tgindex
دارالافتاء بھاٹاباری

دارالافتاء بھاٹاباری

Статистика

"دارالافتاء بھاٹاباری"ٹیلیلی گرام کی دنیا کا سب سے زیادہ مکمل و مدلل حنفی دیوبندی چینل ہے جس میں مسائل کا بہت بڑا مجموعہ ہے ۔ سوال پوچھیں👇 @Daruleftabhatabarii_bot مسئلہ تلاش کریں 👇 @FatwaBot https://t.me/joinchat/AAAAAFUIaRVozEWMzYLUoQ

Последний пост
26 июн.
Последнее чтение
15 авг.
Постов за неделю
0
Всего постов
22
Тип
открытый
Язык
ur
Категория
Книги (по похожим)
В каталоге с
15 авг.
Подписчики
1 282
−1 за 3 дн.
Сутки
−1
−0,08%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
521
22 постов
Вовлечённость
40,6%
к подписчикам
Постов в день
0,0
всего 22
Упоминаний
0
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
1/48двое суток
1/72трое суток

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • █▒▒▒▒ دارالافتاء بھاٹاباڑی ▒▒▒▒█ █▒ #کتاب_النکاح ▒█ █▒▒ سوال نمبر: 14481917▒▒█ █▒▒▒▒ مسئلے کا عنوان ▒▒▒▒█   سمدھی اور سمدھن میں نکاح کا حکم █▒▒▒▒▒سوال کا متن▒▒▒▒▒█        سمدھی اور سمدھن میں نکاح کا کیا حکم ہے جب کہ دونوں نے اپنی اپنی لڑکیاں ایک دوسرے کے یہاں نکاح میں دے رکھی ہے ؟ █▒▒▒▒▒جواب کا متن▒▒▒▒▒█         جائز ہے ۔    (فتاوی محمودیہ: ۱۶/۳۹۵، ط: جامعہ محمودیہ، میرٹھ یوپی)    لا بأس بأن يتزوج الرجل المرأة ويتزوج ابنه ابنتها أو أمها". (الفتاوى العالمكيرية، كتاب النكاح الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم الثاني المحرمات بالصهرية:۲۷۷/١ رشیدیه ) فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔ کَتَبَہُ الْعَبْدُمُنَوَّرُبْنُ مُصْلِحِ الدِّیْنْ شیخ بھاٹاباری 9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء الجواب صحیح : ابو محمد منور صوفی 9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء █▒۔𝒟𝒶𝓇𝓊𝓁𝒾𝒻𝓉𝒶 ℬ𝒽𝒶𝓉𝒶𝒷𝒶𝓇𝒾 ▒█ █▒ #اردو_فتاوی ▒█ ضروری سوال پوچھنے کے لیے کلک کریں █▒۔ https://masailemmb.blogspot.com/2023/07/blog-post.html?m=1 ▒█

  • █▒▒▒▒ دارالافتاء بھاٹاباڑی ▒▒▒▒█ █▒ #کتاب_الفرائض  ▒█ █▒▒ سوال نمبر: 14481916▒▒█ █▒▒▒▒ مسئلے کا عنوان ▒▒▒▒█     میراث میں بیٹی کا حصہ بیٹے سے کم کیوں؟ █▒▒▒▒▒سوال کا متن▒▒▒▒▒█         مفتیان کرام     شریعت میں ترکے میں عورت کا حصہ مرد کے حصے سے کم ہے اسکی اوپر شرعی دلائل موجود ہیں ؟ █▒▒▒▒▒جواب کا متن▒▒▒▒▒█         جی موجود ہیں یُوْصِیْکُمْ اللّٰہُ فِیْ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ۔ (سورۃ النساء:آیت؍۱۱ فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔ کَتَبَہُ الْعَبْدُمُنَوَّرُبْنُ مُصْلِحِ الدِّیْنْ شیخ بھاٹاباری 9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء الجواب صحیح : ابو محمد منور صوفی 9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء █▒۔𝒟𝒶𝓇𝓊𝓁𝒾𝒻𝓉𝒶 ℬ𝒽𝒶𝓉𝒶𝒷𝒶𝓇𝒾 ▒█ █▒ #اردو_فتاوی ▒█ ضروری سوال پوچھنے کے لیے کلک کریں █▒۔ https://masailemmb.blogspot.com/2023/07/blog-post.html?m=1 ▒█

