tgindex
علم و کتاب

علم و کتاب

Статистика

علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri

Последний пост
14 авг.
Последнее чтение
15 авг.
Постов за неделю
6
Всего постов
22
Тип
открытый
Язык
ur
Категория
Книги
В каталоге с
13 авг.
Подписчики
8 191
+8 за 4 дн.
Сутки
+2
+0,02%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
441
22 постов
Вовлечённость
5,4%
к подписчикам
Постов в день
0,9
всего 22
Упоминаний
0
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
252
1/48двое суток
288
1/72трое суток
311

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • ہاں تو’ایک صاحب‘ نے یہ بات تو بالکل درست بتائی ہے کہ ’آں جہانی‘ فارسی الاصل لفظ ہے۔ ’آں‘ کے معنی ہیں ’وہ‘ اور ’جہاں‘ کے معنی ہیں ’دُنیا‘۔ ’اِیں جہاں‘ یہ دُنیا اور ’آں جہاں‘ وہ دُنیا۔ یائے نسبتی (ی) لگاکر ’آں جہاں‘ سے ’آں جہانی‘ بنالیا گیا ہے۔ ’آں جہانی‘ کے لفظی معنی ہوئے ’اُس دنیا میں جا بسنے والا، یا ’اگلی دنیا میں چلا جانے والا‘۔ مگر ’ایک صاحب‘ کی یہ بات درست نہیں کہ ’آں جہانی‘ مسلم و غیر مسلم دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نہیں صاحب! استعمال تو نہیں ہوتا، ہاں کوئی استعمال کرلے تو بھلا کون روک سکتا ہے؟ یوں تو سب ہی اِس جہان سے اُس جہان میں جاتے ہیں۔ خواہ اُس جہان کے وجود کو مانیں یا نہ مانیں۔ مگر مسلم وہ ہے جس نے اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے احکام کے آگے اپنا سرِ تسلیم خم کردیا۔ غیر مسلم نے ایسا نہیں کیا۔ کیوں نہیں کیا؟ وہ جانے، اُس کا کام جانے۔ پس جب کوئی مسلمان اِس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ہم اُسے ’مرحوم‘ کہتے ہیں یا ’مرحومہ‘۔ لفظی معنی مرحوم یا مرحومہ کے ہیں ’’جس پر اللہ نے رحم فرمایا‘‘۔ ایمان کے ساتھ اِس دنیا سے رخصت ہونا ’اللہ کی رحمت‘ ہی ہے۔ لہٰذا ہماری زبان میں ہر فوت شدہ مسلمان کے لیے مرحوم، مرحومہ، رحمۃ اللہ علیہ یا رحمۃ اللہ علیہا جیسے دعائیہ کلمات استعمال کرنے کا رواج ہے۔ غیر مسلم تو کفر اور انکار پر ڈٹا رہ کر اِس دنیا سے اُس دنیا میں جاتا ہے۔ چلا گیا، اب کیا کِیا جا سکتا ہے؟ اُس کی مرضی و منشا کے خلاف اُس کا لاشہ گھسیٹ کر اب اسلام کے دامنِ رحمت میں لا ڈالنے کا اختیار ہمیں تو نہیں۔ یہ اختیار خود اُسی کو تھا۔ سو احتراماً یا تعظیماً ہر فوت شدہ غیر مسلم کو اُردو میں ’آں جہانی‘ کہہ کر یاد کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اس بات کے قائل تھے کہ مسلم و غیر مسلم دونوں کو ’آں جہانی‘ کہا جائے، ذرا خود اُن کے نام کے ساتھ ’آں جہانی‘ لگا کر دیکھیے کیسا لگے گا، مثلاً ’آں جہانی رشید حسن خان‘ یا ’آں جہانی شمس الرحمٰن فاروقی‘۔ رائج طریقہ تو یہی ہے کہ مسلم کو ’مرحوم‘ کہا جائے، غیر مسلم کو ’آں جہانی‘۔ اگر ’ایک صاحب‘ نہیں کہنا چاہتے تو نہ کہیں۔ اُن سے ہاتھا پائی کرنے کی ضرورت نہیں۔ ضرورتِ شعری کے تحت اُردو شاعری میں حسن کو بھی ’کافر‘ قرار دیا گیا ہے۔ سید آلِ رضاؔ مرحوم کہتے ہیں: سوچیے تو حسنِ کافر کچھ نہیں دیکھیے تو دیکھتے رہ جائیے ان ’کافروں‘ کی وجہ سے ’بتوں‘ سے بھی عشق کرلیا جاتا ہے۔ محبوب کو ’صنم‘ کہہ دیا جاتا ہے یا ’بُتِ کافر‘ قرار دیا جاتا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ کافر انسانوں کے ساتھ ساتھ پتھر کے بت بھی جہنم کا ایندھین بنیں گے۔ چناں چہ اسی ’جان کاری‘ کی وجہ سے حضرتِ بیدلؔ جونپوری اپنے ’بتوں‘ کی وفات کی اطلاع یوں دیتے ہیں: اِس جہاں میں جن بتوں کو ہم نے اپنا دل دیا ہو گئے سب آں جہانی، اطلاعاً عرض ہے https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

  • *ہو گئے سب ’آں جہانی* * احمد حاطب صدیقی * کراچی سے عزیزہ ’’خاک زادی‘‘ نے ایک عریضہ ارسال کیا ہے: ’’آں جہانی غیر مسلم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہی پڑھا تھا۔ مگر ایک صاحب نے کہا کہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ فارسی الاصل لفظ ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیے‘‘۔ سوال برطرف۔ جواب دینے پہلے ہم اِس صاحبزادی کو ’خاک زادی‘ کا عرف اختیار کرنے پر داد دینا چاہیں گے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہماری اِس بیٹی کا نام ’ماہم‘ (میرا چاند) ہے یا ’ماہِ تمام‘ (پورا چاند)۔ ہم سب ہی ’خاک زادے‘ ہیں۔ ’ماہ زادہ‘ کوئی نہیں۔ خطبۂ حجۃ الوداع میں، کہ رہتی دنیا تک کے انسانوں سے خطاب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کا ایک ارشاد اِس مفہوم کا ملتا ہے: ’’تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے‘‘۔ مولانا ابوالجلال ندویؒ نے پیدائشِ آدم ؑ پر ایک طویل نظم ’’تکوین‘‘ (بمعنی ’’تخلیق‘‘) کہی تھی۔ اُسی نظم کا ایک شعر ہے: خاک زادے کو خلافت دی گئی ذاتِ باری کی نیابت دی گئی ’زادہ‘ کا مطلب ہے ’جنا ہوا‘۔ ’شاہ زادہ‘ کسی بادشاہ کا جنا ہوتا ہے، ’نواب زادہ‘ کسی نواب کا، ’خان زادہ‘ کسی خان کا، اور ’پیرزادہ‘ کسی پیر صاحب کا۔ ہمارے ہاں کچھ خال خال لوگ اور مغرب میں بڑی تعداد میں لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو اُردو کی زنانی لغت کے مطابق ’حرام کے جنے‘ ہوتے ہیں۔ اُنھیں کیا کہا جاتا ہے؟ آپ جانتے ہی ہوں گے۔ غالباً ایسے ہی لوگوں کو دیکھ کر اقبالؔ نے ’’حضورِ حق‘‘ اپنا وہ شعر پڑھا ہوگا، جو ’’ارمغانِ حجاز‘‘ (فارسی) میں ہے اور جس کا دوسرا مصرع شیخ سعدیؔ کا ہے: بسے نا دیدنی را دیدہ ام من ’’مرا اے کاشکے مادر نہ زادے‘‘ ’’مجھے بہت سی ’نہ دیکھنے والی‘ چیزیں بھی دیکھنی پڑگئی ہیں۔ اے کاش! میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا‘‘۔ ’جننے‘ پرایک قصہ یہ بھی یاد آیا کہ مجیدؔ لاہوری نے حفیظؔ جالندھری کے ایک شعر کی ’تقلیدِ معکوس‘ کی تھی۔ حفیظؔ کا شعر کچھ یوں تھاکہ حفیظؔ اہلِ زباں کب مانتے تھے بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں جب کہ مجیدؔ لاہوری نے بڑے معنی خیز انداز میں یہ دعویٰ کیا: مجیدؔ اہلِ جہاں کب جانتے تھے بڑے زوروں سے جنوایا گیا ہوں بات بہت لمبی ہوگئی۔ بتانا بس یہ تھا کہ ’زادہ‘ کا مطلب ہے ’جنا ہوا‘ اور ’زادی‘ اس کی تانیث ہے۔ لہٰذا جو لوگ اپنے بیٹے کا تعارف اِن الفاظ میں کراتے ہیں کہ ’’یہ میرا ’صاحب زادہ‘ ہے‘‘ وہ ذرا سوچ سمجھ کر تعارف کرایا کریں۔ بین السطور بڑی بیہودہ بات مستور ہے۔ اب آئیے اُس سوال کی طرف جو پیدا ہوگیا ہے، غالباً لوگوں کے تکیۂ کلام میں دیے جانے والے یہ طعنے سن سن کر کہ ’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔ تکیۂ کلام پر خیال آیا کہ سوال میں خاک زادی ’’آں جہانی‘‘ کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ ’’ایک صاحب نے کہا کہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ فارسی الاصل لفظ ہے‘‘۔ یہ ’ایک صاحب‘ کون صاحب ہیں؟ ان کا بڑا تذکرہ سنا ہے۔ ہمارے ایک دوست تو جب بھی ملتے ہیں ان کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔’’ایک صاحب نے بتایا ہے … ایک صاحب کہہ رہے تھے… ایک صاحب نے انکشاف کیا ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ایک دن اپنے اِس دوست کو دیکھا کہ لپک جھپک کر تیز تیز چلتے ہوئے کہیں جارہے ہیں۔ یوں ہی دریافت کرلیا: ’’حضرت! خیر تو ہے؟کہاں جارہے ہیں؟‘‘ جواب ملا: ’’ایک صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، اُن کے جنازے میں جارہا ہوں‘‘۔ ’’اناللہ … ‘‘ پڑھ کر اُن سے تعزیت کی اور سکون کا سانس لیا کہ اب ’ایک صاحب‘ کے ارشادات و فرمودات سے نجات مل جائے گی۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ … بلکہ ’خاک زادی‘ شدہ۔

