📚الترغيب والترهيب📚
Статистикаاس چینل میں شیخ طلحہ منیار حفظہ اللہ( تلميذ رشید شیخ عبد الفتاح ابو غدہ قدس سرہ) کی پیش کردہ *احادیث کی تحقیقات کی لنک* شائع کی جاتی ہے،جو *احادیث مشہورہ نامی بلاگ* میں اپلوڈ کی جاتی ہے، نیز اور تحقیقات حدیث و اہم نکات حدیث پیش کئے جاتے ہے_
- Последний пост
- 9 мая
- Последнее чтение
- 13 авг.
- Постов за неделю
- 0
- Всего постов
- 20
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- —
- 1/48двое суток
- —
- 1/72трое суток
- —
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
*علماء کی شہادت پر ایک مخصوص روایت کے بارے میں* https://shorturl.at/wTF6u بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ
" معانی التخریج فی اللغة والفقه والحديث ✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ ✦─────────── 👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋ https://t.me/Attargib
*زمزم پینے کی دعا موقوف ہے* آج فجر کی تعلیم میں (فضائل حج) چھٹی فصل کی حدیث نمبر ۹ کے فائدے میں زمزم پینے کی مشہور دعا (اللہم انی اسئلک علما نافعا ۔۔۔) گزری، مگر فضائل کی کتاب میں اس کو حضرت ابن عباس کی روایت سے مرفوع بتایا گیا، جو درست نہیں ہے، ٍصحیح یہ ہے کہ یہ دعا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے، حضور ﷺ سے منقول نہیں ہے۔ دیکھیے: (١) مصنف عبد الرزاق 9112 (٢)سنن الدارقطني 2738 (٣)مستدرك حاكم 1739 (٤)الترغيب والترهيب 1816. (١).....٩١١٢ - عَنِ الثَّوْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ مَنْ يَذْكُرُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ ثُمَّ قَالَ: «أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا وَاسِعًا، وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ» (المصنف لعبد الرزاق /ج ٥ ص ١١٣) (٢)..... ٢٧٣٨ - نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نا عَبَّاسٌ التَّرْقُفِيُّ، نا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: ⦗٣٥٤⦘ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ «إِذَا شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ» (سنن الدار القطني/ج ٣ ص ٣٥٣) (٣).... ١٧٣٩ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَبِيبٍ الْجَارُودِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضي الله عنهما، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ، فَإِنْ شَرِبْتَهُ تَسْتَشْفِي بِهِ شَفَاكَ اللَّهُ، وَإِنْ شَرِبْتَهُ مُسْتَعِيذًا عَاذَكَ اللَّهُ، وَإِنْ شَرِبْتَهُ لِيَقْطَعَ ظَمَأَكَ قَطَعَهُ» قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا شَرِبَ مَاءَ زَمْزَمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا وَاسِعًا، وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ إِنْ سَلِمَ مِنَ الْجَارُودِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " (المستدرك علي الصحيحين/ج ١ ص ٦٤٦) (٤)...وعن ابن عباس قَالَ قَالَ رَسُول الله ﷺ مَاء زَمْزَم لما شرب لَهُ إِن شربته تستشفي شفاك الله وَإِن شربته لشبعك أشبعك الله وَإِن شربته لقطع ظمئك قطعه الله وَهِي هزمة جِبْرَائِيل وسقيا الله إِسْمَاعِيل رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ وَالْحَاكِم وَزَاد وَإِن شربته مستعيذا أَعَاذَك الله وَكَانَ ابْن عَبَّاس ﵁ إِذا شرب مَاء زَمْزَم قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسأَلك علما نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وشفاء