زرمبش اردو | 🎙ZBC
Статистика🧾زرمبش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے تحت ریڈیو زرمبش کی اردو سروس۔ یہاں اردو زبان میں ریڈیو بلیٹن اور پروگرامات کے علاوہ تحریری صورت میں بھی خبریں ، رپورٹس اور مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔🎙
- Последний пост
- 17 июл.
- Последнее чтение
- 13 авг.
- Постов за неделю
- 0
- Всего постов
- 23
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- Категория
- Новости и СМИ
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- —
- 1/48двое суток
- —
- 1/72трое суток
- —
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز پر حملوں اور جھڑپوں کی اطلاعات https://urdu.zrumbesh.com/26542/ بلوچستان کے مختلف اضلاع سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی چوکیوں، قافلوں اور تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ضلع سوراب کے علاقے دمب میں گزشتہ روز مسلح افراد کی بڑی تعداد نے ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے کے دوران شدید جھڑپ ہوئی، جبکہ ایک افسر سمیت متعدد اہلکاروں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں بھی گزشتہ روز ناکہ بندی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس دوران ایک فوجی میجر کی بلٹ پروف گاڑی ڈرائیور سمیت لے جایا گیا۔ اسی اور الحسن ہوٹل اور ماشاء اللہ ہوٹل کے قریب کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر بھی فوجی قافلوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق متعدد فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ دریں اثنا، ہوشاپ میں قائم ایک مرکزی سیکیورٹی چوکی اور زیرو پوائنٹ پر واقع پولیس چوکی پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حملوں میں نگرانی کے لیے نصب کیمرے تباہ کیے گئے۔ ادھر ضلع قلات کے علاقے بدرنگ میں بھی ایک فوجی کیمپ پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کے دوران شدید فائرنگ اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی تصدیق جاری نہیں کی گئی۔
видео или голосовое, без подписи
پنجگور اور تربت میں دو افراد کی لاشیں برآمد پبلوچستان کے اضلاع پنجگور اور کیچ (تربت) سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجگور میں عبدالرحمٰن پارومی کے بیٹے فیصل کی لاش برآمد ہوئی، جبکہ ضلع کیچ کے علاقے تربت کے ناصرآباد سے غنی کے بیٹے زبیر کی لاش ملی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں افراد کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد قتل کیا گیا۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں افراد حکومتی یافتہ مسلح گروہ جنہیں عام طور پر “ڈیتھ اسکواڈز” کہا جاتا ہے، سے وابستہ تھے۔ تاہم کسی بھی تنظیم نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
видео или голосовое, без подписи
مستونگ: کھڈکوچہ میں پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات، کوئٹہ-کراچی شاہراہ بند مستونگ: بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں جمعرات 16 جولائی کو پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، مرکزی کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر گرو کے مقام پر پاکستانی فورسز کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ قافلے میں شامل بسوں میں چھٹی پر جانے والے فوجی اہلکار سوار تھے۔ اطلاعات کے مطابق حملے میں متعدد بسیں اور دیگر گاڑیاں، جن میں بکتر بند گاڑیاں بھی شامل تھیں، متاثر ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق قافلے میں شامل دس بسوں میں سے متعدد کو نقصان پہنچا، جبکہ چار بسوں اور دیگر گاڑیوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ مقامی ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ حملے میں بڑی تعداد میں اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں کی گئی، اور آزاد ذرائع سے بھی ان کی توثیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ ذرائع کے مطابق، قافلے کی مدد کے لیے آنے والی پاکستانی فورسز کی اضافی نفری کو بھی مرکزی شاہراہ پر مدینہ ہوٹل کے قریب نشانہ بنایا گیا، جہاں دو گاڑیوں پر حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں، جبکہ پاکستانی فورسز کی اضافی نقل و حرکت اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ واقعے کے بعد نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال مستونگ میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ ہسپتال اور اس کے اطراف سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ تاحال پاکستانی حکام یا فوج کی جانب سے واقعے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