  • *وفیات مورخہ:اگسٹ /13* 1890ء غلام سرور قریشی چشتی لاہوری۔ 1893ء برجیس قدر۔ 1928ء سید امیر علی۔ مصنف روح اسلام، جسٹس ، 1949ء حسنی الزعیم۔ فوجی جنرل سوریہ 1951ء عیش امروہوی (حکیم محمد اسماعیل)۔ ، 1961ء ابوسعید شرف الدین دہلوی۔ محدث ، 1970ء ضیاء القادری (محمد یعقوب حسین)۔ شاعر 1971ء شعیب حزیں امروہوی (شعیب احمد عباسی)۔ شاعر 1979ء آفتاب اقبال۔ فرزند اقبال ، 1985ء انور صٓابری۔ شاعر انقلاب ، 1992ء سجاد باقر نقوی۔ شاعر 1994ء نجم الدین اصلاحی۔ مولانا 1996ء عبدالغفور قریشی۔ مولانا، قطب دکن 2019ء حسن الدین احمد۔ سول سرونٹ، ادیب ومورخ 2022ء نفیس صادق۔ 2023ء دلاور حسین سعیدی۔ مولانا، بنگالی خطیب 2024ء انور بدخشانی۔ مولانا، استاد حدیث جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

  • میں تو ابتدائی تعارف کے وقت کم عمر اور کم علم تھا اور میرے بارے میں بجاطور پر وہ کہ سکتے تھے کہ : بات تک کرنی نہ آتی تھی انہیں یہ ہمارے سامنے کی بات ہے لیکن اپنی تعلیمی مصروفیتوں کے ساتھ کسی نہ کسی درجہ میں فارغ اوقات اور عصر بعد کی تفریح اور چہل قدمی کے لمحات میں مجلس کے حاضر باشوں میں میں بھی شامل تھا ایک دلچسپ حرکت ہم لوگوں کی یہ بھی تھی کہ کچھ احباب جنکو کتابیں پڑھنے کاشوق کم لیکن اپنے کمرے میں نئی اچھی اور خوشنما جلد و اچھی طباعت والی کتابوں کو سجا کر رکھنے کا شوق زیادہ تھا چنانچہ جیسے ہی کوئی نئی کتاب شائع ہوتی قاری صاحب کے ساتھ جاکر انکے سامنے کتاب کی ایسی تعریف کرتے کہ وہ فورا خریداری پر آمادہ ہوجاتے قاری صاحب کی زبان ہی ایسی تھی کہ سامنے والا چند جملے سن کر ہی قائل ہوجاتا اور جب کتاب آجاتی تو ہم مستعار لیکر پڑھ لیتے قاری صاحب کو سناتے اور کتاب واپس کردیتے تھے ظاہر ہیکہ اپنے پاس مالی وسائل کی کمی یااپنی کم مائیگی کے ساتھ پڑھنے کے شوق کی تکمیل کا طالب علمی کے زمانہ میں اس کے علاوہ اور وسیلہ بھی کیا ہو سکتا تھا جسے ایک طرح کا حیلہ ہی کہنا چاہیے جی چاہے تو اسے طالب علموں کی زبان پر جاری بچکانہ جملہ "يجوز لطالب العلم مالا يجوز لغيره" پر محمول کرلیجئے بہر حال یہ تو اس زمانہ کی بعض حرکتوں کا ذکر تھا اب کوئی دریافت کرے تو یہی کہینگے کہ : این گناہیست کہ در شہر شما نیز کنند آور اگر آپ کو اپنی پاکدامنی ہی پر اصرار ہو تو پھر ہم کہینگے کہ: ما نہ کردم شما حذر بکنید قاری صاحب کئی سال دیوبند میں رہے وہ انکی برزخی زندگی تھی یعنی نہ وہ طالب علمی کا زمانہ تھا اور نہ اور نہ ملازمت کا اسکے باوجود وہ جہاں بھی ہوتے مجلس کی رونق وہی ہوتے تھے اور اپنی باوقار گفتگو حاضر دماغی صوتی آہنگ استدلال کی قوت زبان کی فصاحت و بلاغت شستگی وشائستگی اورگفتگو کے دوران اشعار کے بر محل استعمال کی قدرت سے سب پر چھائے رہتے تھے ان خصوصیات میں ان کا کوئی مقابلہ بھی نہیں کر سکتا تھا دیوبند میں مقیم ایک نہایت ہی نستعلیق با کما ل شاعر ادیب خود داری اور بے نیازی کاپیکر وجود مولانا کاشف الہاشمی کا تھا مولانا ریاست علی بجنوری بھی شاعری میں انکو اپنا استاد مانتے اور ان سے اصلاح لیا کرتے تھے اس کا انہوں نے تحریری طور پر اظہار بھی کیا ہے اور غالبا انکے کلام کا مجموعہ بھی شائع کیا ہے قاری صاحب کے ساتھ میری بھی کھبی کبھی انکی رہائش گاہ پر حاضری ہوا کرتی تھی نہایت ہی نفیس آدمی تھے قرآن کریم سے انہیں خاص شغف تھا عوام کیلئے"ہدایت القرآن " نامی تفسیر انہوں نے ہی لکھنی شروع کی تھی مالی وسائل کمی اور اپنی خودداری و بے نیازی والے مزاج کی وجہ سے اسے جاری نہ رکھ سکے ظاہر ہیکہ انکی زبان اور انکے اسلوب کو برقرار رکھنا کسی اور کے بس میں نہیں تھا قاری صاحب سےکاشف الہاشمی صاحب بیحد مانوس تھے ان سے قرآن کریم کی تلاوت بھی سنتے اشعا ر بھی سنتے اور مشورے بھی دیتے تھے مجھ سے کبھی میرے اسباق کے بارے میں سوال کرتے اور کبھی بعض دقیق مسائل بھ سمجھا تے بھی تھے ان تمام مجلسو ں میں قاری صاحب ہی ہراول دستہ کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کا وجود مجلس کی رونق کو بڑھا دیتا تھا یہ کہنا چاہیے کہ قاری صاحب کا طبقہ عمر اورتجربہ وغیرہ میں مجھ سے اوپر کا طبقہ تھا وہ مولانا محمد رضوان القاسمی کے طبقہ کے کےآدمی تھے انہوں نے اپنے آپکو فارغ کر رکھا تھا اور ہمہ وقت کسی نہ کسی کی مدد سے کتابوں کا مطالعہ جاری رکھے ہوئے تھے اور میں طالبعلمی کے مرحلہ میں تھا اور بتدریج فراغت اور افتاء وغیرہ کے مراحل پورے کرتا رہا لیکن قاری صاحب جب تک دیوبند میں رہے انکی رفاقت بھی حاصل رہی قاری شبیر احمد صاحب کی ذات میں مستقبل کی ایک عظیم شخصیت کی تمام خصوصیات موجود تھیں وہ بہترین قاری روشن دماغ اور بلند پایہ ادیب کہنہ مشق شاعر زباں آور خطیب اور ایک اچھے انشاءپرداز سبھی کچھ تھے انکے زیر انتظام چلنے والے مدرسہ کی ترقی کی رفتار کو دیکھیں تو وہ ایک اچھے منتظم اورکامیاب مربی بھی نظر آتے ہیں قاری صاحب اہل علم اور ارباب فکر ودانش کی جس مجلس میں بھی ہوں میر مجلس وہی ہوتے ہیں اور مجلس کی رونق انہیں کے دم سے قائم رہتی ہے شعر وسخن کی بزم ہو تو انکی طرف لوگوں کی توجہ اور بھی بڑھ جاتی ہے افسوس ہیکہ حضرت قاری صاحب چند دنوں سے سخت بیمار تھے اور اسپتال میں خصوصی نگہداشت کے شعبہ میں رکھے گئے تھے پھر آپریشن کے مرحلہ سے بھی گزرے اب میرے ساتھ آپ بھی دعاء کیجئے کہ اللہ تعالی انہیں شفائے کامل سے نوازے اور انکی تعلیمی واصلاحی سر گرمیاں جاری رہیں آمین

