Peace & light
Статистикаاِس چینل میں جادو کا قرآن اور حدیث کی روشنی میں علاج کیا جاتا ہے آپ کو اسلامک دعا دی جائے گی https://youtube.com/c/SpiritualSolutions
- Последний пост
- 13 авг.
- Последнее чтение
- 13 авг.
- Постов за неделю
- 4
- Всего постов
- 25
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- Категория
- Религия
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- 9
- 1/48двое суток
- 10
- 1/72трое суток
- 11
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
ہمیں پہلے اللہ کی پناہ، دعا، توبہ اور عملی اصلاح کی طرف آنا چاہیے۔ --- دعا کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے اگر نماز میں سستی ہے تو صرف یہ دعا نہ کریں: “یا اللہ! مجھے نماز کا پابند بنا دے۔” بلکہ دعا کے بعد عملی قدم بھی اٹھائیں۔ اذان ہوتے ہی موبائل چھوڑ دیں۔ وضو فوراً کریں۔ نماز کا الارم لگائیں۔ رات کو مناسب وقت پر سوئیں۔ اگر موبائل آپ کو نماز سے غافل کر رہا ہے تو نماز کے اوقات میں اسے دور رکھیں۔ اگر کوئی صحبت آپ کو اللہ سے دور کر رہی ہے تو اس صحبت پر نظر ثانی کریں۔ اگر کوئی گناہ بار بار آپ کو گرا رہا ہے تو اس گناہ تک پہنچنے والے راستے کو بند کریں۔ دعا + کوشش = تبدیلی کا راستہ۔ --- اپنے آپ کو برا انسان کہنا چھوڑ دیں اگر آپ بار بار ناکام ہو رہے ہیں تو یہ نہ کہیں: “میں بہت برا ہوں، مجھ سے کبھی نہیں ہوگا۔” یہ کہیں: “میں کمزور ہوں، لیکن میں ہار نہیں مانوں گا/گی۔” اگر ایک نماز رہ گئی تو اگلی نماز مت چھوڑیں۔ اگر آج قرآن نہیں پڑھ سکے تو کل دوبارہ شروع کریں۔ اگر گناہ ہو گیا تو توبہ کریں۔ اگر پھر گناہ ہو گیا تو پھر توبہ کریں۔ اللہ کی طرف واپسی کا دروازہ بند نہ کریں۔ --- دلوں کو ثابت رکھنے کی دعا نبی ﷺ کی ایک دعا ہے: يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ “اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔” یہ دعا ہمیں ایک بہت بڑی حقیقت بتاتی ہے: ہمیں اپنے دل پر بھی غرور نہیں کرنا چاہیے۔ آج ہمارا دل عبادت میں لگ رہا ہے، کل کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ اللہ سے استقامت مانگیں۔ --- جب آپ کو لگے کہ کوئی چیز آپ کو اللہ سے دور کر رہی ہے… تو ایک لمحے کے لیے رک جائیں۔ اپنے آپ سے پوچھیں: مجھے اللہ سے دور کیا کر رہا ہے؟ کیا موبائل؟ کیا سوشل میڈیا؟ کیا فضول مصروفیات؟ کیا کوئی گناہ؟ کیا غلط صحبت؟ کیا راتوں کو دیر تک جاگنا؟ کیا دنیا کی محبت؟ کیا مایوسی؟ کیا اپنی خواہشات کی پیروی؟ وجہ تلاش کریں۔ پھر اللہ سے کہیں: “یا اللہ! جس چیز نے مجھے تجھ سے دور کیا ہے، مجھے اس سے نکال دے۔” --- اور سب سے بڑھ کر: مایوس نہ ہوں اگر آج آپ اللہ سے دور محسوس کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے لیے واپسی ختم ہو گئی۔ اگر نماز میں سستی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نماز والے نہیں بن سکتے۔ اگر قرآن سے تعلق کم ہو گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوبارہ تعلق نہیں بن سکتا۔ اگر گناہ بار بار ہو رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ توبہ کا دروازہ بند ہو گیا۔ آپ واپس آ سکتے ہیں۔ آج۔ اسی لمحے۔ کسی بڑے منصوبے کے بغیر۔ بس وضو کریں۔ دو رکعت پڑھیں۔ اللہ کے سامنے بیٹھیں۔ اور سچ بولیں: “یا اللہ! میں جانتا/جانتی ہوں کہ مجھے تیرے قریب ہونا چاہیے، لیکن میں کمزور ہوں۔ میرے لیے خود کو بدلنا مشکل ہو رہا ہے۔ یا اللہ! تو میری مدد فرما۔ مجھے اپنے قریب کر لے۔ میرے دل کو اپنی اطاعت کے لیے کھول دے۔ مجھے شیطان کے وسوسوں سے، میرے نفس کی برائی سے اور ہر اس چیز سے بچا جو مجھے تجھ سے دور کرتی ہے۔” اور پھر ایک چھوٹا سا قدم اٹھائیں۔ صرف اگلی نماز سے آغاز کریں۔ کیونکہ اللہ کے قریب آنے کے لیے کبھی کبھی پوری زندگی ایک ساتھ بدلنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک سجدہ بھی واپسی کا آغاز بن سکتا ہے۔ --- آخر میں لوگوں کو یہ پیغام دیں: ہمیں معلوم ہے صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ ہمیں شعور بھی ہے۔ ہم صحیح بننا بھی چاہتے ہیں۔ لیکن اگر ہم بار بار نیکی سے رک رہے ہیں تو اپنے آپ سے نفرت کرنے کے بجائے اپنی کمزوری کو پہچانیں۔ شیطان سے اللہ کی پناہ مانگیں۔ اپنے نفس سے مجاہدہ کریں۔ گناہوں سے توبہ کریں۔ اللہ کا ذکر کریں۔ دعا کریں۔ اور نیکی کی طرف عملی قدم اٹھائیں۔ ہمیں اپنے زور پر نہیں بدلنا۔ ہمیں اللہ کی مدد سے بدلنا ہے۔ اور شاید ہماری سب سے خوبصورت دعا یہ ہو: “یا اللہ! ہمیں صرف صحیح جاننے والا نہیں، صحیح پر چلنے والا بنا دے۔ ہمیں صرف نیکی چاہنے والا نہیں، نیکی کرنے والا بنا دے۔ ہمیں اپنے سے دور جانے والا نہیں، ہر حال میں اپنی طرف پلٹنے والا بنا دے۔ اور جب ہمارا نفس، شیطان یا دنیا ہمیں تجھ سے دور کرنے لگے تو ہمیں اپنی پناہ میں لے لے۔ آمین۔”
ہم جانتے ہیں صحیح کیا ہے، غلط کیا پھر بھی عمل کیوں نہیں کر پاتے؟ کبھی آپ نے اپنے آپ سے یہ سوال کیا ہے؟ مجھے معلوم ہے کہ نماز فرض ہے، پھر بھی میں نماز کیوں نہیں پڑھتا جب نماز کا وقت ہوتا ہے مجھے نماز پڑھنے میں سستی کیوں ہوتی ہے میرا نماز پڑھنے کو دل کیوں نہیں کرتا؟ مجھے معلوم ہے کہ قرآن پڑھنا چاہیے، قران ھدایت ہے پھر بھی قرآن کھولنے میں اتنی سستی کیوں ہوتی ہے پھر بھی روزانہ قران کی تلاوت کیوں نہیں کرتا؟ مجھے معلوم ہے کہ مجھے اللہ کے قریب ہونا چاہیے، پھر بھی میرا دل بار بار دنیا کی طرف کیوں بھاگتا ہے؟ مجھے معلوم ہے کہ فلاں کام غلط ہے، میں اسے چھوڑنا بھی چاہتا ہوں، پھر بھی بار بار اسی طرف کیوں چلا جاتا ہوں؟ اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ: ہمیں صحیح اور غلط کا شعور بھی ہے، ہم صحیح کام کرنا بھی چاہتے ہیں، لیکن پھر بھی صحیح کام کر نہیں پاتے۔ تو آخر ہمارے اندر وہ کون سی رکاوٹ ہے؟ --- کیا ہمارے اندر کوئی ایسی طاقت ہے جو ہمیں روک رہی ہے؟ ہاں، انسان کے اندر اور اس کے اردگرد ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو اسے نیکی سے روک سکتی ہیں۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ شیطان کا مقصد صرف یہ نہیں کہ انسان کو ایک دم بہت بڑے گناہ میں ڈال دے۔ کبھی وہ انسان کو چھوٹی چھوٹی چیزوں میں مصروف کرتا ہے۔ نماز کے وقت کہتا ہے: “بس پانچ منٹ بعد…” پھر پانچ منٹ دس بن جاتے ہیں۔ پھر انسان کسی کام میں مصروف ہو جاتا ہے۔ پھر نماز کا وقت نکل جاتا ہے۔ اور کبھی وہ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے: “تم سے تو نماز بھی نہیں پڑھی جاتی، تم کیا نیک بنو گے؟” اور یوں انسان نیکی کی طرف آنے کے بجائے مایوسی میں مزید دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ --- شیطان کے ساتھ ایک اور چیز بھی ہے: ہمارا نفس ہمیں ہر چیز کا ذمہ دار صرف شیطان کو نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ انسان کا نفس بھی اسے خواہشات کی طرف کھینچتا ہے۔ نفس کہتا ہے: “ابھی آرام کرو۔” “بعد میں قرآن پڑھ لینا۔” “آج بہت تھکن ہے۔” “کل سے پکا شروع کروں گا۔” “ایک نماز رہ گئی تو کیا ہوا؟” “اتنی پابندی کی بھی کیا ضرورت ہے؟” اور انسان ہر بار خود کو ایک نیا جواز دے دیتا ہے۔ اسی لیے ہمیں اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا ہوگا۔ --- اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم صرف جانتے ہیں، لیکن اپنے علم کو عمل میں نہیں بدل پاتے علم بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن صرف یہ جان لینا کہ نماز فرض ہے، کافی نہیں۔ ہمیں نماز پڑھنی بھی ہے۔ صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ قرآن ہدایت ہے۔ قرآن سے تعلق بنانا بھی ہے۔ صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ گناہ برا ہے۔ گناہ کے راستے سے واپس آنا بھی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اللہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ --- تو پھر کیا کریں؟ سب سے پہلے یہ سمجھیں: ہمیں اپنے آپ پر مکمل بھروسہ نہیں کرنا، ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنا ہے۔ ہمیں اللہ سے مدد مانگنی ہے۔ نبی ﷺ نے یہ دعا سکھائی: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ “اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی بہترین عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔” ذرا غور کریں! ہمیں اللہ سے صرف دنیا کی چیزیں نہیں مانگنی۔ ہمیں یہ بھی مانگنا ہے: یا اللہ! مجھے عبادت کرنے کی توفیق دے۔ یا اللہ! مجھے نماز کا پابند بنا دے۔ یا اللہ! میرے دل کو اپنے ذکر سے زندہ کر دے۔ یا اللہ! مجھے گناہ سے بچا لے۔ یا اللہ! مجھے اپنے قریب کر لے۔ --- اللہ کی پناہ مانگیں جب دل میں برے خیالات آئیں، وسوسے آئیں، نیکی سے جی بھاگے یا گناہ کی طرف رغبت محسوس ہو تو اللہ کی پناہ مانگیں: أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ “میں مردود شیطان سے اللہ کی پناہ مانگتا/مانگتی ہوں۔” یہ صرف زبان کے الفاظ نہیں ہونے چاہئیں۔ اس کے ساتھ دل میں یہ یقین بھی ہو: “یا اللہ! میں اپنی طاقت سے کمزور ہوں، لیکن تیری مدد سے مضبوط ہو سکتا ہوں۔” --- اپنے دل کو اللہ کے قریب لے کر جائیں اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ اللہ سے دوری بڑھ رہی ہے تو اللہ سے مزید دور مت جائیں۔ اللہ ہی کی طرف واپس آئیں۔ نماز میں دل نہیں لگ رہا؟ پھر بھی نماز پڑھیں۔ قرآن پڑھنے کا دل نہیں کر رہا؟ پھر بھی قرآن کھولیں۔ دعا کے لیے الفاظ نہیں مل رہے؟ پھر بھی ہاتھ اٹھائیں۔ توبہ کرتے ہوئے بار بار گناہ یاد آ رہا ہے؟ پھر بھی توبہ کریں۔ کیونکہ اللہ کے قریب ہونے کے لیے پہلے دل کا مکمل طور پر ٹھیک ہونا ضروری نہیں۔ اللہ کی طرف چلنا شروع کریں، دل راستے میں بہتر ہوتا جائے گا۔ --- ایک بہت اہم غلط فہمی کبھی انسان کہتا ہے: “میرے اوپر کوئی چیز ہے، اسی لیے میں نماز نہیں پڑھ پا رہا۔” یہ ضروری نہیں کہ ایسا ہو۔ ہو سکتا ہے وجہ شیطان کے وسوسے ہوں۔ ہو سکتا ہے نفس کی کمزوری ہو۔ ہو سکتا ہے نیند، موبائل، غلط معمول، گناہ کی عادت، ذہنی دباؤ یا مسلسل غفلت ہو۔ اس لیے ہر مشکل کو فوراً کسی غیر مرئی طاقت یا جادو وغیرہ سے جوڑ دینا درست نہیں۔
اگر اللہ تعالیٰ تمہیں دینِ اسلام کی خدمت اور سربلندی کا ذریعہ بنا دے، اللہ تمہارے ذریعے اسلام کو سربلند کر دے تو یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تمہارے دل میں اسلام کی فکر اور کچھ کرنے کا جذبہ ہو سب سے پہلے دین کو اپنی زندگی میں لاؤ، پھر اپنے گھر والوں کی اصلاح اور تربیت کی فکر کرو۔ اپنی ہمت کو صرف باتوں تک محدود نہ رکھو، بلکہ قربانی، ایثار، محنت اور دوسروں کے لیے بھلائی کے راستے پر چلو۔ یاد رکھو! اگر تم اپنی اصلاح کرکے اپنے گھر اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن جاؤ، تو اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں خیر پیدا کر سکتا ہے۔ کوشش کرو کہ تمہاری زندگی صرف تمہارے لیے نہیں، بلکہ دین اور امت کے لیے بھی فائدہ مند ہو۔
*عامل مریضوں کو کیسے پھنساتا ہے؟* Usman Yazmani
Video from Muhammad Usman Bajwa
اگر آپ کو اپنی کوئی بری عادت چھوڑنی ہو تو آپ اسے چھوڑنے کے لیے کیا کریں گے؟
جب انسان کو غلط کاموں کی عادت پڑ جائے اور نیکی کرنے کا جذبہ کم ہونے لگے، تو وہ اپنی اس عادت کو کیسے بدلے اور اپنے دل کو دوبارہ خیر اور نیکی کی طرف کیسے راغب کرے؟ آپ کے خیال میں انسان اپنے دل میں نیکی کا شوق اور خیر کے کام کرنے کا جذبہ دوبارہ کیسے پیدا کر سکتا ہے؟
*غصہ کیوں آتا ہے؟* غصہ اکثر نفس، تھکن اور بے صبری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ خاموشی، وضو اور صبر اس کا بہترین علاج ہیں۔
*ہر وقت پریشان کیوں رہتے ہیں؟* کبھی پریشانی کی وجہ مسئلہ نہیں ہوتی، بلکہ ہر بات کو بار بار سوچنا، منفی خیالات اور اللہ پر بھروسہ کم ہونا ہوتا ہے۔
قرآن پاک کی تلاوت، اذکار اور دعائیں پڑھنے کے باوجود میرا جادو ختم کیوں نہیں ہوتا؟ #UsmanYazmani
