کُتُب سے اِقتِباسات
Статистикаہماری پہچان : بحوالہ اقتباسات، منقول سے اجتناب۔ حاصلِ مطالعہ,قرآن و حدیث، تاریخ و فلسفہ، ادب و افسانہ، اشعار, سیرت ساتھ ساتھ ـ اقتباسات تحریری اور عکس کی صورت میں آپ حاصل کرسکتے ہیں یہ بوٹ ◀ @Iqtabasat_bot چینل کے منتظمین سے رابطہ کے لیے ہے ـ
- Последний пост
- 7 авг.
- Последнее чтение
- 15 авг.
- Постов за неделю
- 0
- Всего постов
- 20
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- Категория
- Религия
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- 959
- 1/48двое суток
- 1 099
- 1/72трое суток
- 1 185
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے ====== ’’أللّٰهم صلّ علٰى محمد وعلٰى أٰل محمد كما صلیت علٰى إبراهیم وعلٰى أٰل إبراهیم إنك حمید مجید أللّٰهم بارك علٰى محمد و على أٰل محمد كما باركت علٰى إبراهیم وعلٰى أٰل إبراهیم إنك حمید مجید.‘‘
”ایک روز میں مسندِ وعظ پر بیٹھا تھا، میرے گرد دس ہزار کا مجمع تھا، سب کے دل نرم تھے، آنکھیں بہہ رہی تھیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا: کیا گزرے گی گر یہ سب نجات پا جائیں اور تو ہلاک ہو جائے؟! پھر میں نے دل ہی دل میں پکارا : مولا! آقا! کل اگر تو مجھے عذاب دینے کا…
عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ کی سجدہ میں یہ دعا ہوتی : " مولا! مجھے اس روز اپنے عذاب سے معاف رکھنا، جس روز تو اپنے بندوں کو زندہ کرے گا " [مصنف عبد الرزاق(٢٨)]
”ایک روز میں مسندِ وعظ پر بیٹھا تھا، میرے گرد دس ہزار کا مجمع تھا، سب کے دل نرم تھے، آنکھیں بہہ رہی تھیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا: کیا گزرے گی گر یہ سب نجات پا جائیں اور تو ہلاک ہو جائے؟! پھر میں نے دل ہی دل میں پکارا : مولا! آقا! کل اگر تو مجھے عذاب دینے کا فیصلہ کرے، تو ان لوگوں کو اس کی خبر نہ ہونے دینا؛ میرا نہیں تو اپنے کرم کا ہی بھرم رکھ لینا! کہیں یہ لوگ یہ نہ سوچیں کہ اللہ نے اس بندے کو عذاب دیا ہے جس نے ہمیں اس کی راہ دکھلائی!“ (سيد الواعظين: ابن الجوزي رحمه الله تـ ٥٩٧ھ)
امام ابو حنیفہ رح سے جب مسئلہ پوچھا جاتا تو کافی دیر تک سکوت فرماتے، لمبا سانس لیتے، پھر فرماتے اے اللہ ہم سے مواخذہ نہ فرمانا۔ (مناقب أبي حنيفة للموفق المكي)
امام ابو حنیفہ ؓ سے جب مسئلہ پوچھا جاتا تو کافی دیر تک سکوت فرماتے، لمبا سانس لیتے، پھر فرماتے اے اللہ ہم سے مواخذہ نہ فرمانا۔ (مناقب أبي حنيفة للموفق المكي)
без подписи
без подписи
رولے اب دل کھول کر : ---- آہ! کوئی نہیں سب گمراہ ہوگئے،سب نکمّے نکلے،سب غافل ہوگئے،سب پر نیند کی موت چھاگئی،سب نے ایک ہی طرح کی ہلاکت پی لی،سب ایک ہی طرح کی تباہیوں پر ٹوٹے،سب نے خدا کو چھوڑ دیا،سب نے اُس کے عشق سے منہ موڑ لیا،سب نے اُس کے رشتہ کو بٹّہ لگادیا،سب غیروں کے ہوگئے،سب نے غیروں کی چوکھٹوں کی گرد چاٹی اور سب نے ایک ساتھ مل کر گندگیوں اور ناپاکیوں سے پیار کیا؛ آہ!سب نے عہد باندھا کہ ہم ایک ہی وقت میں گمراہ ہوجائینگے اور سب نے قسم کھالی ہے کہ ہم ایک ہی وقت میں خدا کی پکار سے بھاگیں گے،آہ!سب اس سے بھاگ گئے،سب نے اس سے غول در غول بن کر بے وفائی کی؛؛کوئی نہیں جو اس کے لیے روئے،کوئی نہیں جو اس کے عشق میں آہ و نالہ کرے،اُس کی محبت کی بستیاں اُجڑ گئیں،اُس کے عشق و پیار کے گھرانے مٹ گئے،اس کے گلّہ کا کوئی رکھوالا نہ رہا،اور اُس کے کھیتوں کی حفاظت کے لیے کوئی آنکھ نہ جاگی!!