tgindex
Apki Awaz آپ کی آواز

Apki Awaz آپ کی آواز

Статистика

ادبی،اصلاحی،تحقیقی،دینی،سیاسی، سماجی مضامین، ویڈیوز اور خبریں وغیرہ واٹس ایپ چینل کا لنک https://whatsapp.com/channel/0029Va7d9KP4dTnNVAiwuY1I فیس بک لنک: https://www.facebook.com/APKIAWAZ786?mibextid=LQQJ4d یوٹیوب لنک: https://youtube.com/@apkiawazonline

Последний пост
6 авг.
Последнее чтение
15 авг.
Постов за неделю
0
Всего постов
20
Тип
открытый
Язык
ur
Категория
Видео
В каталоге с
13 авг.
Подписчики
741
0 за 1 дн.
Сутки
0
0,00%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
473
20 постов
Вовлечённость
63,8%
к подписчикам
Постов в день
0,0
всего 20
Упоминаний
0
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
294
1/48двое суток
336
1/72трое суток
363

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • Darul Uloom Deoband aur Ilm e hadith https://amzn.in/d/0dy6G6h9

  • خود روطور پر اگ آنے والے خس وخاشاك كی بہتات ہو‏، سبز گھاس كے نیچے چرخی بنے كسی سانپ كے نكل آنے كا ہر آن خدشہ ہو‏، وہاں چپلوں كے ساتھ چلنے میں كوئی حرج نہیں ہے ؛كیوں كہ اسلام میں زندہ جانوں كی اہمیت مردوں كے احترام سے زیادہ ہوتی ہے۔ ہم دونوں چھوٹے قدموں رفتہ رفتہ چلتے ہوے اپنے والدین كے مدفن میں پہنچ گئے تو دیكھأكہ وہاں ہم سے پہلے ہمارے اور بھی یایا زاد چچا زاد بھائی بھتیجے اور خود ہمارے گھر كے دیگر بچے اپنی اپنی سورتیں پڑھ رہے ہیں اور بخش رہے ہیں‏۔ ہم نے ولید میاں سے كہا كہ پہلے دادا جان اور دادی جان كو سلام كرو‏ ‏، اس نے قبرستان میں داخلے كی دعا پڑھی ‏، پھر ہم نے كہا كہ جو جو سورتیں یاد ہوں سب پڑھ لو اور اخیر میں كہہ لینا كہ اللہ میاں ہم نے جو كچھ پڑھا ہے اس كا ثواب ہمارے دادا دادی اور سب لوگوں كو پہنچادینا ‏، یہ سمجھا كر ہم بھی اپنی سورتیں پڑھنے میں مصروف ہوگئے‌‏۔ فارغ ہوكر ہم لوگ واپس ہوئے تو دیكھا كہ پورے قبرستان میں لوگ اپنے اپنے مرحومین كی قبروں پر كھڑے ہوكر فاتحہ خوانی كررہے ہیں‏، یہ دیكھ كر ہمارے ذہن میں فورا جو خیال آیا كہ وہ یہی تھاكہ آج تو قبرستان كے مرحومین كی عید ہوگئی ہے‏۔ در اصل قبروں میں مدفون مرحومین كی روحیں اپنے متعارف لوگوں كو پہچان لیتی ہیں ‏، ان كے سلاموں كا جواب دیتی ہیں ‏، انھیں معلوم ہوجاتا ہےكہ آج كون كون لوگ آئے ہیں اور انھوں نے كن كن سورتوں كا تحفہ پیش كیا ہے‏۔ اس ایصال ثواب سے مرحومین كو خوشی ہوتی ہے‏، ان میں سے بخشے ہوئے لوگوں كے انعامات میں اضافہ ہوجاتا ہے اور پریشاں حالوں كی پریشانیوں میں ایصال ثواب كے بقدر كمی آجاتی ہے۔ تو باحیات لوگوں كی اپنے مرحومین كی یہ زیارت ان كے لیے عید جیسی ہی خوشی كا سامان فراہم كرتی ہے‏۔ ہم دونوں واپس ہوئے تو ہم نے ولید سے پوچھا كہ جب ہم یہاں دادا كے پاس سونے آجائیں گے تو تم ہمارے پاس ایسے ہی آیا كروگے ‏، بے چارے نے معصومیت سے ہماری طرف دیكھا اور كہا ہاں آیا كریں گے ‏، ہم نے كہا پكا؟ ‏، كہنے لگا ہاں پكا‏۔ یہ سب باتیں كرتے ہوئے ہم لوگ نئے مرحوم كی قبر پر آئے لوگ مٹی دے رہے تھے انھیں میں شامل ہوكر ہم نے بھی تین مٹھی مٹی ڈالی اور باہر نكل آئے۔ در اصل قبرستانوں كی زیارت بھی ایك محبوب عمل ہے‏، اس كے بہت سے فائدہے ہیں‏، اولا اپنے مرحومین سے سلام دعا ہوجاتی ہے‏، ان كے لیے كچھ ایصال ثواب ہوجاتا ہے‏۔ اور قبروں كو دیكھ دیكھ كر كہ ماضی كے بڑے بڑے ترم خان سب اسی مٹی كے اندر سوئے ہوئے ہیں‏، اپنے دل بھی نرم ہوجاتے ہیں۔ ہم توكہتے ہیں كہ حكمراں طبقے اور گاؤں كے مكھیا لوگوں كو پابندی سے قبرستان جاتے رہنا چاہئے اس سے ان كر دلوں میں نرمی برقرار رہے گی اور وہ چاہتے ہوئے بھی اپنی پرجا اور رعایاپر ظلم نہیں كرپائیں گے‏۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائی عہد میں تو قبرستان كی زیارتوں سے منع فرمایا تھا البتہ جب توحید كا كلمہ مستحكم ہوگیا لوگوں كے ایمان مضبوط ہوگئے تو انھیں حكم بھی دیا كہ قبرستان جایا كرو.خود بھی شہداے احد كی قبروں پر گئے تھے‏، ان كے بعد خلفاءے راشدین كا بھی یہی معمول رہا ‏، مناسب ہوگا كہ ہم بھی اپنا معمول بنائیں‏ اور اپنے مرحوم كے حق میں ولد صالح بنیں‏۔ محمودیہ لائبریری-بروز منگل،دس بجے شام-4/8/2026

  • اللہ كا فضل ہے كہ اس بابت ہمارا گاؤں كافی فضیلت والا معمورہ ہے‏، ہمارے یہاں جنازوں میں ماشاء اللہ ایك بڑی تعداد شریك ہوتی ہے‏، ایك تو یہ ہے كہ گاؤں ہے شہر نہیں‏، گاؤوں میں خانوادے ایك دوسرے سے مربوط رہتے ہیں ‏، دور كے رشتے دار بھی اس روز اپنے كام كاج كے لیے نہیں جاتے ہیں‌‏، جب كہ شہروں میں دیكھا جاتا ہے كہ قریبی رشتے داروں تك كی دوكانیں نہین بند ہوتی ہیں۔ ہمارے یہاں لوگ كوشش كرتے ہیں وفات كے اس غم میں شریك ہوں اور جنازے میں شركت كریں ‏، اہل قریہ كی ان صفات حسنہ كی وجہ سے بات تو یہاں تك پہنچ گئی ہے لوگ یہ كہتے بھی سنے جاتے ہیں كہ وہ رسول پور‏، جہاں نماز جنازہ میں بہت لوگ شریك ہوتے ہیں۔ اے میرے گاؤں كے پیارے لوگو! یہ تبصرہ آپ كے لیے وہ سعادت ہے‏، جو زوربازو سے نہیں حاصل كی جاسكتی ہے‌‏۔ اس كے برعكس ہماری آنكھوں نے تو دیگر گاؤوں میں ایسا بھی مشاہدہ كیا ہے كہ نماز جنازہ پڑھنے والوں كی تعداد معمولی ہے اور ارد گر د كھڑے ہونےوالوں كی تعداد كافی زیادہ ‏، دریافت كرنےپر معلوم ہے كہ یہ ناپاك ہیں؛‏ اسی لیے نماز نہیں پڑھ رہے ہیں‏، عمومایہ وہ لوگ ہوتے ہیں‏، جن كو میت كا غم ذرہ برابر نہیں ہوتا ہے‏، بس سماجی طعنوں كی وجہ سےمیت كےگھر چلے جاتے ہیں‏، كہ نہ جانےپر لوگ كیا كہیں گے‌‏۔ ورنہ دو لوٹے پانی سے غسل كركے پاك ہونے میں انھیں دو منٹ نہ لگیں ‏،در اصل ساری چیزیں اللہ رب العزت كی توفیق پر منحصر ہوتی ہیں اور یہ وہ بد بخت طبقہ ہوتا ‏،جسے خدائی توفیق سے محرومی رہتی ہے۔ ہم پہنچے تو دیكھا كہ ماشاء اللہ كافی لوگ ہیں ‏، تین كیا سات صفیں بنی ہوئی نظر آرہی تھیں‏، ہم نے بھی ایك صف میں كھڑے ہوكر نماز پڑھی‌‏، اور اپنے گھر كی طرف چلے آئے ‏،حالاں كہ مسنون یہ ہے كہ جنازے كے پیچھے پیچھے مشایعت میں قبرستان جانا چاہئے‏، حدیث میں كچھ ایسا بھی آتا ہے كہ محض جنازے میں شریك ہونےوالےكو ایك قیراط ثواب ملتا ہے اور جنازہ وتدفین دونوں میں شریك ہونے والوں كو دو قیراط ثواب ملے گا۔ تدفین میں تو ہمیں بھی شریك ہونا تھا ‏،بس قبرستان جانے كےلیے اپنے چھوٹے میاں احمد ولید كو بھی ساتھ لینا تھا‏، انھیں ان كے دادا سے ملوانا تھا‏۔ ہمارے والد صاحب كا معمول تھا كہ وہ ہر جمعہ كو قبرستان جایا كرتے تھے اور اپنے مرحومین كے پیروں میں كھڑے ہوكر كبھی ایك جانب قبلے كی طرف پیٹھ اور قبر كی طرف چہرہ كر كے حفظ شدہ سورتیں پڑھتے تھےاور انھیں بخشتےتھے‏، ہم لوگوں كو بھی ساتھ لے جاتے تھے ‏،ہم لوگ ابو كی انگلی پكڑے ہوئے چلتے تھے‏ اور سورہ فاتحہ ‏چاروں قل سورہ تكاثر جیسی چیزیں پڑھتےتھے ‏،پھر جب گاؤں سے باہر مدرسوں میں چلے گئے تو چھٹیوں كے موقعوں پر ابو كی مصاحبت میں قبرستان جانا واجبی ہوتا تھا‏۔ در اصل حدیث پاك میں مذكور ہے جو شخص جمعہ كے روز اپنے والدین كی قبروں كی زیارت كرتا ہے تو اس كی مغفرت كر دی جائے گی اوراسے والدین كے ساتھ بھلائی كرنے والوں میں شمار كیا جائے گا۔ بس یہ بات تھی‌‏۔ ہمارے دو ہشام اور عكاشہ تو نظرنہیں آئے ‏،وہ قدرے بڑے ہوگئے ہیں‏،انھیں ابو سے دور رہنے ہی میں نجات محسوس ہوتی ہے ‏،ایك چھوٹے میاں ولید جن كی خوشی ابو كی مصاحبت میں مضمر رہتی ہے‏، گھر كے سامنے كھڑے ہوكر ہمارا انتظار كرر ہے تھے ‏، ہم نے انگلی پكڑی اور قبرستان كی طرف چل دیے۔ ہمارے گاؤں كا قبر ستان بھی ماشاء اللہ كافی بڑا ہے ‏، برادر بزرگوار توحید بھائی كی كوششوں اور شاید ہمارے یہاں كے سابق ممبر پارلیمنٹ مرحوم الیاس اعظمی صاحب كے مالی تعاون كی وجہ سے باؤنڈری بھی ہوچكی ہے‌‏۔ ہم پہنچے تو دیكھا كہ انسانوں كی ایك بھیڑ ہے ‏، بچے ‏، جوان ‏،بڑے اور بوڑھے ہر عمر كے لوگ موجود ہیں‏، دروازے كے قریب ہی ایك گوشے میں قبر بنائی جارہی ہے‏، جس كے ارد گرد ایك بھیڑ سفید كپڑوں میں ملبوس كھڑی ہوئی ہے ‏، دیكھنے والوں كو پہلی نظر میں یہی محسوس ہوجیسے كہ قبرستان نہ عیدگا ہ ہو اور یہ سب جشن منارہے ہوں‏؛ لیكن گونگی زبانیں اور ازدحام كے باوجود فضا میں چھائی ہوئی خاموشی غمازی كررہی تھی كہ یہ عید كا سماں نہیں غم كا ماحول ہے‏۔ قبرستان میں اور آگے بڑھے تو دیكھا كہ قبرستان كے درختوں كے بیچ اگی ہوئیں جھاڑیوں كے آگے پیچھے بہت سے لوگ سفید كپروں میں ادھر ادھر بھی ایسے منتشر ہیں جیسے چھوٹے درختوں پر سفید رنگ كے بگلے بیٹھے ہوئے ہیں‏، یہ سب اپنے مرحومین كی قبروں پر فاتحہ پڑھ رہے تھے‏، اس طرح جنازوں كی شركت سے ایك پنے میں دو كاج والا معاملہ ہوجاتا ہے۔ ہم نے بھی سوچا كہ جب تك قبر برابر ہو ہم بھی اپنے والدین اور اپنے خانوادے كے دیگر مرحومین كی قبروں كی زیارت كرلیتے ہیں‏، یوں ولید میاں كو لیے ہوئے اپنے خاندانی قبرستان كی طرف چل دیے‏۔ قبرستان میں جانے كے آداب میں سے تو یہی ہے كہ قبروں كے بیچ ننگے پیر ہی چلا جائے‏، قبروں پر پیر نہ ركھا جائے اور نہ قبروں پر بیٹھا جائے ؛ لیكن جہاں راستے صاف نہ ہوں اور برسات كے موسم میں