  • █▒▒▒▒ دارالافتاء بھاٹاباڑی ▒▒▒▒█ █▒ #کتاب_الفرائض ▒█ █▒▒ سوال نمبر: 14471915▒▒█ █▒▒▒▒ مسئلے کا عنوان ▒▒▒▒█ چھ بہنوں، دو بھائیوں اور ایک بیوی کے درمیان تقسیمِ وراثت : █▒▒▒▒▒سوال کا متن▒▒▒▒▒█        مفتی صاحب ایک فرائض کرکے دیجیے کہ مالِ وراثت 17 ڈسمل زمین ہے اور وارثین میں میت کی 6 بہنیں، 2 بھائی اور 1 بیوی ہیں۔ کون کتنا پائیگا؟ █▒▒▒▒▒جواب کا متن▒▒▒▒▒█         صورتِ مسئولہ میں بر تقدیرِ صحت ِ سوال اور کوئی مانع إرث بھی نہ ہو، میت کا کوئی اور وارث بھی نہ ہو تو امور متقدمہ علی المیراث ادا کرنے کے بعد میت کا کل ترکہ 40 سہام میں تقسیم ہوگا ان میں سے 10 سہام یعنی 4 ڈسمل 250 ورگ کڑی زمین میت کی بیوی کو ملے گی ، میت کے ہر بھائی کو 6 سہام یعنی 2 ڈسمل 550 ورگ کڑی کرکے اور میت کی ہر بہن کو 3 سہام یعنی 1 ڈسمل 275 ورگ کڑی کرکے ملے گی ۔ قال اللّٰہ تعالیٰ: {وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَمْ یَکُنْ لَکُمْ وَلَدٌ، فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ} النساء، جزء آیت: ۱۲ و فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : "أقارب من جهة الأب، قال النووي رحمه الله: ‌قد ‌أجمعوا ‌على ‌أن ‌ما ‌بقي بعد الفرائض فهو للعصبات يقدم الأقرب فالأقرب فلا يرث عاصب بعيد مع وجود قريب". ‌‌باب الفرائض، 2022/5، ط : دار الفكر فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔ کَتَبَہُ الْعَبْدُمُنَوَّرُبْنُ مُصْلِحِ الدِّیْنْ بھاٹاباری 20 ذو الحجة 1447ھ 06 جون 2026 ء الجواب صحیح : ابو محمد منور صوفی 20 ذو الحجة 1447ھ 06 جون 2026 ء █▒۔𝒟𝒶𝓇𝓊𝓁𝒾𝒻𝓉𝒶 ℬ𝒽𝒶𝓉𝒶𝒷𝒶𝓇𝒾 ▒█ █▒ #اردو_فتاوی ▒█ ضروری سوال پوچھنے کے لیے کلک کریں █▒۔ https://masailemmb.blogspot.com/2023/07/blog-post.html?m=1 ▒█

  • █▒▒▒▒ دارالافتاء بھاٹاباڑی ▒▒▒▒█ █▒ #کتاب_الأسماء ▒█ █▒▒ سوال نمبر: 14471914▒▒█ █▒▒▒▒ مسئلے کا عنوان ▒▒▒▒█ قیس نام رکھنا کیسا ہے؟ █▒▒▒▒▒سوال کا متن▒▒▒▒▒█        ایک مسئلہ معلوم کرنا تھا وہ یہ کہ ایک لڑکا پیدا ہوا ہے گھر والوں نے اس کا نام رکھا ہے محمد قیس یہ نام رکھ سکتے ہیں کیا؟ یہ نام چند صحابہ کرام کا بھی تھا؟ مدلل جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں جزاک اللہ خیرا █▒▒▒▒▒جواب کا متن▒▒▒▒▒█         جی ہاں ’’قیس‘‘ صحابی کا نام ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نسبت سے نام رکھنا باعثِ برکت ہے۔ مندرجہ ذیل حدیث میں حضرت قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر ہے ۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرَطِ مِنَ الْأَمِيرِ .(ترمذی شریف جلد٤/ ٥٥١ دار التاصیل) فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔ کَتَبَہُ الْعَبْدُمُنَوَّرُبْنُ مُصْلِحِ الدِّیْنْ شیخ بھاٹاباری 30/ رجب 1447ھ 20 /جنوری 2026 ء الجواب صحیح : محمد حیدر مظاہری 3 شعبان 1447ھ 23 جنوری 2026 ء █▒۔𝒟𝒶𝓇𝓊𝓁𝒾𝒻𝓉𝒶 ℬ𝒽𝒶𝓉𝒶𝒷𝒶𝓇𝒾 ▒█ █▒ #اردو_فتاوی ▒█ ضروری سوال پوچھنے کے لیے کلک کریں █▒۔ https://masailemmb.blogspot.com/2023/07/blog-post.html?m=1 ▒█

  • داستانِ دل خراش نتیجۂ فکر مفتی منور بھاٹاباڑی 09-12-2025 آواز قاری نور الاسلام عرفانی یہ ستمگروں کا ہے مے کدہ، میں بتاؤں کس کا ستم تجھے؟ یہ تو ظالموں کا ہے مے کدہ، میں سناؤں کتنا الم تجھے؟ میری دل خراش ہے داستاں، جو گھڑی گھڑی کی ہے امتحاں کبھی سن کے رو دیا بے زباں، میں سناؤں کتنا یہ غم تجھے؟ یہاں باطلوں کا مکان ہے، یہاں فاسدوں کا زمان ہے یہاں ظالموں کی کمان ہے، میں بتاؤں کس کا علم تجھے؟ میرے آنسوؤں کی خبر نہیں، میری عاجزی پہ نظر نہیں مجھے سن سکے وہ جگر نہیں، کیا دکھاؤں آنکھیں میں نم تجھے؟ کسے منتہائے ستم کہوں ، کسے مبتلائے الم کہوں جسے جو کہوں وہ بھی کم کہوں ، میں بتاؤں کس کا دھرم تجھے؟ میں سنارہا ہوں جو حالتیں، وہ غزل نہیں، نہ روایتیں یہ ہیں درد و غم کی عمارتیں، میں بتاؤں کس کا بھرم تجھے؟ یہ منور اپنے الم کبھی، کیے شاعری میں رقم کبھی تو ہوئیں ہیں آنکھیں بھی نم کبھی ، کیا بتاؤں دردِ دِلَم تجھے؟