سب شیطان کے پیچھے دوڑے،سب نے ابلیس کے ساتھ عاشقی کی اور سب نے بدکار عورتوں کی طرح اپنی آشنائی کے لیے اُسے پکارا!! پھر اس پر قیامت یہ ہے کہ کسی کو ندامت نہیں،کسی کا سر شرمندگی سے نہیں جھکتا،کسی کے گلے سے توبہ و انابت کی آواز نہیں نکلتی،کسی کی پیشانی میں سجدہ کیلئے بیقراری نہیں،کوئی نہیں جو روٹھے ہوئے کو منانے کیلئے دوڑجائے اور کوئی نہیں جو اپنی بدحالیوں اور ہلاکتوں پر پھوٹ پھوٹ کر آہ و زاری کرے؛؛ آہ!میں کیا کروں اور کہاں جاؤں اور کس طرح تمہارے دلوں کے اندر اُتر جاؤں اور یہ کس طرح ہو کہ تمہاری روحیں پلٹ جائیں اور تمہاری غفلت مرجائے؟یہ کیا ہوگیا ہے کہ تم پاگلوں سے بھی بدتر ہوگئے ہو اور شراب کے متوالے تم سے زیادہ عقلمند ہیں۔تم کیوں اپنے آپ کو ہلاک کررہے ہو اور کیوں تمہاری عقلوں پر ایسا طاعون چھاگیا ہے کہ سب کچھ کہتے ہو،سمجھتے ہو،پر نہ تو راستبازی کی راہ تمہارے آگے کھلتی ہے اور نہ گمراہیوں کے نقش قدم کو چھوڑتے ہو!! امام الہند ابوالکلام آزاد رحمہ اللّٰہ
"سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ کوئی اس کی بادشاہی میں شریک ہے اور نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز و ناتوں ہے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی بیان کرتے رہو"ـ ============ "مجھے اللہ ہی کافی ہے،اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں،میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا رب ہے ـ" ============ "وہی( اللہ) میرا پروردگار ہے،اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں،میں اس پر بھروسا رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں"ـ ============ "ساری تعریفات اسی ذات(اللہ) کی ہیں جس نے اپنی لطیف قدرت اور بدیع صنعت سے اشیاء کو ایجاد کیا اور ان کے اختراع کو بخوبی انجام دیا، موجودات کو بغیر مثال کے پیدا کیا اور اس کی تخلیق میں کوئی شریک نہ ہوا، مختلف القسم لطیف و کثیف جواہر کے افراد میں الفت اور جمیعت پیدا کی تاکہ اس کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے اور جو کچھ اس نے پیدا کیا اس کے واسطہ سے اس کے کاری گر کے وجود کا استدلال کیا جائے" ـ ============ [https://t.me/Eqtebaskb]
"سیدنا حسین رضی الله عنه کو شہید کرنے میں جس کسی نے بھی مدد کی یا جو اس سے راضی ہوا ، وہ بدبخت ہو گیا۔" (فضل اهل البيت و حقوقهم لابن تيمية : ٤٠)
حافظ ابن رجب رحمه الله نے فرمایا : اللہ کی راہ میں دل کا سفر بدن کے سفر سے زیادہ اہم ہے. کتنے ہی مسافر ایسے ہیں جو اللہ کے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں مگر گھر کے رب سے دور ہوتے ہیں. کتنے ایسے بھی ہیں جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں مگر ان کے دل رب سے جڑے ہوئے ہیں. [ لطائف المعارف - 2/252 ]
اللہ کی خاطر خود سے ناراض رہنا ... سَیر الی اللہ کے عجیب ترین مقامات میں سے ایک ”مقت النفس في ذات الله“ ہے۔ یعنی انسان خود کو اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی کرنے پر ملامت کرتا رہے، اس پر غصہ ہو، اور اسے کٹہرے میں کھڑا رکھے۔ یہاں تک کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ”جو اللہ کی خاطر خود سے ناراض رہا، اللہ اسے اپنی ناراضی سے بچا لے گا۔“(¹) اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے -واللہ اعلم- کہ یہ وہی شخص کر سکتا ہے جسے اپنی تقصیر کا احساس ہو جائے۔ اور جس قدر بندہ معرفتِ الہی کی منازل طے کرتا ہے، اسی قدر وہ تقصیر کے احساس تلے دبتا چلا جاتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ جو علم کی پہلی وادی میں ہوتا ہے وہ خود کو اکیلا تیس مار خان سمجھتا ہے، جو دوسری وادی میں داخل ہوتا ہے وہ سمجھ جاتا ہے کہ اوروں کے پاس بھی علم ہے، اور جو تیسری وادی میں داخل ہوتا ہے اس پر یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ اُس کے پَلّے کچھ بھی نہیں۔ یہی حال عمل کا بھی ہے۔ عمل میں خود کو تہی دامن وہی خیال کر سکتا ہے جو عبودیت کے تقاضوں کی حقیقت بھانپ گیا ہو! گویا یہ شخص ہم جیسوں کی مانند بے عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ اعمال میں خوب سبقت لے جانے کے بعد بھی سمجھتا ہے کہ 'حق تو یُوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا!' يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة!! پھر وہ اپنے آپ پر چِیں بہ جبیں ہوتا ہے، غصے ہوتا ہے، اس کا بس نہیں چلتا کہ اپنے قرینِ سوء کا گلا گھونٹ دے۔ قربِ الہی کی جو مسافت وہ عمل سے نہیں طے کر پاتا، اس خود عتابی سے طے کر لیتا ہے۔ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”اللہ کی خاطر خود پر غصے ہونا صدیقین کی صفت ہے۔ اس راستے سے انسان ایک لمحے میں اللہ کے اتنا قریب ہو جاتا ہے، کہ اس سے دوگنا چوگنا عمل کر کے بھی اتنا قریب نہیں ہوتا۔“(²)۔ بعض اخبار میں آتا ہے کہ ایک اللہ والے نے ستر سال اللہ کی عبادت کی۔ ایک روز وہ نکلا تو کم مائیگی کے احساس نے اُسے آ لیا، پس وہ اللہ کے رُوبرو شکوہ کناں ہوا، اور جرمِ تقصیر کا اعتراف کرنے لگا۔ اللہ نے اس کی طرف قاصد روانہ فرمایا کہ تیری یہ خود عتابی کی مجلس مجھے تیری عمر بھر کی عبادت سے زیادہ پسند ہے! (³) سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”آپ تب تک حقیقی معنوں میں فقیہ نہیں بن سکتے جب تک لوگوں سے اللہ کی خاطر ناراض نہ ہوں، پھر اپنے نفس کو دیکھیں تو اس پر آپ کی ناراضی کہیں زیادہ ہو!“(⁴)۔ فاللهم فقهنا في الدين!! ..... ¹ (محاسبة النفس لابن أبي الدنيا : ٢٢) ² (إغاثة اللهفان : ١٤٩/١) ³ (الزهد لأبي داؤد : ١٥) ⁴ (مصنف ابن أبي شيبة : ٣٤٥٨٤) (عبدالعزيز ناصر)
" ہمارے ہاں ایک نوجوان تھا جس نے بیس سال تک مسلسل خدا کی عبادت کی، پھر اس کے پاس شیطان آیا اور کہنے لگا، ہائے! تو توبہ اور عبادت کرنے میں بہت جلدی کرگیا اور دنیوی لذتوں سے اپنا دامن تہی کرکے بیٹھ گیا، اگر تو واپس پلٹ آئے تو دوبارہ توبہ کرنا تیرے لیے کوئی مشکل نہیں،چنانچہ وہ دنیوی لذتوں کی طرف لوٹ آیا،پھر ایک دن وہ اپنے گھر میں تنہا بیٹھا تھا کہ اسے اپنے وہ دن جو خدا کی ریاضت و عبادت میں گزرے تھے یاد آئے، جن پر وہ دل زدہ سا ہوگیا،پھر اپنے آپ سے مخاطب ہوکر کہنے لگا! تو کیا خیال کرتا ہے کہ اگر میں خدا کی طرف دوبارہ لوٹ جاؤں تو کیا وہ مجھے قبول کرلے گا ؟ فوراً غیب سے ایک آواز آئی! اے بندے تونے ہماری بیس سال تک عبادت کی تو ہم نے تیرا شکریہ ادا کیا، اور تونے جب ہماری نافرمانی کی تو ہم نے تجھے مہلت دی، اور اگر تو دوبارہ ہماری طرف لوٹ آئے گا تو ہم تجھے پھر قبول کر لیں گے " صوفی ابراہیم بن شیبان قرمیسینی [شعب الإيمان للبيهقي( ٦٧٢٣ ) وسنده جيد]
"مجھے اپنے اندر سے بے چینی کو نکالنے کا کوئی راستہ نہیں ملا؛ سوائے الله عزوجل کی طرف رجوع کرنے اور آخرت کیلئے عمل کرنے کے!" امام ابنِ حزم رحمه الله (الأخلاقُ والسِّير : 88)