  • قاری شبیر احمد صاحب کی عبقریت اور بے مثال ذہانت ***** بدر الحسن القاسمی نابینا علماء میں ایک سے بڑھ کر ایک باکمال اہل علم گزرے ہیں شعراء اور ادباء کی صف میں بھی نامور شاعر ابو العلاء المعری بشار بن برد اور قریب کے زمانہ کے عربی کے صاحب طرز ادیب اور انشاء پرداز ڈاکٹر طہ حسین کو کون نہیں جانتا ذہانت اور حافظہ کی قوت خدا کی دین وہ بعض لوگوں کو اس طرح نوازتا ہے کہ وہ امتیازی شخصیت کے مالک اور اپنی نظیر آپ ہوتے ہیں اور دوسرے ان پر رشک کرتے ہیں ائمہ لغت میں ابن الانباری ابن سید ہ مشہور سیرت نگاروں میں الروض الانف کے مصنف ابوالقاسم السہیلی اور نہ جانے کتنی ہی نامور شخصیات گزری جنہوں نے نابینا ہونے کے باوجود بڑے بڑے کارنامے انجام دئے ہیں قریب کے زمانہ میں سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن باز انکے معاصر شیخ عبد اللہ بن حمید اور انکے استاذ شیخ محمد بن ابراھیم سبھی نابینا تھے لیکن اپنے زمانہ کے بڑے علماء میں شمار ہوتے تھے ہمارے اہل تعلق میں جناب قاری شبیر احمد صاحب کا شمار بھی اسی طرح کی عبقری شخصیات میں ہوتاہے مولانا اعجاز احمد اعظمی مرحوم جنہوں نے برسوں قاری صاحب کو دیکھا اور انکی رفاقت سے ہمکنار رہے وہ اپنی خود نوشت سوانح "حکایت ہستی "میں قاری صاحب سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : " میں ایک ایسے شخص کی زبان سے جو نابینا تھا اور درجہ حفظ کا طالبعلم تھا بہترین شستہ شگفتہ اور فصیح وبلیغ نیز معلومات سےلبریز گفتگو سن کر چونک گیا اور بہت متاثر ہوا قاری صاحب ذہانت وذکاوت کاپیکر اور قوت حافظہ کے شاہکار تھے آنکھوں سے معذور ہونے کی وجہ سے انہیں مطالعہ کیلئے ایک مدد گار کی ضرورت تھی قاری صاحب مطالعہ کے شیدائی تھے میں پڑھتا اور قاری صاحب سنتے تھے قاری صاحب کو بعض شعراء کے دواوین وکلیات حفظ تھے غالب اقبال اکبر الہ آبادی جوش ملیح آبادی فیض اور فراق گورکھپوری کے اتنے اشعار انہیں یاد تھے کہ حیرت ہوتی تھی وہ مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے تھے گفتگو کی زبان اتنی شستہ اور فصیح ہوتی جیسے مولانا آزاد کا قلم چل رہاہو مولانا آزاد کی تحریر اور قاری صاحب کی تقریر ہو بہو باہم دیگر مشابہ ہوتی کسی کے خط کا جواب دینے کیلئے کہتے لکھو کاتب قلم کاغذ لیکر بیٹھ جاتا اور کاتب بھی میں ہی ہوتا تھا انکی زبان پر فصاحت وبلاغت کا فرشتہ بولتا رہتا اور میں قلمبند کرتا چلا جاتا الفاظ معلومات بر جستہ اشعار بر محل فقروں کا ایک سیل رواں ہوتا اور میں انہیں کاغذ پر سمیٹتا رہتا قاری صاحب کے مکاتیب کو جمع کیا جاتا تو " غبار خاطر " کا ایک دوسرا جلوہ نگاہوں کے سامنے آجاتا میں نے ان خطوط کا ایک مجموعہ تیار کیا تھا مگر اللہ ہی جانتا ہے کہ کون مجھ سے لیکر گیا اور ابتک واپس نہیں کیا میں کہ سکتا ہوں کہ انکی ذکاوت ذہانت کے بعد کسی کی ذہانت کا مجھ پر اثر نہیں پڑا " ( 232 سے 238 تک) قاری صاحب اپنی معذوری اور بینائی سے محر ومی کے باوجود اچھے منتظم بھی ہیں چنانچہ "مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھرواڑہ " انکی دینی وتعلیمی خدمات کا شاہکار ہے مدرسہ کی خوشنما عمارت طلبہ کی معقول تعداد اور تعلیم کا بہترین معیار سبھی قاری صاحب کی محنت اور سلیقہ مندی کی شہادت دیتے ہیں وہ بہترین مقرر اور اچھے شاعر بھی ہیں ملکی اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے انتہائی با بصیرت اور قابل فخر انسان ہیں برسوں سے ممبئی میں اصلاحی کاموں اور وعظ و نصیحت کے پروگراموں کی وجہ سے ایک حلقہ انکے ارادت مندوں میں شامل ہے علاقہ میں بھی انکی تقریریں بیحد مقبول ہیں اور وہ د ینی پروگراموں کی زینت اور اجلاس کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے ہیں قاری شبیر احمد صاحب کئی سال مدرسہ دینیہ غازیپور میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے اور وابستگی توانکی حفظ وتجوید کے شعبہ سے تھی لیکن انکی ذات پورے ماحول پر اثر انداز رہی اور وہ جہاں کہیں بھی رہے ان کا حلقہ اثر وسیع اور سارے ماحول پر اثر انداز رہا در اصل انکی غیر معمولی ذہانت گفتگو کا عالمانہ انداز وادیبانہ لب ولہجہ استدلال کی بے پناہ قدرت اور مطالعہ کی وسعت کے نتیجہ میں معلومات کی فرا وانی بہت جلد لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے اور وہ ہمیشہ مجلس پر چھائے رہتے اور اچھی صلاحیت کے علماء بھی انکے لب و لہجہ کی خوبی او ر زبان کی شگفتگی سے متا ثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے اور بہت سے اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی انکے سامنے اپنی زبان کھولنے اوراپنا نقطہ نظر رکھنے میں بسا اوقات ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں انہوں نے کبھی درس نظامی کا کورس مکمل کرنے یا باقاعدہ فراغت کی سند لینے کی کوشش نہیں کی لیکن انکی معلومات بہت سے سند یافتہ علماء سے کسی طرح کم نہیں ہیں