  • رسول پور میں مُردوں كی عید ڈاكٹر عبدالملك رسولپوری شعبہ عربی ذاكرحسین دہلی كالج ‏،دہلی malikqasmi@gmail.com ایك ہفتہ قبل كی بات ہے ‏، راقم اپنے گاؤں رسول پور میں تھا‏، قدرے مصروفیت بھی تھی‏، دہلی یونیورسٹی میں داخلوں كی سرگرمیاں جاری تھیں‏، جنرل سیٹوں میں داخلے كے خواہش مند طلبہ كے تعلیمی دستاویزات كی تصدیق ہمارے ذمے تھی‏، جمعہ كی نماز سے فارغ ہوكر ہم تیز قدموں اپنے آشیانے طر ف چلے ‏،سنتیں پڑھیں اور پھر دوبارہ لیپ ٹا پ آن كر كے یونیورسٹی كی ویب سائٹ كو لاگ ان كیا‌‏، ابھی دوچار منٹ گزرے ہوں گے كہ مسجد سے اعلان ہوا :جنازے كی نماز تیار ہے۔ ہمارے علم میں بھی نہیں تھا كہ آج كوئی گاؤں باشی وفات پاگئے ہیں‏، شاید صبح میں كسی وقت اعلان ہوا ہو گا ‏،جس كی آواز ہمارے كانوں تك نہیں پہنچی ہوگی‏، گاؤں یا اطراف میں جب كسی كا انتقال ہوتا ہے توعموما مسجد سے اعلان كیا جاتا ہے كہ فلاں صاحب كا انتقال ہوگیا ہے اور نماز جنازہ فلاں وقت ادا كی جائے گی‏، سماج كے تئیں مسجد كی جملہ خدمات میں سے یہ بھی ایك اہم خدمت ہے ‏،اس سے بہت سے لوگوں كو آسانی سے وفات كی خبر مل جاتی ہے اور پھر تعزیت كے لیے لوگ جانے لگتے ہیں‏۔ یہ جناب اسلم صاحب كا جنازہ تھا‏، متوسط درجےكا ان كا گھراناتھا ‏، مرحوم نے حین حیات كوئی خاص نیك كام ضرور كیا ہوگا جس كے باعث اللہ رب العزت نے موت كے فرشتے كو جمعہ كی تاریخ دی‌‏تھی‏، حدیث میں آتا ہے كہ جس مسلم شخص كا جمعہ كے دن یا جمعہ كی رات میں انتقال ہوتا ہے‏، وہ قبر كے فتنے سے محفوظ رہتا ہے‏،یعنی قبر میں اس كو عذاب نہیں دیا جاتا ہے ‏، ہاں اس بابت لوگوں نےاختلاف كیا ہے كہ صرف جمعہ كے روز فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے كہ یا تا قیامت‏ محفوظ رہے گا‏، ہم تو یہ كہتے ہیں كہ چھوٹے ذہن كے لوگ صرف جمعہ كے دن محفوظ رہیں گے اور بڑے ذہن اور بڑے دماغ كے لوگ قیامت تك محفوظ رہیں گے ‏، بھائی جب حدیث پاك میں اس كی تحدید نہیں ہے تو اللہ رب العزت سے اچھی ہی امید ركھنی چاہئے‏، بڑے لوگوں سے تھوڑا كہاں مانگا جاتا ہے ‌‏، اور ہم كون ہوتے ہیں جو اسے چند ساعتوں میں محدود كریں۔ در اصل جمعہ كے دن جہنم كی بھٹی بند رہتی ہے ‏، سارےكارندے چھٹی پر رہتے ہیں اس لیے آگ سلگتی ہی نہیں ہے‏، تو عذاب كہاں سے ہوگا۔ یہ بس اللہ رب العزت كا نظام اور اس كی رحمت ہے ورنہ تو وہ قادر مطلق ہے۔ خیر ہمارے كانوں میں جیسے ہی آوازآئی‏، ہم نے لیپ ٹاپ بند كیا اور فورا نماز جنازہ كے لیے دوْڑے اور اپنے چھوٹے میاںولید سلمہ سے كہا كہ تم كپڑے پہن كے نیچے ملو‏، ہم ابھی آرہے ہیں دادا جان كے پاس چلیں گے۔ در اصل شہروں كے جنازوں میں كم ہی شركت ہوتی ہے ‏، دہلی میں رہائش بھی غیر رہائشی جگہ پر ہے ‏، یہاں شام میں انسان ہی نہیں نظر آتے ہیں اور دن میں جو نظر آتے ہیں وہ نظری طور پر زندہ ہوتے ہیں ‏،گرچے ان كی اكثریت نظریاتی طور پر مردہ ہوتی ہے‏، پر نظریاتی مردوں كے جنازے نہیں ہوتے ہیں‏۔ دن میں آباد اور شام كے بیاباں دہلی كے اس دفتری قطعے كے پیچھے بھی ایك قبرستان آبادہے؛ لیكن جس طرح ہائی وے پر یو ٹرن كاكٹ كئی كلو میٹر كے بعد ہوتا ہے‏، ایسے ہی اس قبر ستان میں جانے كے لیے بھی آپ كو كلو ڈیڑھ كلو میٹر تو چلنا ہی پڑتا ہے اور پھر مسجد عبدالنبی میں جنازے كی نماز بھی نہیں ہوتی ہے‏، فرشتوں كےجنازے نہیں ہوتے اور یہاں انسان مرتے نہیں‏، بس گاہے گاہے جن كا انتقال ہوتا بھی ہے‏، ان كے جنازے ان كے آبائی گھروں كو چلے جاتے ہیں‏، یوں جنازوںمیں شركت كا موقع ہی كم ملتا ہے‏۔ گاؤں آتے ہیں تو ہرمرتبہ كوئی نہ كوئی رخصت ہوا ملتا ہے‏،كوشش رہتی ہے كہ جنازے میں شركت ہوجائے‏، اس من گھڑت بات كے لیے نہیں كہ آپ جتنوں كے جنازوں میں شریك ہوں گے آپ كے جنازے میں بھی اتنے ہی لوگ شریك ہوں گے؛ كیوں كہ حدیث پاك میں اس طرح كی كوئی تشریح نہیں نظر آتی ہے؛ہاں یہ ضرور ملتا ہے كہ كبھی كبھی جنازے میں شریك افراد كی وجہ سے میت كی مغفرت كردی جاتی ہے اور كبھی كبھی اس كے برعكس میت كی وجہ سے جنازے میں شریك افراد كی بخشش ہوجاتی ہے‏؛ اس لیے كوشش كرنا چاہئے كہ جنازے میں شریك ہی ہوجائے‏۔حدیث پاك میں یہ بھی منقول ہے كہ اگر كسی كے جنازے میں سو افراد ہوں یا تین صفیں ہوگئیں ہوں اور وہ سب اس میت كے حق میں مغفرت كی سفارش كررہے ہوں تو اللہ رب العزت اپنے ان بندوں كی سفارش كو رائیگاں نہیں جانے دیتے ہیں‏، اپنی رحمتوں كے پیش نظر قبول كرلیتے ہیں اور اس میت كی بخشش فرمادیتے ہیں۔ ایسے ہی حدیث پاك میں یہ بھی مذكور ہے كہ مومن كے جنازے میں نكلنے میں والوں كے لیے سب سے پہلا تحفہ یہ ہوتا ہے كہ ان كی بخشش كردی جاتی ہے‏۔

  • دےگا تو ہم ان شاءاللہ العزیز یونیورسٹی کو دوبارہ پہلے سے زیادہ شان و عرفان سے بنالیں گے ۔ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَۙ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ‏۔

