انوار الفقھاء الحنفیہ
Статистикаتحقیقی مسائل اور فقہ حنفی کامجموعہ انوار الفقھاء جسمیں آپ حضرات کو الحمد للہ فقھاء کی عبارات سےمزین مسائل روزآنہ بطور استفادہ حاصل ھونگے اللہ تعالی ھماری اس سعی ومحنت کو قبول فرماکرذخیرہ آخرت بنائیں لنک شیر کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ھوں جزاکم اللہ خیرا
- Последний пост
- 26 июн.
- Последнее чтение
- 15 авг.
- Постов за неделю
- 0
- Всего постов
- 20
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- —
- 1/48двое суток
- —
- 1/72трое суток
- —
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون 😭
شہید کربلا 😭😭
تبصرہ حضرت مفتی شفیع صاحب
توبہ کا طریقہ جواب Fatwa: 889-657/D=08/1443 گناہ خواہ حقوق العباد سے ہوں یا حقوق اللہ سے متعلق ہوں جب كسی انسان سے سرزد ہوجائے تو اسے توبہ كرنا واجب ہے توبہ كا طریقہ یہ ہےكہ جس قدر گناہوں میں مبتلا ہے انھیں چھوڑ دے اور سارے گناہوں سے اللہ تعالی كے حضور دل سے توبہ كرے روئے گڑگڑائے اور آئندہ كے لیے پختہ ارادہ كرے كہ اب گناہ نہیں كروں گا كبھی پھر گناہ ہوجائے تواس سے پھر توبہ كرلے اس طرح توبہ كرنے سے امید ہے كہ اللہ تعالی اس كے گناہ معاف كردیں التائب من الذنب كمن لا ذنب له البتہ حقوق اللہ نمازیں باقی ہوں تو ان كی قضا كرنا زكاۃ صدقہ فطر روزہ وغیرہ باقی ہوں تو انھیں ادا كرنا توبہ كی تکمیل كے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح جو حقوق العباد تلف ہوئے مثلاً كسی كو گالی گلوچ بكا ہے غیبت كی ہے یا اور طرح سے ایذا رسانی كی ہے اور وہ لوگ یاد ہوں تو ان سے معافی مانگ لے اور حقوق مالیہ جو دوسروں كے واجب ہوں انھیں بھی یاد كركے ادا كردے ایسا كرنے سے ان شاء اللہ آخرت میں صاحب حق كے پاس آپ كی نیكیاں جانے كی نوبت نہ آئے گی۔ اور اگر اصحاب حقوق وفات پاچكے یا یاد نہیں تو پھر ان كے لیے دعائے مغفرت كرے اور اللہ تعالی سے درخواست كرے كہ میں نے جن لوگوں كا حق مارا ہے كل قیامت میں آپ ان كو خوش كردیجئے تاكہ ہماری نیكیاں جانے كی نوبت نہ آئے۔ البتہ مالی حق صاحب حق تك پہونچانا ممكن نہ ہوتو اس كی طرف سے صدقہ كردے۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
زوال کا وقت زوال کا وقت نہایت مختصر ومعمولی ہوتا ہے؛ لیکن زوال کا ٹھیک صحیح وقت جاننا آسان نہیں؛ اس لیے صحیح اور معتبر جنتری میں زوال کا جو وقت دیا گیا ہو، احتیاطاً اس سے ۴، ۵/ منٹ پہلے اور ۴، ۵/ منٹ بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہیے، نماز کے لیے ۲۵، ۳۰/ منٹ کا وقفہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے : ’’اوقات کے نقشوں میں جو زوال کا وقت لکھا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد نماز جائز ہے، زوال میں تو زیادہ منٹ نہیں لگتے، لیکن احتیاطاً نصف النہار سے ۵ منٹ قبل اور ۵ منٹ بعد نماز میں توقف کرنا چاہیے‘‘۔ (ج۳ / ص۲۰۷) رات میں زوال کا وقت نہیں ہوتا۔ بعض عوام میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ دن کی طرح رات میں بھی زوال ہوتاہے، اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ رات بارہ بجے نماز پڑھنا منع ہے، حال آں کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ لہٰذا پوری رات میں کسی بھی وقت نفل یا قضا نماز پڑھنا بلاکراہت جائز ہے۔ فتاوی محمودیہ (۵: ۳۸۳، ۳۸۴، سوال: ۲۱۷۷، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل)، احسن الفتاوی (۲: ۱۳۸، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی)، اور فتاوی رحیمیہ قدیم (۴: ۲۸۴، ۲۸۵) دیکھیں۔
без подписи
اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا ۚ وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ ۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ۟ وہ آگ ہے کہ دکھلادیتے ہیں ان کو صبح اور شام ف ٦ اور جس دن قائم ہوگی قیامت حکم ہوگا داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں یعنی دوزخ کا ٹھکانا جس میں وہ قیامت کے دن داخل کیے جائیں گے۔ ہر صبح و شام ان کو دکھلا دیا جاتا ہے تاکہ نمونہ کے طور پر اس آنے والے عذاب کا کچھ مزہ چکھتے رہیں۔ یہ عالم برزخ کا حال ہوا اور احادیث سے ثابت ہے کہ اسی طرح ہر کافر کے سامنے دوزخ کا اور ہر مومن کے سامنے جنت کا ٹھکانا روزانہ صبح و شام پیش کیا جاتا ہے۔ (تنبیہ) آیتہ ہذا سے صرف فرعونیوں کا عالم برزخ میں معذب ہونا ثابت ہوا تھا۔ اس کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم کرایا گیا کہ جملہ کفار بلکہ عصاۃِ مومنین بھی برزخ میں معذب ہوتے ہیں (اعاذنا اللہ منہ) کما وردفی الاحادیث الصحیحہ۔ اور بعض آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح جنتیوں میں سے شہداء کی روحیں " طیور خضر " کے " حواصل " میں داخل ہو کر جنت کی سیر کرتی ہیں، اسی طرح دوزخیوں میں سے فرعونیوں کی ارواح کو " طیور سود " کے " حواصل " میں داخل کر کے ہر صبح شام دوزخ کی طرف بھیجا جاتا ہے (البتہ ارواح کا مع ان کے اجساد کے جنت یا دوزخ میں اقامت پذیر ہونا یہ آخرت میں ہوگا) اگر یہ صحیح ہے تو فرعونیوں کے متعلق (اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا) 40 ۔ غافر :46) اور عام دوزخیوں کے متعلق حدیث " عرض علیہ مقعدہ بالغداۃ والعشیی " کے الفاظ کا تفاوت شاید اسی بناء پر ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
без подписи
نو(۹)ذی الحجہ کو ’یومِ عرفہ‘کہنے کی فقہاء نے تین وجوہات بیان کی ہیں: (1) حضرت ابراہیم کو آٹھ(۸) ذی الحجہ کی رات خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کر رہے ہیں، تو ان کو اس خواب کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا، پھرنو(۹)ذی الحجہ کو دوبارہ یہی خواب نظرآیا تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالی کی طرف سےہی ہے، چوں کہ حضرت ابراہیم کویہ معرفت اور یقین نو(۹)ذی الحجہ کو حاصل ہوا تھا، اسی وجہ سے نو(۹) ذی الحجہ کو ’یومِ عرفہ‘ کہتے ہیں۔ (2) نو ذی الحجہ کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نےحضرت ابراہیم علیہ السلام کوتمام "مناسکِ حج" سکھلائے تھے، مناسکِ حج کی معرفت کی مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو ’یومِ عرفہ‘ کہتے ہیں۔ (3) نو(۹) ذی الحجہ کو حج کرنے والے حضرات چوں کہ میدانِ عرفات میں وقوف کے لیے جاتے ہیں،تو اس مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو "یومِ عرفہ" بھی کہہ دیتے ہیں۔ مذکورہ اقوال سے معلوم ہوا کہ تسمیہ کے اعتبار سے’یومِ عرفہ‘کوصرف وقوفِ عرفہ کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف وجوہات کی بنا پر (۹)ذی الحجہ کادوسرا نام ہے، لہٰذا یہ دن ہر ملک میں اپنی تاریخ کے اعتبار سے ہوگا،یعنی دیگر ممالک میں جس دن نو(۹) ذی الحجہ ہوگی وہی دن ’یومِ عرفہ ‘کہلائے گا، خواہ اس دن سعودی عرب میں یومِ عرفہ نہ ہو۔ صومِ یوم عرفہ کے لیے سعودی عرب کے 9 ذی الحجہ کا اعتبار کرنے سے ایک پیچیدگی لازم آئے گی، دنیا کے بعض ممالک کی تاریخیں سعودی عرب سے ایک دن پہلے کی ہوتی ہیں، (یعنی وہ ممالک جہاں چاند کی پیدائش اور طلوع وغروب سعودی عرب سے پہلے ہو) مثلاً: جس دن سعودی عرب میں 9 ذی الحجہ ہے، اس دن بعض ممالک میں 10 ذی الحجہ ہوگا. 10 ذی الحجہ کو اس ملک کے مسلمان عید الاضحٰی منائیں گے اور اس دن ان کے لیے روزہ رکھنا ناجائز ہوگا، پھر وہ اس دن کو سعودی عرب کی متابعت میں 'یوم عرفہ' مان کر اس میں روزہ کیسے رکھ سکتے ہیں؟ خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے مسلمان "یومِ عرفہ" کا روزہ سعودی عرب کی تاریخ کے حساب سے رکھنے کے پابند نہیں ہیں، سعودی عرب کے مسلمان اس دن روزہ رکھیں جب ان کے یہاں 9 ذی الحجہ ہو، اور دوسرے ممالک کے مسلمان اس دن روزہ رکھیں جب ان کے یہاں 9 ذی الحجہ ہو. البتہ پاکستان اور وہ مشرقی ممالک جو سعودی عرب سے ایک تاریخ پیچھے ہوتے ہیں، وہاں کے مسلمانوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ آٹھ اور نو ذوالحجہ دونوں دن روزہ رکھ لیا کریں، کیوں کہ عشرہ ذوالحجہ کے ہر روزے کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور ان ممالک کے لوگوں کے لیے اس دن روزہ رکھنے میں کوئی ممانعت بھی نہیں ہے۔