  • *وفیات مورخہ:اگسٹ /12* 1932ء منورنجن بھٹا چاریہ۔ 1962ء حفظ الرحمان سیوہاروی۔ مجاہد ملت ، مولانا 1970ء امیر الدین خاں جے پوری۔ 1973ء محمد طاہر بن عاشور۔ تونسی مفسر 1973ء نذیر احمد۔ ڈاکٹر ، جماعت اسلامی 1974ء طفیل احمد جمالی۔ شاعر وادیب ، 1974ء طفیل احمد جمالی۔ شاعر وادیب ، 1975ء رشید احمد حسنی (سید)۔ والد ماجد مولانا سید محمد رابع حسنی 1983ء نیئر مدنی (سید محمد مدنی)۔ ، 1987ء حبیب جونپوری (سید محبوب الحسن ہاشمی)۔ 1990ء خواجہ ریاض حسن انور۔ ، 1992ء مہدی حسن۔ ڈاکٹر ، 1996ء علی احمد۔ ڈرامہ نگار 1998ء ریاض الدین، ۔ مولوی 1999ء محمد عبد الرشید نعمائی۔ مولانا، عالم حدیث 2004ء عبد الرحمن حسن حبنکہ۔ شامی مفکر 2008ء سید محمد سالم ہنسوی۔ مولوی 2010ء نورالاسلام قادری۔ ، 2019ء محمد طلحہ کاندھلوی۔ مولانا https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

  • *وفیات مورخہ:اگسٹ /09* 1980ء نذیر عباسی۔ کیمونسٹ رہنما 1984ء خواجہ حسن عسکری۔ نواب ڈھاکہ 1985ء حسن یارجنگ۔ نواب 1992ء عین الحق اعظمی۔ الحاج مولوی، تاجر چرم 1998ء محمد صفدر میر۔ شاعر، صحافی 2001ء رشید احمد لدھیانوی۔ مولانا مفتی، فقیہ العصر 2008ء محمود دریش۔ فلسطینی شاعر 2016ء اے جی ین قاضی ( آفتاب غلام نبی)۔ بیروکریٹ 2019ء پال اگسٹن فنڈلے۔ موید فلسطین امریکی سیاست داں 2022ء عبد الودود اکرمی مدنی۔ بھٹکلی عالم دین https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

  • *وفیات مورخہ:اگسٹ /08* 1872ء فضل رسول بدایونی،شاہ۔ عالم دین، ماہر علوم عقلیۃ ونقلیۃ 1880ء ماسٹر رام چندر۔ صحافی و ریاضی داں 1929ء فتح محمد جالندھری۔ مترجم قرآن 1957ء احمق پھپھوندوی (حکیم محمد مصطفی خان)۔ شاعر 1965ء سید علی جعفری۔ مولانا ، 1971ء قیس سہار نپوری (محمد یاسین)۔ شاعر 1982ء اقبال احمد خان۔ ، 1989ء غوث بخش بزنجو۔ بلوچ رہنما 1990ء کرارنوری (سید کرار میرزا)۔ شاعر 1992ء ابو القاسم الخوئی۔ عراقی شیعہ مرجع 2000ء یس نجلنگپا۔ وزیر اعلی کرناٹک 2003ء رشید عمر تھانوی۔ فرزند شوکت تھانوی 2005ء احمد دیدات ( احمد حسین کاظم)۔ ہندوستانی نژاد افریقی مناظر 2006ء محمد حلیم۔ جسٹس 2009ء حبیب ریحان خان ازہری ندوی۔ مولانا ، معتمد تعلیمات تاج المساجد بھوپال 2012ء شمشیر الحیدری۔ سندھی ادیب 2013ء فرید احمد صدیقی۔ ڈاکٹر ، 2015ء وہبہ الزحیلی۔ شامی فقیہ 2017ء اویس احمد دوراں۔ ادیب 2020ء راحت اندوری۔ شاعر https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

  • قرار دیا جاسکتا ہے۔ تمھیں کہو اے صاحبو! بھلا کافری اور دورِ جاہلیت کی طرف رَجعت ِ قہقری کو ترقی پسندی کہا جا سکتا ہے؟ بقولِ اقبالؔ ’’بتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خدا سے نَو میدی‘‘۔ ’رَجعت ِ قہقری‘ کا مطلب ہے اُلٹے قدموں واپسی۔ منہ آگے کی طرف، مگر قدم پیچھے جارہے ہوں۔ منصور الدین منصورؔ کہتے ہیں: قہقری رَجعت ہے اپنے ذہن کی حال میں ماضی کی عظمت ڈھونڈنا حال میں ماضی کی عظمت ڈھونڈنا کوئی مذموم کام نہیں۔ ماضی سے وہی لوگ نظریں چراتے ہیں جن کا ماضی مشکوک ہو۔ مگر شان دار ماضی کے مزاروں پر چراغ جلاتے رہ جانا اور وہیں ڈیرہ ڈال کر پڑ رہنا ایسی رَجعت پسندی ہے جو مطلوب نہیں۔ ماضی سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ وہ سبق جو حال کو بہتر کردے اور مستقبل کو روشن۔ مراد، ہمیں ماضی کی خوبیوں کو اپنانا چاہیے، لیکن خامیوں کو دُہرانا نہیں چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے، اہلِ دانش کہتے ہیں کہ گاہے گاہے قصہ ہائے پارینہ کو پڑھتے رہنا چاہیے۔ اُن سے رُجوع کرتے رہنا چاہیے۔ ’رِجع‘ ہی سے ’ترجیع‘ بھی ہے۔ ’ترجیع‘ کا مطلب ہے لوٹانا، پھیرنا یا دُہرانا۔ اذان کے کلمات کو مؤذن دُہراتا یا دوبارہ ادا کرتا ہے۔ اس عمل کو ’ترجیع‘ کہا جاتا ہے۔ ناگہانی مصیبت آپڑنے پر اہلِ صبر ’’اِنّا للہ و اِنّااِلیہ راجعون‘‘ پڑھتے ہیں۔ اصطلاحاً اس عمل کو بھی ’ترجیع‘ کہا جاتا ہے، کیوں کہ اس قرآنی آیت میں اللہ کی طرف لَوٹنے کا اظہار ہے۔ شاعری میں بھی ایک اصطلاح ملتی ہے ’ترجیع بند‘۔ اس کے لغوی معنی ہیں ’بند کو پھر سے بیان کرنا‘۔ ماہرینِ علم ِ عَروض کہتے ہیں کہ جب شاعر ایسے بند کہتا ہے جو بحر میں موافق اور قافیے میں مختلف ہوں اور ہر بند کے بعد ایک شعر یا ایک مصرع بار بار اس طرح لایا جائے کہ وہ بند کے آخری شعر سے مربوط ہوجائے تو اسے ’ترجیع بند‘ کہتے ہیں۔ صاحبو! ابھی ہم ’ترجیع بند‘ ہی تک پہنچے تھے کہ ہمارے چچا چودھری چراغ دین چکڑالوی چیں بول گئے۔کہنے لگے: ’’میاں! رجوع سے رجعت کرتے کرتے ’ترجیع بند‘ تک جا پہنچے نا؟ بس اب یہیں پر اپنی بک بک بھی بند کردو۔‘‘