  • *" جنتر منتر والے جنید کا یہ بیان سنا "* *یہ بیان دراصل محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف ہے !* ✍️: سمیع اللہ خان https://www.facebook.com/share/v/1E9EeLvzdq/ جنید کا کہنا ہے کہ " سرکار چاہے تو محمد علی جوہر یونیورسٹی کا نام تبدیل کردے، سرکار اس کو پرائیویٹ سے اپنے قبضے میں لے لے، محمد نام سے دقت ہے تو اسے بھی بدل دے اور کسی اور کرانتی کاری کے نام پر یونیورسٹی کا نام رکھ دے، لیکن بس یونیورسٹی کو رہنے دو " یہ حمایت معنوی طور پر یونیورسٹی کی مخالفت ہی ہے کیونکہ آپ اس کی روح کو دفن کرنا چاہتے ہیں! جنید صاحب! آپ تو بہت زیادہ ہی بھولے بھالے نکل گئے، اور اتنے زیادہ غیرت سے خالی کہ نامِ محمد کی تبدیلی پر ایسی رضا ہے آپکی، اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے، آپ کا یہ بیان سن کر اندازہ ہوا کہ کیوں آپ جیسوں کو کسی بھی اہم ملکی اور سیاسی مسئلے میں زیادہ کودنا نہیں چاہیے، جی ہاں، میں نے دیدہ دانستہ یہ لفظ لکھا ہے، کہ آپ جیسے افراد کو بالکل بھی بہت زیادہ کودنا نہیں چاہیے، آپ جیسے افراد کو صرف اسی قدر حق ہےکہ ظالموں کے خلاف اٹھائی جانے والی کسی اچھی عوامی تحریک میں شرکت ضرور کرلیں لیکن ہرگز وہاں پر مسلمانوں کا نمائندہ بن کر ایسے بیان بازی نہ کریں کیونکہ آپ کی نہ تیاری ہے نہ تربیت جس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہے ۔ آپ نادانستگی اور بے شعوری میں اس طرح کی بیان بازیوں سے ملت کو کیسا نقصان پہنچا دیتے ہو کاش آپ جیسوں کو اندازہ ہو، اس معاملے میں صرف آپ اکیلے نہیں بےشمار لوگ ہیں جو یہ غلطیاں آجکل کررہے ہیں بےسمت اور مظلوم قوم قیادت کی نااہلی کی وجہ سے اس بحران میں جاپڑی ہے، زوال کے وقت ویسے یہ ہوتا بھی ہے ہر آدمی مائک پکڑ کر لیڈری کرنے لگتا ہے, حالانکہ اس سے اندرونی انتشار مزید بڑھتا ہے اور ملت کمزور ہوتی ہے اب آپ کا یہ بیان سنگھیوں نے کس طرح وائرل کیا ہوا ہے اور کیسے وہ اس کو لے اڑے ہیں ذرا سرچ کیجیے، کس طرح سے اب ہندوتوادی لوگ جنید کے اس بیان کی بنیاد پر جوہر یونیورسٹی کا نام بدل کر ہندو نام پر رکھنے اور اعظم خان ٹرسٹ سے چھیننے کی مہم پر مضبوط ہو رہے ہیں کہ لو اب تو جنتر منتر والا مسلمان لیڈر بھی اس پر راضی ہے ! ارے نادان انسان ! محمد علی جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنا یا اس پر بلڈوزر چلانے جتنی حماقت نریندر مودی اور بھاگوت کبھی نہیں کرے گا کیونکہ اس کے بعد پوری دنیا میں ایسی بدترین بدنامی ہوگی کہ سنبھالے نہیں سنبھلے گی، یہ سارا ڈرامہ صرف اسی لیے ہے تاکہ مسلمانوں کی بنائی ہوئی ایک اور شاندار اور زبردست یونیورسٹی پر سَنگھ کو قبضہ مل جائے، اور یونیورسٹی کا نام بدل کر یوگی آدتیہ ناتھ کی پسندیدہ انتظامیہ کے حوالے کردیا جائے ! آپ جیسے لوگ جو اسلامی علوم اور ایمانی نظریات کی ادنیٰ تربیت سے بھی نہیں گزرے ہوتے ہیں اور صرف سیکولرزم اور ہندوؤں سے اتحاد کی خاطر ہندو غلبے والی گنگا جمنی رنگ میں رنگے ہوتے ہیں وہ ایسی چالاک ہندوتوادی سیاستوں کو اپنے ایسے " سڑک چھاپ نظریات" کے ذریعے کامیاب کردیتے ہیں! اسی لیے ہم جنید جنتر منتری صاحب ہوں یا کوئی اور اب ایسے کسی بھی شخص یا مومنٹ کی حمایت نہیں کرنے کے موقف پر سختی سے قائم ہیں جن کی تربیت اور تعلیم نظریات اور ذہنی افکار کا اتا پتا نہ ہو، آجکل کی ایسی اچانک پیدا ہونے والی مودی مخالف مومنٹ میں جنید جیسے چہرے وائرل ہوتے ہیں اور پھر ان کو لیڈر تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور ان کا محور و مرکز ہر حال میں کسی بھی طرح ہندو سماج کو خوش کرنا یا ہندو سماج میں اپنے آپ کو مقبول کرانا ہوتا ہے یہ ذہنیت یوٹیوب اور سوشل میڈیا ریلز دیکھ دیکھ کر تیار ہوتی ہے جب دماغی بیک گراؤنڈ مضبوطی سے بالکل خالی ہوتا ہے، پھر وہ اتنی بڑی بات بھی کہہ دیتے ہیں کہ اچھا محمد نام سے دقت ہے تو محمد نام بدل دو اور سوشل میڈیا ریلز پر موجود ہزاروں لاکھوں نوجوان ایسی ریل بازی سے اپنی ذہنیت بھی بگاڑتے ہیں، ایسے لوگوں سے کسی ایک مومنٹ کے کسی ایک معاملے میں مودی کے خلاف کوئی کام ہو بھی جائے تو پھر ایسی ناپختہ ذہنیت اپنی ملت اور اس کے مذہبی شعائر و ملی شناخت کو بہت بہت نقصان پہنچاتی ہے اور ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ اسوقت یہی ہورہا ہے نریندر مودی کے مظالم کے نقصانات کی توبھرپائی ممکن ہے لیکن ایسی ناپختہ ذہنیت سے صادر ہونے والی من پسند اسلام اور ہندوتوادی فاشسزم سے مرعوب ملت کی ترجمانی سے پہنچنے والا نقصان ناقابلِ تلافی ہے ! بھئی اگر جوہر یونیورسٹی کا نام بدل دیا جائے اور اس کو اعظم خان سے چھین کر یوگی آدتیہ ناتھ کے حوالے کردیا جائے تو یہ نقصان یونیورسٹی کو ڈھا دینے سے بھی زیادہ ہے، لیکن یونیورسٹی کے نام کا بدلاؤ شناخت اور نظریاتی استقامت پر بدترین چوٹ ہوگی جس کا اثر نسلوں اور صدیوں تک رہےگا، ڈھائی گئی یونیورسٹی پوری موجودہ دنیا میں بھی اور آگے تاریخ میں بھی ہندوتواد پر کلنک بنی رہےگی، اور جب اللہ تعالٰی ہمیں اپنی تربیت و نصرت کے ساتھ اقتدار

  • اب شتر مرغ والی گنجائش بھی باقی نہیں؛ کیوں کہ ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف مار کاٹ کی باتیں کھلے عام کہہ رہے ہیں، ویڈیوز موجود ہیں، انتظامیہ کے علم میں ہیں، ہتھیار لہرا کر دھمکیاں دی جاتی ہیں، قتل عام کے عزائم علانیہ ظاہر کیے جاتے ہیں، میرا تجزیہ یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام صرف اس لیے رکا ہوا ہے کہ جب وہ فساد کرتے ہیں تو مسلم نوجوانوں کی طرف سے جواب دیا جاتا ہے، گو کہ بعد کی پولیس کارروائیوں میں زندگیاں تباہ ہوتی ہیں؛ مگر وقت کے مردانہ سینے زعفرانی خاکوں سے رنگ چھین لیتے ہیں، یہاں فساد کو روکنے کا سہرا پولیس کے سر نہیں ہے، پولیس تو ان کی دھمکیوں پر خاموش رہتی ہے، یہ امن مسلم جوانوں کی بدولت ہے، جنھوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کے ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں ہے، مجبور ہو کر ہندو فسادیوں نے یہ راستہ نکالا کہ دس بیس کا گروپ بنا کر کسی تنہا مسلمان کو گھیر لیتے ہیں اور جے شری رام بول کر اس کا قتل کر دیتے ہیں، یہ ایک کام وہ بخوبی اور بہ آسانی کر رہے ہیں۔ ہم نو عمری میں ہندو راشٹر کے نعرے سنتے تو خدو خال کا تجسس ہوتا، تازہ ہندوستان نے خدو خال دکھا دیے، جن ریاستوں میں بی جے پی حکومت ہے وہ سب ہندو راشٹر ہیں، وہاں ہندو مذہبی حکومت قائم ہے، ہندو مذہب کا فروغ ان کا نصف کام ہے، باقی نصف وقت وہ اسلام کے تعاقب میں گزارتے ہیں، بی جے پی ریاستوں میں مسلم مخالف چہرے کے لیے مقابلہ جاری ہے، مسجدوں کو گرانے کا مسابقہ ہو رہا ہے، ان حکومتوں کے پاس کوئی کام نہیں ہے، وہ مسجد، مدرسہ، مسلمان اور اسلام تک محدود ہیں۔ مسلمانوں پر شکنجہ سخت ہے، قوانین صرف مسلمانوں سے مخاطب ہیں، ہندو سے زیادتی خاص سرخ لکیر ہے، مسلمان ملزم کا فوری طور پر انکاؤنٹر ہوتا ہے، عدالتی کارروائی کو موقع نہیں دیا جاتا، تمام اہل خانہ گرفتار ہوتے ہیں، گھر منہدم کر دیا جاتا ہے، اس علاقے کی مساجد اور مدارس گرادیے جاتے ہیں، پورے مسلم محلے کو ٹارچر کیا جاتا ہے، جمعہ روکنے کی دھمکی دی جاتی ہے، باہر سے ہندو تنظیمیں آکر احتجاج کرتی ہیں، مسلمانوں کو علانیہ دھمکی دیتی ہیں، پولیس کے سامنے قتل عام کی باتیں دہراتی ہیں، ہتھیاروں کے ساتھ مارچ کرتی ہیں، پورے علاقے کو میدان جنگ بنادیتی ہیں، کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ جاری

