tgindex
Arqam Raza Azhari

Arqam Raza Azhari

Статистика

Visit our YouTube Channel: https://youtube.com/@arqamrazanoori8402?si=xP_8-vnWncrnBVEr Visit our WhatsApp Channel: https://whatsapp.com/channel/0029VaKalIH8KMqpuCfNPQ3E Owner: @Arn5688

Последний пост
13 авг.
Последнее чтение
15 авг.
Постов за неделю
2
Всего постов
20
Тип
открытый
Язык
ur
Категория
Видео
В каталоге с
13 авг.
Подписчики
813
+1 за 1 дн.
Сутки
0
0,00%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
282
20 постов
Вовлечённость
34,7%
к подписчикам
Постов в день
0,3
всего 20
Упоминаний
1
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
108
1/48двое суток
123
1/72трое суток
133

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • 13 авг.1027из sharheklameraza

    🔹 شرحِ کلامِ رضا 🔹 شعر نمبر : 593 وصفِ رُخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس وضُحٰے کرتے ہیں اُن کی ہم مَدْح و ثنا کرتے ہیں جن کو محمود کہا کرتے ہیں حل لغات: وصف: تعریف۔ رخ: چہرہ۔ شرح: تفصیل، تفسیر۔ شرح والمشس و ضحی: سورۃ الشمس اور سورۃ الضحی کی تفسیر و تفصیل۔ محمود: تعریف کیا ہوا۔ شعر کا مفہوم: ہم اپنے آقا و مولی (ﷺ) کے منور و مطہر چہرۂ مبارک کی جو خوبیاں بیان کرتے ہیں، اور اس مبارک چہرے کے ترانے پڑھتے ہیں، یہ سب در اصل قرآن کریم کی آیات ((والمشس)) اور (والضحی)) کی تفسیر ہے، کہ اللہ تعالی نے یہ الفاظ فرما کر اپنے محبوب (ﷺ) کے چہرے کی قسم ذکر فرمائی ہے۔ تو ہم انہیں آیات کی تفصیل کرتے ہوئے اپنے آقا (ﷺ) کے چہرے کی تعریف و توصیف کرتے ہیں۔ اور ہم اس عظیم ہستی کی مدح و ثنا کرتے ہیں جس کا ایک نام 'محمود' ہے، جس کا معنی ہے تعریف کیا ہوا، یعنی اللہ (ﷻ) نے جن کی تعریف کی، تو ہم اپنے ان کریم آقا (ﷺ) کی مدح و ثنا کرتے ہیں جن کی تعریف خود رب (ﷻ) نے فرمائی۔ ــــــــــــــــــــــــــــ محمد ارقم رضا ازہری ٣٠/ صفر المظفر ١٤٤٨ھ ١٣/ اگست ٢٠٢٦ء بروز جمعرات

  • Meeladun Nabi (ﷺ) per lightning ka ek waqiya #meeladunnabiﷺ #meeladunnabi #arqamrazaazhari https://www.instagram.com/reel/Db8fWZ0NRod/?igsh=MWRrNnB0Mnprc2dtMQ==

  • #سلسلہ_قرآنی_لطائف_5 قرآنِ کریم کی سورتوں کی ترتیب کی ایک لطیف مناسبت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ سورۂ ضحیٰ، سورۂ فجر کے بعد چار سورتوں کے فاصلے پر آئی ہے، اور سورۂ ضحیٰ کے کل چالیس الفاظ ہیں۔ اس عددی موافقت سے بطورِ استئناس یہ نکتہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ نمازِ ضحیٰ کا افضل وقت عموماً فجر کے تقریباً چار گھنٹے بعد ہوتا ہے، جب سورج کی بلندی اکثر 40 درجے کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جو نبی کریم (ﷺ) کے اس فرمان کے مفہوم کے قریب ہے: ((حين ترمض الفصال)). یعنی جب زمین اتنی گرم ہو جائے کہ اونٹنی کے چھوٹے بچے اس کی تپش سے متاثر ہو کر اپنے نرم کھروں کے ساتھ اس پر چلنے سے بچنے لگیں۔ یہ کیفیت خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ نمایاں ہوتی ہے جہاں ریت اور چٹانیں سورج کی گرمی کو جلد جذب کر لیتی ہیں، خصوصاً مکہ مکرمہ میں، جہاں یہ مبارک سورت نازل ہوئی۔ ــــــــــــــــــــــــــ محمد ارقم رضا ازہری ١٠/ اگست ٢٠٢٦ء