  • *غلطی ہائے مضامین* *عشق رَجعت ہے کہ اقدام ہے؟ معلوم نہیں!* *احمد حاطب صدیقی (ابونثر)* مالیگاؤں، ہند سے تعلق رکھنے والے جناب ذکی انور ہمدانی نے میلبورن، آسٹریلیا سے ایک نامۂ طویل ارسال فرمایا ہے۔ ہم تو دل تھام کر بیٹھ گئے کہ ’’کس ’طوالت‘ کے یہ نامے مرے نام آتے ہیں‘‘۔ بہرحال، تلخیص اس ’نامۂ طویل‘ کی پیشِ خدمت ہے۔ فرماتے ہیں: ’’عرض یہ ہے کہ لفظِ رجوع کے دو استعمالات عرصے سے میرے ذہن میں ایک لطیف اشکال پیدا کررہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کسی مسئلے کی توضیح کے لیے فلاں کتاب یا فلاں اُستاد سے رجوع کیجیے۔ مفہوم گویا کسی سرچشمۂ علم،کسی مرجعِ استناد یا کسی ماخذِ معرفت کی طرف رُخ کرنے اور استفادہ کرنے کا ہے۔ دوسری جانب یہی لفظ اس مفہوم میں بھی مستعمل ہے کہ کسی شخص نے اپنی سابقہ رائے، موقف یا دعوے سے رجوع کرلیا۔ یہاں کسی شے کی طرف رُخ کرنا نہیں، بلکہ اس سے دست بردار ہونا یا اس کے دائرۂ التزام سے باہر نکل آنا ہے۔ یہی پہلو موجبِ حیرت ہے کہ ایک ہی لفظ ایک مقام پر قرب، توجہ اور اقبال کا مفہوم ادا کرتا ہے، دوسری جگہ بُعد اور انقطاع کا تاثر اُبھرتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ لفظ رجوع کی اصل معنوی اساس کیا ہے؟‘‘ صاحب! آپ ہم سے مستفتی ہیں کہ ’’لفظ رجوع کی اصل معنوی اساس کیا ہے؟‘‘ جب کہ یہاں بجز ندامت کے پاس کیا ہے۔ ایسے متضاد معنی رکھنے پر ہم اس لفظ کی طرف سے ندامت کا اظہارکرتے ہیں اور اسی لفظ کی جانب سے آپ سے معافی کے خواستگار ہیں۔ نیز یہ کہ اس لفظ کی وجہ سے آپ کو جو حیرت کرنی پڑی اس کے لیے معذرت۔ بعد معذرت کے، عرضِ خدمت ہے کہ لفظ ’رجوع‘کی ’اصل معنوی اساس‘ جاننے کو ہم نے لغت سے رجوع کیا تو لغت نے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا۔ ہمیں ڈانٹا کہ درست ترکیب ’رجوع کرنا‘ نہیں، ’رجوع لانا‘ ہے۔ چلیے، ہم لغت سے رجوع لائے تو پتا چلا کہ اس لفظ کی اساس ’رجع‘ ہے جس کے متعدد معانی میں سے چند معنی ’لَوٹنا، جھکنا، مائل ہونا، واپس آنا یا دوبارہ آجانا اور عود کرنا‘ ہیں۔ مزید یہ کہ ’راجع‘ کہتے ہیں ’واپس آنے والے یا لوٹ آنے والے‘ شخص کو۔ ’راجع‘ کی جمع راجعین اور راجعون ہے۔ اللہ کے ہاں سے ہمارے ہاں آنے والی کوئی (نیک یا بد) روح کسی دن واپس اللہ کے پاس چلی جائے تو ہم کہتے ہیں کہ ’’اِنّا للہ‘‘ہم اللہ ہی کے ہیں، ’’وَاِنّا الیہ راجعون‘‘ اور ہم اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ لَوٹ جانے کی اصل معنوی اساس یعنی ’رجع‘ ہی سے اِسم بنا ’رجوع‘۔ مطلب ہے: واپسی، جھکاؤ، مَیلان اور رغبت۔ بیوی سے بے رغبتی ہوجائے اور پھر ایک یا دو طلاق دینے کے بعد عدت کی مدت کے اندر اندر شوہر اپنی رغبت سے بیوی کو واپس زوجیت میں لے لے تو اسے بھی ’رجوع‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی طلاق بھی ’طلاقِ رجعی‘ کہلاتی ہے۔ ان سب مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’رجوع‘ کا اصل اور اساسی مفہوم قرب، توجہ اوراقبال ہی ہے۔ خواہ کسی کتاب اور اُستاد سے رجوع لایا جائے یا اپنے مؤقف اور خیالات سے رجوع کیا جائے۔ بھئی،سیدھی سی بات ہے ، کسی شخص نے اپنے غلط مؤقف اور اپنی خام خیالی سے رجوع کر لیا یا دست بردار ہوگیا، تو گویا وہ شخص درست مؤقف اور صحیح خیالات کی طرف واپس آگیا، یعنی حق کے قریب ہوگیا۔حق سے رجوع لے آیا۔ ’رجوع لانا‘ فصیح ترکیب سہی، مگر فصحا نے ’رجوع کرنا‘ کی ترکیب بھی بکثرت استعمال کی ہے۔مثلاً میرتقی میرؔ کہتے ہیں:: رہے حال دل کا جو ایک سا تو رجوع کرتے کہیں بھلا سو تو یہ کبھو ہمہ داغ ہے، کبھو نیم سوز کباب ہے اسی طرح شیخ امام بخش ناسخؔ بھی بلبل بن کر گُل سے استفسار کرتے ہیں کہ ایسا طبیب کون ہے اے گُل کہ بارہا تجھ سے رجوع نرگسِ بیمار نے کیا جھکنا اور مائل ہونا کے معنوں میں ایک ترکیب ’رجوعِ قلب‘ بھی رائج ہے، جس کا مطلب ہے دلی توجہ۔شَرَف کا شعر ہے: کریمی اُس کی بھر دیتی شرفؔ دامن مرادوں سے رجوعِ قلب سے جو بندۂ عاجز دُعا کرتا رَجع سے بننے والا ایک اور لفظ ’رَجعت‘ ہے۔’رُجوع‘ کے ’’ر‘‘ پر تو پیش ہے، مگر’رَجعت کے’ر‘ پر زبرہے۔اِسے پیش کے ساتھ پڑھنا درست نہیں۔’رَجعت‘ ہمارے ہاں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ اُردو میں یہ لفظ عموماً پسپائی کے معنوں میں لیا جاتا ہے، جو پیش قدمی یا اِقدام کی ضد ہے۔ رئیسؔ امروہوی عشق سے متعلق اپنی لا علمی (’ہم بہو بیٹیاں یہ کیا جانیں؟‘) کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کرتے ہیں: عشق رَجعت ہے کہ اِقدام ہے؟ معلوم نہیں! یا فقط اِک روشِ عام ہے؟ معلوم نہیں! رَجعت بھی پیچھے ہی مُڑنے کا عمل ہے۔ جو لوگ ماضی کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں وہ ’رَجعت پسند‘ کہلاتے ہیں، یعنی ’قدامت پرست‘۔ سیاسی اصطلاح میں ’رَجعت پسندی‘ ضد ہے ’ترقی پسندی‘ کی۔ یہ الگ بحث ہے کہ آج کل جو لوگ اپنے آپ کو ’ترقی پسند‘ کہتے ہیں وہ واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہیں یا پتھر کے دور تک پسپائی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ بھلا پتھروں کی پُوجا کون سی ترقی پسندی ہے؟ ہاں پتھر کے بتوں کو پاش پاش کردینا البتہ انقلابی اِقدام، پیش قدمی اور ترقی پسندی

  • (6) اگر حافظان قرآن کسی وجہ سے دینی تعلیم جاری نہ رکھ سکیں ، اور بے کار گھوم رہے ہوں تو ان کے لئے معاشی میدانوں میں تعلیم و تربیت کا نظام ہو تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، (7) لیکن ایسے طلبہ کو چھان کر الگ کرنا ، جن کا حافظہ بہت مضبوط ہے،اور جو حفظ قرآن مکمل کرنے کے بعد قرآن سے مناسبت رکھنے والے تعلیمی میدانوں میں آگے بڑھ سکتے ہوں، اور وقت کے مفسر اور فقیہ بن سکتے ہوں، انہیں دنیا کی رغبتوں کی طرف مائل کرنا ، کوئی قابل تعریف کارنامہ نہیں ہوگا۔ (8) ہمیں معلوام نہیں قرآن پلس کلاسس کیا ہوتی ہیں، لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ ایک حافظ قرآن کو قرآن سے مناسبت رکھنے والے علوم کی ترغیب دینے کے بجائے ، دنیاوی ترقی دلانے والے علوم کی رغبت دلانا ، اور مدارس سے فائق اور ہونہار حفاظ قرآن کے اٹھا لینے کو دین کی خدمت اور کار خیر سمجھنا بہت مشکل ہے۔ 2026-08-07 https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