  • ہندو راشٹر میں مسلم شب و روز از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری 17 محرم الحرام 1448ھ 3 جولائی 2026ء فرقہ پرست جماعت کے اقتدار میں ہندوستان کے مسائل تنوع، کثرت اور سنگینی کے باوجود "مسئلۂ مسلم" کے حق میں دست بردار ہو گئے ہیں، اب ہمارے یہاں بھک مری ہے نہ غربت، ناخواندگی ہے نہ جہالت، بیماری ہے نہ علاج کی قلت، بے روزگاری ہے نہ مہنگائی، سڑکوں میں گڈھے ہیں نہ تنگی، علاج میں اخراجات نہیں، افراط زر کی رسائی سے والا ہیں، دولت بہہ رہی ہے، بہبودی اسکیموں کا ہجوم ہے، فلاحی ریاست میں دان لینے والا میسر نہیں، خوش حالی کا دور دورہ ہے، اچھے دن آگئے ہیں، رشکِ یورپ و امریکہ بن گئے ہیں، تحریکِ چین و جاپان کہلاتے ہیں، ملک ہر مسئلے سے فارغ فقط مسئلۂ مسلم سے دوچار ہے اور اب اسے بہ ہر صورت اس مسئلے سے نمٹنا ہے۔ ہمارے دشمن اس وقت "مسلم مکت بھارت" کے فیصلے کن نعرے تک پہنچ گئے ہیں، اس سنگ میل نے مراحل دیکھے ہیں، یہ خطرناک صورت حال راتوں رات پیدا نہیں ہوئی، بابری مسجد نزاع کے وقت ہندو یہ باور کراتے تھے کہ بس ایک مسجد کا مطالبہ ہے، دوسری کوئی مسجد زد میں نہیں آئے گی، ہمارے بکاؤ مفکرین، عاجل الفکر بہی خواہ اور کوتاہ بین افراد ہاں میں ہاں ملاتے؛ مگر ملت کے دور اندیش رہنماؤں نے متنبہ کر دیا تھا کہ بابری مسجد بڑا بند ہے، اگر یہ بند ٹوٹ گیا تو مساجد پر انہدام کا سیلاب آئے گا، اس وقت یہ تنبیہ زائد سمجھی گئی؛ مگر وقت نے خطرے اور اندیشے کو صحیح ثابت کیا، بابری مسجد طاق نسیان ہوئی اور اب ہر دن نئی مسجد زیر دعوی ہے۔ اس وقت ہندو لیڈر کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ہمیں مسجد اور مدرسہ مکت بھارت چاہیے، یہ باتیں آن ریکارڈ، آن کیمرہ اور ٹیلی ویژن ہر کہی جا رہی ہیں، ہمارے سادہ لوح مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں بعض دیوانوں کی بڑ ہیں؛ وقت ثابت کر دے گا کہ ہندو لیڈروں کے یہ جارح بیانات معانی بھی رکھتے تھے، نیز وہ ان کی ذاتی بکواس نہیں تھی، مقتدرہ کے اشارے پر منظم مہم تھی، آنے والے وقت کی تمہید قائم کی جا رہی تھی، اگر آج میں یہ بات کہوں کہ بھارت میں تمام مساجد توڑنے کی بات کرنے والے ہندو وادی لیڈر سنجیدہ ہیں تو خود ہمارا طبقہ اسے مبالغہ اور توہم قرار دے گا؛ لیکن یہ وہی خود فریبی ہے جس میں بابری مسجد کے وقت امت مبتلا کی گئی تھی، وقت کا آئینہ دکھا رہا ہے کہ بات بابری تک محدود نہیں تھی۔ اس وقت ہندوستان میں یومیہ بنیاد پر مساجد منہدم کی جا رہی ہیں، ان میں صدیوں پرانی مساجد شامل ہیں، سرحدوں پر سیکیورٹی کا بہانہ ہے، سڑکوں پر تنگی کا، ہندو آبادی میں مذہبی ساخت کی تبدیلی کا، مسلم آبادی میں کاغذات کا، ہندوستان میں کاغذات کا اہتمام قدیم دور میں بالکل نہیں تھا، قبضہ اور استعمال ہی سب کچھ تھا، آج وہ صدیوں پرانی مساجد سے دستاویزات کا مطالبہ کرتے ہیں اور نہ ملنے کی صورت میں بلڈوزر حاضر سروس ہو جاتا ہے، پرانی زمینوں کے کاغذات درست نہیں کیے جا سکتے؛ لہذا ہر مسجد انہدام کی فہرست کا حصہ ہے، جسے اس میں کوئی بھی شبہ ہے وہ مزید زہریلی فضا کا انتظار کرے، ممکن ہے ہماری حیات میں یہ نہ ہو؛ مگر منصوبہ غیر حقیقی ہے یہ ہم تسلیم نہیں کرتے، وہ ایسا چاہتے ہیں، اس کے لیے پرعزم ہیں اور سرگرم عمل بھی۔ انھوں نے گہرے غور وفکر کے بعد مساجد و مدارس کو دستاویزات کی کسوٹی پر رکھا ہے؛ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ مسلمان بچاؤ کے لیے عدالتوں میں جائیں گے، جہاں کاغذات ہی حق نطق رکھتے ہیں، یوں وہ مساجد بدست خود سپرد کرنے پر مجبور ہوں گے، ہندوستان میں قدیم مذہبی عبادت گاہیں فقط استعمال پر قائم ہیں، مندروں، گردواروں اور گرجوں کی صورت حال مساجد سے مختلف نہیں، مندروں کا تو خیر اس وقت ذکر ہی کیا، ان کو مقدس استثنا حاصل ہے، پرانے چھوڑیے نئے مندر بھی غیر قانونی ہوتے ہیں؛ بل کہ آج کے ہندوستان میں صرف وہی مندر مقبول ہیں جو عوامی، سرکاری زمین پر زبردستی بنائے جاتے ہیں، قدیم مندر عملا غیر آباد ہیں۔ نئے ہندوستان میں صرف مساجد نشانے پر ہیں، مندر تو سرکاری عبادت گاہ کا درجہ اختیار کر گئے ہیں؛ مگر گردواروں کے ساتھ کوئی تعرض نہیں، کسی ہندو لیڈر کی ہمت نہیں کہ سکھوں کی عبادت گاہ سے کاغذات طلب کر سکے، امت شاہ نے سی اے اے اور این آر سی میں مذہبی امتیاز اور تفریق کی ایسی بنیاد رکھ دی ہے جو ہندوستان کی مذہبی زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کرے گی، لوگ اسے شہریت کی محدود عینک سے دیکھ رہے تھے؛ مگر یہ بہت گہری اسکیم تھی، اس کے اثرات بتدریج سامنے آ رہے ہیں اور آتے ہی رہیں گے، مذہبی امتیاز کو باقاعدہ قانون بنانے کے اثرات دور رس نہ ہوں یہ ممکن ہی نہیں، کہاں سی اے اے اور کہاں عبادت گاہوں سے دستاویزات طلبی میں امتیاز؟ مگر یہ ہو رہا ہے اور سب کے سامنے ہو رہا ہے۔

  • عمل، عمل اور عمل از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری 8 ذی الحجہ 1447ھ 26 مئی 2026ء "مخفی کنز" کی کلید عمل ہے، عمل حجاب اٹھاتا ہے، دوری کو نزدیکی میں تبدیل کرتا ہے، مسافت طے کراتا ہے، معرفت کے نئے فیچرس سامنے لاتا ہے، نور کے "لاکڈ تھیم" کو "اَن لاکڈ" کرتا ہے، انسان کو عام کیٹیگری سے ترقی دیتا ہے، سادہ انسان کو پریمیم بنا دیتا ہے، عرش نے ٹول عائد کیا ہوا ہے اور وہ ٹول صرف اور صرف عمل ہے، عمل سے عاری آرزوئیں کوالیفائی نہیں کرتیں، عمل کو عروج ملتا ہے، بازو عطا ہوتے ہیں، عمل پرواز کرتا ہے اور وہ پرواز آزاد اور بے قید ہوتی ہے۔ مطالعہ اور کتب بینی عمدہ عمل ہے؛ مگر کمال کے لیے کافی نہیں، اس باب میں عمل شرط ہے، پھر نفسِ عمل کو اہم سمجھنا بھی جلد بازی ہے، کتاب خوانی اور عمل میں توازن مطلوب ہے، ایک من خواندگی کے بعد ایک من ہی عمل بھی بروئے کار لائیں، مساوات کے فقدان کی صورت میں نتیجہ ناقص آئے گا، آپ نے ایک گھنٹہ مطالعہ کیا ہے، بہت خوب! اب ایک گھنٹہ عمل کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی مقدار یہی تھی، وہ تہجد کے لیے نصف شب کو بیدار ہوتے تھے، جفا کش صحابہ کو نوافل کی ہمسری کا یارا نہ تھا۔ یہاں تیسری چیز میری طرف سے شامل کریں، مطالعے اور عمل کے قافلے کا تیسرا ساتھی غور و فکر ہے، اب کاروانِ کمال پورا ہوا، سفر میں تنہا شخص ناپسندیدہ ہے، دو بھی برے ہیں، تین کا عدد شاندار ہے، مطالعہ، تفکیر اور عمل؛ ان تینوں میں توازن لازم ہے، اس کے بغیر شخصیت کج رہے گی، ایک گھنٹہ مطالعہ کیا ہے تو ایک گھنٹہ غور و فکر بھی کریں، معلومات علم میں تبدیل ہوں گی، اللہ نے انسان کو ذہن عجیب العجائب دیا ہے، کتاب تک محدود رہنا اور دماغ و عقل سے استفادہ نہ کرنا محرومی ہے، تفکیر آپ کو کتاب کا راز بتائے گی، موضوع کا محرم بنائے گی؛ یہاں تک کہ آپ چند ساعات کے لیے مصنفِ کتاب کے احساس میں جینے کی واقعی بلندی بھی پا سکتے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کی تدریس کے ابتدائی سالوں میں مجھے بعض اکابر اساتذہ کا طریق عجیب لگا، میں قریب ہوا تو دیکھا کہ خاصا وقت سوچنے میں گزارتے تھے، اس دور میں کثرت مطالعہ ہم جیسے سطحی لوگوں کی معراج ہوا کرتی تھی، میں موازنہ کرتا تھا، اپنی عمر کے ایک مدرسِ دارالعلوم سے اس کا ذکر کیا، انھوں نے کبر سنی کی توجیہ کی تھی؛ مگر آج مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ وہ عملِ تفکیر میں مشغول رہتے تھے، اس کی دو وجہ ہیں: ایک یہ کہ علمی لحاظ سے وہ بلند پایہ تھے، یہ درجہ وسیع و عریض مطالعے کے بغیر ممکن نہیں، دوسرے ان کی علمی، فکری، انتظامی اور معاشرتی آراء اعجاز ہوا کرتی تھیں۔ عمل ہر سوال کا جواب ہے، عمل ہر اشکال کا حل ہے، جو اشکال تک محدود رہے مشکل میں رہے، جو عمل پر لگ گئے پار ہو گئے، تقدیر کے مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ عمل کرو، عمل سے تمام اعتراضات رفع ہو جاتے ہیں، بے عملی سب سے بڑا اعتراض ہے، ہر معترض بے عمل ہے، جو روانہ ہو گیا وہ پہنچ گیا، جو اشکال حل کرانے میں الجھا وہ مائنس ہوکر رہا، وجود باری کی سو دلیلیں ایک پلڑے میں ہلکی اور عمل تنہا دوسرے پلڑے میں بھاری ہے، عمل سے علم مشاہدے میں بدلتا ہے، عمل بند دروازے کھولتا ہے، اگلے مرحلے کے قابل کرتا ہے، آگے کا راستہ بناتا ہے، سجاتا ہے اور اسے منور کرتا ہے، مشہور قرآنی آیت کا یہی مطلب ہے کہ جو ہماری دریافت میں جد وجہد کرتے ہیں ہم انھیں اپنا راستہ دکھاتے ہیں، معترض دلیلوں میں درماندہ رہ جاتا ہے اور عمل والا خدا یافتہ ہو جاتا ہے۔ عملِ پیہم خدا تک پہنچا دیتا ہے، عمل اعتراضات سے والا اور بالا کر دیتا ہے، عمل وہ رفعت بخشتا ہے کہ اشکال ذلیل ہو جاتے ہیں، عمل کی بلندی سے مخالفت حقیر نظر آتی ہے، اشکال سر پکڑے زمین پر تنگ دل ہوتا ہے اور صاحبِ عمل تجربہ، احساس، وجدان اور ملاقات کی مستی میں سرشار ہوتا ہے، عمل کے لیے قرب اور اشکال کے لیے بعد مقدر ہے، یہ اشکال کے حل سے انکار یا فرار نہیں، حل کا درست پتہ دیا گیا ہے، اشکال والے انبیا سے بھی مطمئن نہیں ہوے، عمل والے عام تلقین سے مسیحا بن گئے، عمل والے ستارے بن کر چمکے، خلجان والے بھنور میں ڈوب گئے، اٹھو! عمل کرو، عمل اول ہے، عمل دوم اور عمل ہی سوم ہے۔

