- Последний пост
- 2 авг.
- Последнее чтение
- 14 авг.
- Постов за неделю
- 0
- Всего постов
- 22
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- 108
- 1/48двое суток
- 123
- 1/72трое суток
- 133
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
علامہ سلیمان بن سحمان رحمہ اللہ (١٣٤٩ھ) کی ایک نظم ہے جس میں انہوں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (٧٢٨ھ) کے ان فقہی اختیارات کو جمع کیا ہے جن میں انہوں نے مذاہبِ اربعہ سے ہٹ کر موقف اختیار کیا ہے، اور کُل انیس (١٩) مسائل ذکر کیے ہیں۔ (دیکھیے : ديوانه المسمى بـ عقود الجواهر المنضدة الحسان - ص : ٥٢٠)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے نہیں معلوم کہ میرے بعد تم کیا کرو گے؟“ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رو دییے۔ اور کہنے لگے : ”کیا ہمیں آپ کے بعد بھی زندہ رہنا ہو گا؟!“ (مؤطا مالك - رواية يحيى - ت الأعظمي : ٣/٦٥٧) چنانچہ ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد غم کے مارے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جسم گھلنا شروع ہو گیا تھا، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔ (دیکھیے: الطب النبوي لأبي نعيم : ٣١٨)
”بھائیوں کا بچھڑنا جسم کو گھلا دیتا ہے۔“ (الطب النبوي لأبي نعيم : ٣١٧)
موت کی تمنا ... دنیاوی ہموم و غموم کی وجہ سے موت کی تمنا کرنا ممنوع ہے۔ لیکن دینی و روحانی اسباب کے پیش نظر موت کی تمنا کی جا سکتی ہے اور سلف کی ایک بڑی تعداد نے ایسا کیا ہے۔ بندۂ مومن کے دل میں موت کی تمنا پیدا ہونے کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں : ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ مومنِ صادق کو دنیا کے فتنے میں گِھر جانے کا اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے۔ جب ام المؤمنين زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے وہ خطیر رقم موصول ہوئی جو اُنہوں نے بیت المال میں سے ازواج مطہرات کیلیے مختص کی تھی، تو اُنہوں نے اسی وقت سب اللہ کی راہ میں دے دی، اور دعا کی : ”اے اللہ! آئندہ سال مجھے عمر کے رقم بھیجنے تک زندہ نہ رکھ۔“ چنانچہ اسی سال اُن کی وفات ہو گئی۔ اللہ والوں کی ایک بڑی تعداد نے فسادِ زمان اور ازدیادِ منکرات کی تاب نہ لاتے ہوئے بھی موت کی تمنا کی ہے۔ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ ٹھنڈی آہ بھر کر کہا کرتے تھے : ”کتنے ہی ایمان والے اپنے غیظ کو دبائے ہوئے مر جاتے ہیں!“ پھر اسی غم میں گھلتے رہے حتی کہ طبیب نے کہا کہ غم نے اس شخص کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔ جب آخری وقت آیا تو فرماتے تھے کہ میں موت کی تمنا تو کرتا تھا مگر موت کی سختیاں بہت شدید ہیں!! بسا اوقات موت کی خواہش کرنے کا سبب حق کے راستے میں اعوان و انصار کی قلت بھی ہوتی ہے۔ دنیا والوں میں وحشت و اجنبیت کا احساس اہلِ ایمان کی رُوحوں کو رفیقِ اعلی سے معلق کر دیتا ہے۔ شیخ الاسلام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے ایک موقع پر فرمایا : ”خوب سمجھ لو کہ آج اہلِ سنت کے عقیدے پر اللہ سے ملاقات کرنے والے مسلمان کیلیے موت سے زیادہ باعثِ تکریم کوئی چیز نہیں ہے۔ فإنا لله وإنا إليه راجعون! ہم اللہ تعالیٰ سے اپنی وحشت سامانی، بھائیوں کے بچھڑنے، مددگاروں کی قلت اور بدعات کے غلبے پر شکوہ کُناں ہیں۔“ بسا اوقات انسان کو لگتا ہے کہ وہ صالحین و سابقین کی دوڑ سے باہر ہو چکا ہے، اب اس کی زندگی اس کیلیے محض گناہوں میں اضافے کا باعث ہے، حتی کہ وہ موت کی خواہش کرنے لگتا ہے تاکہ گناہوں سے گلو خلاصی ہو جائے۔ غور کیا جائے تو یہ مقاماتِ انابت میں سے ایک شریف مقام ہے۔ تائبین کی حکایات میں اس طرح کے کئی واقعات مل جاتے ہیں۔ اسی کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ گناہگار انسان پر بسا اوقات قربِ الہی کی کوئی ایسی کیفیت آتی ہے کہ اس کا دل کہتا ہے کہ مر جانے کیلیے یہ بہت موزوں لمحہ ہے؛ وگرنہ پھر تُو ہو گا اور وہی غفلت و عصیاں کی دلدل ہو گی! ایک اور بات جو کسی نہ کسی طرح پچھلی سب باتوں کو شامل ہے، وہ یہ کہ بعض دفعہ بندۂ مومن کے سامنے دو اختیارات رہ جاتے ہیں، اپنا دین بچا لے یا اپنی سانسوں کا بار اُٹھا لے۔ تو وہ دین کو حیات پر ترجیح دیتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ دین ہی اُس کا رأس المال ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت تب تک قائم نہ ہو گی جب تک قبر کے پاس سے گزرنے والا شخص یہ تمنا نہ کرے کہ کاش اس کی جگہ میں ہوتا۔ یعنی فتنے اس قدر شدید ہو جائیں گے۔ بھلا انگارے کو مُٹھی میں بھینچ کر جیتے رہنا کوئی آسان کام ہے!! سب سے اعلی و ارفع شے جس کی وجہ سے صحابہ اور ان کے بعد والوں کی کثیر تعداد نے موت کی تمنا کی ہے وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق ہے۔ جب شام میں طاعون پھیلا تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی گویا مراد بر آئی، دعا کر دی کہ اے اللہ اس وبا میں آلِ معاذ کا وافر حصہ رکھ دے!! پھر جب پھوڑا نکلا تو خوشی سے پھولے نہ سماتے۔ وقتِ سفر آیا تو بار بار آپ پر غشی طاری ہو جاتی تھی، ہوش میں آتے تو کہتے : ”مولا! مجھے موت سے ہمکنار کر دے، تیری عزت کی قسم، تُو جانتا ہے کہ مجھے تجھ سے محبت ہے۔“ ... اللہ !!
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں : ”میں مدینہ گیا تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں حدیث کا حلقہ لگا کر بیٹھے تھے۔ آپ نے فرمایا : "مجھے میرے خلیل، ابو القاسم، اللہ کے نبی ﷺ نے بیان کیا..." پھر آپ کے آنسو جاری ہو گئے اور آپ رونے لگے۔ کچھ دیر بعد پھر فرمایا : "مجھے میرے خلیل، ابو القاسم، اللہ کے نبی ﷺ نے بیان کیا..." پھر آپ کے آنسو جاری ہو گئے اور آپ رونے لگے۔ پھر آپ اُٹھ کر چل دییے۔“ (طبقات ابن سعد : ٢٣٩/٥)
”ورع اور اعلیٰ اخلاق کے دقیق ابواب میں سے یہ ہے کہ انسان وفورِ جذبات میں دییے گئے عطیے کو قبول نہ کرے؛ کیونکہ یہ نشے میں دییے گئے عطیے کی مانند ہے۔ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ انسان طبیعت کے جوش و خروش کے وقت درست رائے رکھ پائے۔“ (الفنون لابن عقيل - كما في الفروع لابن مفلح : ١٢/٩) ”اکثر ہی ایسا ہوا کہ خوشی کے عالم میں دل کھول کر دینے والا بعد میں اپنی بے احتیاطی پر نادم ہوا، اور تمنا کی کہ کاش اس نے میانہ روی سے کام لیا ہوتا۔" (بدائع الفوائد لابن القيم : ١٠٦٦/٣)
