tgindex
Conflict In Asia

Conflict In Asia

Статистика

Focus on conflict, war, insurgency and human rights related issues.

Последний пост
16 мар.
Последнее чтение
13 авг.
Постов за неделю
0
Всего постов
20
Тип
открытый
Язык
ur
В каталоге с
13 авг.
Подписчики
777
−2 за 2 дн.
Сутки
0
0,00%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
558
20 постов
Вовлечённость
71,8%
к подписчикам
Постов в день
0,0
всего 20
Упоминаний
0
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
1/48двое суток
1/72трое суток

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • #بھارت مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے بھارت میں ایل پی جی کی سپلائی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ نئی دہلی کے کچھ علاقوں میں گھروں اور ریستورانوں کو گیس نہ ملنے کے نتیجے میں گیس ڈپوؤں کے باہر لمبی قطاریں لگ گئیں۔

  • اسرائیل اور لبنان کے مابین براہ راست مذاکرات آئندہ چند روز میں قبرص یا پیرس میں، رپورٹ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ میں اسرائیل اور لبنان کے مابین براہ راست مذاکرات اگلے چند روز میں قبرص یا پیرس میں شروع ہو سکتے ہیں۔

  • 15 мар.603из Kabul_Diary

    خیبر پختونخوا میں د!عـــش کے رکن کو اپنے ہی ساتھیوں نے فوج کے لیے جاسوسی کے الزام میں قتل کر دیا ذرائع کے مطابق مخالف د!عـــــش کے عناصر نے خیبر پختونخوا میں پاکستان کے خفیہ اداروں سے تعلق اور جاسوسی کے الزام میں اپنے ہی ایک ساتھی کو قتل کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے د!عـــــش رکن کا نام روح اللہ تھا، جو خو!رج کی صفوں میں زکریا اور احمد کے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا۔ ذرائع کے مطابق روح اللہ چند سال قبل ترکی میں خو!رج کے گروہ میں شامل ہوا تھا اور افغانستان میں شہری و عسکری اہداف پر حملوں کے علاوہ د!عش خو!رج کی معاشی شاخ کے تحت اغوا کی کارروائیوں میں بھی ملوث رہا تھا۔ اس پر مختلف مواقع پر د!عش کے اندر شبہات پیدا ہوئے... خاص طور پر اس وقت، جب افغان صوبہ بلخ میں اغوا کیے گئے ایک بچے کے معاملے میں اس نے اپنے کچھ ساتھیوں کو چھوڑ دیا، جو بعد ازاں ایک کارروائی کے دوران مارے گئے۔ بعد میں وہ خیبر پختونخوا کے علاقے جبار میلہ میں د!عش کے مراکز کی طرف منتقل ہو گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق کچھ سخت گیر داعـــشی عناصر کو پہلے ہی روح اللہ پر شک تھا اور تحقیقات کے بعد اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق تیراہ، جبار میلہ، تور درہ اور اورکزی اس وقت خیبر پختونخوا میں خو!رج کے اہم ٹھکانے سمجھے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ 28 فروری کو تیراہ کے علاقے تور درہ میں ان کے مراکز پر لیزری دوربینوں کے ذریعے کارروائی کی گئی تھی، جس میں 10 داعــــــشی مارے گئے تھے، جب کہ یکم مارچ کو اورکزی کے علاقے غلجو کے تورکانی اور نریک میں ایک حملے کے دوران دو اہم د!عشی کمانڈروں حاجی الرحمن (ابو ناصر) اور ملا فاروقی سمیت 9 د!عشی ہلاک کیے گئے تھے۔ کابل ڈائری چینل کو اپنے دوستوں کے لیے شیئر کریں...🌹 شکریہ ⭐ فالو ❤️ لائیک 📝 کمنٹ 📤 شیئر https://whatsapp.com/channel/0029VbBccMBElagwW8mVCh3D

