🕯🕌مصباح الهدی🕌🕯
Статистика🕯خواتین کے مسائل 🕯 🖋 خاندان کا اخلاق 🖋 ⚖خواتین کے حقوق⚖ 🗞خواتین کےاحکام 🗞 📃اولاد کی تربیت 📃 T.me/alhoda313 👇🏻فقط خواتین جوائن کریں (واٹساپ گروپ)👇🏻 https://chat.whatsapp.com/JlsnEzCz9al8smGHnqXCfg
- Последний пост
- 16 июн.
- Последнее чтение
- 15 авг.
- Постов за неделю
- 0
- Всего постов
- 22
- Тип
- открытый
- Язык
- ur
- В каталоге с
- 13 авг.
- 1/24сутки в ленте
- —
- 1/48двое суток
- —
- 1/72трое суток
- —
Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.
Посты
📜 *معارفِ اہلبیتؑ* 🍃 *ایک ادبی جھلک:* امام علیؑ نے نہج البلاغہ میں فرمایا: «وَ الدُّنْيَا دَارٌ مُّنِيَ لَهَا الْفَنَاءُ... وَ هِيَ حُلْوَةٌ خَضْرَاءُ» یعنی "دنیا ایک گھر ہے جس کے لیے فنا مقدر ہے... اور یہ شیریں و شاداب ہے"۔ یہ تشبیہ (دنیا کو پھلتی پھولتی فصل سے تشبیہ دینا) اپنے اندر شاعرانہ حسن بھی رکھتی ہے اور گہرا فلسفہ بھی 💎 امام صادقؑ نے فرمایا: «أَلْعِلْمُ نُورٌ يَقْذِفُهُ اللَّهُ فِي قَلْبِ مَنْ يَشَاءُ» یعنی "علم وہ نور ہے جو خدا جس کے دل میں چاہتا ہے ڈال دیتا ہے"۔ یہ استعارے کی بلندی ہے کہ علم کو "نور" کہا گیا، اور دل کو اس کے ظرف کی طرح پیش کیا گیا۔ 🌸 *دعاؤں کی موسیقیت:* امام سجادؑ کی صحیفہ سجادیہ کی دعائیں ایسی ہیں کہ ہر لفظ میں نغمگی اور ہر فقرے میں روحانی وارفتگی ملتی ہے۔ ✍🏻 پیغام: *اہلبیتؑ کا کلام دل کے لیے بھی نور ہے اور ذوقِ ادب کے لیے بہار۔* 📚 حوالہ جات: 1- نہج البلاغہ، خطبہ 45 (ذم الدنیا) 2- امالی صدوق، ص 383 3- بحار الانوار، ج 53، ص 142 •┈┈••✾❀🕊💓🕊❀✾••┈┈•؛
شب جمعہ رسول خدا نے فرمایا ؛ مومنین کی ارواح ھر شب جمعہ ( جمعرات کی رات) اپنے گھروں میں لوٹ آتی ہیں۔ اور ان میں سے ھر ایک روح غمگین آواز کے ساتھ یوں پکارتی ہیں۔ اے میرے گھر والو ، میری اولاد اور اے میرے احباب ھمارے نام پر کچھ صدقہ دو، ھمیں یاد کرو اور ھماری تنھائی و بے کسی پر رحم کرو۔۔۔ آج شب جمعہ ہے۔ اپنے اپنے مرحومین کے لیے سورہ فاتحہ ، صدقہ ، صلوات اور صالح اعمال کو ھدیہ کریں شاید کل ھمارے لیے بھی کوئی صالح اعمال کو ھدیہ کرے۔ شب جمعہ اور جمعہ کے دن کی سب سے بھترین اور افضل عبادت و دعا و مناجات *صلوات بر محمد و آل محمد* ہے۔ 📚 حقوق والدین ص 74
الاسوہ مرکزتعلیم و تربیت: ایک پانچ چھ. سال کا معصوم سا بچہ 👦اپني چھوٹی بہن 👩 کو لے کر مسجد کے ایک طرف کونے میں بیٹھا ہاتھ اٹھا کر اللہ سے نہ جانے کیا مانگ رہا تھا. کپڑے میں میل لگا ہوا تھا مگر نہایت صاف، اس کے ننھے ننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے. بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ تھے اور وہ بالکل بے خبر اپنے اللہ سے باتوں میں لگا ہوا تھا. جیسے ہی وہ اٹھا ایک اجنبی نے بڑھ کے اس کا ننھا سا ہاتھ پکڑا اور پوچھا "کیا مانگا اللہ سے" اس نے کہا "میرے پاپا مر گئے ہیں ان کے لئے جنت، میری ماں روتی رہتی ہے ان کے لئے صبر، میری بہن ماں سے کپڑے سامان مانگتی ہے اس کے لئے رقم ". "آپ اسکول جاتے ہو" اجنبی نے سوال کیا. "ہاں جاتا ہوں" اس نے کہا. "کس کلاس میں پڑھتے ہو؟" اجنبی نے پوچھا "نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا، ماں چنے بنا دیتی ہے وہ اسکول کے بچوں کو فروخت کرتا ہوں، بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ہیں، ہمارا یہی کام دھندہ ہے" بچے کا ایک ایک لفظ میری روح میں اتر رہا تھا. "تمہارا کوئی رشتہ دار" نہ چاہتے ہوئے بھی اجنبی بچے سے پوچھ بیٹھا. "پتہ نہیں، ماں کہتی ہے غریب کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا، ماں جھوٹ نہیں بولتی، پر انکل، مجھے لگتا ہے میری ماں کبھی کبھی جھوٹ بولتی ہے، جب ہم کھانا کھاتے ہیں ہمیں دیکھتی رہتی ہے، جب کہتا ہوں ماں آپ بھی کھاؤ، تو کہتی ہے میں نے کھا لیا تھا، اس وقت لگتا ہے جھوٹ بولتی ہے " "بیٹا اگر تمہارے گھر کا خرچ مل جائے تو پڑھائی کرو گے؟" "بلكل نہیں" "کیوں" "تعلیم حاصل کرنے والے غریبوں سے نفرت کرتے ہیں انکل، ہمیں کسی پڑھے ہوئے نے کبھی نہیں پوچھا - پاس سے گزر جاتے ہیں " اجنبی حیران بھی تھا اور پریشان بھی. پھر اس نے کہا "ہر روز اسی مسجد میں آتا ہوں، کبھی کسی نے نہیں پوچھا - یہاں تمام آنے والے میرے والد کو جانتے تھے - مگر ہمیں کوئی نہیں جانتا "بچہ زور زور سے رونے لگا" انکل جب باپ مر جاتا ہے تو سب اجنبی کیوں ہو جاتے ہیں؟ " میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا اور نہ ہی میرے پاس بچے کے سوال کا جواب ہے. ایسے کتنے معصوم ہوں گے جو حسرتوں سے زخمی ہیں بس ایک کوشش کیجئے اور اپنے ارد گرد ایسے ضرورت مند يتیموں، بےسهاروں کو ڈھونڈيے اور ان کی مدد كیجیے ......... 🙏 مدرسوں، مساجد میں سیمنٹ یا اناج کی بوری دینے سے پہلے اپنے آس - پاس کسی غریب کو دیکھ لینا شاید اس کو آٹے کی بوری کی زیادہ ضرورت ہو. تصویر یا ویڈیو بھیجنے کہ جگہ یہ میسیج کم از کم ایک یا دو گروپ میں ضرور ڈالیں | * خود میں اور معاشرے میں تبدیلی لانے کے کوشش جاری رکھیں. *
