RAHI HIJAZI راہی حجازی
Статистикаہماری اردو موبائل ایپ ⬇ https://play.google.com/store/apps/details?id=com.arshad.rahihijaziurducalender ٹیلی گرام رابطہ آئی ڈی ⬇ @RAHIHIJAZI
- Последний пост
- 13 авг.
- Последнее чтение
- 15 авг.
- Постов за неделю
- 2
- Всего постов
- 24
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- Категория
- Книги (по похожим)
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- 409
- 1/48двое суток
- 468
- 1/72трое суток
- 505
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
نماز اور عبادت اصل کے لحاظ سے نماز اور عبادت میں عام خاص مطلق کی نسبت ہے، مطلب عبادات بہت ہیں، جب کہ نماز عبادت کی ایک قسم ہے؛ لیکن ہماری غفلت نے ان کے مابین عموم خصوص من وجہ بھی متعارف کرادی ہے، یعنی ہم ایسی نماز پڑھ لیتے ہیں جو عبادت کی روح سے معری ہو، بس مسجد میں ایک حاضری لگا آتے ہیں، رسم خانہ پری جاری ہے، نوبت بہ ایں جا رسید کہ رکعات کی تعداد کا ضبط چیلنج بن گیا ہے۔ ایک صاحب بہت مایوسی میں ملے، عرض حال یہ سامنے آیا کہ وہ ظہر کی چار سنتیں درمیان میں ترک کر آئے ہیں، کئی کوششیں ناکام رہی تھیں، ہر بار تعداد مشتبہ ہوئی، آخرش ہار گئے، یقینا مذکورہ شخص کسی درجہ ضعفِ دماغ میں مبتلا تھا؛ لیکن قوی القویٰ افراد کا حال بھی گفتہ بہ نہیں، امام تکبیرِ قیام کی تانت کم کردے تو ایک مخلوق پہلی اور تیسری رکعت میں قعدہ کا گمان کر لیتی ہے، قیام کے لیے نیا ٹیک آف درکار ہو جاتا ہے۔ میرا یہ ذہن بنا ہوا ہے کہ عبادت وجہِ تخلیق ہے، قرآن و سنت کے مطالعے نے مجھے اسی نکتے پر منتہی کیا ہے، پھر عبادات میں نماز اول اور اعلی ہے، گویا ہم نماز پڑھنے کے لیے پیدا ہوے ہیں، نماز ہماری پیدائش کا موضوع لہ ہے، علمی سرگرمیاں نماز کی معاون ہیں، علمِ نافع کے پہلے معنی یہ ہیں کہ اس سے نماز میں ترقی ہو، جو علم نماز میں کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے اپنا حصہ نہیں ڈالتا وہ نافع نہیں۔ نماز ضابطے کا لفظ ہے؛ جب کہ عبادت میں رابطے کا رنگ ہے، نماز کے لیے عبادت شرط ہے، ورنہ ایستادن، نشستند اور برخاستند رہ جائے گا، مجرد جسمانی حرکات وسکنات مفیدِ مطلب نہیں؛ کسرت اور ورزش کا خیال بھی منکر ہے، عبادت کے معانی تعلق اور رابطے پر منحصر ہیں، دستک مطلوب ہے، خیمہ زنی چاہیے، پکار اور ندا درکار ہیں، لائن استوار کرنی ہوتی ہے، التفات اور توجہ لینی ہے، یہاں آئی فون کا بانی اسٹیو جابز یاد آتا ہے، اس نے انٹرویو میں کہا تھا کہ میں ٹی وی نہیں دیکھتا، یک طرفہ گفتگو سننا عزتِ نفس کے خلاف ہے، معاملہ دو طرفہ ہونا چاہیے۔ عبادت بھی ایک معاملہ ہے، جب تک یک طرفہ رہے گا ناقص ہوگا، اسے دو طرفہ بناؤ، آپ پکاریں اور وہ جواب دیں، قبولیت آنے تک سبحان ربی العظیم کہتے ہی رہو، جب تک وہ لبیک نہ کہہ دیں، سر نہ اٹھاؤ، مولانا فضل الرحمن گنج مرادآبادی فرماتے ہیں کہ سجدہ کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے چوم لیا، منظوری کی مہر لے کر ہی مانو، جانماز سے فراغت کو پروانے کے ساتھ مشروط کردو، فارغ ہو کر کرنا بھی کیا ہے؟ یہی زندگی ہے اور یہی حاصلِ زندگی۔ محمد فہیم الدین بجنوری 29 صفر 1448ھ 13 اگست 2026ء
https://www.facebook.com/share/v/18qiJz6cvv/ سال 1857 کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار کیا تھا؟ ایک معروف غیر مسلم یوٹیوب ٹیچر سچن میوار کی زبانی تفصیلات جانیے حوالوں کے ساتھ درج بالا لنک پر کلک کر ویڈیو دیکھیں
استاذِ محترم شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم سے سوال کیا گیا کہ حضرت زندگی کا خلاصہ کیا ھے ؟ حضرت مدظلہم نے یہ 20 نکات ارشاد فرمائے : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1:- ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا کرو ۔ 2:- کوشش کرو کہ پوری زندگی میں کوئی تمہاری شکایت کسی دوسرے انسان سے نہ کرے ، پروردگار سے تو بہت دور کی بات ھے ۔ 3:- خاندان والوں کے ساتھ کبھی مقابلہ مت کرنا، نقصان قبول کر لینا ،مگر مقابلہ مت کرنا۔بعد میں نتیجہ خود مل جائے گا۔ 4:- کسی بھی جگہ یہ مت کہنا کہ میں عالم ہوں ، میرے ساتھ رعایت کرنا۔ یہ ایک غیر نامناسب عمل ہے۔کوشش کرو دینے والے بن جاؤ۔ 5:- سب سے بہترین دسترخوان گھر کا دسترخوان ھے ، جو بھی تمہاری نصیب میں ہوگا بادشاہوں کی طرح کھاؤ ۔ 6:- اللہ کے سوا کسی سے امید مت رکھنا۔ 7:- ہر آنے والے دن میں اپنی محنت میں مزید اضافہ کرنا۔ 8:- مالداروں اور متکبروں کی مجالس سے دوری اختیار کرنا ۔ 9:- ہردن صبح کے وقت صدقہ کرنا ،شام کے وقت استغفار کا ورد کرنا۔ 10:- اپنی گفتگو میں مٹھاس پیدا کرنا۔ 11:- اونچی آواز میں چھوٹے بچے سے بھی بات مت کرنا ۔ 12:- جس جگہ سے تمہیں رزق مل رھا ھے ، اس جگہ کی دل وجان سے عزت کرنا۔جس قدر ادب کروگے ان شاءاللہ تعالی رزق میں اضافہ ہوگا ۔ 13:- کوشش کرو کہ زندگی میں کامیاب لوگوں کی صحبت میں بیٹھا کرو ، ایک نہ ایک دن ضرور تم بھی اس جماعت کا حصہ بن جاؤگے۔ 14:- ہر فیلڈ کےہنر مندوں کی عزت کرنا ،ان کے ساتھ ادب سے پیش آنا ، خواہ وہ کسی بھی فیلڈ کے ہنر مند ھوں ۔ 15:- والدین ،اساتذہ اور رشتے داروں کے ساتھ جس قدر اخلاق کا معاملہ کروگے اس قدر تمہارے رزق اور زندگی میں برکت ھوگی۔ 16:- ہر کام میں میانہ روی اختیار کرنا ۔ 17:- عام لوگوں کے ساتھ بھی تعلق رکھنا اس سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ 18:- ایک انسان کی شکایت دوسرے سے مت کرنا، ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شکایت کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ 19:- ھر بات کو مثبت انداز میں پیش کرنا ،اس سے بہت سے مسائل حل ھو جائیں گے۔ 20:- بڑوں کی مجلس میں زبان خاموش رکھنا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر میں درج ذیل دعا سکھائی کہ مشکل وقت میں اہتمام کے ساتھ پڑھا کرو ان شاء الله بہت فائدہ ھوگا۔"رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا “ ۔
