی۔ سورۃ طہ : 132 ﴿وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا ۖ نَحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى﴾ ترجمہ: "اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔ ہم تم سے روزی نہیں مانگتے، ہم ہی تمہیں روزی دیتے ہیں، اور اچھا انجام تقویٰ والوں کے لیے ہے۔" 🤲 اے اللہ! ہماری اولاد کے دلوں میں نماز، قرآن اور دین کی محبت پیدا فرما، اور ہمیں ان کی صحیح تربیت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔ ازقلم : بنت محمد اظہر الدین صاحب