  • عراق میں تباہ ہونے والے ایندھن بردار امریکی طیارے کا عملہ ہلاک امریکی فوج کی مرکزی کمان نے کہا ہے کہ مغربی عراق میں گرنے والے امریکی ریفیولنگ طیارے پر سوار عملے کے تمام چھ ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔ کمان نے پہلے جمعہ کو ہلاکتوں کی تعداد چار بتائی تھی جبکہ باقی دو اہلکاروں کی تلاش جاری تھی۔ اس سے قبل ایک بیان میں مشرق وسطیٰ کے معاملات کی نگرانی کرنے والی امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس مشن میں دو طیارے شامل تھے جن میں سے ایک بحفاظت لینڈ کر گیا جبکہ دوسرا مغربی عراق میں گر گیا۔ اس واقعے میں شامل یہ دونوں طیارے ایندھن بردار KC-135 ٹینکر ایئر کرافٹ تھے۔ امریکی فوج نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ واقعے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ابتدائی اندازے کے مطابق یہ واقعہ دشمن کی فائرنگ یا دوستانہ فائر کے باعث پیش نہیں آیا۔

  • 6 мар.5222из spluspk

    عراقی کرد گروپس ایران بارڈر کے نزدیک سلیمانیہ میں پہونچ گئے ہیں اور وہاں ٹریننگ کر رہے ہیں، لازمی بات ہے انہیں کچھ نہ کچھ ڈالر مل گئے ہوں گے - انہیں ٹرمپ کی آشیر باد حاصل ہے https://x.com/i/status/2029643061450375622

  • ‏قطر کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس کے سائبر کرائم ڈپارٹمنٹ نے ملک میں ’ویڈیو کلپس بنانے، پھیلانے اور گمراہ کُن معلومات شائع کر کے عوامی رائے کو مسخ کرنے‘ کے الزام میں متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے 194 افراد کو گرفتار کیا ہے۔قطر کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا رہی ہے:BBC

  • ‏🔴 دبئی سے انخلا ایئرپورٹ کی بندش اور محدود پروازوں کی وجہ سے انتہائی مہنگا ہو گیا ہے۔ • کچھ خاندان نجی طیاروں کے ذریعے نکلنے کے لیے 250,000 ڈالر تک ادا کر رہے ہیں۔ • دیگر افراد عمان یا سعودی عرب تک گاڑیوں کے ذریعے جاتے ہیں تاکہ وہاں سے پرواز پکڑ سکیں، اور زمینی سفر کی لاگت 5,000 ڈالر تک پہنچ رہی ہے۔ -فنانشل ٹائمز

  • 25 февр.587из spluspk

    ‏رائٹرز کی اس خبر کے مطابق ایران چین سے سی ایم-302 (CM-302) نامی سپرسانک اینٹی شپ کروز میزائل خریدنے کے معاہدے کے قریب ہے، جو تقریباً 290 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں اور تیزی سے نیچی پرواز کر کے بحری دفاعی نظام سے بچ سکتے ہیں۔ یہ بات 24 فروری 2026 کو جان آئرش (John Irish)، پریسا حافظی (Parisa Hafezi) اور گیون فنچ (Gavin Finch) کی رپورٹ میں سامنے آئی، جس میں بتایا گیا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 دن کی جنگ کے بعد مذاکرات تیز ہوئے اور ایران کے نائب وزیر دفاع مسعود اورعی (Massoud Oraei) سمیت اعلیٰ حکام چین گئے۔ امریکہ اس وقت ایران کے قریب بڑا بحری بیڑا تعینات کر رہا ہے جس میں یو ایس ایس ابراہام لنکن (USS Abraham Lincoln) اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (USS Gerald R. Ford) شامل ہیں جو 5,000 سے زائد اہلکار اور 150 طیارے لے جا سکتے ہیں، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے 19 فروری کو ایران کو 10 دن کی مہلت دی ہے۔ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کی 2006 کی اسلحہ پابندیوں کے باوجود ہو سکتا ہے جو 2015 میں معطل ہوئیں اور پھر گزشتہ ستمبر دوبارہ لگ گئیں، اور ماہرین کے مطابق اس سے ایران کی کمزور ہو چکی عسکری طاقت مضبوط ہو جائے گی۔ چین، روس اور ایران کے بڑھتے تعلقات اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث یہ سودا امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ طویل فوجی کارروائیوں کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ https://t.me/ConflictM/2538

