tgindex
!مرغوب المسائل چینل!

!مرغوب المسائل چینل!

Статистика

https://telegram.me/margubulmasail تحقیقی مسائل اور فقہ حنفی کا مدلل مجموعہ جس میں آپ حضرات کو الحمدللہ فقہاء کی عبارت سے مزین مسائل روزانہ بطور استفادہ حاصل ہونگے۔۔ @MargubulmasailBot منتظم:محمدمرغوب الرّحمٰن القاسمِی غُفرلہ

Последний пост
14 июл.
Последнее чтение
14 авг.
Постов за неделю
0
Всего постов
20
Тип
открытый
Язык
ur
В каталоге с
13 авг.
Подписчики
1 372
+4 за 4 дн.
Сутки
+1
+0,07%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
284
20 постов
Вовлечённость
20,7%
к подписчикам
Постов в день
0,0
всего 20
Упоминаний
0
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
1/48двое суток
1/72трое суток

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • {۴۴۹} سنت مؤکدہ اور نفل نماز کی تیسری رکعت میں ثنا پڑھنا سوال: نفل نماز اور سنت غیر مؤکدہ اور تہجد کی چار رکعت ایک سلام سے پڑھتے وقت پہلا قعدہ کر کے تیسری رکعت شروع کرتے وقت ثنا پڑھنی چاہئے یا نہیں ؟ آپ کے جولائی کے رسالہ میں آپ نے تیسری رکعت میں ثنا بھی پڑھنی چاہئے اور یہی طریقہ سنت ہے ایسا لکھا ہے، ہم نے اس طرح پڑھنے کے بارے میں پہلی مرتبہ ہی سنا اور پڑھا ہے اس لئے اس مسئلہ کو تفصیل سے واضح فرمائیں ۔ الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… نوافل، سنت غیر مؤکدہ، تہجد، اوابین، چاشت اور اشراق وغیرہ کی جو نمازیں ہیں وہ سب حکم کے اعتبار سے نوافل میں ہی شمار ہوتی ہیں ، اوربعض احکام کے اعتبار سے نوافل کی دو رکعت ایک مکمل نماز ہے، اس لئے التحیات پڑھنے کے بعد درود شریف اور دعا پڑھنا بھی سنت ہے۔ اور تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے وقت چونکہ یہ نئی نماز ہے اس لئے اول ثنا پڑھنا سنت کہلائے گا۔ (دیکھیں ہدایہ: ۱۲۸، شامی: ۱؍۴۵۴) فقط و اللہ تعالی اعلم فتاوی دینیہ ________ محمد مرغوب الرحمٰن القاسمی

  • چار رکعت والی سنن غیر مؤکدہ کی تیسری رکعت میں ثناء پڑھی جائے گی؟ السلام علیکم! کیا چاررکعت والی سنتِ غیرمؤکدہ کی تیسری رکعت میں ثناء پڑھیں گے؟ اس کی تفصیل بتادیں۔ الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً جی ہاں! چار رکعت والی سنن غیرمؤکدہ میں چونکہ ہر دورکعت مستقل نماز ہے، اس لیے سنتِ غیرمؤکدہ کی تیسری رکعت کی ابتداء میں ثناء و تعوذ پڑھنا چاہیے۔ مأخَذُ الفَتوی كما في الهندية: وفي الأربع قبل الظهر والجمعة وبعدھا لا يصلى على النبي في القعدة الأولى ولا يستفتح اذا قام إلى الثالثة منها وفي البواقي من ذوات الأربع يصلى على النبي ويستفتح و يتعوذ لان كل شفع صلاة ( 1 /152)۔ وفي بدائع الصنائع: إن المتنفل إذا قام إلى الثالث لقصد الأداء ينبغي أن يستفتح فيقول: سبحانك اللهم وبحمدك إلخ كما يستفتح في الابتداء؛ لأن هذا بناء الافتتاح، وفي كل ركعتين من النفل صلاة على حدة لكن بناء على التحريمة الأولى فيأتي بالثناء المسنون فيه.اھ( 1 / 292)۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه ______ نوافل میں تیسری رکعت پر کھڑے ہونے پر ثناء پڑھنے کا حکم سوال کیا چار رکعت سنت غیر مؤکدہ کی تیسرے رکعت کے شروع میں ثناء پڑھنا درست ہے؟ جواب بصورتِ مسئولہ سنتِ غیرمؤکدہ/ نوافل کی تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے پر ثناء پڑھنا ضروری نہیں ہے، بلکہ افضل ہے،کیوں کہ نوافل کی ہردورکعت علیحدہ نماز ہے، اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونا نئی تکبیرِ تحریمہ کے مرتبہ میں ہے۔ فتاوی شامی (الدر المختار ورد المحتار) میں ہے: "(في السنن الرواتب لا يصلي ولا يستفتح) تقدم في باب الوتر (قوله في السنن الرواتب) وهي ثلاثة رباعية الظهر، ورباعية الجمعة القبلية والبعدية، وهذا هو الأصح لأنها تشبه الفرائض. واحترز به عن الرباعيات المستحبات والنوافل فإنه يصلي على النبي - صلى الله عليه وسلم - في القعدة الأولى ثم يقرأ دعاء الاستفتاح أفاده ط" (کتاب الخنثی، مسائل شتی، ج:6، ص:732، ط:ایج ایم سعید) فقط واللہ اعلم فتویٰ نمبر : 144210200437 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن محمد مرغوب الرحمٰن القاسمی

  • کی اجازت دی جارہی ہے کہ اب شکار کرسکتے ہو، غیرمقلدین اگر اباحت وغیرہ کا وجود نہیں مانتے ہیں اور ان کو اس بات پر اصرار ہے کہ شارع سے ثابت ہونے والی تمام چیزیں فرض اور ضروری ہیں تو یہاں بھی حالت احرام سے نکلنے کے بعد وجوبی طور پر شکار کی تلاش میں نکلیں، نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی کام کیے ہیں سب کو امت پر فرض اور ضروری قرار نہیں دیا جاسکتا، نمونہ کے طور پر ایک حدیث پیش کی جارہی ہے جس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ غیرمقلدین کی باتوں کی کیا حیثیت ہے، حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ نجد سے ایک صاحب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تشریف لائے اور انھوں نے اسلام کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خمس صلوات في الیوم واللیلة “ کہ رات ودن میں پانچ وقتوں کی نمازیں آپ کے ذمہ ہیں، سائل نے عرض کیا ”ہل علي غیرہن’‘ کہ کیا ان پنچ نمازوں کے علاوہ اور بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لاَ إلاَّ أن تطَوّعَ“ کہ نہیں البتہ اپنے اختیار سے نفل پڑھ سکتے ہو، اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وصیامُ شہر رمضان“ کہ آپ پر رمضان کے روزے بھی فرض ہیں، سائل نے عرض کیا ”ہل عليَّ غیرہ؟“ کیا رمضان کے روزے کے علاوہ اور بھی کوئی روزہ مجھ پر فرض ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”لاَ إِلاَّ أَن تَطَوّعَ“ کہ نہیں البتہ نفل رکھ سکتے ہو الخ۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عن أبي سہیل، عن أبیہ، أنہ سمع طلحة بن عبید اللہ، یقول: جاء رجل إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من أہل نجد ثائر الرأس، نسمع دوي صوتہ، ولا نفقہ ما یقول حتی دنا من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فإذا ہو یسأل عن الإسلام، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”خمس صلوات في الیوم، واللیلة“ فقال: ہل علي غیرہن؟ قال: ”لا، إلا أن تطوع، وصیام شہر رمضان“ ، فقال: ہل علي غیرہ؟ فقال: ”لا، إلا أن تطوع“ ، وذکر لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الزکاة، فقال: ہل علي غیرہا؟ قال: ”لا، إلا أن تطوع“ ، قال: فأدبر الرجل، وہو یقول: واللہ، لا أزید علی ہذا، ولا أنقص منہ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”أفلح إن صدق“ (مسلم شریف: ۱/۳۰،ط: رحیمیہ دیوبند) اسی طرح رمضان المبارک کے سلسلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے تم پر فرض کیے اور میں نے قیام رمضان (تراویح) کو تمھارے لیے سنت قرار دیا، حدیث شریف کے الفاظ ملاحظہ ہوں عن عبد الرحمن بن عوف قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ تبارک وتعالیٰ فرض صیام رمضان علیکم، وسنت لکم قیامَہ فمن صامہ وقامہ إیمانًا واحتسابًا خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ أمہ، أخرجہ النسائی بسند حسن وسکت عنہ․ (إعلاء السنن ۷/ ۶۶، ۶۷،ط: مکتبہ اشرفیہ دیوبند) غیر مقلدین سے پوچھئے کہ ان احادیث سے سنن ونوافل کا ثبوت ہورہا ہے یا نہیں؟ ایک اورحدیث ملاحظہ فرمائیے: ”عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ النَّاسُ، فَنَہَاہُمْ قِیلَ لَہُ: أَنْتَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ: ”إِنِّي لَسْتُ مِثْلَکُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَی“․ (مسلم شریف (۱/۳۵۱،ط: رحیمیہ دیوبند) حدیث کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صوم وصال رکھتے ہوئے دیکھ کر وہ بھی صوم وصال رکھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع فرمادیا صحابہ نے اعتراض کیا کہ آپ تو رکھتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کون میرے مانند ہے؟ میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلایا پلایا جاتا ہوں، مطلب یہ کہ میں جو بھی کروں وہ سب کے سب تم پر ضروری نہیں، غیرمقلدین کو اگر اس بات پر اصرار ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت تمام امور امت پر فرض اور ضروری ہیں تو وہ صوم وصال کی پابندی کریں کیونکہ وہ بھی حضور صلی اللہ علیہوسلم سے ثابت ہے، الغرض اس طرح کے بے شمار دلائل قرآن واحادیث میں موجود ہیں جن کی بنا پر فقہائے کرام نے بلکہ تمام علمائے اہل سنت والجماعت نے احکام میں درجہ بندی کی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند محمد مرغوب الرحمن القاسمی