🔷 الله تعالٰی کی بخشش 🔷 حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔ جب بھی وہ توبہ کرتا، اسے توڑ دیتا۔ یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ میرے اس بندے سے کہہ دو میں تجھ سے سخت ناراض ہوں۔۔۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس آدمی کو اللہ کا پیغام دیا تو وہ بہت غمگین ہُوا اور جنگلوں کی طرف نکل گیا۔ اور وہاں جا کر اس گناہگار شخص نے ایسی خوبصورت دعا کی کہ اللہ تعالٰی کو دوبارہ وحی کرنا پڑی۔۔۔ اس شخص نے بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کی۔۔ اے ربّ ذوالجلال! "تیری رحمت کم ہو گئی یا میرے گناہوں نے تجھے دُکھ دیا؟تیری بخشش کے خزانے ختم ہو گئے یا بندوں پر تیری نگاہِ کرم نہیں رہی؟ تیرے عفوودرگزر سے کونسا گناہ بڑا ہے؟ تُو کریم ہے، میں بخیل ہوں، کیا میرا بخل تیرے کرم پر غالب آ گیا ہے؟ اگر تُو نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے محروم کر دیا تو وہ کس کے دروازے پر جائیں گے؟ اگر تُو نے دھتکار دیا تو وہ کہاں جائیں گے؟ اے ربِّ قادر و قہار! اگر تیری بخشش کم ہو گئی اور میرے لیے عذاب ہی رہ گیا ہے تو تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے دے میں اُن پر اپنی جان قربان کرتا ہوں۔" اللّہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا؛ جاؤ اور میرے بندے سے کہدو کہ تُو نے میرے کمالِ قدرت اور عفو و درگزر کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔ اگر تیرے گناہوں سے زمین بھر جائے تب بھی میں بخش دوں گا۔ 📚 مُکاشِفۃُالقلُوب،ص170,1
علی لاریجانی اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے درمیان اُن کی شہادت سے پہلے کی ایک مبینہ گفتگو علی لاریجانی، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری، آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس ایک سنجیدہ رپورٹ لے کر آئے — لیکن اُن کا دل سرد نہیں تھا۔ طویل خاموشی کے بعد انہوں نے کہا:“میرے رہبر… اس بار خطرہ صرف دباؤ کا ایک گزرتا ہوا پیغام نہیں ہے۔ ایک فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ دشمن آپ کو قتل کرنا چاہتا ہے، چاہے آسمان میزائلوں سے کیوں نہ جل اٹھے۔ ہم نے ایک مضبوط محفوظ مقام تیار کیا ہے، ایسا مقام جو بڑی احتیاط سے محفوظ اور نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے — ایسی جگہ جہاں بم آسانی سے نہیں پہنچ سکتے اور نہ ہی طیارے حملہ کر سکتے ہیں۔ یہ چھپنا نہیں ہے، میرے رہبر… بلکہ طوفان گزرنے تک عارضی طور پر نظروں سے اوجھل ہو جانا ہے۔” رہبر کچھ لمحے خاموش رہے، پھر آہستہ سے کھڑے ہوئے — گویا تاریخ خود اُن کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہو۔ وہ قریب آئے اور پُرسکون لہجے میں پوچھا:“جب تم میرے پاس آئے تھے… تو تم کس جواب کی توقع کر رہے تھے؟” لاریجانی نے کچھ جھجکتے ہوئے جواب دیا:“مجھے توقع تھی کہ آپ انکار کریں گے۔ لیکن میرے رہبر، قوم کو آپ کی ضرورت ہے اور جنگ کو اپنے کمانڈر کی۔” رہبر مسکرائے — ایسی مسکراہٹ جس میں اداسی بھی تھی اور دانائی بھی۔ “تم ریاستوں کے حساب اور سکیورٹی کی کتابوں میں بالکل درست ہو۔ لیکن آؤ، کچھ دیر ایک ایسی زبان میں بات کریں جو سیاست سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ میں ایک سپاہی سے موت کا سامنا کرنے کو کیسے کہہ سکتا ہوں اگر اس کا کمانڈر خود غائب ہو جائے؟میں لوگوں سے ثابت قدم رہنے کو کیسے کہوں… اگر میں ہی خطرے کے میدان سے سب سے پہلے چلا جاؤں؟” وہ رکے، جیسے کربلا کا دروازہ اُن کے دل میں کھل گیا ہو۔ “ہم اُس شخص کے فرزند ہیں جس کا نام حسین ابن علی ہے — وہ امام جسے اپنے انجام کا علم تھا اور پھر بھی وہ اُس کی طرف یوں بڑھے جیسے کوئی خدا کے وعدے کی طرف بڑھتا ہے۔ وہ اس لیے غائب نہیں ہوئے کہ اُن کی فوج کم تھی — کیونکہ آسمانوں میں اُن کے پاس ایک بڑی فوج موجود تھی۔” لاریجانی نے جواب دیا:“لیکن میرے رہبر، تاریخ صرف ایک صفحہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس ایک غائب امام بھی ہیں جن کی غیبت نے ہمیں سکھایا کہ کبھی کبھی غائب ہونا حکمت ہوتا ہے، خوف نہیں۔” رہبر نے آہ بھری اور کہا:“فرق یہ ہے، مسٹر لاریجانی، کہ جب امام غائب ہوئے تو اُن کے پاس نہ فوج تھی اور نہ ایسی قوم جو حق کا دفاع کر سکتی۔ لیکن ہم… میں کیسے غائب ہو جاؤں جب میرے پاس لڑنے والی ایک قوم موجود ہے؟ میں کیسے اوجھل ہو جاؤں جبکہ میرے سپاہی آگ کے نیچے کھڑے ہیں؟ جب ایک رہنما اکیلا ہو اور غائب ہو جائے تو شاید وہ حکمت ہو۔لیکن جب پوری قوم اُس کے پیچھے کھڑی ہو تو اُس کی غیبت تاریخ کے ضمیر میں ایک بھاری سوال بن سکتی ہے۔” لاریجانی خاموش ہو گئے، اُن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ رہبر نے اُن سے مصافحہ کیا اور اُن کی فکر مندی پر شکریہ ادا کیا۔ جب لاریجانی چلے گئے تو انہوں نے اپنے خاندان کو جمع کیا اور انہیں اس تجویز کے بارے میں بتایا — ایک محفوظ جگہ جہاں وہ جنگ ختم ہونے تک جا سکتے تھے۔ انہوں نے انہیں ایسے دیکھا جیسے بچے عزت اور وقار کے معنی کو دیکھتے ہیں اور بس اتنا کہا:“ہم وہیں ہیں جہاں آپ ہیں۔” چنانچہ وہ شخص وہیں رہا — اس لیے نہیں کہ وہ خطرے کو نہیں جانتا تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ اس سے بھی گہری حقیقت کو جانتا تھا: کچھ رہنما جب موت سے بچنے کے لیے غائب ہو جاتے ہیں تو ممکن ہے وہ اپنی قوم کی یادوں سے بھی غائب ہو جائیں۔
🔶 شبھائ ﻗﺪﺭ کے مشترکہ اعمال 🔶 📖 شبهائے قدر کے ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ اعمال ﻣﯿﮟ ﭼﻨﺪ ﺍﻣﻮﺭ ﮨﯿﮟ. جو درج ذیل ہیں: 🌺1- غسل ﮐﺮﻧﺎ 🌺2- ﺩﻭﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﺠﺎﻻﺋﮯ جسکی ﮨﺮﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟﺳﻮﺭہ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺎﺕ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭہ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﭘﮍﮬﮯ، ﺑﻌﺪﺍﺯ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﺘﺮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﮩﮯ: ﺍَﺳْﺘَﻐْﻔِﺮُﺍﷲ ﻭَﺍَﺗُﻮْﺏُ ﺍِﻟَﯿْﮧِ. ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺑﺨﺸﺶ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍسکے ﺣﻀﻮﺭ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﺗﺎﮨﻮﮞ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺳﻮﻝ اکرمؐ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﺣﻖ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍسکے ﺍﻭﺭ ﺍسکے ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﺎ۔ 