  • ‏امریکی بحریہ کا سب سے بڑا اور تقریباً 13 بلین ڈالر لاگت والا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (USS Gerald R. Ford)، جو ایران کے قریب تعینات بتایا جا رہا ہے، اپنے ٹوائلٹ سسٹم کے سنگین مسائل کا شکار ہے۔ جہاز پر 4,000 سے زائد عملے کے لیے 650 ٹوائلٹ ہیں لیکن بہت سے خراب ہو چکے ہیں جس سے 45 منٹ تک قطاریں لگ رہی ہیں۔ ویکیوم کلیکشن، ہولڈنگ اینڈ ٹرانسفر سسٹم میں خرابی کی وجہ سے اگر ایک والوو خراب ہو جائے تو پورے حصے کے ٹوائلٹ بند ہو جاتے ہیں اور کئی بڑی مرمتیں صرف بندرگاہ پر ہی ممکن ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2023 سے اب تک پلمبنگ کے 42 مرمتی کیسز ہو چکے ہیں جن میں سے 32 کالز 2025 میں آئیں جبکہ صرف چار دنوں میں 205 ٹوائلٹ خراب ہونے کی ای میلز بھی سامنے آئیں۔ 2020 کی گورنمنٹ اکاونٹیبلٹی آفس رپورٹ کے مطابق سیوریج پائپیں تنگ ہیں اور انہیں کھولنے کے لیے ہر بار 400,000 ڈالر مالیت کا خاص تیزابی کیمیکل استعمال کرنا پڑتا ہے، جس سے مسئلہ مزید سنگین دکھائی دیتا ہے۔ #ConflictInAsia https://t.me/ConflictM/2537

  • کیا جنگ نا گزیر ہے؟ خطے میں صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے، حالات بتا رہے ہیں کہ امریکہ- ایران جنگ ہو سکتی ہے۔جب امریکی جنگی بحری بیڑہ "ابراہام لنکن " خلیج فارس میں داخل ہوا تو یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے اور امریکی مرضی کے مطابق معاہدہ کرنے کے لئے ،ایران پر دباو بڑھانے کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔ لیکن ایک طرف تو یہ بات چیت بھی چل رہی ہے دوسری طرف امریکہ کی جنگی تیاریوں میں اب غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔مثلا امریکہ کا دوسرا جنگی بحری بیڑہ "جیرالڈ فورڈ " جو امریکہ ہی کا نہیں بلکہ دنیا بھر کا سب سے بڑا بحری جنگی بیڑہ ہے، خلیج فارس کی طرف روانہ ہو چکا ہے اور ہفتہ، دس دن تک ایرانی پانیوں کے نزدیک پہنچ جائے گا۔ "ابراہام لنکن " یہاں پہلے سے موجود ہے اور ایرانی ساحل سے 700 کلو میٹر دور ہے۔اس پر 60 سے زائد ائر کرافٹ موجود ہیں۔جیرالڈ فورڈ پر 70 سے زائد ائر کرافٹ موجود ہیں، جیرالڈ فورڈ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس پر انتہائی جدید ریڈار سسٹم نصب ہے، جو پورے بحری بیڑے پر کسی بھی حملے کو غیر موثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی نہیں امریکہ نے جرمنی، اسپین اور برطانیہ میں اپنے فوجی اڈوں پر اپنا E3 سنٹری ائر کرافٹ سسٹم نصب کر دیا ہے۔یہ امریکہ کا سب سے جدید فضائی نگرانی کا نظام ہے جو نہ صرف پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے بلکہ بیک وقت 600 سے زائد حملہ آور ائر کرافٹ، ڈرون اور بیلسٹک میزائل کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شرق اوسط میں موجود ہر امریکی اڈہ الرٹ ہے۔اینٹی میزائل سسٹم صرف خطے میں قائم امریکی اڈوں ہی کا دفاع نہیں کریں گے بلکہ اسرائیل کا دفاع بھی کریں گے۔ شرق اوسط میں امریکہ کی اتنی بھاری جنگی تیاریاں 2003 کی عراق جنگ کے بعد اب دیکھی جا رہی ہیں۔ ان ساری سرگرمیوں اور فوجی نقل و حمل میں کروڑوں ڈالر خرچ ہوئے ہوں گے تو کیا یہ سارا تماشا صرف اس لیے ہے کہ ایران پر دباو بڑھایا جائے یا امریکہ جنگی اقدام کا فیصلہ کر چکا ہے؟ غیر ملکی مبصرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکہ، ایران میں محدود جنگی کارروائی کر سکتا ہے، اور ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت کو نشانہ بنا کر رجیم چینج کا ڈول ڈال سکتا ہے۔ ایران میں داخلی طور پر بعض مخالف عناصر کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، یا وہ خود اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔مثلا ایرانی کرد۔۔۔۔سیستان-بلوچستان عنصر۔۔۔۔سازمان مجاہدین خلق۔۔۔۔۔اور وہ رجیم مخالف عنصر جس نے حال ہی میں شدید مظاہرے کئے اور 5 ہزار سے زائد افراد مارے گئے۔ امریکہ ایران کو ختم نہیں کرے گا بلکہ اتنا منقسم اور کمزور کر دینا چاہتا ہے کہ اسرائیل کو اس سے خطرہ محسوس نہ ہو۔ عراق۔۔۔۔شام۔۔۔۔۔لیبیا جیسا ملک بنانا چاہتا ہے۔ ایران میں موجود CIA کا نیٹ ورک اور موساد کی موثر موجودگی اس منصوبے کو آسان بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایران جنگ نہیں چاہتا۔۔۔ایک ماہ میں دو بار بالواسطہ بات چیت کے عمل میں شامل رہا ہے، امریکہ کو کچھ معاشی ترغیبات بھی دیں ہیں۔ اس بات چیت کو دونوں ممالک کے مبصرین مثبت قرار دے رہے ہیں۔۔۔۔۔اس کے باوجود امریکہ کی یہ جنگی تیاریاں خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا چکی ہیں۔ نگار سجاد ظہیر 21 فروری 2026 #ConflictInAsia