  • سوال نمبر: 56602 عنوان:فرائض و سنت و نوافل وغیرہ کی تقسیم سوال:عرض گزار ہوں کہ غیر مقلدین حضرات اکثر کہتے رہتے ہیں کہ یہ فرائض و سنت و نوافل وغیرہ کی جو تقسیم کی گئی ہے اسلامی ارکان کے اندر خصوصا نماز میں یہ غیر شرعی اور فضول ہے اور ایجاد اور بدعت ہے جبکہ اصل شریعت میں اس بارے کوئی ثبوت نہیں۔ اس بارے وہ بہت سے اقوال بشمول امام مالک کا قول بھی پیش کرتے ہیں۔ نیز اگر ہم انہیں کہیں کہ آپ ایسی تقسیم کو نہیں مانتے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں مانتے ہمارے نزدیک جو محبوب رب جناب نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے وہ ضروری ہے اور اس بارے یہ تقسیم ہم نہیں کرتے ۔ اس بارے آپ سے التماس ہے کہ تفصیلی جواب مدلل عطا فرمائیے اور اگر الزامی جوابات بھی جواب میں شامل ہوں تحقیقی جوابات کے ساتھ ساتھ تو نہایت فائدہ مند ہو گا۔ جواب نمبر: 56602 بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 229-226/B=3/1436-U احکامِ شرعیہ کا مدار دلائل پر ہوتا ہے، شریعت کا کوئی بھی حکم ایسا نہیں ہے کہ اس کی بنیاد دلیل شرعی پر نہ ہو، بلکہ شریعت کا جو بھی حکم آپ دیکھیں گے اس کا مدار کسی نہ کسی دلیل پر ہوگا، اور یہ بات واضح ہے کہ دلائل سب کے سب برابر درجہ کے نہیں ہیں، بلکہ ثبوت ودلالت کے اعتبار سے دلائل باہم متفاوت ہیں، چنانچہ اس اعتبار سے دلائل کے چار درجے ہیں: (۱) وہ دلائل جو ثبوت ودلالت دونوں اعتبار سے قطعی ویقینی ہوں جیسے قرآن کریم کی وہ آیات جو محکم اور واضح الدلالة ہیں، اسی طرح وہ آیات جن کی تفسیر خود قرآن کریم میں مذکور ہے، یا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تفسیر کردی ہے، اسی طرح اس قسم میں وہ احادیث بھی شامل ہیں جو تواتر کے ساتھ منقول ہیں اور ان کے مفاہیم بھی قطعی ہیں۔ (۲) وہ دلائل جو ثبوتاً قطعی ہوں البتہ دلالت علی المفہوم کے اعتبار سے قطعی نہ ہوں بلکہ ظنی ہوں جیسے وہ آیت جو موٴول ہیں، یہ آیات ثبوتا تو قطعی ہیں لیکن مفہوم پر دلالت کرنے میں قطعی نہیں ہیں۔ ۔ (۳) وہ دلائل جو ثبوتاً ظنی ہوں البتہ دلالت علی المفہوم کے اعتبار سے قطعی ویقینی ہوں، یعنی ان دلائل کے ثبوت میں ایک گونہ شبہ ہونے کی بنا پر یہ دلائل ثبوتاً قطعی نہ ہوں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے قطعی ویقینی ہوں جیسے وہ اخبارِ آحاد جن کے مفاہیم قطعی ہیں (اخبار آحاد کے ثبوت میں ایک گونہ شبہ ہوتا ہے اس لیے وہ ثبوتاً قطعی نہیں رہتے بلکہ ظنی ہوجاتے ہیں، البتہ دلالت علی المفہوم کے اعتبار سے قطعی بھی ہوتے ہیں اور ظنی بھی) (۴) وہ دلائل جو ثبوت ودلالت دونوں اعتبار سے ظنی ہوں جیسے اخبارِ آحاد جو اپنے مفہوم پر دلالت کرنے میں بھی ظنی ہیں، الحاصل ثبوت ودلالت علی المفہوم کے اعتبار سے دلائل کے یہ چار درجے ہیں، جن میں سے بعض کو دوسرے بعض پر قوت کے اعتبار سے ترجیح حاصل ہے، اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ چاروں قسم کے دلائل سے ایک ہی طرح کے احکام ثابت نہیں ہوں گے، بلکہ جس طرح دلائل میں تفاوت ہے اسی طرح احکام میں بھی تفاوت ہوگا، لہٰذا دلیل میں جتنی قوت ہوگی اس سے ثابت ہونے والا حکم بھی اتنا ہی قوی ہوگا۔ اس بنا پر دلائل کی مذکورہ چاروں قسموں میں سے پہلی قسم چونکہ قوت میں سب سے بڑھ کر ہے اس لیے اس سے ثابت ہونے والا حکم بھی سب سے قوی ہوگا اوروہ جانب امر میں فرض اورجانب نہی میں حرام ہے، دلائل کی دوسری اور تیسری قسم چونکہ قوت میں پہلی قسم سے کم درجہ کی ہیں، اس لیے ان سے ثابت ہونے والا حکم بھی پہلے حکم سے کم درجہ کا ہوگااور وہ جانب امر میں وجوب اور جانب نہی میں مکروہ تحریمی ہے، رہی دلائل کی چوتھی قسم تو چونکہ وہ قوت میں تمام قسموں سے کمتر ہے اس سے ثابت ہونے والا حکم بھی سب سے کم درجہ کا ہوگا، اور وہ ہے جانب امر میں سنت واستحباب اور جانب نہی میں مکروہ تنزیہی، تو جب دلائل ہی میں مختلف درجات ہیں اور انہی دلائل پر احکام کا مدار بھی ہے تو لازمی طور پر احکام میں بھی مختلف درجات ہوں گے، اور انہی کو فرائض، واجبات، سنن، ونوافل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قال في الشامي: ”إن الأدلة السمعیة أربعة: الأول قطعي الثبوت والدلالة کنصوص القرآن المفسرة أو المحکمة والسنة المتواترة التي مفھومھا قطعي․ الثاني: قطعي الثبوت ظني الدلالة کالآیات المؤولة․ الثالث: عکسہ کأخبار الآحاد التي مفھومھا قطعي․ الرابع: ظنیھما کأخبار الآحاد التي مفھومھا ظنی، فبالأول یثبت الافتراض والتحریم، وبالثاني والثالث الإیجاب وکراھة التحریم؛ وبالرابع تثبت السنیة والاستحباب“․ (الشامي: ۹/ ۴۰۹،ط: دار الکتاب) علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر کووجوب یا فرضیت پر محمول نہیں کیا جاسکتا بلکہ حسب قرائن وجوب ندب اباحت وغیرہ پر محمول کیا جائے گا مثال کے طور پر قرآن مجید میں ہے وإذا حلَلتُم فاصطادوا کہ جب تماحرام سے حلال ہوجاؤ تو شکار کرو، فقہاء ومفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں امر وجوب کے لیے نہیں ہے بلکہ اباحت کے لیے ہے، تو جس شکار سے حالت احرام میں منع کیا گیا تھا اس