  • без подписи

  • █▒▒▒▒ دارالافتاء بھاٹاباڑی ▒▒▒▒█ █▒ #کتاب_الفرائض ▒█ █▒▒ سوال نمبر: 14471913▒▒█ █▒▒▒▒ مسئلے کا عنوان ▒▒▒▒█ میت کے ایک بھائی، ایک بیوی اور سات بیٹیوں کے درمیان تقسیمِ وراثت : █▒▒▒▒▒سوال کا متن▒▒▒▒▒█        مسئلہ یہ ہے کہ میت کے ایک بھائی، ایک بیوی اور سات بیٹیوں کے درمیان ایک بیگھہ زمین بٹوارہ کیسے کریں گے بتائیں █▒▒▒▒▒جواب کا متن▒▒▒▒▒█        صورتِ مسئولہ میں بر تقدیرِ صحت ِ سوال اور کوئی مانع إرث بھی نہ ہو، میت کا کوئی اور وارث بھی نہ ہو تو امور متقدمہ علی المیراث ادا کرنے کے بعد میت کا کل ترکہ 168 سہام میں تقسیم ہوگا ان میں سے 16 سہام کرکے میت کی ہر بیٹی کو یعنی سات بیٹیوں کو ٹوٹل 112 سہام ملیں گے، میت کی بیوی کو 21 سہام اور میت کے بھائی کو 35 سہام ملیں گے ۔ یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ فَاِنۡ کُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ اثۡنَتَیۡنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ۚ وَ اِنۡ کَانَتۡ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصۡفُ ؕ وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنۡ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَہٗۤ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہٗۤ اِخۡوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ لَا تَدۡرُوۡنَ اَیُّہُمۡ اَقۡرَبُ لَکُمۡ نَفۡعًا ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۱﴾ فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔ کَتَبَہُ الْعَبْدُمُنَوَّرُبْنُ مُصْلِحِ الدِّیْنْ شیخ بھاٹاباری 22 رجب 1447ھ مطابق 12 جنوری 2026 ء الجواب صحیح : مفتی ابو محمود شاہد حسن عثمانی 22 رجب 1447ھ مطابق 12 جنوری 2026 ء الجواب صحیح : محمد حیدر مظاہری 22 رجب 1447ھ مطابق 12 جنوری 2026 ء █▒۔𝒟𝒶𝓇𝓊𝓁𝒾𝒻𝓉𝒶 ℬ𝒽𝒶𝓉𝒶𝒷𝒶𝓇𝒾 ▒█ █▒ #اردو_فتاوی ▒█ ضروری سوال پوچھنے کے لیے کلک کریں █▒۔ https://masailemmb.blogspot.com/2023/07/blog-post.html?m=1 ▒█

  • █▒▒▒▒ دارالافتاء بھاٹاباڑی ▒▒▒▒█ █▒ #کتاب_الصلوۃ ؛ #باب_صلوۃ_المسافر ▒█ █▒▒ سوال نمبر: 14471912 ▒▒█ █▒▒▒▒ مسئلے کا عنوان ▒▒▒▒█ سفر کی فوت شدہ نمازوں کو کیسے پڑھیں؟ █▒▒▒▒▒سوال کا متن▒▒▒▒▒█        حضرت احقر نے تین دن کا سفر کیا یعنی تین دن یا اس سے زیادہ دن کا مسافر ہےاور نمازیں قضا ہوگئیں تو ان قضا والی نمازوں کو کیسے ادا کریں گے قصر یا پوری چار چار رکعتیں؟ █▒▒▒▒▒جواب کا متن▒▒▒▒▒█         حالتِ سفر کی قضا شدہ نمازوں میں فجر دو رکعتیں اور مغرب تین رکعتیں یعنی مقیم کی طرح اور مابقی چار رکعت والی نمازوں یعنی ظہر، عصر اور عشاء میں قصر یعنی دو دو رکعتیں ہی پڑھنی ہے۔ اور عشاء کے دو فرض کے ساتھ مکمل تین رکعتیں وتر بھی پڑھنی ہے ۔ و يقضى المقيم فائتة السفر ركعين الخ (رد المحتار الباب قضاء الفوائت ) مستفاد از فتاوی حقانیہ جلد ٣/ ٢٩٩ اکوڑہ خٹک فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔ کَتَبَہُ الْعَبْدُمُنَوَّرُبْنُ مُصْلِحِ الدِّیْنْ شیخ بھاٹاباری 21 رجب 1447ھ 11 جنوری 2026 ء الجواب صحیح : مفتی ابو محمود شاہد حسن عثمانی 21 رجب 1447ھ 11 جنوری 2026 ء █▒۔𝒟𝒶𝓇𝓊𝓁𝒾𝒻𝓉𝒶 ℬ𝒽𝒶𝓉𝒶𝒷𝒶𝓇𝒾 ▒█ █▒ #اردو_فتاوی ▒█ ضروری سوال پوچھنے کے لیے کلک کریں █▒۔ https://masailemmb.blogspot.com/2023/07/blog-post.html?m=1 ▒█

