BALOCHISTAN NEWS
Статистикаبلوچستان کے متعلق خبریں https://whatsapp.com/channel/0029Vb7q7VkAInPjT8pGTl3J
- Последний пост
- 11 мая
- Последнее чтение
- 13 авг.
- Постов за неделю
- 0
- Всего постов
- 20
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- —
- 1/48двое суток
- —
- 1/72трое суток
- —
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
تمام دکاندار اور پیٹرول پمپ حضرات سے محبت بھری گزارش ہے کہ اس وقت شدید گرمی کا موسم ہے۔ براہِ کرم اپنی دکان کے سامنے ایک ٹھنڈا واٹر کولر رکھیں یا مٹکہ تاکہ کوئی ادمی ٹھنڈا پانی پی سکے اس پر اللہ تعالیٰ آپ کو ثواب دیگا اس پیغام کو آگے ضرور پہنچائیں
ٹی ایم ٹائیگر کےنام سےمشہور بریگیڈئیر طارق محمود بلوچستان تعیناتی (1977 تا 1982) کے دوران بلوچوں کو ہیلی کاپٹر سے پھینک کر قتل کرنے کے لیے مشہور تھا ۔ 19 مئی 1989 جب پیرا شوٹ نہ کھلنے کے سبب وہ اسمان سے گر کر ہلاک ہوا تو کسی کو حیرانگی نہ ہوئی یہ گواہی دینے والے شخص کا نام ڈاکٹر مجاہد عظیم طارق ہے جنہوں نے کئی سال سی ایم ایچ کوئٹہ میں خدمات سر انجام دیں۔ #BalochistanFacts #Balochistan https://x.com/i/status/2053359512346669330 https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Bqt3LCoWyJ9OYVB1Y https://t.me/spluspk
کراچی کی مقامی بلوچ بستیوں کو ریاستی سر پرستی میں چلنے والے مافیاز کے زریعے خالی کروانا انتہائی تشویشناک ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کے ساحلی علاقے بلیجی، خاص طور پر تاریخی ماہی گیر بستی عبدالرحمٰن گوٹھ اور اس کی ملحقہ ساحلی پٹیوں میں ریاست کی مسلح فورسز کی جانب سے مقامی (بلوچ، سندھی، اور دیگر اقوام ) رہائشیوں کے گھروں کو بلڈوز کرنا اور انہیں طاقت کے زور پر ان کی آبائی زمین سے بے دخل کرنا انتہائی قابلِ مذمت اور ریاستی جبر کی بدترین شکل ہے۔ یہ علاقہ، جو صدیوں پرانی مقامی تاریخی روایت کا امین ہے، اب براہِ راست ریاستی غصب کے نشانے پر ہے۔ بلیجی اور عبدالرحمٰن گوٹھ سمیت کراچی کے یہ ساحلی علاقے قیامِ پاکستان سے بھی دہائیوں قبل کے آباد ہیں۔ لہٰذا، ان تاریخی زمینوں پر سرکاری افسران اور ریاستی اداروں کے ملکیت کا دعویٰ اور ان کو سرکاری زمین (اسٹیٹ لینڈ) اور ترقی کے نام پر یا دیگر جبری جعلی ذرائع کو استعمال کرکے بزور اپنی تحویل میں لینا تاریخ کو مسخ کرنے اور اپنے ناجائز قبضے کو قانونی شکل دینے کی ایک سازش ہے۔ اس جبر کی تازہ مثال حال ہی میں اس وقت سامنے آئی جب ریاستی مسلح فورسز کے افسران نے جعلی اور فرضی دستاویز دکھا کر جبر و دھونس کا استعمال کیا اور بنا کسی قانونی جواز کے مقامی رہائشیوں کے گھروں کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔ یہ اس استحصالی گٹھ جوڑ کے خلاف جب ایک مقامی باشندے نے اپنی آبائی زمین کو بچانے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی۔ جواب میں، اس تاریخی اراضی پر قابض ایک بااثر ریاستی افسر (کرنل) نے اپنے اختیارات کا بے دریغ اور ناجائز استعمال کرتے ہوئے، الٹا اسی شہری کے خلاف مار پیٹ، دھمکیوں اور اراضی پر قبضے کی جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر (FIR) درج کروا دی۔ یہ سراسر ریاستی دھونس ہے کہ جو خود غاصب ہے، وہ ریاستی مشینری کو استعمال کر کے مظلوم کو ہی ظالم بنا کر پیش کر رہا ہے۔ اس افسر نے سندھ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے نہ صرف اس زمین کے جعلی کاغذات تیار کروائے ہیں بلکہ ان علاقوں میں اراضی کی لیز پر مکمل قانونی پابندی کے باوجود، اسے غیر قانونی طور پر اپنے نام لیز بھی کروا لیا ہے۔ اب اس قبضے کو طول دینے کے لیے مقامی آبادی میں منظم طریقے سے خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے۔ نام نہاد مسروقہ املاک یا دیگر فرضی مقدمات کی آڑ میں، اپنی ہی زمین کے قریب سے گزرنے والے عام بلوچ اور دیگر اقوام کے مقامی باشندوں کو ہراساں کر کے بلاجواز گرفتار کیا جا رہا ہے اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ ظلم و بربریت کی انتہا یہ ہے کہ ریاستی اہلکاروں کی جانب سے نہتے مقامی لوگوں پر سیدھی فائرنگ تک کی گئی ہے اور علاقے کے رہائشی اس ریاستی جبر کے شاہد ہیں۔ ریاست ان ظالمانہ کارروائیوں کے ذریعے دراصل کراچی کی ان قدیم آبادیوں کو بے گھر کر کے بلیجی اور عبدالرحمٰن گوٹھ کی قیمتی ساحلی پٹی اور سمندری وسائل پر اپنا مکمل عسکری اور کمرشل تسلط قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ قبضہ اس منظم ریاستی استحصالی منصوبے کا حصہ ہے جس کا واحد مقصد کراچی کے مقامی بلوچ اور دیگر قدیم باشندوں کو ڈیموگرافک انجینئرنگ کے ذریعے بے دخل کر کے ان کی تاریخی شناخت ختم کرنا ہے۔ ریاست کا نام نہاد ترقی کا بیانیہ بھی ہمیشہ اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس کی واضح مثال ملیر ایکسپریس وے کا منصوبہ ہے، جس کی آڑ میں ملیر کے مقامی علاقوں کو مسمار کیا گیا، زرعی زمینیں تباہ کی گئیں اور مقامی آبادی کو دربدر کر کے سرمایہ دار اشرافیہ کے لیے روڈ اور ان کے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو سہولیات دی گئیں۔ اسی استحصالی طرزِ عمل کی ایک اور مثال ماڑی پور کے پرانے ماہی گیر علاقے یونس آباد میں دیکھی گئی۔ یونس آباد بھی کراچی کی ان پرانے ماہیگیر بستیوں میں سے ایک ہے جہاں کئی اقوام آباد ہیں، لیکن وہاں حکومتی اداروں نے رہائشی ماہیگیروں کے تاریخی زمینی حقوق کو پامال کرتے ہوئے سرکاری رہائشی سوسائٹی کی توسیع اور سرکاری اراضی کے نام پر غاصبانہ کارروائی کی اور محض قریبی سوسائٹی کو بڑا کرنے کی غرض سے یونس آباد کا اسپورٹس گراؤنڈ، ہیلتھ آفس اور کئی مکینوں کے گھر مسمار کر دیے گئے۔ آج بلیجی کے ساحل پر بھی بعینہٖ انہی روایتی ہتھکنڈوں کو دہرایا جا رہا ہے، جہاں قدیم بلوچ اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں سے ان کی چھت چھینی جا رہی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ بلیجی، عبدالرحمٰن گوٹھ اور یونس آباد سمیت کراچی کے تمام مقامی علاقوں میں جاری یہ غیر آئینی ریاستی آپریشن اور گھروں کی مسماری فی الفور روکی جائے۔ تمام متاثرہ خاندانوں کو ان کی آبائی زمینوں پر باعزت طریقے سے بحال کر کے ان کے نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔ ہم عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان قدیم بستیوں پر ہونے۔۔۔۔۔
