tgindex
ظہور امام مہدی

ظہور امام مہدی

Статистика

علامات قیامت، ظہور امام مہدی، خروج دجال اور نزول سیدنا عیسی علیہ السلام کے متعلق احادیث و روایات اور موجودہ حالات پر ان کی تطبیق کے لئے چینل جوائن کیجئے

Последний пост
12 авг.
Последнее чтение
15 авг.
Постов за неделю
2
Всего постов
21
Тип
открытый
Язык
ur
Категория
Книги (по похожим)
В каталоге с
13 авг.
Подписчики
490
+1 за 1 дн.
Сутки
0
0,00%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
155
21 постов
Вовлечённость
31,6%
к подписчикам
Постов в день
0,3
всего 21
Упоминаний
0
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
34
1/48двое суток
38
1/72трое суток
42

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • امت منہج نبوت کے مطابق قائم خلافت راشدہ کی دہلیز پر ہے۔ ​ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ ہم "مہدی آخر الزمان" کے زمانے میں ہیں، یہی ان کا زمانہ ہے، ان کا وقت قریب ہی ہے۔ ​ہم قرآن و احادیث صحیحہ سے ثابت شدہ ان کے تمام زمانی و مکانی احوال اور ان جسمانی و نسبی خصوصیات کی بنا پر پوری دنیا میں انہیں ڈھونڈیں گے۔ ​اگر ہم نے انہیں پا لیا تو حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان انہیں لاکھڑا کریں گے ، اور اس امت کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے ان کی بیعت کریں گے، یوں ہم امت کی مدد گار کی حیثیت سے اس بیعت کے لئے سبقت کرنے والے ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ایمان میں سبقت کرنے والے تھے۔ ​تحریک میں ایسے علماء ہیں جو علوم آخر الزمان میں کتاب الفتن کے ماہرین ہیں، انہیں تفسیر، عقیدہ، حدیث اور فقہ سمیت تمام دینی علوم میں کمال مہارت حاصل ہے۔ یہ علماء امت کو در پیش حالات میں فتنوں اور گمراہیوں سے بچانے اور نجات کے راستے کی رہنمائی کرنے میں اختصاص رکھتے ہیں۔ ​یہ علماء مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، تاکہ دعوت کا عمل آسان سے آسان تر ہو، اور ہر ملک کے مسلمانوں کو انہی کی زبان میں بصیرت کے ساتھ رہنمائی کرنے والے میسر ہوں، ​الحمد للہ ہمارا کام منظم ہے اور اس سے ہمارا مقصود دنیا نہیں ہے بلکہ خالص اللہ کی رضا ہے۔ ​ہمارا یہ نظریہ ہے کہ عصر حاضر میں پیش آنے والے حالات و حوادث الامام المہدی محمد بن عبد اللہ علیہ السلام کے ظہور پر دلالت کرتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ آنے والی خلافت یعنی خلافت علی منہاج النبوت صرف حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کے ہاتھوں ہی قائم ہوگی۔ ​9. اس لئے ہم اس نبوی روڈ میپ کے مطابق چلتے ہیں جو حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت امام مہدی ایک جماعت کے ساتھ ہی منظر عام پر آئیں گے جو ان کے ظہور کا راستہ ہموار کریں گے، ​اور یہ کہ آپ کی بیعت بین الرکن والمقام ہی ہوگی، اور اس جماعت کا قیام بھی مختلف علما کی بیعت کی بنیاد پر ہے۔ ​خلافت کے قیام کے بارے میں آپ کا معاملہ آپ کے نانا رسول اللہ ﷺ سے مختلف نہیں ہوگا۔

  • 1. حرکۃ انصار المہدی کا تعارف، ضرورت و اہمیت ​قال حذيفة: قال ﷺ : تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيْكُم مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهِا إِذَا شَاءَ أَنْ يَّرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلٰى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُوْنَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُوْنَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلٰى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ، ثُمَّ سَكَتَ. (مسند أحمد) ​2. حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ : نبوت تم میں باقی رہے گی جب تک اللہ چاہے، پھر جب اللہ چاہے گا اسے اٹھالے گا، پھر نبوت کے منہج پر خلافت قائم ہوگی اور وہ باقی رہے گی جب تک اللہ چاہے۔ پھر جب اللہ چاہے گا تو اسے اٹھالے گا، اس کے بعد کاٹ کھانے والی بادشاہت ہوگی، جتنا اللہ چاہے گا، پھر جب وہ چاہے گا تو اسے اٹھالے گا۔ اس کے بعد جبر کی بادشاہت ہوگی جتنا اللہ چاہے گا، پھر اللہ اسے بھی اٹھالے گا، اس کے بعد خلافت ہوگی جو منہج نبوت کے مطابق ہوگی۔ پھر آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔ ​اس حدیث میں اجمال کے ساتھ امت کے پانچ سیاسی ادوار کا ذکر ہے، ​3. سب سے پہلے نبوت تھی، جو ۲۳ سال تک رہی، اس کے بعد خلافت راشدہ قائم ہوئی جو دوسری حدیث کے مطابق ۳۰ سال تک قائم رہی۔ ​4. خلافت کے بعد بادشاہت شروع ہوئی، جس کو کاٹ کھانے والی حکومت کہا گیا، یہ بادشاہت بنوامیہ، بنوعباس اور بنوعثمان کے خاندانوں میں چلتی رہی یہاں تک کہ اس کا خاتمہ ۱۹۲۴ میں ہوا۔ ​5. اس کے بعد جبر و ظلم کی بنیاد پر نیا نظام قائم ہوا، جو ابھی تک چل رہا ہے ، اور جس کا خاتمہ ان شاء اللہ قریب ہے، جس کے بعد ایسی خلافت کے قیام کی نوید سنائی گئی ہے جو نبوت کے طرز پر قائم ہوگی۔اور جو حضرت امام مہدی کے ہاتھوں قائم ہوگی۔ ​حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور اچانک نہیں ہوگا، آپ سے پہلے کئی شخصیات ہوں گی جو آپ کی تمکین کا راستہ ہموار کریں گی، ​آپ کے انصار بھی ہوں گے جن کے ذریعے اللہ آپ کو ظاہر کرے گا۔ ​6. احادیث وروایات کا ایک عظیم مجموعہ آپ کے ظہور سے پہلے موجودہ زمانے میں پیش آنے والے حالات کے ساتھ متعلق ہے، . ​ان میں وہ روایات بھی ہیں جن میں آپ کا نام و نسب، مقام و مولد، زمانی و مکانی صفات اور آپ کے انصار کا بھی ذکر ہے۔ ​7. ان سب روایات کو سامنے رکھتے ہوئے عرب کے بعض مستند علمانے یمن کے شہر عدن میں حركة أنصار المهدي کے نام سے ایک تحریک کے قیام کا اعلان کیا، یہ تحریک 2013 ء/۱۴۳۵ھ میں یمن میں قائم ہوئی۔ ​اس تحریک کا مقصد حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کی مدد و نصرت اور بیعت و ظہور کے لئے راستہ ہموار کرنا اور تیاری کرنا ہے۔ ​حضرت امام مہدی کے ظاہر ہونے اور بیعت سے پہلے کی بہت ساری نشانیاں وہ ہیں جو پوری ہو چکی ہیں، جبکہ کچھ کا انتظار ہے، ​ان سب کا احادیث و روایات میں تذکرہ موجود ہے۔ مثلا اسرائیل کا قیام، ​افغانستان میں کالے جھنڈوں کا ظہور ، حکام کی جانب سے مسلمانوں پر شدید ظلم و ستم، زمین کا ظلم و جبر سے بھر جانا، مسلمانوں کا آپس میں اختلاف و نفرت، فتنوں اور اموات کی کثرت، راستوں اور تجارت کی بندش، نفسِ ذکیہ کی شہادت، ایک جابر حاکم کا ظہور جسے حدیث میں سفیانی کہا گیا ہے، امام مہدی کا نام لے کر آسمانی آوازیں، بیت المقدس کی آبادی اور مدینہ کی ویرانی، شام میں بچوں کے کھیل سے شروع ہونے والا فتنہ، اہل یمن کی جلاوطنی، رومیوں کی جانب سے شام و عراق کا محاصرہ، رومیوں کا اہلِ اسلام پر حملہ آور ہونا، کالے جھنڈوں کا آپس میں اختلاف، عراق میں ایک شخصیت کی پھانسی، آسمان میں سورج کے ساتھ ایک نشانی کا ظہور ، بیت اللہ کے پاس ایک حاکم کی موت پر تین شخصیات میں تخت اقتدار کے حصول کی لڑائی، بیت اللہ میں پناہ حاصل کرنے والے ایک شخص کا قتل، مصر میں قحط سالی، زلزلوں کی کثرت وغیرہ ہیں۔ ​8. یہ تحریک بحث و تحقیق اور تلاش و جستو کی بنیاد پر قائم ہے، کہ کتاب اللہ وسنت رسول ﷺ سمیت تمام شرعی دلائل ، عالمی حالات، عصر حاضر میں پیش آنے والے واقعات و حوادث، عالمی تبدیلیاں، موسمی تغیرات، نیز جغرافیائی حالات سب اس پر شاہد ہیں کہ ہم آخری زمانے میں جی رہے ہیں۔ ​یہ حالات امتِ مسلمہ کے لئے ذلت و خواری کے انتہا درجے کے ہیں۔ ​اس سے پہلے کہ انسانیت کا دنیا سے خاتمہ ہو اللہ اپنے دین کو ضرور غالب کرے گا۔