  • عمدا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا بها بسبب أنه فعلها النبي صلى الله عليه وسلم زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق (قوله: فهو ككفر العناد) أي ككفر من صدق بقلبه وامتنع عن الإقرار بالشهادتين عنادا ومخالفة فإنه أمارة عدم التصديق." (کتاب الجہاد، باب المرتد، ج:4، ص:222، ط:سعید) فتاوی ہندیہ میں ہے: "رجل كفر بلسانه طائعاً، وقلبه مطمئن بالإيمان يكون كافراً، ولايكون عند الله مؤمناً، كذا في فتاوى قاضي خان." (كتاب السير، الباب العاشر في البغاة، ج:2، ص:283، ط:رشيديه) وفیہ ایضاً: "وكما ينعقد بالعبارة ينعقد بالإشارة من الأخرس إن كانت إشارته معلومة كذا في البدائع." (کتاب النکاح، الباب الثانی فیما ینعقد بہ النکاح ومالاینعقد بہ، ج:1، ص:270، ط:رشیدیہ) فتاوی شامی میں ہے: "وفي الفتح ينعقد النكاح من الأخرس إذا كانت له إشارة معلومة. " (کتاب النکاح، ج:3، ص:21، ط:سعید) وفیہ ایضاً: "قلت بل هذا القول تصريح بما هو المفهوم من ظاهر الرواية ففي كافي الحاكم الشهيد ما نصه فإن كان الأخرس لا يكتب وكان له إشارة تعرف في طلاقه ونكاحه وشرائه وبيعه فهو جائز وإن كان لم يعرف ذلك منه أو شك فيه فهو باطل اھ فقد رتب جواز الإشارة على عجزه عن الكتابة فيفيد أنه إن كان يحسن الكتابة لا تجوز إشارته. " (کتاب الطلاق، مطلب فی تعریف السکران وحکمہ، ج:3، ص:241، ط:سعید) فقط واللہ اعلم فتویٰ نمبر : 144310101199 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن محمد مرغوب الرحمٰن القاسمی

  • کفریہ الفاظ کہنے کے بعد تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا طریقہ اور گسکوں۔ اور بہرے کا نکاح سوال 1)ایک شادی  شدہ شخص(میرے دوست) نے کفریہ الفاظ کہے تو اس کا تجدید نکاح اور تجدید ایمان کا طریقہ تحریر کردیں ، آیا جس طرح مسجد میں  گواہوں کے سامنےنکاح کا ایجاب و قبول ہوتا ہے  ایسے ہی تجدید نکاح ہوگا؟ اور کیا مہر جدید دینا ہوگا؟  2)ایک شخص گونگا اور بہرہ ہے اس کے  نکاح کا ایجاب و قبول کس طرح کرایا جائے گا؟ وضاحت : (1) میرے دوست نے اپنے دوست سے کہا تھا کہ بھائی داڑھی کاٹنا گناہ ہے، تو اس نے جواب میں کہا کہ کوئی گناہ نہیں ہے، بلکہ ثواب اور جائز ہے ، اور تمہاری داڑھی تو بکری جیسی لگ رہی ہے (یہ جملہ اس نے استہزاءًکہا تھا)۔ (2)میرا لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے تو اکثر ان سے ایسے کلمات  بولے جاتے ہیں تو مجھے تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا طریقہ بتادیں؛ تاکہ پھر  میں ان کا تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرا سکوں۔ جواب 1) سائل کے دوست کا داڑھی کاٹنے کو گناہ نہ سمجھنا بلکہ جائز اور ثواب کا کام کہنا اور استہزاءً یہ کہنا کہ تمہاری داڑھی تو بکری جیسی لگ رہی ہے ، کہنے سے  وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا ہے، پس  تجدید ایمان (دوبارہ ایمان) لانے کے بعد اگر میاں بیوی اپنی  رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں، تو اس کیلئے دوبارہ سے نئے مہر کیساتھ نکاح کیا جائے گا۔ تجدید ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ اولاً توبہ کرے پھر  کلمۂ شہادت زبان سے ادا کیا جائے اور دل سے اس کی تصدیق کی جائے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی کتابوں، فرشتوں، رسولوں، آخرت کے دن، اچھی بری تقدیر اور روزِ قیامت جیسے بنیادی عقائد پر ایمان کا اعتراف کرلے۔ نیز اگر کسی چیز سے انکار کی بنا پر ایمان سے خارج ہوگیا تھا تو اس کا اقرار کر لے (مثلاً توحید کا انکار کرنے کی وجہ سے ایمان سے خارج ہوگیا تھا تو توحید کا اقرار کرے)، اور کسی ایسی چیز کو اختیار کرلیا تھا جو ایمان کے خلاف تھی تو اس سے بے زاری اور براءت کرے، مثلاً عیسائی مذہب اختیار کر لیا تھا جس وجہ سے ایمان سے خارج ہوگیا تھا تو عیسائی مذہب سے بے زاری  اور براءت کرے۔ تجدیدِ نکاح کا طریقہ یہ ہے کہ خطبہ نکاح پڑھنے کے بعد دو مسلمان عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ ایجاب و قبول کرلیا جائے۔ البتہ  نکاح کے وقت خطبہ پڑھنا  سنت اور مسجد میں  نکاح کرنامستحب ہے، لہذا اگر خطبہ کے بغیریامسجد کے علاوہ کسی اور جگہ بھی  دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے صرف ایجاب و قبول کر لیا جائے، تب بھی نکاح ہو جائے گا۔ اور تجدیدِ نکاح اعلانیہ کرنا ضروری نہیں ہے، البتہ اگر کفریہ کلمہ اعلانیہ کہا ہو تو تجدیدِ ایمان و نکاح ان لوگوں کے سامنے کرلینا چاہیے جن کے سامنے کفریہ کلمہ کہا ہو۔ واضح رہے کہ مہر کی کم از کم مقدار دس درھم ہے، چاندی کے حساب سے اس کی مقدار تیس گرام چھ سو اٹھارہ ملی گرام (30.618) اور تولہ کے حساب سے 31.5 ماشہ چاندی بنتی ہے۔ 2)گونگا اور بہرہ اگر لکھنا پڑھنا جانتا ہے، تو اس کے سامنے ایک کاغذ پر ایجاب لکھ دیا جائے اور وہ جواب میں "مجھے قبول ہے" لکھ دے، تواس کا نکاح منعقد ہوجائے گا اور اگر لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتا، تو پھر اشارہ سے "مجھے قبول ہے" بتادے، نکاح منعقد ہوجائے گا۔ فتاوی شامی میں ہے: "ثم اعلم أنه يؤخذ من مسألة العيسوي أن من كان كفره بإنكار أمر ضروري كحرمة الخمر مثلًا أنه لا بد من تبرئه مما كان يعتقده لأنه كان يقر بالشهادتين معه فلا بد من تبرئه منه كما صرح به الشافعية وهو ظاهر." (کتاب الجہاد ، باب المرتد، ج:4، ص:228، ط:سعید) وفیہ ایضاً: "وفي الفتح: من هزل بلفظ كفر ارتد وإن لم يعتقده للاستخفاف فهو ككفر العناد. (قوله: من هزل بلفظ كفر) أي تكلم به باختياره غير قاصد معناه، وهذا لاينافي ما مر من أن الإيمان هو التصديق فقط أو مع الإقرار لأن التصديق، وإن كان موجوداً حقيقةً لكنه زائل حكماً؛ لأن الشارع جعل بعض المعاصي أمارة على عدم وجوده كالهزل المذكور، وكما لو سجد لصنم أو وضع مصحفاً في قاذورة فإنه يكفر، وإن كان مصدقاً لأن ذلك في حكم التكذيب، كما أفاده في شرح العقائد، وأشار إلى ذلك بقوله: للاستخفاف، فإن فعل ذلك استخفافاً واستهانةً بالدين فهو أمارة عدم التصديق، ولذا قال في المسايرة: وبالجملة فقد ضم إلى التصديق بالقلب، أو بالقلب واللسان في تحقيق الإيمان أمور الإخلال بها إخلال بالإيمان اتفاقا، كترك السجود لصنم، وقتل نبي والاستخفاف به، وبالمصحف والكعبة. وكذا مخالفة أو إنكار ما أجمع عليه بعد العلم به لأن ذلك دليل على أن التصديق مفقود، ثم حقق أن عدم الإخلال بهذه الأمور أحد أجزاء مفهوم الإيمان فهو حينئذ التصديق والإقرار وعدم الإخلال بما ذكر بدليل أن بعض هذه الأمور، تكون مع تحقق التصديق والإقرار، ثم قال ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء

  • کفریہ گانوں کے گنگنانے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ آج کل انڈین اور بعض پاکستانی گانوں میں کفریہ کلمات کی آمیزش کثرت سے پائی جارہی ہے مثلاً (نقل کفر کفر نباشد) ’’حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانیں‘‘ اور ’’قدرت نے بنایا ہوگا فرصت سے تجھے میرے یار‘‘۔ یا ان جیسے اور گانے جن میں کفریہ کلمات ہوں، تو عرض یہ ہے کہ ان کے فقط گانے اور سننے سے آدمی کافر ہوجائے گا یا ان کلمات کفریہ کا عقیدہ رکھنے سے کافر ہوگا؟ آج کل یہ بہت عام ہوگئے ہیں اور بسوں وغیرہ میں بھی کثرت سے اس قسم کے کفریہ ریکارڈ لگائے جاتے ہیں جن سے بچنا اکثر ناگزیر ہوتا ہے۔ الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً مذکور گانے (جن کے ایک شعر کو سائل نے سوال میں ذکر کیا ہے) اللہ تعالیٰ کی شان میں انتہائی درجہ گستاخی پر مبنی ہیں، جوکہ قطعاً ناجائز اور حرام ہیں لہٰذا ان کے سننے سے بہرحال احتراز لازم ہے اور جو شخص اس قسم کے کفریہ گانوں کو اپنے قصد وارادہ سے گائے یا گنگنائے اگرچہ وہ اس کا عقیدہ نہ رکھے تب بھی دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا، اس لئے کہ کلمہ کفر مذاق کے طور پر بولنے سے بھی آدمی کافر ہوجاتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور گانوں سے مکمل احتراز کیاجائے اور جبکہ اس قسم کے گانوں کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے تو اس صورت میں مسلمانوں اور بالخصوص حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کے روک تھام کیلئے سعیٔ بلیغ سے کام لے اور جس کے سننے میں اس قسم کے گانے آئیں تو اسے چاہئے کہ اپنی استطاعت کی حد تک اس کو بند کرنے کی کوشش بھی کرے۔ مأخَذُ الفَتوی وفی الدر المختار: من ہزل بلفظ کفرٍ إرتد وإن لم یعتقد للإستخفاف۔ وفی الشامیۃ: أی تکلم بہ باختیارہ غیر قاصد معناہ (إلی قولہ) قلت ویظہر من ہذا ان ما کان دلیل الإستخفاف یکفر بہ وإن لم یقصد للإستخفاف۔ الخ (ج۴، ص۲۲۲) وفی الفتاویٰ التاتارخانیۃ: ومن أتی بلفظۃ الکفر مع علمہ أنہا لفظۃ الکفر عن إعتقادہ فقد کفر ولو لم یعتقد أو لم یعلم أنّہا لفظۃ الکفر ولٰکن أتی بہا علی اختیار فقد کفر عند عامۃ العلماء لا یعذر بالجہل۔ (ج۵، ص۴۵۸) ……………………………………………………………………… واﷲ اعلم! واللہ تعالی اعلم بالصواب دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه محمد مرغوب الرحمن القاسمی

  • سوال نمبر: 162710 عنوان:کسی عورت کو ایک دن پھر تیسرے دن خون آیا، اس کے بعد تیرہویں دن خون آیا تو اس کے لیے نماز روزہ کا کیا حکم ہوگا؟ سوال:اگر کسی کو ایک دن خون آیا پھر دو دن بالکل کچھ نہیں آیا تیسرے دن تھوڑا سا خون آیا پھر تیرا دن بعد ذرا ذرا خون آرہا ہے ایسی صورت میں نماز اور روزے کا کیا حکم ہے ؟ جواب نمبر: 162710 بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa:1076-1015/N=11/1439 اگر کسی عورت کو کم از کم ۱۵/ دن طہر کے بعد کسی دن خون آیا ، پھر دو دن کچھ نہیں آیا اور تیسرے دن تھوڑا سا خون آیا اور پہلے دن جب خون آیا تھا، اس وقت سے تیسرے دن خون آنے تک مکمل ۷۲/ گھنٹے گذرچکے ہیں تو یہ حیض کا خون شمار ہوگا اور ان ایام کے روزوں کی قضا تو واجب ہوگی ، نمازوں کی قضا واجب نہ ہوگی ۔ اور تیرہ دن کے بعد ۱۵/ دن طہر سے پہلے جو خون آیا، وہ استحاضہ ہے جو بیماری کا خون ہوتا ہے ، اور استحاضہ میں نماز بھی پڑھی جاتی ہے اور روزے بھی رکھے جاتے ہیں۔ اور اگر کسی عورت نے استحاضہ کے ایام میں نماز نہیں پڑھی یا روزے نہیں رکھے تو نماز، روزہ دونوں کی قضا کرے گی کذا في عامة کتب الفقہ والفتاوی۔  واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند محمد مرغوب الرحمن القاسمی غفرلہ