  • █▒▒▒▒ دارالافتاء بھاٹاباڑی ▒▒▒▒█ █▒ #کتاب_القراءۃ_والتجوید ▒█ █▒▒ سوال نمبر: 14471911▒▒█ █▒▒▒▒ مسئلے کا عنوان ▒▒▒▒█ "بِمُصَۜیْطِرٍ" کو سین کے ساتھ پڑھیں یا صاد پڑھیں؟ █▒▒▒▒▒سوال کا متن▒▒▒▒▒█        امید ہے کہ آپ بخیر ہوں گے عرض خدمت یہ ہے کہ لفظ "بِمُصَۜیْطِرٍ" میں  حرفِ سین پڑھا جائے گا یا حرفِ صاد پڑھا جائے گا  ؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی فقط وسلام  █▒▒▒▒▒جواب کا متن▒▒▒▒▒█         بِمُصَۜیْطِرٍ میں سین اور صاد دونوں طرح پڑھنا درست ہے ۔ قوله تعالى : ( بِمُصَيْطِرٍ ) ۲۲ قرأ هشام بالسين ، وقرأ خلف - عن حمزة - : بإشمام الصاد كالزاي ، وقرأ خلاد بالإشمام كخلف ، وله - أيضا - بالصاد ، وقرأ قنبل ، وابن ذكوان ، وحفص : بالصاد والسين ، والباقون بالصاد.(البدور الزاهرة في القراءات العشر المتواترة المجلد الرابع بالصفحۃ ٢٦٨ مکتبۃ النوادر) فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔ کَتَبَہُ الْعَبْدُمُنَوَّرُبْنُ مُصْلِحِ الدِّیْنْ شیخ بھاٹاباری 21 رجب 1447ھ مطابق 11 جنوری 2026 ء الجواب صحیح : ابو محمد منور صوفی 21 رجب 1447ھ مطابق 11 جنوری 2026 ء الجواب صحیح : محمد حیدر مظاہری 21 رجب 1447ھ مطابق 11 جنوری 2026 ء █▒۔𝒟𝒶𝓇𝓊𝓁𝒾𝒻𝓉𝒶 ℬ𝒽𝒶𝓉𝒶𝒷𝒶𝓇𝒾 ▒█ █▒ #اردو_فتاوی ▒█ ضروری سوال پوچھنے کے لیے کلک کریں █▒۔ https://masailemmb.blogspot.com/2023/07/blog-post.html?m=1 ▒█

  • █▒▒▒▒ دارالافتاء بھاٹاباڑی ▒▒▒▒█ █▒ #کتاب_الصلوۃ #باب_ما_یفسد_و_ما_لا_یفسد ▒█ █▒▒ سوال نمبر: 14471910▒▒█ █▒▒▒▒ مسئلے کا عنوان ▒▒▒▒█ "عذابا أليمًا" کی جگہ "أجرا کریمًا" پڑھنے سے نماز کا حکم : █▒▒▒▒▒سوال کا متن▒▒▒▒▒█        "يدخل من يشاء في رحمته. والظالمين اعد لهم عذابا اليما (سورۂ دہر)" میں عذابا أليما کی جگہ أجرا کریما پڑھنے سے نماز ہوجائے گی؟ █▒▒▒▒▒جواب کا متن▒▒▒▒▒█         نہیں ہوگی کیونکہ معنی کے اندر تغیر فاحش پیدا ہوچکا ہے۔ لوبدل کلمۃ بکمۃ وغیر المعنی قال الشامي ہذا علی أربعۃ أوجہ؛ لأن الکلمۃ التي أتیٰ بہا إما إن تغیر المعني أولا وعلی کل فإما أن تکون في القرآن أولا فإن غیرت أفسدت۔ (شامي، کتاب الصلاۃ، باب مایفسد الصلاۃ، ومایکرہ فیہا، مطلب إذا قرأ قولہ تعالی جدک بدون ألف لاتفسد، کراچی ۱/۶۳۴، زکریا ۲/۳۹۷) مستفاد از فتاوی دارالعلوم زکریا جلد ٢/ ١٩٧ زمزم پبلشز کراچی فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔ کَتَبَہُ الْعَبْدُمُنَوَّرُبْنُ مُصْلِحِ الدِّیْنْ شیخ بھاٹاباری 20 رجب 1447ھ مطابق 10 جنوری 2026 ء الجواب صحیح : محمد حیدر مظاہری 20 رجب 1447ھ مطابق 10 جنوری 2026 ء █▒۔𝒟𝒶𝓇𝓊𝓁𝒾𝒻𝓉𝒶 ℬ𝒽𝒶𝓉𝒶𝒷𝒶𝓇𝒾 ▒█ █▒ #اردو_فتاوی ▒█ ضروری سوال پوچھنے کے لیے کلک کریں █▒۔ https://masailemmb.blogspot.com/2023/07/blog-post.html?m=1 ▒█