  • معلوم ہوا کہ بات کثرتِ علم اور کثرتِ مال یا بلند درجات کی نہیں ہے بلکہ سچ اور تقویٰ معتبر ہے لہذا اللہ سے ڈرتے رہیے وہ علم خود عطا فرما دیں گے۔ میرے دینی دوستو اور بھائیو! ہمیں اللہ سے یہ سوال کرنا ہے کہ ہم حق کہنے والے اور حق پر عمل کرنے والے بن جائیں اور اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی اور صفات ِعالیہ کے وسیلے سے یہ دعا کرنی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک دور میں امام مہدی علیہ الرضوان اور ان کے ساتھیوں میں شامل فرمائیں، اور ہمیں بھی ۳۱۳ بیعت کرنے والوں میں شامل فرمائیں اور ظاہری و باطنی فتنوں سے ہمیں محفوظ فرمائیں۔

  • لیکن یاد رکھیے یہ سب کچھ ان لوگوں کے ہاتھ پر ہو گا جن کی قرآن میں یہ صفت بیان کی گئی ہے: رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ یہ اللہ تعالیٰ کے عہدو پیمان ہیں، پھر حدیث میں بیان ہوا کہ اس امت کے اول وآخر حصہ میں خیر ہے اور اس کے درمیان تو ٹیڑھا کبڑی کمر ہے جیسے سمندر کے بیچوں بیچ بھنور۔ یعنی امت محمدیہ کے اولین لوگ سب سے افضل ہیں اور اسی طرح اس کے آخری لوگ بھی افضل ہیں، اولین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اور آخری لوگ وہ ہیں جن پر عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا، اور وہ امام مہدیؓ اور ان کے ساتھی ہیں۔ [شرح مشکل الآثار، رقم: ۲۴۷۳، ج۶ص۲۷۰۔ حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفیاء، ج۶ص۱۲۳] ایک صحیح روایت میں ہے کہ جن پر عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا وہ تم جیسے ہوں گے یا تم سے بھی بہترین ایسا کیوں نہ ہو کہ امام مہدی ؓ کے ساتھیوں میں ایک وہ نوجوان بھی ہوگا جو دجال کی طرف نکلے گا، دجال سے اس کا سامنا ہوگا تو وہ نوجوان اس سے کہے گا کہ تم بڑے جھوٹے اور بڑے مکار ہو، پھر دجال اس کو لٹا کر اس کے پیٹ پر خوب مارے گا، پھر کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ وہ پھر اس سے کہے گا کہ تم وہی کذاب ہو جس کے بارے میں ہمیں نبی کریم ﷺ نے آگاہ فرمایا تھا، اس کے بعد دجال اٹھے گا اور وہ اس کو قتل کر دے گا اور آرے سے چیر کر سر سے پاؤں تک اس کے دو ٹکڑے کر دے گا، ان کے درمیان چل کر لوگوں سے کہے گا کہ اس شخص کو دیکھو میں نے اسے قتل کر دیا ہے اب میں اسے زندہ کروں گا، یہ اس کے باوجود مجھے جھٹلائے گا، پھر وہ اس سے کہے گا کہ اٹھو تو وہ اٹھ کر کھڑا ہو جائے گا اور زور سے سر جھٹکتے ہوئے اس کو ڈھونڈتا ہوا سامنے آ کر کہے گا تم ہی وہ دجال ہو جس کے بارے میں حضور ﷺ نے بتایا تھا، مطلب یہ ہے کہ اس شخص کا عقیدہ انتہائی مضبوط ہوگا۔ پھر دجال اس کو دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن نہیں کر سکے گا کیونکہ منجانب اللہ اس کی گردن میں پیتل رکھ دیا جائے گا، جس کی وجہ سے وہ اسے ذبح نہیں کر سکے گا ،اور غصے سے خاموش ہو جائے گا۔ اس شخص کے بارے میں حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اُمت کا یہ شخص جنت کے اعلی درجے میں ہوگا۔[صحیح مسلم، رقم: ۲۹۳۷، ج۴ص۲۲۵۰۔سنن ابن ماجہ، رقم: ۴۰۷۵، ج۲س۱۳۵۶] بہر حال اگر یہ ایک شخص مہدی کے ساتھیوں میں نہ بھی ہوتا تو بھی وہ بہترین لوگ ہوں گے، کیونکہ وہ دجالِ اکبر کا سامنا کریں گے، جس سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ڈر گئے تھے۔ اس کے تذکرے کی کثرت کی وجہ سے ام المومنین کی نیند اڑگئی تھی جب آپ ﷺ تشریف لائے تو انہوں نے آپ سے اپنے خوف اور پریشانی کا تذکرہ کیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مت ڈرو! وہ اللہ کے نزدیک بہت حقیر ہے اور اگر وہ میری زندگی میں نکلا تو میں اس سے تمہارا دفاع کروں گا اور اگر میرے مرنے کے بعد نکلا تو میری طرف سے اللہ تعالیٰ ہر مومن کو اس سے بچائیں گے۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں نیک لوگوں کے ذریعے دجال سے بچائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ نیک لوگ، دجال اور لوگوں کے درمیان حجت اور طاقت ہیں، گویا ایمانی لحاظ سے آپﷺ کی مانند ہیں کہ اپنی ایمانی طاقت سے دجال کا رد کریں گے اور لوگوں کو اس سے بچائیں گے۔ جب ہمارا نظریہ یہ ہے کہ ظہور ِ مہدی کا وقت قریب ہے تو ہمیں حرکت کرنے کی ضرورت ہے، جیسے پانی جس قدر حرکت کرتا ہے اتناصاف ہوتا ہے اور جب پانی کھڑا رہ جائے تو باسی اور بدبودار ہو جاتا ہے، لہذا ہمیں حرکت کرنی ہو مگی، وہ اس طرح کہ حسبِ استطاعت اپنے گھروں، محفلوں میں اس موضوع پر بات کریں۔ اس کے لیے زیادہ علم، زیادہ احادیث اور فصاحت و بلاغت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جیسے حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ میری طرف سے ایک آیت ہی آگے پہنچا دو، مثلاً صرف اتنی بات کہہ دینا کہ واللہ یہ ظہور ِمہدی کا دور ہے اور یہ فتنے انہی کے ہاتھ پر بند ہوں گے، تو یہ بھی اللہ کے ہاں حجت ہے جیسا کہ حضرت ورقہ بن نوفل نے فقط یہی کہا تھا کہ آپ اس قوم کے نبی ہیں اور اگر مجھے موقع ملا تو میں آپ کی نصرت کروں گا۔ ان دو جملوں کےباعث وہ جنت میں داخل ہوگئے ۔ ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ وہ چند لوگوں کے ساتھ بیٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ مہدی علیہ الرضوان کا تذکرہ چل پڑا، میں نے کہا ان کے ظہور کا زمانہ ہے تو ایک سلفی کہنے لگا کہ یہ نہیں ہوسکتا ابھی ان کے ظہور میں کئی سال باقی ہیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم ان کے ظہور کا زمانہ ہے، وہ ساتھی کہتا ہے کہ رات کے آخری پہر میں نے خواب دیکھا، ایک کہنے والا کہہ رہا ہے کہ تم نے جو قسم کھائی اللہ نے پوری کر دی۔ اب یہ نوجوان کوئی بڑی عمر کا یا زیادہ پڑھا لکھا شخص نہیں ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ کئی ایسے لوگ ہیں جو پراگندہ حال اور غبار آلود بال والے کہ اگر وہ قسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری فرماتے ہیں۔