  • رسید اور ثبوت ضرور لیں۔ ویڈیو یا لائیو تصدیق طلب کریں۔ کسی کو OTP ہرگز نہ بتائیں۔ مشتبہ لنکس پر کلک نہ کریں۔ اجتماعی قربانی میں ذمہ دار افراد کی تحقیق کریں۔ حصے داروں کی تعداد معلوم کریں۔ شرعی اصولوں کی پابندی کی یقین دہانی کریں۔ اسلامی تعلیم اسلام میں دھوکہ دہی سخت گناہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» “جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔” قربانی جیسی مقدس عبادت میں فراڈ کرنا صرف مالی جرم نہیں بلکہ دینی خیانت بھی ہے۔ ایسے لوگ چند روپے کے لیے اپنی آخرت برباد کرتے ہیں۔ مسک ختام قربانی محبت، وفاداری اور اطاعتِ خداوندی کا درس دیتی ہے، نہ کہ لالچ، جھوٹ اور دھوکہ دہی کا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ہوشیار رہیں، تحقیق کے بعد معاملات کریں اور عبادت کو خالص اللہ کے لیے انجام دیں۔ اگر عوام بیدار ہوجائیں، سوال پوچھنا سیکھ جائیں اور جذبات کے بجائے سمجھداری سے فیصلہ کریں تو قربانی کے نام پر ہونے والے اکثر فراڈ خود بخود ختم ہوسکتے ہیں۔ قربانی کا اصل حسن جانور کی قیمت میں نہیں بلکہ نیت کی سچائی، رزق کی پاکیزگی اور معاملات کی دیانت داری میں ہے۔ قربانی کے جانور سے پہلے انسان کو اپنے دل، نیت اور کردار کی قربانی پیش کرنی چاہیے۔ (یکم ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)

  • سنو سنو!! *قربانی کے سلسلہ میں فراڈ کی نوعیتیں* (عصرِ حاضر کا ایک سنگین المیہ) (ناصرالدین مظاہری) قربانی ایک عظیم عبادت، شعائرِ اسلام میں سے ایک نمایاں شعار اور حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال اطاعت و وفاداری کی یادگار ہے۔ اس عبادت میں اخلاص، تقویٰ، ایثار اور اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہوتی ہے، مگر افسوس کہ اسی مقدس عبادت کو بعض لوگوں نے دھوکہ دہی اور ناجائز کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ عبادت میں خیانت دراصل اللہ کے نام پر خیانت ہے۔ عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی جانوروں کی خرید و فروخت، آن لائن بکنگ، اجتماعی قربانی، کھالوں کی وصولی اور رفاہی چندوں کے نام پر فراڈ اور بددیانتی کی مختلف صورتیں سامنے آنے لگتی ہیں۔ سادہ لوح عوام، دینی جذبہ رکھنے والے لوگ اور جلد اعتماد کرلینے والے افراد اکثر ان دھوکوں اور فراڈیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان بیدار رہیں، سمجھداری سے کام لیں اور عبادت کو ہر قسم کی بددیانتی سے محفوظ بنائیں۔ *قربانی کے سلسلہ میں عام فراڈ* 1۔ بیمار اور عیب دار جانور کو صحت مند ظاہر کرنا. بعض بیوپاری جانور کے عیب چھپاتے ہیں۔ مثلاً: بیمار جانور کو وقتی دوائیں دے کر چست بنادینا۔ لنگڑے جانور کو وقتی سہارا دے کر چلانا۔ عمر کم ہونے کے باوجود بڑے جانور جیسا دکھانا۔ دانت ٹوٹے ہوں مگر خریدار کو نہ بتانا۔ بعض اوقات جانور کو زیادہ پانی پلاکر یا وقتی تدبیروں کے ذریعے موٹا تازہ دکھایا جاتا ہے، حالاں کہ حقیقت میں وہ کمزور ہوتا ہے۔ 2۔ جعلی وزن اور ناپ تول میں دھوکہ کئی جگہ جانور کا وزن بڑھا چڑھا کر بتایا جاتا ہے۔ بعض تاجر: ترازو میں ہیرا پھیری کرتے ہیں۔ اندازے سےغیرحقیقی وزن بتاتے ہیں۔ "سو کلو گوشت نکلے گا" جیسی باتیں کرکے خریدار کو متاثر کرتے ہیں۔ حالاں کہ قربانی میں اصل مطلوب تقویٰ ہے، وزن کا فریب نہیں۔ 3۔ آن لائن قربانی میں فراڈ آج کل سوشل میڈیا اور ویب سائٹس پر "آن لائن قربانی" کا رجحان بڑھ گیا ہے، اور اسی کے ساتھ دھوکے بھی بڑھ گئے ہیں: پیسے لینے کے بعد قربانی نہ کرنا۔ ایک ہی جانور کئی لوگوں کے نام فروخت کردینا۔ تصاویر کسی اور جانور کی، قربانی کسی اور کی۔ ویڈیو یا ثبوت جعلی دینا۔ فرضی ادارے بناکر چندہ اکٹھا کرنا۔ کئی لوگ مذہبی نام اور اسلامی وضع قطع اختیار کرکے عوام کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، پھر رقم لے کر غائب ہوجاتے ہیں۔ 4۔ اجتماعی قربانی میں حصہ داری کا دھوکہ بعض مقامات پر اجتماعی قربانی کے نام پر: سات سے زیادہ حصے فروخت کردیے جاتے ہیں۔ ایک حصہ کئی افراد کو دے دیا جاتا ہے۔ قربانی کے بجائے عام گوشت تقسیم کردیا جاتا ہے۔ شرعی اصولوں کی پابندی نہیں کی جاتی۔ لوگ ثواب کی نیت سے رقم دیتے ہیں مگر پیچھے بے ایمانی کا بازار گرم ہوتا ہے۔ 5۔ خیراتی اداروں کے نام پر دھوکہ کچھ جعلی تنظیمیں “غریبوں کے لیے قربانی” یا “یتیموں اور ضرورت مندوں کے لیے قربانی” کے نام پر چندہ لیتی ہیں، لیکن: رقم اپنی جیب میں ڈال لیتی ہیں، قربانی برائے نام کرتی ہیں، یا سرے سے کوئی انتظام ہی نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ دراصل دینی جذبات کا استحصال کرتے ہیں۔ 6۔ کھالوں میں بدعنوانی عید کے بعد کھالوں کے سلسلہ میں بھی کئی قسم کے فراڈ ہوتے ہیں: مدارس یا دینی اداروں کے جعلی نمائندے رسید بک لے کر نکل پڑتے ہیں۔ اصل اداروں کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔ کھالیں کم قیمت میں لے کر زیادہ قیمت میں فروخت کی جاتی ہیں۔ عطیہ دہندہ کو غلط معلومات دی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور مستحق ادارے نقصان اٹھاتے ہیں۔ 7۔ سوشل میڈیا کا مذہبی فراڈ بعض لوگ جذباتی ویڈیوز، روتے ہوئے بچوں کی تصویریں یا مذہبی نعروں کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں: "آخری موقع!" "صرف آج قربانی بک کریں!" "آپ کی قربانی فوراً ہوگی!" اور پھر UPI، OTP یا مشتبہ لنک کے ذریعے لوگوں کے اکاؤنٹ خالی کردیے جاتے ہیں۔ یاد رکھئے! کوئی معتبر ادارہ فون پر OTP یا بینک کی خفیہ معلومات طلب نہیں کرتا۔ 8۔ قصائیوں اور گوشت تقسیم میں دھوکہ بعض قصائی: اچھا گوشت الگ کرکے کمزور اور غیر معیاری گوشت واپس کرتے ہیں، وزن میں کمی کرتے ہیں، یا طے شدہ اجرت سے زیادہ رقم طلب کرتے ہیں۔ اسی طرح گوشت تقسیم میں بھی بعض لوگ خیانت سے کام لیتے ہیں۔ فراڈ کرنے والوں کے انداز یہ لوگ عموماً: بڑی مذہبی باتیں کرتے ہیں۔ میٹھی زبان استعمال کرتے ہیں۔ رعب دار لہجہ اختیار کرتے ہیں۔ جلدی فیصلہ کرنے کا دباؤ ڈالتے ہیں۔ "اعتماد کریں!" جیسے جملے بار بار بولتے ہیں۔ بعض اوقات سفید لباس، داڑھی یا مذہبی نام استعمال کرکے سادہ لوگوں کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ دیندار نظر آنا اور دیانت دار ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔ احتیاطی تدابیر خریداری کے وقت جانور اچھی طرح دیکھیں۔ دانت، آنکھ، ٹانگ اور صحت کی جانچ کریں۔ کسی تجربہ کار آدمی کو ساتھ لے جائیں۔ جلد بازی سے بچیں۔ آن لائن قربانی میں صرف معروف اور معتبر اداروں پر اعتماد کریں۔