پنجگور: گومانزی علاقہ پاروم میں فوجیوں پر حملہ ہوا۔ اس حملے میں دو پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے۔ #Balochistan #بلوچستان #BLA #BLF
حکومت نے پہلے سولر پلیٹس پر دراۤمدی ٹیکس لگائے، پھر سولر سسٹم کی بجلی کے ریٹ کم کئے، اب ان پر فی کلوواٹ ٹیکس کی باتیں چل رہی ہیں مگر(اسکے باوجود) سولر نہیں رُک رہا۔۔۔اگر حالات یہی رہے تو عین ممکن ہے حکومت سولر پلیٹ لگانے کو ہی "جرم" قرار دے دے۔۔یہ بدگُمانی اسلئے ہے کہ پاکستان میں بجلی کے پلانٹس عام لوگوں کے نہیں' بڑے بڑے لوگوں کے ہیں۔ انہیں بچانے کیلئے حکومت کو جو کچھ بھی کرنا پڑا، وہ ضرور کرے گی: حبیب اکرم https://whatsapp.com/channel/0029Vb7q7VkAInPjT8pGTl3J
کتنی شرمناک بات ہے۔ ایک وقت تھا جب نوجوان اور بزرگ مرد اپنے لاپتہ پیاروں کے لیے آواز اٹھاتے تو انہیں ہراساں کیا جاتا، دھمکیاں دی جاتیں اور حتیٰ کہ جبری طور پر غائب کر دیا جاتا۔ اسی جبر کے باعث خواتین کو سڑکوں پر آنا پڑا اور احتجاج کی ذمہ داری سنبھالنی پڑی۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک خاتون کو محض اپنے بھائی کی جبری گمشدگی کے خلاف پُرامن احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عام بلوچ کے دل و دماغ میں مزید نفرت اور بے چینی پیدا کرنا کا کوئی موقع نہیں چھوڑا جا رہا۔ فوزیہ بلوچ کو پولیس نے کراچی پریس کلب کے باہر سے اٹھایا جہاں وہ چار روز قبل اغوا ہونے والے اپنے بھائی کے بارے میں پریس کانفرنس کرنے جا رہی تھی۔ https://t.me/ConflictM/2616
صحافت اگر حق کے ساتھ کھڑی رہے تو قوم کی آواز بنتی ہے، اور اگر اقتدار کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو صرف ایک ملازم بن کر رہ جاتی ہے۔
#بلوچستان ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کے میڈیکل سپریٹینڈنٹ کی جانب سے ایک سرکلر (حکمنامہ) جاری کیا گیا ہے جسکے مطابق اب اگر کوئی ہارٹ اٹیک کا مریض ٹیچنگ ہسپتال لورالائی لایا جائے تو ڈاکٹر اس وقت تک مریض کو ہاتھ نہیں لگائے گا جب تک مریض کے ورثاء مخصوص انجکشن streptokinase کے مد میں مبلغ 1500 روپیہ قیمت ادا نہیں کرتے۔ یعنی دل کا مریض بستر مرگ پر تڑپ رہا ہوگا، مریض کے بچے اور لواحقین غم سے نڈھال ہونگے اور ڈاکٹر صاحب کا عملہ مریض کے پاس کھڑا انجکشن کا معاوضہ مانگ رہا ہوگا۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb7q7VkAInPjT8pGTl3J
کردگاپ میں مبینہ ماورائے عدالت قتل کیے گئے سفیر، امان اللہ اور عرفان کی لاشیں وی بی ایم پی نے سی ٹی ڈی سے وصول کرکے لواحقین کے حوالے کر دیں۔ وی بی ایم پی نے واقعے کا نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کرنے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے
کوئٹہ: نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ بنت پیر جان کی جبری گمشدگی کے خلاف طالبات کا احتجاجی دھرنا جاری خدیجہ بلوچ کو گذشتہ شب پاکستانی فورسز نے بولان میڈیکل کالج کے گرلز ہاسٹل پر چھاپہ مار حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا جس کے بعد ان کے حوالے سے تاحال کوئی اطلاع نہیں