без подписи
۳- لوگ مفتیوں کے فتووں پر تو کیڑے نکالتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ خود دنیا کے بڑے بڑے سینٹرل بینک، نوبل انعام یافتہ ماہرین معاشیات اور ترقی یافتہ حکومتیں خود کرپٹو کو لے کر شدید تذبذب کا شکار ہیں، کئی ممالک نے اس پر پابندی لگائی، پھر ہٹائی، اور خطرات دیکھ کر پھر دوبارہ لگا دی، جب مادی دنیا کے یہ نام نہاد مایہ ناز ماہرین ایک ٹیکنالوجی کے معاشی خطرات کو سمجھنے سے قاصر ہیں، تو مفتیوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ ابتدا ہی میں اسے ’’حلال‘‘ کی مہر لگا کر عوام کو ایک اندھی اور غیر محفوظ کھائی میں دھکیل دیں، سراسر نادانی اور بچپنا ہے۔ ۴- قانون کا ایک مسلمہ اور اٹل قاعدہ ہے کہ حکم اپنی علت کے ساتھ وجود میں آتا اور ختم ہوتا ہے ، آج اگر کسی چیز کو ناجائز کیا گیا ہے تو وہ اس کے نام کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے اندر موجود خرابی جیسے قمار، غرر یا عوامی نقصان کی وجہ سے ہے، اگر وقت کے ساتھ وہ علت اور خرابی ختم ہو جائے تو حرمت کا حکم بھی خود بخود ختم ہو جاتا ہے، یہ کسی دارالافتاء یا مفتی کا موڈ بدلنا نہیں، بلکہ قانون کی اصل روح ہے۔ ۵- علماء کے لیے سب سے آسان کام ہر چیز پر ’’جائز‘‘ کا لیبل لگا کر سوشل میڈیا پر سستی مقبولیت اور لائکس حاصل کرنا ہے، لیکن عالمگیر اصول ہے کہ نقصان کو دور کرنا، فائدہ حاصل کرنے پر مقدم ہوتا ہے ، اگر مفتی آج عوامی دباؤ میں آکر اسے جائز کہہ دیں اور کل کو یہ غبارہ پھٹ جائے، جیسا کہ کئی کرپٹو کوائنز کے ساتھ ہو چکا ہے تو لاکھوں لوگوں کی عمر بھر کی کمائی ڈوبنے کی اخلاقی اور شرعی ذمہ داری کس پر ہوگی؟ خلاصہ یہ کہ پہلے ناجائز اور بعد میں جائز کہنا کوئی تضاد یا مولویوں کی ’’پرانی عادت‘‘ نہیں، بلکہ یہ قانون کے ارتقاء کا حصہ ہے، شریعت کا اصول کبھی نہیں بدلتا، بلکہ جب کوئی چیز اپنی خامیاں دور کر کے شریعت کے معیار پر پوری اتر جاتی ہے تو اس پر لاگو ہونے والا حکم بدل جاتا ہے، اسے مفتیوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کی اصلاح کہنا چاہیے، لیکن اس باریک نکتے کو سمجھنے کے لیے سوشل میڈیا اسکرول کرنے کے بجائے تھوڑی عقل اور مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔ (عمر انور بدخشانی)
کرپٹو کرنسی کوئی چیز پہلے ناجائز بعد میں جائز کیوں ؟ (عمرانور بدخشانی) کرپٹو کرنسی کے عدم جواز کے فتویٰ پر سوشل میڈیا کے دانشوروں کی طرف سے یہ گھسا پٹا اعتراض بڑےزوروشور سے داغا جا رہا ہے کہ ’’علماء پہلے ہر نئی ایجاد کو حرام کہتے ہیں اور بعد میں حلال کر دیتے ہیں‘‘، یہ تنقید دراصل قانون کے بنیادی اصولوں اور زمینی حقائق سے مروجہ جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ۱- دنیا کا کوئی بھی عاقل قانونی یا ریگولیٹری ادارہ کسی بھی نئی ایجاد یا دوا کو مارکیٹ میں آتے ہی آنکھیں بند کر کے لائسنس جاری نہیں کر دیتا، جب کوئی نئی دوا لیبارٹری سے نکلتی ہے تو حکومتیں پہلے اس پر پابندی لگاتی ہیں تاکہ اس کے سائیڈ ایفیکٹس اور نقصانات کا جائزہ لیا جا سکے، جب تک اس کے سو فیصد محفوظ ہونے کا یقین نہ ہو جائے، وہ غیر قانونی ہی رہتی ہے، شریعت کا مزاج بھی یہی ہے کہ جب تک کسی نئی فنانشل اسکیم کے اندر غرر (دھوکہ) قمار (جوا) اور معاشی تباہی کے جراثیم واضح نہ ہوں احتیاطاً اسے روکا جاتا ہے تاکہ زندگی بھر کی کمائی لٹنے سے بچائی جا سکے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر شریعت کو کوسنے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ دنیا کی جن بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں یعنی گوگل اور ایپل کی وہ دن رات پوجا کرتے ہیں، وہ بھی اپنا کوئی نیا سافٹ ویئر پہلے ہی دن مارکیٹ میں نہیں پھینک دیتیں، وہ اسے پہلے ایک محدود دائرے میں ’’بیٹا ورژن‘‘ کے نام پر ٹیسٹ کرتی ہیں اور عام صارفین کو اس کے استعمال سے روکتی ہیں، کیونکہ اس میں بگز Bugs اور سیکیورٹی کے بڑے خطرات ہوتے ہیں، شریعت کا کسی چیز کو ابتداً ناجائز کہنا دراصل اسی بگ والے پروجیکٹ کو روکنا ہے، جب تک کسی نظام کے معاشی اور سماجی بگز دور نہیں ہو جاتے، قانون شریعت عوام کو اس کے فنانشل نقصان سے بچانے کے لیے ایک مضبوط فائر وال لگا دیتا ہے، اب فائر وال پر غصہ نکالنا کہاں کی عقل مندی ہے؟ دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹ ریگولیٹرز کا یہ متفقہ قانون ہے کہ جب کسی کمپنی کے شیئرز کی قیمتیں بغیر کسی معقول وجہ کے قیاس آرائی یعنی اسپیکولیشن کی وجہ سے پاگلوں کی طرح اوپر نیچے ہونے لگیں تو وہ فوری طور پر اس شیئر کی ٹریڈنگ معطل کر دیتے ہیں، چاہے وہ کمپنی کتنی ہی قانونی کیوں نہ ہو، کرپٹو مارکیٹ کا تو پورا وجود ہی اسی پاگل پن پر قائم ہے، جہاں کسی کا ایک ٹویٹ اربوں ڈالر ڈبو دیتا ہے، جب دنیا کا مادی قانون عارضی خطرے پر پابندی لگانے کو عین دانش مندی کہتا ہے، تو شریعت اتنے بڑے مستقل خطرے پر پابندی لگائے تو لبرل مفکرین کی مروڑ کیوں اٹھنے لگتی ہے؟ ۲- معترضین یہ تاثر دیتے ہیں جیسے مفتی صبح اٹھ کر اپنی مرضی سے فیصلہ بدل دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فیصلہ نہیں بدلتا بلکہ حقیقتِ حال بدل جاتی ہے، جب دنیا میں پہلی بار کاغذی نوٹ متعارف کروائے گئے تو اس وقت کے ماہرین اور قانون دانوں نے اس کی شدید مخالفت کی تھی، وجہ بالکل واضح تھی کہ اس وقت کاغذی نوٹ کے پیچھے کوئی مضبوط قانونی نظام یا بین الاقوامی ضمانت موجود نہیں تھی، وہ محض کاغذ کا ایک بے وقعت ٹکڑا تھا، اگر کوئی بینک یا کمپنی بھاگ جاتی تو عوام برباد ہو جاتے، لیکن جب دنیا بھر کی حکومتوں نے اسے قانونی حیثیت دی، اس کے ضوابط طے کیے اور اس کے پیچھے ریاست کی ضمانت کھڑی کی، تو اب وہ محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں رہا بلکہ مال اور ثمن بن گیا، چنانچہ علماء نے بھی اسے جائز قرار دیا۔ کرپٹو کے معاملے میں بھی بالکل یہی صورتحال ہے، آج کرپٹو میں بظاہر کوئی مادی حقیقت ہے نہ ہی اسے دنیا کی حکومتوں کی قانونی پشت پناہی حاصل ہے، جس کی وجہ سے یہ محض ایک قیاس آرائی اور جوئے کا اڈا بن چکا ہے، کل کو اگر یہ خامیاں دور ہو جائیں، حکومتیں اسے باقاعدہ کرنسی تسلیم کر لیں اور اس کا یہ پاگلوں والا اتار چڑھاؤ کنٹرول ہو جائے، تو اس وقت کا جواز آج کے عدمِ جواز کو غلط ثابت نہیں کرے گا، بعد میں اس کا جائز ہونا مفتیوں کا تضاد نہیں بلکہ کرپٹو کے اپنے اندر آنے والی تبدیلی ہوگی۔ بعض لوگ یہاں یہ مضحکہ خیز اعتراض بھی جڑ دیتے ہیں کہ بینک اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈز میں بھی تو پیسہ ڈیجیٹل ہندسوں کی شکل میں ہی ہوتا ہے، پھر کرپٹو پر یہ سارا غصہ کیوں؟ یہ اعتراض ڈیجیٹل شکل اور ڈیجیٹل حقیقت کا فرق نہ سمجھنے کی نااہلی ہے، بینک اکاؤنٹ کے ہندسے دراصل اس حقیقی ملکی کرنسی کی نمائندگی کرتے ہیں جو بینک کے پاس محفوظ ہوتی ہے اور جس کے پیچھے ریاست کی ضمانت ہوتی ہے، آپ جب چاہیں اے ٹی ایم میں کارڈ ڈال کر انہیں نقد نوٹوں کی شکل میں باہر نکال سکتے ہیں، اس کے برعکس، کرپٹو کے ہندسوں کے پیچھے نہ تو کوئی مادی رقم ہوتی ہے اور نہ ہی کسی حکومت کی ضمانت، وہ محض چند کمپیوٹر کوڈز ہوتے ہیں جن کی قیمت صرف اس وقت تک ہے جب تک کوئی دوسرا خریدار اس سے بڑا جوا کھیلنے پر تیار ہو۔
‼️ آجکل کے خود ساختہ اعتدال کی چند جھلکیاں: ▪️سب کو صحیح کہنے والا معتدل کہلایا جاتا ہے، جبکہ غلط اور گمراہی کو غلط اور گمراہی کہنے والے کو متشدد شمار کیا جاتا ہے! ▪️حق وباطل اور ہدایت وگمراہی کو خلط ملط کرنے والا معتدل کہلایا جاتا ہے، جبکہ حق وباطل اور ہدایت وگمراہی میں امتیاز اور فرق کرنے والا متشدد کہلایا جاتا ہے! ▪️حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخی کو "اختلاف رائے" کا عنوان دینے والے کو معتدل قرار دیا جاتا ہے، جبکہ گستاخ کو گستاخ قرار دینے والے کو متشدد کہا جاتا ہے! ▪️اہلِ باطل کی تعریف کرنے اور انھیں امت میں فروغ دینے کو اعتدال سمجھا جاتا ہے، جبکہ ان کے فتنے سے امت کو آگاہ کرنے والے کو متشدد سمجھا جاتا ہے! ▪️ایمانیات اور عقائدِ اہل السنۃ کو غیر ضروری اور ہلکا قرار دینے والے کو معتدل سمجھا جاتا ہے جبکہ اس معاملے میں سمجھوتہ نہ کرنے والوں کو متشدد کہا جاتا ہے! ▪️اہلِ باطل کے گمراہ کن نظریات کو "اختلافِ رائے" کا خوبصورت عنوان دے کر قابلِ قبول قرار دینے والے کو معتدل سمجھا جاتا ہے، جبکہ ان گمراہ کن نظریات کے حامل اہلِ باطل کو غیر معتبر قرار دینے والے کو متشدد کہا جاتا ہے! ایسے خود ساختہ اعتدال کے مدعی اور چیمپئن حضرات، اہلِ باطل اور گمراہ طبقات کو تو قبول کرلیتے ہیں لیکن ان کی رائے سے مختلف رائے رکھنے والے اہلِ حق کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے، بلکہ انھیں متشدد، شدت پسند اور انتہا پسند جیسے القابات دے کر ان کی مذمت کرتے نظر آتے ہیں! ✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
مولانا سلمان ندوی صاحب سے متعلق ایسا جملہ آپ حضرات نے متعدد مضامین میں دیکھا ہوگا کہ: "ندوی صاحب کی بعض آرا سے اختلاف اپنی جگہ یا بعض صحابہ سے متعلق ان کی بعض آرا کا اختلاف اپنی جگہ لیکن ان کی دینی اور ملی خدمات بڑی وسیع ہیں، وغیرہ۔" مجھے ایسی تعبیرات پر بہت تشویش ہوتی ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخیوں کو کس قدر ہلکے اور ضمنی انداز میں پیش کیا جارہا ہے! اور کیسے اس بدترین جُرم کو "اختلافِ رائے" جیسا خوبصورت عنوان دے کر ہلکا اور قابلِ قبول قرار دیا جارہا ہے! کیا یہی صحابہ کرام کی محبت، عظمت، جلالت، احترام اور مقام کا تقاضا ہے؟ گستاخِ صحابہ شخص کی دینی خدمات کا کیا کرنا ہے بالخصوص جبکہ گستاخی آخری عمر کا عمل ہو؟! ایسا شخص ہرگز معتبر نہیں ہوسکتا۔ ہم تو احادیث مبارکہ اور اہل السنۃ والجماعۃ کے مسلک کے عین مطابق گستاخِ صحابہ شخص سے بغض فی اللہ رکھتے ہیں۔ اور اگر آپ کے نزدیک صحابہ کرام کی گستاخی کے باوجود ندوی صاحب کی دینی خدمات کا ذکر انصاف پسندی ہے تو پھر یوں تعبیر اختیار کیجیے ناں کہ: "ندوی صاحب کی دینی خدمات اپنی جگہ لیکن ان کی جانب سے صحابہ کرام کی گستاخی نہایت ہی قابلِ مذمت ہے۔" تاکہ معلوم ہو کہ آپ کے دل میں صحابہ کرام کی کیا عظمت ہے اور آپ گستاخِ صحابہ سے نفرت کا رویہ رکھتے ہیں اور آپ اس معاملے میں سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں! سو ایسے تمام حضرات کو اپنے اس انداز کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے جو کہ صحابہ کرام کی گستاخی کو یوں ہلکے اور ضمنی انداز میں پیش کرتے آرہے ہیں! ✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