  • مردم شماری 2027ء یکم اپریل سے بھارت سرکار کی طرف سے مردم شماری 2027 جاری ہے، مختلف صوبوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں الگ الگ تاریخیں طے ہیں اور ان کے مطابق کام ہورہا ہے۔ مردم شماری کا یہ عمل 2021ء میں ہونا تھا لیکن کوویڈ-19 کی وجہ سے مؤخر ہوگیا اور اب 27-2026ء میں ہورہا ہے، لیکن نام 2027 ہی دیا گیا ہے۔ اس بار مردم شماری کا عمل دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے: پہلا مرحلہ: مکانات کی فہرست سازی (House Listing) اس مرحلے میں ملک بھر کے تمام مکانات کی گنتی ہوگی اور ان کی درجہ بندی کا عمل ہوگا۔ دوسرا مرحلہ: آبادی کی گنتی (Population Enumeration) یہ اصل مرحلہ ہوگا جو 2027ء کے اوائل میں ہوگا۔ یہ مردم شماری سابقہ مردم شماریوں سے الگ ہے اور پہلی بار ڈیجیٹل شکل میں ہورہی ہے، اس میں سرکاری عملے کے ساتھ "خود شماری" کی شکل بھی دستیاب ہے، اگر کوئی خود سے کرنا چاہے تو وہ کر سکتا ہے، جس کو سرکاری طور سے طے شدہ تاریخ سے دو ہفتہ پہلے کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ خود شماری کے لیے یہ لنک ہے: www.censusindia.gov.in مردم شماری کا یہ فارم ویب سائٹ پر اردو٬ ہندی اور انگریزی سمیت ملک کی سولہ زبانوں میں دستیاب ہے۔ اس ویب سائٹ کو کھول کر امیدوار اپنی تفصیلات بڑی آسانی کے ساتھ خود درج کر سکتا ہے، ویب سائٹ کھلنے کے بعد سب سے پہلے صوبہ منتخب کرنا ہے اسکے بعد گھر کے سربراہ کا انتخاب کرکے ایک موبائل نمبر ڈالنا ہوگا، جس پر او ٹی پی آئے گی۔ او ٹی پی ڈالنے کے بعد سوالات کا آپشن کھل جاتا ہے۔ خود شماری کا یہ عمل اتر پردیش میں 7/ مئی 2026ء سے 21/ مئی 2026ء تک جاری رہے گا۔ جب آپ خود آن لائن فارم بھر دیں گے تو ایک بارہ نمبر کا ایس ای آئی ڈی(SE ID) ملے گی اسے محفوظ رکھنا ہے، اس کے بعد 22/ مئی سے 20/ جون تک باقاعدہ سرکاری عملے مردم شماری کے لیے گھر گھر جائیں گے اور جنہوں نے از خود فارم پر کردیا ہوگا وہ اس آئی ڈی سے معلومات کی تصدیق کریں گے، ان کی تصدیق کے بعد مردم شماری کا یہ عمل مکمل ہو جائے گا۔ اگر کوئی "خود شماری" نہ کر پائے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے سرکاری عملہ کے لوگ ایک مہینہ کے وقت میں ہر گھر جائیں گے اور تفصیلات حاصل کرکے مردم شماری مکمل کریں گے۔ یہاں نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ سرکاری عملے کو کسی قسم کا کاغذ، سرکاری آئی ڈی، بینک پاس بک، پین کارڈ، اور آدھار کارڈ وغیرہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مردم شماری کے پہلے مرحلے میں چار عنوان کے تحت 33 سوالات پوچھے جائیں گے جن کی تفصیلات حسب ذیل ہیں : "گھر سے متعلق سوالات" 1. مکان کا نمبر 2. مردم شماری ہاؤس نمبر 3. گھر کس فرش کا ہے؟ 4. دیوار کا مواد 5. چھت کا مواد 6. گھر کا استعمال 7. گھر کی حالت (پوزیشن) "خاندان سے متعلق سوالات" 8. خاندانوں کی تعداد 9. گھر میں کتنے لوگ رہتے ہیں 10.خاندان کے سربراہ کا نام 11. خاندان کے سربراہ کی جنس مذکر یا مونث 12. خاندان کے سربراہ کی ذات (SC/ST/Others) 13. مکان اپنے نام پر ہے یا کرائے پر 14. گھر میں کتنے کمرے ہیں؟ 15. گھر میں کتنے شادی شدہ خاندان رہتے ہیں؟ "پانی، صفائی اور روشنی کی تفصیلات" 16. پینے کے پانی کا ذریعہ 17. پینے کے پانی کی دستیابی 18. روشنی کا بنیادی ذریعہ 19. بیت الخلاء 20. کس قسم کا بیت الخلا؟ 21. گندے پانی کی نکاسی 22. باتھ روم/ غسل خانہ کی دستیابی 23. باورچی خانے کی دستیابی (LPG/PNG) 24. کھانا پکانے کا اہم ذریعہ (ایندھن) 25. خاندانی غذا کے لیے اہم اناج "گھریلو آلات کی دستیابی" 26. ریڈیو 27. ٹیلی ویژن 28. انٹرنیٹ کی سہولت 29. لیپ ٹاپ کمپیوٹر 30. ٹیلی فون/موبائل فون/سمارٹ فون 31. سائیکل/سکوٹر/موٹر سائیکل/موپیڈ 32. کار/جیپ/وین 33. موبائل نمبر (صرف مردم شماری سے متعلق) ہماری ذمہ داری ہے کہ مردم شماری2027ء میں مذکورہ تفصیلات کے مطابق معلومات فراہم کرائیں اورصحیح صحیح معلومات بھریں، اور کوشش کریں کہ کوئی گھر چھوٹنے نہ پائے۔ اگر نوجوان طبقہ توجہ دے تو "خود شماری" کا عمل بہت آسانی سے کیا جا سکتا ہے، سرکاری عملے کو تصدیق کرنے میں بھی سہولت ہوگی۔ نوٹ" فارم سولہ زبانوں میں سے کسی بھی زبان میں بھر سکتے ہیں، اگر اردو داں طبقہ اردو میں فارم بھرے تو یہ اردو کی بقا پر بڑا احسان ہوگا، اسی کے ساتھ مادری زبان کے کالم میں "اردو" بھرنا اہم ہے۔ آج 7/ مئی سے یوپی میں "خود شماری" کا عمل شروع ہورہا ہے، اس لیے اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، بہتر ہے کہ خودسے فارم بھریں اورایس ای آئی ڈی محفوظ رکھیں، اور سرکار کے خودشماری مہم کو زیادہ سے زیادہ کامیاب بنائیں۔ محمد سالم سَرَیَّانوی 7/ مئی 2026ء جمعرات

  • موجودہ مسیحیت کی پیداوار اگر آپ کے اجداد کا کمال ہے اور عیسی علیہ السلام اس سے بری ہیں تو ایران اس پیمانے میں بھی شانہ بشانہ ہے، اس نے بھی بے بنیاد جامع مذہب ایجاد کیا ہے۔ اس وقت ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات جاری ہیں، اس ضمن میں ہر قیاس درست ہے، اگر ٹرمپ درمیان ہی میں بڑا حملہ کردے تو ہرگز آؤٹ آف باکس نہیں، وہ اور غدر مترادف ہیں، ٹرمپ آبنائے ہرمز کی عسکری شکل قبول کرلے تو یہ بھی امکان میں ہے کہ آخر جنگ اس کی نہیں اور وہ دباؤ میں نیتن یاہو کے لیے داؤ پر آسکتا ہے تو آزاد افتاد میں تبرا بھی کر سکتا ہے، ایران تنزل پر آجائے تو یہ بھی قابلِ فہم ہے کہ جنگ نے نڈھال کر دیا ہے، دونوں پھر صف آرا ہو جائیں تو بھی تعجب نہیں کہ اسرائیل جنگ ہی چاہتا ہے۔

  • اسلام کا ایرانائزیشن از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری 22 شوال 1447ھ 11 اپریل 2026ء "ایران ازم" کے حامیوں کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہود ونصاری حملہ آور ہیں اور وہ ایران کو مسلم ملک کے طور پر نشانہ بنا رہے ہیں، باہمی تبادلہ خیال میں یہ منطق مسکت معلوم ہوتی ہے، پھر بعض اکابر کے حوالے پیش کیے گئے کہ ہندؤوں کی مخالفت پر انھوں نے تعزیے کی حمایت کی؛ کیوں کہ ہندو اسلامی علامت سمجھ کر مخالفت کر رہے تھے، سادہ لوح مدعا یہ ہے کہ اگر ایران مسلم نہ ہو تب بھی اس پر یلغار مسلم حیثیت میں ہی ہوئی ہے، امریکائیل اسے مسلمان مانتے ہیں۔ یہ استدلال مغالطہ ہے، یہود ونصاری صرف ایران پر حملہ آور ہیں، اسلام فریق نہیں، یہود ونصاری دیسی بھگت ہر گز نہیں، ان کے یہاں ریسرچ ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ ایران کا اسلام سے یک طرفہ تعلق ہے، وہ دعوی رکھتے ہیں اور اسلام براءت، وہ اسلام سے واقف ہیں اور یہ کہ وہ کہاں ہے؟ اور کس حیثیت میں ہے؟ بے شک اسلام کے سورج کو طلوع اور غروب در پیش ہے، وہ کہیں اقبال میں ہے اور کہیں ادبار میں؛ لیکن مغرب میں یہ اطمینان ہے کہ ایران اسلام کے موضوع میں نہیں آتا۔ یہود ونصاری ایران کو بحیثیت ایران دشمن سمجھتے ہیں، ان کو ایرانی ایجنڈا منظور نہیں، وہ انقلاب کی برآمد اور ولایتِ فقیہ کے دعوے سے اتفاق نہیں کر سکتے، یہ ذہنیت ایران میں استعمار دریافت کرتی ہے، پھر مفادات ٹکراتے ہیں، مشرق وسطی کا استعمار تو اسرائیل نے اپنے نام لکھوا رکھا ہے، ایران جب اس پیالے پر طمع کرتا ہے تو صہیون کے سینے مونگ کے دلنے کو محسوس کرتے ہیں، اسے ایران میں دلچسپی ہو ایسا بھی نہیں، وہ ایران پر قبضہ نہیں چاہتے؛ ہاں وہ ایرانی قبضوں پر چیں بہ جبیں ہیں، گریٹر ایک ممکن ہے: گریٹر اسرائیل یا گریٹر ایران، یہاں دو گریٹر ممکن نہیں۔ اسلام پر حملے کی غلط فہمی خود ایران نے دور کی، اس نے مسلم ملکوں پر میزائل بارش سے یہ پیغام دیا کہ جاری جنگ علاقائی بالادستی کے لیے ہے، اسے کفر و اسلام کی عینک سے نہ دیکھیں، مسلم ملکوں کی دور اندیشی یا مجبوری تھی کہ وہ جنگ کا حصہ نہیں بنے، مطلع صاف کرنے کے لیے روسی سرگرمیاں بھی کافی تھیں، ایک عیسائی ملک اپنے ہم مذہب ملک کے خلاف ایران کی مدد کر رہا تھا، ذاتی سیٹیلائٹ سے محروم، خفیہ معلومات میں محدود اور جی پی ایس میں ناقص ایران نے امریکی اہداف روس کی مدد سے قابو کیے، آج سی این این نے رپورٹ کی ہے کہ عارضی جنگ بندی کے دوران چین اس کوشش میں ہے کہ ایران کو دفاعی ساز وسامان فراہم کرائے، بالخصوص کاندھے سے چلائے جانے والے طیارہ مار میزائل۔ دو استعمار چالیس دن باہم مصروف جنگ رہے، یورپ ٹرمپ کی تحریک، ترغیب اور ترہیب کے باوجود گریزاں رہا؛ جب کہ اسلام مخالف جنگ میں وہ امریکہ سے بڑا فریق ہے، حضرت مہدی سے محاذ آرائی والے اسی جھنڈے یہیں سے بلند ہوں گے، اس سب کے علی الرغم یورپی قائدین جھانسے میں نہیں آئے، ان کو معلوم ہے کہ یہ اسرائیل کی جنگ ہے اور اسرائیل امریکی ذمے داری ہے، ہم یورپ سے سبق لے سکتے تھے، یہ جنگ اسلام کی نہیں ہے اور ایران کسی صورت بھی اسلام کی ذمے داری نہیں؛ مگر ہم جذباتی تھے، اسلام کے ایرانائزیشن تک گئے، لوگ دریافت کرتے ہیں کہ پھر کیا موقف رکھیں؟ یورپ نے بتایا کہ دو استعمار مفاد کے لیے قربان گاہ تک پہنچ جائیں تو ویٹ اینڈ واچ واحد رائے ہے، دونوں خرچ ہو جائیں، یا کم از کم ایک۔ میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوے جس کے سبب، اسی عطار کے بیٹے سے دوا لیتے ہیں، اللہ تعالی ظالموں سے بے خبر نہیں، وہ ظالموں کو بھولتا بھی نہیں، آپ غزہ کے ظالم کو خاک و خون دیکھنا چاہتے ہیں؛ مگر شام کے ظالم سے آنکھیں موندتے ہیں، اس نے ظلم کا لفظ بولا ہے، اس میں اعزاز، استثنا اور مراعات ممکن نہیں، پھر آپ کے موکل کا اسلام بھی زیر بحث ہے، آپ کا خیال ہے کہ ایران کے تقدس کو شامی خون کی ہولی مجاز تھی، وہ ابناء اللہ و احبائہ ہیں، ان کی داستانِ قتل عام بھلادی جائے گی، یہ خدا کے ساتھ بدگمانی ہے، اس کی سنت کا استخفاف ہے۔ تہران میں گرج رہے بمباروں میں لاکھوں یتیموں، بیواؤں اور جدید تاریخ کے سب سے بڑے ناحق خون کا مقدمہ متحرک ہے، وہ بے نیاز ہے اور کسی کو بھی استعمال کرتا ہے، عرب ننیانوے باتوں میں غلط ہیں؛ مگر شیعہ عزائم کے ادراک میں غلط نہیں، ایران نے پچاس سالہ میعاد میں ماتم انقلاب کو برآمد کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا، اس کی زندگی ماتم ایکسپورٹ کے لیے وقف تھی اور موت بھی اسی پر دائر ہو گئی ہے، وہ اپنے ماتم کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور اس ماتم کے لیے فارسی خون کا آخری قطرہ عہد بند ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عدوا آخر کہنا بڑی بات ہے، یہ معمولی قوت کا کنایہ نہیں تھا، ایران نے دنیا کو ہلا دیا ہے، امریکہ نے ایران کو ہلکے میں لیا؛ جب کہ ایران کی شانِ فتنہ گری وہ ہے کہ پہاڑ ہل جائیں، اگر وہ ایک نیا، متبادل اور متوازی اسلام تخلیق کر سکتے ہیں تو ان سے کوئی امر بعید نہیں، اے امریکہ!

