اسلامی اشعار
Статистикаاچھے اشعار کا مطالعہ کیا جائے تو وہ انسان کو بھلائی کے راستے پر لگاتے ہیں لیکن اس کے برعکس اگر لغویہ،محبتوں،محض ذکرِ بُتاں اور تذکرۂ شراب و کباب والے اشعار ہوں تو وہ انسان کو تباہی تک لے جاتے ہیں۔ اردو،عربی،فارسی،پشتو،سندھی اشعار کیلئے چینل سے منسلک ہوں ـ
- Последний пост
- 8 авг.
- Последнее чтение
- 13 авг.
- Постов за неделю
- 0
- Всего постов
- 20
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- 1 143
- 1/48двое суток
- 1 309
- 1/72трое суток
- 1 412
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر - اقبال عظیم فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں خود اُنھی کو پُکاریں گے ہم دُور سے ، راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر - اقبال عظیم فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں خود اُنھی کو پُکاریں گے ہم دُور سے ، راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے اور گلیوں میں قصدا بھٹک جائیں گے ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے ، ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا ، بندگی کا قرینہ بدل جائے گا سر جُھکانے کی فُرصت ملے گی کِسے ، خُود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے نامِ آقا جہاں بھی لیا جائے گا ، ذکر اُن کا جہاں بھی کیا جائے گا نُور ہی نُور سینوں میں بھر جائے گا ، ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے اے مدینے کے زائر خُدا کے لیے ، داستانِ سفر مُجھ کو یوں مت سُنا بات بڑھ جائے گی ، دل تڑپ جائے گا ، میرے محتاط آنسُو چھلک جائیں گے اُن کی چشمِ کرم کو ہے اس کی خبر ، کس مُسافر کو ہے کتنا شوقِ سفر ہم کو اقبال جب بھی اجازت ملی ، ہم بھی آقا کے دربار تک جائیں گے نوٹ:- یہ کلام آڈیو میں بھی ارسال کیا جارہا ہے ضرور سنیں ـ https://t.me/Deenislami/3075
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر - اقبال عظیم فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں خود اُنھی کو پُکاریں گے ہم دُور سے ، راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے اور گلیوں میں قصدا بھٹک جائیں گے ہم وہاں جا کے…
اسلامی اشعار pinned a video
کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے ====== ’’أللّٰهم صلّ علٰى محمد وعلٰى أٰل محمد كما صلیت علٰى إبراهیم وعلٰى أٰل إبراهیم إنك حمید مجید أللّٰهم بارك علٰى محمد و على أٰل محمد كما باركت علٰى إبراهیم وعلٰى أٰل إبراهیم إنك حمید مجید.‘‘
جہاں روضۂ پاک خیرالوریٰ ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے اقبال عظیم رح ============ جہاں روضۂ پاک خیرالوریٰ ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے محمد کی عظمت کو کیا پوچھتے ہو کہ وہ صاحب قاب قوسین ٹھہرے بشر کی سر عرش مہماں نوازی یہ عظمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جو عاصی کو دامن میں اپنے چھپا لے جو دشمن کو بھی زخم کھا کر دعا دے اسے اور کیا نام دے گا زمانہ وہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے شفاعت قیامت کی تابع نہیں ہے یہ چشمہ تو روز ازل سے ہے جاری خطا کار بندوں پہ لطف مسلسل شفاعت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے قیامت کا اک دن معین ہے لیکن ہمارے لیے ہر نفس ہے قیامت مدینے سے ہم جاں نثاروں کی دوری قیامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے تم اقبالؔ یہ نعت کہہ تو رہے ہو مگر یہ بھی سوچا کہ کیا کر رہے ہو کہاں تم کہاں مدح ممدوح یزداں یہ جرأت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
ایک دو روز کا صَدمہ ہو تو رولیں فاکر ہم کو ہر روز کے صَدمات نے رونے نہ دیا۔۔۔ سُدرشن فاکر