  • █▒▒▒▒ دارالافتاء بھاٹاباڑی ▒▒▒▒█ █▒ #کتاب_النکاح ▒█ █▒▒ سوال نمبر: 14471909▒▒█ █▒▒▒▒ مسئلے کا عنوان ▒▒▒▒█ اسقاط حمل کا حکم: █▒▒▒▒▒سوال کا متن▒▒▒▒▒█        امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت وعافیت سے ہونگے حضرت مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے ایک مہینے کا حمل ہے کسی مجبوری کی وجہ سے ایک مہینے حمل گرا سکتے ہیں اور اگر گرا دیا تو کیا گنجائش ھے ذرا رہنمائی فرمائیں █▒▒▒▒▒جواب کا متن▒▒▒▒▒█         واضح رہے کہ بغیر عذر شدید کے حمل کا گرانا جائز نہیں ہے ہاں مگر عورت کی جان کا خطرہ ہو یا دودھ پیتے بچے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو حمل ٹھہرنے کے بعد ایک سو بیس(١٢٠) دن گذرنے سے پہلے پہلے اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے، اور ایک سو بیس (١٢٠) دن گذرنے کے بعد شدید مجبوری کے باوجود بھی جائز نہیں ہے۔ فی "النهر الفائق شرح كنز الدقائق" : هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولم يكن ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في (الفتح)، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج."( كتاب النكاح، باب نكاح الرقيق، ٢ / ٢٦٧، ط: دار الكتب العلمية) امرأۃ عالجت فی إسقاط ولدہا لا تأثم مالم یستبن شیئ من خلقہ۔ (البحر الرائق، کتاب الکراہیۃ زکریا ۸/۳۷۶، کوئٹہ ۸/۲۰۵) فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔ کَتَبَہُ الْعَبْدُمُنَوَّرُبْنُ مُصْلِحِ الدِّیْنْ شیخ بھاٹاباری 19 رجب 1447ھ مطابق 09 جنوری 2026 ء الجواب صحیح : ابو محمد منور صوفی 19 رجب 1447ھ مطابق 09 جنوری 2026 ء █▒۔𝒟𝒶𝓇𝓊𝓁𝒾𝒻𝓉𝒶 ℬ𝒽𝒶𝓉𝒶𝒷𝒶𝓇𝒾 ▒█ █▒ #اردو_فتاوی ▒█ ضروری سوال پوچھنے کے لیے کلک کریں █▒۔ https://masailemmb.blogspot.com/2023/07/blog-post.html?m=1 ▒█

  • █▒▒▒▒ دارالافتاء بھاٹاباڑی ▒▒▒▒█ █▒ #کتاب_الأسماء ▒█ █▒▒ سوال نمبر: 14471908▒▒█ █▒▒▒▒ مسئلے کا عنوان ▒▒▒▒█ فلک نام رکھنا کیسا ہے؟ █▒▒▒▒▒سوال کا متن▒▒▒▒▒█        عرض یہ کرنا ہے کہ فلک نام رکھنا کیسا ہے؟ █▒▒▒▒▒جواب کا متن▒▒▒▒▒█        فلک نام رکھنا درست ہے، فلک بمعنی آسمان(فیروز اللغات مادہ ف، ل، ک) بہتر یہ ہے کہ صحابہ و صحابیات اور صلحاء و صالحات کے ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے ۔ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ، فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ ‘‘( سنن أبي داود | أَوْلُ كِتَابِ الْأَدَبِ | بَابٌ : فِي تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ ، رقم الحدیث ۴۹۴۸ فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔ کَتَبَہُ الْعَبْدُمُنَوَّرُبْنُ مُصْلِحِ الدِّیْنْ شیخ بھاٹاباری 18 رجب 1447ھ مطابق 08 جنوری 2026 ء الجواب صحیح : ابو محمد منور صوفی 18 رجب 1447ھ مطابق 08 جنوری 2026 ء █▒۔𝒟𝒶𝓇𝓊𝓁𝒾𝒻𝓉𝒶 ℬ𝒽𝒶𝓉𝒶𝒷𝒶𝓇𝒾 ▒█ █▒ #اردو_فتاوی ▒█ ضروری سوال پوچھنے کے لیے کلک کریں █▒۔ https://masailemmb.blogspot.com/2023/07/blog-post.html?m=1 ▒█