”نیک دوست تمہارے لیے تمہاری ذات سے بھی اچھا ہے۔ کیونکہ تمہارا نفس تو تمہیں برائی پر ابھارتا ہے، مگر نیک دوست تمہیں صرف خیر کی طرف ہی بلاتا ہے۔“ (محاضرات الأدباء للراغب الأصفهاني : ٦/٢)
”رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کے بعض معاملات کے بارے میں رات گئے ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ گفتگو فرماتے، اور میں بھی ان دونوں کے ساتھ ہوتا تھا۔“ (سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه | سنن الترمذي : ١٦٩) https://t.me/abdulaziznasir
”نبی کریم ﷺ، آپ کے صحابہ، اور آپ کے نقشِ قدم پر چلنے والوں کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ وہ گھروں کی بہت زیادہ فکر کریں، انہیں شاندار بنائیں، اونچا تعمیر کریں، ان کی سجاوٹ کریں، اور انہیں ضرورت سے زیادہ وسیع کریں۔“ (زاد المعاد لابن القيم : ٢٤٣/٤) https://t.me/abdulaziznasir
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ”لوگ حج سے واپس آ رہے تھے، اور بیداء نامی مقام پر ایک خاتون کی میت پڑی ہوئی تھی۔ لوگ اس کے قریب سے گزرتے چلے جا رہے تھے، اور کوئی پروا نہیں کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ بنو لیث کا ایک مسکین شخص کلیب وہاں سے گزرا، تو اس نے اس خاتون کو اپنے کپڑوں سے ڈھانپا، اور لوگوں کی مدد سے اسے دفن کر دیا۔ جب عمر رضی اللہ عنہ تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور پوچھا : ”تم بھی میت کے پاس سے گزرے تھے؟!“ عبداللہ کہنے لگے : نہیں۔ فرمایا : ”اگر تم مجھے بتاتے کہ تم بھی وہاں سے گزرے تھے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا (کہ میت کے پاس سے گزر گئے اور کفن دفن کی پروا نہ کی)۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا، اور اُن پر خوب برسے۔ پھر فرمایا : ”مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کلیب کو اس نیکی کے بدلے ضرور جنت میں داخل کرے گا۔“ چنانچہ ایک دن کلیب مسجد میں وضو کر رہے تھے، کہ عمر رضی اللہ عنہ کا قاتل ابو لؤؤۃ آیا اور آپ کا پیٹ چاک کر دیا۔“ نافع بیان کرتے ہیں : ”ابو لؤؤۃ نے اُس روز عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مزید سات لوگوں کو شہید کیا تھا۔“ (جزء أبي الجهم العلاء بن موسى : ٧٤، إسناده صحيح) https://t.me/abdulaziznasir
”کتابوں کے ساتھ وقت گزارنا، کسی بھی اور چیز کے ساتھ وقت گزارنے سے بہتر ہے۔ میرے کوئی دوست نہیں ہیں، نہ کوئی بیٹھک ہے، نہ سفر کرتا ہوں۔ میری بیشتر لذت کتابوں میں ہے۔“ (معالي الشيخ صالح آل الشيخ حفظه الله) https://t.me/abdulaziznasir