  • Ask me a question on Instagram https://www.instagram.com/stories/arqamrazaazhari/3960580123215411300?utm_source=ig_story_item_share&igsh=N2Vtb3Fha284OXF1

  • https://youtu.be/ZOJiDFi_yI8?si=bhUOoDf9pbngJ-fw

  • Urs e Razvi Mubarak ho ❣️ Aaiye Imam e Ahl e Sunnat ke mission ko aam krain

  • 7 авг.313181

    امام کا عرس مبارک ہو ❣️

  • Surah Fajr or Surah Dhuha ki tarteeb me kiya hikmat hai? https://youtu.be/3qgwFrMn9To?si=d7hjjcVYPUyt_zFx Isko zrur Suniye, bhut fayda milega. In Sha Allah

  • 6 авг.31011из sharheklameraza

    🔹 شرحِ کلامِ رضا 🔹 شعر نمبر : 592 ہے بلبُلِ رنگیں رضاؔ یا طُوطی نغمَہ سرا حق یہ کہ واصِف ہے تِرا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں حل لغات: بلبلِ رنگیں: رنگین بلبل۔ نغمہ سرا: گیت گانے والا، ترانے پڑھنے والا۔ واصف: تعریف کرنے والا۔ شعر کا مفہوم: امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت کی شاعری آپ کی حیات میں ہی بہت مشہور تھی، ہر طرف آپ کے کلام پڑھے جاتے، تحدیث نعمت کے طور پر امام نے اس شعر میں کہا: رضا کو شاعری میں بلبلِ رنگیں کہا جائے یا ہر وقت ترانے الاپنے والی طوطی۔ پھر اس کے فوراً بعد کہا: نہ تو بلبل رنگیں اور نہ ہی طوطی نغمہ سرا کہا جائے، بلکہ حق یہ ہے کہ احمد رضا اپنے آقا و مولی (ﷺ) کی مدح و ثنا کرنے والا ہے، اور میرے لیے یہی شرف سب سے بڑا ہے، بس سرکار (ﷺ) قبول فرما لیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــ محمد ارقم رضا ازہری ٢٣/ صفر المظفر ١٤٤٨ھ ٦/ اگست ٢٠٢٦ء بروز جمعرات

  • 6 авг.235из sharheklameraza

    🔹 شرحِ کلامِ رضا 🔹 شعر نمبر : 591 رزقِ خدا کھایا کیا فرمانِ حق ٹالا کیا شکرِ کرم ترسِ سزا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں حل لغات: ترس: خوف، رحم، لیکن یہاں خوف کے معنی میں ہی ہے۔ شعر کا مفہوم: اے غافل انسان! تو اللہ (ﷻ) کا دیا ہوا رزق کھاتا ہے، پھر بھی اس کے حکم پر عمل نہیں کرتا۔ نہ تو تو رب (ﷻ) کے کرم کا شکر ادا کرتا ہے، اور نہ ہی عذاب کا خوف ہے تجھے۔ اپنی غفلت سے باہر آ، رب تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کر، اس کے عقاب سے ڈر اور اس کے تمام احکام پر عمل کر۔ ــــــــــــــــــــــــــــ محمد ارقم رضا ازہری ٢٣/ صفر المظفر ١٤٤٨ھ ٦/ اگست ٢٠٢٦ء بروز جمعرات