видео или голосовое, без подписи
جھاؤ میں پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں میں متعدد اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات جھاؤ: بلوچستان کے ضلع جھاؤ کے علاقے گجرو کئور میں پاکستانی فورسز اور بلوچ آزادی پسندوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ علاقائی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز فوجی آپریشن کے سلسلے میں پہاڑی علاقوں میں داخل ہوئیں، جہاں انہیں مسلح افراد کی جانب سے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صبح سے دونوں جانب کے درمیان وقفے وقفے سے شدید فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔ دوسری جانب مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آبادی پر شدید فائرنگ اور مارٹر گولے داغے گئے، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ علاقائی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جھڑپوں میں پاکستانی فورسز کو بھی جانی نقصان پہنچا ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
بلوچستان میں جبر، بیانیہ اور قومی مزاحمت https://urdu.zrumbesh.com/26534/ تحریر: ناصر بلوچ، فنانس سیکریٹری، بلوچ نیشنل موومنٹ ا بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات میں تسلسل سے جاری ہیں، اور اب یہ حالت ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ پاکستانی فوج و فوج سے منسلک ادارے بے لگام ہوکر جس کو چاہے اٹھالیتے ہیں، غائب کرتے ہیں، خفیہ زندانوں میں اذیت رسانی سے قتل کرکے لاش پھینک دیتے ہیں اور ایک بڑی تعداد لاپتہ ہی رکھاجاتا ہے، گزشتہ چھبیس برسوں میں جبری گمشدگیوں کا دائرہ سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں افراد تک پہنچ چکا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی فوج اور بلوچستان کی کٹھ پتلی اسمبلی کے "فوجی” نمائندے ان واقعات کو إقرار و انکار کے درمیان رکھ کر إقرار بھی کر رہے ہیں کہ فوج لوگوں کو اٹھا رہی ہے، جبری لاپتہ کر رہی ہے لیکن قومی تحریک کوشش کے باوجود یہ عالمی سطح پر بڑی خبر بننے سے اب تک کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی محکوم یا مقبوضہ قوم نے اپنے قومی و سیاسی مستقبل کے تعین اور آزادی کا مطالبہ کیا تو قابض قوتوں نے اس مطالبے کو کمزور کرنے کے لیے مختلف بیانیے اختیار کیے۔ ایسی تحریکوں کو کبھی بیرونی طاقتوں کا آلہ کار کہا گیا، کبھی پراکسی جنگ قرار دیا گیا اور کبھی انہیں دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ اس طرزِ عمل کا مقصد اکثر ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ اصل سیاسی مطالبات سے توجہ ہٹا کر محکوموں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جائز ثابت کیا جا سکے۔ بلوچستان میں بھی اسی نوعیت کا بیانیہ اختیار کیا جا چکا ہے۔ پاکستان، بلوچ سرزمین، بلوچ وسائل اور بلوچ ساحل پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے بلوچ قومی جدوجہد کو مختلف بیرونی قوتوں سے منسوب کرتا ہے۔ اپنی قومی شناخت، سرزمین اور سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے افراد کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے اور بہت سے افراد جبری گمشدگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کسی قوم کی سیاسی مطالبات اور مستقبل کا فیصلہ آخر کن بنیادوں پر فوجی ادارے یا وہ سیاسی نمائندے کر سکتے ہیں جن کی نمائندگی خود متنازع ہے یا وہ محض فوجی و عسکری مہرے ہوں۔ پاکستانی ریاست نے مختلف ادوار میں ان عوامی حمایت رکھنے والے بلوچ سیاسی رہنماؤں کو غداری کے الزامات، فوجی مقدمات اور ریاستی دباؤ کا شکار بنایا جبکہ ایسے عناصر کو آگے لایا گیا جو ریاستی و عسکری اداروں کی زبان بولتے ہوں۔ موجودہ بلوچستان کے کٹھ پتلی اسمبلی اور اس کے وزرا اسی عسکری حکمت عملی کا تسلسل ہیں۔ اسی لیے آج بلوچستان کے حقیقی سیاسی نمائندے ریاستی اسمبلیوں کے بجائے تحریک آزادی کے پلیٹ فارم سے بلوچ قومی مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ بلوچ قوم گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ 1948 کے بعد پاکستان کے ساتھ رہنے کا تجربہ ان کے بنیادی قومی اور سیاسی مسائل کا حل ثابت نہیں ہوا۔ بلوچ سیاست کے مختلف ادوار میں میر غوث بخش بزنجو، سردار عطا اللہ مینگل، نواب اکبر خان بگٹی، نواب خیر بخش مری، بالاچ مری اسمبلیوں کے حصے بنے، لیکن بلآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ قومی سوال کا حل بلوچ عوام کے پاس ہے نہ کہ پاکستان کے اسمبلیوں میں، یہ سیاسی موقف کہ موجودہ ریاستی ڈھانچے کے اندر بلوچ قومی مسئلے کا مؤثر حل ممکن نہیں، آج بلوچ قوم میں مقبول نظریہ بن چکا ہے۔ آج بلوچ قوم اپنے مستقبل کے تعین کا حق حاصل کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں، آج بلوچ قوم اس فیصلے کا اختیار حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے کہ پاکستان سے آزادی ہی بلوچ قومی مسئلے کا حل ہے جبکہ اس کے برعکس دیگر تمام راستے بلوچ قومی شناخت، تشخص اور سیاسی وجود کے خاتمے کی طرف لے جاتے ہیں، یہ اس جدید دور میں بلوچ قوم کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
ریلی سے متعلق مقدمات کی سماعتیں مجھے آگاہ کیے بغیر کی گئیں، نصراللہ بلوچ https://urdu.zrumbesh.com/26526/ کوئٹہ: وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا ہے کہ 11 جولائی 2024 کو جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے نکالی گئی پرامن ریلی کے سلسلے میں ان کے خلاف درج مقدمات میں 12 سے زائد سماعتیں ان کی لاعلمی میں ہو چکی ہیں، جبکہ انہیں کسی بھی سماعت کے حوالے سے نہ تو سمن جاری کیا گیا اور نہ ہی قانونی طور پر آگاہ کیا گیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نصراللہ بلوچ نے کہا کہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کے بعد ان مقدمات سمیت دو ایف آئی آرز واپس لینے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے لیے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، ان کے بقول مقدمات تاحال برقرار ہیں اور ان پر عدالتی کارروائی بھی جاری ہے، جو باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کبھی روپوش یا مفرور نہیں رہے بلکہ مسلسل عوامی سرگرمیوں میں شریک رہے ہیں اور روزانہ وی بی ایم پی کے احتجاجی کیمپ میں موجود ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس کے باوجود ان کی غیر موجودگی میں مقدمات کی سماعت جاری رکھنا شفاف قانونی عمل اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ مقدمات کی موجودہ قانونی حیثیت واضح کی جائے، قانونی کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ہر شہری کے آئینی حقِ احتجاج، آزادیِ اظہار اور منصفانہ سماعت کے حق کا احترام کیا جائے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا زبیر شاہ آغا، سید بی بی بلوچ اور احمد فرہاد کی فوری رہائی کا مطالبہ https://urdu.zrumbesh.com/26523/ اسلام آباد: ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا ریجن نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی کور کمیٹی کے رکن زبیر شاہ آغا، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنما سید بی بی بلوچ اور صحافی احمد فرہاد کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکام انتظامی حراست کے قوانین کو پُرامن اختلافِ رائے دبانے کے لیے استعمال کرنا بند کریں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جاری کردہ بیان کے مطابق زبیر شاہ آغا کو 28 جون کو کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سنائی گئی سزا کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں شرکت کے بعد حراست میں لیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ زبیر شاہ آغا کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے، جبکہ ان کی گرفتاری پاکستان میں کارکنان، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف انتظامی حراست کے اختیارات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی تازہ مثال ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق سید بی بی بلوچ کو بھی یکم جولائی کو تربت میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سنائی گئی سزا کے خلاف اعلان کردہ پُرامن احتجاج سے قبل ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 20 جون کو صحافی احمد فرہاد کو بھی پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے علاقے باغ میں ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا، جہاں وہ تاحال زیرِ حراست ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکام زبیر شاہ آغا، سید بی بی بلوچ اور احمد فرہاد کو فوری طور پر رہا کریں، انتظامی حراست کے قوانین کے مبینہ غلط استعمال کا خاتمہ کریں اور آزادیِ اظہار، پُرامن اجتماع اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنائیں۔