رسول اللہ ﷺ کے سامنے قصاصًا / جنگی قیدیوں کی گردن اتارنے کیلیے درج ذیل صحابہ کرام مخصوص تھے : ١) علی بن ابی طالب ٢) زبیر بن عوام ٣) مقداد بن اسود ٤) عاصم بن ثابت ٥) محمد بن مسلمہ ٦) ضحاک بن سفیان الکلابی ٧) قيس بن سعد ٩) مغيرة بن شعبہ ١٠) ابو سعید الخدری رضي الله عنهم أجمعين. (المختصر الكبير لابن جماعة : ١٢٣، سبل الهدى والرشاد للصالحي : ٣٩٩/١١) سیدنا ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ کو "سیّافِ رسول ﷺ" (رسول اللہ ﷺ کا جلّاد / تلوار بردار) کہا جاتا ہے۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تلوار سونت کر کھڑے ہو جاتے۔ سمجھا جاتا تھا کہ آپ اکیلے سو شہسواروں کے مقابلے کو کافی ہیں۔ (الاستيعاب لابن عبدالبر : ٧٤٣/٢، الجامع لما في المصنفات الجوامع من أسماء الصحابة للرعيني : ٣٤٩/٣) https://t.me/abdulaziznasir
مسبوق (بعد میں آنے والے مقتدی) کیلیے مستحب ہے کہ امام کو جس حال میں پائے، اسی حال میں نماز میں شامل ہو جائے بھلے رکعت فوت ہو چکی ہو۔ مثلًا امام سجدے میں ہے تو یہ انتظار نہ کرے کہ امام اگلی رکعت کیلیے کھڑا ہو تو شامل ہوتا ہوں، بلکہ سجدے میں ہی شامل ہو جائے۔ کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ شاید وہی سجدہ اس کیلیے باعثِ مغفرت بن جائے، جیسا کہ بعض سلف نے کہا ہے۔ (دیکھیے : سنن الترمذي - ط الرسالة : ١٣١/٢ ، المغني لابن قدامة : ١٨٤/٢) https://t.me/abdulaziznasir
”میں اللہ تعالیٰ کے رُوبرو اپنی شکایت رکھتا ہوں، کہ میں ان چیزوں کو برا کہتا ہوں جو میں خود نہیں چھوڑتا، اور ان چیزوں کو اچھا کہتا ہوں جو میں خود نہیں اپناتا!“ (عبدالله بن عروة بن الزبير رحمه الله تـ ١٢٥ھ | الزهد لابن المبارك : ١٩٣) https://t.me/abdulaziznasir
امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مسلمانوں نے سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں افریقہ کی طرف لشکر کشی کی۔ قیروان سے ستر میل دور سبیطلہ کے مقام پر ایک لاکھ کے زائد کے لشکر سے سامنا ہوا، اور مسلمانوں کو عظیم الشان فتح حاصل ہوئی۔ اس غزوے میں عبادلۂ اربعہ (عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم) شریک تھے، اس لیے اسے "غزوة العبادلة" کہا جاتا ہے۔ (رياض النفوس لأبي بكر المالكي : ١٦/١) https://t.me/abdulaziznasir
ربیع بن خثیم رحمہ اللہ کی والدہ نے انہیں کثرت سے آہ و بکا کرتے دیکھا تو فرمایا : ”بیٹا تُو تو ایسے رو رہا ہے جیسے کسی کو قتل کر دیا ہو۔“ انہوں نے کہا : ”جی اماں، قتل ہی تو کیا ہے؟“ کہنے لگیں : ”تو ہمیں بتا نا بیٹا، مقتول کون ہے؟! ہم تجھے اس کے لواحقین کے پاس لے کر جاتے ہیں، معافی تلافی کی بات کرتے ہیں، بخدا اگر وہ تجھے اس آہ و بکا کی کیفیت میں دیکھیں گے تو انہیں ترس آ جائے گا!“ ربیع کہنے لگے : ”اماں جان، دراصل میں نے اپنے نفس کو (گناہوں سے) قتل کر ڈالا ہے!“ (زوائد عبدالله على الزهد لأحمد : ١٩٩٧) https://t.me/abdulaziznasir
”پس جو کہے کہ میرے پاس کتابیں خریدنے کے پیسے نہیں ہیں، تو اس سے کہیں: حضرتِ انٹرنیٹ نے کسی سُستی کے مارے کیلیے کوئی بہانہ، کسی تنگدست کیلیے کوئی پریشانی اور کسی حریصِ علم کیلیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔“ (المتلذذون بالعلم لراشد البداح : ٩١) https://t.me/abdulaziznasir