  • 5 авг.2475из sharheklameraza

    🔹 شرحِ کلامِ رضا 🔹 شعر نمبر : 590 دن لَہْو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے شرمِ نبی خوفِ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں حل لغات: لہو: کھیل کود۔ کھونا: برباد کرنا۔ شرم: حیا۔ خوف: ڈر۔ شعر کا مفہوم: اس شعر میں سیدی اعلی حضرت -علیہ الرحمۃ والرضوان- غافل مسلمانوں سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں: اے غافل مسلمان! تو پورا دن کھیل کود میں برباد کر دیتا ہے، اور پوری رات غفلت میں گزار دیتا ہے، نہ نمازوں کا پتا ہے، نہ ذکر و اذکار کا۔ تیری حالت عجیب ہے کہ تجھے اللہ (ﷻ) کا خوف بھی نہیں کہ مرنے کے بعد اس کے حضور جانا ہے، یاد کر کہ قبر و حشر کا عذاب بڑا سخت ہے۔ اور تجھے یہ شرم بھی نہیں ہے کہ محشر کے دن نبی اکرم (ﷺ) کو منہ دکھانا ہے۔ امام اہل سنت کا یہ شعر بہت لوگوں پر بعینہ صادق آتا ہے۔ اور زمانے کی تبدیلی کے سبب کچھ لوگوں کا معاملہ برعکس ہو گیا ہے، وہ پوری رات کھیل کود میں گزارتے ہیں، ریلز دیکھتے ہیں، سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرتے ہیں، پھر فجر کے قریب آ کر سوتے ہیں اور دوپہر تک ایسے ہی سوتے رہتے ہیں۔ ان سب کو بھی خوف خدا (ﷻ) اور شرم نبی (ﷺ) کی پرواہ کرنا چاہیے۔ ــــــــــــــــــــــــــــ محمد ارقم رضا ازہری ٢٢/ صفر المظفر ١٤٤٨ھ ٥/ اگست ٢٠٢٦ء بروز بدھ

  • قاعدة إطلاق الألقاب في الأسر العلمية من المعلوم عند أهل العلم أنَّ الألقاب إذا أُطلقت في الأسر العلمية انصرفت إلى الأب، ولا يُراد الابن إلا مع التقييد باسمه أو بلقبه الخاص. فإذا قيل: السبكي بإطلاق، فالمراد به الإمام تقي الدين السبكي، أما إذا أُريد ابنه فلا بد من التقييد، فيقال: تاج الدين السبكي أو التاج السبكي. وكذلك إذا قيل: اللقاني بإطلاق، فالمراد به الإمام إبراهيم اللقاني، وأما إذا أُريد أحد أبنائه فلا بد من التقييد، فيقال: عبد السلام اللقاني، ونحو ذلك. غير أن هذا الاصطلاح لم يُجرَ في إطلاق لقب ابن تيمية؛ إذ جرى استعماله على إرادة أحمد بن تيمية (الذي هو مبتدع) مباشرة عند الإطلاق. وأما العالِمان السُّنِّيان من هذه الأسرة فيُقيَّدان، فيقال: ابن تيمية الأب للشيخ أبي المحاسن عبد الحليم، ويقال لوالده: ابن تيمية الجد الذي هو مجد الدين عبد السلام. وكلاهما من علماء أهل السنة، بل إنَّ ابن تيمية الجد يُعَدُّ من كبار أئمة أهل السنة. من إفادات دروس سيدي الشيخ أحمد عابد الأزهري - حفظه الله ورعاه-. ــــــــــــــــــــــــــــ محمد أرقم رضا الأزهري ٢٢/ صفر المظفر ١٤٤٨هـ