مولانا سلمان حسینی ندوی کے بہت سے تلامذہ میری فرینڈ لسٹ میں ہیں، بعض سے ہمارے بہت خوش گوار تعلقات ہیں،میرا خطاب تلامذہ سے ہے، میں سب سے تعزیت کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ آپ کو صبر دے، ایسا نہیں کہ ہم مولانا سے حسد کرتے ہیں ، مولانا واقعی بہت بڑے آدمی تھے ، اب وہ اللہ کی بارگاہ میں پہنچ چکے ہیں ، وہ اللہ جس کے آگے بڑے بڑے بے بسی کی تصویر بن جاتے ہیں ،مولانا سلمان ندوی صاحب کا اختیار بھی اب سلب ہوچکا۔ اب وہ عدالتِ عظمیٰ میں اپنے سیاہ و سفید نامۂ اعمال کے ساتھ حاضر ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں پاس ہو جانا انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے ، ہماری دلی دعا ہے کہ اللہ اپنے فضل سے ان کی حسنات قبول فرمائے اور سیئات و تقصیرات کو خدمتِ دین کے بدلے معاف فرمائے۔ یہ ایک انسانی جذبہ ہے ، جو ہمیں مولانا سلمان ندوی سے ہے ، لیکن ان کی زندگی کی ایک اور حقیقت ہے ، وہ یہ کہ صحابیت کے تعلق سے ان کے افکار اہلِ سنت سے متصادم تھے، سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے انھوں نے کھل کر تبرا کیا ہے ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مفسدِ ایمان تعبیر اختیار کی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ آخر تک وہ اپنی اسی مؤقف پر قائم تھے، صحابیت کے تعلق سے ہمارا صاف عقیدہ ہے کہ ہم صحابہ سے نفرت رکھنے والوں سے محبت نہیں کرسکتے ، ان کی خدمتِ دین اپنی جگہ ؛ مگر وہ اس نظریہ کے ساتھ رخصت ہوئے کہ ہم انھیں مثالی شخصیت نہیں سمجھ سکتے ، انھوں نے قابلِ تقلید افکار امت کو نہیں دیے ، صحابہ کا معاملہ سب سے اہم ہے، انھوں نے سیدنا معاویہ رضہ اللہ عنہ کا جس طرح مذاق اڑایا ، ان کا کفن نوچا، ان کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کی ، وہ اب مثالی شخصیت نہیں رہے، وہ روافض اور جماعتِ اسلامی کے لیے تو نمونہ ہوسکتے ہیں ؛ اہلِ سنت والجماعت کو ان کے افکار سے دوری کا اعلان کرنا واجب ہے! وفات شدہ لوگوں کے محاسن یاد کرو ؛ لیکن اگر کوئی ان کی خامی کو ہی حسن سمجھنے لگے تو پھر کھل کر بتاؤ کہ وہ ایک خطیب، عالم، محدث ، مفسر اور مؤلف ہونے کے ساتھ شیعیت کی زبان بولتے تھے ، ان کے دل میں صحابہ کا بغض تھا ، وہ جن کے لیے قابلِ تقلید تھے وہ تقلید کریں ، اہلِ سنت و الجماعت کے لیے وہ نمونہ نہیں تھے، ان کا نظریہ باطل تھا ، یہ کہنا صحابہ اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا ہے! (انس بجنوری)
صحابۂ کرامؓ کے معاملے میں دوہرا معیار کیوں؟ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے والد،حضرت علی رضی اللہ عنہ، ان کے سگے بھائی، ابو طالب کے بیٹے حضرت عقیل بن ابی طالب ہیں.انہوں نے آغاز میں اسلام دشمنی نبھائی، جنگ بدر میں رسول اللہ اور ان کے اصحاب کے خلاف جنگ لڑی. مسلم بن عقیل آپ ہی کے صاحبزادے ہیں. آپ کی کنیت "ابو یزید" ہے۔ رسول اللہ کے سگے چچا، عبدالمطلب کے بیٹے حضرت عباس رضی اللہ عنہ، جنگ بدر میں رسول اللہ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ لڑی، قیدی بنے اور فدیہ دے کر چھوٹے. بنو ہاشم کے یہ دو بڑے نام، جنگ بدر کے بعد مسلمان ہوئے، مگر یہ تو مسلمان کہلائیں، مانیں، اور جانیں جائیں مگر حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تاخیر سے اسلام قبول کرنے پر آپ کے سب و شتم کا نشانہ بنیں؟ کیوں بھئی؟ تمہارے باپ کا دین ہے؟ ۔ راؤ متین
حد تو یہ ہوگئی کہ بعض ویڈیو بیان میں وہ مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی علیہ الرحمہ کے ذریعے "المرتضی" نامی کتاب میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دفاع اور ان کی حکومت کی ستائش کی یہ کہکر تاویل کرتے ہیں کہ مولانا علی میاں صاحب کو ان حدیثوں کا استحضار نہیں رہا ہوگا جن میں حضرت معاویہ کے خلاف باتیں موجود ہیں. حضرت مولانا کی کتاب شائع ہوئے ایک زمانہ گزر گیا، لوگ پڑھتے رہے، ایڈیشن پر ایڈیشن شائع ہوتے رہے اور علماء استفادہ کرتے رہے اور خود حضرت مولانا علی میاں رحمہ اللہ نے بار بار پڑھا ہوگا اور پھر شائع کرایا ہوگا مگر مولانا علی میاں علیہ الرحمہ کو ان حدیثوں کا استحضار نہیں رہا ہوگا. کمال کردیا سلمان صاحب نے! سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ سلمان صاحب جیسے عالم کو صحابہ کرام، حضرت معاویہ، حضرت ابوہریرہ کے بارے میں یہ سارے انکشافات ان ہی گزشتہ 8-10 سالوں میں نہ جانے کیوں ہوئے؟ حضرت مولانا علی میاں رحمہ اللہ کے زمانے میں اور بہت بعد تک کیا سلمان صاحب سے وہ ساری حدیثیں، قرآنِ کریم کی وہ آیتیں اور دلیلیں اوجھل رہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بات کچھ اور ہے؟ اب جب ان کا انتقال ہوچکا ہے یہ فتنہ اگر بدستور انٹرنیٹ پر اور کتابوں کی شکل میں باقی رہا تو قوی اندیشہ ہے کہ کم علموں اور کج فہموں اور سادہ لوح مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کا ایمان اور عاقبت خراب ہوجائے. لہذا ان کے وارثین کے لئے یہ بہتر ہوگا اور نیکی کی بات ہوگی کہ ان مواد اور لیٹریچر کو جلد از جلد ختم کر ڈالیں تاکہ وہ مزید گمراہی، فتنہ اور امت میں انتشار کا ذریعہ نہ بنیں. ۔ پروفیسر عبید اللہ قاسمی
مولانا سلمان ندوی صاحب کا فتنہ کوئی معمولی فتنہ نہیں ہے. ان کی موت پر ان کے متبعین سوشل میڈیا پر ان کے گمراہانہ عقائد کا جس طرح دفاع کر رہے ہیں بلکہ تبلیغ کر رہے ہیں وہ انتہائی افسوسناک اور لمحہِ فکریہ ہے. اس فتنے نے بہتیرے مسلمانوں حتی کہ نوخیز فارغینِ مدارسِ دینیہ کو بھی صحابہِ کرام کے تئیں بدظن کردیا ہے اور ان کے سینوں میں صحابہِ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف بغض اور غِل بھر دیا ہے. اِس موقعے سے سلمان صاحب کے متعدد ویڈیو بیانات سنے کا اتفاق ہوا اور تقریباً ہر ویڈیو میں وہ صحابہِ کرام کو مطعون کر رہے ہیں اور خصوصا کاتبِ وحی صحابیِ رسول حضرت معاویہ کو وہ منافق، ظالم، قاتل اور کافر کہہ رہے ہیں. انہوں نے حضرت معاویہ کے خلاف بدزبانی اور ہذیان گوئی کا ناپاک ریکارڈ قائم کردیا ہے. مسلم پرسنل لاء بورڈ اور ندوۃ العلماء نے انہیں ان اداروں سے باہر کرکے بہت اہم اور ضروری فرض نبھایا تھا. سلمان صاحب اپنے تقریباً ہر ویڈیو بیان میں صحابہ میں منافقین کا وجود بتاتے ہیں اور اہلِ سنت والجماعت کے متفقہ "عقیدہِ عدالت" کو روندتے نظر آتے ہیں. تمام محدثین اور ائمہِ جرح وتعدیل تو تمام صحابہ کو "عدول" قرار دیتے ہوئے الصحابة كلهم عدول کا عقیدہ اختیار کرتے ہیں اور اس پر اجماع کرتے ہیں کہ کسی بھی صحابی پر جرح نہیں کی جائے گی