جادو، جنات، نظرِ بد یا دیگر روحانی مسائل کے علاج میں صرف وظائف، اذکار اور دعائیں ہی کافی نہیں ہوتیں، بلکہ مریض کو صحیح اسلامی کونسلنگ، رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے بہت سے لوگ خوف، وہم اور غلط تصورات کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ قرآن و سنت انسان کو اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ، امید اور درست رہنمائی سکھاتے ہیں۔ علاج کرواتے وقت ان باتوں کا ضرور خیال رکھیں: مریض کی بات پوری توجہ سے سنی جائے۔ علاج قرآن و سنت کے مطابق ہو۔ خوف پھیلانے کے بجائے اللہ پر توکل کی تعلیم دی جائے۔ ✔ مریض کی دینی اور نفسیاتی رہنمائی بھی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہر مریض کو مکمل شفا، سکون اور اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین۔ UsmanYazmani
کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے زندگی کی پریشانیاں کم ہوں، انزائٹی اور ڈپریشن کی کیفیت ختم ہو، اور دل کو سکون نصیب ہو۔ #UsmanYazmani
یا اللہ! ہمیں اپنے سوا کسی کا محتاج نہ بنا، اور ہمیشہ اپنی رضا والے راستے پر قائم رکھ۔ اے اللہ! ہم سب کو اپنا ایسا قرب عطا فرما کہ پھر کبھی تیری رحمت سے دوری نصیب نہ ہو۔ 🤲🤍
*جب ہر طرف اندھیرا محسوس ہو… تب بھی اپنے رب سے امید قائم رکھیں۔* کبھی زندگی میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب انسان بے بس، پریشان اور دل گرفتہ ہو جاتا ہے۔ حالات سمجھ سے باہر ہوتے ہیں، راستے بند نظر آتے ہیں، اور دل میں مایوسی جگہ بنانے لگتی ہے۔ مگر ایک مومن جانتا ہے کہ جس رب نے آزمائش بھیجی ہے، وہی اس سے نکلنے کا راستہ بھی پیدا کرے گا۔ اگر آج آپ غم، بیماری، پریشانی، تنگی یا کسی آزمائش سے گزر رہے ہیں تو اپنے دل کو یہ یقین دلائیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ کی مشکل سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھیں، اس کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کریں، اور یقین رکھیں کہ وہ اپنے بندوں کی پکار سنتا ہے۔ بعض اوقات جس چیز کو ہم تاخیر سمجھتے ہیں، وہ اللہ کی بہترین تدبیر ہوتی ہے۔ مایوسی مومن کا راستہ نہیں، امید مومن کی پہچان ہے۔ جس رب نے بے شمار مرتبہ آپ پر کرم فرمایا، وہ آج بھی آپ کو نہیں بھولا۔ ﴿اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَكْشِفُ السُّوْٓءَ﴾ "بھلا کون ہے جو بے بس کی پکار سنتا ہے، جب وہ اسے پکارتا ہے، اور اس کی تکلیف دور کر دیتا ہے؟" 🤲 اپنے رب سے امید وابستہ رکھیں، کیونکہ اس کی رحمت کبھی ختم نہیں ہوتی، اور اس کے لیے کوئی مشکل، مشکل نہیں۔
اگر آپ ہر وقت جسم میں درد، تھکاوٹ یا نقاہت محسوس کرتے ہیں تو اس روحانی عمل کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے روحانی فوائد اور سکون کو خود محسوس کریں۔ مکمل طریقہ جاننے کے لیے ویڈیو #UsmanYazmani
شیطان کے (انسان پر حملے کے) راستوں میں سے ایک راستہ *مستقبل کا خوف اور طویل و سخت آزمائش پر شدید رنج و غم ہے*؛ جس کے نتیجے میں آزمائش کا شکار شخص دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے، *اور وہ حسنِ ظن بالله (الله سے اچھی امید) جیسے عظیم مددگار کو کھو کر درد و تکلیف کے گھونٹ بھرنے لگتا ہے*