  • #سلسلہ_قرآنی_لطائفــــــــــ! ـ4 سورۂ ماعون کے لطائف میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں نماز، یتیم کی عزت و تکریم، مسکین کو کھانا کھلانے اور آخر میں یہ فرمان جمع فرمایا: ﴿وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ﴾ "اور وہ معمولی ضرورت کی چیزیں بھی دینے سے گریز کرتے ہیں۔" کیا آپ نے کبھی اس جمع کی حکمت پر غور کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ اصل "ماعون" جو اللہ(ﷻ) کے فیض و انوار کو قبول کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے، بندے کا دل ہے۔ جس طرح کوئی برتن اس وقت تک فائدہ نہیں دیتا جب تک اسے پہلے خالی نہ کیا جائے؛ تاکہ اس میں کھانا یا پانی بھرا جا سکے، اسی طرح دل بھی اس وقت تک خشوع کے انوار اور قربِ الٰہی کی تجلیات کو اپنے اندر سمو نہیں سکتا، جب تک اسے دنیا کی خواہشات، نفس کی محبت، دل کی سختی اور بندگانِ خدا کے حقوق میں بخل سے پاک نہ کر لیا جائے۔ لہذا جب انسان یتیم کی عزت و خدمت میں بخل کرتا ہے، مسکین کو کھانا کھلانے سے منہ موڑ لیتا ہے، اور اس کی شفقت، اللہ(ﷻ) کے بندوں کے لیے تنگ ہو جاتی ہے، تو اس کے دل کا برتن اغیار سے بھر جاتا ہے، اور اس پر نفس کی سختی غالب آ جاتی ہے۔ پھر جب وہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے اعضا تو نماز ادا کرتے ہیں، مگر اس کا دل مناجات کی لذت سے محروم اور پردوں میں چھپا رہتا ہے۔ لہٰذا نماز میں خشوع تلاش کرنے سے پہلے اپنے دل کے برتن کا جائزہ لیجیے۔ اس سے نفس کا تکبر، دنیا کی محبت، دل کی سختی اور مخلوق کے حقوق میں بخل کو نکال دیجیے، پھر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوئیے۔ جب حق تعالیٰ کسی ایسے دل کو پاتا ہے جو اغیار سے پاک ہو چکا ہو، تو اسے اپنے قرب کے نور سے بھر دیتا ہے اور اسے مناجات کی شیرینی چکھا دیتا ہے۔ لہذا یاد رکھیے! خشوع صرف ظاہری حرکات کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ وہ اس دل کا ثمر ہے جو اپنے مولیٰ کی تجلیات کے لیے ایک پاکیزہ اور موزوں ظرف بن چکا ہو۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ محمد ارقم رضا ازہری ٣/ اگست ٢٠٢٦ء

  • دروس تفسیر جلالین سورۃ الکہف تا سورۃ النور از: ارقم رضا ازہری https://youtube.com/playlist?list=PL64_hzAp0p4IxfmLR3om3YoSjYW64XU65&si=dfuFahOoP6Aij8hK

  • https://www.instagram.com/reel/DblRmj4NYaI/?igsh=eTZoaTdmZGlydmUz

  • 3 авг.317из sharheklameraza

    🔹 شرحِ کلامِ رضا 🔹 شعر نمبر : 589 کوئی ہے نازاں زُہد پر یا حسنِ توبہ ہے سِپر یاں ہے فقط تیری عطا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں حل لغات: زہد: پرہیزگاری۔ سپر: ڈھال۔ یاں: یہاں۔ شعر کا مفہوم: یا رسول الله(ﷺ)! کسی کو اپنے زہد، اپنی پرہیزگاری پر ناز ہے، اور کسی کے لیے اس کی اچھی توبہ ڈھال ہے۔ مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے پاس نہ تو پرہیزگاری ہے، اور ہی نہ اپنی توبہ پر بھروسہ ہے۔ ہم تو بس حضور (ﷺ) آپ کی عطا پر امید لگائے بیٹھے ہیں، آخرت میں حضور (ﷺ) کے صدقے ہی ہمارا بیڑا پار ہونا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــ محمد ارقم رضا ازہری ٢٠/ صفر المظفر ١٤٤٨ھ ٣/ اگست ٢٠٢٦ء بروز پیر

  • https://youtube.com/shorts/H7_r9KkqlkY?si=jaD2cxYL5BSuCTd5

  • سلسلہ قرآنی لطائفـــــــــــــــــــــ! ـ٣ سورۂ اخلاص (قل ھو الله أحد...) 4 آیات، 15 کلمات، 47 حروف، 10 نقطوں اور 38 حرکات پر مشتمل ہے۔ سورۂ اخلاص قرآن پاک کی وہ واحد سورت ہے، جس میں صرف ایک کسرہ (زیر) ہے۔ اور کلامِ الہی کی عظمت دیکھیے کہ یہ کسرہ لفظِ "یَلِدْ" کے بیچ میں لام پر آیا ہے، سورت میں اس سے قبل 23 حرف ہیں، اور اس کے بعد 23 حرف ہیں۔ "یلد" سے پہلے 7 کلمات ہیں، اور اس کے بعد بھی 7 کلمات ہیں۔ یعنی ایک کسرہ کو کس عمدہ ترتیب سے رکھا گیا ہے کہ حروف میں بھی سب کے بیچ میں، اور کلمات میں بھی بیچ والے کلمہ میں۔ سبحان اللہ العظیم! یقیناً یہ معجز ترتیب خدا(ﷻ) کے کلام میں ہی ہو سکتی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ محمد ارقم رضا ازہری ٢/ اگست ٢٠٢٦ء