  • بحیرہ عمان میں ایران اور روس کی مشترکہ فوجی مشقوں کا اعلان ایرانی میڈیا کے مطابق ایران اور روس جمعرات کے روز بحیرۂ عمان میں بحری مشقیں کریں گے۔ یہ اعلان جنیوا میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ پیر کے روز ایران کی فوج کے نظریاتی بازو، پاسدارانِ انقلاب نے بھی آبنائے ہرمز میں مشقیں شروع کیں، جو خطے میں تعینات امریکی بحری افواج کے لیے ایک چیلنج سمجھی جا رہی ہیں۔ #ConflictInAsia

  • روس کے یوکرین پر حملے کے چوتھے سال کی آمد سے صرف چار روز قبل ماسکو اور کییف کے نمائندوں کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے تازہ مذاکرات بدھ کے روز بغیر کسی نمایاں پیش رفت کے ختم ہو گئے۔ #ConflictInAsia

  • پولینڈ کی فوج نے حساس معلومات تک ممکنہ رسائی کو روکنے کے لیے چینی ساختہ گاڑیوں کے فوجی تنصیبات میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ پولش فوج نے ایک بیان میں کہا کہ بعض گاڑیاں جدید سینسرز اور مواصلاتی نظام سے لیس ہوتی ہیں۔ #ConflictInAsia