من كل دَاء وَقَالَ صَحِيح الْإِسْنَاد إِن سلم من الْجَارُود يَعْنِي مُحَمَّد بن حبيب قَالَ الْحَافِظ سلم مِنْهُ فَإِنَّهُ صَدُوق قَالَه الْخَطِيب الْبَغْدَادِيّ وَغَيره لَكِن الرَّاوِي عَنهُ مُحَمَّد بن هِشَام الْمروزِي لَا أعرفهُ وروى الدَّارَقُطْنِيّ دُعَاء ابْن عَبَّاس مُفردا من رِوَايَة حَفْص بن عمر الْعَدنِي الهزمة بِفَتْح الْهَاء وَسُكُون الزَّاي هُوَ أَن تغمز موضعا بِيَدِك أَو رجلك فَتَصِير فِيهِ حُفْرَة (الترغيب والترهيب للمنذري/ج ٢ ص ١٣٦) شیخ طلحہ بلال احمد صاحب منیار ✦─────────── 👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋ https://t.me/Attargib
قرآنِ مجید کی آیات کی تعداد آج امام صاحب رسالہ (فضائلِ قرآن) میں سے تعلیم پڑھ رہے تھے، حدیث نمبر (9) کے فائدے میں یہ مضمون آیا کہ جنت کے درجے بقدر قرآن کی آیات کے ہیں، اس سلسلے میں امام دانی رحمہ اللہ کا قول پیش کیا گیا کہ: اہلِ فن کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن شریف کی آیات چھ ہزار (6000) ہیں، لیکن اس کے بعد کی مقدار میں اختلاف ہے، اور اتنے اقوال نقل کئے ہیں: 204، 14، 19، 25، 36. عاجز نے امام دانی کی کتاب (البیان في عد آي القرآن) کی مراجعت کی، تو اس میں یہ اقوال ہیں: *عدد آي القرآن في كتاب الداني* المدني الأول: 6217 المدني الأخير: 6214 / 6210 المكي: 6219 / 6210 / 6216 الكوفي: 6236 البصري: 6204 / 6216 الشامي: 6225 / 6226 *المصدر* : البيان في عد آي القرآن للإمام الداني، ص 79 - 82 اس سے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ نے امام دانی کا جو قول نقل کیا اس میں دو سو (200) کا عدد ساقط ہے، یعنی اہلِ فن کا اتفاق چھ ہزار دو سو (6200) کی عدد پر ہے، اور چھ ہزار دو سو کے بعد کی مقدار میں اختلاف ہے: 4 ، 10 ، 14 ، 16 ، 17 ، 19 ، 25 ، 26 ، 36 فلیحرر ولیصحح ✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ ٥-١٢-٢٠٢٤
✦─────────── "مشرق کی جانب آگ کا ستون" ✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ ✦─────────── 👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋ https://t.me/Attargib
без подписи
без подписи
без подписи
✦─────────── "اوذیت فی اللہ الخ" اشکال و جواب ✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ ✦─────────── 👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋ https://t.me/Attargib
باسمہ عزوجل عزیزم مولوی محمد عبید منیار سلمہ نے دریافت کیا کہ: (تزینوا لنسائکم) کوئی حدیث ہے؟ میں نے کہا: دیکھ کر بتاتا ہوں، بعد میں تلاش کیا تو بعینہ ان الفاظ کی کوئی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب دستیاب نہیں ہوئی۔ تاہم اس مفہوم کی بعض روایات ملیں، جو دو طرح کی ہے: ٭پہلی: تزین الرجال والی:٭ 1- عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «اغسلوا ثيابكم، وخذوا من شعوركم، واستاكوا وتزينوا وتنظفوا، فإن بني إسرائيل لم يكونوا يفعلون ذلك، فزنت نساؤهم» أخرجه ابن عساكر في «تاريخ دمشق» 36/124 من طريق عبد اللَّه بن ميمون القداح عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده عن علي به. في سنده: عبد الله بن ميمون القداح، قال فيه قال أبو حاتم: متروك. وقال البخاري: ذاهب الحديث. وقال ابن حبان: لا يجوز أن يحتج بما انفرد به. (انظر: ميزان الاعتدال 2/512). وقال الذهبي في «تذكرة الحفاظ» 3/234 بعد ذكر الرواية: «هذا لا يصح وإسناده ظلمة». وقال ابن الملقن في «البد المنير» 2/53: «حديث لا يصح». وفي «المداوي لعلل المناوي» 2/40: «والواقع يدل على أنه كذب، فإن حال هذه الأمة على خلاف ذلك، فنساؤها تزني على نظافة الرجال وزينتهم، فالعفيفة الديِّنة لا يغرّها في دينها زينة، ولا يشينها في عرضها نظافة، والفاجرة بخلاف ذلك». 2- عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: إني أحبُّ أن أتزين للمرأة، كما أحب أن تتزين لي; لأن الله تعالى ذكره يقول: (ولهن مثلُ الذي عليهن بالمعروف). أخرجه الطبري في «التفسير» 4/532. وهو في «المصنف» لابن أبي شيبة 4/196 (19263) و«السنن الكبرى» للبيهقي 7/482. وهو حديث موقوف صحيح. 3- وعن أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم: أن امرأة أتت عمر بن الخطاب رضي الله عنه بزوجٍ لها أشعث أغبر أصفر، فقالت له: يا أمير المؤمنين! لا أنا ولا هذا، خلصني منه!. فنظر عمر إليه، فعرف ما كَرِهَت منه، فأشار إلى رجلٍ وقال: اذهب به إلى الحمام، فجممه وخذ من شعره وقلم أظفاره، وألبسه حلةً معافريةً، ثم ائتني به! فذهب به الرجل، ففعل ذلك به، ثم أتى به، فأومأ إليه عمر بيده أن خذ بيدها! فإذا هي لا تعرفه فقالت: يا عبد الله! سبحان الله! أبين يدي أمير المؤمنين تفعل مثل هذا؟ فلما عرفته مضت معه فقال عمر: (هكذا فاصنعوا بهن! فوالله إنهن ليحببن أن تتزينوا لهن كما تحبون أن يتزين لكم) (أدب النساء لابن حبيب 167). 4- وفي قوله تعالى: (وعاشروهن بالمعروف) [سورة النساء 19] قال بعضهم: هو أن يتصنَّع لها كما تتصنَّع له. وقال يحيى بن عبد الرحمن الحنظلي: أتيت محمد ابن الحنفية، فخرج إلي في مِلْحَفَة حمراء، ولحيته تقطر من الغالية، فقلت: ما هذا؟ قال: إن هذه الملحفة ألقتها عليَّ امرأتي ودهنتني بالطيب، وإنهن يشتهين منَّا ما نشتهيه منهن. (تفسير القرطبي 5/97). ٭دوسری: تزین النساء والی:٭ 1- عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم فرأى في يدي فتخات من ورق، فقال: «ما هذا يا عائشة؟»، فقلت: صنعتهن أتزين لك يا رسول الله، قال: «أتؤدين زكاتهن؟»، قلت: لا، أو ما شاء الله، قال: «هو حسبك من النار». أخرجه أبو داود في «السنن» (1565) وهو صحيح. 2- عن معمر، والثوري، عن أبي إسحاق، عن امرأة ابن أبي الصقر، أنها كانت عند عائشة رضي الله عنها فسألتها امرأة؟ فقالت: يا أم المؤمنين، إن في وجهي شعرات أفأنتفهن أتزين بذلك لزوجي؟ فقالت عائشة: «أميطي عنك الأذى، وتصَنَّعي لزوجك كما تَصَنَّعين للزيارة، وإذا أمرك فلتطيعيه، وإذا أقسم عليك فأبريه، ولا تأذني في بيته لمن يكره». أخرجه عبد الرزاق في «المصنف» 3/ 146 (5104). خلاصہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے: (تزینوا لنسائکم) کے الفاظ سے کوئی روایت تلاش کرنے پر نہیں ملی۔ ہاں اس کا مفہوم بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کے قول سے وارد ہے، تو اس کو مرفوع حدیث نہیں کہیں گے، اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرکے مطلقا حدیث کہنا بھی درست نہیں ہوگا، البتہ حدیثِ موقوف کہہ سکتے ہیں۔ ✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ تاریخ ٢٢-٩-٢٠٢٤ ✦─────────── 👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋ https://t.me/Attargib
без подписи