  • سوال نمبر: 47683 عنوان:جس اخبار میں اللہ اور رسول کا نام ہوتا ہے میں كوئی سامان بیچنا سوال:زید ایک ڈاکٹر ہے ، وہ اپنے کلنک پر اردو اخبار لاتاہے ، اسی اخبار میں وہ بچوں کو دوا باندھ کر دیتاہے جب کہ اسی اخبار میں اللہ اور رسول کا نام بھی ہوتاہے ، بہت بار مریض گھر لے جاکر اس کو پھینک دیتاہے جس سے اس کی بے ادبی ہوتی ہے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ جواب نمبر: 47683 بسم الله الرحمن الرحيم فتوی: 1352-924/L=12/1434-U اردو اخبار میں چونکہ اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی ہوتا ہے، ایسے اخبار کی تعظیم ضروری ہے، اس لیے اردو اخبارا میں دوا لپیٹ کر دینا جسے مریض گھر جاکر پھینک دے درست نہیں، لا یجوز لف شیء في کاغذ فیہ فقہ، وفي کتب الطب یجوز، ولو فیہ اسم اللہ أو الرسول فیجوز محوہ لیلف فیہ شیء․(شامي) اس لیے فقہا نے قرآن کریم، اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی کو درہموں، محرابوں،دیواروں اور بستروں پر لکھنے کو مکروہ لکھا ہے، ”وتکرہ کتابة القرآن وأسماء اللہ تعالی علی الدراھم والمحاریب والجدران وما یفرش“ (شامی) بعض حضرات اردو اخبارات کو دسترخوان کے طور پر استعمال کرتے ہیں ان کا عمل بھی جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند محمد مرغوب الرحمن القاسمی غفرلہ

  • عید مبارک 🌙✨ یہ مبارک دن آپ کی زندگی میں خوشیوں کے چراغ روشن کرے، آپ کے قلب کو سکون، گھر کو برکت اور زندگی کو کامیابیوں سے بھر دے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر جائز تمنا اور دعا کو قبول فرمائے، آپ کو صحتِ کاملہ، رزقِ حلال میں وسعت اور ہمیشہ اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ عید کی یہ خوشیاں آپ کے لیے دائمی مسرت کا ذریعہ بنیں، اور آنے والے دن آپ کے لیے مزید آسانیاں اور کامیابیاں لے کر آئیں۔ اللہ ہماری عبادات کو قبول فرمائے اور ہمیں ہمیشہ اپنی رحمتوں میں جگہ دے۔ 🤲 آپ کو اور آپ کے تمام اہلِ خانہ کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک! 🤲🌸 آمین یا رب العالمین محمد مرغوب الرحمن القاسمی غفرلہ

  • مریض کے لیے روزے کا حکم سوال روزہ رکھنے سے کمزوری بڑھنے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟ جواب اگر روزے کی وجہ سے کسی مریض کی طبیعت زیادہ خراب  ہونے کا قوی تر  اندیشہ ہو اور ماہر دین دار ڈاکٹر بھی روزہ چھوڑنے کا مشورہ دے تو ایسی صورت میں مریض کے لیے روزہ چھوڑنے کی گنجائش ہو گی اور صحت یاب ہو نے کے بعد اس کی قضا لازم ہو گی، اگر مرض دائمی ہو اور صحت یابی  کی امید نہ ہو تو ہر روزے کے بدلے میں ایک صدقہ فطر کی مقدار فدیہ دینا لازم ہو گا۔ ارشادِ خداوندی تعالیٰ ہے:  ﴿ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضاً اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ﴾ ( البقرة :184)  فقط واللہ اعلم فتویٰ نمبر : 143909200641 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن محمد مرغوب الرحمن القاسمی غفرلہ

  • سوال نمبر: 58769 عنوان:رمضان میں مریض کےلئے روزے کا حکم سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری والدہ کے دو گردوں میں سے ایک فیل ہے ۔ صرف ایک گردہ پر حیات ہے ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آپ روزہ نہ رکھیں کیونکہ آپ کا ایک ہی گردہ کام کر رہا ہے ۔ آپ پانی زیادہ سے زیادہ پیئیں ۔اکثر طبیعت خراب رہیتی ہے ۔ گردہ ، شوگر اور کئی عوارض لاحق ہیں۔ گزشتہ رمضان میں ڈاکٹروں کے منع کرنے کے باوجود میں نے روزے رکھنے شروع کئے تھے لیکن اٹھارہ روزوں کے بعد طبیعت بہت خراب ہوگئی جس کی وجہ سے میں اخر کے کچھ روزے نہیں رکھ سکی۔ اب آپ بتائیں کہ رمضان میں میرے لئے کیا حکم ہے ؟اور جو روزے قضاء ہوگئے ان کا کیا حکم ہے ؟ جواب نمبر: 58769 بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 590-590/Sd=11/1436-U اگر روزہ رکھنے کی وجہ سے بیماری لاحق ہونے یا بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں آپ کے لیے ا جازت ہے کہ روزہ نہ رکھیں، جب طبیعت ٹھیک ہوجائے اس وقت فوت شدہ روزوں کی قضا کرلیں اور ا گر قضا پر بھی قدرت نہ ہو تو ہرروزہ کے بدلے ایک کلو چھ سو تینتیس 633 گرام گیہوں یا اس کی قیمت غریبوں کو دیدیں۔ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیضًا أَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَیَّامٍ أُخَرَ (البقرة: ۱۸۵) قال ابن کثیر: أی: المریض والمسافر لا یصومان فی حال المرض والسفر؛ لما فی ذلک من المشقة علیہما، بل یفطران ویقضیان بعدة ذلک من أیام أخر. (تفسیر ابن کثیر: ۱۴۵، دار السلام، ریاض) ومن کان مریضًا فی رمضان فخاف إن صام ازداد مرضہ أفطر وقضی․ (التاتارخانیة: ۳/۴۰۴، زکریا) وللشیخ الفانی العاجز عن الصوم الفطر ویفدي وجوبًا․ (رد المحتار مع الدر المختار، فصل في العوارض) واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند محمد مرغوب الرحمن القاسمی غفرلہ