  • ☘اُمت کی قیادت امام مہدی کے علاوہ کسی اور کیلئیے ممکن نہیں اسی طرح امت اگر اس وقت امام مہدی علیہ الرضوان کے علاوہ کسی اور کو منتخب کرے گی تو اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرمائیں گے، امت کی خون ریزی اسی طرح جاری رہے گی اور فتنے بڑھتے چلے جائیں گے۔ اس کو آپ ایک مثال سے سمجھیں کہ اگر یوں کہا جائے کہ عمارت کے اس دروازے سے فتنے داخل ہو رہے ہیں اور فتنوں کے نکلنے کا دروازہ وہ ہے ، وہاں سے نکلیں گے، اب اس دروازے کی پہچان حاصل کرنا اور اس کی جدوجہد کرنا ضروری ہے، اگر چہ اس میں طویل وقت صرف ہو خواہ مہینے گزر جائیں یا سال نتیجہ بہر حال ایک ہی ہوگا ، جیسا کہ حضور ﷺ کی بعثت کے اول روز سے لے کر تقریباً چودہ پندرہ سال بعد اللہ تعالی کی مدد آئی جبکہ آپ اس وقت ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے جاچکے تھے ۔ لہذا اِس وقت بھی اللہ تعالیٰ کا امریہ ہے کہ امت کو ان فتنوں سے نجات دلائی جائے۔ اس بارے میں آپ ﷺ کے ارشادات پر غور کیا جائے ان کو دل میں جگہ دی جائے، اگر چہ آپ کی دی گئی خوش خبری پوری ہونے میں طویل وقت لگ جائے ، خواہ سال، دو سال ، چار سال یا دس پندرہ سال لگ جائیں۔ ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طرزِ عمل اپنانا ہوگا کہ انہوں نے صبر کا دامن تھامے رکھا یہاں تک کہ نتیجے تک پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت و تمکین پائی۔ نبوت کے ابتدائی سالوں میں مسلمان مسلسل اذیتوں کا شکار ہو رہے تھے جب آپ ﷺ ان کے پاس سے گزرتے تو ارشاد فرماتے: صبر کرو کہ تم سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اور ایک اور جماعت کے پاس سے گزرے جنہیں اذیتیں دی جارہی تھیں تو ارشاد فرمایا کہ صبر کرو عنقریب تم اس زمین کے بادشاہ کہلاؤ گے۔ اسی طرح ہجرت کے سفر میں سُراقہ بن مالک سے فرما رہے ہیں کہ صبر کرو تمہیں کسریٰ کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ آپ ﷺ حضراتِ صحابہ کرامؓ کو اسی طرح وہ وعدے سناتے رہے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کیے تھے، اس طرح وہ وعدے ان کے‌ ذہن نشین کردیے۔ غزوۂ خندق کے موقع پر آپﷺ نے چٹان پر کدال ماری، چنگاریاں اڑیں، حضور نے ارشاد فرمایا: کہ مجھے صنعاء کے محلات دکھائی دیے، پھر دوسری کدال ماری اور ارشاد فرمایا: لا الہ الا اللہ مجھے شام کے محلات دکھائے گئے۔ پھر تیسری کدال ماری ارشاد فرمایا: لا الہ الا اللہ مجھے بابل کے محلات دکھائے گئے جو تم فتح کرو گے۔ اس واقعہ کے سات آٹھ سال بعد یمن، شام اور عراق فتح ہو چکے تھے، ربع صدی میں پورا جزیرہ عرب فتح ہوا، اور ایک صدی کے اندر اندر شام اور روم و فارس کی سلطنتیں ان کے زیرنگیں تھیں۔ یہ اس کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اللہ کے وعدوں کو سچا جانا تو اللہ تعالیٰ نے بھی سچ کر دکھایا۔ آج ہم بھی اسی طرح کے مقام پر کھڑے ہیں، آپس کی خونریزی اور فتنوں سے نکلنے کا واحد راستہ امام مہدی علیہ الرضوان ہیں کہ ہم ان کے بارے میں کیے گئے اللہ کے وعدوں کو سچا جانیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو سچ کر دکھائیں گے، ہمیں اس راستے پر صبر واستقامت سے چلنا ہوگا۔ ارشادِ خداوندی ہے: اے ایمان والو! صبر سے کام لو، اور ڈٹے رہو، اور کفار کے مقابلے کے لیے تیاری کرتے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو، امید ہے تم کامیاب ہو جاؤ گے۔ تقوی ہر چیز کی بنیاد ہے خود بھی تقوی اپنائیں دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہیں تو ان شاء اللہ ہمارے حالات یوں نہیں رہیں گے، بدل جائیں گے۔ ایسے نہیں ہوں گے، جیسے آج ہیں، کہ امتِ مسلمہ باہم دست و گریباں ہے، بلکہ امت یہود ونصاریٰ کے مد مقابل ہوگی اور دجال سے قتال کرے گی۔ اس وقت وہ وعدے پورے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہم سے کیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اُترے گی، امت مسلمہ کو دیگر اقوام پر مکمل غلبہ عطا ہوگا اور کفار و مشرکین کے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ دین دنیا کے کونے کونے میں پہنچے گا اور وہ پیشن گوئی پوری ہوگی جو اس آیت مبارکہ میں بیان ہوئی: لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ بقول مفسرین یہ وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا یہ امام مہدی علیہ السلام کے دور میں پورا ہوگا۔ عنقریب ایسا وقت بھی آئے گا کہ ہم دیکھیں گے آسمان اپنا ہر قطرہ برسائے گا اور زمین ہر دانہ اگائے گی اور مال و دولت کی فراوانی ہوگی۔ لپ بھر کر اور بغیر شمار کیے دولت تقسیم کی جائے گی، ایسا دن بھی آئے گا کہ ایک شخص سونے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا کہ کیا اس کے لیے میں نے چوری کی تھی، اور میرا ہاتھ کاٹا گیا تھا؟ دوسرا کہے گا کہ اس کی وجہ سے میں نے قتل کیا تھا، تیسرا کہے گا کہ اس کی وجہ سے میں نے قطع رحمی کی تھی، چنانچہ وہ اس ڈھیر کو پاؤں سے ٹھو کر مار کر گزر جائے گا اور اس میں سے کچھ نہیں لے گا، یعنی سب لوگوں کو قناعت حاصل ہو جائے گی ان کے پاس موجود مال و دولت کی فراوانی کی وجہ سے، کیونکہ ان کے دور میں نعمتوں اور فتوحات کی کثرت ہوگی۔

  • بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا﴾ پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سابقہ آسمانی کتابوں میں اپنے دین کی آسانی و نرمی اور اپنے حسنِ اخلاق کی وجہ سے معروف تھے۔ جہاں تک آپ کے خِلقی اور جسمانی اوصاف اور آپ کے ظہور کے مقامات کا تعلق ہے، تو صرف مندرجہ ذیل باتیں ہی وارد ہوئی ہیں: آپ کا نام مبارک 'احمد'، آپ کی ولادت مکہ میں، آپ کی ہجرت گاہ 'طیبہ' (اور انجیل میں طیبہ کی صفت یوں بیان ہوئی: "ان کی ہجرت گاہ دو پتھریلی زمینوں کے درمیان کھجوروں والی شوریدہ زمین ہوگی")، اور آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت؛ بس یہی کچھ تھا۔ اور جس کے پاس یہ اوصاف تھے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح پہچان لیا جیسے وہ اپنے بیٹے کو پہچانتا ہے۔ پس جب قرآن نے یہ بیان کیا کہ یہ صفات اس بات کے لیے کافی ہیں کہ ان کو جاننے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچان لے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت میں ہمارے سامنے امام مہدی کی صفات کو مندرجہ ذیل تفصیل سے واضح فرما دیا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام مہدی کے بارے میں فرمایا کہ ان کا نام میرے نام کے مطابق ہوگا اور ان کے والد کا نام میرے والد کے نام کے مطابق ہوگا۔ ان کے دو نام ہوں گے: ایک نام پوشیدہ رہے گا اور ایک نام ظاہر ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام مہدی کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ وہ قریشی، ہاشمی، حسنی، اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے یعنی عترتِ طاہرہ سے ہوں گے۔ ان کی کنیت 'ابو عبد اللہ' اور 'ابو القاسم' ہوگی، ان کی والدہ کا نام آمنہ ہوگا، اور انہیں 'الجابر' کا لقب دیا جائے گا۔ وہ مکی اور مدنی ہوں گے، ان کی پرورش حجاز میں ہوگی، ان کی اصل و نسب یمن سے ہوگی، اور وہ تہامہ یمن کے ایک گاؤں سے نکلیں گے جسے 'کرعہ' کہا جاتا ہے۔ 'ذی طویٰ' میں ان کی غیبت ہوگی، اور وہ ایک کامران جوان کی صورت میں لوٹیں گے جبکہ ان کی عمر 32 سال ہوگی۔ وہ 18 سال کی عمر میں منبر پر جلوہ افروز ہوں گے، وہ اخلاق میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہوں گے، لیکن جسمانی ساخت (خَلق) میں مشابہ نہیں ہوں گے۔ وہ گندمی عربی رنگت والے ہوں گے جس میں سرخی کی جھلک ہوگی، کشادہ پیشانی والے، باریک اور اٹھی ہوئی ناک والے، سر میں خشکی والے، اور کندھوں تک لٹکتے گھنگھریالے بالوں والے ہوں گے۔ خوبصورت چہرے والے، پرکشش، ان کا چہرہ چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہوگا، چہرے پر ایک نشان ہوگا اور اس پر ريحان/آس کے پتے جیسی علامت ہوگی۔ ابھری ہوئی ابروؤں والے، گہری آنکھوں والے، اور سامنے کے دانتوں میں کشادگی والے۔ میانہ قد، مضبوط جثے کے مرد، گردن موٹی، اور کشادہ کندھوں والے۔ کشادہ سینے والے، نرم اور چوڑے پیٹ والے، اور رانوں کے درمیان کشادگی والے۔ ان کے دور کا ایک جابر حکمران انہیں پہچان لے گا، پس وہ ان کے تمام اہل خانہ کو چھوٹے بڑے سمیت گرفتار کر لے گا، اور ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جسے قید نہ کیا جائے... وغیرہ۔ پس اگر یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف ان کے نام، ان کے ظہور کی جگہ، ان کی ہجرت کی جگہ اور دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت کی علامت کو جان کر اپنے بیٹوں کی طرح پہچان سکتے تھے—جبکہ باقی صفات تو آپ کی دعوت کی آسانی، آپ کے حسنِ اخلاق، سلوک اور آپ کے صحابہ کے اعلیٰ اخلاق سے متعلق تھیں—تو پھر ہم اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ہم امام مہدی کو اس طرح پہچانیں جیسے اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی پیروی کی توفیق عطا فرما، اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ 🖋️ شيخ ابو داود الحسامي (حفظه الله)