بلکہ صرف ان کے بعد والوں کی کی جائے گی مگر سلمان صاحب تمام اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے اور تمام محدثین کے اصول کو مسترد کرتے نظر آتے ہیں. وہ منافقین کو صحابہ بناکر پیش کرتے ہیں تاکہ انہیں یہ کہنے کا جواز مل سکے کہ کچھ صحابہ اچھے ومخلص تھے اور کچھ صحابہ منافق وبدترین کافر تھے. ظاہر ہے کہ کسی بھی اچھی چیز کو جب خراب کہنا ہو تو اس میں خراب چیزوں کی ملاوٹ کردی جائے تو یہ کہنا درست ہوجائے گا. ان کا ایک طویل ویڈیو بیان صحابہ کے definition کے عنوان سے ہی ہے مگر ظلم انہوں نے یہ ڈھایا کہ پورے بیان میں کسی ایک جگہ بھی صحابی کی مکمل definition انہوں نے نہیں کی، کوئی حوالہ پیش نہیں کیا اور ادھوری وغلط definition اس وجہ سے پیش کی تاکہ منافقین بھی صحابی کی تعریف میں شامل ہوجائیں اور پھر یہ کہنا درست ہوجائے کہ صحابہ میں منافقین بھی تھے جنہوں نے فلاں فلاں گندے کام کیئے اور ان کے خلاف قرآن کی آیات اور احادیث وارد ہوئیں. انہوں نے صحابی کی تعریف ہر جگہ صرف یہ کی کہ جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حالتِ اسلام میں دیکھا وہ صحابی ہے. ظاہر ہے کہ اس تعریف کی رو سے سارے منافقین بھی صحابہ میں داخل ہوجائینگے کیونکہ انہوں نے حضور کو دیکھا جبکہ صحابی کی مکمل تعریف اہل سنت والجماعت نے یہ کی ہے کہ جس نے حالتِ اسلام میں حضور علیہ السلام سے ملاقات کی ہو اور حالتِ اسلام میں ہی اس کی وفات بھی ہوئی. ظاہر ہے کہ اس تعریف کی رو سے سارے منافقین (جو بدترین کفار تھے) تعریفِ صحابی سے خارج ہوگئے. سلمان صاحب نے ایک اور خطرناک مغالطہ دیا ہے. نصوص میں صحابہ/اصحاب کا جو لفظ آیا ہے وہ بعض جگہوں پر لغوی اور بعض جگہوں پر اصطلاحی معنی میں مستعمل ہوا ہے اور یہ فرق قرینے اور سیاق وسباق سے بالکل واضح ہوجاتا ہے. مثلاً یہ کہ ایک موقعے پر میرے اصحاب میں 12 منافق ہیں والی حدیث میں لغوی معنی مراد ہے یعنی وہ منافق عام مسلمانوں میں گھلے ملے ہیں مگر ہیں منافق اور کافر. جنگِ احد میں منافقین کا سردار عبد اللہ بن ابی درمیان راستے سے ہی ایک تہائی لشکر کو لیکر واپس مدینہ چلا گیا اور غزوہ میں شریک نہیں ہوا. ظاہر ہے کہ یہ سب منافق تھے. دوسری طرف حدیث الله الله في أصحابي.. اور لا تسبوا أصحابي وغیرہ میں اصطلاحی صحابی یعنی حقیقی صحابی مراد ہیں. بعد میں اہلِ سنت والجماعت نے نصوص میں وارد لفظ صحابہ/اصحاب کے اطلاق کو حقیقی صحابہ کے ساتھ خاص کردیا یعنی جنہوں نے حالتِ اسلام میں نبی علیہ السلام سے ملاقات کی اور حالتِ اسلام پر ہی انتقال فرمایا. اور صحابی کی یہی اصطلاحی تعریف چودہ سو سالوں سے امت میں رائج ہے. اس اصطلاحی تعریف سے صحابہ الگ اور منافقین الگ ہوگئے. اس اصطلاح کے رائج اور خوب عام اور راسخ ہوجانے کے بعد اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ صحابہ منافق بھی تھے اور اس پر اصحاب/صحابہ کے لفظ کے ساتھ نصوص ودلائل پیش کرے تو عوام یہی سمجھے گی کہ اصطلاحی صحابہ ہی میں منافقین موجود تھے. مزید یہ کہ وہ ان بیانات میں حضرت معاویہ کے بارے میں جھوٹی اور دشمنوں کی گھڑی ہوئی تاریخی کہانیوں کو پیش کرتے ہیں اور اگر صحیح حدیث کو پیش کرتے ہیں تو اس کو محدثین کے برعکس زبردستی اپنی طرف سے اس کا مصداق حضرت معاویہ کو ٹھہراتے ہیں. کسی ایک صحیح حدیث میں بھی وہ باتیں موجود نہیں ہیں جن کی نسبت وہ کاتبِ وحی حضرت معاویہ کی طرف کرتے ہیں.
گو کہ ملت نے عمومی طور پر اسے ریجیکٹ کر دیا۔ بڑے اسٹیجوں کا جو کبھی دولھا ہوا کرتا تھا اسے اسٹیج کی نچلی صفوں سے بھی کھینچ کر پھینک دیا۔ مگر ہر ناپاک تحریک کو جس طرح کچھ ہر کارے مل جاتے ہیں اسی طرح سلمان ندوی کو بھی ملے۔ صحابہ کرام پر تبرے بازی کے باوجود کچھ لوگ اسے مختلف القاب سے نوازتے رہے۔ رافضیت کے جراثیم اور وائرس کے شکار اس کے قریب تر ہو گئے مگر عمومی ملت اس کے خبث کو سمجھ گئی اور پوری ملت نے اس سے دوری بنا لی۔ ہمیں امید تھی کہ شاید اسے علی الاعلان توفیق توبہ ملے اور مرنے سے پہلے ہمیں پرانا سید سلمان ندوی دیکھنے کو ملے مگر کھلے طور پر بغض اصحاب میں وہ اس قدر آگے بڑھ چکا تھا کہ واپسی کا راستہ مسدود ہو چکا تھا اور دائمی ذلت اس کا مقدر بن چکی تھی۔ آج جب وہ اس دنیا سے جا چکا ہے ہمیں اس کے بغض صحابہ کے ساتھ مرنے پر سخت افسوس ہے۔ مگر مرنے کے بعد جو لوگ اس کے فضائل گھڑ رہے ہیں اور زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں در اصل یہ خود بغض صحابہ کرام میں بد مست ہیں جن کو ایکسپوز کرنا ضروری ہے۔ 01/07/2026
*نشانِ عبرت* (بر وفات سلمان ندوی) از: اظہارالحق بستوی یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں سن 2003 کے آس پاس کی بات ہو گی جب سلمان ندوی کا نام پہلی بار سماعت سے ٹکرایا۔ یہ ہماری عربی تعلیم کا دوسرا تیسرا سال تھا۔ اسلوبِ خطابت کے حوالے سے پہلی بار نام سنا۔ عربی چہارم میں عربی زبان کی اہمیت پر عربی میں تقریری مسابقہ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر بعض خوش گمان بڑوں اور ہم عمروں نے ہمارے عربی اسلوب خطابت میں سلمان ندوی کی گھن گرج محسوس کی۔ ہمیں بھی اپنے بارے میں اس طرح کے جملے سن کر فخر سا محسوس ہوا اور دل میں غائبانہ عقیدت پیدا ہو گئی۔ پھر جب بھی جس طرح بھی اسے سننے کا موقع ملا سنتے رہے اور اس کی جادو بیانی کے سحر میں ڈوبتے رہے۔ یہاں تک کہ 2013 میں حیدرآباد میں ہماری ملازمت کا وقت آیا۔ حیدرآباد پہنچنے پر کچھ ہی ایام گزرے ہوں گے کہ سلمان ندوی نے حیدرآباد میں اپنا وہ معروف خطاب فرمایا جس میں عرب حکمرانوں کو قزاق اور لٹیرا اور ظالم و غاصب ہونے کا اعلان کیا۔ پہلی بار ہم اسے بالمشافہ سن رہے تھے اور سارا مجمع دم بخود اس کی ہر چیخ اور چنگھاڑ پر سر تصدیق خم کر رہا تھا۔ ہم تو پرانے فین تھے ہی۔ ہمیں بھی بہت مزہ آیا اور اس شعلہ بیانی کا سحر دیر تک پورے وجود پر چھایا رہا۔ مصافحہ کی بھیڑ میں جانے کا ہمیں کوئی یارا نہیں رہا اور نہ کسی کی دست بوسی کے لیے آج تک یہ جوکھم اٹھانے کی توفیق ہوئی۔ پھر 2014 یا 2015 کا کوئی دن تھا جب ہمارے سابقہ اسکول اذان انٹرنیشنل اسکول حیدرآباد کے دو بچوں کی حفظ کی دستاربندی کے موقع پر سلمان ندوی کی ہمارے اسکول آمد ہوئی۔ شخصیت کے رعب کے نیچے ہم دب گئے اور بہرحال یہ پہلی ملاقات ہمارے پرانے خوابوں کی تعبیر تھی مگر لہجے اور چال ڈھال سے رعونت کی بو باس کھلے طور پر محسوس کی جا سکتی تھی۔ حیدرآباد کے اس گالیوں والے بیان کے بعد خلیجی ملکوں میں سلمان ندوی کے خلاف سخت ہوا بنادی گئی جس کا بہت زیادہ کریڈٹ ہندوستان کے ریالی مولویوں کو جاتا ہے جس کی وجہ سے خلیج سے سلمان ندوی کے لیے آنے والے پیسوں کی ریل پیل پر سخت ضرب پڑی۔ پھر بغدادی کو امیر المؤمنین کا خط لکھنے کی پاداش میں ہندوستانی ایجنسیوں کی طرف سے بھی ناطقہ بندی کردی گئی جس کی وجہ سے اسے خلیج کے ممالک کی غلطیاں تو نظر آتیں مگر اپنے ملک کے ظالموں پر کبھی زبان نہ کھل سکی۔ چناں چہ اسے ایک نئی پناہ گاہ ڈھونڈنی پڑی اور وہ تھی رافضیت اور تبرے کی راہ۔ صحابہ پر سب و شتم کی راہ۔ چناں چہ سلمان ندوی نے جب اس راہ پر قدم رکھا تو پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے کی مثال زندہ ہو گئی۔ اس نے ذلت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ حضرت معاویہ رض پر سب وشتم اس حد تک کی کہ شیعہ ذاکروں نے اسے اپنا گرو مان لیا۔ اہل ایران و عراق نے اپنے دامن میں اسے جگہ دی اور تبرے بازی کی اس نے بھرپور قیمت وصول کی۔ رافضیت کو کمک پہنچانے کے لیے اور تبرے بازی میں اوج کمال کو پانے کے لیے اس نے تمام حدیں پار کردیں چناں چہ حضرات شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما پر زبان طعن دراز کی۔ حضرت ابو ہریرہ رض کے خلاف دریدہ دہنی کی۔ جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی رض کے مقابل کھڑے ہونے والے دیگر صحابہ کرام کے خلاف غیظ و غضب ظاہر کرنے اور اندرون کا خبث انڈیلنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ اپنی ہر مجلس میں حضرت معاویہ کو گالی دینا اپنا فرض منصبی سمجھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ رافضیت کا ترجمان بن گیا اور اہل سنت والجماعت سے اس نے اپنی راہ الگ کر لی۔ چناں چہ وہ جیتے جی نشانِ عبرت بن گیا۔ خود اپنے ہی لوگوں کی نگاہ میں ذلیل و خوار ہو گیا۔ امت کے علماء اور عوام نے اس سے اپنا دامن جھٹک لیا۔ بڑے جلسے جلوس تو کجا چھوٹے پروگراموں میں بھی اس کے نام کو دیکھنا ملت کو گوارا نہ رہا۔ صحابہ کو گالی دینے کی پاداش میں اخیر عمر ذلت و خواری کی نذر ہو گئی۔ جن صحابہ سے بلا استثناء اللہ تعالیٰ نے رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ کہہ کر اپنی رضامندی کا اعلان کیا تھا ان کے درمیان بے غیرتی کے ساتھ فیصل بننے کی وجہ سے راندہ درگاہ ٹھہرنا اس کا مقدر ٹھہرا۔ رافضیت سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے اس نے ملت اسلامیہ کے علماء اور اداروں پر بھی غلیظ تبصرے کیے۔ اپنے محسن ماموں حضرت مولانا رابع حسنی ندوی رح کو چیلنج کیا۔ مولانا ارشد مدنی کو مباہلے کی دعوت دی۔ دارالعلوم دیوبند پر تسلسل کے ساتھ اپنی گندی زبان کھولی۔ ملت کا سودا کرنے کے لیے بورڈ بنائے اور ضمیر فروشی کی۔ لہذا لازم تھا کہ وہ ذلیل و خوار ہو جائے۔ ملت اسلامیہ اس کے خبث کو سمجھے۔ اس کے ناپاک عزائم کو بھانپے اور اسے کوڑے دان میں ڈال دے جو کہ ملت اسلامیہ نے کیا۔
> "بیٹا! تم کس کے لیے تعزیتی مضمون لکھنے بیٹھے ہو؟ کیا میرے بارے میں اس شخص نے کیا کچھ نہیں کہا؟ کیا اس نے مجھے (اور میرے ساتھیوں زبیر و طلحہ رضی اللہ عنہما کو) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کرنے کی وجہ سے 'فاسق' اور 'مردود الروایہ والشہادہ' (جن کی روایت اور گواہی قبول نہ ہو) نہیں کہا؟ کیا اس نے یہ نہیں لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف قتال کرنے والے تمام صحابہ (نعوذ باللہ) 'باغی، طاغی، عاصی، مجرم، قاتل، ظالم اور فاسق' ہیں؟ کیا میری 'ام المؤمنین' کی حیثیت اس کے لیے کافی نہیں تھی؟ کیا میری پاکیزگی، میری دیانت، میری قربانیاں، سب کو اس طرح ایک جملے سے رد کر دیا گیا؟" فضائل، مناقب اور قرآنی گواہیوں کا وہ پورا منظرنامہ میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ ایک طرف رسولِ پاک ﷺ کی صحبت یافتہ وہ عظیم ہستیاں تھیں جن کی پاکیزگی کی گواہی قرآن نے دی، جن کے بارے میں کہا گیا 'رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ'، اور دوسری طرف میرا وہ قلم تھا جو ان پر تنقید کرنے والی شخصیت کی ثناء خوانی کے لیے بے قرار تھا۔ ان تمام مقدس ہستیوں نے مجھے ایک نگاہ سے دیکھا، ان کے چہروں پر ایک عجیب بے نیازی اور گہرا صدمہ تھا۔ انہوں نے جاتے جاتے رندھی ہوئی آواز میں مجھ سے کہا: > "تم نے دیکھا، تم نے سنا، اور تم نے جانا کہ اس شخص نے ہمیں منافق، غاصب اور فاسق کہا ۔ اس سب کے باوجود... اگر تمہارا ضمیر تمہیں اجازت دیتا ہے، اگر تمہاری عقیدت کے پیمانے اتنے ہی وسیع ہیں، تو شوق سے لکھو! جاؤ، ان کی تعریفوں کے پُل باندھو۔ انہیں 'محققِ دوراں' لکھو، انہیں 'مفکرِ اسلام' کے القابات سے نوازو... ہمیں کوئی اعتراض نہیں، بس ہمارے ان سوالوں کا جواب روزِ محشر اپنے خدا کو دے دینا۔" وہ چلے گئے... لیکن میری تڑپ، میرا جوش اور میرے الفاظ وہیں منجمد ہو گئے۔ قلم ہاتھ میں لرز رہا ہے، کاغذ میری بے بسی پر ہنس رہا ہے، اور ضمیر ملامت کر رہا ہے۔ اب سمجھ نہیں آتا کہ اس دنیا سے رخصت ہونے والے کے لیے تعزیتی کلمات لکھوں، یا صحابہ کی ناموس پر اٹھنے والے ان گہرے زخموں پر ماتم کروں جن پر اس کی تحریریں گواہ ہیں!