🌺3- ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﮯ: ﺍَﻟﻠّٰﮭُﻢَّ ﺇﻧِّﯽ ٲَﺳْٲَﻟُﮏَ ﺑِﮑِﺘﺎﺑِﮏَ ﺍﻟْﻤُﻨْﺰَﻝِ ﻭَﻣَﺎﻓِﯿﮧ ِﻭَﻓِﯿﮧِﺍﺳْﻤُﮏَﺍﻟْﺎَﮐْﺒَﺮُ ﻭَٲَﺳْﻤﺎﺅُﮎَ ﺍﻟْﺤُﺴْﻨﯽٰ ﻭَﻣَﺎ ﯾُﺨﺎﻑُ ﻭَﯾُﺮْﺟﯽٰ ٲَﻥْ ﺗَﺠْﻌَﻠَﻨِﯽ ﻣِﻦ ْﻋُﺘَﻘﺎﺋِﮏَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻨّﺎﺭِ۔ ﺍﮮ ﻣﻌﺒﻮﺩ! ﺑﮯ ﺷﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﺎﺯﻝ ﮐﺮﺩﮦ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺰﺭﮔﺘﺮ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ. ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﭼﮭﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﻮﺧﻮﻑ ﻭﺍﻣﯿﺪ ﺩﻻﺗﺎ ﮨﮯ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺗﻮﻧﮯ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮ ﺣﺎﺟﺖ ﭼﺎﮨﮯ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﮮ. 🌺4- ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮﭘﺮ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﮯ: ﺍَﻟﻠّٰﮭُﻢَّ ﺑِﺤَﻖِّ ﮨﺬَﺍ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥِ ﻭَﺑِﺤَﻖِّ ﻣَﻦْ ٲَﺭْﺳَﻠْﺘَﮧُ ﺑِﮧِ ﻭَﺑِﺤَﻖِّ ﮐُﻞِّﻣُﺆْﻣِﻦٍ ﻣَﺪَﺣْﺘَﮧُ ﻓِﯿﮧِ ﻭَﺑِﺤَﻘِّﮏَ ﻋَﻠَﯿْﮭِﻢْ ﻓَﻼَ ٲَﺣَﺪَ ٲَﻋْﺮَﻑُ ﺑِﺤَﻘِّﮏَ مِنْکَ. ﺍﮮ ﻣﻌﺒﻮﺩ! ﺍﺱ ﻗﺮﺁﻥ کیوﺍﺳﻄﮯ ﺍﻭﺭ ﺍسکے ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺟﺴﮯ ﺗﻮﻧﮯ ﺍﺱ کیساتھ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺗﻮﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺡ ﮐﯽ ﮨﮯ. ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺗﯿﺮﮮ ﺣﻖ ﮐﺎ ﻭﺍﺳﻄﮧ ﭘﺲ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺣﻖ ﮐﻮ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ. اور بعد میں دس مرتبہ کہے: بِکَ یَااللَّه (ﺍﮮ ﺍﷲ ﺗﯿﺮﺍ ﻭﺍﺳﻄﮧ) دس مرتبه: ﺑِﻤُﺤَﻤَّﺪٍ (محمدؐ کا واسطہ) ﺩﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ: ﺑِﻌَﻠِﯽٍّ (علیؑ کا واسطہ) ﺩﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ: بِفَاطِمَۃ (فاطمہؐ کا واسطہ) ﺩﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ: ﺑِﺎﻟْﺤَﺴَﻦِ (حسنؑ کا واسطہ) ﺩﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ: ﺑِﺎﻟْﺤُﺴَﯿْﻦ (حسینؑ کا واسطہ) ﺩﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ: ﺑِﻌَﻠِﯽِّ ﺑْﻦِ ﺍﻟْﺤُﺴَﯿْﻦ ﺩﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ: ﺑِﻤُﺤَﻤَّﺪِ ﺑْﻦِ ﻋَﻠِﯽِّ ﺩﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ: ﺑِﺠَﻌْﻔَﺮِ ﺑْﻦِ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﺩﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ: ﺑِﻤُﻮﺳَﯽٰﺑْﻦِ ﺟَﻌْﻔَﺮٍ ﺩﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ: ﺑِﻌَﻠِﯽِّ ﺑْﻦِ ﻣُﻮﺳٰﯽ ﺩﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ: ﺑِﻤُﺤَﻤَّﺪِﺑْﻦِ ﻋَﻠِﯽ ﺩﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ: ﺑِﻌَﻠِﯽِّ ﺑْﻦِ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﺩﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ: ﺑِﺎﻟْﺤَﺴَﻦِ ﺑْﻦِ ﻋَﻠِﯽٍّ ﺩﺱ ﻣﺮتبہ: بِالْحُجَّۃِ ﭘﮭﺮﺍﭘﻨﯽ ﺣﺎﺟﺎﺕ ﻃﻠﺐ ﮐﺮیں. 🌺5- ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦؑ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﭘﮍﮬﮯ، ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﺐ ﻗﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺗﻮﯾﮟ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﻋﺮﺵ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺎﺩﯼ ﻧﺪﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻖ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦؑ کیلئے ﺁﯾﺎ ﮨﮯ۔ 🌺6- ﺷﺐ ﺑﯿﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﮮ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﻥ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮔﺘﺎ ﺭﮨﮯ. ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺷﺐ ﻗﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮔﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﻮ ﺍسکے ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎ ﻑ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﻭﮦ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ، ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﺟﺴﺎﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎﺋﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽﺟﺘﻨﮯ ﮨﻮﮞ۔ 🌺7- ﺳﻮ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﺠﺎﻻﺋﮯ ﺟﺴﮑﯽ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﮨﮯ. ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﺮﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭہ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭہ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﺎ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺍﻓﻀﻞ ﮨﮯ۔ 