ہمارے ایک کرم فرما بزرگ نے عاجز سے فرمایا کہ: حدیث کی قدیم تشریح، اور شیخ ابو غدہ نے جو تشریح فرمائی، دونوں میں ترکیب کے اعتبار سے کیا فرق ہے، اس پر روشنی ڈالنے کی درخواست ہے عاجز نے جواباً عرض کیا: *وعلیکم السلام* بدأ الاسلام غریبا یہاں پر غریبا حال ہے، اور اسلام ذو الحال بدأ: فعل الاسلام: فاعل ذو الحال غریبا: حال مراد ہے کہ اس کی ابتدا ایسی حالت میں ہوئی تھی کہ وہ اجنبی تھا، نا مانوس تھا، کوئی جانتا نہیں تھا، اس کے ماننے والے اس کا علم رکھنے والے بہت قلیل تھے۔ وسیعود غریبا آخری زمانے میں پھر وہ اجنبی ہوجائے گا، پردیسی شخص کی طرح، نا معلوم، نا مانوس، اس کے اپنانے والے اس کا علم رکھنے والے معدود۔ *یہ ترکیب تو مشہور تشریح کے مطابق ہے* مگر شیخ ابو غدہ نے غریبا کو صفت قرار دیا، اور موصوف بدءا، جو بدأ کا مفعول مطلق ہے بدأ : فعل الاسلام: فاعل بدءا: مفعول مطلق موصوف غریبا: صفت وسیعود: فعل فاعل ھو ضمیر عودا: مفعول مطلق موصوف غریبا: صفت یہاں پر غریبا کا ترجمہ اجنبی نا مانوس سے نہیں کریں گے بلکہ ترجمہ ہوگا: عجیب، انوکھا، حیرت انگیز عجیب وغریب طریقے سے ابتدا ہوئی، اور اخیر زمانے میں عجیب وغریب طریقے سے لوٹ کر آئے گا۔ وکتبہ محمد طلحہ بلال احمد منیار =========== معاصر بعض اہل علم کی تشریحات میں یہ بات بھی ملی کہ غریبا کے بعد ایک جملہ محذوف ہے : ثم ظہر وانتشر، واستغلظ واستوی علی سوقہ یعنی ہر غربت کے دور کے بعد پھر دوبارہ وہ پھلا پھولا، مضبوط ہوا اور یہ خود بخود نہیں ہوا بلکہ (غربا) کی سعی وکوششوں سے ہوا، جنہوں نے غربت کو دور کرنے میں اپنی جد وجہد جاری رکھی اسی لئے فرمایا: فطوبی للغرباء ۔۔۔ الذین يصلحون ما أفسد الناس من سنتي گویا کہ حدیث کا اصل مقصد ہے: دین کی اشاعت اور اصلاحی کاموں کی طرف متوجہ کرنا نہ کہ غربت کو قضائے لازب سمجھ کر بیٹھ جانا ھذا ما فہمتہ فان کا صوابا فمن اللہ ✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ ✦─────────── 👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋ https://t.me/Attargib
без подписи
*تعليق طفيف على بعض الألفاظ في مقدمة «حجة الله البالغة» للإمام الشاه ولي الله الدهلوي* تعليق العاجز: محمد طلحة بلال أحمد منيار قال الشاه ولي الله (1/38) وهو يبين صعوبة التصنيف في علم أسرار الشريعة: ولكن قل من صنف فيه ، أو خاض في تأسيس مبانيه ، أو رتب منه الأصول والفروع ، أو أتى بما يُسْمِنُ أو يُغني من جوع ، وحُقَّ له ذلك ، *ومن المثل السائر في الورى: ومَنِ الرديفُ وقد ركبتَ غضنفراً؟* كيف؟ ولا تتبين أسراره إلا لمن تمكن في العلوم الشرعية بأسرها ، واستبد في الفنون الإلهية عن آخرها ، ولا يصفو مَشْرَبُه إلا لمن شرح الله صدره لعلم لدني ، وملا قلبَهُ بِسِرٌ وَهْبِيٌّ ، وكان مع ذلك وقَّاد الطبيعة ، سَيَّالَ القريحة ، حاذقاً في التقرير والتحرير ، بارعاً في التوجيه والتحبير ، قد عرف كيف يُؤصِّلُ الأصول ، ويبني عليها الفروع ، وكيف يُمَهد القواعد ، ويأتي لها بشواهد المعقول والمسموع. قال العاجز: قوله: *ومن المثل السائر في الورى: ومَنِ الرديفُ وقد ركبتَ غضنفراً؟* هذا شطر بيت لأبي الطيب المتنبي، يمدح به ابن العميد الكاتب، وقبلَه: أنت الوحيدُ إذا ارتكبْتَ (أو ركبتَ) طَرِيقةً. ومعنى البيت كما في «المآخذ على شراح ديوان أبي الطيب المتنبي » 1/ 118: يقول: قد ركبت من خلائقك وطرائقك أمرا لا يتبعك فيه أحد، مخافة الفضيحة، لتقصيره عن مداك، وتأخره عن مغزاك. والأحسن في هذا تفسير الشيخ أبي الحسن الواحدي: قال: يقول: أنت فرد الطريقة في كل أمر تقصده، لا يقدر أحد أن يقتدي بك في طريقتك، كراكب الأسد لا يقدر أحد أن يكون رديفا له، وعلى هذا القول: «الغضنفر» مركوب. ويجوز أن يكون راكبا بأن يكون حالا لممدوح: يقول: لا يقدر أحد أن يكون رديفا لك وأنت غضنفر. اهـ قال العاجز: ضبط لفظ «ركبت» في طبعة الشيخ سعيد البالنبوري (1/38) بضم التاء، والأحسن الفتح لأنه يخاطب به ممدوحه ابن العميد، كما هو في «ديوان المتنبي» وقد قالوا: إن المثل يحكى كما هو بدون تغيير. وقال الشاه ولي الله (1/ 39-40) وهو يتحدث عن سبب تأليف الكتاب: ثم ألهمني ربي بعد زمان أن مما كتبه علي بالقلم العلي ، أن أنتهض يوماً [مَّا] لهذا الأمر الجَلِي ، وأنه أشرقت الأرض بنور ربها ، وانعكست الأضواء عند مغربها ، *وأن الشريعة المصطفوية أشرفت في هذا الزمان ، على أن تَبْرُز فِي قُمُص سابغة من البرهان*.