tgindex
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

Статистика

💥شرعی عدالت💥 گروپ میں پوچھے گئے سینکڑوں اسلامی سوالوں کے حنفی جوابات کا حسین ذخیرہ ــــــ خود شامل ہوں، اور اپنے احباب تک اس کی لنک شیر فرماکر صدقہ جاریہ کا ثواب بھی پائیں.

Последний пост
16 июн.
Последнее чтение
13 авг.
Постов за неделю
0
Всего постов
20
Тип
открытый
Язык
ur
В каталоге с
13 авг.
Подписчики
2 476
+2 за 5 дн.
Сутки
+1
+0,04%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
692
20 постов
Вовлечённость
27,9%
к подписчикам
Постов в день
0,0
всего 20
Упоминаний
0
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
1/48двое суток
1/72трое суток

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • ⚡⚡⚡⚡https://t.me/musannifeen اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • без подписи

  • 11 апр.1 0351

    без подписи

  • 11 апр.1 0201

    без подписи

  • سلطان پر واجب ہے کہ علما کا وظیفہ مقرر کرے اور سلطان نہ ہو تو شہر کے اغنیا علما کے نفقے کا انتظام کریں۔ علامہ عبد الواحد بن دین محمد السندی الحنفی (1224 ھ) نے اپنی مایہ ناز تصنیف "حسن الفھم والتعقل" میں ایک باب باندھا "فی ذم الفارغین المدعین للتوکل" یعنی ان لوگوں کی مذمت کے بارے میں جو کسبِ معاش کو ترک کرکے توکل کا دعوی کرتے ہیں۔ اس میں آپ نے ایک نفیس بحث کا اضافہ کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سلطان پر واجب ہے کہ علمائے دین و طلبائے علم دین کے لئے بیت المال سے وظیفہ جاری کرے کیونکہ یہ ان کا حق ہے، اور بعض نے لکھا ہے کہ یہ ایسا حق ہے کہ اگر دنیا میں یہ حق نہیں دیا گیا تو آخرت میں (نیکیوں کی صورت میں) لیا جائے گا۔ علامہ عبد الواحد السندی اس پر دلائل ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: أقول: فلو لم يجد شيئاً مما ذُكر يجب على أغنياء البلاد نفقته. یعنی میں کہتا ہوں: اگر سلطان یا والد (کفالت کرنے والا) نہ ہو یا تعلیم پر اجرت بھی میسر نہ ہو تو اس شہر کے اغنیا پر واجب ہے کہ علما و طلبا کے نفقے کا انتظام کریں۔ (حسن الفھم، صـ125، دارالضياء، الكويت) آگے جاکر لکھا ہے: أقول: على هذه الرواية لو وصل إليه حقه من الأغنياء يكون آخذا لحقه لا آكلا بدينه، فافهم. یعنی میں کہتا ہوں: اس روایت کی بنیاد پر اگر علما کو اغنیا کی جانب سے انکا حق وصول ہو تو وہ اپنا حق لینے والے قرار پائیں گے نہ کہ اپنا دین کھانے والے۔ غور کیجیے۔ (حسن الفھم، صـ126، دارالضياء، الكويت) اس تحریر کا مقصد یہ نہیں کہ سیٹھوں کے گھر جاکر اپنے حق کی وصولی کا نعرہ لگایا جائے یا ان کی جیبوں پر نظریں جمالی جائیں۔ عرضِ مقصد یہ ہے کہ علما کو کاروبار کرنے پر زور دینے کے بجائے اغنیا کی ذہن سازی کی جائے کہ تعلیم و تعلم کے سلسلے میں وسائل مہیا کیے جائیں، دین اگر وسائل کے اعتبار سے کمزور ہو تو اسکی مدد کرنا اغنیا پر واجب ہوتا ہے جیسا کہ تعلیم و تعلم کے اعتبار سے دین کی مدد واجب ہوتی ہے۔ پریکٹیلی یہ بہت مشکل ترین عمل ہے کہ ایک عالم 8-10 گھنٹے اپنا کاروبار کرے، 8-10 گھنٹے سونے، کھانے، پینے کے معاملات دیکھے اور پارٹ ٹائم میں دین کا کام چلائے۔ ابو محمد عارفین القادری #عارفین #arfeenqadri 18 دسمبر 2022 ء عروس البلاد کراچی

  • ⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡ (سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں جس مسجد میں نماز پڑھتا ہوں وہاں کے امام صاحب ایک مشت سے کم داڑھی رکھتے ہیں اور وہ پنجگانہ نماز، جمعہ، عیدین اور تراویح کی امامت کرتے ہیں۔ کیا ایسے امام کی اقتدا میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا چاہیے یا تنہا پڑھیں؟ حکمِ شرع کیا ہے؟ (جواب) داڑھی ایک مشت سے کم رکھنا ناجائز و گناہ ہے (الدر المختار مع رد المحتار، ٢/٤١٨)، اس وجہ سے ایسا امام فاسق ہوگا اور اس کی امامت مکروہِ تحریمی ہے (الدر المختار، ١/٥٦٦)۔ تاہم اگر کوئی دوسرا صالح امام میسر نہ ہو اور یہ امام صحیح العقیدہ، صحیح الطہارۃ اور صحیح القراءۃ ہو تو اس کی اقتدا میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور نماز ادا ہو جائے گی۔ والله تعالى أعلم. (سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بحالتِ روزہ کان میں پانی چلا جائے یا قصداً ڈالا جائے تو روزے کا کیا حکم ہے؟ (جواب) اگر روزہ کی حالت میں کان میں پانی خود بخود چلا جائے تو بالاتفاق روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ اور اگر قصداً پانی ڈالا جائے تو فقہائے احناف کے درمیان فساد وعدم فساد میں اختلاف ہے، تاہم مختار اور معتمد قول یہ ہے کہ اس سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوتا، کیونکہ کان سے جوف تک راستہ معتاد نہیں البتہ احتیاطاً قضا کرنے کا حکم ہوگا۔ ہاں اگر کان کا پردہ پھٹا ہو اور یقین ہو کہ پانی حلق تک پہنچ گیا ہے تو بالاتفاق روزہ فاسد ہوگا اور قضا لازم ہوگی۔ والله تعالى أعلم۔ (سوال) اگر کسی شخص کی کمائی حرام ہو اور وہ کسی کو کوئی چیز کھلائے تو کیا اس کی چیز کھانے سے یہ کہہ کر انکار کرنا کہ "آپ کی کمائی حرام ہے" درست ہے؟ (جواب) اگر کسی کی کمائی واقعی حرام ہو اور غالب گمان ہو کہ کھلایا جانے والا مال بھی اسی حرام سے ہے تو اس سے بچنا واجب ہے۔ تاہم کسی مسلمان کو صراحت کے ساتھ یہ کہنا کہ "تمہاری کمائی حرام ہے" درست طریقہ نہیں، کیونکہ اس میں ایذا اور بدگمانی کا اندیشہ ہے، جبکہ شریعت نے حسنِ ظن اور نرم اسلوب کی تعلیم دی ہے لہذا وہ اسے حکمت اور نرمی کے ساتھ تنبیہ کرے اور منع کرے۔ والله تعالى أعلم۔ (سوال) کسی شخص نے اپنے مکان میں سے اپنی نواسی اور پوتے کو تہائی حصہ دینے کی وصیت کی تھی، اب اس شخص کا انتقال ہوگیا۔ بعد میں ورثاء نے مل کر مکان کسی ایک کے نام کر لیا تاکہ بیچنے میں آسانی ہو۔ کیا اب بھی اس گھر میں سے تہائی حصہ دینا پڑے گا؟ (جواب) ورثاء کا آپس میں مکان کسی ایک کے نام کر لینا وصیت کو ساقط نہیں کرتا لہذا تقسیم سے پہلے کل ترکہ میں سے تہائی حصہ نکال کر وصیت کے مطابق دینا لازم ہوگا، پھر باقی مال ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ البتہ اگر نواسی یا پوتا خود وارث ہیں تو ان کے حق میں وصیت دیگر ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی۔ والله تعالى أعلم۔ ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • ⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡ (سوال) کسی نے زکوٰۃ دی اور ایک غیر مستحق شخص نے اس نیت سے لے لی کہ بعد میں کسی مستحق کو دے دوں گا، تو کیا اس طرح غیر مستحق کا لے کر مستحق کو دینا جائز ہے یا نہیں؟ اور دینے والے کی زکوٰۃ ادا ہوگی یا نہیں؟ (جواب) زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے شرط یہ ہے کہ مال کسی مستحقِ زکوٰۃ کو بطورِ تملیک دیا جائے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ (القرآن الکریم، ٦٠/٩)۔ لہٰذا اگر کسی غیر مستحق نے خود لے لیا، اگرچہ اس نیت سے کہ آگے مستحق کو دے دے گا، تو دینے والے کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، کیونکہ ابتدائی تملیک مستحق کو نہیں ہوئی۔ ہاں اگر غیر مستحق شخص محض وکیل بن کر مستحق کی طرف سے وصول کرے اور پھر مستحق کو دے دے، اور یہ وکالت پہلے سے طے ہو، تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ والله تعالى أعلم. (سوال) کیا وِکس لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ (جواب) بدن کے بیرونی حصے پر وِکس یا کوئی مرہم لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ اس سے وہ چیز براہِ راست حلق یا معدہ تک نہیں پہنچتی۔ روزہ اس وقت ٹوٹتا ہے جب روزہ یاد ہونے کی صورت میں کوئی چیز منہ یا ناک کے ذریعے اندر پہنچے۔ لہٰذا سینہ، گلا یا ناک کے باہر وِکس لگانا جائز ہے اور روزہ صحیح رہے گا۔ البتہ اگر کوئی چیز ناک کے اندر اس طرح ڈالی جائے کہ وہ حلق تک پہنچ جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ والله تعالى أعلم۔ (سوال) بحالتِ روزہ تھوڑی سی قے جو کہ منہ بھر نہ تھی، قصداً اس حلق سے نیچے اتارا تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ (جواب قصداً اسے واپس حلق سے نیچے اتار لیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا اگرچہ منہ بھر نہ ہو کیونکہ جان بوجھ کر کسی چیز کو اندر پہنچانا مفسد صوم ہے۔ والله تعالى أعلم. (سوال) روزہ کی حالت میں نیم کا مسواک کر سکتے ہیں کیا؟ (جواب) روزہ کی حالت میں نیم یا کسی بھی درخت کی مسواک کرنا جائز ہے، بلکہ جس طرح غیر رمضان میں سنت ہے اسی طرح رمضان میں بھی، البتہ احتیاط یہ ہے کہ مسواک کا ریشہ یا کوئی ذرہ حلق میں نہ جائے، ورنہ روزہ فاسد ہوجائے گا۔ والله تعالى أعلم. (سوال) (۱) ایک حافظ صاحب اپنی بیوی کو تراویح پڑھا رہے ہیں، اگر بیوی (مقتدیہ) لقمہ دے تو کیا امام اس کا لقمہ لے سکتا ہے؟ (۲) اگر بیوی حافظہ ہے اور لڑکا بھی حافظ ہے، تو کیا دس رکعت لڑکا پڑھائے اور دس رکعت لڑکی (بیوی) پڑھائے، کیا اس طرح درست ہے؟ (۳) پورا منہ بھر کر قے کرنے سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟ اور اگر قے اپنے آپ آ جائے تو کیا حکم ہے؟ (جواب) (۱) جائز ہے جبکہ جماعت میں کوئی نامحرم نہ ہو اور اس کی آواز کسی نامحرم تک نہ پہنچتی ہو۔ (۲) مرد کا اپنی بیوی کو جماعت سے نماز پڑھانا درست ہے، لیکن عورت کا مرد کو امام بننا جائز نہیں، لہٰذا دس رکعت مرد پڑھائے اور دس رکعت عورت مردوں کی امام بن کر پڑھائے یہ درست نہیں ہوگا۔ (۳) اگر منہ بھر کر قے خود بخود آ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا، جیسا کہ حدیث میں ہے: مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ (سنن ابی داود، م: ٢٣٨٠)۔ البتہ اگر قصداً منہ بھر کر قے کی تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی۔ والله تعالى أعلم۔ (سوال) کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص ۳۰ شعبان کو نفل روزہ رکھے اور شام کو افطار سے پہلے رمضان کے چاند کی شہادت مل جائے تو اس شخص کا کون سا روزہ شمار ہوگا، نفل یا فرض؟ اور باقی لوگ جو روزے سے نہ ہوں اُن پر کیا حکم ہوگا؟ (جواب) اگر ۳۰ شعبان کو کسی نے نفل کی نیت سے روزہ رکھا اور دن میں معتبر شرعی شہادت سے رمضان کا چاند ثابت ہوگیا تو اس کا وہی روزہ رمضان کا فرض شمار ہوگا۔ معراج الداریہ (٨٤٤/٢) میں ہے: ولنا: حديث علي وعائشة أنهما كانا يصومان يوم الشك بنية النفل، وكانا يقولان: الصوم يومًا من شعبان أحب إلينا من أن نفطر يوما من رمضان، وإنما كانا يصومان بنية النفل؛ لإجماعنا على أنه لا يباح صوم يوم الشك بنية الفرض، فلولا أن عند التبين يجوز عن الفرض، لم يكن لهذا التحرز معنى. والله تعالى أعلم. (سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت فاتحہ دے سکتی ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ (جواب) بالکل دے سکتی ہے کہ فاتحہ قراءت اور دعا پر مشتمل ہے اور یہ امور عورتوں کے لیے اسی طرح جائز ہے جس طرح مردوں کے لیے۔ قرآن وحدیث میں اس پر ممانعت وارد نہیں ہوئی، یہی دلیل جواز ہے۔ والله تعالى أعلم. ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • ⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡ (سوال) روزہ کے دوران اگر پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد کچھ قطرے خون کے نکل آئیں تو کیا حکم ہے؟ (جواب) اس سے روزے پر فرق نہیں پڑتا۔ والله تعالى أعلم. (سوال) رمضان المبارک میں داڑھ وغیرہ میں مسالہ (فلنگ) بھرنے سے روزہ رہتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے؟ (جواب) محض دانت یا داڑھ میں فلنگ کروانا روزہ کو نہیں توڑتا البتہ اگر علاج کے دوران پانی یا دوا حلق سے نیچے چلی جائے اور نگل لی جائے تو روزہ فاسد ہو جائے گا، لہذا روزہ کی حالت میں علاج کرواتے وقت خاص احتیاط ضروری ہے۔ اگر ممکن ہو تو ایسا علاج افطار کے بعد کرانا بہتر ہے۔ والله تعالى أعلم. (سوال) مسئلہ یہ دریافت کرنا ہے کہ اگر کسی شخص نے گھر سے نکلتے وقت سفرِ شرعی کا ارادہ کیا لیکن ۵۰ کلو میٹر تک پہنچنے کے بعد اسے تذبذب ہوا کہ آگے جانا چاہیے یا نہیں، اسی دوران عصر کی نماز کا وقت ہوگیا، تو وہ شخص اتمام کرے گا یا قصر؟ (جواب) اگر کسی نے ابتدا میں سفرِ شرعی کا ارادہ کیا، لیکن ۵۰ کلو میٹر تک پہنچنے کے بعد ارادہ متزلزل ہو گیا اور اسے یقین نہ رہا کہ آگے مسافتِ شرعی مکمل کرے گا یا نہیں، تو جب تک وہ پختہ ارادہ برقرار نہ رکھے وہ شرعاً مسافر نہیں کہلائے گا، لہٰذا ایسی حالت میں نماز پوری پڑھے گا کہ قصر کے لیے نیتِ سفر کا جزم شرط ہے، اور تردد کے ساتھ حکمِ سفر ثابت نہیں ہوتا۔ والله تعالى أعلم۔ (سوال) اگر کوئی صاحبِ نصاب شخص کے پاس سونا ہو (مثلاً نیکلس، بالیاں وغیرہ) اور اس نے پچھلے رمضان میں اس کی زکوٰۃ ادا کی ہو، پھر محرم میں مزید سونے کی چوڑیاں خرید لے، تو کیا ان چوڑیوں پر زکوٰۃ کے لیے الگ سے ایک سال گزرنا ضروری ہے یا اگلے رمضان میں ہی ان کی زکوٰۃ بھی ادا کرنی ہوگی؟ (جواب)  نصاب کا دورانِ سال خریدا گیا سونا یا چاندی اصل مال کے تابع ہوتا ہے، اور اس کے لیے الگ سے نیا سال شمار نہیں کیا جاتا، بلکہ جب نصاب کا سال مکمل ہوگا (مثلاً اگلا رمضان آئے گا) تو اُس وقت موجود تمام سونے کی مجموعی مالیت پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں محرم میں خریدی گئی چوڑیوں کی زکوٰۃ بھی اگلے رمضان میں ہی ادا کی جائے گی، بشرطیکہ وہ اس وقت تک ملکیت میں موجود ہوں۔ والله تعالى أعلم۔ (سوال) امام صاحب نے سورۂ جمعہ کی پہلی آیت پڑھی پھر دوسری آیت بھول گئے اور اس کے بجائے دوسری سورت پڑھ دی، تو کیا سجدہ سہو واجب ہوگا؟ (جواب) نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد کسی سورت سے ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتوں کی مقدار پڑھنا واجب ہے، پوری سورت کا مکمل کرنا واجب نہیں۔ لہٰذا اگر امام نے سورۂ جمعہ کی پہلی آیت پڑھی، پھر دوسری آیت یاد نہ آئی اور انہوں نے کوئی دوسری سورت پڑھ لی، جس سے واجب مقدارِ قراءت ادا ہوگئی، تو نماز درست ہے اور سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔ والله تعالى أعلم. (سوال) میں فلاں بنت فلاں، میری شادی فلاں تاریخ کو فلاں بن فلاں سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد ہم دونوں کے درمیان کافی جھگڑے ہوئے، جس کی بنا پر رشتہ داروں کے سامنے بغیر کسی زور و دباؤ کے یہ طے ہوا اور میرے شوہر نے اس پر دستخط بھی کیے کہ اگر ہم دونوں کے بیچ دو مہینے میں تعلقات اچھے نہیں ہوتے تو آج کی تاریخ سے دو مہینے میں طلاق دے دوں گا، اور اگر میں طلاق نہیں دیتا تو خود بخود طلاق ہو جائے گی۔ اب دو مہینے گزر گئے، ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہوئے اور میں نے عدت بھی گزار لی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔ (جواب"طلاق دے دوں گا" یہ ایک وعدہ ہے، اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ البتہ اگر اس نے واضح طور پر یہ الفاظ کہے یا تحریر کیے کہ "اگر میں طلاق نہ دوں تو خود بخود طلاق ہو جائے گی" تو یہ طلاقِ معلق ہے، اور مدت گزرنے پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی۔ عدت میں رجوع نہ کیا ہو تو نکاح ختم ہو چکا، مگر باہمی رضامندی سے نیا نکاح ہو سکتا ہے۔ والله تعالى أعلم۔ (سوال) کیا پہلے شوہر سے پیدا ہونے والے بیٹے کو اب دوسرے نکاح ہونے والا شوہر زکوٰۃ دے سکتا ہے یا نہیں؟ (جواب) اگر وہ بیٹا شرعاً فقیر ہو تو سوتیلا باپ اس کو زکوٰۃ دے سکتا ہے۔ والله تعالى أعلم. ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • ⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡ (سوال) امام صاحب نے عشاء کے فرض میں «اَلَّا يَعْلَمُوا حُدُودَ مَا أَنْزَلَ اللهُ عَلٰى رَسُولِهٖ» کی جگہ «مَا أَنْزَلَ اللهُ وَرَسُولُهٖ» پڑھ دیا، تو کیا نماز فاسد ہو جائے گی؟ اور اگر نماز فاسد ہوگئی تو اس نماز کی قضا باجماعت ادا کی جائے یا انفرادی طور پر؟ (جواب) نماز فاسد نہ ہوگی۔ والله تعالى أعلم. (سوال) کیا لڑکے کے عقیقہ کے لیے الگ الگ جانوروں میں ایک ایک حصہ لینا درست ہے یا نہیں؟ نیز کیا ایک بکری اور ایک گائے مکمل کرنا درست ہے یا نہیں؟ اس بارے میں معتبر عبارت کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔ (جواب) عقیقہ کے لیے الگ الگ جانوروں میں ایک ایک حصہ لینا درست ہے جبکہ ان جانوروں میں کے باقی حصے میں بھی نیت تقرب پائی جائے۔ یعنی اس کا کوئی حصہ گوشت بیچنے یا بلا نیت ثواب گوشت حاصل کرنے کے لیے نہ ہو۔ اسی طرح ایک بکری اور ایک گائے مکمل کرنا درست ہے کیونکہ جب ایک جانور پر عقیقہ صحیح ہوجاتا ہے تو یہاں بدرجۂ اولی درست ہوگا۔ حامدیہ میں ہے: أكثر ولو ذبح عن الغلام شاة وعن الجارية شاة جاز؛ لأن النبي  ﷺ عق عن الحسن والحسين كبشا كبشا.(العقود الدرية، ٢١٢/٢) والله تعالى أعلم. (سوال) کھانے کے بعد یا کسی اور وقت ڈکار آنے پر الحمدلله کہنا کیا مستحب ہے یا نہیں؟ اس بارے میں مکمل شرعی رہنمائی فرمائیں۔ (جواب) کھانے کے بعد یا عام حالات میں ڈکار آنے پر الحمد لله کہنا  جائز ہے کہ یہ ذکر الہی ہے اور ذکر ہر حال میں جائز وباعثِ اجر ہے، تاہم اس کا استحباب ثابت نہیں ہے۔ والله تعالى أعلم. (سوال) ایک بیوی اپنے شوہر سے بات بات میں کہہ دیتی ہے کہ میں آپ کی پوجا کرتی ہوں، ایسا کہنا کیسا ہے؟ (جواب) پوجا بمعنی تعظیم وتکریم بھی استعمال ہوتا ہے اس لیے اس پر حکم کفر نہ ہوگا البتہ یہ سخت ممنوع ہے اور وہ اس سے توبہ کرے۔ والله تعالى أعلم. (سوال) حاجتِ اصلیہ کے علاوہ جو گاڑیاں اپنے پاس رہتی ہیں اور بچیوں کے لیے زیور بنا کر رکھے جاتے ہیں، کیا ان میں بھی زکات ہے؟ اور یہ کہنا کہ گاڑیاں اگر اپنی ضرورت سے زیادہ ہوں تو ان پر زکات نہیں، کیا یہ بات صحیح ہے؟ دلیل کے ساتھ عنایت فرمائیں۔ (جواب) گاڑیوں پر زکوۃ واجب نہیں اگرچہ وہ تعداد میں بہت زیادہ ہوں، کیونکہ گاڑیاں مالِ نامی نہیں، البتہ جب وہ تجارت کے لیے ہوں تو مالِ تجارت ہونے کی بنا پر ان پر زکوۃ واجب ہوگی۔ حاجاتِ اصلیہ سے کیا زائد ہے اور کتنا زائد ہے، یہ زکوۃ کے استحقاق کو سمجھنے کے لیے ہوتا ہے یعنی حاجات اصلیہ سے زائدہ مال اور چیزوں کی مقدار سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ وہ شخص مستحق زکوۃ ہے یا نہیں، چنانچہ اگر یہ زوائد نصاب کی مقدار کو پہنچ جائیں تو ایسا شخص مستحقِ زکوۃ نہیں رہتا۔ رہا زکوۃ کی ادائیگی تو وہ صرف اموالِ نامیہ میں واجب ہوتی ہے، جیسے سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور سائمہ جانور وغیرہ۔ اور بچیوں کے لیے جو زیورات بنوائے گئے ہوں اور ابھی شرعی طریقہ سے انہیں مالک نہ بنایا گیا ہو تو صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں ان کی زکوۃ بنانے والے پر واجب ہے، البتہ جب زیور بیٹی کے نام شرعی طور پر ہبہ کردیا اور وہ نابالغ ہو تو اس صورت میں زکوۃ کسی پر واجب نہیں۔ والله تعالى أعلم (سوال) کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ اگر مسجد کمیٹی امام و مؤذن کے لیے گھر تعمیر کروائے، اس میں مسجد کا بچا ہوا پیسہ بھی لگایا جائے اور کچھ چندہ بھی کیا جائے، تو کیا اس تعمیر کے لیے عشر یا زکوۃ کا پیسہ دیا جا سکتا ہے؟ نیز کمیٹی والوں کا یہ بھی ارادہ ہے کہ اگر امام یا مؤذن اس گھر میں نہ رہیں تو اسے کرائے پر دے دیا جائے تاکہ مسجد کو آمدنی ہو، براہِ کرم جواب عنایت فرمائیں۔ (جواب) زکوۃ اور عشر کی رقم مسجد کی تعمیر، امام ومؤذن کے لیے گھر بنانے یا کسی ایسے کام میں صرف کرنا جس میں تملیکِ شرعی نہ ہو، جائز نہیں، کیونکہ زکوۃ وعشر کی ادائیگی میں مستحق شرعی کو مالک بنانا شرط ہے، جبکہ تعمیر یا وقف وآمدنی کا منصوبہ تملیک نہیں۔ ہاں، اگر امام یا مؤذن شرعاً مستحقِ زکوۃ ہوں تو زکوۃ وعشر کی رقم انہیں مالک بنا کر دی جا سکتی ہے، پھر وہ اپنی مرضی سے اس سے مسجد کے لیے مکان بنائیں یا کسی اور جائز مصرف میں خرچ کریں۔ والله تعالى أعلم. ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • ⚡فسخ عقد ہوتو کمیشن لوٹانا ہوگا؟ ⚡ (سوال) ایک شخص نے اپنی گاڑی فروخت کرنے کے لئے دو آدمیوں کو اپنا وکیل بنایا، ان وکیلوں نے گاڑی تیسرے شخص کو بیچ دی اور اس کے بدلے ہر وکیل کو تین تین ہزار روپے کمیشن ملا، بعد میں گاڑی کے اصل مالک نے اپنی رضامندی سے اس بیع کو فسخ کردیا، اب کیا اصل مالک کا ان دونوں وکیلوں سے تین تین ہزار روپے واپس لینا شرعاً درست ہے؟ (جواب) یہ اس بات پر موقوف ہے کہ کمیشن کس شرط پر دیا گیا تھا؛ اگر ابتدا میں یہ طے تھا کہ گاڑی بیچنے کی محنت اور سودا طے کرانے پر کمیشن ملے گا، چاہے بعد میں بیع باقی رہے یا فسخ ہوجائے، تو ایسی صورت میں عقد کے فسخ ہونے کے باوجود ان وکیلوں سے کمیشن واپس لینا جائز نہیں، اور اگر کمیشن اس شرط کے ساتھ تھا کہ بیع برقرار رہے گی اور مکمل ہونے پر ہی اجرت مستحق ہوگی، تو جب اصل مالک نے خود بیع فسخ کردی تو کمیشن واپس لینا درست ہوگا، لہٰذا بغیر کسی شرط کے محض فسخ کی وجہ سے کمیشن کا مطالبہ کرنا شرعاً لازم نہیں۔ والله تعالى أعلم ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • ⚡ شبہ کی بناء پر لقمہ لینا⚡ (سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مذہب اس مسئلہ میں کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے نماز میں لقمہ دینے کے متعلق فرمایا ہے، کہ نماز میں اگر امام کی غلطی پر مقتدی کو شک ہے تو لقمہ کی اجازت نہیں جب تک کہ یقین نہ ہو، جیسا کہ امام اہلسنت نے لکھا ہے: "جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو تو محض شبہ پر بتانا ہرگز جائز نہیں بلکہ صبر واجب بعد سلام کے تحقیق کر لیا جائے اگر قاری کی یاد صحیح نکلے تو فبہا اور ان کی یاد ٹھیک ثابت ہوئی تو تکمیل ختم کے لئے حافظ اتنے الفاظ کا اور کسی رکعت میں اعادہ کر لے گا حرمت کی وجہ ظاہر ہے کہ فتح حقیقت میں کلام ہے اور نماز میں کلام حرام ومفسد نماز مگر بضرورت اجازت ہوئی جب اسے غلطی ہونے پر خود یقین نہیں تو مبیح میں شک واقع ہوا اور محرم موجود ہے لہذا حرام ہوا جب اسے شبہ ہے ممکن ہے کہ اسی کی غلطی ہوا اور غلط بتانے سے اس کی نماز جاتی رہے گی اور امام اخذ کرے گا تو اس کی اور سب کی نماز فاسد ہو جائے گی تو ایسے امر پر اقدام جائز نہیں ہو سکا" (فتاوی رضویہ، جلد ٧، باب مفسدات الصلاۃ، مسئلہ ٩٦٩، ص ٢٨٨، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)، لیکن تراویح میں تو قرآن سننے والا کسی آیت یا لفظ کے ترک پر شک واقع ہو جانے پر خوب لقمہ دیتا ہے اور امام اس کے لقمہ کو قبول کرتا ہے، تو کیا تراویح کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی؟ تراویح میں تو کوئی بھی ایسا نہیں کرتا کہ سلام کے بعد مقتدی امام سے پوچھے کہ آپ نے یہاں کیسے پڑھا تھا، یہاں یہ لفظ پڑھا یا ایسا تو نہیں پڑھا، اس طرح سے کوئی نہیں پوچھتا، تراویح میں مقصود قرآنِ عظیم کا سننا اور مکمل کرنا ہوتا ہے، کیا اس صورت میں تراویح اور فرض کا حکم جدا ہے؟ کتبِ فقہِ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ (جواب) محض شک کی بنا پر لقمہ دینا جائز نہیں اگرچہ ایسی غلطی میں شک ہو جو اس کے خیال میں مفسد نماز ہو۔ اور بعد نماز معلوم ہو کہ غلطی مفسد نماز تھی تو مقتدیوں پر گناہ نہ ہوگا۔ اور غلطی پر یقین کی صورت میں قراءت کی ایسی غلطی میں بھی لقمہ دینا جائز ہے جس کے مفسد نماز ہونے میں شک ہو یا مفسد نماز نہ ہو بشرطیکہ اسے قراءت کی غلطی سمجھا جاتا ہو، جیسے لفظ یا آیت کے ترک پر لقمہ، اعراب کی غلطی پر لقمہ، دوسری سورۃ میں منتقل ہونے پر لقمہ۔ عبارت رضویہ: "جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو تو محض شبہ پر بتانا ہرگز جائز نہیں" اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب غلطی مفسد نماز ہو تو شبہ پر بتانا بھی جائز ہے لیکن یہ عبارت صحیح نہیں بنتی کیونکہ شبہ اور فساد ایک جگہ نہیں آ سکتے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ صورت نہیں ہے جس میں امام قراءت کی غلطی کرے اور مقتدی کو امام کی غلطی پر یقین ہو لیکن اس کے مؤجب فساد ہونے میں شبہ ہو کیونکہ اس صورت میں تو وہ لقمہ دے سکتا ہے اس وجہ سے کہ  اصلاح کی گنجائش باقی رہتی ہے اگرچہ غلطی غیر مفسد ہو۔ بلکہ امام اہل سنت رضى الله عنه کا فرمانا اس صورت کے متعلق ہوگا جہاں مقتدی کو غلطی ہونے ہی میں شک ہو تو اس کا لقمہ دینا کسی صورت میں جائز نہیں کیونکہ جب غلطی میں ہی شک ہو تو اس کا مفسد ہونے فساد کو لازم نہیں کرتا اور جب مفسد ہونے میں بھی شک ہو تو یہ شک پر شک کرنا ہوا اور یہ باطل ہے۔  لیکن اس صورت میں بھی اگر غلطی واقعی ہوئی تھی اور اس نے شک کی بناء پر لقمہ دیا اور بعد نماز معلوم ہوا کہ لقمہ اپنے محل میں واقع ہوا تب بھی نماز فاسد نہ ہوگی البتہ وہ شک پر لقمہ دینے کے سبب گنہگار ہوگا۔ اس کی تائید اسی جلد کے مسئلہ ٩٧٥ میں ہے: اور اگر اس غلطی میں نہ فساد نماز ہے نہ ترک واجب، جب بھی ہر مقتدی کو مطلقا بتانے کی اجازت ہے، هو الصحيح كما نص عليه في الدر وغيره من الأسفار الغر، مگر یہاں وجوب کسی پر نہیں لعدمِ الموجب." لہذا آپ رحمه الله سے چند برس بعد صادر ہونے والے کسی فتویٰ میں اس صحیح قول کے برخلاف بات کو ان کی طرف منسوب کرنا قابلِ قبول نہیں، الا یہ کہ اس کی وہی تاویل کی جائے جو ہم نے بیان کی ہے، اور یہ تاویل بھی اسی وقت معتبر ہو سکتی ہے جب یہ مان لیا جائے کہ طباعت کے دوران الفاظ کی تقدیم وتاخیر واقع ہو گئی ہو۔ اور بہتر ہے کہ کہا جائے "جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو" یہ تیسرے نقطہ کا حصہ ہے  اور صحیح عبارت اس طرح ہے: (۳) اپنا حفظ جتانے کے لئے ذرا ذرا شبہ پر روکنا ریاء ہے اور ریاء حرام ہے خصوصاً نماز میں جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو۔ (۴) محض شبہ پر بتانا ہرگز جائز نہیں بلکہ صبر واجب، بعد سلام تحقیق... الخ" هذا ما ظهر لي، وما كان ذلك إلا من فضل الله، والله أعلم بالغيب. ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • ⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡ (سوال) ویکس کرانا یعنی ہاتھ، پیر کے بال نکالنا کیسا ہے؟ (جواب) عورتوں کے لیے ہاتھ، پیر اور بدن کے دیگر حصوں کے بال نکالنا اصولاً جائز ہے، کیونکہ اس کی ممانعت پر کوئی عقلی یا شرعی دلیل نہیں ہے۔ البتہ مردوں کے لیے عادتا ہاتھ پیر کے بال ویکس کرنا پسندیدہ نہیں ہے۔ اور ستر ہوشی بہرحال سب پر لازم ہے۔ والله تعالى أعلم. (سوال) زید نے اپنے وطن سے تقریباً ٨٠ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک دکان قائم کی ہے اور اس کا روزانہ آنا جانا ہے، نیز اس نے وہاں ایک کمرہ (روم) بھی خریدا ہوا ہے، تو کیا زید کاروبار کی جگہ پر مسافر رہے گا یا مقیم؟ (جواب) مسافت سفر جس سے آدمی شرعا مسافر قرار پاتا ہے ساڑھے ستاون انگریزی میل یعنی ساڑھے بانوے کلومیڑ ہے اور صورتِ مسئولہ میں مذکورہ فاصلہ اس مقدار سے کم ہے، اس لیے زید شرعاً مسافر نہیں ہوگا، اور قصر نماز کا حکم نہیں آئے گا؛ البتہ اگر دکان ساڑھے بانوے کلومیٹر یا اس سے زائد فاصلے پر ہوتی تو نماز قصر کرنا لازم ہوتا، خواہ اس نے وہاں جائیداد یا زمین خرید رکھی ہو۔ والله تعالى أعلم (سوال) فیضانِ فرض علوم میں یہ مسئلہ مذکور ہے کہ اگر تراویح میں سامع یا کسی اور نے غلط لقمہ دیا تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟ وہاں لکھا ہے کہ اگر جان بوجھ کر غلط لقمہ دیا تو لقمہ دینے والے کی نماز ٹوٹ جائے گی، اور اگر امام نے اسے لے لیا تو امام اور تمام مقتدیوں کی نماز بھی ٹوٹ جائے گی، اور اگر بھول کر غلط لقمہ دیا تو حرج کی وجہ سے تراویح میں اس کی معافی ہے۔ یہی حکم کتاب احکامِ لقمہ میں بھی درج ہے۔ اسی طرح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمه الله نے فتاویٰ رضویہ میں فرمایا ہے کہ ختمِ قرآن فی التراویح میں اس باب میں تیسیر فرمائی جائے، کیونکہ سامع سے خود غلطی ہونا نادر نہیں اور عموماً قاری اسے لے لیتا ہے یا امتثال کے لیے اوپر سے اعادہ کر لیتا ہے، اور اگر ہر بار سہواً فسادِ نماز کا حکم دیا جائے اور قرآن کا اعادہ کرایا جائے تو حرج لازم آئے گا۔ ان عبارات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ سہواً غلط لقمہ دینا مفسدِ نماز نہیں اور تراویح میں اسے معاف رکھا گیا ہے، حالانکہ عام اصول یہ بتایا جاتا ہے کہ محض شک کی بنا پر لقمہ دینا جائز نہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ: کیا شک کی بنا پر دیا گیا غلط لقمہ نماز کو فاسد کرے گا یا نہیں؟ اور فیضانِ فرض علوم و فتاویٰ رضویہ کی تصریحات کے ساتھ اس اصول کی تطبیق کیسے کی جائے؟ (جواب) امام کی غلطی میں شک ہونا اور اس پر لقمہ دینا اور غلطی کے یقین کے ساتھ (مگر حقیقت میں) غلط لقمہ دینا دو الگ امور ہیں۔ پہلی صورت کی مثال یہ ہے کہ امام قراءت کر رہا ہو اور سامع کو یہ تردد ہو کہ آیا امام سے واقعی لفظ یا آیت ساقط ہوئی ہے یا نہیں، اس حال میں محض شک کی بنا پر لقمہ دینا جائز نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سامع کو یقین ہو کہ امام نے فلاں جگہ یہ لفظ یا آیت چھوڑ دی ہے، مگر اس کا دیا ہوا لقمہ حقیقت میں غلط نکل آئے؛ ایسی صورت میں اگر یہ سہواً ہو، خصوصاً تراویح میں، تو حرج اور عمومِ بلویٰ کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوتی، جیسا کہ فیضانِ فرض علوم اور فتاویٰ رضویہ سے ثابت ہے۔ البتہ اگر جان بوجھ کر غلط لقمہ دیا جائے تو نماز فاسد ہو جائے گی، اور اگر امام نے اسے لے لیا تو امام اور مقتدیوں کی نماز بھی فاسد ہوگی۔ والله تعالى أعلم (سوال) ایک شخص کا وطنِ اصلی اس کا آبائی گاؤں ہے جہاں اب بھی اس کا گھر اور زمین جائیداد موجود ہے، لیکن اس نے ممبئی میں بھی اپنا مکان بنا لیا ہے اور فی الحال وہ ممبئی ہی میں مقیم ہے، اور سال میں ایک مرتبہ اپنے گاؤں آٹھ دس دن کے لیے آتا ہے، تو ایسی صورت میں اس کا وطنِ اصلی کون سا شمار ہوگا؟ اور گاؤں آنے پر وہ نماز قصر کرے گا یا پوری پڑھے گا؟ (جواب) وطنِ اصلی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں انسان مستقل رہائش اختیار کرنے کا ارادہ کر لے اور وہیں بس جائے، خواہ وہ آبائی نہ ہو، اور اگر کوئی شخص اپنے آبائی گاؤں سے مستقل نقل مکانی کر کے کسی دوسرے شہر (جیسے ممبئی) میں گھر بنا کر وہاں رہائش اختیار کر لے اور وہیں اس کا قیام، روزگار اور سکونت ہو، تو اب وہ نیا شہر ہی اس کا وطنِ اصلی شمار ہوگا، اور آبائی گاؤں اگرچہ وہاں اس کا گھر اور جائیداد باقی ہو، لیکن جب وہ وہاں صرف سال میں ایک بار چند دن (آٹھ دس دن) کے لیے آتا ہو اور مستقل رہائش کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ گاؤں اس کے لیے وطنِ اصلی نہیں بلکہ وطنِ زیارت/سفر کے حکم میں ہوگا، لہٰذا گاؤں آنے پر اگر وہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ کرے تو وہ مسافر ہوگا اور نماز قصر پڑھے گا، اور اگر کبھی گاؤں میں پندرہ دن یا اس سے زائد قیام کی نیت کر لے تو اس مدت کے لیے وہ وہاں مقیم ہو جائے گا اور پوری نماز پڑھے گا، جبکہ ممبئی میں چونکہ اس نے مستقل سکونت اختیار کر لی ہے اس لیے وہاں وہ ہر حال میں مقیم شمار ہوگا۔ والله تعالى أعلم ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

  • ⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡ (سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کیا واٹس ایپ پر معافی مانگنا شرعاً جائز ہے؟ مثلاً شبِ براءت وغیرہ کے موقع پر۔ (جواب) واٹس ایپ یا کسی بھی جائز ذریعۂ ابلاغ کے ذریعے معافی مانگنا شرعاً جائز ہے، کیونکہ شریعتِ مطہرہ میں معافی طلب کرنے کے لیے کسی خاص طریقے یا ذریعہ کو لازم نہیں کیا گیا، بلکہ اصل مقصود دل کی سچائی، عاجزی اور حق دار سے معذرت ہے، خواہ یہ براہِ راست ہو، تحریر کے ذریعے ہو یا جدید ذرائع مثلاً واٹس ایپ کے ذریعے، خصوصاً جب براہِ راست ملاقات ممکن نہ ہو یا کال پر بات نہ ہو پاتی ہو تو یہی بہتر ہے؛ شبِ براءت جیسے مواقع پر بھول چوک کی معافی مانگنا نیکی اور اصلاحِ باطن کی نیت سے ہوتا ہے  لہذا مستحسن بلکہ باعثِ اجر ہے۔ والله تعالى أعلم. (سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آندھرا پردیش میں شبِ براءت کے دن مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے کھانا کھلایا جاتا ہے اور صدقہ بھی کیا جاتا ہے، بعض لوگ امام صاحب کو مرحوم کے نام سے کپڑا دینا چاہتے ہیں، تو کیا امام صاحب کے لیے ایسا کپڑا لینا جائز ہے؟ (جواب) یہ سب اعمال جائز اور مستحسن ہیں۔ محض اس خیال کے سبب اس سے منع کرنا کہ عوام اسے ضروری سمجھتے ہیں یا سمجھ لیں گے، جائز نہیں ہے اور یہ خیال محض ایک وہم ہے۔ والله تعالى أعلم. (سوال) جس کپڑے کے کسی حصے پر خون یا پیپ کا دھبہ لگ جائے تو کیا صرف اسی حصے کو دھونا کافی ہے یا پورا کپڑا دھونا ضروری ہے؟ (جواب) اگر کپڑے پر خون یا پیپ (جو نجاستِ غلیظہ ہے) صرف ایک محدود جگہ پر لگی ہو اور وہ نجاست دوسرے حصوں تک نہ پھیلی ہو تو شرعاً صرف اسی جگہ کو اس طرح دھونا کافی ہے، پورا کپڑا دھونا لازم نہیں؛ البتہ اگر نجاست پھیل گئی ہو یا یہ شک ہو کہ کہاں تک پہنچی ہے تو احتیاطاً زیادہ حصہ یا پورا کپڑا دھونا چاہیے۔ والله تعالى أعلم. (سوال) اگر عصر کی نماز کے بعد پیشاب کا ایک قطرہ آ جائے تو کیا وضو باقی رہتا ہے، اور کیا اس وضو سے مغرب کی نماز پڑھی جا سکتی ہے؟ (جواب) اگر عصر کی نماز کے بعد پیشاب کا ایک قطرہ بھی نکل آئے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ پیشاب نواقضِ وضو میں سے ہے، لہٰذا اس صورت میں پہلے ناپاکی کو پاک کرنا اور نیا وضو کرنا لازم ہے، بغیر نئے وضو کے مغرب کی نماز پڑھنا جائز نہیں۔ والله تعالى أعلم. ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • ⚡ زائد رکعت سے لوٹ کر دوبارہ تشہد پڑھنا ⚡ (سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ کوئی شخص قعدہ اخیرہ میں بیٹھا اور التحیات پڑھ لی، پھر بھول کر زائد رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا، اس کے بعد لقمہ سے یا خود یاد آنے پر وہ قعدہ اخیرہ میں واپس آ گیا، تو اس صورت میں شرحِ حکم یہ ہے کہ واپسی کے بعد فوراً بغیر التحیات پڑھے سجدہ سہو کرے اور نماز مکمل کرے، لیکن ہم نے اس صورت میں اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ قعدہ اخیرہ میں واپس آنے کے بعد پہلے التحیات پڑھتے ہیں، پھر اس کے بعد سجدہ سہو کرتے ہیں، پھر دوبارہ التحیات پڑھ کر نماز کو مکمل کرتے ہیں، حالانکہ شرح کے مطابق حکم یہ تھا کہ واپس آنے کے بعد بلا تکرارِ التحیات سجدہ سہو کے ساتھ نماز مکمل کرے، اب اگر اس نے دوبارہ التحیات پڑھ لی، پھر اس کے بعد سجدہ سہو کے ساتھ نماز مکمل کی، تو اس صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟ زید کہتا ہے کہ اس صورت میں سجدہ سہو میں تاخیر لازم آئی، اور چونکہ سجدہ سہو واجب ہے اور واجب میں تاخیر موجبِ سجدہ سہو ہے، اس لیے دوبارہ سجدہ سہو لازم ہوگا، جبکہ بکر کہتا ہے کہ سجدہ سہو میں تاخیر لازم نہیں آئی بلکہ سجدہ سہو کے واسطے سے درود و دعا میں تاخیر لازم آئی جو کہ سنت ہے، اور سنت میں تاخیر موجبِ کراہت ہے، کیونکہ آخری قعدہ میں التحیات کی تکرار جائز ہے جیسا کہ فقہاء کی کتب سے ثابت ہے، اس لیے کہ قعدہ اخیرہ محلِ حمد وثنا ہے اور تشہد یعنی التحیات بھی حمد وثنا پر مشتمل ہے، لہذا اس کی تکرار سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا؛ اقوالِ فقہاء اور عباراتِ علماء کی تصریحات کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں، نیز زید اور بکر میں سے کس کا قول درست ہے؟ (جواب) بکر کا قول کہ سجدہ سہو میں تاخیر لازم نہ آئی درست ہے کہ لوٹنے کے بعد بھی ثناء کا محل باقی ہے۔ اور زید کا قول کے دوبارہ سجدہ سہو لازم ہوگا درست نہیں ہے کہ ایک نماز میں سہو کے چار سجدے نہیں ہوتے۔ في شرح مختصر الكرخي: ومن سها مرارا في صلاته، فإنما عليه سجدتان فحسب، كثر السهو أو قل؛ وذلك لما روي: أن النبي ﷺ قام إلى الثالثة فسبح به، فلم يرجع وسجد سجدتين، ومعلوم أنه ترك القعدة، وترك قراءة التشهد، وكل واحد منهما لو انفرد لوجب سجود السهو، ولم يسجد إلا سجدتين؛ ولأن سجدة السهو أخرت عن سبب وجوبها؛ لجواز أن يسهو ثانيا، فلو لم يقع لكل سهو في الصلاة، لجعلت عقيب سببها. یعنی اور جو شخص اپنی نماز میں بار بار سہو کا شکار ہو جائے تو اس پر صرف دو ہی سجدے لازم ہوں گے، خواہ سہو زیادہ ہو یا کم؛ اس کی دلیل وہ روایت ہے کہ نبی ﷺ تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے تو آپ کو سبحان الله کہہ کر متنبہ کیا گیا، مگر آپ واپس نہ لوٹے اور آپ نے (آخر میں) دو سجدے کیے؛ حالانکہ یہ بات معلوم ہے کہ آپ ﷺ نے قعدہ بھی ترک فرمایا اور تشہد کی قراءت بھی، اور ان دونوں میں سے ہر ایک اگر الگ الگ واقع ہوتا تو سجدہ سہو واجب ہوتا، لیکن آپ ﷺ نے صرف دو ہی سجدے کیے؛ اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سجدہ سہو کو اس کے سببِ وجوب کے بعد مؤخر کیا گیا ہے، اس احتمال کی بنا پر کہ ممکن ہے نمازی دوبارہ سہو کر بیٹھے، کیونکہ اگر نماز میں ہر سہو پر الگ الگ سجدہ سہو کیا جاتا تو لازم آتا کہ ہر سبب کے فوراً بعد سجدہ سہو کیا جاتا۔ اھـ وفي المجمع الزوائد (١٥١/٢) : وعن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: سجدتا السهو تجزيان من كل زيادة ونقص. رواه أبو يعلى والبزار والطبراني في الأوسط وفيه حكيم بن نافع، ضعفه أبو زرعة ووثقه ابن معين. حضرت عائشہ رضى الله عنها سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: سجدۂ سہو کے دو سجدے ہر زیادتی اور ہر کمی کی طرف سے کافی ہو جاتے ہیں۔ اسے ابو یعلیٰ، بزار اور طبرانی نے المعجم الأوسط میں روایت کیا ہے، اور اس کی سند میں حکیم بن نافع ہیں، جنہیں ابو زرعہ نے ضعیف کہا ہے جبکہ ابن معین نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ والله تعالى أعلم. ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • ⚡ مسبوق کا سجدہ سہو میں امام کی متابعت کے لیے پلٹنا ⚡ (سوال) کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسئلہ میں کہ اگر امام نے ایک طرف سلام پھیرا تو مسبوق تکبیر کہتا ہوا سیدھا کھڑا ہو گیا، بعد میں امام کو سجدۂ سہو کرنا تھا اور اس نے سجدۂ سہو کیا، تو کیا مسبوق واپس پلٹے گا یا نہیں؟ اور اگر امام نے دونوں طرف سلام پھیر دیا، اس کے بعد اسے یاد آیا کہ سجدۂ سہو کرنا ہے اور اس نے سجدۂ سہو کیا، جبکہ ادھر مسبوق سیدھا کھڑا ہو چکا تھا، تو کیا وہ واپس پلٹ کر امام کے ساتھ سجدۂ سہو میں شریک ہوگا یا نہیں؟ (جواب) ان صورتوں میں مسبوق پر لازم ہے کہ وہ فوراً بیٹھ جائے اور امام کے ساتھ سجدۂ سہو میں شریک ہو کہ امام کی متابعت واجب ہے۔ اور اگر وہ سجدہ سے قبل نہ لوٹا تو آخر نماز میں اس پر سجدہ سہو کرنا واجب ہے جیسا کہ بہار شریعت میں ہے۔ اور محیط (٢٠٩/٢) میں ہے: ومن فروعات هذه المسألة إذا قام بعدما تشهد الإمام، وعلى الإمام سجود السهو، فقرأ وركع ولم يسجد حتى عاد الإمام إلى سجود السهو، فعلى هذا الرجل أن يتابع الإمام في سجود السهو؛ لأنه لم يستحكم انفراده بأداء ما دون الركعة؛ لأن ما دون الركعة ليس له حكم الصلاة، فعليه أن يعود إلى متابعة الإمام، ثم يقوم للقضاء، ولا يعتد بالذي أدى؛ لأنه صار رافضًا لها بالعود إلى متابعة الإمام. وإن لم يعد إلى متابعة الإمام ومضى على ذلك جازت صلاته، لأنه لم يبق على الإمام ركن من أركان الصلاة، ويسجد للسهو في آخر صلاته استحسانًا، وإن قيد المسبوق الركعة بسجدة، ثم عاد الإمام إلى سجود السهو لم يعد إلى متابعة الإمام لأنه استحكم انفراده بأداء ركعة كاملة، وإن عاد إلى متابعته فسدت صلاته؛ لأنه اقتدى في موضع الانفراد، والاقتداء في موضع الانفراد تفسد الصلاة. یعنی اگر مسبوق امام کے تشہد کے بعد کھڑا ہو گیا جبکہ امام پر سجدۂ سہو واجب تھا، پس اس مسبوق نے قراءت کی اور رکوع بھی کر لیا مگر سجدہ نہ کیا، اتنے میں امام سجدۂ سہو کی طرف لوٹ آیا، تو اس شخص پر لازم ہے کہ امام کے ساتھ سجدۂ سہو میں شریک ہو، کیونکہ اس کا انفراد اس قدر مضبوط نہیں ہوا کہ رکعت سے کم کے فعل کو مستقل نماز کا درجہ حاصل ہو، اس لیے کہ رکعت سے کم افعال کو نماز کا حکم حاصل نہیں ہوتا، لہذا اس پر امام کی متابعت کی طرف لوٹنا لازم ہے، پھر اس کے بعد اپنی قضا کے لیے کھڑا ہوگا، اور جو اس نے پہلے ادا کیا اس کا اعتبار نہیں ہوگا، کیونکہ امام کی طرف لوٹ آنے سے اس نے ان افعال کو ترک کر دیا۔ اور اگر وہ امام کی متابعت کی طرف نہ لوٹا بلکہ اسی پر آگے بڑھتا رہا تو اس کی نماز درست ہو جائے گی، کیونکہ اب امام پر نماز کا کوئی رکن باقی نہیں رہا، اور وہ اپنی نماز کے آخر میں استحساناً سجدۂ سہو کرے گا۔ اور اگر مسبوق نے ایک سجدہ کے ساتھ رکعت کو مقید کر لیا، پھر امام سجدۂ سہو کی طرف لوٹا، تو اب مسبوق امام کی متابعت کی طرف نہیں لوٹے گا، کیونکہ اب اس کا انفراد ایک مکمل رکعت کے ادا کرنے سے مضبوط ہو چکا ہے، اور اگر وہ اس حالت میں امام کی متابعت کی طرف لوٹ آیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، کیونکہ اس نے مقامِ انفراد میں اقتدا کی، اور مقامِ انفراد میں اقتدا نماز کو فاسد کر دیتی ہے۔ والله تعالى أعلم. ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • ⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡ (سوال) دورانِ سفر جو فرض نمازیں فوت ہو جائیں، کیا ان کی قضا گھر آ کر فوراً کرنی لازم ہے یا کسی دوسرے سفر تک انہیں مؤخر کیا جا سکتا ہے؟ (جواب) اگر وہ اسی سفر میں قضا نمازیں ادا نہیں کرسکتا تو گھر پہنچ کر ادا کرے۔ گھر پہنچ کر فوراً ادا کرنا واجب نہیں ہے مؤخر کرسکتا ہے مگر آئندہ سفر کا انتظار نہ کرے۔ والله تعالى أعلم. (سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازِ جنازہ کے ایک بھرے مجمع میں یہ اعلان کرنا کہ علماء حضرات پہلی صف میں آ جائیں شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟ نیز کیا جمہور علماء کے اقوال و افعال سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے؟ (جواب) نماز میں یہ اعلان کرنا کہ امام کے قریب اہلِ فضل اور اہلِ علم ہوں، پھر ان سے کم درجہ والے، پھر ان سے کم درجہ والے، شرعاً جائز بلکہ محمود ہے، کیونکہ اس میں نماز کی ترتیب اور فضیلت کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ تاہم یہ بات مقتدیوں کی رضا وخوشی پر موقوف ہونی چاہیے، یعنی اگر وہ خود ایثار کے طور پر اپنی جگہ چھوڑ دیں تو درست ہے، لیکن اس میں کسی قسم کی زبردستی، دباؤ یا تحقیر نہیں ہونی چاہیے۔ اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان عالیشان ہے: ليلني منكم أولو الأحلام والنهى، ثم الذين يلونهم. (صحيح مسلم، م: ٤٣٢؛ مسند أحمد، م: ٤٣٧٣؛ سنن الترمذي، م: ٢٢٨؛ سنن أبى داود، م: ٦٧٤؛ عن ابن مسعود، صحیح مسلم، ٣٢٣/١؛ سنن ابن ماجه، م: ٩٧٦؛ عن أبي مسعود الأنصاري) یعنی تم میں عاقل وبالغ میرے قریب رہا کریں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں (اس طرح تین دفعہ فرمایا۔) والله تعالى أعلم. (سوال) کسی شخص نے یہ منت مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں دس دن کا اعتکاف کروں گا، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ دس دن کا اعتکاف مسلسل کرنا ضروری ہوگا یا چھوڑ چھوڑ کر بھی کیا جا سکتا ہے؟ مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔ (جواب) تسلسل شرط نہیں ہے، چھوڑ چھوڑ کر بھی اعتکاف کیا جاسکتا ہے۔ ہاں، اعتکاف کے ساتھ روزہ ضروری ہے۔ والله تعالى أعلم. (سوال) چین اور میگنیٹ والی گھڑی پہننا کیسا ہے، اور اگر ایسی گھڑی پہن کر نماز پڑھی جائے تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟ (جواب) چین یا میگنیٹ والی گھڑی پہننا جبکہ زینت وتفاخر کے طور پر نہ ہو جائز ہے، اور اسے پہن کر نماز بھی جائز ہے لیکن اختلاف کے سبب اسے اتارنے کا تاکیدی حکم ہے۔ والله تعالى أعلم. ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • ⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡ (سوال) کیا دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے کسی شخص سے مصافحہ کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں اور اس کی وجہ بھی بیان کریں۔ (جواب) دیوبندی مسلک والے سے مصافحہ کرنا حرام ہے جبکہ اس کا ارتداد ثابت ہو لیکن اس سے نکاح باطل نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ مطلقًا تمام دیوبندیوں یا وہابیوں کے ارتداد کا حکم نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ اب ان کی اکثریت میں نہ اکابرِ فرقہ کے کفریہ عقائد سے واقفیت پائی جاتی ہے اور نہ ہی عقائد میں وہ شدت وچپشتگی موجود ہے جو تکفیر کا موجب بنے۔ والله تعالى أعلم. (مسئلہ) مرتد سے مصافحہ کیوں حرام ہے؟ (جواب) مرتد سے مصافحہ یا کسی بھی طرح کا میل جول رکھنا حکم الہی سے حرام ہے۔ الله تعالى کا فرمان ہے: ﴿وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آجانے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔ (القرآن الکریم، ٦٨/٦) اور فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ﴾ یعنی اے ایمان والو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا لیا ہے۔ (القرآن الکریم، ٥٧/٥)، نیز فرمایا: ﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ یعنی تم ایسے لوگوں کو نہیں پاؤ گے جو الله اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور الله اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوں۔ (القرآن الکریم، ٢٢/٥٧) اور ارشاد ہے: ﴿وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾ یعنی تم میں سے جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انہی میں سے ہوگا۔ (القرآن الکریم، ٥١/٥) والله تعالى أعلم (سوال) مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی امام رکوع سے اٹھتے وقت آہستہ سے سمع الله لمن حمده کہے، پھر بلند آواز سے ربنا لك الحمد کہہ دے، پھر دوبارہ بلند آواز سے سمع الله لمن حمده کہہ دے، تو ایسی صورت میں اس پر سجدۂ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ (جواب) سجدہ سہو واجب نہ ہوگا۔ والله تعالى أعلم. (سوال) بچے کی عمر چار سال ہے، اب اس کا عقیقہ کیا جا رہا ہے، تو کیا اس بچے کے پورے سر کے بال منڈوانا ضروری ہے یا صرف سر کے چند بال کتروا سکتے ہیں؟ (جواب) پورا سر منڈوانا بہتر ہے۔ والله تعالى أعلم. (سوال) ایک آدمی ١٥ جنوری ٢٠٢٦ کو بعدِ مغرب انتقال کر گیا، تو عدتِ وفات کی مدت (چار مہینے دس دن) کب مکمل ہوگی؟ (جواب) عدتِ وفات کا آغاز شوہر کے انتقال کے وقت سے ہوتا ہے، اور چونکہ انتقال ١٥ جنوری ٢٠٢٦ کو بعدِ مغرب ہوا، اور اس دن قمری مہینے کی پہلی تاریخ نہیں تھی، اس لیے قمری مہینوں کے اعتبار سے حساب ممکن نہیں، لہٰذا دنوں کا شمار کیا جائے گا، چنانچہ پورے ایک سو تیس دن مکمل کرنا واجب ہوگا، اور اس حساب سے ١٣٠ واں دن ٢٤ مئی ٢٠٢٦ کو بعدِ مغرب پورا ہوگا، اسی وقت عدتِ وفات مکمل سمجھی جائے گی۔ والله تعالى أعلم. (سوال) فرض چار رکعت والی نماز میں اگر کوئی شخص آخری رکعت میں امام کے ساتھ شامل ہو، اور وہ شخص تشہد کے لیے بیٹھتے ہی ہو کہ امام سلام پھیر دے، تو کیا وہ فوراً کھڑا ہو جائے یا پہلے تشہد مکمل کرے پھر کھڑا ہو؟ (جواب) وہ پہلے مکمل تشہد پڑھ لے، اس کے بعد کھڑا ہو کر اپنی باقی رکعتیں پوری کرے۔ والله تعالى أعلم. (سوال) جس مسجد میں مکتب چلتا ہو، کیا اسی مسجد میں اذان سے پہلے نماز پڑھنا جائز ہے، جبکہ آس پاس کی دوسری مساجد میں بھی اس وقت اذان نہیں ہو رہی ہو؟ (جواب) ہا‌ں، جائز ہے جبکہ نماز کا وقت ہوچکا ہو اور اس کے پاس ترک جماعت کے لیے کوئی شرعی عذر ہو۔ والله تعالى أعلم. ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • ⚡قنوت کی جگہ سورۃ اخلاص ⚡ (سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مذہب اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ وتر کی نماز میں دعائے قنوت کی جگہ سورۂ اخلاص پڑھنا ادائے وجوب کے لیے کافی ہے، کیونکہ سورۂ اخلاص بھی من وجہ دعا ہے، جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قدس سره العزیز نے فتاویٰ رضویہ جلد ٧، باب الوتر والنوافل، مسئلہ ١٠٨٨، صفحہ ٤٨٦، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور میں تحریر فرمایا ہے، نیز یہی مسئلہ تفہیم المسائل جلد اول، کتاب الصلاۃ، صفحہ ٨٧، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز میں بھی مذکور ہے، لیکن بکر کہتا ہے کہ وتر میں سورۂ اخلاص پڑھنا ادائے وجوب کے لیے کافی :نہیں، جیسا کہ فتاویٰ امجدیہ جلد اول، باب الوتر والنوافل، مسئلہ ٢٧٧، صفحہ ٢٠١ میں موجود ہے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید اور بکر میں سے کس کا قول فقہ حنفی کی رو سے مفتی بہ اور قابلِ اعتماد ہے؟ بینوا وتوجروا۔ (جواب) اس مسئلہ میں اختلاف کی بنیاد یہ ہے کہ آیا محض ذکر کو دعا کہا جا سکتا ہے یا نہیں؛ فتاویٰ امجدیہ میں یہ اختیار کیا گیا ہے کہ ذکر بذاتِ خود دعا نہیں، جبکہ فتاویٰ رضویہ میں اسے دعا قرار دیا گیا ہے، اور دونوں میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ اگر اذکار کے ذریعے الله تعالى کو پکارنا مقصود ہو، اگرچہ اس میں کسی خاص چیز کی طلب نہ ہو، تو وہ قنوت کے قائم مقام ہو سکتا ہے، اسی پر فقہاء کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے کہ جسے قنوت یاد نہ ہو وہ تین مرتبہ “یا رب” کہہ لے، جیسا کہ بحر وغیرہ میں مذکور ہے، اور اگر محض ذکر ہو اور دعا کی نیت نہ ہو تو وہ کافی نہیں ہوگا۔ امام بزدوی نے بھی ہر ذکر کو دعا فرمایا ہے۔ اور اس کی شرح کشف الأسرار (١٩٦/٢) میں ہے: (وكل ذكر دعاء) فإن من ذكر الله تعالى يقال دعاه. وتحقيقه أن اشتغال العبد الفقير المحتاج بذكر مولاه الغني الكريم وثنائه تعرض منه لطلب حاجته منه فيكون كل ذكر دعاء أو الدعاء ذكر المدعو لطلب أمر منه. وقيل لسفيان بن عيينة ما حديث يروى عن رسول ﷺ. أفضل دعاء أعطيته أنا والنبيون قبلي أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير. قال ما تنكر من ذا ثم حدث بقوله عليه السلام: من تشاغل بالثناء على الله تعالى أعطاه الله فوق رغبة السائلين. یعنی (اور ہر ذکر دعا ہے) کیونکہ جو شخص الله تعالى کا ذکر کرتا ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے الله کو پکارا، اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ فقیر اور محتاج بندے کا اپنے غنی اور کریم مولیٰ کے ذکر اور اس کی ثنا میں مشغول ہونا دراصل اس کی طرف سے اپنی حاجت کے طلب کرنے کے مترادف ہے، اس لیے ہر ذکر دعا ہے، یا یوں کہا جائے کہ دعا مدعو کا ذکر ہے تاکہ اس سے کوئی امر طلب کیا جائے، اور سفیان بن عیینہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا جو رسول الله ﷺ سے مروی ہے کہ "سب سے افضل دعا جو مجھے اور مجھ سے پہلے انبیاء کو عطا کی گئی یہ ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے" ، تو انہوں نے کہا اس میں تمہیں کیا انکار ہے؟ پھر رسول الله ﷺ کا یہ فرمان بیان کیا کہ "جو شخص الله تعالى کی ثنا میں مشغول ہو جائے الله اسے سوال کرنے والوں کی رغبت سے بھی بڑھ کر عطا فرماتا ہے۔" اھـ اول حدیث امام مالک کی موطا میں اس طرح ہے: أفضل الدعاء دعاء يوم عرفة، وأفضل ما قلت أنا والنبيون من قبلي: لا إله إلا الله وحده لا شريك له. (مرسل صحیح) بہر حال وہ دعا افضل ہے جس میں صراحت کے ساتھ مانگنا پایا جائے، تاہم جس شخص نے لاعلمی کی بنا پر دعائے قنوت کی جگہ بغیر نیتِ دعا سورۂ اخلاص پڑھ لی، اس پر اعادہ کا حکم نہیں ہوگا، کیونکہ اس طرح کے مقام پر اس کا جہل معتبر شمار کیا جائے گا۔ والله تعالى أعلم ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • ⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡ (سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حامد یہ کہتا ہے کہ اگر کسی شخص کی نماز قضاء ہو جائے تو محض توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتی بلکہ اس کی قضاء ادا کرنا لازم ہے، اور اگر قضاء ادا کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہو جائے تو اس کی طرف سے فدیہ دینا ہوگا؟ (جواب) فرض نماز اگر بلا عذر قضاء ہو جائے تو اس کی محض توبہ کافی نہیں بلکہ توبہ کے ساتھ ساتھ اس نماز کی قضاء ادا کرنا بھی لازم ہے، کیونکہ قضاء نماز ذمے میں باقی رہتی ہے، البتہ اگر کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور اس کے ذمے قضاء نمازیں ہوں تو اگر اس نے وصیت کی ہو تو اس کے ترکہ کے ایک تہائی مال سے نمازوں کا فدیہ دیا جائے گا اور اگر ایک تہائی مال سے ادا نہ ہوسکے تو ورثاء کی اجازت سے ان کے حصوں سے ادا کیا جائے گا، اور اگر وصیت نہ کی ہو تو ورثاء پر فدیہ واجب نہیں، تاہم وہ بطورِ احسان ادا کریں تو امیدِ ثواب ہے۔ والله تعالى أعلم. (سوال) حضرت مفتیانِ کرام مسئلہ یہ ہے کہ سونے کی کتنی مقدار پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے؟ براہِ کرم تشفی بخش جواب مرحمت فرمائیں۔ (جواب) سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے لہذا جس کے پاس اس قدر سونا ہو اور وہ مقروض نہ ہو تو صاحب زکوۃ ہے اور آگر سونا اس مقدار سے کم ہو اور اس کے پاس کچھ چاندی یا رقم یا مال تجارت اتنی نہ ہو کہ مل کر کل مال کی قیمت مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر ہوجائے تو وہ اس پر زکوۃ واجب نہیں۔ والله تعالى أعلم. (سوال) ایک خاتون کے پاس کچھ سونا اور چاندی تھی، اس کے ساس سسر نے اس کی اجازت کے بغیر وہ سونا لے کر بینک میں جمع کرا دیا اور اس پر قرض لے لیا، اور اس رقم میں سے اس خاتون کو کچھ نہیں دیا، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس سونے کی زکوٰۃ اس خاتون پر لازم ہے یا نہیں؟ (جواب) جس مال پر مالک کو مکمل قبضہ اور تصرف حاصل نہ ہو، جیسے مغصوب یا زبردستی لے لیا گیا مال، اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، کیونکہ زکوٰۃ کے وجوب کے لیے ملکِ تام اور قدرتِ تصرف شرط ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ خاتون کا سونا اس کی اجازت کے بغیر لے لیا گیا ہے اور وہ اس پر قادرِ تصرف نہیں، اس لیے اس مدت کی زکوٰۃ اس پر لازم نہیں، اور اگر آئندہ وہ سونا یا اس کی قیمت اسے واپس مل جائے تو سال پورا ہونے پر صاحب نصاب ہونے کی صورت میں زکوۃ ادا کرے گی۔ والله تعالى أعلم. (سوال) مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی عورت کے پاس صرف ڈھائی (٢.٥) تولہ سونا ہو، اس کے علاوہ اس کے پاس نہ چاندی ہو اور نہ کوئی اور مالِ زکوٰۃ، البتہ شوہر کی طرف سے پانچ سو روپے ماہانہ جیب خرچ ملتا ہو جو مستقل جمع نہیں رہتا بلکہ خرچ ہوتا رہتا ہے، تو کیا سال پورا ہونے پر اس عورت پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟ (جواب) جب عورت کے پاس موجود سونا نصاب یعنی ساڑھے سات تولہ تک نہ پہنچے، اور اس کے ساتھ کوئی اور مالِ زکوٰۃ (چاندی، نقد رقم یا مالِ تجارت) اس قدر نہ ہو کہ مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے نصاب تک پہنچ جائے، اور صورت مذکورہ میں ظاہر ہے کہ کچھ نقد موجود ہوتے ہی ہیں اور ڈھائی تولہ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زیادہ ہے لہذا وہ زکوۃ ادا کرے گی۔ والله تعالى أعلم (سوال) اگر کوئی مقتدی قنوت کی جگہ سورۃ اخلاص پڑھے اور اس پڑھنے سے ذکر مراد ہو اور دعا کی نیت نہ ہو، جیسا کہ عام طور پر عوام وتر میں صرف سورۂ اخلاص پڑھ لیتی ہیں اور دعا یا طلب کی نیت نہیں ہوتی، تو ایسی صورت میں ان کی نماز کا کیا حکم ہوگا؟ (جواب) اگر وتر میں دعائے قنوت کے وقت صرف سورۂ اخلاص اس نیت سے پڑھی گئی کہ یہ محض تلاوت یا ذکر ہے اور الله تعالى سے دعا اور پکار کی نیت نہیں تھی، تو اصولاً یہ دعائے قنوت کے قائم مقام نہیں بنتی، مگر چونکہ یہ فعل جہالت اور لاعلمی کی بنا پر صادر ہوتا ہے اور عوام اس تفصیل سے واقف نہیں ہوتیں، اس لیے ایسی نمازوں کے اعادہ کا حکم نہیں دیا جائے گا، تاہم آئندہ کے لیے انہیں یہ تعلیم دی جائے گی کہ قنوت میں مسنون دعا پڑھی جائے یا کم از کم دعا کی نیت کے ساتھ کوئی ذکر کیا جائے۔ والله تعالى أعلم ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺

  • ⚡ طریقہ رجوع بعد طلاق رجعی ⚡ (سوال) ایک شخص اپنی بیوی کو دو مرتبہ طلاق طلاق کہہ دے تو رجوع کے لیے شرعاً کیا طریقہ ہے، اور کن شرائط کے ساتھ رجوع درست ہوگا؟ (جواب) اگر شوہر نے ایک ہی مجلس میں یا الگ الگ دو مرتبہ صریح الفاظ میں “طلاق” کہی ہو تو دو طلاقِ رجعی واقع ہوجاتی ہیں، ایسی صورت میں جب تک عدت باقی ہو شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ عدت کے اندر زبان سے واضح الفاظ کہہ دے کہ میں نے رجوع کیا، یا ایسے فعل کے ذریعے رجوع کرے جس سے میاں بیوی کا تعلق قائم کرنا مقصود ہو، مثلاً ازدواجی تعلق، اور رجوع کے لیے نئے نکاح یا مہر کی ضرورت نہیں، البتہ بہتر ہے کہ گواہ بھی بنالے، اگر عدت گزر جائے اور رجوع نہ کیا ہو تو نکاح ختم ہوجاتا ہے، پھر دوبارہ ساتھ رہنے کے نیا نکاح ضروری ہوگا، نیز چونکہ دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اس لیے آئندہ صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا۔ والله تعالى أعلم. ⚡⚡⚡⚡ كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی https://t.me/musannifeen @masboor اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