🌺8- ﺷﺐ ﻗﺪﺭ ﮐﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﭘﮍﮬﮯ: ﺍَﻟﻠّٰﮭُﻢَّ ﺇﻧِّﯽ ٲَﻣْﺴَﯿْﺖُ ﻟَﮏَ ﻋَﺒْﺪﺍً ﺩﺍﺧِﺮﺍً ﻻَ ٲَﻣْﻠِﮏُ ﻟِﻨَﻔْﺴِﯽ ﻧَﻔْﻌﺎًﻭَﻻ ﺿَﺮّﺍً ﻭَﻻٲَﺻْﺮِﻑُ ﻋَﻨْﮩﺎ ﺳُﻮﺉً، ٲَﺷْﮭَﺪُ ﺑِﺬﻟِﮏَ ﻋَﻠَﯽ ﻧَﻔْﺴِﯽ، ﻭَٲَﻋْﺘَﺮِﻑُ ﻟَﮏَﺑِﻀَﻌْﻒِ ﻗُﻮَّﺗِﯽ، ﻭَقِلَّةِ ﺣِﯿﻠَﺘِﯽ، ﻓَﺼَﻞِّ ﻋَﻠَﯽ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَﺁﻝِ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَٲَ ﻧْﺠِﺰْ ﻟِﯽ ﻣَﺎ ﻭَﻋَﺪْﺗَﻨِﯽ ﻭَﺟَﻤِﯿﻊَ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﯿﻦَ ﻭَﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨﺎﺕِ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤَﻐْﻔِﺮَۃِ ﻓِﯽ ﮨﺬِﮦِ ﺍلْلَیْلَةِ ﻭَٲَﺗْﻤِﻢْ ﻋَﻠَﯽَّ ﻣَﺎﺁﺗَﯿْﺘَﻨِﯽفَاِﻧِّﯽ ﻋَﺒْﺪُﮎَﺍﻟْﻤِﺴﮑِﯿﻦُﺍﻟْﻤُﺴْﺘَﮑِﯿﻦُ ﺍﻟﻀَّﻌِﯿﻒُ ﺍﻟْﻔَﻘِﯿﺮُ ﺍﻟْﻤَﮭِﯿﻦُ ۔ ﺍَﻟﻠّٰﮭُﻢَّ ﻻَ ﺗَﺠْﻌَﻠْﻨِﯽ ﻧﺎﺳِﯿﺎً ﻟِﺬِﮐْﺮِﮎَ ﻓِﯿﻤﺎ ٲَﻭْﻟَﯿْﺘَﻨِﯽ ﻭَﻻ ﻏﺎﻓِﻼً ﻻِِِﺣْﺴﺎﻧِﮏَ ﻓِﯿﻤﺎ ٲَﻋْﻄَﯿْﺘَﻨِﯽ، ﻭَﻻَ ﺁﯾِﺴﺎً ﻣِﻦْ ﺇﺟﺎﺑَﺘِﮏَﻭَ ﺇﻥْ ٲَبّطَاََﺕْ ﻋَﻨِّﯽ فِیﺳَﺮَّﺍﺉَ ٲَﻭْ ﺿَﺮَّﺍﺉَ ٲَﻭْ ﺷِﺪَّۃٍ ٲَﻭْ ﺭَﺧﺎﺉٍ ٲَﻭْ ﻋﺎفِیَةِِٲَﻭْ ﺑَﻼﺉٍ ٲَﻭْﺑُﺆْﺱٍ ٲَﻭْ ﻧَﻌْﻤﺎﺉَ ﺇﻧَّﮏَ ﺳَﻤِﯿﻊُ ﺍﻟﺪُّﻋﺎء. ﺷﯿﺦ ﮐﻔﻌﻤﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﯾﻦ ﺍﻟﻌﺎﺑﺪﯾﻦؑ ﺍﺱ ﺩﻋﺎ ﮐﻮ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺷﺐ ﻗﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﻭ ﻗﻌﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﺭﮐﻮﻉ و ﺳﺠﻮﺩ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ 🌺9- ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺠﻠﺴﯽؒ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻋﻤﻞ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ، ﺍﻗﺮﺑﺎء ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮦ ﻭ ﻣﺮﺩﮦ ﻣﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻭﺁﺧﺮﺕ کیلئے ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﮯ. 🌺10- نیز ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ ﻣﺤﻤﺪﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤﺪؑ ﭘﺮ ﺻﻠﻮﺍﺕ ﺑﮭﯿﺠﮯ. 🌺11- ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﺐ ﻗﺪﺭ ﮐﯽﺗﯿﻨﻮﮞ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﺎﺋﮯ ﺟﻮﺷﻦ ﮐﺒﯿﺮ ﭘﮍﮬﮯ. ■اﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺍﯾﺖ میں آیا ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ اکرمؐ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺷﺐ ﻗﺪﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻌﮧ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﻮﮞ؟ ﺁﭖ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺻﺤﺖ ﻭﻋﺎﻓﯿﺖ ﻣﺎﻧﮕﻮ۔ التماس دعا🤲🏻 العبــــــــــدمعصــــــــومی🤲🏻 سورہ فاتحہ و دعا مغفرت 🤲🏻 مراجع عظام ،رھبرفقید شھید علمائے کرام شہدائے ملت جعفریہ مرحومین
🔰 *شبِ قدر کے بارے ایک عمل* شبِ قدر کی رات کا ایک اھم عمل بتانا چاھتا ہوں۔ اس میں ایک راز چھپا ہوا ہےجو نہیں بتاؤنگا۔ بشرطیکہ آپ لوگ میرے لیےدعا کرینگے کیونکہ بےانصافی ہےکہ میں آپ کیلئے دعا کروں اور آپ دعا نہ کریں ۔ وہ عمل درج ذیل ہے۔ ☜ ایک مرتبہ سورہ واقعہ۔ ☜ ایک مرتبہ سورہ قل ھواللّٰه احد۔ ☜ سات مرتبہ یااللّٰه۔ اس کےبعد اپنی حاجت طلب کریں، یقیناً جو چاہیں گے اللّٰه تعالیٰ عطا کرے گا۔ (بہت اھم عمل ہے، اسےحتماً انجام دیں)۔ 🪷 *عارف باللّٰه، آیةاللّٰه العظمٰی سید عبداللّٰه فاطمی نیا رحمۃ اللّٰه علیہ* *اَللّٰهُــمَ صَّــلِ عَــلَى مُحَمَّــدٍوََآلِ مُحَمَّــدٍوَّعَجِــل فَّرَجَهُــم*🤲🏻
امام (عج) کی معرفت حضرت رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ) نے فرمايا: {من مات ولم يعرف امام زمانه مات ميتة الجاهلية}- جو مرے اورمرنے سے قبل ہي اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے وہ جاہليت و شرک کي موت مرا ہے- (1) اب سوال يہ ہے کہ اس شناخت و معرفت کي نوعيت کيا ہے اور ہمارے يقين و اعتقاد کي تشکيل ميں کيا کردار ادا کرتي ہے؟ جوابا کہا جاسکتا ہے: 1- شناخت و معرفت امام شناخت سے مراد ظاہري اور معمولي بھي ہوسکتي ہے- چونکہ دين مبين کي استواري اور کمال وجود امام سے وابستہ ہے، ضروري ہے کہ قوم و قبيلے اور دوسري خصوصيات کے حوالے سے امام کو پوري طرح جانا پہچانا ہونا چاہئے- نيز يہ شناخت و معرفت معنوي بھي ہوسکتي ہے- معنوي شناخت نيز امام کے وجود کي حقيقت کي معرفت، ميں امام کے مقام و رتبے کي عظمت اور الہي ولايت کي پہچان، امام کي راہ و روش و اخلاق کي شناخت اور اللہ کي بندگي اور عبوديت ميں امام کي سيرت کو نمونہ عمل قرار دينے، سے عبارت ہوسکتي ہے- اس قسم کي شناخت ميں امام (ع) کے ديدار و ملاقات کي ضرورت نہيں ہے بلکہ عقلي اور نقلي دلائل سے امام کے بارے ميں معرفت و شناخت حاصل کي جاسکتي ہے- پس يہ جو کہا جاتا ہے کہ اس امام کي معرفت ممکن نہيں ہے جو آنکھوں سے اوجھل ہو، بےمعني ہے- کتنے ہيں وہ افراد جنہوں نے امام معصوم کو اپني آنکھوں سے ديکھا اور ان کي کرامات کا ادراک کيا، ليکن پھر بھي کافر و گمراہ رہے اور امام کو تنہا چھوڑ ديا و آخرت کي روسياہي خريد لي- تاريخ کي سب سے بڑي ستم ظريفي ہي يہي تھي کہ ائمہ معصومين (ع) کي دعوت تشنۂ لبيک رہ گئي اور ان کي زيادہ تر عمر قيد و بند يا پھر جلاوطني ميں گذري بلکہ اس سے بھي بڑھ کر ستم يہ کہ تمام ائمہ (عليہم السلام) کو امت کي بے حسي کي بنا پر شہيد کيا گيا اور آخري ذخيرہ الہي کو بھي شہيد کرنے کي بھي بھرپور کوشش کي گئي ليکن يہ کوششيں اللہ تعالي نے امام (عج) کو غائب کرکے ناکام بنادي- ------------------------- 1- الوهم المكنون فى الردّ على ابن خلدون ، ابوالعباس بن عبدالمۆمن، مغربى- بحار الانوار ج 51 ص 160-