اهـ قال العاجز: قوله: *وأن الشريعة المصطفوية أشرقت* .... ضبط لفظ «أشرفت» في طبعة الشيخ سعيد البالنبوري (1/39) بالقاف من الشروق وهو طلوع الشمس وسطوع ضوئها. لكن في النسخ الخطية بالفاء «أشرفت» أي أطلَّت ورفعت رأسها من علوّ، أي كأنها تنتظر من يبين أسرارها ببراهين ساطعة. وقال الشاه ولي الله (1/41) وهو يتحدَّث عن جهود صديقه محمد عاشق في البحث عن عالم يكون أهلا للتصنيف في أسرار الشريعة: فطاف ما قدر عليه من البلاد ، وبحث من تَوَسَّمَ فيه الخير من العباد، وتفحَّص سِينَهم وشِينَهم ، وسَبَرغّثَّهم وسَمِينَهم ، فلم يجد من يتكلم منه بنافعة ، أو يأتي منه بجذوة ساطعة. اهـ قال العاجز: علَّق الشيخ البالنبوري موضحا معنى «سينهم وشينهم» بقوله: سينهم: لم أجد هذه الكلمة في المعاجم، والمراد: زَينَهم، والشَّيْن: العيب والقبح، خلاف الزَّين. كذا قال! ويرى العاجز: أن المراد حرفا «السين والشين» ويقصد بهما الخامل من أهل العلم والمشهور، لأن السين الخالي من النقط يقال له: مهمل، ويقابله المعجَم، فكنى بالحرف المهمل عن الخمول، وبالمعجم عن الشهرة. وقال الشاه ولي الله (1/43) يتحدث عن نفسه تواضعا وهضما لها: وقدَّمتُ إليه أني سُكَيْتُ نادي البيان ، ضَالِعُ حَلْبة الرهان ، وأني مُتَعَرِّق مِرْمَاة ، وذو بضاعة مُزجاة ، وأنه لا يتأتَّى مني الإمعان في تصفُّح الأوراق ، لشغل قلبي بما ليس له فَواق ... ، قال العاجز: قوله: «سُكَيْتُ» بالتصغير وقد تشدد الكاف: آخِر ما يجيء من الخيل في الحَلْبة، أو هو الذي يجيء عاشرا، يعني متأخرا. وأراد المصنف بذلك أنه ليس من الفصحاء البلغاء المبرِّزين، وإنما هو ممن قُدرته على البيان متواضعة. لكن ضبط المعلقون على «حجة الله البالغة» هذه اللفظة بكسر السين وتشديد الكاف على صيغة المبالغة، وفسروها بالرجل الطويل السكوت، وأظن أنه ليس بصحيح، وطول الصمت لا يدل على أنه غير قادر على البيان. ١٧-٧-٢٠٢٤ 👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋ https://t.me/Attargib
✦─────────── حضرت جبرائیل علیہ السلام کی سرعت رفتار کے عجیب واقعات ✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ ✦─────────── 👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋ https://t.me/Attargib
*تعليق طفيف على بعض الألفاظ في مقدمة «حجة الله البالغة» للإمام الشاه ولي الله الدهلوي* تعليق: الشیخ محمد طلحة بلال أحمد منيار حفظه اللہ قال الشاه ولي الله (1/38) وهو يبين صعوبة التصنيف في علم أسرار الشريعة: ولكن قل من صنف فيه ، أو خاض في تأسيس مبانيه ، أو رتب منه الأصول والفروع ، أو أتى بما يُسْمِنُ أو يُغني من جوع ، وحُقَّ له ذلك ، *ومن المثل السائر في الورى: ومَنِ الرديفُ وقد ركبتَ غضنفراً؟* كيف؟ ولا تتبين أسراره إلا لمن تمكن في العلوم الشرعية بأسرها ، واستبد في الفنون الإلهية عن آخرها ، ولا يصفو مَشْرَبُه إلا لمن شرح الله صدره لعلم لدني ، وملا قلبَهُ بِسِرٌ وَهْبِيٌّ ، وكان مع ذلك وقَّاد الطبيعة ، سَيَّالَ القريحة ، حاذقاً في التقرير والتحرير ، بارعاً في التوجيه والتحبير ، قد عرف كيف يُؤصِّلُ الأصول ، ويبني عليها الفروع ، وكيف يُمَهد القواعد ، ويأتي لها بشواهد المعقول والمسموع. قال العاجز: قوله: *ومن المثل السائر في الورى: ومَنِ الرديفُ وقد ركبتَ غضنفراً؟