  • █▒▒▒▒ دارالافتاء بھاٹاباڑی ▒▒▒▒█ █▒ #کتاب_الصلوۃ ▒█ █▒▒ سوال نمبر: 14471907▒▒█ █▒▒▒▒ مسئلے کا عنوان ▒▒▒▒█ دو سجدوں کے درمیان دعا پڑھنے کا حکم : █▒▒▒▒▒سوال کا متن▒▒▒▒▒█        نماز کے دو سجدوں کے درمیان جو دعا پڑھی جاتی ہے، اس کے صحیح الفاظ حدیث میں کیا ہیں؟ █▒▒▒▒▒جواب کا متن▒▒▒▒▒█         سننِ ترمذی شریف میں ان الفاظ ”اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی، وَارْحَمْنِی، وَاجْبُرْنِی، وَاہْدِنِی، وَارْزُقْنِی‘‘ کے ساتھ منقول ہے۔ عن ابن عباس -رضي اﷲ عنہ- أن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم کان یقول بین السجدتین: ’’اللہم اغفرلي، وارحمني، واجبرني، واہدني، وارزقني‘‘۔ (سنن الترمذي، الصلاۃ، باب ما یقول بین السجدتین؟ النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۶۳، دارالسلام، رقم: ۲۸۴) عن ابن عباس -رضي اﷲ عنہ- قال: کان رسول اﷲ ﷺ یقول بین السجدتین: ’’اللہم اغفرلي، وارحمني، واجبرني، وارفعني، وارزقني‘‘۔ (المستدرک، الصلاۃ، مکتبہ نزار مصطفی الباز ۱/ ۳۹۷، رقم: ۱۰۰۴) عن ابن عباس -رضي اﷲ عنہ- إلی- فقال بین السجدتین: ’’اللہم اغفرلي، وارحمني، واجبرني، وارفعني، وارزقني، واہدني‘‘۔ (المعجم الکبیر للطبراني، دار احیاء التراث العربي ۱۲/ ۲۰، رقم: ۱۲۳۴۹) واضح رہے کہ اس قسم کی دعائیں نفل نمازوں میں پڑھنا بالاتفاق مستحب ہے۔ اور بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ فرائض میں ان مقامات میں اس قسم کی دعائیں مسنون یا مستحب نہیں اور حدیث شریف نوافل پر محمول ہے۔ و فی "الفتاوی الشامیۃ " : ویجلس بین السجدتین مطمئنا … ولیس بینہما ذکر مسنون، وکذا لیس بعد رفعہ من الرکوع دعاء، وکذا لا یأتي في رکوعہ وسجودہ بغیر التسبیح علی المذہب، وما ورد محمول علی النفل۔(الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، کراچی ۱/ ۵۰۵-۵۰۶، زکریا مستفاد از فتاوی قاسمیہ جلد ٨/ ١٩٧ اشرفیہ دیوبند فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔ کَتَبَہُ الْعَبْدُمُنَوَّرُبْنُ مُصْلِحِ الدِّیْنْ شیخ بھاٹاباری 18 رجب 1447ھ مطابق 08 جنوری 2026 ء الجواب صحیح : ابو محمد منور صوفی 18 رجب 1447ھ مطابق 08 جنوری 2026 ء █▒۔𝒟𝒶𝓇𝓊𝓁𝒾𝒻𝓉𝒶 ℬ𝒽𝒶𝓉𝒶𝒷𝒶𝓇𝒾 ▒█ █▒ #اردو_فتاوی ▒█ ضروری سوال پوچھنے کے لیے کلک کریں █▒۔ https://masailemmb.blogspot.com/2023/07/blog-post.html?m=1 ▒█

  • █▒▒▒▒ دارالافتاء بھاٹاباڑی ▒▒▒▒█ █▒ #کتاب_الأسماء ▒█ █▒▒ سوال نمبر: 14471906▒▒█ █▒▒▒▒ مسئلے کا عنوان ▒▒▒▒█ حنظلہ کا تلفظ اور اسکے معنی: █▒▒▒▒▒سوال کا متن▒▒▒▒▒█        حنظلہ کا صحیح تلفظ اور اسکے معنی کیا ہیں؟ مہر بانی فر ما کر جواب عنا یت فر ما ے █▒▒▒▒▒جواب کا متن▒▒▒▒▒█          ’’حنظلہ‘‘ کا تلفظ بفتحِ الحاء و سکون النون و فتح الظاء واللام و سکون الہاء(حَنْظَلَہْ) جو ’’حنظل‘‘ سے ہے، جس کے معنی ہیں اندرائن جو ایک قسم کا درخت ہوتا ہے جس کاپھل نارنگی جیساہوتاہے، اور صحابی کا نام بھی ہے ۔ (مستفاد مصباح اللغات مادہ ح ن ظ) فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔ کَتَبَہُ الْعَبْدُمُنَوَّرُبْنُ مُصْلِحِ الدِّیْنْ شیخ بھاٹاباری 05 / رجب المرجب 1447ھ مطابق 26/ دسمبر 2025ء ۔ الجواب صحیح : ابو محمد منور صوفی 05 / رجب المرجب 1447ھ مطابق 26/ دسمبر 2025ء ۔ █▒۔𝒟𝒶𝓇𝓊𝓁𝒾𝒻𝓉𝒶 ℬ𝒽𝒶𝓉𝒶𝒷𝒶𝓇𝒾 ▒█ █▒ #اردو_فتاوی ▒█ ضروری سوال پوچھنے کے لیے کلک کریں █▒۔ https://masailemmb.blogspot.com/2023/07/blog-post.html?m=1 ▒█