  • اللہ کہاں کہاں ہے؟ از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری 22 رمضان 1447ھ 12 مارچ 2026ء کئی سال قبل کی بات ہے، ایک واٹس ایپ گروپ میں خدا کے لیے مکان کی بحث جاری تھی، اس میں حصہ لیتے ہوے "اللہ کہاں ہے؟" کے عنوان سے ایک تحریر رقم کی تھی، فیسبک پر بھی موجود ہے، گو کہ وہ قلم برداشتہ نقش تھا؛ لیکن خدا کو عرش پر بٹھانے والوں کے لیے اس کا معقول جواب آسان نہیں، آج اسی عنوان میں ایک لفظ کے تکرار نے بالکل نئے مضمون کی راہ ہموار کی، سابقہ مضمون عقیدے سے متعلق تھا اور پیش نظر تحریر عمل کے تناظر میں ہے۔ اللہ ہر جگہ موجود ہے کا عرف عام یہی ہے کہ اس کا علم اور قدرت محیط ہیں، ہر شے اس کی رسائی اور گرفت میں ہے، یہ مضمون محلِ نزاع نہیں، قرآن میں علم اور قدرت دونوں حوالوں سے یہ وسعت اور پہنائی مصرح ہے، لیکن اس عام بیان کے علاوہ وہ کبھی خاص تعلق، نزدیکی، محلیت اور مقامیت کا ذکر کرتے ہیں، یہاں قدرت جامعہ اور علم محیط سے الگ ایک دوسری چیز کا استعارہ ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ قلب مومن ان کا مقام ہے تو یہ ایک نئی بات ہے، قدرت اور علم یا سمع اور بصر کا عموم مراد نہیں، ورنہ ذکر خاص لغو قرار پائے گا، صحیحین کی حدیث میں نمازی کو سامنے تھوکنے سے منع کیا گیا، فرمایا: جب انسان نماز پڑھتا ہے تو چہرے کے سامنے اللہ ہوتا ہے، بخاری کی حدیثِ جبریل سے ماخوذ ہے کہ نماز گاہ جلوہ گاہ ہے؛ ورنہ یہ ہدایت زائد ہوگی کہ نماز اس طرح پڑھو گویا خدا کو دیکھ رہے ہو، حضرت موسی علیہ السلام کو آگ اور روشنی ایک خاص جگہ دکھائی گئی، تجلی بھی مخصوص پہاڑ پر ہوئی تھی، بیت اللہ، حج بیت اللہ اور مشاعر حج عام رابطے ہرگز نہیں ہیں۔ یہ حوالے عام علم اور عام قدرت سے جداگانہ ہیں، میں ان کو کنکشن سے تعبیر کرتا ہوں، یعنی کائنات اللہ کے علم اور قدرت یا سمع اور بصر میں پورے طور پر محصور ہے، ادھر اس کی ذات وراء الورا ہے، کسی مکان کی اوقات نہیں کہ اس کی ذات کا متحمل ہو، عرش، کرسی، ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں، تمام ستاروں اور ساتوں سیاروں سمیت ہر مکان وجود خدا کے سامنے حقیر وصغیر اور کمزور و ناتواں ہے، خدا کو مکانیت دینے کا تصور بھی انھیں لرزاں اور ترساں کرجا ئے گا۔ تاہم وہ مکانوں کے اسی سلسلے میں ایک مکان کو منتخب کرتا ہے اور اسے خاص کنکشن کا اعزاز بخشتا ہے، وہ علم اور قدرت کی صورت میں ہر جگہ تھا؛ مگر سجدہ گاہ کو ایک کنکشن ملا ہے، اب یہاں وہ بات ہے جو باقی جگہوں میں نہیں، جس طرح یہ کہنا درست نہیں کہ اللہ کی ذات وہاں سما گئی ہے، اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ وہاں صرف علم اور قدرت ہے، نماز کی برکت سے اس جگہ کو رابطے کا ایک کنکشن ملا ہے، اتنی دیر کے لیے وہاں ایک بات ہے جو دیگر مکانوں کو حاصل نہیں۔ مجھے 1999ء کا مشہور واقعہ یاد آیا، جب ہندوستان کا جہاز اغوا ہو کر قندھار میں تھا تو غیر عسکری کوششوں میں مذہبی سفارت بھی بروئے کار لائی گئی تھی، واجپائی وزیر اعظم تھے، ان کو بتایا گیا کہ طالبان کے لیے دیوبند اہم ہے، رمضان کا مہینہ تھا، حضرت مولانا اسعد مدنی مسجد رشید میں معتکف تھے، ابھی موبائل زیرِ حمل تھا، واجپائی صاحب راست بات کرنا چاہتے تھے، مولانا نے اعتکاف کا عذر رکھا تو اسی وقت ایک ٹیلیفون کنکشن مولانا کے معتکف میں بنایا گیا اور دونوں شخصیات ہم کلام ہو گئیں، ملک بھر میں عام رسائی رکھنے والوں نے ایک وقت کے لیے مکانِ خاص میں کنکشن بنایا جس کا راست تعلق ذاتی رنگ کا تھا۔ مذکورہ بالا مکانی حوالے سب کے سب کنکشن ہیں، اللہ نے ان جگہوں کو اپنی ذات کے ساتھ ایک نسبت بخشی ہے، اس کنکشن کا استعمال سعادت ہے، اللہ تعالی اپنی صفاتِ ذاتیہ کے ساتھ ہر مکان اور اس مکان میں جاری ہر سرگرمی کو محیط ہے؛ مگر زمان ومکان کے سلسلوں میں وہ اپنی شان کے مطابق انتخاب بروئے کار لاتا ہے، اپنی ذات کی نسبت اور ربط کے خصوصی کنکشن جاری کرتا ہے، عباد الرحمن ان کنکشنز کی تاک میں رہتے ہیں، صادر ہوتے ہی لپکتے ہیں، زمانی لحاظ سے تہجد اور رمضان وغیرہ وہی خاص اور ذاتی کنکشنز ہیں؛ جب کہ مکانی لحاذ سے ذاتِ باری کا ایک خصوصی ربط ان تمام جگہوں سے قائم ہے جن کے بارے میں ذاتی وجود کی طرف اشارہ کرتے ہوے الفاظ نصوص میں وارد ہیں، اگر ان الفاظ کو عام صفات تک محدود رکھیں گے تو وہ خاص ذکر زائد قرار پائے گا، میرے نزدیک اسی خاص کنکشن کا مستقل طور پر نصیب ہوجانا ہی ولایت ہے، اسی کو یادداشت، نسبت اور حضور وغیرہ سے تعبیر کر دیا جاتا ہے، واللہ أعلم۔