  • *بات سے بات: مدرسہ پلس* *تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)* آج مدرسہ پلس کے عنوان سے علم وکتاب پر کئی ایک مراسلے پوسٹ ہوئے ہیں، جن میں مولانا محمد عبد القوی صاحب کا کالم سنجیدگی سے لئے جانے کے قابل ہے۔ اس تعلق سے کچھ باتیں ہمارے ذہن میں بھی آرہی ہیں۔ ۔ اس ناچیز نے جب اپنے قصبہ بھٹکل میں آنکھ کھولی تو یہاں پر کوئی آٹھ مسجدیں تھی، جن میں سے نصف میں مقامی امام تھے ، اور ان میں کوئی بھی حافظ قرآن نہیں تھا، تراویح کی بیس رکعتوں میں جزء عم کا آخری پاؤ پارہ پڑھا جاتا تھا، اس وقت بھٹکل میں صرف ایک حافظ قرآن تھے، جوابھی کسی مسجد میں مستقل امام نہیں مقرر نہیں تھے ، ۱۹۷۴ء کے آتے آتے بھٹکل میں جملہ کوئی تین حافظ قرآن ہوگئے، ان میں سے بھی کوئی امام مسجد نہیں تھے۔(مزید تفصیلات ہردوئی سے ان شاء اللہ عنقریب شائع ہونے والے حضرت مولانا ابر ار الحق رحمۃ اللہ علیہ پر مجلے میں ہمارے مشاہدات پر مبنی مضمون میں ملاحظہ فرمائیں) آج نصف صدی گذرنے کے بعد بھٹکل میں ایک سو سے زیادہ مسجدیں ہیں، اور ہر مسجد میں تراویح میں چار سے پانچ حافظ قرآن سنانے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ کسی حافظ کو پورا قرآن سنانے کا موقع نہیں ملتا ، بس مقررہ دو چار اجزاء سناتے ہیں، جس کی وہ تیاری کرکے آتے ہیں، لہذا تیاری کئے گئے وہی اجزاء پختہ ہوتے ہیں، اب مقررہ کوئی حافظ غیر حاضر ہو تو پھر تیاری نہ ہونے کی وجہ سے ان اجزاء کا حافظہ مضبوط ہو یہ ضروری نہیں۔ جمعیت الحفاظ بھٹکل اس خامی کے تدارک کے لئے گذشتہ کئی سالوں سے کوشاں ہے۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں بھی قدیم حفاظ کے سینے میں قرآن محفوظ رکھنے کے لئے مسلسل فکر مند ہے۔ ہمار اخیال ہے کہ یہ صورت حال گجرات اور دوسرے علاقوں کی بھی ہوگی۔ جیسا کہ حدیث پاک ہے کہ قرآن پاک کو خوب پابندی سے پڑھو اور یاد رکھو ،وہ بہت تیزی سے ذہن سے نکل جاتا ہے جیسے اونٹ اپنے نکیل میں سے تیزی سے نکل بھاگتا ہے۔ (مشکوٰۃ: ص:۱۹۰) قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جو جلد یاد ہوتی ہے، اور اس کی بے قدری پر جلد سینے سے نکل جاتی ہے، لیکن ایک حافظ قرآن کا یہ سوچنا کہ میں ابھی جوان ہوں، بغیر قرآن کو یاد رکھنے کا اہتمام کئے یہ سوچنا کہ مجھے سب کچھ یاد ہے ایک دیوانے کے بڑ کے سوا کچھ نہیں، یہ سراسر خود کو دھوکا دینا ہے، کیونکہ جب یاد داشت کے مظاہرے کا وقت آتا ہے تو عموما حافظہ دھوکا دے جاتا ہے۔ (1) حفاظ کرام کی بہت بڑی تعداد والدین کی ایما پر تین چار سال یا اس سے زیادہ وقت لگانے کے بعد جب انہیں تراویح یا درس وتدریس کا موقعہ نہیں ملتا تو قرآن کو بھلا دیتی ہے، اور ایک حافظ کی عمر کے یہ سال قرآن کے بھول جانے کے بعد برباد ہوجاتے ہیں، اور قرآن کے بھول جانے کا وبال اس پر الگ ہوتاہے۔ (2) قرآن پاک کو یاد رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ یا تو حفظ قرآن کے بعد اس سے مناسبت رکھنے والے علوم دینیۃ حاصل کرکے ایک عالم دین بن جائے، یا پھر تحفیظ قرآن کی مجالس سے وابستہ ہو، یا پھر ہر سال تراویح پڑھانے کا اہتمام کرے، جو حفاظ کی کثرت میں ہر ایک کے لئے موقعہ ملے یہ ناممکنات میں سے ہے۔ (3) ایک حافظ قرآن کو حفظ قرآن کے بعد تعلیم کے ایسے میدانوں سے وابستہ کرنا جو قرآن کریم سے مناسبت نہیں رکھتے تو پھر زیاد ہ امکان اس بات کا ہے کہ ایسا کوئی اہتمام ان کے لئے دنیاوی ترقی کا باعث تو بن سکتا ہے، لیکن دوسری طرف اسے قرآن بھلانے کے انتظام سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ (4) ہمارے خیال میں اس وقت حفظ قرآن کا جو نظام ہمارے مدارس میں رائج ہے، اس کی تنظیم نو ہونی چاہئے۔ جووالدین اپنے طلبہ کو حافظ قرآن بنا کر اپنی نجات کا ذریعہ بنانا چاہتے ہوں ، ان کی ہمت افزائی کی جائے، لیکن ان سے طلبہ کے تحفیظ میں داخلے کے وقت یہ یقین دہانی لی جائے کہ اپنے بچے کو ایسے نصاب تعلیم سے وابستہ رکھیں گے، جن کے بعد ان کے لئے قرآن کریم سے مناسبت رکھنا، اسے سمجھنا ، اس میں تدبر کرنا آسان ہو، اورتدبر اور فہم کی صورت میں قرآن سے اس کو دلی مناسبت ہوجائے، ورنہ قرآن کو یاد رکھنا اس کے لئے ایک بوجھ بن جائے گا۔ (5) مدارس کے ذمہ داران کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ یہ مدرسے ان کے ہاتھ میں اللہ تعالی کی امانت ہیں، اہل خیر نے ان کے لئے اپنا تعاون اس لئے پیش کیا ہے کہ یہ مدرسے ان کے لئے ذخیرہ آخرت بن سکیں، اور یہاں سے ایسے افراد پیدا ہوں، جو معاشرے کی دینی ضروریات کو پورا کریں، حلال وحرام بیان کریں، اور قال اللہ وقال الرسول کی گونج سے فضاؤں کو بھر دیں۔عطیہ دہندگا ن میں دو فیصد بھی ایسے نہیں ہونگے جو ان مدارس سے کمانے والے افراد پیدا کرنا اپنے عطیات پیش کررہے ہوں، اس مقصد کے لئے تو انگلش میڈیم پرائیوٹ اسکول کافی ہیں، اس کے لئے نئے مدارس دینیہ تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عطیہ دہندگان کے مقصد سے مختلف مدات میں تعاون خرچ کرنا ایک طرح سے خیانت شمار ہوگی، جس کی جواب دہی اللہ تعالی کے یہاں ہوگی۔

  • *وفیات مورخہ:اگسٹ /07* 1941ء را بندرناتھ ٹیگور۔ بنگالی ادیب ومفکر 1942ء محمد سورتی۔ مولانا ، 1983ء منظور احمد، مرزا۔ ، 1988ء حضور احمد خان۔ کرنل ، 1988ء صبا فاضلی۔ ، 1997ء محمد عبداللہ، حاجی۔ مہتمم مدرسہ اسلامیہ عربیہ برنپور 1997ء محمود أحمد شاكر۔ مصری ادیب ومحقق 2000ء سہیل مظہر، پیرزادہ۔ ، 2003ء پروفیسر علی محمد خسرو۔ وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی 2009ء محی الدین الکردی، ابو الحسن۔ شافعی فقیہ 2010ء ابو بکر شیخانی۔ ، 2014ء انیتا غلام علی۔ پروفیسر ، 2015ء ثاقب حسین تقوی۔ سید 2018ء ایم کروناندھی۔ وزیر اعلی ٹامل ناڈو 2021ء محمد وصی ظفر۔ وزیر قانون پاکستان https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