* هذا شطر بيت لأبي الطيب المتنبي، يمدح به ابن العميد الكاتب، وقبلَه: أنت الوحيدُ إذا ارتكبْتَ (أو ركبتَ) طَرِيقةً. ومعنى البيت كما في «المآخذ على شراح ديوان أبي الطيب المتنبي » 1/ 118: يقول: قد ركبت من خلائقك وطرائقك أمرا لا يتبعك فيه أحد، مخافة الفضيحة، لتقصيره عن مداك، وتأخره عن مغزاك. والأحسن في هذا تفسير الشيخ أبي الحسن الواحدي: قال: يقول: أنت فرد الطريقة في كل أمر تقصده، لا يقدر أحد أن يقتدي بك في طريقتك، كراكب الأسد لا يقدر أحد أن يكون رديفا له، وعلى هذا القول: «الغضنفر» مركوب. ويجوز أن يكون راكبا بأن يكون حالا لممدوح: يقول: لا يقدر أحد أن يكون رديفا لك وأنت غضنفر. اهـ قال العاجز: ضبط لفظ «ركبت» في طبعة الشيخ سعيد البالنبوري (1/38) بضم التاء، والأحسن الفتح لأنه يخاطب به ممدوحه ابن العميد، كما هو في «ديوان المتنبي» وقد قالوا: إن المثل يحكى كما هو بدون تغيير. وقال الشاه ولي الله (1/ 39-40) وهو يتحدث عن سبب تأليف الكتاب: ثم ألهمني ربي بعد زمان أن مما كتبه علي بالقلم العلي ، أن أنتهض يوماً [مَّا] لهذا الأمر الجَلِي ، وأنه أشرقت الأرض بنور ربها ، وانعكست الأضواء عند مغربها ، *وأن الشريعة المصطفوية أشرفت في هذا الزمان ، على أن تَبْرُز فِي قُمُص سابغة من البرهان*.اهـ قال العاجز: قوله: *وأن الشريعة المصطفوية أشرقت* .... ضبط لفظ «أشرفت» في طبعة الشيخ سعيد البالنبوري (1/39) بالقاف من الشروق وهو طلوع الشمس وسطوع ضوئها. لكن في النسخ الخطية بالفاء «أشرفت» أي أطلَّت ورفعت رأسها من علوّ، أي كأنها تنتظر من يبين أسرارها ببراهين ساطعة. وقال الشاه ولي الله (1/41) وهو يتحدَّث عن جهود صديقه محمد عاشق في البحث عن عالم يكون أهلا للتصنيف في أسرار الشريعة: فطاف ما قدر عليه من البلاد ، وبحث من تَوَسَّمَ فيه الخير من العباد، وتفحَّص سِينَهم وشِينَهم ، وسَبَرغّثَّهم وسَمِينَهم ، فلم يجد من يتكلم منه بنافعة ، أو يأتي منه بجذوة ساطعة. اهـ قال العاجز: علَّق الشيخ البالنبوري موضحا معنى «سينهم وشينهم» بقوله: سينهم: لم أجد هذه الكلمة في المعاجم، والمراد: زَينَهم، والشَّيْن: العيب والقبح، خلاف الزَّين. كذا قال! ويرى العاجز: أن المراد حرفا «السين والشين» ويقصد بهما الخامل من أهل العلم والمشهور، لأن السين الخالي من النقط يقال له: مهمل، ويقابله المعجَم، فكنى بالحرف المهمل عن الخمول، وبالمعجم عن الشهرة. وقال الشاه ولي الله (1/43) يتحدث عن نفسه تواضعا وهضما لها: وقدَّمتُ إليه أني سُكَيْتُ نادي البيان ، ضَالِعُ حَلْبة الرهان ، وأني مُتَعَرِّق مِرْمَاة ، وذو بضاعة مُزجاة ، وأنه لا يتأتَّى مني الإمعان في تصفُّح الأوراق ، لشغل قلبي بما ليس له فَواق ... ، قال العاجز: قوله: «سُكَيْتُ» بالتصغير وقد تشدد الكاف: آخِر ما يجيء من الخيل في الحَلْبة، أو هو الذي يجيء عاشرا، يعني متأخرا. وأراد المصنف بذلك أنه ليس من الفصحاء البلغاء المبرِّزين، وإنما هو ممن قُدرته على البيان متواضعة. لكن ضبط المعلقون على «حجة الله البالغة» هذه اللفظة بكسر السين وتشديد الكاف على صيغة المبالغة، وفسروها بالرجل الطويل السكوت، وأظن أنه ليس بصحيح، وطول الصمت لا يدل على أنه غير قادر على البيان. ١٧ جولائ ٢٠٢٤ ✦─────────── 👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋ https://t.me/Attargib