India Question: 60582 ایک گاڑی اگر پچاس ہزار کی ھے اور قسطوں پر اسکی قیمت ساٹھ ھزار ہوتی ہے ایسی صورت میں کیا گاڑ؛ی لینا جائز ہے یا نہیں؟ مگر ہمیں پتہ ہے کہ ان قسطوں میں کچھ حصہ سود کا بھی شامل ہے ؟ آپ کے مسائل اور انکا حل کتاب میں اس مسئلہ کو درست بتا یا ہے کہ قسطوں کی رقم ایک بار مقرر کردے تو یہ سود کے حکم میں شامل نہیں ہو گا. اس مسئلہ کا حل بتا دیں۔ Aug 13,2015 Answer: 60582 Fatwa ID: 1052-844/D=10/1436-U نقد فروخت کرنے میں سامان کی قیمت کم ہو اور ادھار میں زیادہ ہوجائے ایسا جائز ہے بشرطیکہ کوئی ایک قیمت متعین ہوکر حتمی طور پر معاملہ اس پر ہوجائے مثلاً نقد لے رہے ہیں تو نقد قیمت پر، ادھار لے رہے ہیں تو ادھار قیمت پر، تذبذب اور تردد نہ رہے مثلاً اگر نقد ادا کردیا تو اتنا ادھار ادا کیا تو اتنا۔ پھر ادھار قیمت قسطوں میں ادا کرنے کی بات بھی طے ہوسکتی ہے، حرج نہیں۔ مگر اس میں بھی وقت بڑھنے کے اعتبار سے قیمت میں اضافہ کی بات نہ ہو، مطلب یہ کہ قسطوں میں ادا کی جانے والی رقم اور مدت دونوں متعین ہوجائے، مذکورہ صورت اس وقت جائز ہے جب آپ براہ راست کسی (شو روم) سے خرید رہے ہوں، اور اکر بینک کے ذریعہ خریدیں تو ضروری ہے کہ بینک گاڑی خریدکر اپنے اضافہ کے ساتھ (خواہ وہ سود کے نام سے ہو) آپ کے ہاتھ فروخت کرے؛ لیکن بینک ایسا نہیں کرتے ہیں ، وہ تو لون (قرض) دیتے ہیں جسے قسطوں میں وصول کرتے ہیں، ایسی صورت میں اضافہ یقینا سود ہے اور اس طرح لون پر گاڑی لینا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
بینک کے ذریعے قسطوں پر گاڑی خریدنے کا حکم Question: 56839 مفتی صاحب! مجھے ایک کار خریدنی ہے لیکن میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ ا یک مشت میں خریدلوں۔ اگر بینک سے لینے کی کوئی جائز شکل ہو تو رہبری فرمائیں ۔ بینواتوجرو Dec 01,2014 Answer: 56839 Fatwa ID: 74-74/Sd=2/1436-U بینک کے ذریعے گاڑی خریدنے کی جائز شکل یہ ہے کہ بینک پہلے کمپنی سے مثلاً ایک لاکھ میں گاڑی خریدلے، پھر بینک خریدار کو مثلاً ایک لاکھ پچیس ہزار میں یہ گاڑی فروخت کردے اورمجموعی رقم چاہے تو نقد وصول کرے یا قسطوں پر، یہ شکل بیع مرابحہ کے دائرے میں داخل ہوکر جائز ہوگی، اس صورت میں شرعاً یہ بھی جائز ہے کہ بینک ادھار یا قسطوں پر فروختگی کی صورت میں نقد کے مقابلے میں گاڑی کی زیادہ قیمت متعین کردے، حاصل یہ ہے کہ بینک اگر گاڑی کا اصل مالک بن کر خریدار کے ساتھ معاملہ کرے تو ادھار یا قسطوں پر فروخت کرنے کی صورت میں زیادہ قیمت متعین کرنا سود کے دائرے میں نہیں آئے گا، اسی طرح بینک کے ذریعے گاڑی خریدنے کی دوسری جائز صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بینک خریدار کو اپنا وکیل بنادے جو کمپنی سے گاڑی خریدکر بینک کے حوالے کردے، پھر بینک اس گاڑی کو خریدار کے ہاتھ نقد،ادھار یا قسطوں پر فروخت کردے۔ قال الحصکفی: المرابحة بیع ما ملکہ بما قام علیہ وبفضل، ثم باعہ مرابحة علی تلک القیمة، جاز (الدر المختار مع رد المحتار: ۷/۴۹-۵۰) قال الإمام الترمذي تحت حدیث: ”نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیعتین في بیعة“ وقد فَسَّر بعض أہل العلم قالوا بیعتین فی بیعة أن یقول: أبیعک ہذا الثوبَ بنقد بعشرة وبنسیئة بعشرین ولا یفارقہ علی أحد البیعتین، فإذا فارقہ علی أحد منہما، فلا بأس بہ إذا کانت العقدة علی أحد منہما، (الجامع الترمذي، باب ما جاء في النہی عن بیعتین في بیعة، رقم: ۶۲۳۱) وقال السرخسي: وإذا عقد العقد علی أنہ إلی أجل کذا بکذا وبالنقد بکذا، فہو فاسد، وہذا إذا افترقا علی ہذا، فإن کان یتراضیان بینہما، ولم یتفرقا، حتی قاطعہ علی ثمن معلوم، وأتما العقد علیہ جاز (المبسوط للسرخسي: ۱۳/ ۸، دار المعرفة بیروت) کذا في امداد الفتاوی: ۳/۱۳۵-۱۳۶، کتاب البیوع،زکریا، دیوبند) ================= نوٹ: بینک یا کسی ثالث کے توسط سے گاڑی خریدنے کی جو دو صورتیں جواب میں لکھی گئی ہیں وہ درست اور صحیح ہیں جیسا کہ عبارات فقہیہ سے واضح ہے، مگر بینک سے اس طرح کا معاملہ ہوپانا عملاً دشوار ہے کیونکہ وہ اپنے لگے بندھے طریقہ پر لون دینے کے عادی ہیں جس سے معاملہ سودی ہوجاتا ہے جو کہ ناجائز ہے، پس جواب کے مطابق اگر بینک سے معاملہ کیا جائے تو اس کی تفصیل لکھ کر کہ کس طرح معاملہ ہوا ہے پھر دوبارہ حکم معلوم کرلیا جائے تاکہ سودی لین دین سے تحفظ رہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