زیارت واقعہ: کوہلہ پھاٹک پر احتجاجی دھرنا چھٹے روز میں داخل، مذاکرات بے نتیجہ https://urdu.zrumbesh.com/26520/ کوہلہ پھاٹک: زیارت میں قتل ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین، آل پارٹیز دھرنا کمیٹی اور بلوچستان حکومت کے درمیان جاری مذاکرات ایک بار پھر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے باعث فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد دھرنا کمیٹی اور مقتولین کے لواحقین نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاجی دھرنا بدستور جاری رکھا جائے گا۔ کوہلہ پھاٹک پر جاری احتجاجی دھرنا اب چھٹے روز میں داخل ہو چکا ہے، جہاں مقتول پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں، وکلا، قبائلی عمائدین، سماجی تنظیموں اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب حکومتی وفد اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مختلف امور پر بات چیت ہوئی، تاہم مطالبات پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باعث مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے۔ دھرنا کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دینے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
نصیر آباد میں قابض پاکستانی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی آر جی https://urdu.zrumbesh.com/26517/ بلوچ ریپبلکن گارڈز کے ترجمان دوستین بلوچ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز سرمچاروں نے بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے علاقے میر حسن پولیس تھانے کے حدود حاجی محمد کھوسہ کے مقام پر قابض فورسز کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں قابض دشمن کا متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے جبکہ گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔ ترجمان نے کہا کہ اس حملے کی زمہ داری ہماری تنظیم بی آر جی قبول کرتی ہے اور اس طرح کی کارروائیاں بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔
تربت: بالگتر میں تیز رفتار پراڈو کی ٹکر سے 11 سالہ بچہ ہلاک، ڈرائیور گرفتار https://urdu.zrumbesh.com/26514/ تفصیلات کے مطابق، ہلاک ہونے والے بچے کی شناخت صدھیر ولد سلیم سکنہ بالگتر کے نام سے ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حادثہ گاڑی کی تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں کمسن بچہ شدید زخمی ہوا اور موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ علاقہ مکینوں نے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تیز رفتاری کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام ممکن بنائی جاسکے۔
видео или голосовое, без подписи
خضدار: سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ کوٹ مینگل پر مسلح حملہ، گاڑیوں کو نقصان، جانی نقصان نہیں خضدار کی تحصیل وڈھ میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کی رہائش گاہ “کوٹ مینگل” پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ذرائع کے مطابق ہفتہ کی شام مسلح افراد نے کوٹ مینگل پر دور سے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ بی این پی کے مرکزی رہنما آغا حسن بلوچ کے مطابق رہائش گاہ کے محافظوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کی، جس کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔ حملے کے نتیجے میں کوٹ مینگل کے احاطے میں کھڑی متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، تاہم کسی شخص کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ واقعے کے بعد وڈھ، خضدار، سارونہ اور گردونواح سے بڑی تعداد میں مینگل قبیلے کے افراد کوٹ مینگل پہنچنا شروع ہوگئے۔ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وڈھ بازار اور مرکزی شاہراہ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ تاحال حملے کے محرکات اور حملہ آوروں کی شناخت سامنے نہیں آسکی۔