امام مہدی کے متبعین کی تعداد السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ *”حضرت امام مہدی کے ساتھ سارے مسلمانوں میں سے صرف بارہ ہزار کا لشکر ہی آںٔیں گے (یعنی صرف بارہ ہزار مسلمان ہی ساتھ دیں گے باقی سب نہیں دیں گے)* کیا مذکورہ بالا بات درست ہے؟ حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب بھی بیان میں بولے ہیں! *الجواب: وباللہ التوفیق* یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ جو لوگ حضرت مہدی علیہ السلام کے ساتھ ہوں گے، ان کی تعداد میں روایات میں بہت زیادہ اضطراب ہے، شروع میں کم ہوں گے، جیساکہ بعض روایات میں بیعت کرنے والوں کی تعداد سات 7 بتائی ہے، پھر یہ تعداد اہل بدر کی عدد تک پہنچے گی، تقریباً 313۔ پھر جیسے جیسے ظہور کی خبر پھیلے گی، تو ان کے متبعین کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ 12000 بارہ ہزار والی روایت کو مختلف کتابوں میں دیکھا، تو اس کا خلاصہ یہ نکلا، کہ یہ اُس لشکر کی تعداد ہے جو سفیانی کے تعاقب میں بیت المقدس کی طرف روانہ ہوگا۔ ورنہ یمن سے 70,000 ہزار کے آنے کا بھی روایات میں ذکر ہے۔ *بہر حال* : ایک بات سمجھ لیں کہ مہدی علیہ السلام کے بارے میں زیادہ تر روایات ضعیف ہیں، یا من گھڑت ہیں، اس لیے بہت زیادہ تفصیلات بیان کرنے میں غیر معتبر روایات پر استناد ہوگا۔ یہ بھی قابلِ اصلاح ہے کہ بعض واعظین مستقبل کی بعض باتیں اس طرح تفصیل سے اور تمام تر جزئیات کے ساتھ پیش کرتے ہیں، گویا کہ آنکھ سے دیکھے ہوئے حقائق ہوں، حالانکہ ان کا مستند ظنی اور ضعیف روایات ہوتی ہیں، یا نعیم بن حماد کی کتاب الفتن۔ ہاں اتنی بات درست ہے کہ لوگوں کو مستقبل کے خطرات سے آگاہ کیا جائے ہے، مگر ہر واقعے کی تفصیلات میں جانا مناسب نہیں، جبتک کہ ان جزئیات کی تحقیق نہ ہو، کتابوں میں موجود ہر روایت کو مستند ماننا صحیح نہیں ہے۔ رہ گئی بات ظہور مہدی کے قربِ زمانہ کی: تو عاجز کا اندازہ یہ ہے کہ ظہور مہدی کا زمانہ ابھی کافی دور ہے، ہماری زندگیوں میں ظہور شاید نہیں ہوگا، ابھی عالمی حالات اتنے بھی سنگین نہیں ہیں، اس لیے تعداد والی روایت کی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں چالیس پچاس سال کے بعد اگر ایسے حالات پیدا ہوں کہ پھر مہدی کی ضرورت ہو، تو اس وقت کے اہل علم کو ابھی سے وصیت کرتے جاتے ہیں کہ مناسب تحقیق امت کے سامنے پیش کردیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم یاد رکھیں کہ ظہور مہدی، خروج دجال، نزول عیسی، خروج یاجوج و ماجوج، یہ سب قریب قریب واقع ہوں گے، اور ان سب سے پہلے ایسے فتنے حوادث اور انقلابات پیش آئیں گے، کہ سر کے بال سفید ہوجائیں گے، اللہم احفظنا واعصمنا۔ میرا مشورہ اس وقت یہ ہے کہ: اپنے چوبیس گھنٹوں کو اعمال سے معمور رکھیں، نماز، ذکر، تسبیح، تلاوت، تدریس ومطالعہ، تبلیغ، واصلاح نفس ومعاشرہ، نیز مختلف سماجی کام، امداد غرباء ومحتاجین ۔۔۔ وغیرہ تو آہستہ آہستہ مہدی کا خیال نکل کر آپ خود ہادی (یعنی راہ نما) اور مہدی (ہدایت یافتہ) بن جائیں گے، ان شاء اللہ۔ پھر بھی شوق ہو تو ڈاکٹر عبد العلیم بستوی صاحب نے صحیح وضعیف روایات جمع کرکے، تحقیق پیش کی ہے، اس کا مطالعہ کافی ہے۔ ✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ ✦─────────── 👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋ https://t.me/Attargib
✦─────────── من ھو ابو بكر بن عقال الصقلي ✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ ✦─────────── 👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋ https://t.me/Attargib