نبی کریم ﷺ کی کوئی بھی ہدایت حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔ بظاہر ایک معمولی سا عمل، یعنی جمائی لیتے وقت منہ پر ہاتھ رکھنا، بھی گہری حکمت اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر کسی مجلس میں کوئی شخص بغیر ہاتھ رکھے جمائی لے تو اس کا اثر پوری مجلس پر سستی اور غفلت کی صورت میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس عمل کی تلقین فرمائی اور بتایا کہ اس موقع پر شیطان داخل ہوتا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ واضح اشارہ ہے کہ شیطانی اثرات کبھی مثبت نہیں ہوتے، بلکہ انسان کی روحانی اور نفسیاتی کیفیت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ آئیے سنتِ نبوی ﷺ کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ ہر سنت دنیا و آخرت کی بھلائی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
سچا مومن دوسروں کے غم سے بے خبر نہیں رہتا، بلکہ اسے اپنا غم سمجھتا ہے۔
شیطان کے (انسان پر حملے کے) راستوں میں سے ایک راستہ *مستقبل کا خوف اور طویل و سخت آزمائش پر شدید رنج و غم ہے*؛ جس کے نتیجے میں آزمائش کا شکار شخص دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے، *اور وہ حسنِ ظن بالله (الله سے اچھی امید) جیسے عظیم مددگار کو کھو کر درد و تکلیف کے گھونٹ بھرنے لگتا ہے*
*🌧️ اللہ تعالیٰ اس بارش کو ہمارے لیے رحمت، برکت اور نفع کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔* آسمان سے برستے ہوئے یہ قطرے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ جس رب کے حکم سے خشک زمین سرسبز ہو جاتی ہے، وہی رب ہمارے غموں کو خوشیوں میں، تنگی کو آسانی میں اور مایوسی کو امید میں بدلنے پر بھی پوری قدرت رکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ بارش کے وقت یہ مسنون دعا پڑھتے تھے: اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا "اے اللہ! اس بارش کو نفع بخش بارش بنا دے۔(صحیح بخاری: 1032) اگر بارش بہت زیادہ ہو جائے اور نقصان کا اندیشہ ہو تو رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ "اے اللہ! بارش ہمارے اردگرد برسا، ہم پر (تباہ کن انداز میں) نہ برسا۔ اے اللہ! اسے ٹیلوں، پہاڑیوں، وادیوں اور درخت اگنے کی جگہوں پر برسا دے۔"(صحیح بخاری: 1014، صحیح مسلم: 897) یاد رکھیں! بارش کے وقت دعا قبول ہونے کی امید ہوتی ہے، اس لیے اس بابرکت وقت کو غفلت میں نہ گزاریں۔ اپنے لیے، اپنے والدین، اہلِ خانہ، امتِ مسلمہ اور پوری انسانیت کے لیے خوب دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ اس بارش کو ہمارے لیے رحمت بنائے، زحمت نہ بنائے، ہمارے گھروں، شہروں، کھیتوں اور زندگیوں میں خیر و برکت عطا فرمائے، ہر قسم کی آفت اور نقصان سے اپنی حفاظت میں رکھے، اور ہماری جائز دعاؤں کو اپنی رحمت سے قبول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