تعلیم الاسلام Islamic Education
Статистикаسلف صالحین کے اقوال ، تحریریں اور بیانات https://whatsapp.com/channel/0029VbCEfA96xCSGb61imr0y
- Последний пост
- 14 авг.
- Последнее чтение
- 15 авг.
- Постов за неделю
- 3
- Всего постов
- 22
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- Категория
- Книги (по похожим)
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- 21
- 1/48двое суток
- 24
- 1/72трое суток
- 25
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "غیرت مند اور قوی (مضبوط) نفوس اگر نیک ہوں تو نیکی اور خیر کے میدان میں پیش پیش رہتے ہیں، اور اگر برے ہوں تو شر اور برائی میں سیادت (سربراہی) کرتے ہیں۔" [طریق الهجرتین: (۱/ ۲۴۳)]
بندہ اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں پر جتنا زیادہ غور و فکر کرے گا، وہ اتنا ہی زیادہ یہ دیکھے گا کہ اس کے رب نے اسے بہت زیادہ خیر (اور بھلائی) عطا کر رکھی ہے۔ علامہ عبد الرحمن السعدی رحمہ اللہ الوسائل المفيدة (ص 22)
"جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اس سے ڈرا دیتا ہے (یعنی ہر چیز پر اس کا رعب ڈال دیتا ہے)، اور جو شخص اللہ سے نہیں ڈرتا، اللہ تعالیٰ اسے ہر چیز سے ڈرا دیتا ہے۔ بكر بن عبد الله المزنی رحمہ اللہ الزهد للإمام أحمد (ص 178)
مالک بن دینار رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جس نے اپنے نفس سے کہا: 'کیا تو فلاں کام (برائی/گناہ) کرنے والا نہیں ہے؟ کیا تو فلاں کام کرنے والا نہیں ہے؟ پھر اس نے اپنے نفس کو ملامت کی، پھر اسے لگام دی (قابو میں رکھا)، پھر اسے اللہ تعالیٰ کی کتاب (قرآن مجید) کا پابند بنا دیا، تو وہ (کتابِ الٰہی) اس کے لیے رہبر و رہنما بن گئی۔ ( اعتلال القوب ٢٨ )
مسلمان جھوٹے خداؤں کے نرغے میں مصنف : سلمان آصف صدیقی https://erdconline.org/downloads/
مسلمان جھوٹے خداؤں کے نرغے میں مصنف : سلمان آصف صدیقی https://erdconline.org/downloads/
ذرا دیکھ تو سہی کہ تمہاری روٹی کہاں سے آئی ہے! _ رسائل من عمر بن الخطاب
حسن کہتے ہیں: ایک روز میں حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کے ہم راہ تھا۔ چلتے چلتے ایک سبیل پر پہنچے، جہاں لوگ پانی پی رہے تھے۔ آپ بھی پانی پینے کے لیے آگے بڑھے۔ لوگوں نے انھیں پہچانا نہیں، سو ہجوم میں دھکے دیے اور ایک دوسرے سے پرے ہٹاتے رہے۔ جب وہاں سے نکلے تو مجھ سے فرمایا: زندگی تو بس یہی ہے! یعنی وہ زندگی کہ آدمی نہ پہچانا جائے، نہ اس کے لیے تعظیم کے دروازے کھلیں، نہ اس کی خاطر لوگوں کی صفیں ہٹیں! اور سفیان ثوریؒ فرمایا کرتے تھے: میری آرزو یہ ہے کہ میں لوگوں کو پہچانوں، مگر لوگ مجھے نہ پہچانیں۔ (موسوعة ابن أبي الدنيا، ٥٢٩/٦)
محبت قربانی کا نام ہے، ملکیت کا نہیں! ____ رسائل من التابعين
اللہ تعالیٰ کے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض (ناپسندیدہ) کون؟ علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض وہ بیکار بندہ ہے، جو نہ دنیا کے کسی کام (محنت) میں ہے اور نہ ہی آخرت کی سعی (کوشش) میں۔" [أسرار الصلاة: 29]
دل ایسے سمندر ہیں جن کا کوئی کنارہ نہیں! ____ رسائل من التابعين
الإمام ابن القيّم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ! عارف باللہ کی زندگی کا اصل مقصد نیکیوں اور اطاعت میں اضافہ کرنا ہوتا ہے، اسی لیے وہ لمبی عمر کو غنیمت سمجھتا ہے۔ لیکن اگر زمانہ ایسا آ جائے جہاں جینا دین کو ضائع کرنے کا باعث بنے یا گناہوں کی دلدل کا خطرہ ہو، تو اس وقت موت اس کے لیے سلامتی کا پروانہ بن جاتی ہے۔" مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين (فصل: منزلة الإنابة، جلد 2، صفحہ 201)
ناموری کی قیمت بڑی بھاری ہوتی ہے! ____رسائل من التابعين
صالحین کے ہاں موت کی تمنا کے دو بڑے اسباب رہے ہیں: ایک شوقِ الٰہی اور دوسرا فتنۂ دین کا خوف۔ جب مومن صادق کا دل دنیا کے زرق برق سے خالی ہو جاتا ہے اور اسے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا حقیقی وطن آخرت ہے، تو اس کے نزدیک موت سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں ہوتا۔ الحافظ ابن رجب الحنبلي رحمہ اللہ (مجلس في ذكر الموت / وظائف شهر شوال، صفحہ 280)
جہاں تمہارا دل لگ جائے، وہیں ڈیرہ ڈال لو! رسائل من التابعين ▪︎
خلدی کہتے ہیں: میں نے جنید بغدادی کو خواب میں دیکھا اور پوچھا: *اللّٰہ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟* کہنے لگے: *وہ سارے اشارات دھرے کے دھرے رہ گئے، وہ عبارتیں پردۂ غیاب میں چلی گئیں، وہ علوم فنا ہو گئے اور وہ رسمیں مٹ کر رہ گئیں۔ آخر کار ہمارے کام آئیں تو بس وہ چند رکعتیں جو ہم رات کے پچھلے پہر سحر کی خاموشیوں میں اپنے رب کے حضور ادا کر لیا کرتے تھے!* (طبقات الحنابلة لابن أبي يعلى، 1 /129)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "زمین پر قائم کی گئی ایک شرعی حد (زمین کے لیے) چالیس دن کی بارش سے زیادہ بہتر ہے۔ " (صحیح ابن حبان)
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ غلطی کرنے والا وہ شخص ہوتا ہے جو دوسروں کے غلطیوں کا سب سے زیادہ ذکر کرتا رہتا ہے۔ حوالہ: المجالس وجواہر العلم (6/86)
تم اپنی اولاد پر تمام جہان کے خزانے لٹا دو تو بھی وہ قیامت کے روز تم سے دور بھاگ رہے ہوں گے لیکن اگر ان کو قرآن پڑھا دو تو وہ تمہیں ڈھونڈتے پھریں گے، تمہیں تاجِ وقار پہنانے کو شیخ حامد کمال الدین
میں اس تصور کو ساری گمراہیوں کی جڑ سمجھتا ہوں کہ صحابۂ کرام ؓ، تابعینِ عظام ؒ، ائمۂ ہدیٰ ؒ اور اکابرِ امت ؒ نے فلاں مسئلہ صحیح نہیں سمجھا، اور آج کے کچھ زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کی رائے ان اکابر کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہے۔ نعوذ باللہ۔ حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رح