  • از ننگ چہ گوئی کہ مرا نام ز ننگ است پروفیسر رشید کوثر فاروقی مرحوم لکھتے ہیں: اہل اللّٰه کے ہاتھ پر بیعت سب سے زیادہ ان لوگوں کے لیے ضروری ہے، جو ذہین و فطین اور تعلیم یافتہ ہیں، یا اپنے کو ذہین و فطین اور تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں۔ ان غریبوں کے ساتھ جہاں اور سو طرح کے فتنے اور خطرے لگے ہوئے ہیں، وہیں یہ بھی ہے کہ جہاں کسی نے تعریف کی اور ان کا نفس بے لگام ہوا۔ دنیا میں اگر حسن پسند نہ ہوتے تو کسی کو آئینے میں بہارِ حسن دیکھنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ دوسروں کی ستائش سے خود رائی و خود بینی پیدا ہوتی ہے اور دین کی راہ خود رائی و خود بینی کے متوازی جاتی ہے۔ یہاں تو وہی پوچھے جاتے ہیں، جن کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو۔ اس شاہ راہ پر جو پامال ہوا، اس نے سربلندی پائی، جو مرجھا گیا، اسے شگفتگی ملی، جو مٹ گیا، وہ جی اٹھا، جو جل بجھا، اس نے روشنی دیکھی اور جو برباد ہوگیا، اس نے آبادیوں کی سرخیاں لکھیں، یا یوں کہہ لیجیے کہ اس راہ میں آدمی کو قبولِ حسن اس وقت ملتا ہے، جب اسے شہرتِ دنیا پر ہنسی آتی ہے اور مقامِ قاسمی اس وقت ہاتھ آتا ہے، جب اپنے حصہ کی مطلق فکر نہیں رہتی۔ از ننگ چہ گوئی کہ مرا نام زننگ است وز نام چہ پرسی کہ مرا ننگ زنام است (ایک عشرہ سئی کی وادی میں، صفحہ: ۴۳/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی) https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

  • *وفیات مورخہ:اگسٹ /04* 1922ء اسماعیل انور پاشا۔ 1956ء ہربند کمار بنرجی۔ 1959ء صبا لکھنوی (سید حیدر حسین)۔ ، 1964ء عبد الغفور۔ حکیم 1974ء عبدالعزیزملک۔ ، 1984ء ماہر فریدی (سید مصطفٰی حسن )۔ ، 1987ء عباس فاروقی۔ ، 1989ء ایس ایم احسن (سید محمد احسن )۔ ایڈمرل ، 1989ء عارف مینائی (اسحاق احمد)۔ ، 1994ء نجم الدین اصلاحی۔ مولانا 1995ء سعید رمضان۔ ڈٓاکٹر، مدیر مجلہ المسلمون 2000ء محمود صدیقی۔ ، 2000ء مسعود نقوی (سید ابو محمد مسعود)۔ ، 2001ء عبدالرحیم بلوچ۔ ، 2005ء کوثر جائسی۔ شاعر 2014ء بیگم اشرف عباسی۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

  • اس اعلانِ حق نے جس کو باطل نے کبھی معاف نہیں کیا آج تو جیسے بھڑوں کے چھتے کو بُری طرح چھیڑ دیا تھا ـــــ ظلم وستم کی قہرمانی طاقتیں زخمی ناگ کی طرح اُٹھیں اور بندۂ مومن پر حملہ آور ہوئیں ـــــ یقینًا اگر آج پھر خدا کے فضل سے حضرت عباسؓ دوبارہ آڑے نہ آجاتے تو حضرت ابوذرؓ کا کام ہی تمام ہو چکا ہوتا ـــــ آج وہ شہید ہو چکے ہوتے ـــــ ”شہید“  ـــــ وہ ممتاز جنتی جو جنّت کی ٹھنڈی ہوا کھانے کے بعد یہ آرزو کرتا ہے کہ وہ پھر اسی دنیا ئے فانی میں واپس کیا جاتا تاکہ ایک بار پھر شہید ہو ـــــ زندہ ہو اور پھر شہید کیا جائے  ـــــ پھر زندہ ہو پھر شہید کیا جائے۔ زخموں اور چوٹوں سے پارہ پارہ وہ جسم اُٹھا۔ جس کو حق کے نام پر خاک و خون میں مل جانے کی آرزو تڑپا رہی تھی ـــــ وہ شہادت کی تڑپ میں کشاں کشاں آئے تھے اور شہادت کی آرزو اپنے ہر ہر زخم میں شعلہ زن کیے ہوئے واپس جارہے تھے ۔    اللہ اللہ ! کیسے تھے وہ لوگ جو ہم سے پہلے اسی اسلام کے دائرے میں دیکھے گئے ! ان کے کارنامے ان کے ساتھ ساتھ گئے اور ہمارے کرتوت ہماری جان کے لاگو ہیں ـــــ وہ اہلِ حق تھے جنہوں نے حق کی قیمت پہچانی اور جی جان سے یہ قیمت چکانے کی پروانہ وار کوشش کی ـــــ اور ہم ”حق فروش“ ہیں کہ دنیائے فانی کے چند ٹکوں میں ہم نے سدا کی راحتوں کو ہنسی خوشی بیچ ڈالا ہائے ہم !! جو اس دُنیا سے لپٹے جاتے ہیں جو ہمیں اپنے سینے سے نوچ کھسوٹ کر منوں مٹی کے نیچے گاڑ دینے والی ہے ـــــ اور اس خداے رحیم وکریم سے گریزاں ہیں جس کی رحمتِ بے کراں عمر بھر کے مجرموں کی آنکھ میں دو آنسو دیکھتی ہے تو جوش میں آجاتی ہے اور شہید وفا کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر ٹپکتے ہی جنّتِ خلد کے دروازے کھول دیتی ہے ۔ ________  https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

  • کیا ہم مسلمان (٤٤) منجدھار سے ساحل تک -  دوسری اور آخری قسط   تحریر: شمس نوید عثمانیؒ   " ابھی تمہیں اپنے ایمان کا اظہار کرنے کی ضرورت نہیں۔ " غریب الدیار نَو مسلم کو یُسرو آسانی کے مذہب کی رُخصت عطا کرتے ہوئے حضور ﷺ نے تسلی دی ”اب اپنے قبیلے میں واپس جاؤ اور جب ہم غالب آجائیں تو اِدھر پلٹ آنا۔"       "یا رسول اللہ ﷺ !“ جوشِ ادب اور شدّتِ ایمانی سے کانپتی ہوئی آواز حضرت ابو ذر ؓ کے ہونٹوں سے بلند ہوئی ۔ ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے مَیں تو اس کلمہ حق کو اُن بے ایمانوں کے اندر گُھس کر ، چلّا کر پڑھوں گا ـــــ !“ اور سچ مچ انھوں نے ایسا ہی کیا!       وہ غیرت حق سے بے قرار ہو کر اُٹھے ـــــ جوش کے عالم میں روانہ ہے ہوئے ـــــ بے تحاشا خا نہ کعبہ میں در آئے اور مشرکوں کی بھیڑ میں گُھس کر پھیپھڑوں کی پُوری طاقت سے چیختے ہوئے اعلان کیا:- "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سِوا کوئی معبُود ہے ہی نہیں ـــــ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) خُدا کے رسول ہیں۔"    خُدا کے باغیوں نے یہ اعلانِ حق کی گرج سُنی اور ایک لمحہ کے لیے ہر طرف سنّاٹا چھا گیا۔ لوگ حیران تھے کہ یہ کون شخص ہے جس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ اعلان کیا ہے ـــــ؟  اور دوسرے ہی لمحے حق کے اس اعلان کے خلاف دارو گیر شروع ہو گئی ـــــ بے رحمانہ جنون کے عالم میں انسانی درند ے اُٹھے اور ایک انسان کو ہر طرف سے لپٹ گئے ۔ ہاں دیوانوں اور درندوں کا پورا مشتعل ہجوم اکیلے بندۂ مومن پر ٹوٹ پڑا تھا۔ گھونسے تھے کہ پیاپے پڑ رہے تھے ۔ ٹھوکریں تھیں کہ ہر طرف سے لگ رہی تھیں۔ گالیوں کی طوفانی بوچھاڑ تھی ـــــ لاف وگزاف کا طوفانِ بد تمیزی برپا تھا ـــــ اور ان یورشوں کے نرغے میں کھڑا ہوا مومن صبر واستقامت کا مینارۂ نور بنا ہُوا ایستادہ تھا ـــــ  دنیا اس بات پر آگ بگولا تھی کہ اس نے دُنیا کے بنانے والے کا نام کیوں لیا ہے ـــــ مگر بندۂ مومن مطمئن تھا کہ اس نے یہ اتنی بڑی بات کہی ہے جس کو سننے تک کی تاب دوسروں میں نہیں تھی ۔    اس نے گالیوں کے جواب میں اُف تک نہ کی ـــــ ٹھوکریں کھائیں اور کوئی فریاد تک نہ کی ۔ وہ اپنا کام کر چکا تھا وہ اپنی بات کہہ چکا تھا اور اب سہنے کی باری تھی ـــــ اسے خوف نہیں مکمل اطمینان تھا کہ خدائے کائنات اس کی پُشت پناہی پر ہے ۔ اس کو کوئی غم نہ تھا ، دِلی خوشی تھی کہ وہ خدا کی گلی میں زدو کوب کیا جا رہا ہے اور اس کے جذبۂ وفا کا یہ منظر اس کا خدا دیکھ رہا ہے ۔ جسمانی درد و کرب کے تمام احساسات اس لطیف احساس میں گُم ہو چکے تھے کہ اس مشت خاک کی طرف رحمٰن و رحیم خدا کی نظرِ خاص اُٹھی ہوئی ہے۔ سہنے والا سب کُچھ سہہ رہا تھا مگر دیکھنے والوں کے کلیجے مُنہ کو آنے لگے ـــــ شرافتِ انسانی کا درد اُٹھا اور اس درد سے تڑپتے ہوئے حضرت عباسؓ کی جو ابھی تک لذتِ ایمان تک نہ پہنچے تھے شرافت انسانی کے جوش میں آگے بڑھے ـــــ اور مظلوم کے اُوپر خود کو ڈالتے ہوئے ظالموں کو للکارا:-    "دیوانو ! تمہیں کچھ ہوش بھی ہے ـــــ ؟ یاد رکھو کہ اگر قبیلۂ غفار کا یہ فرد مارا گیا تو تمہیں شام کے کاروباری سفر میں اس کے قبیلے میں سے گزرنا ناممکن ہو جائے گا ـــــ"     عذابِ آخرت کے بے فکروں نے جوں ہی مفاداتِ دنیا کے نقصان کا خطرہ محسوس کیا ہوش ٹھکانے لگ گئے اور اس طرح درد و کرب کے بوجھ تلے سِسکتے ہوئے مومن کی جان خدا خدا کر کے بچ سکی۔      لیکن دوسرے دن اس سے بھی بڑا واقعہ پیش آیا ۔    خدا کی قسم ابھی جسم کی درد بھری چوٹوں پر ایک شبانہ روز کا وقت بھی نہ گزرا تھا کہ غیرتِ ایمانی کی چوٹ کھانے والا پھر اسی وادئ قہر و ستم کی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا ـــــ ہائے وہ رِستے ہوئے زخموں پر ایک اور زخمِ تازہ کھانے کا ولولۂ ایمانی ـــــ اور ہائے وہ ”اعلانِ حق“ جو بزمِ ازل میں تمام ارواحِ انسانی نے اپنے خدا کے حضور کیا تھا مگر پھر مکرر تازہ کرنے کے لیے اشک بار آدمؑ زمین پر اُترے ـــــ نوحؑ نے ساڑھے نو سو برس تک خونِ دل و جگر ٹپکایا اور عالم گیر طغیانی میں اپنا سفینہ خدا کے بھروسے پر چلایا ـــــ ابراہیمؑ نے آگ کے بھڑکتے ہوئے الاؤ میں خود کو بے خوف و خطر ڈالا ـــــ یوسفؑ نے جیل کاٹی ـــــ موسٰیؑ فرعونی طاقت سے ٹکرائے اور بپھرے ہوئے دریا کا سینہ چیرتے ہوئے نکلے ـــــ عیسٰیؑ نے تختہ دار دیکھا ـــــ اور پھر صدہا انبیاء کی پوری تاریخِ درد و کرب اکیلے محمدﷺ نے ۲۳ سال تک دُہرائی۔ کیسے صاحبِ نصیب تھے ابو ذر غفاریؓ ـــــ ! کہ اسی " اعلان حق" کی سعادت دوسری بار ان کے حصّے میں آرہی تھی ۔