مسواک أنبیاء کی سنت مسند احمد میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ: "چار چیزیں پیغمبروں کی سنتیں ہیں: عطر لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا، اور شرم وحیاء". دو تین مرتبہ حضرت مولانا سیف الدین صاحب دامت برکاتہم کے دار العلوم والتربیت - گھڑا، ہمت نگر - جانا ہوا، وہاں دیکھا کہ ہر طالب علم کی جیب میں مسواک ہوتا ہے، اور روزانہ صبح مدرسے جاتے وقت ہر طالب علم کو چیک کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس مسواک ہے یا نہیں۔ مسواک کی احادیث میں بڑی تاکید آئی ہے، مشہور حدیث ہے کہ: اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن ورات کے مختلف اوقات وحالات میں کثرت سے مسواک کرتے تھے، وضوء کے وقت، گھر میں داخل ہوتے وقت، نیند سے بیدار ہونے کے بعد، اور روزے کی حالت میں بھی استعمال فرماتے تھے۔ بزرگانِ دین وصلحاء کا بھی معمول رہا ہے۔ مگر بہت کم لوگ جیب میں مسواک رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں، اور زیادہ تر لوگ وضوء کے وقت انگلی پھیرنا کافی سمجھتے ہیں۔ لہذا اس متروکہ سنت کو عام کرنے کی اور لوگوں کو اس کی پابندی کرنے کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ ✦─────────── 👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋ https://t.me/Attargib
*تحیۃ المسجد کی اہمیت* مشہور صحیح حدیث ہے: (إذا دخل أحدكم المسجد فلا يجلس حتى يصلي ركعتين) اس حدیث کے پیش نظر: جو شخص مسجد کے جماعت خانے میں داخل ہو، اور اس وقت مکروہ وقت نہ ہو، اور جماعت کی نماز بھی شروع نہیں ہوئی ہو تو ایسے شخص کو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت تحية المسجد (جو مسنون ہے) پڑھنی چاہیے، یہ بندوں کا رب المسجد کو سلام کرنے کا طریقہ ہے۔ اگر کوئی شخص مسجد میں پہنچ کر بیٹھ جائے، پھر کھڑا ہو، اور دو رکعت پڑھے تو یہ بھی تحیة المسجد ہے، بیٹھنے کی وجہ سے تحیۃ المسجد فوت نہیں ہوتی۔ مسجد میں داخل ہونے کے بعد اگر کوئی سنت ادا کی، یا جماعت کی نماز کھڑی ہوگئی اور جماعت میں شامل ہوگیا، تو تحیۃ المسجد اس میں داخل ہو جاتی ہے، الگ سے پڑھنا ضروری نہیں۔ گھر سے سنت پڑھ کر اگر مسجد جائے، تو فجر کے علاوہ دیگر نمازوں سے پہلے وقت کی اگر گنجائش ہو، تو تحیۃ المسجد ادا کرنی چاہیے۔ "صحیح ابن حبان" میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ ایک مرتبہ وہ تحیۃ المسجد پڑھے بغیر بیٹھ گئے، آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم نے تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں پڑھ لیں؟ حضرت ابوذر نے نفی میں جواب دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور دو رکعتیں پڑھو۔ *تحیۃ المسجد کی حکمتیں:* حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے "حجۃ اللہ البالغہ" میں اس کی تین حکمتیں بیان فرمائی ہیں، جن کا ترجمہ اس کی شرح "رحمۃ اللہ الواسعہ" میں اس طرح تحریر فرمایا ہے: 1- پہلی وجہ یہ ہے کہ: مسجد میں پہنچ کر بھی (جو کہ خاص نماز ہی کے لیے تیار کی گئی ہے) نماز میں مشغول نہ ہونا محرومی اور افسوس کی بات ہے۔ 2- دوسری وجہ: مسجد میں آدمی فرض نماز ادا کرنے کے لیے پہنچتا ہے، اور تحیۃ المسجد ایک محسوس چیز کے ذریعہ فرض کی رغبت متعین کرنے کے لئے مشروع کی گئی ہے، یعنی دو رکعتیں پڑھنے سے فرض کی رغبت محسوس ہوکر سامنے آجائے گی۔ 3- تیسری وجہ یہ ہے کہ: یہ مسجد کے احترام کے لیے ہے، مسجد کو اللہ تعالیٰ سے ایک خاص نسبت ہے، اور اِسی وجہ سے اس کو خانۂ خدا کہتے ہیں، پس اس کا یہ حق ہے کہ اس کا احترام کیا جائے، اور تحیۃ المسجد اسی حق کی ادائیگی کے لیے ہے۔ (رحمۃ اللہ الواسعہ: ۳۵۳٫۳) اپنے دیار میں تحیۃ المسجد کا اہتمام نہیں ہوتا ہے، اکثر لوگوں کو دیکھا کہ جماعت کی نماز سے پہلے مسجد میں داخل ہوکر نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں، تحیۃ المسجد نہیں پڑھتے۔ ضرورت ہے کہ اس کے بارے میں لوگوں کو ترغیب دی جائے۔ ✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ ✦─────────── 👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋ https://t.me/Attargib