  • 13 февр.521из Kabul_Diary

    روس کیوبا کے معاملے پر کیا کرے؟ جنوبی عالمی نظام اور عالمی طاقتوں کی کشمکش رپورٹ: کیوبا کے حوالے سے روس کی ذمہ داری اور جنوبی عالمی نظام کا مستقبل کے نام سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ: کیوبا کے گرد موجود صورتِ حال اب ایک ایسی علامت بن چکی ہے، جو یک قطبی عالمی نظام سے کثیر قطبی دنیا کی حقیقی منتقلی کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر ماسکو اور بیجنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کو یہ موقع دے دیں کہ وہ ’’جزیرۂ آزادی‘‘ (کیوبا) کو اپنے اثر میں لے لے تو یہ جنوبی دنیا کی تمام تحریکوں کے لیے ایک واضح پیغام ہوگا کہ امریکا کی بالادستی دوبارہ قائم ہو چکی ہے اور اس کی مخالفت کا دور ختم ہو گیا ہے۔ کیوبا طویل عرصے سے امریکی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کی ایک ایسی علامت رہا ہے، جس پر واشنگٹن نے یک قطبی دور کے عروج میں بھی براہِ راست حملہ نہیں کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں ایسا ممکن ہے؟ کیوبا کو بچانے کے امکانات موجود ہیں اور وہ کم نہیں ہیں۔ پہلا قدم اس جزیرے کو تیل کی فراہمی اور ہوانا کے لیے معاشی امداد ہو سکتا ہے۔ تاہم اس سے زیادہ مؤثر قدم روس کی فوجی موجودگی کیوبا میں دوبارہ بحال کرنا ہوگا۔ یاد رہے کہ سال 2002 میں ماسکو نے جارج بش جونیئر کی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے لوردس میں قائم اپنا الیکٹرانک نگرانی مرکز بند کر دیا تھا۔ اس سے قبل 1992 میں روسی فوجی دستے بھی کیوبا سے واپس بلا لیے گئے تھے۔ موجودہ حالات میں تجزیے کے مطابق ان اقدامات کو اُلٹنے کی ضرورت ہے۔ کیوبا میں روس کی مستقل فوجی موجودگی ماسکو کے لیے شام یا افریقی ممالک میں موجودگی سے کم اہم نہیں سمجھی جاتی۔ اس مقصد کے لیے غیر معمولی عسکری طاقت کے اظہار کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ تاہم ایک موٹرائزڈ رائفل بریگیڈ، ایک فضائی دفاعی ڈویژن اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن امریکی مداخلت کو روکنے کے لیے کافی تصور کیا جاتا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر امریکا پولینڈ میں اپنی فوجی موجودگی یقینی بنا سکتا ہے تو روس کیوبا میں ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ مبصرین کے مطابق اس جزیرے میں مسلح افواج کی تعیناتی روس کے لیے نمایاں فوجی اور سیاسی فوائد لا سکتی ہے۔ البتہ ایسی کسی پیش رفت کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے معاندانہ اقدام سمجھا جا سکتا ہے اور ’’انکوریج کی روح‘‘... جو پہلے ہی متنازع سمجھی جاتی ہے، کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وینزویلا اور ایران کے حوالے سے امریکی اقدامات اور روسی تیل کی برآمدات کے خلاف کارروائیوں نے اس فضا کو پہلے ہی کمزور کر دیا ہے۔ ایک معروف کہاوت کے مطابق کہ جو چیز مر چکی ہو وہ دوبارہ نہیں مرتی۔ اسی تناظر میں کیوبا کی حمایت روس کی عالمی سیاست میں ایک خودمختار کردار کے طور پر ساکھ کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔

  • 13 февр.472из Kabul_Diary

    روس کیوبا کے معاملے پر کیا کرے؟ جنوبی عالمی نظام اور عالمی طاقتوں کی کشمکش

  • انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ انڈیا اور یورپی یونین نے ایک تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے، جو دنیا کی معیشت کے ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرے گا۔ دونوں فریق امریکہ کے ساتھ غیر یقینی تعلقات کے تناظر میں متبادل راستے اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تقریباً دو دہائیوں پر محیط وقفے وقفے سے ہونے والے مذاکرات کے بعد، یہ معاہدہ انڈیا کے وسیع اور نسبتاً محفوظ مارکیٹ کو 27 رکنی یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارت کے لیے کھولنے کی راہ ہموار کرے گا۔ یورپی یونین انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ایک ویڈیو پیغام میں مودی نے کہا ’کل یورپی یونین اور انڈیا کے درمیان ایک بڑا معاہدہ طے پایا ہے۔ ’دنیا بھر کے لوگ اسے تمام معاہدوں کی ماں قرار دے رہے ہیں۔ یہ معاہدہ انڈیا کے 1.4 ارب عوام اور یورپ کے لاکھوں لوگوں کے لیے بڑے مواقع پیدا کرے گا۔‘ مودی کے مطابق یہ معاہدہ عالمی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے 25 فیصد اور عالمی تجارت کے ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ امکان ہے کہ مودی اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن منگل کے روز نئی دہلی میں ہونے والے انڈیا یورپی یونین سربراہ اجلاس کے دوران اس معاہدے کی تفصیلات کے ساتھ مشترکہ اعلان کریں گے۔ مالی سال مارچ 2025 تک انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کا حجم 136.5 ارب ڈالر رہا۔ https://www.independenturdu.com/node/184328