  • 🌿 ان لوگوں کے نام جو امام مہدی کو اس طرح پہچاننا چاہتے ہیں جیسے اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں 🌿 اہلِ کتاب کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف کی کیا تفصیلات تھیں؟ جس کی وجہ سے ان کا حال وہی تھا جیسا کہ قرآن کریم نے ان کے بارے میں بیان فرمایا: ﴿يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ﴾ (وہ انہیں اس طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں)۔ (اور یہاں خصوصیت کے ساتھ "بیٹوں" کا ذکر باپ کی ان سے شدید محبت و لگاؤ کی وجہ سے کیا گیا ہے، کیونکہ ان کو بار بار دیکھنے سے ان کی مکمل پہچان اور معرفت دل میں راسخ ہو جاتی ہے) — [التحرير والتنوير: 2/40] اسی لیے یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہلی ہی نظر میں پہچان لیا تھا۔ چنانچہ جب دو یہودی ابو ياسر بن اخطب اور حیی بن اخطب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا: ابو یاسر بن اخطب نے حیی بن اخطب سے پوچھا: " کیا یہ وہی ہیں؟" حیی نے کہا: "ہاں، واللہ!" ابو یاسر نے کہا: "کیا تم انہیں واقعی پہچانتے ہو اور ان کی تصدیق کرتے ہو؟" حیی نے کہا: "ہاں۔" ابو یاسر نے پوچھا: "پھر تمہارے دل میں ان کے بارے میں کیا ارادہ ہے؟" حیی نے جواب دیا: "خدا کی قسم! جب تک زندہ رہوں گا ان سے دشمنی رکھوں گا۔" — [سیرت ابن ہشام: 1/519] تو آخر تورات اور انجیل میں ان اوصاف کی کیا تفصیلات ذکر کی گئی تھیں کہ وہ اس درجے کی معرفت تک پہنچ گئے؟! عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے ملا۔ میں نے ان سے کہا: "مجھے تورات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف کے بارے میں بتائیے۔" انہوں نے فرمایا: "ہاں! اللہ کی قسم، تورات میں آپ کے بعض اوصاف وہی بیان ہوئے ہیں جو قرآن میں ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾ (اے نبی! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے)، اور ان پڑھوں (امیین) کا محافظ۔ آپ میرے بندے اور رسول ہیں، میں نے آپ کا نام 'متوکل' رکھا ہے۔ آپ نہ بدخلق ہیں، نہ سخت مزاج، نہ بازاروں میں شور مچانے والے، اور نہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں۔ بلکہ آپ معاف فرماتے ہیں اور درگزر کرتے ہیں۔ اللہ آپ کو اس وقت تک موت نہیں دے گا جب تک آپ کے ذریعے ٹیڑھی ملت (گمراہ قوم) کو سیدھا نہ کر دے، یہاں تک کہ وہ 'لا الٰہ الا اللہ' کا اقرار کر لیں، اور اس کے ذریعے اندھی آنکھوں، بہرے کانوں اور بند دلوں کو کھول نہ دے۔" — [صحیح بخاری: 2125] طبرانی نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے: (ان کی پیدائش مکہ میں ہوگی، ان کی ہجرت گاہ طیبہ (مدینہ) ہوگی، ان کی امت کثرت سے حمد کرنے والی ہوگی، وہ آدھی پنڈلیوں تک تہبند باندھتے ہوں گے، اپنے اعضاء کو پاک رکھیں گے، ان کی کتابیں (قرآن) ان کے سینوں میں ہوں گی، وہ نماز کے لیے اس طرح صف بندی کریں گے جیسے جنگ کے لیے کرتے ہیں، ان کا قربانی کا ذریعہ جو وہ مجھ سے قریب ہونے کے لیے دیں گے ان کا خون ہوگا، وہ رات کو راہب اور دن کو شیر ہوں گے) — [طبرانی، المعجم الکبیر: 10046]۔ پس یہ تورات میں آپ کے اوصاف تھے۔ اور جہاں تک انجیل کا تعلق ہے، تو حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے فرمایا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں حکایت فرمائی: ﴿وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾ (اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہے)۔ اور عیسائی راہب نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: (ایک ایسے نبی کا زمانہ تم پر سایہ فگن ہو چکا ہے جو حرم سے مبعوث ہوں گے، ان کی ہجرت گاہ دو پتھریلی زمینوں (حروں) کے درمیان کھجوروں والی شوریدہ زمین ہوگی، ان میں ایسی نشانیاں ہیں جو چھپی نہیں رہتیں: ان کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت ہوگی، وہ ہدیہ کھاتے ہیں لیکن صدقہ نہیں کھاتے، اگر تم ان تک پہنچ سکتے ہو تو ضرور پہنچو) — [شرح الشفاء: 1/742] اور قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ﴾ اور فرمایا: ﴿مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ

  • بسم الله الرحمن الرحيم ۲۰ ربیع الآخر ۱۴۴۲ ھ 🌴 ایک اہم بیان: کیا ہم آخر الزمان (آخری دور) میں ہیں؟ 🌴 رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: > ﴿آخری زمانے میں ایسے لوگ نکلیں گے جو عمر میں کم سن اور عقل کے کچے ہوں گے۔ وہ کائنات کی بہترین بات (قرآن و حدیث) کہیں گے، لیکن اسلام سے یوں نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ تم جہاں بھی انہیں پاؤ، انہیں قتل کر دو؛ کیونکہ انہیں قتل کرنے والے کے لیے قیامت کے دن اجر و ثواب ہے۔﴾ > (صحیح بخاری، حدیث: 3611) > یہ حدیث خوارج کے حق میں ہے جن سے حضرت امام علی علیہ السلام نے قتال فرمایا تھا۔ یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ حدیث کے الفاظ تو یہ ہیں کہ وہ "آخری زمانے" میں نکلیں گے، حالانکہ وہ تو حضرت امام علی علیہ السلام کے دورِ خلافت کے آخر میں ہی ظاہر ہو چکے تھے؟ ابن حجرؒ نے آپ ﷺ کے فرمان (سیخرج قوم فی آخر الزمان) کی تشریح میں فرمایا: > "اس اشکال کا حل یوں ممکن ہے کہ 'آخر الزمان' سے مراد 'خلافتِ نبوت' کا آخری دور ہو۔" > (فتح الباری: 12/287) > نتیجہ: لفظ "آخر الزمان" سے یا تو کوئی خاص دور مراد ہوتا ہے، یا پھر عمومی اور مطلق آخری زمانہ۔ دوسری حدیث: ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، انہوں نے فرمایا: > "قریب ہے کہ اہل عراق کے پاس ایک قفیز (غلے کا پیمانہ) اور ایک درہم بھی نہ آنے دیا جائے!" > ہم نے پوچھا: "یہ کس کی طرف سے ہوگا؟" > انہوں نے فرمایا: "عجمیوں (غیر عربوں) کی طرف سے، وہ اس کی بندش کریں گے۔" > پھر فرمایا: "قریب ہے کہ اہل شام کے پاس ایک دینار اور ایک مدی (غلے کا پیمانہ) بھی نہ آنے دیا جائے!" > ہم نے پوچھا: "یہ کس کی طرف سے ہوگا؟" > انہوں نے فرمایا: "رومیوں (اہلِ مغرب) کی طرف سے۔" > پھر وہ کچھ دیر خاموش رہے اور فرمایا: > رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ﴿میری امت کے آخری دور میں ایک ایسا خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو لپ بھر بھر کر مال دے گا اور اسے شمار بھی نہیں کرے گا۔﴾ > (صحیح مسلم، حدیث: 2913) > صحیح مسلم کی ایک اور روایت (حدیث: 2914) کے الفاظ ہیں: > ﴿آخری زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال تقسیم کرے گا اور اسے گنے گا تک نہیں۔﴾ > نتیجہ: پس عراق اور شام کا معاشی حصار (بائیکاٹ) آخری زمانے میں ہوگا، اور ممکن ہے اس سے کوئی خاص دور یعنی جبر و استبداد کے دور (الحکم الجبری) کا آخری زمانہ مراد ہو۔ یہ واقعہ اللہ کے خلیفہ مہدی کے ظہورِ قریب کا اشارہ ہوگا جو مال کو مٹھیوں سے لٹائیں گے، جیسا کہ حدیث کے آخر میں اشارہ کیا گیا: ﴿آخری زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال تقسیم کرے گا اور اسے گنے گا نہیں۔﴾ گویا حدیث کا مفہوم یہ بنتا ہے: (جبر و تسلط کے دور کے آخری زمانے میں ایک ایسا خلیفہ ہوگا جو مال بغیر گنے تقسیم کرے گا)۔ لغت کی کتب میں یہ بات معروف ہے کہ کسی شے کے "آخر" سے مراد اس کا آخری کنارہ بھی ہو سکتا ہے اور اس کے بعد کا حصہ بھی—اس میں لغوی اختلاف معروف ہے؛ یہ ایک احتمال ہے۔ دوسرا احتمال: "آخر الزمان" سے مراد عمومی زمانہ یعنی اس دنیا کا خاتمہ اور تاریخ کا آخری باب ہو۔ اس کی دلیل درج ذیل ہے: عراق اور شام کا حصار واقع ہو چکا ہے، اور یہودیوں کو فلسطین میں لا کر جمع کر دیا گیا ہے، جبکہ قرآنِ کریم فرماتا ہے: > ﴿وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا﴾ > "اور ہم نے اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اس زمین میں بس جاؤ، پھر جب 'آخرت کا وعدہ' آئے گا تو ہم تم سب کو سمیٹ کر لے آئیں گے۔" > اور "وعد الآخرة" (آخری وعدہ) سے مراد وہ وقت ہے جو آخرت کے انتہائی قریب ہو، اسی قربت کی بنا پر اسے آخرت کی طرف منسوب کیا گیا—یہ تفسیر ان آیات کے معاصرانہ فہم کے مطابق ہے۔ دوسری دلیل: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: > ﴿اللہ تعالیٰ اس امت کو آدھے دن (کی مہلت دینے) سے عاجز نہیں آئے گا۔﴾ > (سنن ابوداؤد: 4349، علامہ البانی نے 'السلسلة الصحيحة' رقم 1643 میں اسے صحیح قرار دیا) > ہم اس وقت ۱۴۴۲ ہجری میں موجود ہیں، یعنی امت کی عمر کا ایک دن اور آدھا دن گزر چکا ہے، کیونکہ: > ﴿وَإِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ﴾ > "اور بیشک آپ کے رب کے ہاں ایک دن تمہاری گنتی کے ہزار سال کے برابر ہے۔" > اس کی تائید درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: > ﴿اسلام کی چکی 35، 36 یا 37 سال تک گھومتی رہے گی؛ پس اگر وہ ہلاک ہوئے تو ان لوگوں کا سا راستہ ہوگا جو ہلاک ہوئے، اور اگر ان کا دین قائم رہا تو وہ ان کے لیے 70 سال قائم رہے گا۔﴾