☀️🌿روزہ کے احکام 🌿☀️ وہ چیزیں جو روزے کو باطل کرتی ہیں۔ ۱۵۸۱۔چند چیزیں روزے کو باطل کر دیتی ہیں: ۱۔ کھانا اور پینا۔ ۲۔ جماع کرنا۔ ۳۔ اِستِمَنَاء۔ یعنی انسان اپنے ساتھ یا کسی دوسرے کے ساتھ جماع کے علاوہ کوئی ایسا فعل کرے جس کے نتیجے میں منی خارج ہو۔ ۴۔ خدا تعالی پیغمبر اکرام (صلی اللہ علیہ وآلہ) اور ائمہ طاہرین علیہم السلام سے کوئی جھوٹی بات منسوب کرنا۔ ۵۔ غبار حلق تک پہنچانا۔ ۶۔ مشہور قول کی بنا پر پورا سر پانی میں ڈبونا۔ ۷۔ اذان صبح تک جنابت، حیض اور نفاس کی حالت میں رہنا۔ ۸۔ کسی سَیَّال چیز سے حُقنہ (انیما) کرنا ۔ ۹۔ قے کرنا۔ ان مبطلات کے تفصیلی احکام آئندہ مسائل میں بیان کئے جائیں گے۔ 🌿کھانا اور پینا🌿 ۱۵۸۲۔ اگر روزہ دار اس امر کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہ روزے سے ہے کوئی چیز جان بوجھ کر کھائے یا پئے تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے قطع نظر اس سے کہ وہ چیز ایسی ہو جسے عموماً کھایا یا پیا جاتا ہو مثلاً روٹی اور پانی یا ایسی ہو جسے عموماً کھایا یا پیانہ جاتا ہو مثلاً مٹی اور درخت کا شیرہ، اور خواہ کم یا زیادہ حتی کہ اگر روزہ دار مسواک منہ سے نکالے اور دوبارہ منہ میں لے جائے اور اس کی تری نگل لے تب بھی روزہ باطل ہوجاتا ہے سوائے اس صورت کے کہ مسواک کی تری لعاب دہن میں گھل مل کر اس طرح ختم ہو جائے کہ اسے بیرونی تری نہ کہا جاسکے۔ ۱۵۸۳۔ جب روزہ دار رکھانا کھا رہا ہو اگر اسے معلوم ہوجائے کہ صبح ہوگئی ہے تو ضروری ہے کہ جو لقمہ منہ میں ہو اسے اگل دے اور اگر جان بوجھ کر وہ لقمہ نگل لے تو اس کا روزہ باطل ہے اور اس حکم کے مطابق جس کا ذکر بعد میں ہوگا اس پر کفارہ بھی واجب ہے۔ ۱۵۸۴۔ اگر روزہ دار غلطی سے کوئی چیز کھالے یا پی لے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوتا۔ ۱۵۸۵۔ جو انجکشن عضو کو بے حس کر دیتے ہیں یا کسی اور مقصد کے لئے استعمال ہوتے ہیں اگر روزے دار انہیں استعمال کرے تو کوئی حرج نہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ ان انجکشنوں سے پرہیز کیا جائے جو دوا اور غذا کی بجائے استعمال ہوتے ہیں۔ ۱۵۸۶۔ اگر روزہ دار دانتوں کی ریخوں میں پھنسی ہوئی کوئی چیز عمداً نگل لے تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔ ۱۵۸۷۔ جو شخص روزہ رکھنا چاہتا ہو اس کے لئے اذان صبح سے پہلے دانتوں میں خلال کرنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر اسے علم ہو کہ جو غذا دانتوں کے ریخوں میں رہ گئی ہے وہ دن کے وقت پیٹ میں چلی جائے گی تو خلال کرنا ضروری ہے۔ ۱۵۸۸۔ منہ کا پانی نگلنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا خواہ ترشی وغیرہ کے تصور سے ہی منہ میں پانی بھر آیا ہو۔ ۱۵۸۹۔ سر اور سینے کا بلغم جب تک منہ کے اندر والے حصے تک نہ پہنچے اسے نگلنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر وہ منہ میں آجائے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اسے تھوک دے۔ ۱۵۹۰۔ اگر روزہ دار کو اتنی پیاس لگے کہ اسے پیاس سے مرجانے کا خوف ہو جائے یا اسے نقصان کا اندیشہ ہو یا اتنی سختی اٹھانا پڑے جو اس کے لئے ناقابل برداشت ہو تو اتنا پانی پی سکتا ہے کہ ان امور کا خوف ختم ہو جائے لیکن اس کا روزہ باطل ہو جائے گا اور اگر ماہ رمضان ہو تو اختیار لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ اس سے زیادہ پانی نہ پیئے اور دن کے حصے میں وہ کام کرنے سے پرہیز کرے جس سے روزہ باطل ہوجاتا ہے۔ ۱۵۹۱۔ بچے یا پرندے کو کھلانے کے لئے غذا کا چبانا یا غذا کا چکھنا اور اسی طرح کے کام کرنا جس میں غذاً عموماً حلق تک نہیں پہنچتی خواہ وہ اتفاقاً حلق تک پہنچ جائے تو روزے کو باطل نہیں کرتی۔ لیکن اگر انسان شروع سے جانتا ہو کہ یہ غذا حلق تک پہنچ جائے گی تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے اور ضروری ہے کہ اس کی قضا بجالائے اور کفارہ بھی اس پر واجب ہے۔ ۱۵۹۲۔ انسان معمولی نقاہت کی وجہ سے روزہ نہیں چھوڑا سکتا لیکن اگر نقاہت اس حد تک ہو کہ عموماً برداشت نہ ہوسکے تو پھر روزہ چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں۔
♻️ امام زمانہ (عج) کی خدمت کریں. قال الامام صادق عليه السلام: لَو أدرَكتُهُ لَخَدَمتُهُ أيّامَ حَياتي؛ حضرت امام جعفر صادق عليه السلام فرماتے ہیں: اگر میں [امام زمان عليه السلام] کو دیکھتا اور درک کرتا تو پوری عمر ان کی خدمت کر تا . 📚.الغيبه، نعمانى، ص 245 🌸 اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجِّلْ فَرَجَهُم 🌸 ✨ 💕 🌸🕊 💜✨🕊 🌸💕✨🕊 💜🌸💜🌸💕💜💕✨
کاش میرا ہر شیعہ اس مومنہ کی طرح اپنی زندگی کا اصول بنالے................... ابوبصیر اسدی کوفی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے چھٹے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ میں نے دیکھا کہ ایک خاتون پورے اسلامی حجاب میں (جس کا نام ام خالد تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے). خدمت امام ع میں آتی ہیں اور اسی حجاب اسلامی کے اندر رہ کر ایک سوال کرتی ہیں کہ: اے فرزند رسول ص ! مجھے ایسا مسئلہ پیش آگیا ہے کہ جس کے لیے میں آپ تک آئی ہوں اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ میں بیمار ہوں اور کافی طویل عرصے سے میں بیمار ہوں اور یہ بیماری بڑھتی چلی جارہی ہے. میں نے ہر طرح سے علاج کراکے دیکھ لیا مگر کسی طبیب اور ڈاکٹر کی دوا نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا.بہرحال کوشش کرنا تو مومن کا کام ہے اور جب مجھے مایوسی ہوگئی تو میں صبر کرکے بیٹھی رہی کہ شاہد اللہ اس طرح سے میرا امتحان لے رہا ہے.تکلیف بھی بڑھتی جارہی ہے اذیت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن انسان کرے تو کیا کرے؟مگر فرزند رسول ایک عجیب بات جسے میں نے مشاہدہ کیا وہ یہ ہے کہ جیسی بیماری مجھے ہے ایسی ہی بیماری شہر مدینہ میں اور بہت سے لوگوں کوہوئی اور وہی ڈاکٹر اور طبیب جن کے پاس میں اپنے علاج کے لیے گئی انھوں نے ہی اُن بیماروں کا علاج کیا.