  • روسی حملوں کا نشانہ ’مذاکرات کی میز‘ بنی ہے، یوکرین یوکرین نے روس کی جانب سے گزشتہ شب کیے جانے والے مہلک حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب روس، یوکرین اور امریکہ کے مذاکرات کار ابوظہبی میں جنگ بندی کے لیے دوسرے روز بھی ملاقات کرنے والے تھے۔

  • اسرائیل وامریکا کا ایران پر ممکنہ حملہ: پروازیں منسوخ، مقابلے کیلئے پوری طرح تیار ہیں، ایران ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے آثار ہیں کہ اسرائیل اب بھی ایران پر حملہ کرنے کا موقع تلاش کر رہا ہے۔ ترک وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اس طرح کا اقدام خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر دے گا۔ جمعے کو ایک انٹرویو میں ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ وہ [اسرائیلی حکام] ایک مختلف راستہ اختیار کریں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں ہے۔‘ قبل ازیں ترک وزیر خارجہ نے ایران میں پیش رفت کے بارے میں انقرہ کے نقطہ نظر کے بارے میں کہا تھا کہ ترکی علاقائی استحکام اور سلامتی کا خیال رکھتا ہے اور ایران میں فوجی مداخلت کا مخالف ہے۔ ایران میں ملک گیر مظاہروں کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ایران میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا اثر ہم پر پڑتا ہے۔ اسی لیے ہم اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔‘ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے بھی گذشتہ پیر کو کہا تھا: ’ہمارے پڑوسی ایران کو اسرائیلی حملے کے بعد اب سماجی بدامنی کے ایک نئے امتحان کا سامنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے ایرانی بھائی اس دور سے گزریں گے۔‘ ترک وزیر خارجہ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ’بڑے بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز‘ کے ساتھ ایران کے مسائل کو حل کرنا ترکی کے مفاد میں ہو گا۔ دوسری جانب کئی ایئر لائنز نے اعلان کیا ہے کہ اُنھوں نے سنیچر کو مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ ایئر فرانس، لفتھانسا، ایئر کینیڈا اور کے ایل ایم نیدرلینڈز کا کہنا ہے کہ وہ کم از کم اتوار تک اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں آپریٹ نہیں کریں گے۔ بی بی سی فارسی نے میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ پروازیں ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی تصادم کے امکان کے درمیان منسوخ کی گئی ہیں۔ اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل آئی 24 نیوز نے بھی ’ایئرپورٹ کی ویب سائٹس پر شائع ہونے والی پرواز کی معلومات‘ پر مبنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ رائل ڈچ ایئر لائنز اور سوئس نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب ایک سینئر ایرانی اہلکار نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کے سٹرائیک گروپ اور خطے میں دیگر امریکی فوجی سازو سامان کی آمد کے پیشِ نظر ایران کو ’مکمل جنگ‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بی بی سی فارسی کے مطابق مذکورہ ایرانی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز سے گفتگو میں اُمید ظاہر کی کہ امریکی فوج کی نقل و حرکت کسی بڑے فوجی تصادم کا باعث نہیں بنے گی۔ لیکن اُن کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر چوکس ہے۔ تاہم اُنھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی حملے کی صورت میں ایران کا متوقع ردِعمل کیا ہو سکتا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق طیارہ بردار امریکی بحری جہاز ابراہم لنکن اگلے چند روز میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے علاقے میں ہو گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ابھی ایران پر حملے کی حدود میں نہیں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حال ہی میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ’عظیم طاقت‘ ایران کی جانب بڑھ رہ یہے۔ لیکن ’وہ کچھ نہ ہونے دینے کو ترجیح دیں گے۔‘ ساتھ ہی صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم انھیں بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔‘ خبر رساں ادارے روٹرز کے مطابق امریکی فوج ماضی میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے پیشِ نظر یہاں اپنی فوجی قوت میں اضافہ کرتی رہی ہے۔ امریکہ نے گذشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں سمیت خطے کے ممالک میں اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی اخبار ’ہارٹیز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر کے ایل ایم اور ایئر فرانس نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ اخبار کے مطابق گذشتہ ہفتے لفتھانسا گروپ نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے لیے رات کے وقت اپنی پروازیں معطل کر دے گا۔ #Iran #USA #israel