  • کسی بھی اسلامی ملک کے خلاف امریکہ کے ساتھ اتحاد کے متعلق "تحریک انصار المهدی" کا موقف کیا ہے؟ 🎙️ از: فضیلت مآب مفتی ابو داؤد الحسامي (حفظہ اللہ) بسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ الحمدُ للهِ والصَّلاةُ والسَّلامُ على رسولِ اللهِ وعلى آلِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ ورَضِيَ اللهُ عن صَحابَتِهِ الرَّاشِدِينَ، وسلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا مَزِيدًا إلى يومِ الدِّينِ، وبعد: ایران پر حملہ کرنے کے لیے امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ان کے اتحادیوں کے خلاف "تحریکِ انصارِ امام مہدی" کے رسمی موقف کی تفصیلات کی وضاحت درج ذیل ہے: ۱. امریکہ کے ساتھ کسی بھی اتحاد کی مخالفت تحریک کا بنیادی موقف یہ ہے کہ وہ اس اتحاد کے سراسر خلاف ہے اور ایران کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ صرف ایران کا معاملہ نہیں، بلکہ تحریک کا یہ اصولی موقف ہر اس اتحاد کے خلاف ہے جو امریکہ یا روس کی سرپرستی میں کسی بھی اسلامی ملک—خواہ وہ شام ہو، عراق ہو، افغانستان ہو یا کوئی اور ملک—کے خلاف قائم کیا جائے۔ یہ تحریک کا اصولی اور موروثی موقف ہے، جو اہم تاریخی واقعات میں اہل یمن کے دانشمندانہ فیصلوں کا تسلسل ہے۔ زمان و مکان نے یہ ثابت کیا ہے کہ اہل یمن کی بصیرت، فہم اور حکمت بے مثال رہی ہے۔ تاریخی ثبوت (کویت پر حملہ): جب عراق نے کویت پر قبضہ کیا، تو حسبِ روایت سعودی عرب، خلیجی ممالک اور تمام عرب ریاستوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر عراق کے خلاف اتحاد بنا لیا۔ "ہیئۃ کبار العلماء" نے اس وقت یہ فتویٰ دے کر اس کی تائید کی کہ "صدام حسین کافر بعثی ہے"، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ اس کے اثرات عراق کی بے قصور عوام پر پڑیں گے جن کا اپنے حکمران کی پالیسیوں میں کوئی قصور نہ تھا۔ تمام ممالک کے اس عمومی موقف کے برعکس یمن کا موقف بالکل جداگانہ تھا۔ یمن نے کویت پر عراقی قبضے کی مذمت تو کی، لیکن غیر ملکی و غیر مسلم افواج سے مدد لینے کی شدید مخالفت کی۔ یہ وہ موقف تھا جسے تاریخ نے سنہرے حروف سے لکھا، اگرچہ اہل یمن کو اس حق گوئی کی قیمت جلاوطنی، بدحالی اور ہجرت کی صورت میں چکانی پڑی۔ جب دھوئیں کے بادل چھٹے تو حقیقت واضح ہو گئی کہ غیر ملکی افواج سے مدد لینا دراصل جزیرہ نما عرب پر قابض ہونے اور امریکی فوجی اڈوں کو قائم کرنے کا ایک بہانہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عراق کو کویت سے نکالنے کے بجائے امریکہ تمام خلیجی ممالک پر مسلط ہو گیا۔ جیسے کہا جاتا ہے: "مصیبت سے بچنے کے لیے جس کی پناہ لی، وہ مصیبت سے بھی زیادہ ہلاک کن ثابت ہوا"۔ آج خلیجی عوام اس شومِ اتحاد کی کڑوی فصل اخلاقی، دینی اور معاشی تباہی کی صورت میں کاٹ رہے ہیں، اور ان کا سرمایہ امریکی خزانے بھرنے کے کام آ رہا ہے۔ تب ثابت ہوا کہ اہل یمن کا فیصلہ ہی حکمت اور دانشمندی پر مبنی تھا۔ ٢. کا یمن بحران اور موجودہ ایرانی تناظر ۲۰۱۵ء میں سعودی عرب اور امارات نے امریکہ کے ساتھ مل کر یمن کے خلاف اتحاد بنایا اور علماء کی کونسل نے حسبِ معمول یہ فتویٰ جاری کیا کہ "حوثی رافضی اور مجوسی ہیں"۔ اس وقت بھی "تحریکِ انصارِ امام مہدی (علیہ السلام)" نے اس ظالمانہ اور جابرانہ اتحاد کی مخالفت کی اور مظلوم یمنی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا انتخاب کیا۔ اگرچہ تحریک نے اپنے مخصوص نظریے اور نظریاتی حدود کی بنا پر مسلح جنگ میں براہِ راست حصہ نہیں لیا—کیونکہ امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور سے قبل ہر جنگ کسی نہ کسی حد تک ظلم و جور سے خالی نہیں ہوتی—تاہم، تحریک نے دینی، اخلاقی اور ادبی بنیادوں پر مظلوموں کا ساتھ دیا اور اس عدوان کی سخت مذمت کی۔ پانچ سالہ جنگ اور Combined blockade (حصار) کے بعد دنیا نے دیکھ لیا کہ کس طرح یمن کی ہر خوبصورت شے کو تباہ کر دیا گیا، معصوم بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو نشانہ بنایا گیا اور نام نہاد حکومت کو رسوا کیا گیا۔ ٹرمپ اور ایران کے خلاف اتحاد کا مغالطہ: تعجب ہے ان لوگوں پر جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ "اہلِ سنت" کے مفاد میں ہے کیونکہ ایران میں "مجوسی اور رافضی" رہتے ہیں۔ کیا ٹرمپ سلفی، اثری یا اہل سنت کا حامی بن گیا ہے؟ تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟! اگر بالفرض یہ جنگ سنّیوں کے فائدے کے لیے ہے، تو صرف تہران میں ۱۰ لاکھ سے زائد اہل سنت آباد ہیں (باقی شہروں کے علاوہ)۔ کیا تہران کو تباہ کر کے ۱۰ لاکھ سنّیوں کو مار دیا جائے تاکہ ایرانی نظام کا خاتمہ ہو؟ ایران کا ایٹمی ریکٹر "بوشہر" ایک سنّی علاقے میں واقع ہے۔ یہ ریکٹر تہران کی بنسبت کویت اور ریاض کے زیادہ قریب ہے! اگر اس پر حملہ ہوتا ہے تو اس کی تابکاری کا سب سے پہلا شکار خود سنّی عوام، کویت اور ریاض ہوں گے۔ کیا محض ایک نظام کو گرانے کے لیے یہ سب تباہی جائز ہے؟ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ "زکام کا علاج کرنے چلے اور جذام کا مریض بنا دیا"* یا *"ایک محل بنانے کے لیے پورے شہر کو ڈھا دیا"۔

  • ​جَيْشُ الْخَسْفِ (زمین میں دھنسائے جانے والا لشکر) "خسف (زمین میں دھنسائے جانے) سے متعلق احادیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جو لشکر حضرت مہدی سے قتال کے لیے پیش قدمی کرے گا، وہ متعدد سمتوں سے آئے گا: شام، مشرق اور مصر۔ یہ اس امر کی دلالت کرتا ہے کہ وہ ایک متحد اتحادی لشکر ہوگا جو بیت اللہ کی پناہ لینے والے (حضرت مہدی) کے خلاف نبرد آزما ہونے کے لیے مختلف افواج کو اکٹھا کرے گا۔"