بیماری ایک,طبیب بھی وہی,اس طبیب کی دواؤں سے باقی سب کو صحت ملی. باقی سب ٹھیک ہوگئے لیکن وہی طبیب,میں ان سے رجوع کررہی ہوں تو نہ صرف یہ کہ بیماری ختم نہیں ہورہی بلکہ روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے اور تکلیف میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے. مولا میں گھبرا گئی اور میں نے اپنے طبیبوں سے ایک بات کی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہی بیماری دوسروں کو ہے,دوسرے لوگوں کے لیے تو تم صحیح دوا دے رہے ہو اور اس کا علاج ہوتا جارہا ہے اور وہی بیماری مجھے ہے تو تمہاری دوا فائدہ نہیں کررہی ہے طبیبوں نے ایک مرتبہ جواب دیا اور کہا کہ ہمارے پاس اس بیماری کافقط ایک علاج ہے اور ہمارے پاس اس کا کوئی اور علاج نہیں ہے. لیکن کیونکہ ہمیں آپ کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ کتنی نیک,مقدس اور پرہیزگار خاتون ہیں,اس لیے وہ آپ کو ہم نہیں بتا پارہے.طبیبوں نے کہا کہ اس کا علاج فی الحال ہمارے پاس صرف ایک ہے اور وہ شراب.لیکن ہم آپ کوکیسے بتائیں کہ آپ شراب پیجئے؟اس لیے ہم خاموش رہے.ہم چپ رہے,دیکھتے رہے لیکن کیا کریں.آج آپ نے خود آکے پوچھ لیا تو آپ کی بیماری کا علاج فقط شراب ہے. ابوبصیر کہتے ہیں کہ یہ خاتون امام ع سے یہ سوال کرتی ہے کہ فرزند رسول ص! اب اتنا بتا دیجیئے کہ جب سارے طبیبوں نے یہی کہا.سب نے مل کر ایک ہی بات کہی تو مولا میں آپ کے پاس آگئی. آپ ع یہ فرمائیے کہ میرے لیے کیا حکم ہے؟ ابو بصیر کہتے ہیں امام ع نے اس خاتون سے ایک سوال کیا.کہ اے ام خالد! سارے مدینے کے ڈاکٹر(طبیب) کہہ رہے ہیں کہ تمہاری بیماری کا علاج سوائے شراب کے اور کوئی نہیں ہے تو آخر تو میرے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کیوں آئی؟ ایک مرتبہ انتہائی حیرت کے عالم میں وہ مومنہ کہتی ہیں کہ مولا! میں نے اپنا امام آپ کو مانا,ان ڈاکٹروں کو نہیں مانا.جب میں نے آپ کو اپنا امام مانا تو اب میرا فریضہ ہے کہ زندگی کا جو کام ہے سب سے پہلے آپ سے آکر پوچھوں کہ آپ کیا ہدایت کرتے ہیں؟مولا میں تو فقط یہ چاہتی ہوں کہ میدان قیامت میں جب میرا نامہ اعمال کھولا جائے گا اور میرے ایک ایک عمل کے بارے میں مجھ سے سوال ہوگا.یہ کام کیوں کیا؟یہ کام کیوں کیا؟تو فقط ایک جواب ہو کہ میرے امام نے حکم دیا تھا.میرے آقا اور مولا نے اجازت دی تھی. ابو بصیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے چھٹے امام ع اپنی جگہ سے بلند ہوئے اور مجھے دیکھ کرکہا اے ابوبصیر! کاش میرا ہر شیعہ اس مومنہ کی طرح اپنی زندگی کا اصول بنالے. (کربلا امام زمانہ اور ہماری ذمہ داریاں,ص,١٢٦,١٣١)
🔵 سوال : کیا کوئی زندہ آدمی کے روزوں کی قضا رکھ سکتا ہے؟ 📚 کسی آدمی کو زندہ آدمی کے روزوں کی قضا کے لئے اجرت نہیں دے سکتے اور خود اس انسان پر روزوں کی قضا واجب ہے جب بھی جس زمانہ میں روزوں کی قضا بجانے لانے کی توانائی حاصل ہو جائے تو خود قضا روزہ رکھے. 👌🏼 جی ہاں اگر انسان اپنے روزوں کی قضا بجا نہیں لاسکا تو یہ وصیت کرسکتا ہے میرے مرنے کے بعد روزوں کی قضا بجا لائی جائے . 🔺 مآخذ امام، العروه الوثقی مع تعلیقات، ج1، (صلاه الاستیجار)، قبل از م 1؛ خامنه ای، صافی، سبحانی و مکارم: استفتا؛ سیستانی، العروه الوثقی مع تعلیقه، ج2، (صلاه الاستیجار)، قبل از م 1 و مهاج الصالحین، ج1، (صلاه الاستیجار)، قبل از م 752. ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
❤️عورت کے اندر چار صفات موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔ جو اس کو ولایت تک لے جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1 .عورت روتی بہت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر عورت کا رونا امت کے لیے ہو تو۔۔۔۔۔۔ امت میں دین زندہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2 . عورت بولتی بہت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر عورت کا بولنا دعوت اللہ کے لیے ہو تو۔۔۔۔ امت دعوت دینے والی بن جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3 .عورت کے اندر منوانے والی صفات موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر عورت اللہ کے راستے کے لیے منوائے تو۔۔۔۔۔ کامیابی مل جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 4 . عورت بہت صبر کرنے والی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر دین کی مشقتوں پر صبر کرنے والی بن جائے ۔۔۔۔۔ تو اس عورت کا دین نکھر جائے۔۔۔۔۔۔۔۔
🎆روشنی🎆: 🎆تین چیز ایک دوسرے سے جدا نہیں🔻 آیَتـُـ الله بَهْجَتـْـ (ره): تین چیز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں ۱۔ کوئی زیادہ دعا کرے تو وہ قبول ہونے محروم نہیں رہ سکتا ۲۔ کوئی زیادہ استغفار کرے تو وہ مغفرت و بخشش سے محروم نہیں رہ سکتا ۳۔ کوئی زیادہ شکر کرے تو وہ نعمتوں کے زہادہ ہونے سے محروم نہیں رہ سکتا
без подписи
*اگر میں شہید ہو گیا تو رونا نہیں خوش ہونا_* *_کیونکہ ہم لڑ کر شہید ہو رہے ہیں میری فوج اور میری عوام بھی لڑ کر شہید ہو رہے ہیں، ہمیں یہودیوں اور امریکیوں کے سامنے نہ جھکنا ہے نہ ہی امریکہ سے مدد نہیں مانگنی ہے_* *_کیونکہ میں آخرت میں اس حالت میں جواب دے سکوں کہ میں اسلام کے لیے لڑا تھا کسی طاقت کے سامنے جھکا نہیں تھا_*
♻️جب حضرت قائم (عج) قیام کریں گے تو ہر جگہ کلمہ شھادت ( اشهد ان لا اله الاالله و اشهد ان محمد رسول الله ) بلند ہوگا. قال الامام صادق (علیه السلام) : اذا قام القائم لا یبقی ارض الا نودی فیها شهاده ان لا اله الا الله و ان محمد ا رسول الله . حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جب حضرت قائم (عجل الله تعالی فرجه) قیام کریں گے تو زمین کا کوئی حصہ کلمہ شھادت اشهد ان لا اله الاالله و اشهد ان محمد رسول الله سے خالی نہیں رہے گا. 📗بحارالانوار ،ج52،ص 340،تفسیر عیاشی 🌸 اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجِّلْ فَرَجَهُم 🌸