  • حکومت مخالف احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کم از کم پانچ ہزار، ایرانی اہلکار کا بیان ایران میں کئی روزہ حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی مصدقہ تعداد کم ازکم بھی 5,000 بنتی ہے، جن میں تقریباﹰ 500 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ بات ایک ایرانی اہلکار نے اتوار 18 جنوری کے روز بتائی۔

  • ایران میں اٹھارہ سال سے لے کر تیس سال کے ہر مرد پر فوجی تربیت لازمی ہے جس کا عرصہ 18 ماہ سے 2 سال تک ہو سکتا ہے ۔ پاسداران انقلاب اور باسیج وغیرہ خالص عوامی فوجیں ہیں جنہوں نے پچھلے چالیس پچاس سال کے اقتدار میں لاکھوں لوگوں کو لڑنا سکھایا ہے ۔ یعنی ایرانی عوام کی اکثریت لڑنا و جدید اسلحے کا استعمال جانتی ہے اور انہیں بے محابہ جنگوں میں بھی جھونکا گیا ہے ۔ اب اگر یہ جنگ کی ماہر عوام کسی جگہ پر مسلح مزاحمت پر اتر آئے تو کیا یہ موساد یا سی آئی اے کی ایجنٹ ہو جائے گی !!! کیا اس کی ویڈیوز دکھا کر یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ یہ تربیت یافتہ و ایجنٹ لوگ ہیں !!! اس میں شک نہیں کہ غیر ملکی ایجنٹ ان کی صفوف میں شامل ہوسکتے ہیں ایرانی چینیوں کے بعد دنیا کی دوسری قوم ہیں جو کہ غیر ملکی قوتوں کو اپنی خدمات پیش کرسکتے ہیں ۔ سورہ روم میں جن جنگوں کا تذکرہ ہے اس میں عظیم ایرانی جنرل شہر براز نے عین اسوقت ایرانی بادشاہ خسرو پرویز سے غداری کی جب کہ وہ قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے دھانے پر تھا ۔ اس نے بعد میں تخت پر قبضہ بھی کر لیا تھا تھوڑی مدت کے لیے ۔ اس کا ایک بیٹا سیدنا عمر و عثمان کے زمانے میں مسلمانوں سے لڑتا بھی رہا ہے بعد میں اسلام قبول کر کے سکونت اختیار کی ۔ بہرحال چینی ، افغانی اور ایرانی ان کی تاریخ ہے جو کہ کسی کے کہنے سے نہیں بدلی جائے گی کہ غیر ملکی اقوام کو خدمات پیش کردیتے ہیں ۔ اس لیے یہ ناممکنات میں سے نہیں ہے لیکن فلحال یہ ایک الزام ہے جس کی آذاد ذرائع سے کوئی تصدیق ممکن نہیں بلکہ اسرائیلی و امریکی میڈیا ہینڈلز میں اس تاثر کو ابھار رہے ہیں ۔اصل معاملہ یہی ہے کہ یہ ایک جنگجو قوم ہے جو کہ تربیت یافتہ ہے اور ایرانی حکومت کا جانا ٹھہر چکا ہے ۔ آج گئی کہ کل ۔لہریں اٹھ رہی ہیں طوفان آنے والا ہے بیگ #ConflictInAsia

Conflict In Asia — tgindex