اہل دل کی دِل آویز باتیں📔📚
Статистикаاے مردہ دل!جب بڑھاپے کی لغزش انسان کو خدا سے دور کردیتی ہے تو کہا جاتا ہے تونے شباب کو غفلت میں ضائع کیا اور بڑھاپے میں اعمال بد پر روتا ہے اگر تجھے خبر ہوتی جو تیرے لئے تیار ہوچکا ہے تو تُو طویل طویل راتوں میں رویا کرتاـ
- Последний пост
- 13 авг.
- Последнее чтение
- 15 авг.
- Постов за неделю
- 1
- Всего постов
- 21
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- Категория
- Новости и СМИ
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- 217
- 1/48двое суток
- 248
- 1/72трое суток
- 268
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
" کوئی صبح، کوئی شام ایسی نہیں ہوتی جس میں ندا لگانے والا ندا نہیں لگاتا کہ: اے لوگوں! دنیا سے کوچ کا وقت آیا جاتاہے، دنیا سے کوچ کا وقت آیا جاتا ہے " حذیفہ رضی اللّٰہ عنہ [العاقبة في ذكر الموت ولآخرة]
" ہاں! میں نے اس زمین میں کو خود کو تنہا رہنے پر ترجیح دی ہے، میں تنہا جیتا ہوں، تنہا کھاتا ہوں، تنہا سوچتا ہوں، تنہا خوش ہوتا ہوں، اور تنہا ہی درد اٹھاتا ہوں، اگر اس تنہائی میں کوئی لذت و نشاط ہے، تو یہ دنیا کے فنون میں سے ایک فن ہے، اور اگر اسمیں کوئی حسرت و دکھ ہے، تو یہ بھی دنیا کے غموں میں سے ایک غم ہے، " جمهرة مقالات محمود شاكر (٨٤٢/٢).
" جس نے بنیادی اصولوں کو ضائع کردیا، وہ منزل تک پہنچنے سے محروم رہے گا، خواہ وہ بڑے بڑے القاب کا حامل ہو اور بے شمار لوگوں کے مجمعے اسکے تالیاں بجاتے ہوں "
کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے ====== ’’أللّٰهم صلّ علٰى محمد وعلٰى أٰل محمد كما صلیت علٰى إبراهیم وعلٰى أٰل إبراهیم إنك حمید مجید أللّٰهم بارك علٰى محمد و على أٰل محمد كما باركت علٰى إبراهیم وعلٰى أٰل إبراهیم إنك حمید مجید.‘‘
سونے والے کمرے میں نہ گھڑی ہوتی ہے اور نہ موبائل۔ رات جب نیند آنے لگتی ہے تو موبائل کو اسٹڈی ٹیبل پر چھوڑ آتا ہوں اور واپس اپنے کمرے میں آ کر بستر پر دھم سے گر جاتا ہوں۔ اس کمرے میں کتابوں کی کوئی الماری بھی نہیں ہے۔ بس سرہانے وہی کتاب رکھ لیتا ہوں جو اگلی صبح پڑھنی ہوتی ہے۔آج کل لندن کی راتیں چھوٹی ہوتی ہیں۔ کبھی کھڑکی کے باہر خاموش سڑکیں نظر آتی ہیں، کبھی ہلکی بارش کی آواز دل کو مزید بھی خاموش کر دیتی ہے۔ اس شہر میں لاکھوں لوگ رہتے ہیں، مگر کبھی کبھی انسان خود کو ایک چھوٹے سے کمرے میں پوری دنیا سے الگ محسوس کرتا ہے۔ آنکھ کھلتی ہے تو اندازہ لگاتا ہوں کہ شاید ساڑھے تین یا پونے چار بج رہے ہوں گے۔ چند لمحے بستر پر خاموش لیٹا رہتا ہوں، پھر اٹھ کر وضو کرتا ہوں اور اسی نیت سے پڑھنے بیٹھ جاتا ہوں کہ پتہ نہیں پورے دن میں دوبارہ موقع ملے گا یا نہیں۔ اس معاملے میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ لندن جیسے مصروف اور تیز رفتار شہر میں رہتے ہوئے بھی میری صبح کی شروعات بھاگ دوڑ سے نہیں ہوتی۔ باقی دن چاہے جیسا بھی گزرے، چاہے کتنی ہی مصروفیات کیوں نہ ہوں، لیکن صبح کے یہ دو ڈھائی گھنٹے میرے اپنے ہوتے ہیں۔ یہی چند گھنٹے مجھے یہ احساس دلاتے ہیں کہ زندگی مکمل طور پر حالات کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اس دن میں میرا بھی کچھ حصہ ہے، جس پر میرا حق ہے۔ آپ مجھ سے کوئی بھی کام کروا لیں۔ روزمرہ کی ذمہ داریاں اٹھوا لیں، دنیا کی دوڑ میں شامل کر دیں، کاغذوں اور اسکرینوں کے درمیان بٹھا دیں، لیکن صبح کا یہ وقت اگر میرے پاس ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے میں نے دن کا ایک چھوٹا سا حصہ اپنے لیے بچا لیا ہے۔ جب کمرے سے باہر نکلتا ہوں تو پہلی نظر گھڑی پر جاتی ہے۔ ساڑھے آٹھ یا پونے نو بج چکے ہوتے ہیں۔ پھر موبائل کی اسکرین آن کرتا ہوں… کئی پیغامات، کئی مسڈ کالز، کئی کاموں کی یاد دہانیاں۔ موبائل دن میں داخل ہو چکا ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ دن بھی میرے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ کبھی کوئی دوست آ گیا تو چائے پی لی، لیکن اپنے دیس کی دودھ والی چائے یہاں بنتی ہی نہیں۔ کوشش کئی بار کی، چائے پتی بدلی، مگر وہ ذائقہ نہیں آ سکا۔ پھر رات ہو جاتی ہے۔ دن بھر کی تھکن، ذمہ داریاں، پیغامات اور لوگوں کی توقعات… سب کچھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ رات گیارہ بجے تک پھر وہ وقت نہیں رہتا جو صرف میرا ہو۔ دیر گئے رات تک خبریں لکھنا، ترجمہ کرنا.... کب وقت گزر جاتا ہے، پتہ ہی نہیں چلتا۔ سونے سے پہلے ذہن میں کئی طرح کے خیال آتے ہیں۔ کبھی مستقبل کی فکر، کبھی ماضی کی یادیں، کبھی یہ سوال کہ زندگی جس راستے پر چل رہی ہے، کیا واقعی یہی راستہ ہے؟ کبھی کبھی دل تھک بھی جاتا ہے۔ لیکن ایسے وقت میں صبح کے وہ دو ڈھائی گھنٹے اچانک یاد آ جاتے ہیں اور پھر دل خود سے کہتا ہے: ”یہ حصہ تو تمہارا ہے۔ تم نے ہی تو فیصلہ کیا تھا نا… کہ زندگی میں پیسے تھوڑے کم ہوں تو کوئی بات نہیں، لیکن زندگی کو آہستہ آہستہ، دھیمی آنچ پر پکنا چاہیے۔ تم نے ہی تو کہا تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں، پڑھنا نہیں چھوڑنا ہے۔“پھر دل کو سکون ملتا ہے۔ کیونکہ زندگی تو وہی ہے جو انسان نے خود چنی ہوتی ہے۔ راستے آسان نہیں ہوتے، تنہائیاں بھی آتی ہیں، کبھی کبھی اپنے فیصلے بھی بھاری لگنے لگتے ہیں، لیکن پھر یاد آتا ہے کہ اسی راستے کے لیے تو کبھی دعا کی تھی۔ تو پھر شکایت کیسی؟
без подписи
اگر یہ کاغذ کا ٹکڑا ہوتا تو میں اسے پھاڑ دیتا ، اگر یہ بوتل ہوتی تو میں اسے توڑ دیتا ، اگر یہ دیوار ہوتی تو میں اسے گرا دیتا لیکن یہ میرا دل ہے! (محمود درویش)
چونکہ تم چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی دل پر لے لیتے ہو، اس لیے اے دوست! تم بہت جلد تھک جاؤ گے۔ یہ دنیا ان لوگوں کے لیے موزوں نہیں جو حد سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ ــ غادہ السمان، شامی ادیبہ ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی
آدمی بس دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ پہلی قسم ؛ مجھے اس نے بہت گہرا زخم دیا۔ کیوں؟ آخر کیوں؟ کس لیے؟ کہاں ہو تم؟ میں اب بھی تمہارا منتظر ہوں۔ چھ برس بیت گئے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ تم نے اپنے آپ پر کیا گزاری ہوگی۔ میں نے چاہا تو بہت کہ تمہیں بھلا دوں، مگر نہ بھلا سکا۔ اب بس یہی دعا ہے کہ جہاں بھی ہو، خوش رہو۔ تم اب بھی میرے دل کے افق پر چمکتا ہوا سب سے حسین چاند ہو۔ میں ہمیشہ تمہاری راہ تکوں گا، انہی آنکھوں کے ساتھ جو آج بھی تمہاری منتظر ہیں۔ دوسری قسم ؛ زندگی بہرحال چلتی رہتی ہے
*🎯 غم کے ساتھ جینا سیکھیئے !* زندگی میں غم کا آنا کوئی عیب نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی حقیقت بھی ہے اور بعض اوقات یہی غم ترقی اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جاتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ، وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ» (الترمذی: 2559) یہ دنیا مَکارہ اور تکالیف کی آماجگاہ ہے، اسی لئے ہم یہاں مختلف حالات کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، بس ان حالات میں "شکرِ ربانی" کا اہتمام ہو تو غموں کے ساتھ جینا آسان ہوجاتا ہے۔ بعض لوگ دنیاوی امور اور معاشرتی مسائل کے غم پر یہ کہتے ہیں کہ "ہم ان غموں کے لئے نہیں آئے۔" .... یہ بات علی الاطلاق درست نہیں ہے، بلاشبہ ہم غم کے لئے نہیں آئے، مگر جنت بھی تو سستی نہیں ہے، کچھ نہ کچھ سہنا پڑتا ہے، چنانچہ اگر ان غموں کو صبر، رضا اور حسنِ عمل کے ساتھ برداشت کیا جائے تو یہی غم دخولِ جنت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ البتہ غم کو اپنی مستقل کیفیت بنالینا درست نہیں ہے، غم کے ساتھ جینا، اس سے سبق لینا اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہنا ہی اہلِ کمال کا وصف ہے۔ یہ دعا پابندی کے ساتھ پڑھتے رہیں، ان شاء اللہ غم میں بھی کمی محسوس ہوگی: *اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ وَسَاوِسَ قَلْبِيْ خَشْيَتَكَ وَذِكْرَكَ، وَاجْعَلْ هِمَّتِيْ وَهَوَايَ فِيْمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰى* یہ دعا وساوس سے نجات کے لئے ہے، تاہم مشاہدہ یہ بھی ہے کہ اس کے اہتمام سے غم میں بھی کمی آتی ہے، حضرت مولانا محمد احسان الحق صاحب دامت برکاتہم بھی اس کی تلقین فرماتے ہیں۔ البتہ ہر وقت اظہارِ غم مناسب نہیں ہے، تاہم اگر کسی موقع پر دوسروں کی اصلاح و تذکیر یا اپنی طبیعت کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے غم کا اظہار کیا جائے تو اس میں حرج نہیں۔ امت کا غم اور اس کی فکر بھی نہایت اہم ہے، بلکہ ایمان کا تقاضہ ہے، تاہم اس کے ساتھ گھر، خاندان، والدین، اولاد، سسرال، اعزہ و اقارب اور دیگر افراد حقوق کو بھی پیشِ نظر رکھنا حقیقی "عبدیت" ہے، کسی کی حق تلفی کرکے امت کے غم میں گھلنے کا ثبوت سیرتِ نبوی ﷺ سے نہیں ملتا، جہدِ دین کا مفہوم بہت وسیع ہے، اور اس کا خلاصہ "ادائے حقوق" ہے، جو حق جس کا ہے، اسے اس کے مقام پر ادا کرنا ہی حقیقی دینداری ہے۔ ✍️ مفتی سفیان بلند مؤسس معهد الإمام سفیان الثوری