  • 🔹 شرحِ کلامِ رضا 🔹 شعر نمبر : 588 ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا اب ہو گی یا روزِ جزا دی اُن کی رحمت نے صدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں حل لغات: عصیاں: گناہ۔ روزِ جزا: بدلے کا دن، حساب کا دن۔ صدا: آواز، پکار۔ شعر کا مفہوم: گناہوں کی وجہ سے بہت ڈر لگ رہا تھا کہ اتنے گناہ کیے ہیں، تو گناہوں کی سزا دنیا میں ملے گی جیسے پچھلی امتوں کو ملتی تھی، یا آخرت میں حساب والے دن؟ تو آقا کریم (ﷺ) کی رحمت نے صدا دی کہ یہ بھی نہیں، وہ بھی نہیں، یعنی دنیا میں بھی اس امت کو گناہوں کی سزا نہیں ملے گی؛ کیونکہ اللہ (ﷻ) نے فرمایا: (( و ما کان الله ليعذبهم و أنت فيهم))، محبوب! اللہ کی یہ شان نہیں کہ آپ کے ہوتے ہوئے ان پر عذاب بھیجے۔ اور آخرت میں بھی سزا نہیں ہوگی؛ کیونکہ اللہ تعالی نے ((و لسوف يعطيك ربك فترضى)) فرما کر اپنے محبوب (ﷺ) راضی کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، اور آقا کریم (ﷺ) کا امت پر کرم یہ کہ فرمانِ عالیشان ہے کہ میں اس وقت تک راضی نہ ہوؤنگا جب تک اپنے ہر امتی کو نہ بخشوا لوں۔ تو گناہوں کی سزا نہ یہاں، نہ وہاں۔ آقا کریم (ﷺ) کے صدقے اللہ (ﷻ) سے یہی امید کرتے ہیں، ورنہ تو ہم عذاب برداشت کرنے کے متحمل نہیں۔ اور یہ تشریح لکھتے لکھتے یہ خیال آیا کہ (( و ما کان الله ليعذبهم و أنت فيهم)) آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ مصطفی کریم (ﷺ) زندہ ہیں، تشریف فرما ہیں اس لیے عذاب نہیں آتا اس امت پر، تو آخرت میں بھی تو آقا کریم (ﷺ) تشریف فرما ہوں گے، پھر بھلا ان کے امتیوں کو کیسے عذاب ہوگا؟ تو یہ وعدہ آخرت کو بھی شامل ہوگا، اور آقا کریم (ﷺ) کی موجودگی میں امت پر عذاب نہیں ہوگا۔ (اگر یہ خیال درست ہے تو اللہ (ﷻ) کی جانب سے ہے، ورنہ میری خطا). ــــــــــــــــــــــــــــ محمد ارقم رضا ازہری ١٩/ صفر المظفر ١٤٤٨ھ ٢/ اگست ٢٠٢٦ء بروز اتوار

  • 2 авг.2775из sharheklameraza

    🔹 شرحِ کلامِ رضا 🔹 شعر نمبر : 587 خورشید تھا کس زور پر کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر بے پردہ جب وہ رُخ ہوا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں حل لغات: خورشید: سورج۔ قمر: چاند۔ رخ: چہرہ۔ شعر کا مفہوم: سورج کتنی آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوا تھا کہ دنیا کو روشن کر دیا، اور چاند کس قدر چمک رہا تھا کہ اندھیری راتوں کو بھی منور کر دیا۔ لیکن جب اللہ (ﷻ) کے محبوب مصطفی کریم (ﷺ) کا چہرۂ والضحیٰ بے پردہ ہوا، آقا کریم (ﷺ) اس دنیا میں تشریف لائے، تو چاند و سورج کی روشنی ماند پڑ گئی، چاند و سورج اپنا منہ چھپانے لگے؛ کیونکہ مصطفی کریم(ﷺ) جیسا کسی کا نور نہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــ محمد ارقم رضا ازہری ١٩/ صفر المظفر ١٤٤٨ھ ٢/ اگست ٢٠٢٦ء بروز اتوار