قسطوں پر گاڑی اور سامان خریدنے کا حکم اگر قسطوں میں گاڑی خریدنے کی صورت میں سود دینا پڑے تو اس طرح گاڑی خریدنا ناجائز ہوگا، البتہ اگر گاڑی خریدتے وقت اس طرح معاملہ کرلیا جائے کہ جس سے گاڑی خریدنی ہے اس سے خریدتے وقت ہی اصل قیمت مع سود کے معاملہ کرلیا جائے یعنی اگر گاڑی کی کیش قیمت 45/ ہزار ہے اور قسطوں پر 50 تو خریدتے وقت وہی معاملہ کرلیا جائے کہ میں قسطوں پر لوں گا اور 50 ہزار میں لوں گا اور خریدنے والا بطور قسط رقم ادا کردے اور اگر بینک کے توسط سے خریدنا ہو تو بینک سے اس طرح معاملہ کیا جائے کہ اولاً بینک وہ گاڑی خریدلے اور اس کو جس قدر سود لینا ہو اس کو اصل قیمت میں شامل کرکے فروخت کردے اورخریدنے والا قسط کی شکل میں یہ رقم ادا کردے۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند آپ کے مسائل ان کے حل میں ہے ۔ ۱:… نقد چیز کم قیمت خرید کر آگے اس کو زیادہ داموں پر قسطوں پر دینا جائز ہے۔ ۲:… جس شخص نے قسطوں پر وہ چیز خرید لی، وہ اس کا مالک ہوگیا، اور قسطوں کی رقم اس کے ذمہ واجب الادا ہوگئی، اس لئے اگر وہ چاہے تو اس چیز کو آگے فروخت کرسکتا ہے، نقد قیمت پر بھی اور اُدھار پر بھی۔ ۳:… قسطوں پر خرید لینے کے بعد اگر خدانخواستہ گاڑی کا نقصان ہوجائے تو یہ نقصان خریدار کا ہوگا، قسطوں کی رقم اس کے ذمہ بدستور واجب الادا رہے گی۔ ۴:… یہ شرط کہ: ”اگر کسی وجہ سے وہ تین ماہ کی قسطیں ادا نہ کرسکا تو ”الف“ گاڑی اپنے قبضے میں لے لے گا، اور اس کی ادا شدہ قسطیں سوختہ ہوجائیں گی“ یہ شرط شرعاً غلط ہے۔ ”الف“ کو یہ تو حق ہے کہ اپنی قسطیں قانونی ذرائع سے وصول کرلے، لیکن وہ گاڑی کو اپنے قبضے میں لینے کا مجاز نہیں اور نہ ادا شدہ قسطوں کو ہضم کرنے کا مجاز ہے۔ ۵:… ”الف“، ”ب“ سے جو رقم پیشگی لے لیتا ہے، وہ جائز ہے، الجواب وباللّٰہ التوفیق: گاڑی فریج وغیرہ کو متعین قسطوں پر لینا جائز ہے، اگرچہ نقد کی قیمت سے زائد روپیہ لیا جائے، بشرطیکہ اس میں کوئی اور شرط فاسد نہ ہو۔ (مستفاد: کفایت المفتی ۸؍۴۰، فقہی مقالات ۱؍۷۲، احسن الفتاویٰ ۶؍۵۱۹، جدید فقہی مسائل ۳۶۸، آپ کے مسائل اور ان کا حل ۶؍۱۴۶) والله اعلم!
جسے مغرب میں ایک رکعت ملی وہ قعدہ کب کرے؟ سوال:۔ ایک مسبوق ہے مغرب میں اس کو ایک رکعت ملی اب وہ قعدہ کب کرے گا؟ایک رکعت پڑھ کر یا دورکعت پڑھ کر ،اگر دورکعت کے بعد بیٹھے تو نماز ہوگی؟ یا نہیں صرف امام ابو حنیفہؒ کا قول قابل ِ قبول ہوگا۔بینوا توجروا بینوا توجروا الجواب:۔حامداً و مصلیاً و مسلماً : چار رکعت اور تین رکعت والی نماز سے ایک رکعت پانے والا مسبوق حضرت امام ابو حنیفہؒ وابو یوسف ؒ کے نزدیک دورکعت پڑھ کر قعدہ کرے گا، اور امام محمد کے نزدیک ایک رکعت پڑھ کر قعدہ کرے گا اسی کے قائل ائمہ ثلثہ ہیں،اور اسی پر اکثرمشائخ نے فتویٰ بھی دیا ہے ، اور اس پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے، البتہ شیخین کے قول پر عمل کرنا جائز ہے یعنی اگر دورکعت پڑھ کر قعدہ کرے تو نماز ہوجائے گی ، اور سجدئہ سہو لازم نہ ہوگا،لیکن ایسے قول پر عمل کرنا کوئی دانشمندی نہیںجس سے عوام تشویش میں مبتلا ہوں۔ في الوجیز: ما أدرکہ المسبوق مع الإمام فہو آخر صلاۃ المسبوق و ما یقصد بعد فراغ الإمام فہو أول صلاتہ عندہما وقال محمدؒ مع الإمام ہو أول صلاتہ فہو آخرہا تشہد فیصلي أخری بالفاتحۃوسورۃ ثم یقعد ویتشہد ثم یقوم فیصلي أخری بالفاتحۃ لا غیر ویتشہد ویسلم وہذا عندہما، وقال محمد یقضي رکعۃ بالفاتحۃوسورۃ ویقعد ویتشہد ثم یقوم فیصلي رکعتین بالفاتحۃ خاصۃ ویتشہد ویسلم۔ و أما وجوب القعدۃ بعد قضاء الأولیین من الرکعتین اللتین سبق بہما،فنقول: القیاس أن یقضي الرکعتین ثم یقعد إلا أنااستحسنا وترکنا القیاس بالأثر وہو ما روي أن جندبا ومسروقا ابتلیا بہذا فصلی جندب رکعتین ثم قعد ، وصلی مسروق رکعۃ ثم قعد ثم صلی رکعۃ أخری، فسألا ابن مسعود عن ذالک ، فقال :کلا کما أصاب ولو کنت أنالصنعت کما صنع مسروق، وإنما حکم بتصویبہما لما أن ذالک من باب الحسن والأحسن۔(بدائع:۱؍۵۶۷)(۱) والتفصیل في منحۃ الخالق حاشیۃ البحر: (۱ ؍ ۳۷۹)(۲) واللّٰہ أعلم بالصواب کتبہٗ: عبداللہ غفرلہٗ الجواب صحیح: محمدحنیف غفرلہٗ