без подписи
без подписи
ہمارے کپکپاتے دِلوں کے اندر امید کا بیج بونے والوں پر سلامتی ہو ۔
بعض اوقات گھبراہٹ اس قدر ہیبت ناک ہوتی ہے کہ ہمارے دل دلاسوں کی تھپکیوں تلے بھی ہانپتے رہتے ہیں '۔
اہل دل کی دِل آویز باتیں📔📚 pinned «دوسروں کی عمریں کیوں برباد کی؟! ”حدیث شریف میں ہے کہ روزِ قیامت انسان قدم نہ ہلا سکے گا جب تک وہ یہ جواب نہ دے لے کہ عمر کہاں فنا کی؟! تم سے صرف تمہاری عمر کا ہی سوال نہیں ہو گا، بلکہ ان تمام لوگوں کی عمروں کا بھی جو تم نے برباد کی! ہر اس "مجھے تم سے محبت…»
دوسروں کی عمریں کیوں برباد کی؟! ”حدیث شریف میں ہے کہ روزِ قیامت انسان قدم نہ ہلا سکے گا جب تک وہ یہ جواب نہ دے لے کہ عمر کہاں فنا کی؟! تم سے صرف تمہاری عمر کا ہی سوال نہیں ہو گا، بلکہ ان تمام لوگوں کی عمروں کا بھی جو تم نے برباد کی! ہر اس "مجھے تم سے محبت ہے" کا جو تم نے دل سے نہیں فقط زبان سے کہا۔ ہر اس راستے کا جس پر تم کسی کے ساتھ چلے تو سہی مگر آخر تک جانے کیلیے سنجیدہ نہ تھے۔ ہر اس ہاتھ کا جو تم نے چھوڑ دینے کے ارادے سے تھاما۔ لوگوں کے ان دنوں کا جو تمہارے دامِ فریب میں مبتلا ہونے کا غم مناتے گزر گئے۔ ان راتوں کا جو تمہاری بے وفائی پر اشک بہاتے گزاری گئیں۔ اس تمام عرصے کا جو بے رنگ رہ گیا کہ تمہارا مقصد بس وقت گزاری تھا۔ تمام جھوٹے وعدوں کا، اور ہر اس شمع کا جو تم نے کسی کے دل میں جلائی اور جلا کر بجھا دی۔ تم ان باتوں کو معمولی سمجھتے ہو، مگر اللہ کے ہاں یہ بہت بڑی ہیں! بچھڑ جانا تو صرف عالی نفوس پر ہی گراں ہوتا ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اگر ایک گھوڑے اور ایک گدھے کو اکٹھے باندھ دیا جائے، پھر انہیں الگ کیا جائے تو گدھا ٹس سے مس نہیں ہوتا، مگر گھوڑا ہنہناتا رہتا ہے! پس تعجب کیسا جو کسی نے تمہاری رفاقتوں کا گلا گھونٹ دیا، یا وصال کا بدلہ ہجر سے دیا۔ لوگوں کی یہی سرشت ہوتی ہے، کچھ گدھے تو کچھ گھوڑے۔ میں نے تمہیں بد دعا دینے کیلیے رات کے پچھلے پہر کا انتظار کیا۔ لیکن جب سجدے میں گیا تو دل بازی لے گیا اور زبان پر دعا جاری ہو گئی۔ میں نے دعا کی کہ تم خوش و خرم رہو اور بحفاظت میرے دل سے نکل جاؤ! دل سے نکلنے کی دعا تو قبول ہو چکی، کہ اب اس میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں۔ رہی خوش و خرم رہنے کی دعا تو اس کی کہانی تمہیں پتہ ہو، میرے پاس اسے سننے کا وقت نہیں، کیونکہ مجھے اجنبی لوگوں کی کہانیاں سننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔“ (الشيخ الحبيب محمد سعيد رسلان حفظه الله)
لوگوں کو اس بات کا الزام نہ دو کہ انہوں نے تمہیں مایوس کیا، بلکہ خود کو اس بات کا ذمہ دار سمجھو کہ تم نے ان سے حد سے زیادہ توقعات وابستہ کر لیں۔
آہ!! کاش دُنیا ہلکی ہوتی.