  • دودھ میں بیع سلم فتوی نمبر: 29-87 تاریخ: 23 مئی 2023  عنوانات: استفتاء ایک شخص دوسرے سے دودھ خریدتا ہے ،خریدار کہتا ہے کہ مجھے روزانہ 16من دودھ چاہیے اور اس کے لیے خریدار دوسرے کو ایک سال کی قیمت ایڈوانس دے دیتا ہے ،چاہے سال کے دوران دودھ کی قیمت کم ہو یا زیادہ ہو۔۔ کیا یہ صورت جائز ہے؟ الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً مذکورہ صورت کی گنجائش ہے ۔ توجیہ: مذکورہ صورت بیع سلم کی بنتی ہے اور بیع سلم کے بارے میں اگرچہ حنفیہ کا راجح قول یہی ہے کہ مبیع کی تسلیم کے لیے  کم از کم مدت ایک مہینہ ہے جبکہ مذکورہ صورت میں  روزانہ کی بنیاد پر دودھ کی فراہمی کی صورت  میں مدت ایک مہینہ سے کم بنتی ہے البتہ چونکہ حنفیہ کا ایک قول ایک آدھے دن سے زیادہ کا بھی ہے نیزا مام  شافعیؒ کے نزدیک بیع سلم میں مبیع کی تسلیم کے لیے  کم از کم مدت کی کوئی حد نہیں  لہذا  ضرورت اور عرف کی وجہ سے مذکورہ صورت کی گنجائش ہے۔ ہندیہ (5/19)میں ہے: «وإذا أسلم في ‌اللبن في حينه كيلا أو وزنا معلوما إلى أجل معلوم جاز وكذلك الخل والعصير نظير ‌اللبن ثم ذكر ‌اللبن في حينه قال شمس الأئمة السرخسي – رحمه الله تعالى -: هذا في ديارهم لأن ‌اللبن كان ينقطع عن أيدي الناس في بعض الوقت أما في ديارنا فلا ينقطع فيجوز في كل وقت والخل يوجد في كل وقت فلا يشترط الحين والعصير لا يوجد في كل وقت فيشترط ‌السلم في حينه أيضا، كذا في الذخيرة» فتاوی قاضی خان  بہامش الہندیہ(5/21)میں ہے: واذا اسلم في اللبن كيلا او وزنا جاز لانه ليس بمكيل ولا موزون نصا فيجوز كيفما كان تنویر مع الدر المختار (7/486)میں ہے : (وشرطه )بيان (اجل واقله )في السلم (شهر) به يفتى شامی میں ہے: قوله :(به يفتى) وقيل ثلاثة ايام وقيل اكثر من نصف يوم وقيل ينظر الى العرف في تاجيل مثله ،والاول : اي : ما في المتن اصح وبه يفتى زيلعي وهو المعتمد بحر وهو المذهب نهر المحیط البرہانی (10/278) میں ہے: واختلفت الروايات في الأجل الذي لا يجوز ‌السلم ‌بدونه.ذكر ابن أبي عمرو أن البغدادي أستاذ البخاري قال: إنه مقدر بثلاثة أيام فصاعداً قال: وهو قول أصحابنا رحمهم الله وعن أبي الحسن الكرخي أنه ينظر إلى مقدار المسلم فيه وإلى عرف الناس في تأجيل مثله، فإن كان شرط أجلاً يؤجل لمثله في العرف والعادة تجوز السلم ومالا فلا، وعن أبي بكر الرازي رحمه الله أنه قال: أقل مقدار يتعلق به جواز السلم أن يكون زائداً على مجلس العقد ولو بساعة، وعن محمد رحمه الله تعالى أنه أدناه بالشهر فصاعداً وعليه الفتوى. الدر المختار(4/462) میں ہے: وفى الحاوى: لابأس بالسلم فى نوع واحد على أن يكون حلول بعضه فى وقت وبعضه فى وقت آخر. امداد الفتاویٰ (6/283) میں ہے: سوال: یہاں یہ دستور ہے کہ بکر نے قصاب کو کچھ روپے پیشگی دیدئیے اور گوشت کے دام فی سیر  ٹھہرالیے جو بازار کے نرخ سے کچھ کم ہوتا ہے مثلاً بازار میں ۴ سیر بکتا ہے لیکن ۳ سیر ٹھہرا لیا اور گوشت آتارہا، اس کی یاداشت رکھ لیا اور ختم ماہ پر حساب کردیا اور کمی بیشی پوری کرکے بیباقی کردی اور آئندہ ماہ  راہ کے لیے پھر نقد روپیہ دیدیا اور نیا معاہدہ بھاؤ کا کرلیا، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بازار کا بھاؤ ۳اور ۲ ہوجاتا ہے  مگر یہ مقرر شدہ نرخ بدلا نہیں جاتا، اس کا اگلے مہینے میں لحاظ کرکے بھاؤ مقرر کرتے ہیں۔ قصاب کو یہ نفع ہوتا ہے کہ اس روپیہ سے بکریاں خریدتا ہے اور گوشت بیچتا ہے اس کو  کسی دوسرے  سےروپیہ قرض لینے کی ضرورت نہیں  ہوتی۔ اب عرض  یہ ہے کہ کیا یہ جائز ہے؟ جواب: یہ معاملہ حنفیہ کے  نزدیک ناجائز ہے اس لیے کہ جو کچھ پیشگی دیا گیا ہے وہ قرض ہے اور یہ رعایت قرض کے سبب کی ہے اور بیع سلم کہہ نہیں سکتے اس لیے کہ اس میں کم سے کم مہلت ایک ماہ کی ہونی چاہیے اور امام شافعیؒ کے نزدیک چونکہ اجل شرط نہیں اس لیے سلم میں داخل ہوسکتا ہے چونکہ اس میں ابتلاء عام ہے لہٰذا  امام شافعیؒ کے قول پر عمل  کی گنجائش ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم                محمد مرغوب الرحمن القاسمی غفرلہ

  • پیشگی قیمت دے کر دودھ کی خرید و فروخت کا معاملہ کرنا dealing in the buying and selling of milk by paying advance price سوال کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بار ہ میں کہ ایک باڑے والا ایک سال میں 10من دودھ کی بندی کرتا ہے اب وہ دکان والے کو ایک سال تک 10 من دودھ دینے کا پابند ہے کیا اس طرح کا معاہدہ صحیح ہے یا نہیں ؟دودھ فی من 680 روپے ہے اگرسال میں باڑے میں 6من دودھ ہوتا ہے بھینسوں میں بیماری بھی آجاتی ہے اور بہت سی بھینسیں بیمار بھی ہوجاتی ہیں ان میں سے کچھ مر بھی جاتی ہیں اس وجہ سے دودھ کم ہوجاتا ہے لیکن باڑے والا 10 من دودھ دینے کا پابند ہے پھر چاہیے وہ 1000 روپے من بھی ہو تو اسے دینا پڑتا ہے اب اس معاہدہ کی قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا حیثیت ہے کیا ایسی صورت میں معاہدہ کرنا جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو کس طرح اس کی تفصیل سے مدلل آگاہ کریں اگر ناجائز ہے تو کس وجہ سے اس کا بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب تحریر فرمائیں۔ جواب مذکورہ بالا معاملہ میں اگر دودھ کی طے شدہ قیمت دودھ دینے کے بعد حساب کر کے وصول کی جاتی ہے تو یہ معاملہ بلا شبہ جائز اور درست ہے (لجواز بیع الاستجرار بثمن مؤخر بصورہ الثلاث کما ھو مبسوط فی البحوث / ص: ۵۵ وکذا فی امداد الفتاویٰ / ۳ : ۲۰) اور اگر شروع سال ہی میں پیشگی رقم وصول کر لی جاتی ہے اور سال بھر دودھ دینے کا سلسلہ جاری رہتا ہے تویہ بیع سلم ہے جس کے جواز کے لیے ضروری ہے کہ دودھ اور اس کی قیمت پہلے سے متعین کر لی جائے مگر خاص اپنے باڑے کی بھینسوں کے دودھ دینے کا معاملہ نہ کیا جائے بلکہ معاملہ میں صرف دودھ کا ذکر ہو اب اگر باڑے میں اتنا دودھ نہیں ہوتا تو کہیں اور سے بھی لے کر دیا جا سکتا ہے) اور مدت بھی متعین ہونی چاہیے کہ ایک سال تک مثلاً یہ معاملہ ہو گا ذکرکردہ تفصیل کے مطابق معاملہ طے کرنا چاہیے تاکہ بعد میں لڑائی جھگڑے کی نوبت نہ آئے۔ (ویصح فیما امکن ضبط صفتہ کمکیل و موزون ومثمن) الدر المختار/ ۵: ۲۰۹) (وقریۃ) بعینھا (وثمرۃ نخلۃ معینۃ الا اذا کانت النسبۃ لثمرۃ) او نخلۃ او قریۃ (لبیان الصفۃ) لا لتعیین الخارج (الدر المختار/۵:۲۱۳) (وشرطہ بیان جنس و نوع وصفۃ وقد ر واجل واقلہ شھر… وقدر رأس المال ومکان الایفاء فیما لہ حمل) (الدر المختار/ ۵: ۲۱۴-۲۱۵) دار الافتاء:دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور محمد مرغوب الرحمن القاسمی غفرلہ