  • *وفیات مورخہ:اگسٹ /01* 1928ء امیر علی۔ سید، جسٹس، مصنف روح اسلام 1956ء جمیل سیوہاروی (محمد جمیل الرحمٰن)۔ ، 2000ء محمد سلیم الدین شمسی۔ مولانا ، مفسر، واعظ 2005ء زینب الغزالی۔ تحریکی داعی خاتون 2011ء مسرت حسین ۔ پروفیسر ، ڈاکٹڑ 2012ء جان محمد بلوچ۔ ، 2013ء حسن شہید مرزا۔ ، 2013ء فرمان فتح پوری (سید دلدار علی )۔ ڈاکٹر ، ادیب، محقق 2019ء ریاض احمد قاسمی۔ مولانا، مہتمم مدرسہ خادم الاسلام ہاپوڑ 2021ء عبداللہ نواب پوری مراد آباد۔ قاری https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

  • *اسد ملتانی کا ایک خط* کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اہل علم حضرات کی فکر چند مخصوص موضوعات کے گرد گھومتی ہے، اور بعض اہم موضوعات نظر کے سامنے آنے کے باوجود سرسری ان سے گذر جاتے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کئی ایک موضوعات دعوتی نقطہ نظر سے بڑے اہم ہوتے ہیں۔ گذشتہ دنوں ہم نے مکتوبات سلیمانی پر مولانا سعید احمد اکبرآبادی کا تبصرہ پوسٹ کیا تھا، اس کے بعد اس کے موقر مرتب مولانا سید محمد زین العابدین صاحب نے یہی تبصرہ اہتمام سے ٹیکسٹ کی صورت میں پوسٹ کیا تھا، ہمارا خیال تھا، کہ ہمارے قارئین اس تبصرے میں ضرور توجہ دیں گے۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا۔ اس تبصرے میں مولانا اکبرآبادی کی مندرجہ ذیل تحریر نے ہمیں متوجہ کیا، امید کہ یہ آپ حضرات کی توجہات کو بھی اپنی طرف ضرور کھینچے گی۔ *سید صاحب نے ایک خط میں اسد ملتانی صاحب مرحوم کا ایک خط بھی نقل کیا ہے، اس خط کے بعض فقرے اس لائق ہیں کہ آج بھی مسلمانوں کو انہیں پڑھنا اور ان سے سبق لینا چاہیے، مرحوم لکھتے ہیں*: ”*سکھوں کی صوفیانہ جماعت میں اسلامی عنصر بہت زیادہ تھا اور ممکن تھا کہ ایک عرصہ کے بعد یہ جماعت اسلام میں جذب ہو جائے مگر فرخ سیر وغیرہ کے سیاسی مقابلہ نے اس جماعت کو ایک دشمن اسلام جنگ جو قوم بنا دیا، اسی طرح آریہ سماج کی تحریک فی الحقیقت ہندوؤں کو اسلام سے زیادہ قریب لانے والی تھی، چناں چہ اس کی ابتدائی نشو و نما بھی مسلمانوں کی سرپرستی میں ہوئی، اگر اس کی طرف زیادہ توجہ نہ کی جاتی تو یہ فرقہ یا تو ہندوؤں کی اکثر سماجوں کی طرح گوشۂ گمنامی میں ہوتا یا شاید اسلام میں مل جاتا مگر افسوس... مولوی ثناء اللہ کے علمی جہاد نے اس فرقہ کو نہ صرف اہم بلکہ اسلام کا سخت دشمن بنا دیا*۔" (ص: ۲۷۱) بہر حال یہ مجموعہ تاریخی اور ادبی اعتبار سے ایک خاصہ کی چیز ہے، آئندہ لوگ اس کو بطورِ حوالہ استعمال کریں گے۔ (مارچ ۱۹۶۴ء) https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

  • *وفیات مورخہ:اگسٹ /01* 1824ء ماہ لقا بائی۔ پہلی صاحب دیوان شاعرہ 1984ء نورالحسن۔ مولانا، سید 1985ء قدوائی ، کے ٹی۔ ، 1988ء محمد زکریا۔ مولانا ، 1989ء مسعود اختر حاتمی۔ سید 1991ء یوسف ادریس۔ مصری ادیب 2000ء علی سردار جعفری۔ شاعر، ادیب 2001ء قدسیہ اعزاز رسول۔ بیگم 2005ء فہد بن عبد العزیز آل سعود۔ شاہ سعودی عرب 2006ء کفیل الرحمٰن نشاط عثمانی۔ مولانا مفتی ، 2008ء ہرکشن سنگھ سرجیت۔ جنرل سکریٹری سی پی یم 2009ء عبد الرافع الباقوی۔ مولانا ،عربی ادیب، استاد جمالیہ کالج مدراس 2012ء شہزاد احمد۔ 2014ء صبیح محسن۔ ، 2015ء فرید خان (فرید الرحمٰن خان)۔ ، 2022ء سرفراز علی ۔ فوجی جنرل https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B