  • «««دن کے شیر رات کے راہب »»» حضرت عبداللہ بن مسعود رض سے ایک اثر منقول ہے جو حضرت امام مہدی کی بیعت کے منظر کو بہت تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے جو سبع علماء کے نام سے معروف ہے۔ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح سات علماء حضرت امام مہدی تک پہنچیں گے اور آپ کی بیعت کریں گے آپ کی بیعت شروع کے انصار کریں گے ان کے بارے میں مذکور ہے کہ آپ ایسی قوم کے ساتھ نکلیں گے جو دن کو شیر اور راتوں کو راہب ہوں گے (الفتن:1000) امت میں پھیلی بہت سی بے اعتدالیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جو حضرات دین دار سمجھے جاتے ہیں وہ اپنے انفرادی اعمال اور عبادات کی ادائیگی ہی کو کافی سمجھتے ہیں۔ امت کے اجتماعی معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، جہاد اور سیاست (اسلامیہ ) کی مصروفیات کو اپنے دین کے لئے مضر خیال کرتے ہیں۔ یوں یہ حضرت ایک راہبانہ طرز زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے اس نظرئے نے سیکولرز کو یہ کہنے کا موقع دیا کہ اسلام کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ عیسائیوں میں یہ نظریہ مشہور ہے۔ کہ قیصر کا حق قیصر کو دو اور کلیسا کا حق کلیسا کو دو یہ بات ظاہر ہے کہ یہ نظریہ اسلامی معیار پر درست نہیں ہے اور اسلامی تعلیمات جس طرح انفرادی عبادت واعمال کے بارے میں ہیں۔ اسی طرح سیاسی واجتماعی معاملات بھی اسلام رہنمائی کرتا ہے اس کے ردعمل میں بہت سے حضرات اس غلطی میں مبتلا ہوئے کہ انہوں نے اجتماعی اوامر ( مثلا جہاد، سیاست اور خلافت ) کے قیام ہی کو سب کچھ سمجھ لیا، جس کی وجہ سے ذاتی زندگی کی طرف ان کی توجہ نہیں رہی اور اسے نہیں دی گئی جو شریعت میں طے تھی۔ انصار حضرت امام مہدی کی برکت سے دین کے دونوں پہلوؤں پر اعتدال کے ساتھ عمل کرنے والے ہوں گے۔ ایک طرف اگر وہ ذاتی زندگی میں دین پر تصلب کے ساتھ کاربند ہوں گے تو دوسری جانب امت کی فکر رکھنے والے ہوں گے۔ رات کے مصلے پر اوہ زاری کرنے والے، تہجد گزار اور ان کو جہادی میدانوں میں لڑنے والے ، خلافت کی زمہ داریاں سنبھالنے والے، اور اجتماعی سوچ رکھنے والے ہوں گے۔ شاید انہیں دونوں صفات کی جانب اشارہ کیا گیا کہ وہ رات کو راہب وعبادت گزار ہوں گے اور دن کو شیروں کی طرح لڑنے والے۔

  • без подписи

  • без подписи

  • 🟥 بریکنگ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی حوثی ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عربیہ پر باب مندب کے راستے نقل و حرکت پر پابندی ہے اور اگر انہوں نے ایسی کوئی کوشش کی تو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا حوثیوں کے اعلان کے بعد سعودی عربیہ کی تیل کی تمام ترسیلات کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے جس سے عالمی سطح پر تیل کے بحران میں مزید شدت کا خدشہ ہے۔ ایران امریکہ لڑائی صرف دو ملکوں کی لڑائی نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ گیر اور عالمگیر جنگ بننے والی ہے۔ اور اس کے اثرات ہر طرف پڑیں گے۔

  • без подписи

  • без подписи

  • چند دنوں سے امریکی بمباری کا نشانہ زیادہ تر ایرانی انفراسٹرکچر بن رہا ہے۔ رابطہ پلوں، بجلی وغیرہ کی تنصیبات تباہی کی جا رہی ہیں۔ ایران سوچ رہا ہے کہ اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک کی تنصیبات اور پلوں کو نشانہ بنا کر تباہی کر دیا جائے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اسی سلسلے کی کڑی ہے، اور اگر یہ جنگ آگے چلتی ہے جیسا کہ نظر آرہا ہے تو ایرانی اشارے پر حوثی آبنائے باب المندب بھی بند کر سکتے ہیں۔ کنگ فہد کازوے جو بحرین کو سعودی عرب سے ملاتا ہے اسے بھی تباہ کیا جاسکتا ہے۔ صورت حال بہ ظاہر وہی بنتی نظر آرہی ہے جیسا کہ احادیث میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ امام مہدی سے پہلے راستے اور تجارتیں بند ہو جائیں گی۔ جنگوں کی وجہ سے بنیادی ڈھانچے کی تباہی، تیل کی بندش، بجلی و گیس کا تعطل اور اس کے نتیجے میں کاروبار زندگی کا متاثر ہونا ظہور مہدی کی ایک نشانی ہے، اور ممکنہ طور پر اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ عربوں کا ہی ہوگا۔ واللہ اعلم

  • امام مہدی کی بیعت وہ مرکزی نقطہ ہے جس کے بعد دنیا کا سیاسی نظام تبدیل ہو جائے گا، جبر کی بجائے خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہو جائے گی۔ ظلم کی جگہ عدل لے گا۔ امن و سلامتی کا دور لوٹ آئے گا۔ اور گمراہی و فتنوں کا خاتمہ ہو جائے گا، مقبوضہ علاقے مسلمانوں کو واپس مل جائیں گے۔ اسرائیل کا ناجائز وجود مٹ جائے گا، مسلمان خوشحال ہو جائیں گے اور ہر طرف دین حق کا بول بالا ہو جائے گا۔ یہ بیعت امام مہدی کے ہاتھ پر ہوگی، بیعت کرنے والے کل تین سو تیرہ افراد ہوں گے، جنہیں ایک روایت میں اصحاب بدر اور اصحاب طالوت جیسے قرار دیا گیا ہے۔ یہ بیعت مسجد حرام میں بیت اللہ کے بالکل قریب حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ہوگی۔ بیعت کی طرح یہ مقام بھی عظمت و تقدس رکھتا ہے، کہ دو جنتی پتھروں کے درمیان یہ عمل تکمیل تک پہنچے گا۔ عمل جس قدر عظمت رکھتا ہے اسی طرح یہ مقام بھی عظمت کا حامل ہے، اس سے زیادہ شاید ہی دنیا کا کوئی اور مقام تقدس رکھتا ہو۔ سید حسن التہامی حفظہ اللہ نے اپنے ایک بیان میں اس کی عظمت و تقدس کا تذکرہ کیا ہے۔ جسے اردو ترجمہ کر کے آپ کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ البتہ امام مہدی کی بیعت سے پہلے ایک اور بیعت بھی ہے جس کا مقصد امام مہدی کی نصرت ہے۔ دونوں بیعتوں کا تذکرہ اس مختصر تحریر میں کیا گیا ہے۔

  • без подписи

  • без подписи