آدمی بس دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ پہلی قسم ؛ مجھے اس نے بہت گہرا زخم دیا۔ کیوں؟ آخر کیوں؟ کس لیے؟ کہاں ہو تم؟ میں اب بھی تمہارا منتظر ہوں۔ چھ برس بیت گئے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ تم نے اپنے آپ پر کیا گزاری ہوگی۔ میں نے چاہا تو بہت کہ تمہیں بھلا دوں، مگر نہ بھلا سکا۔ اب بس یہی دعا ہے کہ جہاں بھی ہو، خوش رہو۔ تم اب بھی میرے دل کے افق پر چمکتا ہوا سب سے حسین چاند ہو۔ میں ہمیشہ تمہاری راہ تکوں گا، انہی آنکھوں کے ساتھ جو آج بھی تمہاری منتظر ہیں۔ دوسری قسم ؛ زندگی بہرحال چلتی رہتی ہے
без подписи
без подписи
توحید پر مشتمل خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ رح کے خوبصورت اشعار ان اشعار کو آڈیو میں بہت ہی شیریں آواز میں آپ حضرات کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ـ اپنے ساتھیوں کو چینل میں شامل ہونے کی دعوت دیجئے اور صدقہ جاریہ کی نیت سےدوست و احباب میں ضرور شیئر فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء [https://t.me/Deenislami]
جو رد ہوئی ہیں دعائیں تو حیرتیں کیسی ؟ خدا سے زیادہ تعلق ہمارا فون سے ہے اسامہ توحید
عمر بھر دردِ نہاں سے بھی کنارا نہ ہوا شبِ تاریک میں قسمت کا ستارا نہ ہوا وہ رلاتے ہیں ستاتے ہیں خفا ہوتے ہیں ہم ذرا ہنس بھی لیں ہنسنا بھی گوارا نہ ہوا غیر تو غیر ہے غیروں سے گلا کیا کرنا بے سہاروں کو کسی کا بھی سہارا نہ ہوا فصل گل بھی گئی اور دل بھی گیا ہاتھوں سے ہم تہی دست رہے کچھ بھی ہمارا نہ ہوا جینے والے یہاں گھٹ گھٹ کے بھی جی لیتے ہیں ہم جیے بھی تو محبت سے گزارا نہ ہوا حامد قاسم پالن پوری
" ہمارے ہاں ایک نوجوان تھا جس نے بیس سال تک مسلسل خدا کی عبادت کی، پھر اس کے پاس شیطان آیا اور کہنے لگا، ہائے! تو توبہ اور عبادت کرنے میں بہت جلدی کرگیا اور دنیوی لذتوں سے اپنا دامن تہی کرکے بیٹھ گیا، اگر تو واپس پلٹ آئے تو دوبارہ توبہ کرنا تیرے لیے کوئی مشکل نہیں،چنانچہ وہ دنیوی لذتوں کی طرف لوٹ آیا،پھر ایک دن وہ اپنے گھر میں تنہا بیٹھا تھا کہ اسے اپنے وہ دن جو خدا کی ریاضت و عبادت میں گزرے تھے یاد آئے، جن پر وہ دل زدہ سا ہوگیا،پھر اپنے آپ سے مخاطب ہوکر کہنے لگا! تو کیا خیال کرتا ہے کہ اگر میں خدا کی طرف دوبارہ لوٹ جاؤں تو کیا وہ مجھے قبول کرلے گا ؟ فوراً غیب سے ایک آواز آئی! اے بندے تونے ہماری بیس سال تک عبادت کی تو ہم نے تیرا شکریہ ادا کیا، اور تونے جب ہماری نافرمانی کی تو ہم نے تجھے مہلت دی، اور اگر تو دوبارہ ہماری طرف لوٹ آئے گا تو ہم تجھے پھر قبول کر لیں گے " صوفی ابراہیم بن شیبان قرمیسینی [شعب الإيمان للبيهقي( ٦٧٢٣ ) وسنده جيد]
عمیر نجمی صاحب کا شعر ہے شاعر ہوں پھر بھی کہہ نہیں پاتا یہ باپ سے ابا مجھے شدید محبت ہے آپ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
без подписи
شیخ مرحوم کا قول مجھے اب یاد آتا ہے دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے اکبر الہ آبادی
تیرا در تو ہم کو نہ مل سکا تیری راہ گزر کی زمیں سہی ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے جو وہاں نہیں تو یہیں سہی حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ
اےےے رب! میں ایک ٹوٹا ہوا انسان ہوں، مٹی کے اس برتن کی طرح جو اپنے بنانے والے کے ہاتھ سے گر گیا ہو، میرے گناہ مجھے ایسے گھیرے ہوئے ہیں جیسے وہ سمندر جس کا کوئی کنارہ نہ ہو، لیکن تیری رحمت دنیا کے تمام سمندروں سے زیادہ وسیع ہے، اگر میں راستہ بھٹک گیا تھا، تو اس لیے کہ میرا دل تجھے اندھیرے میں تلاش کر رہا تھا۔ غریغور ناریکاتسی : آرمینیائی راہب اور صوفی شاعر۔ انتخاب و ترجمہ:Umar Write's
فَلَيْتَكَ تَحْلُو وَالحَيَاةُ مَرِيْرَة وَلَيْتكَ تَرْضَى وَالأَنَامُ غِضابُ کاش کہ تجھ سے معاملہ سنور جائے، چاہے زندگی کڑواہٹوں سے بھری رہے! کاش تو راضی ہو جائے، بھلے سب دنیا ناراض ہو! وَلَيْتَ الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنكَ عَامِرٌ وَبَيْنِي وَبَيْنَ العَالَمِيْنَ خَرَابُ کاش میرا اور تیرا تعلق ہمیشہ آباد رہے، پھر بھلے کُل جہاں سے تعلق بگڑتا ہے تو بگڑ جائے! (أبو فراس الحمداني) ..... امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو فراس نے یہ بہت خوبصورت اشعار کہے ہیں، مگر برائی یہ ہے کہ خالق کی بجائے مخلوق (سیف الدولہ) کے حق میں کہے ہیں۔ (مدارج السالكين : ١٩/٣)