عامر الشعبي رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرما رہے تھے: "یہ کلیجے کو کتنی ٹھنڈک پہنچانے والی بات ہے!" ان سے پوچھا گیا: وہ کیا بات ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کہ تم ایسی چیز کے بارے میں جس کا تمہیں علم نہ ہو، یہ کہہ دو کہ 'اللہ بہتر جانتا ہے' (اللہ أعلم)۔ جامع بیان العلم لابن عبد البر (2/49)
خدائے برتر سے ایک التجا اپنے افکار و نظریات کی درستگی کے لیے بھی ہونی چاہیے، " کہ الہی! اگر میرے نظریات تیری مشیت اور دین اور تیرے رسول کی سنت کے خلاف ہیں تو انہیں میرے دل و دماغ سے یک لخت نکال باہر کر اور مجھے صحیح و سالم نظریات کا متحمل بنا اور ہر طرح سے حق بجانب کر " (اللهم أرنا الحق حقا،وارزقنا اتباعه،وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه)
"جب تم اپنی اولاد میں کوئی ایسی بات (یا خصلت) دیکھو جو تمہیں ناپسند ہو، تو اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو؛ کیونکہ یہ (تمہاری اولاد کا رویہ) دراصل تمہارے ہی کسی عمل کا نتیجہ ہے جو تمہارے سامنے لایا گیا ہے۔" امام حسن بصری رح [کتاب: آداب الحسن البصري ومناقبه]
اقتباس از مولانا عبدالوہاب صاحب " شانِ کریمی کے حوصلے دیکھنا، کیسے نامہ سیاہ کو نوازا جارہا ہے، کس ننگِ خلائق کو سرفراز کیا جا رہا ہے، شاعر نے صدیوں پیشتر اپنے تخیل کی رو سے کہا تھا: بطواف کعبہ رفتم بہ حرم رہم نہ دادند تو برون در چہ کر دی کہ درون خانہ آئی (میں طوافِ کعبہ کے لیے گیا، پر مجھے حرم میں جانے نہ دیا گیا، یہ کہا گیا کہ تو نے حرم سے باہر کیا کیا ہے کہ تو اندر آسکے؟!) وہاں تو شاعری تھی، اپنی طرف دیکھ کر دل دھڑک رہا ہے اور ہمت جواب دے رہی ہے کہ کہیں اپنے حق میں یہ شاعری ماجرائے حقیقت نہ بن جائے، مولیٰ ہر بے کس کی لاج تیرے ہاتھ میں ہے، ہر مفلس کا آسرا تیرا ہی دستِ کرم ہے، بلایا ہے تو اپنے در سے محروم نہ واپس کرنا، اپنے اس غضب سے پناہ میں رکھنا کہ اس آستانِ پاک تک پہونچ کر انوارِ صاحبِ خانہ کی نوازش سے یکسر محرومی رہے، نہ ہو کہ مکان پر حاضری کے بعد بھی لامکاں والے مکین کی تجلیات قبول پذیرائی حجاب ہی میں رہیں! بیت کے ساتھ رب البیت کے انوار و جمال کی بھی جھلک اپنے ظرف و بساط کے لائق نصیب ہو! مُردوں کو جِلانے والے مالک، مایوسوں کو خوشخبری دینے والے مولیٰ! بے کسوں کی دستگیری کرنے والے آقا! دلوں کے زخم پر مرہم رکھنے والے پروردگار! تجھ سے بھاگا ہوا تیرا نا فرمان غلام، تیرے اور تیرے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) کے آستان پاک پر سر رکھنے کو حاضر ہو رہا ہے، دعاؤں کا قبول کرنا تیرے ہی ہاتھ میں ہے، اور دعاؤں کی توفیق دینا بھی تیرے ہی ہاتھ میں: (1) اے خدائے پاک بے انباز ویار دست گیر وجرم مارا در گزار (2) یاد دہ مارا سخنہائے رقیق کہ ترا رحم آورداں اے رفیق (3) ہم دعا از تو اجابت ہم ز تو ایمنی از تو مہابت ہم ز تو (4) گر خطا گفتیم اصلاحش تو کن مصلحی تو از تو اصلاح سخن ( (1) اے خدائے پاک جو لا شریک، اور مددگار سے مستغنی ہے، دستگیری فرما اور ہماری خطا سے در گزر فرما (2) ہمیں رقت آمیز باتیں سکھادے، اے مہربان! جو تیرے رحم کا سبب بنے (3) دعا (کی توفیق) بھی تیری جانب سے ہے اور قبولیت بھی، اطمینان تیری طرف سے ہے، ڈر بھی تجھی سے ہے (4) اگر ہم غلط بات کہیں تو اس کی اصلاح کردے، اے کہ تو کلام کا بادشاہ ہے، تو ہی اصلاح کرنے والا ہے)۔ (سفرِ حجاز تصنیف: مفسرِ قرآن، مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ تعالیٰ )
”گناہوں کو خیر باد کہنے میں سنجیدہ ہو جاؤ! ... کب تک اسی بات پر تکیہ کیے رکھو گے کہ میرا نفس مجھے ملامت تو کرتا ہے نا اور یہ بھی خیر ہے!!“۔