*مولانا سلمان ندوی : کیا لکھوں کچھ لکھا نہیں جاتا* مفتی عنایت اللہ خورشید قاسمی شیخ الحدیث: جامعۃ المؤمنات رامپور امام وخطیب مسجد رحمت کاندیولی مولانا سلمان ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ خبر صدمہ بن کر آئی اور دلِ مضطر نے پکارا کہ اٹھو! قلم اٹھاؤ، تعزیتی کلمات لکھو، ان کے لیے ایصالِ ثواب کا سامان کرو، ان کی خطابت، ان کی تحریر اور ان کے علم و فضل کا ذکرِ خیر کر کے حقِ محبت ادا کرو۔ وہ ایک طویل عرصے تک علم و ادب کی دنیا پر راج کرتے رہے، تو کیا آج ان کے جانے پر دو لفظ بھی نہ لکھے جائیں؟ میں اسی تڑپ کے ساتھ کاغذ اور قلم سنبھال کر بیٹھا ہی تھا۔ ذہن پر سکتہ طاری تھا اور الفاظ کی آمد کا انتظار تھا کہ اچانک... فضا بدل گئی۔ میرے تخیل کے بند دریچوں سے جلالِ نورانی کے پیکر نمودار ہونے لگے۔ یہ وہ ہستیاں تھیں جن کا نام لیتے ہوئے زبان لرزتی ہے، اور جن کی عدالت پر خود قرآن نے مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ سب سے پہلے امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سامنے آ کھڑے ہوئے! ان کے چہرے پر ایک خاموش درد تھا، وہ عتاب آمیز لیکن دھیمے لہجے میں مجھ سے مخاطب ہوئے: > "اے قلم کار! تو آج کس کی اچھائیوں کا دفتر کھولنے بیٹھا ہے؟ ذرا ٹھہر... اور مجھے دیکھ! کیا میرے اندر کوئی ایک بھی اچھائی نہیں تھی؟ کیا میں اللہ کے آخری نبی ﷺ کا قریبی رشتہ دار اور سالا نہیں تھا؟ کیا میں کاتبِ وحی نہیں تھا کہ میرے لکھے ہوئے حروف کو آسمانی تصدیق حاصل تھی؟ کیا میرے لیے خود سرورِ کائنات ﷺ نے 'ہادی اور مہدی' ہونے کی دعا نہیں فرمائی تھی؟" ان کی آواز میں ایک کسک تھی، وہ آگے بڑھے اور کہنے لگے: > "کیا میرے ہاتھ پر سید الشہداء حضرت حسن اور سید شباب اہل الجنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہما نے بیعت نہیں کی تھی؟ کیا میں نے انہیں ہمیشہ عزت، انعام اور اکرام سے نہیں نوازا؟ کیا میری پوری زندگی میں کوئی ایک بھی ایسی خوبی نہیں تھی کہ وہ شخص مجھے سرِ عام، منبر و محراب سے 'باغی، طاغی، منافق اور فاسق' کہتا رہا؟ کیا میرے لیے کائنات کا سب سے بڑا اعزاز—'شرفِ صحابیت'—کافی نہیں تھا کہ میری عدالت پر انگلی اٹھائی گئی؟" میں ابھی اس جلالِ عزم کے سامنے کانپ ہی رہا تھا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آ گئے۔ ان کی آنکھوں میں ایک صدیوں پرانا زخم ابھر آیا تھا۔ وہ تڑپ کر بولے: > "اے لکھنے والے! ذرا میری طرف بھی دیکھ۔ مجھے 'درباری مولوی' کہا گیا، مجھے 'منافق' کے لقب سے یاد کیا گیا، مجھ پر احادیثِ رسول ﷺ کو چھپانے اور من گھڑت باتیں پھیلانے کا الزام لگایا گیا! کیا میرا حضور ﷺ کی نظرِ شفقت میں کوئی مقام نہیں تھا؟ کیا میں نے بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر، پیٹ پر پتھر باندھ کر، دن رات ایک نہیں کیے تھے تاکہ فرمانِ رسول ﷺ تم تک پہنچ سکے؟ کیا میری زندگی صرف برائیوں کا مجموعہ تھی کہ مجھ پر اس بیدردی سے طعن و تشنیع کے تیر چلائے گئے؟" ابھی میں ان شکایات کے بوجھ تلے دبا ہی تھا کہ کمرے کا وقار دوچند ہو گیا۔ اسلام کے عظیم المرتبت خلفاء، جن کے جلال سے باطل لرزتا تھا، تشریف لائے۔ ان کی خاموشی بھی سوالیہ نشان تھی۔ خلیفہ اول، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں شدید صدمہ تھا۔ انہوں نے کہا: > "کیا اس شخص نے میرے بارے میں یہ نہیں لکھا کہ میں نے خلافت ہتھیانے کے چکر میں حضور ﷺ کی آخری وقت میں کھل کر مخالفت کی؟ کیا اس نے مجھ پر یہ الزام نہیں لگایا کہ میں نے (اور میرے ساتھی عمر نے) ثقیفہ بنو ساعدہ کے وقت حضرت علی اور عباس رضی اللہ عنہما کو دھوکہ دیا؟ کیا میری پوری زندگی کی قربانیاں، میری 'صدیقیت' اور غارِ ثور کی یاری، سب صرف اس لیے تھی کہ مجھ پر خلافت کا 'ناحق حقدار' ہونے کا الزام لگایا جائے؟" ان کے فورا بعد، خلیفہ دوم، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، جن کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپتے تھے، مخاطب ہوئے: > "اور میرے بارے میں کیا زبان استعمال کی گئی؟ کیا اس نے یہ نہیں لکھا کہ تمام صحابہ نے (نعوذ باللہ) حضور ﷺ کی وصیت کو ٹھکرا دیا تھا؟ کیا مجھ پر اور ابوبکر پر یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ ہم حضور ﷺ کے بعد خلافت کے حقدار نہیں تھے؟ کیا میری عدالت، میری حق گوئی، اور میرے لیے رسول اللہ ﷺ کی وہ دعائیں، سب کچھ اس شخص کی تنقید کی بھینٹ چڑھ گئیں؟ کیا میں نے اسلام کی جو خدمت کی، اس کا صلہ یہ الزامات ہیں؟" آخر میں، ایک ایسا جلال نمودار ہوا جس کے سامنے حیا بھی سر جھکا لے۔ وہ آئیں جن کا مقام تمام مومنوں کے لیے ماں کا ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی محبوب ترین زوجہ تھیں، جن کے گھر میں وحی کا نزول ہوتا تھا۔ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر گہرا صدمہ تھا، انہوں نے تڑپ کر کہا:
آج کا مدرس بھوکا اور عالم بے وقار کیوں۔۔۔؟ تنخواہوں کی کمی نے آج علماء کو سب سے زیادہ پریشان کر رکھا ہے اخراجات کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور آمدنی وہی 10 ہزار 12 ہزار 15 ہزار صرف عوام نے ایک جملہ رٹ رکھا ہے کہ جی آپکے پیسہ میں برکت بہت ہوتی ہے بھیا رے برکت نہیں ہوتی وہ بیچارہ اپنا اور بچوں کا پیٹ کاٹ کر گذارا کر رہا ہے کوئی دل کا حال تو پوچھے کم آمدنی کی وجہ سے والدین بھی ٹیڑھی نگاہ کرکے بات کرتے ہیں بیوی اور بچوں کی شکایتیں سو الگ اب کچھ لوگ کہینگے کہ مساجد و مدارس میں کام کرنا ضروری تو نہیں ہے کوئی کاروبار کرلے بھیا رے کاروبار کرنے یا کوئی دوسرا کام کرنے کے لئے بھی تو سرمایہ چاہئے یا کوئی ہنر چاہئے ایک عالم فارغ ہوتے ہوتے 25 سال کا ہوجاتا ہے اور یہ عمر کسی کام کو سیکھنے کی نہیں ہوتی اور ہمارا معاشرہ اسکو کسی کام کے لائق سمجھتا بھی نہیں ہے بلکہ اب تو ذہنیت یہ بن گئی ہے کہ اگر عالم کوئی کام کرکے کامیاب ہو جائے تو پیٹھ پیچھے چہ میگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ کہیں سے مال مار دیا حضرت نے اور اہل مدارس کا حال یہ ہیکہ مہتمم زندگی کی تمام تر عیاشیاں کرتا پھریگا لیکن مدرسین کو غلام سمجھ کر رکھے گا جس مدرس نے تنخواہ سے متعلق کچھ کہا جواب میں کہا جاتا ہے مولوی صاحب آپ کے جیسے ہزاروں 10 ہزار میں کام کرنے کے لئے لائن لگا کر کھڑے ہیں اب مجھے آپ حضرات بتائیں یہ عوام کی غلطی ہے یا ہمارے مدارس کی۔۔ محمد نشاط بن مغیث گھنگرالہ