" اگر تم کبھی روشنیوں میں آجاؤ، تو اندھیرے میں رہنے والوں کا ساتھ کبھی نہ چھوڑنا "۔
اگر میں نے کبھی تمہیں گناہوں سے بچاؤ کہ نسخے بتائے تو ایسا نہیں تھا کہ میرا نفس اُن آلائشوں سے پاک تھا ، اور جب میں نے تمہیں نیکی کی طرف رُغبت دلائی تو ایسا نہیں تھا کہ میرا نفس بھی اٗس کی طرف مائل ہے ، گناہوں نے مجھے جیسے ذلیل کیا ہے شاید ہی کسی کو کیا ہو ، بسا اوقات بندہ تمام تر علاج جاننے کے باوجود بھی تو برتنے سے عاجز آجاتا ہے نا ۔ تم میرے در پر آئے تو مجھے مناسب نہ لگا کہ میں تمہیں حل سے محروم کروں تم بجالائے اور آگے بڑھ گئے۔۔۔۔ شاید رب العرش العظیم کی طرف سے مجھ پر بھی کچھ عنایت ہو ، میں بھی تو سراسر اس کے لطف و کرم کی طلب میں ہوں ، اِس راہ عزیمت میں کئیں بار مجھے ٹھوکریں لگی تو کسی نے میرا ہاتھ نہ تھاما ، تو میں نے بہتر سمجھا کہ تمہیں بے سہارا نہ چھوڑوں، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ جب بندے کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو اُسے کیسا لگتا ہے ، میرا نفس بھی ویسا ہی ہے یا پھر اُس سے زیادہ شریر ہے جتنا ایک عامی کا ہوتا ہے۔ خدا کا ڈالا ہوا پردہ تمہیں دھوکے میں نے ڈالے ، ہر انسان ہی خطاکار ہے ، پس تم ناصح کے لیے دست دعا دراز کرو کہ رب العالمین اِس کی آزمائش گناہوں سے نہ کرے، گناہ دل کو مردہ کردیتے ہیں اور انسان کی ہمتوں کو توڑ دیتے ہیں ، اور انسان کو بُرے انجام کے قریب کردیتے ہیں ۔ اُس راستے سے بہتر کونسا راستہ ہے جو اللہ کی طرف لے جائے اور اُس شخص سے بہتر کونسا شخص ہے جو اللہ کی یاد دلائے اگر تمہیں ایسے اقربا میسر آجائیں تو اُنہیں ہاتھ سے مت جانے دو۔ ہر وہ شخص جو خدا کا رستہ دِکھائے اُس کی یاد دِلائے اُس کی صحبت اختیار کرو۔ کیونکہ کتنے ہی لوگ ایسی صحبتوں سے محروم ہیں۔ علینہ کوثر