видео или голосовое, без подписи
واشک کے علاقے ماشکیل میں فائرنگ، 5 غیر مقامی افراد ہلاک بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے پانچوں افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا اور وہ مقامی دکانوں پر مزدوری کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے دکانوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اور واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد مقتولین کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کی جا رہی ہیں۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
خاران اور پنجگور سے دو افراد کی لاشیں برآمد https://urdu.zrumbesh.com/26511/ خاران/پنجگور: بلوچستان کے اضلاع خاران اور پنجگور سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق خاران میں گزشتہ روز اغوا کیے گئے نوجوان یاسر ولد فیض اللہ کی لاش اتوار کے روز برآمد ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یاسر، جو ڈی آئی جی پولیس خاران کے باورچی تھے، کو جمعہ کی شام باب خاران کے علاقے سے نامعلوم موٹرسائیکل سوار اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ بعد ازاں ان کی لاش ملی، جس پر گولیوں کے نشانات موجود تھے۔ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کے حوالے سے تاحال کوئی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب ضلع پنجگور کے علاقے جعفر اسکیم، گریڈ اسٹیشن کے قریب سے ایک مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی، جس کی شناخت نجام ولد عبدالرحیم، سکنہ وشبود، کے نام سے کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق لاش کو شناخت اور قانونی کارروائی کے لیے ٹیچنگ ہسپتال پنجگور منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
سبی: کورٹ باروزئی سے 4 افراد کی لاشیں برآمد https://urdu.zrumbesh.com/26505/ سبی کے نواحی علاقے کورٹ باروزئی سے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جنہیں پولیس نے اپنی تحویل میں لے کر فوری طور پر سول ہسپتال سبی منتقل کر دیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق چار لاشوں میں سے تین افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔ جاں بحق افراد میں گلزار خان ولد بالاچ خان، عبدالوحید ولد عتبار خان شامل ہیں، جن کا تعلق سنی، ضلع کچھی سے بتایا جاتا ہے، جبکہ تیسری لاش کی شناخت اسد اللہ ولد نامعلوم کے نام سے ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق چوتھے شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، جس کی لاش سول ہسپتال سبی کے سردخانے میں رکھی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اطلاع ملتے ہی اہلکار موقع پر پہنچ گئے، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے اور واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق نامعلوم شخص کی شناخت کے لیے مقامی افراد سے رابطہ کیا جا رہا ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش جاری ہے۔
چاغی میں مسلح افراد کی کارروائیاں، سرکاری تنصیبات اور تھانے کو نذرِ آتش https://urdu.zrumbesh.com/26476/ چاغی: بلوچستان کے ضلع چاغی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، بڑی تعداد میں مسلح افراد نے شہر میں داخل ہو کر مختلف سرکاری تنصیبات، پولیس اسٹیشنوں، لیویز چوکیوں اور بینکوں پر کارروائیاں کی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی، جس کے باعث آمدورفت متاثر ہوئی۔ اطلاعات ہیں کہ بعض پولیس اسٹیشنوں اور لیویز چوکیوں پر قبضے کے بعد وہاں موجود سرکاری اسلحہ اور سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا گیا، جبکہ بعد ازاں متعدد سرکاری عمارتوں اور تنصیبات کو آگ لگا دی گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی موجودگی دیکھی گئی، جبکہ سرکاری دفاتر، بینکوں اور دیگر سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔ چاغی، جہاں ریکوڈک کا عالمی شہرت یافتہ تانبے اور سونے کا منصوبہ واقع ہے، حالیہ برسوں میں بھی سکیورٹی سے متعلق واقعات کا مرکز رہا ہے۔ نومبر 2025 میں نوکنڈی میں ہونے والے ایک مربوط حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) نے قبول کی تھی۔ تاحال حکام کی جانب سے موجودہ صورتحال پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ کسی بھی تنظیم نے ان حالیہ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