2/2 دسویں بات یہ کہ علم نبوت صبر اور جد وجہد کا رستہ ہے۔ یہ کانٹوں کا ہار ہے پھولوں کی مالا نہیں۔ اس لئے جس جد وجہد اور کد وکاوش سے اسے حاصل کیا جاتا ہے، اس سے کم از کم دس گنا کم کوشش اس کو پھیلانے میں بھی کر لینی چاہئے۔ سو، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مسجد کمیٹی یا مدرسے کے اہتمام کے ظلم کا شکار ہیں، ان کے لئے میرا ذاتی مشورہ یہ ہے کہ وہ کڑھ کڑھ کر زندگی گزارنے کی بجائے کوئی اور جگہ ضرور دیکھیں تاکہ فارغ البال ہو کر اخلاص کے ساتھ دین کا کام کر سکیں۔ آخری بات یہ کہ جس طرح پانچ سال طب کا علم حاصل کرنے والے طبیب یا علم ہندسہ کی تعلیم پانے والے کو سبزی کی دکان کھولنے کا مشورہ دینا عقلمندی نہیں ہو سکتا، اسی طرح کم از کم آٹھ سال مدرسے میں پڑھنے والے مولوی کو بھی یہ مشورہ دینا عقل کی بات نہیں البتہ یہ بات اپنی جگہ ہے کہ اگر وہ کوئی اور حلال پیشہ اختیار کر لیتا ہے تو شریعت کی روشنی میں وہ گنہگار تو نہیں لیکن جس طرح طبیب سبزی کی دکان کھول لینے کے بعد طبیب نہیں رہے گا، ایسے ہی مولوی قصاب کی دکان کھولنے کے بعد مولوی۔ اس لئے مہتمم حضرات اور مساجد کمیٹی ممبران سے بھی گزارش ہے کہ اپنے مدرسین اور ائمہ کی ضروریات کا اچھے طریقے سے خیال رکھا کریں تاکہ کوئی اچھا مدرس اور امام آپ کے برتاؤ اور سلوک کی وجہ سے دلبرداشتہ ہو کر سبزی کی دکان نہ کھول لےکیونکہ مدرس اور امام بھی آپ ہی کی طرح ایک جیتا جاگتا انسان ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ھمدردیات)
تدریس، امامت، خطابت اور عزیمت ورخصت بہت دنوں بعد آج طبیعت لکھنے پر مائل ہوئی ہے اور موضوع بھی بڑا دلچسپ ہے یعنی مساجد میں امامت خطابت اور اس کی مشکلات۔ اس بارے میں کچھ باتیں تو شاید میں نے ’’میں اور تدریس‘‘ والے سلسلہء مضامین کے آخر میں لکھ دی تھیں لیکن اس وقت وہ باتیں مستحضر نہیں۔ اس لئے ایک نئی تحریر لکھنے لگا ہوں۔ باعث اس کا یہ ہوا کہ ہمارے ایک عزیز دوست نے لکھا کہ مدارس کے فضلاء کو صرف مساجد مدارس پر اعتماد کرنے کی بجائے عزت نفس کے ساتھ رزق کمانے کے اور ذرائع کی جانب بھی متوجہ ہونا چاہئے اور اس پر بہت سے حضرات نے اپنے اپنے تجربے کے مطابق ان کی تائید کی۔ اس سلسلے میں اپنی سوچ کے مطابق چند باتیں عرض کرتا ہوں حالانکہ میں خود ان مولویوں میں سے ہوں جو کل وقتی مولوی نہیں رہ سکے۔ پہلی بات یہ ہے کہ حلال کھانا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس میں کسی طبقے کی کوئی تخصیص نہیں۔ اس لئے رزق حلال کے حصول کے لئے حلال ذرائع آمدن کو کام میں لانا ضروری ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کسی بھی مسلمان کو حرام کھانے کی اجازت نہیں۔ دوسری بات یہ کہ دین کا اتنا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے جس سے وہ اپنے چوبیس گھنٹے کی زندگی اسلام کے احکام کے مطابق گزار سکے۔ حلال حرام اور جائز ناجائز کا فرق جان سکے۔ تیسری بات یہ ہے کہ مدارس میں پڑھنے والے لوگ دینی علوم پڑھتے ہیں جبکہ ان علوم کا تقاضہ یہ ہے کہ جو علم آپ کو حاصل ہوا ہے، اسے آگے بھی پہنچائیں۔ اس بارے میں احادیث کی اتنی کثرت ہے کہ ان کو بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ چوتھی بات یہ کہ دین کی تبلیغ میں عزیمت کا رستہ انبیاء کرام کا رستہ ہے کہ وہ بے لوث، بلا اجرت اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ ہو۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ انبیاء کرام کی زبان سے یہ مبارک الفاظ کہلوائے گئے ہیں کہ ’’ان اجری الا علی اللہ‘‘ (میرا بدلہ تو صرف اللہ کے ذمے ہے)۔ پانچویں بات یہ کہ مدارس میں تعلیم اور مساجد میں امامت خطابت پر جو تنخواہ دی جاتی ہے وہ در اصل اس وقت کا بدل ہے جو کسی عالم سے لیا جاتا ہے کیونکہ وہ نماز پڑھنے اور علم پھیلانے کے لئے کسی خاص مسجد یا مدرسے میں رہنے کا پابند نہیں لیکن امام اور مدرس ہو جانے کے بعد وہ اپنی آزادی کھو دیتا ہے۔ اس لئے وہ تنخواہ اور اجرت کا مستحق ہو جاتا ہے۔ چھٹی بات یہ کہ مساجد کی کمیٹیوں اور مدارس کے انتظام اہتمام میں اچھے برے ہر طرح کے لوگ اسی طرح ہوتے ہیں جس طرح دنیا کے کسی بھی ادارے میں ہو سکتے ہیں۔ اس لئے کسی بھی نظام سے جڑ جانے کے بعد کلی شخصی آزادی اور عزت نفس کو برقرار رکھنا ناممکن کے درجے کی چیز ہے۔ آپ خواہ جتنے بھی خود دار ہو جائیں کسی نہ کسی جگہ اس خود داری اور عزت نفس کا کسی نہ کسی درجے میں سودا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے اگر کسی شخص کا یہ خیال ہو کہ مدرسے کے مہتمم اور مسجد کی کمیٹی سے جان چھڑا کر کہیں اور ملازمت کر لوں گا، تو اسے مسجد اور مدرسے سے زیادہ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ ساتویں بات یہ کہ جس طرح مہتممین اور کمیٹی ممبران میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو امام اور مدرس کو پریشان کرتے ہیں، تو ویسے ہی مدرسین اور ائمہ کے طبقے میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو کمیٹی اور مہتممین کا دم ناک میں کر دیتے ہیں۔ اس لئے صرف ایک فریق کو مورد الزام ٹھہرانا شاید قرین قیاس نہ ہو۔ آٹھویں بات یہ کہ تدریس اور امامت چوبیس گھنٹے کی ملازمت ہے۔ اس لئے جب آدمی اس کے ساتھ کوئی دوسرا کام شروع کرتا ہے تو یہ کام ثانوی ہو جاتے ہیں کیونکہ دوسرا کام اصل ہو جاتا ہے۔ مثلا امام نے دکان کھول لی ہے تو وہ اس کا ذریعہ آمدن ہے۔ اب نماز کے لئے مسجد میں حاضری کوئی ضروری نہیں۔ اسی طرح اگر مدرس نے کوئی اور کام ڈھونڈ لیا ہے تو وہ پہلے اسے انجام دے گا اور اس کے بعد تدریس کرے گا۔ اس کی زندہ مثال میں خود ہوں کہ ایک جگہ جز وقتی پڑھاتا تھا لیکن ملازمت کے اوقات بدل گئے تو تدریس چھوٹ گئی۔ منطق کی زبان میں ’’نتیجہ ارذل کے تابع ہوتا ہے‘‘ کا یہی مطلب ہے۔ نوویں بات یہ کہ مسجد اور مدرسہ مدارس کے فضلاء کا اصل میدان ہے۔ علوم نبوت کی ترویج اور تبلیغ کا ان سے مؤثر اور دیرپا ذریعہ کوئی نہیں۔ اس لئے اگر اچھے اور قابل لوگ اس میدان سے دور ہوتے جائیں گے تو کمزور لوگ اس کو سنبھالیں گے۔ اس کیفیت کو ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ ’’گھوڑے مر جانے کے بعد میدان گدھوں کے لئے خالی ہو جاتا ہے۔‘‘ اسی طرح حدیث شریف میں بھی آیا کہ علم خود نہیں اٹھایا جائے گا بلکہ علماء کے اٹھانے سے اٹھ جائے گا۔ اس کے بعد لوگ جاہلوں کو مقتدا بنا لیں گے جو خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے۔) جاری 1/2
без подписи