  • اردو فتاوی کی چند کتب ترتیب برائے مشق و حفظ ترتیب دہندہ مفتی منور بھاٹاباڑی ۔ 21-12-2025 ======================== 01 - فتاوی حبیبیہ 02 - فتاوی حسینیہ 03 - فتاوی خلیلیہ 04 - فتاوی رحیمیہ 05 - فتاوی رشیدیہ 06 - فتاوی رفیقیہ 07 - فتاوی سعیدیہ 08 - فتاوی فریدیہ 09 - فتاوی فلاحیہ 10 - فتاوی نظامیہ 11 - فتاوی قاسمیہ 12 - فتاوی قادریہ 13 - فتاوی دینیہ 14 - فتاوی حقانیہ 15 - فتاوی عثمانیہ 16 - فتاوی محمودیہ 17 - فتاوی یوسفیہ 18 - فتاوی دارالعلوم دیوبند 19 - فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند 20 - فتاوی دارالعلوم کراچی 21 - فتاوی دارالعلوم زکریا 22 - فتاوی دارالعلوم اشرفیہ 23 - فتاوی احیاء العلوم 24 - فتاوی انوار العلوم 25 - فتاوی ریاض العلوم 26 - فتاوی مظاہر علوم 27 - فتاوی عثمانی 28 - فتاوی احمدی 29 - فتاوی عزیزی 30 - فتاوی قاضی 31 - فتاوی عباد الرحمن 32 - فتاوی شیخ الاسلام 33 - فتاوی بینات 34 - فتاوی باقیات 35 - فتاوی امارت شرعیہ 36 - فتاوی صدارت العالیہ 37 - فتاوی علماء ہند 38 - فتاوی ندوۃ العلماء 39 - فتاوی بسم اللہ 40 - فتاوی جامعہ کھروڈ 41 - فتاوی مفتی محمود 42 - فتاوی حکمت 43 - فتاوی ختم نبوت 44 - فتاوی مظہر سعادت 45 - فتاوی فرنگی محلی 46 - فتاوی عبدالمغنی 47 - فتاوی عبد الحیی 48 - فتاوی مفتی سیاح الدین 49 - فتاوی شاکر خان 50 - فتاوی ناموس انبیاء کرام علیہم 51 - فتاوی سنگرہ 52 - امداد الفتاوی 53 - انوار الفتاوی 54 - محمود الفتاوی 55 - مرغوب الفتاوی 56 - اشرف الفتاوی 57 - احسن الفتاوی 58 - جواہر الفتاوی 59 - حوادث الفتاوی 60 - کتاب الفتاوی 61 - نظام الفتاوی 62 - حبیب الفتاوی 63 - عزیز الفتاوی 64 - وحید الفتاوی 65 - معین الفتاوی 66 - خیر الفتاوی 67 - نجم الفتاوی 68 - جامع الفتاوی 69 - کاشف الفتاوی 70 - مجموعۃ الفتاوی 71 - ثمینۃ الفتاوی 72 - زبدۃ الفتاوی 73 - روضۃ الفتاوی 74 - کتاب المسائل 75 - ایضاح المسائل 76 - نخبۃ المسائل 77 - اہم مسائل 78 - محقق و مدلل جدید مسائل 79 - کتاب النوازل 80 - کفایۃ المفتی 81 - امداد الاحکام 82 - آپ کے مسائل اور ان کا حل 83 - نوادر الفقہ 84 - جواہر الفقہ 85 - نفائس الفقہ 86 - نوازل الفقہ 87 - قاموس الفقہ 88 - کتاب الفقہ 89 - اصول الفقہ 90 - تفہیم الفقہ 91 - عمدۃ الفقہ 92 - تحفۃ الفقہ 93 - خزینۃ الفقہ 94 - علم الفقہ ترتیب جاری....... ========================

  • اعلان پرملال      انتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہیکہ دارالافتاء بھاٹاباڑی گروپ کے  نائب مفتی حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد حیدر مظاہری سہارنپوری چلکانہ کے والد محترم کا انتقال ہوگیا انا للہ وانا الیہ راجعون ۔     معزز ممبران سے ایصالِ ثواب کی درخواست کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام پس ماندگان کو، خصوصی طور پر ہمارے مفتی صاحب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے آمین ثم آمین۔ کم از کم تین مرتبہ سورۂ اخلاص سورۂ یس وغیرہ پڑھ کر ایصال ثواب فرمادیں۔ دارالافتاء بھاٹاباڑی گروپ