گلزادی بلوچ کو ہدہ جیل #کوئٹہ لانے سے پہلے سی ٹی ڈی کے مرد اہلکاروں نے چار گھنٹے سے زیادہ جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا ایک عورت کے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک کسی المیے سے کم نہیں گلزادی بلوچ جو کل ہر مظلوم کی آواز تھیں آج انھیں آپ کی آواز کی ضرورت ہے #ReleaseGullzadiBaloch #ReleaseBYCLeaders
بلوچستان کا بجٹ کہاں جاتا ہے ؟ بیٹا جیل محکمے میں گھوسٹ ملازمین کا نظام چلارہا اور باپ محکمہ زراعت میں
ایکٹنگ ڈی ایس پی قلعہ سیف اللہ انسپکٹر عاشق خٹک کو نوکری سے ڈسمس کر دیا گیا۔ نوٹیفیکیشن جاری *قلعہ سیف اللہ:* محکمہ پولیس نے ناقص تفتیش اور کیس پراپرٹی میں ردوبدل کرنے اور اقدام قتل کے ملزم کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے الزامات ثابت ہونے پر ڈی ایس پی قلعہ سیف اللہ انسپیکٹر عاشق خٹک کو آئی جی پولیس نے نوکری سے برخاست کر دیا۔
видео или голосовое, без подписи
видео или голосовое, без подписи
видео или голосовое, без подписи
پاکستان میں سکولوں کالجوں کے اساتذہ کی تنخواہوں کے پیسے نہیں ہوتے حکومت کے پاس لیکن جیل افسران کو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ٹریننگ کے لیے امریکہ برطانیہ بھیجتے ہیں یہ وہاں سے ذہنی جسمانی ٹارچر کے طریقے سیکھ کر آتے ہیں۔ ؟ #Balochiatan #Prison #Mach #MachJail #WomenPrisoners https://x.com/i/status/2045819227597078624
مچھ جیل کے حوالے سے جو خبر سوشل میڈیا پر شئیر ہورہی ہے ۔اس پر آل پاکستان پریژن سٹاف ایسوسی ایشن کا بیان ملاحظہ فرمائیں۔ اندازہ لگائیں کس قسم کا محکمہ ہے کس قسم کے بے حیا لوگ ہیں، جو اپنے اہلکاروں کی ماؤں بہنوں کو نہیں بخشتے وہ قیدی خواتین کیساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہونگے https://www.facebook.com/share/p/18GxUJYizn/
دہشت کی علامت سمجھنے جانے والے مچھ جیل کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہاں خواتین قیدیوں کو مہینوں سے ہراساں اور بلیک میل کیا جارہا ہے۔ مچھ کی ایک بااثر اور معزز شخصیت نے انکشاف کیا ہے کہ مچھ جیل میں موجود خواتین قیدیوں کو جیل انتظامیہ مبینہ طور پر جیل سپریٹینڈنٹ خرم ریاض کے احکامات پر تنگ کررہی ہے اور ہر دوسرے روز تلاشی کے نام پر ہراساں کرتی ہے۔ خواتین کے ورثاء کی جانب سے مچھ شہر کی معزز اور بااثر شخصیات کے علاوہ مچھ جیل میں قید پشتون اور بلوچ قبائلی شخصیات کے پاس بھی اس مسئلے کے حوالے سے پیغام پہنچایا گیا تھا۔ مچھ جیل سے ریٹائرڈ ہونے والے ایک سابق افسر کا کہنا تھا کہ یہ مچھ جیل کی تاریخ رہی ہے کہ سپریٹینڈنٹ مچھ شہر کی معزز شخصیات کی کسی قیدی کے حوالے سے جائز شکایت سن کر داد رسی کرتے تھے اسکے علاؤہ مچھ جیل میں قید ہونے والی بااثر بلوچ و پشتون قبائلی شخصیات کی بھی جائز شکایت سنتے تھے اور داد رسی کرتے تھے۔ اور ایسا انگریز دور میں بھی ہوتا رہا۔ یہ مچھ جیل کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ موجودہ سپریٹینڈنٹ خرم ریاض نے پشتون اور بلوچ قبائلی رہنماؤں کی اسطرح تذلیل کی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ چونکہ جیل میں فنڈز کی کمی اور سہولیات کا فقدان ہے۔ غریب قیدی دوائی راشن ، جرمانوں اور دیگر چھوٹی موٹی ضرورتوں کےلیے قبائلی رہنماؤں سرداروں اور صاحب حیثیت افراد کے پاس جاتے تھے اور بلوچ و پشتون سردار اپنی قبائلی روایات کا پاس رکھتے ہوئے قیدیوں کی ہر ممکن مدد کرتے تھے یہ ایک طرح سے جیل انتظامیہ سے بھی تعاون ہی تھا۔ لیکن موجودہ سپریٹینڈنٹ نے اپنی تعیناتی کے ساتھ ہی یہ نظام درہم برہم کیا ۔ اس وقت بی کلاس قصوری قیدیوں کے بند وارڈ کی طرح کردیا گیا ہے اور عام قیدیوں کی ان تک رسائی ناممکن بنادی گئی ہے۔ سردار نسیم کا واقعہ تو حال ہی کا ہے جنہیں پہلے بی کلاس سے نکالا گیا ، پھر مختلف بارکوں میں نشعے کے عادی اور ذہنی مریض افراد کے ساتھ رکھا گیا یہاں تک کہ ان پر قاتلانہ حملے کا واقعہ پیش آیا ۔ یہی وجہ ہے جب ہراسانی کا شکار قیدی خواتین کے ورثاء کی جانب سے ان قبائلی شخصیات پر بار بار پیغام پہنچانے کے باوجود مسئلہ جوں کا توں ہے کہ یہ شخصیات خود بھی اس سپریٹینڈنٹ کے ظلم کا شکار ہیں۔ موجودہ سپریٹینڈنٹ خرم ریاض پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ مچھ جیل میں قید افراد کے بااثر مخالف فریق سے رشوت کے عوض قیدیوں کو تنگ کرتے ہیں۔ سردار عجب خان ، حاجی صوبہ خان ، میر نور سمیت کئی معزز شخصیات یہ الزامات لگا چکے ہیں ۔ بہت سے ایسے قیدی بھی ہیں جو اپنی سزا مکمل کرچکے ہیں لیکن سپریٹینڈنٹ مخالف فریق سے بھاری رقم کے عوض رہائی قیدیوں کی رہائی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ خرم ریاض عمر قید کے قیدیوں کو 30 سے 35 لاکھ رشوت لے کر کئی قیدیوں کو چھوڑ چکے ہیں دوسری جانب دس سال بارہ سال تیرہ سال والے قیدی ابھی تک جیل میں ہیں کیونکہ مخالف فریق سے خرم ریاض رشوت وصول کررہا ہے۔ بہرحال مرد قیدیوں سے ہونے والی زیادتیاں پھر بھی قابل برداشت ہیں لیکن خواتین قیدیوں سے ہراسگی کا معاملہ نہایت سنگین ہے یہ بلوچ و پشتون روایات کے خلاف ہے جسے کسی صورت اہل علاقہ بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اور مچھ شہر میں اس حوالے سے سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ اس تحریر کے توسط سے انسانی حقوق کے کارکنوں اور خاتون وکلاء سے درخواست ہے کہ اگر انکے لیے ممکن ہو تو وہ مچھ جیل کا وزٹ کرکے ان قیدی خواتین سے ملاقات کریں اور ان کی شکایات سن لیں۔ #Balochistan #MachJail #womenrights https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02JuFKPdLWcaVLm4UFtvkssugnR7BN4r1v5KptDMpKj6e3xrCFFYSWG2JwTdFz4jh6l&id=61564963904808&mibextid=Nif5oz
مچھ جیل میں خواتین قیدیوں کو سپریٹینڈنٹ خرم ریاض کے احکامات پر ہراساں کیا جارہا ہے ۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور خاتون وکلاء سے درخواست ہے کہ اگر انکے لیے ممکن ہو تو وہ مچھ جیل کا وزٹ کرکے ان قیدی خواتین سے ملاقات کریں اور ان کی شکایات سن لیں۔ https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02JuFKPdLWcaVLm4UFtvkssugnR7BN4r1v5KptDMpKj6e3xrCFFYSWG2JwTdFz4jh6l&id=61564963904808&mibextid=Nif5oz