  • یہ اسرائیل پہ پہلی تگڑی ضرب نہیں ہے ایران کی مزاحمت شاندار ہے. اسرائیل کے بدبودار وجود پہ پڑنے والی یہ ضربیں تا دیر یاد رہیں گی ، مگر ایسا پہلی بار نہیں ہوا، جیساکہ مشرقِ وسطیٰ اور اس کے سیاسی و حربی معاملات میں تازہ تازہ دلچسپی لینے والے کچھ لوگوں کا خیال ہے. اسرائیل کو اس سے پہلے میدان جنگ میں اگر صحیح معنوں میں کسی نے ایسی ضرب لگائی ہے کہ جس نے اس کے وجود پہ سوالیہ نشان ثبت کیا ہو تو وہ مصر ہے. اسرائیل کی ہمیشہ سے یہ جنگی حکمت عملی رہی ہے کہ وہ اپنے حریف پہ اچانک مگر نہایت کاری وار کر کے اسے ابتدا ہی میں ڈھیر کر دیتا ہے. حالیہ جنگ میں بھی اس نے یہی حربہ آزمایا. سن سڑسٹھ کی جنگ میں بھی اسی تیکنیک کو بروئے کار لاکر اس نے پہلے ہی ہلے میں مصر اور شام کی فضائیہ کو تہس نہس کرکے عربوں کی کمر توڑ دی تھی. نتیجتاً گولان کی پہاڑیاں ، سرزمینِ غزہ ، مغربی کنارہ اور مشرقی بیت المقدس پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی جھولی میں آن گرے تھے. اسرائیل کے خلاف بھی دو بار یہ حکمت عملی اختیار کی گئی اور دونوں بار اسے نقصان اٹھانا پڑا. حما.س نے سات اکتوبر کو اچانک اس پہ حملہ کردیا تھا، جس نے اول اول اس کے حواس گم کر دیے تھے، مگر درست معنوں میں نہایت کامیابی کے ساتھ یہ داؤ مصری صدر انور سادات نے آزمایا تھا . ستر کی دہائی شروع ہوئی تو اسرائیل اس زعم کے زیرِ اثر مطمئن تھا کہ عرب ابھی تک سڑسٹھ کی شکست کے زخم چاٹ رہے ہیں. مصر اور شام تب تک حملہ نہیں کریں گے ،جب تک کہ وہ اسرائیل کی برابری کرتی فضائیہ تشکیل نہیں دے لیتے، مگر یہ اس کی خام خیالی تھی. یہ تصور بنیادی طور پر اسرائیلی قوم کے ہیرو موشے دایان کا دیا ہوا تھا ،جو چھ اکتوبر 1973 کو اس وقت سراسر غلط ثابت ہوا، جب مصری افواج نے اچانک نہرِ سوئز کے مشرقی ساحل پہ موجود اسرائیلی افواج پہ حملہ کردیا. حملے میں 240 طیارے ، 2000 ٹینک ، ایک ہزار توپیں اور 2000 میزائل لانچر اور اینٹی ٹینک گاڑیاں شامل تھیں. مصر نے جنگ کے ابتدائی لمحات میں ہی اسرائیلی ایئرپورٹس اور طیاروں کو تباہ کرکے حریف کو مفلوج کر دیا تھا. مصری افواج دشمن کو نہ صرف نہرِ سوئز کے مشرقی ساحل سے پیچھے دھکیلنے میں کامیاب رہیں، بلکہ اسے جزیرہ نما سینا سے بھی بےدخل کردیا. اس جنگ میں اسرائیل کے 2656 فوجی ہلاک ، 15000 زخمی اور ایک ہزار قیدی بنائے گئے تھے. جبکہ 122 جہاز اور 440 ٹینک تباہ کیے گئے تھے. نتائج کے اعتبار سے یہ مصر کی بہت بڑی فتح تھی، جس نے عربوں کو سن سڑسٹھ میں پہنچنے والے غم کا بڑی حد تک مداوا کر دیا تھا. پاکستان نے مصر اور شام کی مدد کے لیے اپنے سولہ پائلٹس بھیجے تھے ،مگر ان کے پہنچنے سے پہلے ہی مصر اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی ہوچکی تھی. البتہ اس دوران شام لڑائی جاری رکھے ہوئے تھا، اس لئے آٹھ پائلٹس نے شام کی جانب سے جنگ میں حصہ لیا اور اسرائیل کے چند طیارے بھی مار گرائے تھے. اس جنگ میں اسرائیل پہ اس قدر دباؤ تھا کہ عین جنگ کے دوران وزیر دفاع موشے دایان نے استعفیٰ دے دیا تھا ( اگرچہ وہ مسترد ہوا تھا ). اسی دوران معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے وزیراعظم کو مصر کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا، جسے رد کر دیا گیا . مصر کی جارحانہ حکمت عملی نے اسرائیلی حکام کو اس درجہ حواس باختہ کر دیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا میئر نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیا تھا کہ نہایت حوصلہ شکن حالات کی وجہ سے انہوں نے دورانِ جنگ خودکشی کے بارے میں سوچنا شروع کردیا تھا. اس جنگ نے اسرائیل کی بنیادیں ہلا ڈالی تھیں. اگر امریکا مداخلت نہ کرتا تو عین ممکن تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے سینے سے اسرائیل نامی کانٹا ہمیشہ کے لئے نکل جاتا. تازہ فتوحات پہ خوش ضرور ہوں اور دل کھول کر ایران کی تحسین کیجئے مگر تحسین کے شور میں تاریخ کو فراموش نہ کیجئے . ایسا نہیں کہ عربوں نے فلسطین کے لیے کچھ نہیں کیا. چار نہایت خونریز جنگیں لڑی ہیں. اسرائیل کے آس پڑوس کے جتنے بھی مقبوضہ علاقے ہیں، یہ انہی کوششوں کا خراج ہے. نیرنگیء زمانہ دیکھیے کہ جب عرب سن اڑتالیس سے سن تہتر تک اسرائیل سے برسرِ پیکار تھے، تب ایران اسرائیل کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتا تھا. یہ تو کچھ حالات کی ستم ظریفی اور کچھ عربوں کی اپنی کاہلی کہ اب وہ ہاتھ پاؤں توڑ کر دشمن کے سامنے لیٹ گئے ہیں. نواز کمال

  • تراویح دراز نماز کی سالانہ یاد دہانی ہے از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری یکم رمضان 1447ھ 18 فروری 2026ء رمضان آیا بہار آئی، عید کا سماں ہے، شب براءت قائم ہو گئی، نشانیاں جادو کی صورت سر چڑھ کر بول رہی ہیں، انکار کے لیے بہت بے حیائی درکار ہے، رمضان آگیا اور چھا گیا، اسلام کی آیات میں عجب تسلسل ہے، بہانہ بہانہ ستارے چمکتے ہیں، عہد نبوی سے محروم پورا محروم نہیں، بشرطے کہ اندھا نہ ہو، آفتاب ہے اور دن چڑھا ہوا ہے، تمام منکرین شپرہ چشم ہیں، واقعی اللہ نے "بَفَر زمانہ" تشکیل دیا ہے، شیاطین پر "نو فلائنگ زون" اور "نو فلائنگ ٹائم" عائد ہیں۔ تراویح کے دوران پاؤں کی قدرے مشقت نے چغلی کھائی، خود سے شرمندگی کا لمحہ گذر گیا، یاد آیا کہ پاؤں کا ورم تو عبادت کی سنت ہے، معصومین کے سردار کو یہ حالت پیش آئی، یہاں ہمارے دعوی ہائے وراثت کی قلعی کھلتی ہے، ہمارے نامۂ اعمال میں ایک بھی نماز نہیں جس نے پاؤں کو ورم زدہ کر دیا ہو، متفق علیہ سنت سے جان چرانے کے بہت سے معانی ہیں، سب عیاں اور ناقابل تاویل ہیں، جانتے ہیں ثواب طاعت وزہد، پر طبیعت ادھر نہیں آتی۔ لمبی نماز ثلۃ من الألین ہو گئی، میرے خاص مضامین میں ایک یہ ہے کہ حفظ قرآن کا اہم مقصد طویل نماز ہے، قرآن اس لیے یاد کیا جاتا ہے کہ اس کے بغیر لمبا قیام ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ غیر حفاظ صحابہ بھی بعض دراز سورتوں کے حافظ ہوتے تھے، یہ جزوی حفظ ان کی مخصوص ترجیح تھی؛ کیوں کہ ان کو گھنٹوں رب کے سامنے قیام کرنا تھا وہ شب زندہ دار تھے اور لمبی سورتیں ان کی شبانہ ضرورت تھیں۔ میں نے یہ مضمون اس حدیث سے اخذ کیا ہے جس میں قرآن اور روزے کی سفارش مذکور ہے، قرآن کی سفارش کے متن میں وارد ہے کہ وہ توجیہ بھی رکھے گا، جس میں کہے گا کہ اے رب! میں نے اسے راتوں کی نیند سے محروم رکھا اس کے حق میں میری سفارش قبول کر، یہ کیپشن بہت اہمیت رکھتا ہے، فقط حفظ پر فضیلت تام نہیں ہوتی، اس حفظ پر مبنی وہ حیات درکار ہے جو طویل قیام میں گذری ہو۔ اس حدیث کا ایک اور لطیفہ ہے، قرآن اور روزے کو دو قرین کی حیثیت میں ظاہر کیا گیا ہے، واقعی دونوں جگری دوست ہیں، تساوی کی نسبت اختیار کرتے کرتے من وجہ تک تو پہنچ بھی گئے، رمضان قرآن میں ہے اور قرآن رمضان میں، پھر رمضان میں غیر قرآنی شغل کے کیا معانی ہو سکتے ہیں؟ یہ سنگین اشارہ ہے، اگر قرآن لبوں پر کل وقت نہیں تو محرومی ہے، یہ شغلِ غیر ہے، آپ رمضان میں ہیں تو قرآن میں رہیں، اگر آپ قرآن میں نہیں ہیں تو رمضان میں بھی نہیں ہیں۔

  • وارداتِ رمضان پیش لفظ نا چیز نے تین سال قبل، یعنی 1444ھ کے رمضان میں، یومیہ بنیاد پر انتیس مضامین رقم کیے تھے؛ بل کہ سچی تعبیر میں توفیقِ کرم نے قلم کو تحریر پر مامور کر دیا تھا، ورنہ ایسے عمدہ، یادگار، زندہ، عصری، تازہ بہ تازہ اور دل چسپ مضامین میری اوقات سے نہایت بلند تھے، آج عناوین پر طائرانہ نگاہ ڈالی تھی، سنسنی دوڑ گئی، ایسے نوادرات میں فضل و کرم کی توجیہ متعین ہے۔ رمضان میں ام الکتاب، باقی کتابوں کی باریاں اپنے نام منتقل کرا لیتی ہے، حفاظ یکسو ہو جاتے ہیں، میں بھی حافظ ہوں اور تسلسُل کے لیے رمضان کا تکیہ اہم ہے، اس تناظر میں تخلیقی قواعد غیر روایتی نقش ہے، مستزاد یہ کہ مضامین ہر دن کی تراویح میں پڑھے گئے جزو سے مربوط ہیں، پارے کی پابندی، آیت کا انتخاب، مضمون میں عصریت کا لحاظ، عنوان میں ندرت کا اہتمام اور چودہ سو سالہ فاصلے سے نبرد آزمائی جیسی کرامتیں اب خواب معلوم ہوتی ہیں۔ قرآن کے مضامین اور نئے بیانیے کے درمیان ہم آہنگی نبھاتے عناوین خود مجھے دل چسپ لگے، اس میں خدائی مدد کے کتنے ہی گوشے تھے، مثال کے طور پر یہ کہ کوئی دن فوت نہیں ہوا، یہ مضامین بے شک رمضان میں رونما ہوے اور یہ بھی درست ہے کہ قرآن اور تراویح کی تلاوت سے وابستہ تھے؛ مگر تفصیلات میری افتادِ طبع کی ترجمان ہیں اور متاعِ فہیم والے مجموعے کی طرح موضوعات نوع بہ نوع ہیں، مشمولات کی مانند سرخیاں بھی متنوع ہیں۔ برادرم مولانا احمد قاسمی مرادآبادی نے میری درخواست پر یہ انتیس مضامین مرتب کر دیے ہیں، حالیہ نظائر کے طرز پر یہ مجموعہ بھی فی الحال پی ڈی ایف شکل میں شائع کیا جا رہا ہے، ان شاء اللہ آئندہ سال رمضان آمد سے قبل یہ کاوش بشکل کتاب بھی آپ کے ہم دست ہوگی، تب تک برقی سہولت سے فائدہ اٹھائیں، اللہ رب العزت ان وقت گزاریوں کو شرف عز و قبول بخشے، کار آمد بنائے اور توشۂ آخرت میں شامل فرمائے، آمین۔ پی ڈی ایف لنک تبصرہ خانے میں شئیر کیا ہے۔ محمد فہیم الدین بجنوری 25 شعبان 1447ھ 14 فروری 2026ء

  • Edit, Sign and Share PDF files on the go. Download the Acrobat Reader app: https://adobeacrobat.app.link/Mhhs4GmNsxb

  • Edit, Sign and Share PDF files on the go. Download the Acrobat Reader app: https://adobeacrobat.app.link/Mhhs4GmNsxb