نفلی روزے کی ایک قسم : شیخ الشافعیۃ ابو الحسن ابن المحاملی رحمہ اللہ (٤١٥ھ) مسنون روزوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : "وصوم يوم لا يجد في بيته طعاما يأكله." ”اور اس دن کا روزہ جس دن انسان کے پاس گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو۔“ (اللباب : ١٩٠) آپ رحمہ اللہ کا اشارہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی طرف ہے، جس میں وہ فرماتی ہیں : "ایک روز رسول اللہ ﷺ گھر تشریف لائے اور فرمایا : ”کھانے کیلیے کچھ ہے؟“ ہم نے کہا : نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”پھر میں روزے سے ہوں۔“ " (صحيح مسلم : ١١٥٣) شارحِ بخاری علامہ قسطلانی رحمہ اللہ (٩٢٣ھ) فرماتے ہیں : ”پس جس کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو، تو حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روشنی میں اس کیلیے روزہ رکھ لینا مستحب ہے۔“ (إرشاد الساري : ٤٣١/٨) https://t.me/abdulaziznasir
آپ ایک سو طلبۂ علم سے سوال کریں کہ تراویح بیس رکعت ہے یا گیارہ۔ نناوے فورًا جواب دیں گے، بلکہ بحث پر بھی آمادہ ہو جائیں گے۔ آپ انہی سے سوال کریں کہ کس نے مکمل رمضان امام کے ساتھ ساتھ مکمل تراویح اس طرح ادا کی ہیں کہ پورے قرآن مجید کا سماع کر لیا ہے تو شاید دس بھی بمشکل ہوں۔ آپ ایک سو حفاظ سے سوال کریں کہ تین دن سے کم میں قرآن مجید ختم کرنا کیسا ہے؟ نناوے آپ کو مسئلہ بتا دیں گے اور شاید دلیل بھی دیں۔ آپ انہی سے سوال کریں کہ رمضان جیسے فاضل مہینے میں ہر تین رات میں ایک دفعہ قرآن مجید ختم کرنے کا معمول کس کا ہے، تو پانچ بھی نہیں ہوں گے۔ آپ ایک سو واعظین سے سوال کریں کہ آخری عشرے کی راتوں میں دروس کا انعقاد کیسا ہے؟ سبھی بڑھ چڑھ کر جواب دیں گے۔ آپ انہی سے پوچھیں کہ کس نے ”أحيا ليله“ کے مصداق مکمل رات عبادت میں گزارنے کا تجربہ کیا ہے، تو تین چار بھی شاید ہی ہوں۔ اس نوعیت کی بہت ساری بحثوں کی وجہ شاید بے عملی ہے، اور ان کا حل علم سے زیادہ عمل میں ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کچھ لوگوں کو مسجد میں بحث کرتے دیکھا۔ کچھ دیر ان کی گفتگو سنتے رہے، پھر فرمایا : ”بخدا یہ لوگ عبادت سے تھک چکے ہیں، ان کیلیے باتیں کرنا عمل کرنے سے زیادہ آسان ہے، اور خدا خوفی پہلے ہی کم ہے، سو بحثیں کرنے لگے ہوئے ہیں۔“ (الزهد لأحمد : ١٥٤٦) والله أعلم بالصواب https://t.me/abdulaziznasir
فَلَيْتَكَ تَحْلُو وَالحَيَاةُ مَرِيْرَة وَلَيْتكَ تَرْضَى وَالأَنَامُ غِضابُ کاش کہ تجھ سے معاملہ سنور جائے، چاہے زندگی کڑواہٹوں سے بھری رہے! کاش تو راضی ہو جائے، بھلے سب دنیا ناراض ہو! وَلَيْتَ الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنكَ عَامِرٌ وَبَيْنِي وَبَيْنَ العَالَمِيْنَ خَرَابُ کاش میرا اور تیرا تعلق ہمیشہ آباد رہے، پھر بھلے کُل جہاں سے تعلق بگڑتا ہے تو بگڑ جائے! (أبو فراس الحمداني) ..... امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو فراس نے یہ بہت خوبصورت اشعار کہے ہیں، مگر برائی یہ ہے کہ خالق کی بجائے مخلوق (سیف الدولہ) کے حق میں کہے ہیں۔ (مدارج السالكين : ١٩/٣) https://t.me/abdulaziznasir