سلام بسمہ تعالیٰ "ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺸﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺣﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ ﻣﻠﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺩﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﮌﮬﺘﯽ، ﺑﺲ ﺣﺮﻡ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺎﺩﺭ ﭘﮩﻦ ﻟﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﯽ ﯾﮧ ﭼﺎﺩﺭ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﮔﺮ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﮌﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺋﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺠﺌﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮨﺎﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮔﯽ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮨﺎﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﺯﮨﺮﺍ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﻲ ﯾﺎ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺗﻢ ﻭﺿﻊ ﻗﻄﻊ ﺍﭘﻨﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺯﮨﺮﺍ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﺯﮨﺮﺍ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺍﭘﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﻭﮦ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﺟﺘﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺸﺎﺑﮩﺖ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮨﻮﮔﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﮌﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺯﮨﺮﺍ ﮐﮯ ﻣﺸﺎﺑﮧ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺑﻐﯿﺮ ﭼﺎﺩﺭ ﮐﮯ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﮌﮬﻮﮞ ﮔﯽ۔" ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻣﮩﺪﯼ ﻣﺎﻧﺪﮔﺎﺭﯼ
📚حوالہ جات 1۔ ابن اثیر جزری، أسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج۶، ص۷۸. 2۔ الاستيعاب، ج۴، ص۱۷-۱۸ 3۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۱۱، شمارہ ۴۰۹۶. 4۔ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۳؛ ابن سید الناس، عیون الاثر، ج۱، ص۶۳. 5۔ بلاذری، الانساب الاشراف، ج۱، ص۹۸. 6۔ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۵، ص۲۹۳۔ 7۔ ابن شہرآشوب، المناقب آل ابی طالب، ۱۳۷۶ق، ج۱، ص۱۴۹؛ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، بیروت، ج۲، ص۲۰؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ، ۱۳۸۷ق، ج۲ ، ص۲۸۰۔ 8۔ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۹۳۔ 9۔ ابن سیدالناس، عیون الاثر، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۶۳۔ 10۔ ابن اثیر جزری، اسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۲۳۔ 11۔ ابن شہرآشوب، المناقب آل ابی طالب، قم، ج۱، ص۱۵۹: «روی أحمد البلاذری و أبوالقاسم الکوفی فی کتابیہما و المرتضی فی الشافی و أبو جعفر فی التلخیص: أن النبی (ص) تزوج بہا و کانت عذراء»۔ 12۔ عاملی، الصحیح، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۱۲۵۔ 13۔ ابن اثیر، الکامل، ج۲، ص۳۹؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸ ،ص۱۷۴؛ ابن اثیر جزری، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج۱، ص۲۳؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱،ص۹۸ و ج۹ ،ص۴۵۹ ؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک ، ج۲ ،ص۲۸۰۔ 14۔ بیہقی، دلائل النبوۃ، ج۲، ص۷۱؛ السیرۃ الحلبیہ، ج۱، ص۱۴۰؛ البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۴: «وکان عمرہا إذ ذاک خمسا و ثلاثین و قیل خمسا و عشرین سنہ»؛ بلاذری انساب الاشراف، ج۱، ص۹۸۔ 15۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۸ ، ص۱۷۴؛ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۹۴۔ 16۔ عاملی، الصحیح، ۱۴۱۵ق، ج ۲، صص ۲۰۷-۲۲۰۔ 17۔ ابناثیر، الكامل، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۵۷. 18۔ مقریزی، امتاع الاسماء، ۱۴۲۰ق، ج۹، ص۸۸ . 19۔ ابن اثیر جزری، أسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۶، ص۷۸؛ ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۱۰۸۹ 20۔ سورہ ضحی (93) آیت 8۔ 21۔ مجلسی، بحار الانوار، ج19، ص 63۔ 22۔ مجلسی، بحارالانوار، ج19، ص 16۔ 23۔ ابن ہشام، سیرۃ النبی، ترجمہ: رسولی محلاتی، ج1، ص 221۔ 24۔ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۳۵، ص۴۲۵؛ ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، قم، ج۳، ص۳۲۰۔ 25۔ ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۸۱۷۔ 26۔ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۲۸۱۔ 27۔ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۱۲۹۔ 28۔ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۱۲۹۔ 29۔ مقریزی، إمتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج۱۵، ص۶۰۔ 30۔ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۱۵۔( ابن کثیر وحی کے ابتدائی ایام میں حضرت خدیجہ(س) کے ان القابات کی طرف اشارہ کرتے ہیں)؛ بیہقی، دلائل النبوۃ، ۱۴۰۵ق، مقدمہ کتاب، ص۱۶۔ 31۔ ابن اثیر جزری، أسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۶، ص۸۳۔ 32۔ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۰۰، ص۱۸۹۔ 33۔ السیلاوی، الأنوار الساطعۃ، ۱۴۲۴ق، ص۲۴۔ 34۔ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۶۱ ؛ ابن اثیر جزری، أسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۲۶۔ 35۔ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۸۲۴۔ 36۔ مسعودی، مروج الذہب، ج2، ص 282؛ ابن سیدالناس، عیون الاثر، ج1، ص 151؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1817؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص 493؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج8 ، ص 14۔ 37۔ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص 1818۔ 38۔ ابن سعد، الطبقات الكبرى، ج1، ص96۔ 39۔ ابن سعد، الطبقات الكبرى، ج 8 ، ص14۔ 40۔ مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۴۵. 41۔ ابو الحسن بکری، الانوار الساطعہ من الغرّاء الطاہرۃ، ص735۔
■ اسلام میں آپ کا کردار حضرت خدیجہؑ کی مالی امداد کی بدولت رسول خداؐ تقریبا غنی اور بے نیاز ہو گئے۔ خداوند متعال آپؐ کو اپنی عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: وَوَجَدَكَ عَائِلاً فَأَغْنَى(ترجمہ: اور (خدا نے) آپ کو تہی دست پایا تو مالدار بنایا)[20] رسول خداؐ خود بھی فرمایا کرتے تھے: ما نَفَعَنِي مالٌ قَطُّ ما نَفَعَني (أَو مِثلَ ما نَفَعَني) مالُ خَديجة (ترجمہ: کسی مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا فائدہ مجھے خدیجہؑ کی دولت نے پہنچایا۔)[21] رسول خداؐ نے خدیجہؑ کی ثروت سے مقروضوں کے قرض ادا کئے؛ یتیموں، تہی دستوں اور بے نواؤں کے مسائل حل کئے۔ شعب ابیطالبؑ کے محاصرے کے دوران حضرت خدیجہؑ کی دولت بنی ہاشم [اور بنی المطلب] کی امداد میں صرف ہوئی۔ یہاں تک کہ احادیث میں آیا ہے کہ: أنفق أبو طالب وخديجة جميع مالہما" (ترجمہ: ابوطالبؑ اور خدیجہؑ نے اپنا پورا مال (اسلام اور قلعہ بند افراد کی راہ میں) خرچ کیا۔)[22] شعب ابیطالبؑ میں محاصرے کے دوران حضرت خدیجہؑ کا بھتیجا حکیم بن حزام گندم اور کھجوروں سے لدے ہوئے اونٹ لایا کرتا تھا اور بے شمار خطرات اور زحمت و مشقت سے بنی ہاشم کو پہنچا دیتا تھا۔[23] یہ بخشش اس قدر قابل قدر اور خالصانہ تھی کہ خداوند عالم نے اس کی قدر دانی کرتے ہوئے اس نیک کام کو اپنی طرف سے اپنے حبیب حضرت محمدؐ کو عطا کردہ نعمات میں شمار فرمایا۔[24] پیغمبر اکرمؐ بھی اس عظیم المرتبت خاتون کی بخشندگی اور ایثار کو ہمیشہ یاد فرماتے تھے۔[25] ■ مقام و مرتبت حضرت خدیجہ باعظمت، مالدار اور اپنے زمانے کی مؤثر خواتین میں سے تھیں۔[26] جابر بن عبداللہ انصاری پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک حدیث میں حضرت خدیجہ(س)، حضرت فاطمہ(س)، مریم اور آسیہ کو عالمین کے عورتوں کی سرادار قرار دیتے ہیں۔[27] اسی طرح پیغمبر اکرمؐ حضرت خدیجہ(س) کو دنیا کی باکمال[28] اور بہترین خاتون قرار دیتے ہیں۔[29] اسلامی مآخذ میں حضرت خدیجہ کو طاہرہ، زکیہ، مرضیہ، صدیقہ، سیدہ نساء قریش[30]، خیرالنساء[31] اور باعظمت خاتون[32] کے القاب اور ام المؤمنین کی کنیت سے یاد کرتے ہیں۔[33] متعدد روایات میں پیغمبر اکرمؐ کے نزدیک حضرت خدیجہ کے خاص مقام و منزلت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ مآخذ میں آیا ہے کہ حضرت خدیجہ(س) پیغمبر اکرم کے لئے بہترین اور صادق ترین وزیر اور مشاور کی حیثیت رکھتی تھیں نیز آپ حضورؐ کے لئے سکون دل کا باعث بھی تھیں۔[34] پیغمبر اکرمؐ آپ کے وصال کے سالوں بعد بھی آپ کو یاد فرماتے ہوئے آپ کو بے نظیر اور بے مثال خاتون قرار دیتے تھے۔ جب حضرت عایشہ نے پیغمبر اکرمؐ سے کہا کہ خدیجہ آپ کے لئے ایک بوڑھی زوجہ سے زیادہ کچھ نہیں تھی، تو پیغمبر اکرمؐ بہت ناراض ہو گئے اور اس بات کے جواب میں فرمایا: "خدا نے میرے لئے خدیجہ سے بہتر کوئی زوجہ عطا نہیں فرمائی، اس نے اس وقت میری تصدیق کی جب میری تصدیق کرنے والا کوئی نہیں تھا، اس نے اس وقت میری مدد کی جب میری مدد کو کوئی حاضر نہیں تھا اور اس وقت اپنی دولت کا مکمل اختیار مجھے دے دیا جب دوسرے مجھے اپنی دولت سے دور رکھے جا رہے تھے۔"[35] بعض معتقد ہیں کہ حضرت خدیجہ کی مادی اور دنیاوی دولت سے زیادہ ان کی معنوی ثروت اہمیت کی حامل تھی۔ انہوں نے قریش کے بزرگان اور اشراف کی طرف سے دی گئی شادی کی پیشکش کو ٹھکرانے اور پیغمبر اکرمؐ کو اپنے شوہر کے طور پر انتخاب کرنے کے ذریعے مادی اور دنیوی مال دولت پر اخروی سعادت اور بہشت کی ابدی نعمات سے بہرہ مند ہونے کو ترجیح دے کر اپنی عقلمندی اور دور اندیشی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے ان نعمتوں سے بہرہ مند ہونے کے لئے سب سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کی تصدیق کی اور ان کی معیت میں نماز قائم کر کے اولین مسلمان ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا۔ ■ وفات اکثر تاریخی مآخذ میں حضرت خدیجہؑ کی تاریخ وفات کو بعثت کا دسواں سال (یعنی ہجرت مدینہ سے 3 سال پہلے) قرار دیا ہے۔[36] ابن عبدالبر کا کہنا ہے کہ خدیجہؑ کی عمر بوقت وفات 64 سال چھ ماہ تھی۔[37] ابن سعد کا کہنا ہے کہ حضرت خدیجہؑ ابوطالبؑ کی رحلت کے 35 دن بعد رحلت کر گئیں۔[38] وہ اور بعض دوسرے مؤرخین نے کہا ہے کہ آپ کی وفات کی صحیح تاریخ رمضان سنہ 10 بعثت ہے۔[39] پیغمبر اکرمؐ کے چچا ابوطالب بھی اسی سال رحلت کر گئے تھے لہذا پیغمبر اکرمؐ نے اس سال کو عام الحزن کا نام دیا۔[40] ■ آرامگاہ اسلامی احادیث کے مطابق رسول اللہؐ نے آپ کو اپنی ردا اور پھر جنتی ردا میں کفن دیا اور مکہ کے بالائی حصے میں واقع پہاڑی (کوہ حجون) کے دامن میں، مقبرہ معلیٰ (جنت المعلی) میں سپرد خاک کیا۔[41] موجودہ زمانے میں حضرت خدیجہ کے آرامگاہ پر ایک چھوٹی عمارت بنی ہوئی ہے اور حج پر مکہ جانے والے حجاج اس کی زیارت سے مشرف ہوتے ہیں۔