  • دودھ کے کاروبار میں ایڈوانس رقم لینے کا حکم سوال ایک شخص دودھ خریدتا ہے 16 من روزانہ کی بنیاد پر اور وہ بائع کو سال کی ایڈوانس رقم ادا کر دیتا ہے، تو کیا ایسا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب صورتِ مسئولہ میں دودھ بیچنے والا( دودھی) اگر گاہک سےایڈوانس میں لی ہوئی رقم کے بدلے دودھ کی قیمت میں کمی کی شرط نہیں رکھتا،  تو دودھی کے لیے  گاہک سے ایڈوانس رقم لینا اوراسے اپنے استعمال میں لانا درست ہے ،اور اگر دودھ کی قیمت میں کمی کی شرط لگاتا ہے ،تو یہ معاملہ شرعاًدرست نہیں۔ مذکورہ سوال کی مکمل تفصیلات کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کریں : دودھ کے کاروبار میں ایڈوانس رقم لینا فتاویٰ ہندیہ میں ہے : "قال محمد - رحمه الله تعالى - في كتاب الصرف إن أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد فأعطاه المستقرض أجود مما عليه فلا بأس به وكذلك إذا أقرض رجلا دراهم أو دنانير ليشتري المستقرض من المقرض متاعا بثمن غال فهو مكروه، وإن لم يكن شراء المتاع مشروطا في القرض ولكن المستقرض اشترى من المقرض بعد القرض بثمن غال فعلى قول الكرخي لا بأس به وذكر الخصاف في كتابه وقال ما أحب له ذلك." (كتاب البيوع، الباب التاسع عشر في القرض والاستقراض والاستصناع، 202،203/3، ط: رشيدية) فتاوی شامی میں ہے : "(لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لأحدهما أو) فيه نفع (لمبيع) هو (من أهل الاستحقاق) للنفع بأن يكون آدميا، فلو لم يكن كشرط أن لا يركب الدابة المبيعة لم يكن مفسدا كما سيجيء (ولم يجر العرف به و) لم (يرد الشرع بجوازه) أما لو جرى العرف به كبيع نعل مع شرط تشريكه، أو ورد الشرع به كخيار شرط فلا فساد (كشرط أن يقطعه) البائع (ويخيطه قباء) مثال لما لا يقتضيه العقد وفيه نفع للمشتري (أو يستخدمه) مثال لما فيه نفع للبائع." (كتا ب البيوع، باب البيع الفاسد ، مطلب فى البيع بشرط الفاسد ، 5/ 85، ط: سعيد ) فقط والله أعلم فتویٰ نمبر : 144410101388 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن محمد مرغوب الرحمن القاسمی غفرلہ

  • فتاوٰی ہندیہ میں ہے "قال محمد - رحمه الله تعالى - في كتاب الصرف إن أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد فأعطاه المستقرض أجود مما عليه فلا بأس به وكذلك إذا أقرض رجلا دراهم أو دنانير ليشتري المستقرض من المقرض متاعا بثمن غال فهو مكروه، وإن لم يكن شراء المتاع مشروطا في القرض ولكن المستقرض اشترى من المقرض بعد القرض بثمن غال فعلى قول الكرخي لا بأس به وذكر الخصاف في كتابه وقال ما أحب له ذلك." (كتاب البيوع، الباب التاسع عشر في القرض والاستقراض والاستصناع، 202،203/3، ط: رشيدية) بدائع صنائع میں ہے : "وكذلك إن كان مما لا يقتضيه العقد ولا يلائم العقد أيضا لكن للناس فيه تعامل فالبيع جائز كما إذا اشترى نعلا على أن يحدوه البائع أو جرابا على أن يخرزه له خفا أو ينعل خفه والقياس أن لا يجوز، وهو قول زفر - رحمه الله - (وجه) القياس أن هذا شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد العاقدين وإنه مفسد كما إذا اشترى ثوبا بشرط أن يخيطه البائع له قميصا ونحو ذلك. (ولنا) أن الناس تعاملوا هذا الشرط في البيع كما تعاملوا الاستصناع فسقط القياس بتعامل الناس كما سقط في الاستصناع، ولو اشترى جارية على أنها بكر أو طباخة أو خبازة، أو غلاما على أنه كاتب أو خياط، أو باع عبدا بألف درهم على أنها صحاح أو على أنها جياد نقد بيت المال أو اشترى على أنها مؤجلة فالبيع جائز؛ لأن المشروط صفة للمبيع أو الثمن صفة محضة لا يتصور انقلابها أصلا ولا يكون لها حصة من الثمن بحال، ولو كان موجودا عند العقد يدخل فيه من غير تسمية وإنها صفة مرغوب فيها لا على وجه التلهي، والمشروط إذا كان هذا سبيله؛ كان من مقتضيات العقد، واشتراط شرط يقتضيه العقد لا يوجب فساد العقد كما إذا اشترى بشرط التسليم وتملك المبيع والانتفاع به ونحو ذلك بخلاف ما إذا اشترى ناقة على أنها حامل أن البيع يفسد في ظاهر الرواية؛ لأن الشرط هناك عين وهو الحمل فلا يصلح شرطا." (كتاب البيوع ، فصل في شرائط الصحة فى البيوع، 5/ 172،ط: رشیدیه) فتاوی شامی میں ہے : "(لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لأحدهما أو) فيه نفع (لمبيع) هو (من أهل الاستحقاق) للنفع بأن يكون آدميا، فلو لم يكن كشرط أن لا يركب الدابة المبيعة لم يكن مفسدا كما سيجيء (ولم يجر العرف به و) لم (يرد الشرع بجوازه) أما لو جرى العرف به كبيع نعل مع شرط تشريكه، أو ورد الشرع به كخيار شرط فلا فساد (كشرط أن يقطعه) البائع (ويخيطه قباء) مثال لما لا يقتضيه العقد وفيه نفع للمشتري (أو يستخدمه) مثال لما فيه نفع للبائع." (كتا ب البيوع، باب البيع الفاسد ، مطلب فى البيع بشرط الفاسد ، 5/ 85، ط: سعيد ) فقط واللہ اعلم  فتویٰ نمبر : 144401101217 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن محمد مرغوب الرحمن القاسمی غفرلہ