  • без подписи

  • شاید آپ نے ایسے لہجے میں کوئی نعت نہیں سنی ہو گی.... نعتِ نبی کریم ﷺ شیخ سعدیؒ کی مشہور نعتیہ رباعی میں تضمین  گلہائے عقیدت از مفتی منور بھاٹاباڑی 16-12-2025 آواز قاری نور الاسلام عرفانی یوٹیوب لنک:- https://youtu.be/n7JMC3Wi1n8?si=PYRmAvNAyToyfjHZ بلغ العلیٰ بکمالہٖ ۔ کشف الدجیٰ بجمالہٖ حسنت جمیعُ خصالہٖ ۔ صلوا علیہ و اٰ لہٖ میرے مصطفیٰ کے کمال کی ،میرے مجتبٰی کے جمال کی میرے مرتضی کے خصال کی، نہ مثل کوئی، نہ مثال ہی وہ کتابِ حق لیے آگیے ، جو جہاں میں سب کو سنا گیے ابدی نظام بتا گیے ، ہیں سراپا صدقِ مقال ہی سبھی انبیاء کے امام ہیں، وہی خیر و فخر انام ہیں کہ وہ ایسے عالی مقام ہیں،کوئی پہونچے کیا ہے مجال ہی وہ بشیر ہیں وہ نذیر ہیں؛ وہ حبیبِ رب قدیر ہیں وہی ماہِ بدرِ منیر ہیں ، ہو بدل کوئی، ہے محال ہی اے منور اب یہی کام ہو، کہ بلب درود و سلام ہو کہ اسی میں عمر تمام ہو ، درِ رب سے ہے یہ سوال ہی

  • مرثیہ :- بروفات محبوب العلماء والصلحاء حضرت مولانا پیر ذوالفقار صاحب نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ از رشحات قلم: مفتی منور بھاٹاباڑی 18-12-2025 فیس بک ویڈیو لنک : https://www.facebook.com/share/v/17o3JeEk8R/ جو سبھی دلوں کو رلا گیے، وہی پیرِ پیر تھے ذوالفقار کہ جو جامِ تقوی پلا گیے، وہی پیارے میر تھے ذوالفقار جو ملی تھی دورئ دیں جہاں، وہیں شمعِ علم جلا گیے جو تھے دور رب سے رسول سے ، انہیں رب، رسول بتا گیے کیا ہی دل پذیر تھی گفتگو، وہ دلوں میں جس کو بٹھا گیے وہ خدا کی باتیں سنا گیے، وہ زُبانِ شٖیْر تھے ذوالفقار جنہیں راہِ حق کا پتہ نہ تھا ،انہیں راہِ حق وہ دکھا گیے کہ مرادِ علم و عمل ،ادب ،وہ دل و جگر میں بسا گیے جو بھی مبتلائے معاصی تھے، انہیں رب کا خوف دِلا گیے وہی نقشِ حق کا بٹھا گیے ، کیا ہی دل پذیر تھے ذوالفقار بے سکوں کو درسِ سکون وہ، دلِ مضطرب سے پڑھا گیے وہ خدا سے خلق کو جوڑ کر، اسے دینِ حق پے چلا گیے کیا منور ان کو کرے بیاں،بے شمار کو وہ سجا گیے جنہیں نقشبندی بنا گیے، وہ تو حق کے تیر تھے ذوالفقار

  • منقبت برائے قاری رضی صاحب فلاحی استاد قراءت و تجوید مدرسہ اسلامیہ وقف سورت گجرات کلام مفتی منور بھاٹاباڑی آواز قاری نور الاسلام عرفانی ماہرِ فن تجوید قاری رضی علم و فن کی ہیں تمہید قاری رضی شانِ اجداد کے اک نشاں آپ ہیں علمِ تجوید کے باغباں آپ ہیں طالبوں کے لیے اک جہاں آپ ہیں نسلِ نو کی ہیں امید قاری رضی ماہرِ فن تجوید قاری رضی علم و فن کی ہیں تمہید قاری رضی رب کے قرآن کو اپنی آواز سے ہے سنوارا سدا اچھے انداز سے  اور نوازا خدا نے یہ اعجاز سے ہر گھڑی قابلِ دید قاری رضی ماہرِ فن تجوید قاری رضی علم و فن کی ہیں تمہید قاری رضی باہنر باکمالِ ایْکْ استاد ہیں آپ سب سے سبھی آپ سے شاد ہیں باغِ صوفی میں آزاد و آباد ہیں ہیں عیاں مثلِ خورشید قاری رضی ماہرِ فن تجوید قاری رضی علم و فن کی ہیں تمہید قاری رضی دی خدا نے مہارت قراءت میں بھی آپ اعلی ہیں الفت میں چاہت میں بھی اور نرالے ہیں حسن و ذہانت میں بھی ہو بیاں کیسے تسوید قاری رضی اور منور نے بھی علم جن سے لیا درسِ اخلاق اور حلم جن سے لیا فن تجوید کا فہم جن سے لیا وہ ہیں تدریس کی عید قاری رضی 02-12-2025