مقتدی کا امام سے پہلے کوئی رکن ادا کرنا یاکسی رکن میں سوتے رہ جانا؟ سوال(۵۰۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر مقتدی نے نماز کا کوئی رکن مثلاً رکوع وغیرہ امام سے پہلے ادا کرلیا اور اس رکن میں امام کے ساتھ شرکت نہیں پائی گئی، یا کسی رکن میں مقتدی سوتا رہ گیا اور وہ رکن چھوٹ گیا، تو ان دونوں صورتوں میں مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہے؟ آیا بعد میں اس رکن کو دہرانے کی وجہ سے نماز درست ہوجائے گی یا یا نہیں؟ باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر کوئی شخص امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا، پھر اس نے کوئی رکن مثلاً رکوع، امام سے پہلے اس طرح ادا کرلیا کہ ایک منٹ بھی امام کے ساتھ شرکت نہیں ہوسکی، اور پھر بعد میں اس رکن کو دہرایا بھی نہیں اور سلام پھیر دیا، تو اس شخص کی نماز فاسد ہوگئی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص نماز پڑھتے ہوئے کسی رکن مثلاً سجدہ میں سوتا رہ جائے، تو بعد میں اس رکن کا دہرانا لازم ہے، اگر دہرائے بغیر سلام پھیر دے گا تو نماز فاسد قرار پائے گی۔ عن أنس رضي اللّٰہ عنہ قال: صلی بنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذات یوم، فلما قضی الصلاۃ أقبل علینا بوجہہ، فقال: یا أیہا الناس! إني إمامکم فلا تسبقوني بالرکوع ولا بالسجود ولا بالقیام ولا بالانصراف…الخ۔ (صحیح مسلم، الصلاۃ / باب تحریم سبق الإمام ۱؍۱۸۰ رقم: ۴۲۶) ومسابقۃ المؤتم برکن لم یشارکہ فیہ إمامہ۔ (درمختار ۲؍۳۹۲ زکریا) کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۲؍۳؍۱۴۱۷ھ الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
امام کا تکبیر اور سلام کو اس قدر کھینچنا کہ مقتدی کی سانس امام سے پہلے ختم ہو جائے؟ سوال(۵۰۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: امام اگر تکبیر کو اتنا لمبا کھینچے کہ مقتدی کی سانس امام سے پہلے ٹوٹ جائے، تو مقتدی کی نماز ہوجائے گی؟ اور سلام پھیرتے وقت بھی سلام کو اتنا ہی لمبا کھینچے کہ مقتدی کی سانس ٹوٹ جائے؟ باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر مقتدی کی تکبیرِ تحریمہ امام سے پہلے ختم ہوگئی تو اس کی نماز شروع نہیں ہوئی، اسے چاہئے کہ ازسر نو تکبیر کہہ کر امام کے ساتھ شریک ہوجائے۔ اسی طرح اگر امام کے لفظ ’’السلام‘‘ سے قبل مقتدی نے قصداً یہ کلمہ ادا کرلیا تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوئی، دوبارہ پڑھنی ہوگی، اس لئے مذکورہ امام صاحب پر لازم ہے کہ وہ تکبیرِ تحریمہ اور سلام میں ہرگز مد نہ کیا کریں؛ تاکہ مقتدیوں کی نمازیں خراب نہ ہوں۔ (تفصیل دیکھیں: فتاویٰ محمودیہ ۱۱؍۷۰-۷۴ میرٹھ، ۶؍۶۱۲ ڈابھیل)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ وسوسہ دور کرنے کے لیے تعوذ پڑھنے یا استغفر اللہ کہنے یا لا حول پڑھنے سے مطلقاً نماز فاسد نہ ہو گی، خواہ وسوسے کا تعلق دینی امور سے ہو یا دنیوی امور سے ہو۔
1۔ في البحر: لو لدغته عقرب أو أصابه وجع فقال بسم الله قيل تفسد لأنه كالأنين و قيل لا تفسد لأنه ليس من كلام الناس و في النصاب و عليه الفتوی و جزم به في الظهيرية و كذا لو قال يا رب كما في الذخيرة. (رد المحتار: 2/ 460) ترجمہ: اگر نمازی کو بچھو نے ڈس لیا یا اس کو کوئی اور تکلیف پہنچی اور اس نے کہا “بسم الله” تو ایک قول یہ ہے کہ نماز فاسد ہو جائی گی، کیونکہ یہ کہنا (چونکہ دنیوی تکلیف کی وجہ سے ہے) لہذا یہ ایسا ہی ہے جیسے ( دنیوی تکلیف کی وجہ سے) بلند آواز سے رونا۔ لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے نماز فاسد نہ ہو گی، کیونکہ یہ کلام الناس کی قبیل سے نہیں، اور “نصاب” میں ہے کہ اسی پر فتویٰ ہے، اور “ظہیریہ” میں اسی پر جزم کیا ہے۔ 2۔ چنانچہ اسی مفتیٰ بہ قول کی بنا پر علامہ شامی رحمہ اللہ نے” در مختار”میں مذکور مندرجہ ذیل جزئیے پر اشکال کیا ہے۔ و لو سقط شيء من السطح فبسمل …. تفسد. (در مع الرد: 2/ 460) ترجمہ: اگر چھت سے کوئی چیز گرنے پر نمازی نے “بسم” کہی ۔۔۔۔ تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ اس پر علامہ شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: قوله: (فبسمل) يشكل عليه ما في البحر: لو لدغته عقرب أو أصابه وجع فقال بسم الله قيل تفسد لأنه كالأنين و قيل لا تفسد لأنه ليس من كلام الناس و في النصاب و عليه الفتوی و جزم به في الظهيرية. (رد المحتار: 2/ 460) ترجمہ: صاحب درمختار کے اس قول پر (کہ چھت سے کوئی چیز گرنے پر نمازی نے بسم اللہ کہی تو نماز فاسد ہو جائے گی) بحر الرائق میں مذکور اس جزئیے سے اشکال ہوتا ہے کہ اگر نمازی کو بچھو نے ڈس لیا یا اس کو کوئی تکلیف اور اس نے “بسم اللہ” کہی تو نماز فاسد نہ ہو گی اور اسی پر فتویٰ ہے۔۔۔ الخ۔ اور “فتاویٰ دار العلوم دیوبند” میں بھی “در مختار” میں جو صورت ذکر کی گئی ہے، اسی جیسی ایک صورت میں عدم فساد کا فتویٰ دیا گیاہے۔ چنانچہ “فتاویٰ دار العلوم دیوبند” میں ہے: “سوال 1386: ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا، ناگاہ بندوق یا گولہ کی آواز اس کے کان میں آئی، بے اختیار اس کے منہ سے “الا اللہ” نکلا، اس صورت میں نماز فاسد ہو جاتی ہے یا نہیں؟ ۔۔ الخ جواب: قال في الدر المختار و لو سقط شيء من السطح فبسمل أو دعی لأحد أو عليه فقال آمين تفسد و لا يفسد الكل عند الثاني و الصحیح قولهما الخ و في رد المحتار : قوله (فبسمل) يشكل عليه ما في البحر: لو لدغته عقرب أو أصابه وجع فقال بسم الله قيل تفسد لأنه كالأنين و قيل لا تفسد لأنه ليس من كلام الناس و في النصاب و عليه الفتوی و جزم به في الظهيرية و كذا لو قال يا رب كما في الذخيرة الخ. پس معلوم ہوا کہ صورت مسئولہ میں راجح عدم فسادِ نماز ہے۔” (4/ 68) 3۔ اور خود علامہ طحطاوی رحمہ اللہ نے بھی بچھو کے ڈسنے والے جزئیے کو ذکر کیا ہے، اور اس پر فتویٰ بھی ذکر کیا ہے، لیکن اس پر اور کسی قسم کا تبصرہ نہیں فرمایا۔ چنانچہ “طحطاوی علی الدر” میں ہے: و لو لدغته عقرب أو أصابه وجع فقال بسم الله لا تفسد و عليه الفتوی كما في النصاب. (1/ 264) ترجمہ: اگر بچھو کے کاٹنے یا کسی تکلیف کے پہنچنے پر نمازی نے “بسم اللہ” کہی تو اس سے نماز فاسد نہ ہو گی، اسی پر فتویٰ ہے، جیسا کہ “نصاب” میں ہے۔ اس ساری تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ وسوسہ دور کرنے کے لیے “لا حول الخ” پڑھنے میں جو تفصیل مذکور ہے وہ راجح اور مفتیٰ بہ قول کی رُو سے درست نہیں۔ 4۔ اور تعوذ والے مسئلے کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مشکوٰۃ شریف باب الوسوسۃ میں بحوالہ مسلم شریف مذکور ہے: عن عثمان بن أبي العاص رضي الله عنه قال قلت يا رسول الله إن الشيطان قد حال بيني و بين صلاتي و بين قراءتي يلبسها عليّ فقال رسول الله صلی الله عليه و سلم ذاك شيطان يقال له خنزب فإذا أحسسته فتعوذ بالله و اتفل علی يسارك ثلاثاً ففعلت ذلك فأذهبها الله عني. (مشكاة باب الوسوسة، الفصل الثالث) ترجمہ: حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا یا رسول اللہ! شیطان نماز میں آ کر مجھے حائل ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ پڑھنے میں بھی شک ڈال دیتا ہے، ایسے موقع پر کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس شیطان کا نام “خنزب” ہے، تم جانو کہ وہ آگیا ہے تو خدا سے پناہ چاہو اور تین مرتبہ بائیں طرف یعنی قلب کی طرف تھتکار دو۔ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ نے فرمایا کہ میں نے ایسا کیا تو الحمد للہ اس عمل کی برکت سے حق تعالیٰ نے اس وسوسہ کو دفع کیا۔ تائید اس طرح ہے کہ اس حدیث میں آپ ﷺ نے وسوسہ دور کرنے کے لیے تعوذ پڑھنے کا حکم دیا، پس اگر وسوسہ دور کرنے کے لیے تعوذ پڑھنے سے مطلقاً نماز فاسد نہ ہو تی بلکہ اس میں کچھ تفصیل ہوتی کہ دینی امور سے متعلق وسوسہ ہو تو تعوذ پڑھنے سے نماز فاسد نہ ہو گی اور دنیوی امور سے متعلق وسوسہ ہو تو نماز فاسد ہو جائے گی تو آپ علیہ السلام اس کو بیان فرماتے، کیونکہ یہ بیان کا موقعہ تھا۔
نماز میں وسوسہ دور کرنے کے لیے “استغفر الله ” کہنا دارالافتاء سے اپنا سوال کریں فتوی نمبر: 7-309تاریخ: 02 جون 2015 عنوانات: عبادات > نماز استفتاء ایک شخص کو نماز کے اندر وسوسہ آیا اور اس نے وسوسہ دور کرنے کے لیے ” استغفر الله” کا لفظ کہا تو اس کہنے سے اس کی نماز فاسد ہو جائے گی یا فاسد نہ ہو گی،یا اس میں کچھ تفصیل ہے کہ وسوسے کا تعلق دینی امر سے ہو تو نماز فاسد نہ ہو گی، اور اگر دنیوی امر سے ہو تو نماز فاسد ہو جائے گی؟ بینوا توجروا الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً اس بارے میں عربی اردو فتاویٰ جات میں صراحتاً تو کچھ نہیں ملا۔ البتہ مندرجہ ذیل جزئیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں نماز فاسد نہ ہو گی، اور یہ حکم (یعنی نماز کا فاسد نہ ہونا) مطلقاً ہے (یعنی خواہ یہ وسوسہ دینی امور سے متعلق ہو یا دنیوی امور سے متعلق ہو، ہر حال میں نماز فاسد نہ ہو گی)۔ چنانچہ طحطاوی علی الدر میں بحرالرائق کے حوالے سے ہے: و لو تعوذ لدفع الوسوسة لا تفسد مطلقاً. ( 1/ 264 ) ترجمہ: وسوسہ دور کرنے کے لیے اگر کسی نے “اعوذ بالله” کہا تو اس سے کسی بھی حال میں نماز فاسد نہ ہو گی۔ ظاہر ہے کہ جو حکم “اعوذ بالله” کہنے کا ہے وہی حکم ” استغفر الله” کہنے کا ہو گا، کیونکہ ان دونوں میں بظاہر کوئی فرق نہیں۔ لیکن “در مختار” میں ہے: و ل و حوقل لدفع الوسوسة إن لأمور الدنيا تفسد، لا لأمور الآخرة. (در مع الرد: 2/ 260) ترجمہ: وسوسہ دور کرنے کے لیے اگر کسی نے “لا حول و لا قوة إلا بالله” پڑھا، تو دیکھا جائے گا کہ اگر وسوسہ دنیوی امور سے متعلق تھا تو نماز فاسد ہو جائے گی ، اور اگر دینی امور سے متعلق تھا تو نماز فاسد نہ ہو گی۔ اس جزئیے کا تقاضا یہ ہے کہ وسوسے کو دور کرنے کے لیے “اعوذ بالله” کہنے میں بھی یہی تفصیل ہونی چاہیے۔ چنانچہ علامہ طحطاوی رحمہ اللہ اسی جزئیے کی بنا پر در مختار کے حاشیے میں صاحب بحر کے مندرجہ بالا قول ( یعنی“اعوذ بالله” کہنے سے مطلقاً نماز فاسد نہ ہو گی) پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: و في قوله و لو تعوذ لدفع الوسوسة لا تفسد مطلقاً نظر إذ لا فرق بينها و بين الحوقلة. فليتأمل (طحطاوی علی الدر:1/ 264) یعنی صاحب بحر کے اس قول میں نظر ہے کہ وسوسہ دور کرنے کے لیے تعوذ پڑھنے سے نماز مطلقاً فاسد نہ ہو گی، کیونکہ تعوذ اور “لا حول الخ” پڑھنے میں کوئی فرق نہیں۔ لہذا غور کر لیا جائے۔ لیکن ہمارے خیال میں علامہ طحطاوی رحمہ اللہ کا یہ تبصرہ درست نہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ علامہ طحطاوی رحمہ اللہ کو خود اپنی بات پر جزم نہیں، شاید اسی لیے آخر میں “فليتأمل” کہہ کر دوسروں کو بھی دعوت تأمل دے دی۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وسوسہ دور کرنے کے لیے “لا حول الخ” پڑھنے میں جو تفصیل ذکر کی گئی ہے وہ خود محل نظر ہے۔ کیونکہ اس تفصیل کی وجہ بقول علامہ حلبی کبیر کے یہ ہے کہ وسوسہ دور کرنے کے لیے “لا حول الخ” پڑھنا ایسے ہی ہے،جیسے بلند آواز سے نماز میں رونا، کہ یہ رونا امر آخرت کی وجہ سے ہو تو اس رونے سے نماز فاسد نہیں ہوتی اور اگر یہ رونا کسی دنیوی امر کی وجہ سے ہو تو اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ چنانچہ علامہ حلبی کبیر “منیۃ المصلی” کی شرح میں لکھتے ہیں: المصلي إذا وسوسه الشيطان فقال “لا حول و لا قوة إلا بالله” إن كان ذلك الذي وسوسه في أمر من أمور الآخرة لا تفسد صلاته و إن كان في أمر من أمور الدنيا تفسد كذا ذكره في الذخيرة لأن الوسوسة ألم فكأنه حوقل بسبب أخروي في الأول و بسبب دنيوي في الثاني فصار كما لو ارتفع بكاؤه إذ العبرة عند التلفظ بما قصد باللفظ. (٤۵۰) خلاصہ یہ ہے کہ وسوسہ اگر دینی امر سے متعلق ہو تو اسے دور کرنے کے لیے “لا حول الخ” پڑھنے سے نماز فاسد نہ ہو گی، اور اگر دنیوی امر سے متعلق ہو تو اسے دور کرنے کے لیے “لا حول الخ” پڑھنے سے نماز فاسد ہو جائے گی۔ وجہ یہ ہے کہ وسوسہ ایک درد اور تکلیف ہے، لہذا پہلی صورت میں “لا حول الخ” پڑھنا سبب اخروی کی وجہ سے تھا اور دوسری صورت میں “لا حول الخ” پڑھنا دنیوی تکلیف کی وجہ سے تھا، تو یہ ایسے ہی ہے جیسے بلند آواز سے رونا (کہ یہ رونا کسی اخروی سبب سے ہو تو نماز فاسد نہیں ہوتی، اور اگر کسی دنیوی سبب سے ہو تو نماز فاسد ہو جاتی ہے)۔ جبکہ مندرجہ ذیل جزئیات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیوی تکلیف کی وجہ سے بھی زبان سے کوئی ایسا کلمہ کہنا جو کلام الناس کی قبیل سے نہ ہو تو اس سے راجح اور مفتیٰ بہ قول کے مطابق نماز فاسد نہیں ہو تی، اور جو حضرات اس طرح کے کلمے کو بلند آواز سے رونے کی مانند کہہ کر نماز کے فاسد ہونے کا کہتے ہیں، ان حضرات کا یہ قول مرجوح اور غیر مفتیٰ بہ قول ہے۔ چنانچہ فتاویٰ شامی میں بحر الرائق کے حوالے سے ہے:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ مجھے آپ سے ایک مشورہ چاہیے ۔ میرے دو بچے ہیں، ایک کی عمر 10 سال اور دوسرے کی 9 سال ہے۔ دونوں انگلش میڈیم اسکول میں زیرِ تعلیم ہیں اور اس وقت تیسری کلاس میں پہنچ چکے ہیں۔ ساتھ ہی ان کا قرآنِ مجید ناظرہ بھی جاری ہے، لیکن ابھی تک وہ پختگی حاصل نہیں ہو سکی۔ میرا سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں کیا بہتر ہوگا: کیا ان کی اسکولی تعلیم جاری رکھی جائے اور ساتھ ساتھ قرآن کی تعلیم پر توجہ دی جائے، یا پھر کچھ عرصے کے لیے اسکول سے نکال کر پہلے ان کا حفظِ قرآن مکمل کروایا جائے؟ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب آپ کا سوال نہایت اہم اور آج کے دور کے بہت سے والدین کی ترجمانی کرتا ہے۔ بچوں کی دینی و دنیاوی تعلیم کے درمیان توازن قائم کرنا واقعی حکمت اور بصیرت کا تقاضا کرتا ہے۔ سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اسلام میں دینی تعلیم کی اصل اہمیت ہے، کیونکہ یہی انسان کی آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔ قرآنِ مجید کی تعلیم، خصوصاً حفظِ قرآن، ایک عظیم سعادت ہے۔ احادیث میں حافظِ قرآن کے بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں، اور والدین کے لیے بھی یہ باعثِ اجر و نجات ہے۔ آپ کے سوال کا جواب دراصل آپ کے “مقصد” پر موقوف ہے: اگر آپ کا حقیقی ارادہ یہ ہے کہ بچوں کو حافظِ قرآن بلکہ آگے چل کر عالمِ دین بنانا ہے، تو پھر بہتر اور افضل یہی ہے کہ اس عمر میں دینی تعلیم کو ترجیح دی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچپن کا زمانہ حفظ اور یادداشت کے لیے سب سے موزوں ہوتا ہے۔ اگر اس وقت یہ موقع نکل گیا تو بعد میں عموماً وہ قوت اور یکسوئی باقی نہیں رہتی۔ اس لیے ایسی صورت میں اسکول سے کچھ عرصہ وقفہ لے کر یا کم از کم اس کی شدت کم کر کے حفظِ قرآن پر مکمل توجہ دینا زیادہ مفید ہوگا۔ ساتھ ہی بنیادی عصری تعلیم (جیسے حساب، زبان وغیرہ) کو بالکل نہ چھوڑا جائے، بلکہ ہلکے انداز میں جاری رکھا جائے تاکہ بعد میں دوبارہ باقاعدہ تعلیم کی طرف آنا آسان ہو۔ آج کے دور میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کسی نے چند سال دینی تعلیم میں لگا دیے، تو بعد میں مختصر کورسز اور محنت کے ذریعے عصری تعلیم کو کافی حد تک حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس، اگر ابتدا میں پوری توجہ دنیاوی تعلیم پر رہی اور دینی تعلیم کو نظرانداز کیا گیا، تو بعد میں دین کی طرف مکمل طور پر آنا عموماً مشکل ہو جاتا ہے۔ البتہ اگر آپ کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ بچے ڈاکٹر، انجینئر یا کسی دنیاوی شعبے میں آگے بڑھیں، تو پھر اسکولی تعلیم کو ترجیح دی جائے، لیکن اس کے ساتھ دین سے غفلت ہرگز نہ ہونے دی جائے۔ اس صورت میں ضروری ہے کہ: قرآنِ مجید ناظرہ صحیح مخارج کے ساتھ مکمل کروایا جائے بنیادی دینی تعلیم (نماز، عقائد، آداب، سنتیں) مضبوط کی جائیں دینی ماحول اور اچھی صحبت فراہم کی جائے یہ بھی یاد رکھیں کہ محض اسکول یا مدرسہ ہی سب کچھ نہیں کرتے، بلکہ گھر کا ماحول سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر گھر میں دین کی محبت، نماز کی پابندی اور قرآن سے تعلق ہوگا، تو بچے دونوں میدانوں میں بہتر رہیں گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ: اگر مقصد حافظ/عالم بنانا ہے → دینی تعلیم کو ترجیح دیں، عصری تعلیم ساتھ ہلکی جاری رکھیں اگر مقصد دنیاوی پروفیشن ہے → اسکول کو ترجیح دیں، مگر دین کی بنیاد مضبوط رکھیں اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے بچوں کو دین و دنیا دونوں میں کامیاب فرمائے۔ آمین
عید مبارک 🌙✨ یہ مبارک دن آپ کی زندگی میں خوشیوں کے چراغ روشن کرے، آپ کے دل کو سکون، گھر کو برکت اور زندگی کو کامیابیوں سے بھر دے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر جائز دعا کو قبول فرمائے، آپ کو صحتِ کاملہ، رزقِ حلال میں وسعت اور ہمیشہ اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ عید کی یہ خوشیاں آپ کے لیے دائمی مسرت کا ذریعہ بنیں، اور آنے والے دن آپ کے لیے مزید آسانیاں اور کامیابیاں لے کر آئیں۔ اللہ ہماری عبادات کو قبول فرمائے اور ہمیں ہمیشہ اپنی رحمتوں میں جگہ دے۔ 🤲 آپ کو اور آپ کے تمام اہلِ خانہ کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک! 🤲🌸 آمین یا رب العالمین محمد مصروف مظاہری