  • دودھ کے کاروبار میں ایڈوانس رقم لینا سوال  کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں : ہمارے ہاں بھینس کالونی میں دودھ کی سالانہ بندی کا معاہدہ کچھ اس طور پر طے پاتا ہے کہ باڑے والا(بائع)دُودھی (مشتری)سے یہ طے کر لیتا ہے کہ میں پورا سال (روزانہ کی چوائی کے حساب سے)آپ کو دودھ دیتا رہوں گا اور دودھ کی قیمت کی ادائیگی ہر دس دن بعدہوتی رہے گی،علاوہ ازیں فی من دودھ پر مثلاً دولاکھ ایڈوانس کی ادائیگی اس کے علاوہ ہوگی،یعنی اگر مثلاً کسی باڑے کا دودھ روزانہ کا بیس من ہے تو روزانہ کے دودھ کی قیمت کے علاوہ (جس کی ادائیگی ہر دسویں دن ہوتی ہے)چالیس لاکھ ایڈوانس بھی ملے گا، یہ ایڈوانس پورا سال باڑے والے کے زیر استعمال رہتا ہے، البتہ سال کے اختتام سے پہلے اس کی دودھی کوواپس کرنےکی ترتیب بنائی جاتی ہے۔ ہمارےہاں مقامی علماء نےا یڈوانس کی شرعی حیثیت کی تعیین کےلیےغورکیاہے، جس میں چندصورتیں سامنےآئی ہیں اوران صورتوں پرتبصرہ بھی درج ذیل ہے: 1)اگراس ایڈوانس کوسیکورٹی ڈپازٹ یارہن قراردیاجائےتومسئلہ یہ ہےکہ شےمرہون سےانتفاع جائزنہیں ،جب کہ یہ ایڈوانس سارا سال باڑےوالےکےزیراستعمال رہتاہے،لہذارہن قراردےنہیں سکتے۔ 2)اگرایڈوانس کوامانت قراردیاجائےتومسئلہ یہ ہےکہ امانت توحفاظت سےرکھنےکانام ہے جس کی سبیل یہاں ممکن نہیں، دوسرایہ کہ بدونِ استہلاک امین بھی ضامن نہیں ہوتا جب کہ یہاں ہلاک واستہلاک بہرصورت باڑےوالا اس ایڈوانس رقم کی واپسی کاپابندہوتاہے۔ 3)ایڈوانس کومحض تبرع قراردیاجائے،لیکن تبرع میں توواپسی مشروط نہیں ہوتی، لیکن یہاں ایڈوانس کی واپسی شرط ہوتی ہے۔ 4)ایک صورت یہ ممکن ہےکہ ایڈوانس کوقرض قراردیاجائے،پھرسوال یہ پیداہوگاکہ دودھ کی بیع میں (ایڈوانس کی صورت میں )قرض لینےکی شرط شرطِ فاسد ہے،جس سےنفسِ بیع ہی فاسد ہوجائے، لیکن چوں کہ ایڈوانس رقم کی وصولی یہاں بھینس کالونی کی پوری دودھ مارکیٹ کارواج بن چکاہےاوربعض فقہائےکرام کی تصریح کےمطابق جب مارکیٹ میں کسی شرطِ فاسدکارواج بن جائےتواس سےبیع فاسدنہیں ہوتی (جیساکہ حضرت مولانامفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ نےبھی تقریرِ ترمذی  میں اس کی تصریح کی ہے)کےتحت (ایڈوانس کی فقہی حیثیت قرض متعین کرکےمارکیٹ رواج کااعتبارکرکے)اس بیع کوجائزرکھاجائے۔ آں جناب سےگزارش ہے کہ ازراہِ کرم اس مسئلہ پرغورفرماکرقابلِ عمل حل تجویز فرمائیں۔ وضاحت : روزانہ جتنی مقدار میں دودھ فروخت کیا جاتا ہے وہ مقدار/وزن معلوم القدر ہوتی ہے ، نیز دودھ والا گاہک سے جو ایڈوانس رقم لیتا ہے یہ دودھ کی پیشگی قیمت نہیں ہوتی ، دودھ کی قیمت تو ہر دس دن بعد الگ سے گاہک دودھ والے کو ادا کرتا ہے ۔ جواب واضح رہے کہ مشتری بائع (بیچنے والے )کو جورقم ایڈوانس دیتا ہے وہ بائع کے پاس  ابتداء امانت ہوتی ہے البتہ عرفابائع کو اس کے استعمال کی اجازت ہوتی ہے لہذا یہ رقم بائع کےذمہ انتہاءً قرض ہوتی ہے  ، جیساکہ کرایہ داری کا معاملہ کرتے وقت ایڈوانس جو رقم لی جاتی ہے تو وہ رقم ابتداء امانت ہوتی ہے انتہاءً قرض ہوتی ہے ، لیکن اگر بائع ایڈوانس رقم اس شرط کے ساتھ لے کہ وہ اس کے بدلے چیز کی قیمت میں کمی کرے گا تو یہ جائز نہیں  ،لہذا صورتِ مسئولہ میں دودھ بیچنے والا( دودھی) اگر گاہک سے ایڈوانس میں لی ہوئی رقم کے بدلے دودھ کی قیمت میں کمی کی شرط نہیں رکھتا  تو دودھی کے لیے  گاہک سے ایڈوانس رقم لینا اوراسے اپنے استعمال میں لانا درست ہے ۔ نیززیر نظر مسئلہ میں  جس قدر ادھار پردودھ دےگا ، اس کی قیمت کے برابر رقم ایڈوانس لینا مقتضائے عقد کے مطابق  ہے ، اس لیے کہ بائع کا اتنا قرض مشتری کے ذمہ ہوگا مزید یہ کہ  دودھ کے کام کی نوعیت یہ ہے کہ اگر کسی دن دودھ  لینے والا پہلے سے موجو نہ ہوتو اس دن کا تمام دودھ ذخیرہ کرنا پڑتاہے جس کےلیے بہت سے انتظامات  کی ضرورت  ہوتی ہے ، اگر کسی کے پاس یہ انتظام نہ ہو تو  اس دن کا دودھ خراب ہوجانے کی وجہ سے ضائع کرنا پڑ تاہے ، لہذا اس غرض کے لیے اگر مشتری سے ایڈوانس لیا جائے اور پوری مارکیٹ ہی اس طرح ایڈوانس لیتی ہو تو یہ شرط فاسد نہیں ہے ، نہ ہی یہ بیع فاسد ہوگی ۔ تاہم جب  دونوں کا معاہدہ ختم ہوجائے تو مشتری کے ذمہ  ادائیگی باقی ہو تو دکاندار اس ایڈوانس میں سے منہا کردے اور بقایا رقم واپس کردے۔ فتاوٰی شامی میں ہے: "وفي الأشباه ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام. قال ابن عابدين: (قوله ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به." (كتاب البيوع، باب القرض، مطلب ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام، 166/5، ط: سعید)

  • без подписи

  • без подписи

  • دو ماہ کا حمل ضائع ہونے کی صورت میں آنے والے خون کا حکم سوال مجھے 2 ماہ کاحمل ضائع ہوا، دوائی کے ذریعے رحم صاف کیاگیا، 20 دن بعداچانک بہت زیادہ خون کےساتھ ایک چھوٹا سا لوتھڑا بھی نکلا، اس کے بعد ڈاکٹرکا کہنا ہے کہ حمل کا کچھ حصہ رہ گیا ہے جسےصاف کرنا ہے، اس دوران نکلنےوالا خون کس میں شمارہوگا استحاضہ یا حیض؟ جواب حاملہ عورت کا حمل ضائع ہونے کی صورت میں نفاس کا حکم یہ ہے کہ اگر بچے کے اعضاء میں سے کسی عضو (مثلاً: ہاتھ، پیر ،انگلی یا ناخن وغیرہ) کی بناوٹ ظاہر ہوچکی ہو تو یہ عورت نفاس والی ہوجائے گی، اس حمل کے ساقط ہونے کے بعد نظر آنے والا خون نفاس کا خون کہلائے گا، لیکن اگر بچے کے اعضاء میں سے کسی بھی عضو کی بناوٹ ظاہر نہ ہوئی ہو تو پھر اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، یعنی عورت نفاس والی نہیں بنے گی اور  اس حمل کے ضائع ہونے کے بعد نظر آنے والا خون نفاس بھی نہیں کہلائے گا۔ بچے کے  اعضاء کی بناوٹ ظاہر ہونے کی مدت فقہاء نے چار مہینے  لکھی ہے، لہٰذا جو حمل چار مہینے پورے ہونے  پر یا چار مہینے کے بعد ضائع ہوجائے  تو اس کے بعد نظر آنے والا خون نفاس ہوگا، لیکن اگر حمل چار مہینے مکمل ہونے سے پہلے  ضائع ہوجائے تو اس حمل کا اعتبار نہیں ہوگا، یعنی اس سے نہ تو عورت کی عدت گزرے گی اور نہ اس کے بعد نظر آنے والا خون نفاس  کا ہوگا۔ اس صورت میں دیکھا جائے گا کہ  اگر کم از کم تین دن تک خون آیا اور اس سے پہلے ایک کامل طہر (یعنی کم از کم پندرہ دن) بھی گزر چکا ہو تو یہ خون حیض شمار ہوگا،  لیکن اگر حمل ضائع ہونے کے بعد تین دن سے کم خون آیا یا اس سے پہلے کم از کم پندرہ دن پاکی کے نہیں گزرے تو یہ خون حیض شمار نہیں ہوگا، بلکہ استحاضہ ہوگا۔ لہذا صورت مسئولہ میں جو دو ماہ کا حمل ضائع ہوا ہے اور اس کے بعد جو خون آیا ہے اگر یہ تین دن یا اس سے زیادہ تھا تو  (دس دن کے اندر اندر آنے والا خون) حیض شمار ہوگا، ورنہ استحاضہ شمار ہوگا۔    فتاوی شامی (1/ 302):  "(ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، ولايستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوماً (ولد) حكماً (فتصير) المرأة (به نفساء والأمة أم ولد ويحنث به) في تعليقه وتنقضي به العدة، فإن لم يظهر له شيء  فليس بشيء، والمرئي حيض إن دام ثلاثاً وتقدمه طهر تام وإلا استحاضة". فقط والله أعلم فتویٰ نمبر : 144110200920 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن محمد مرغوب الرحمن القاسمی غفرلہ