tgindex
🦋✨ آداب مباشرت✨🦋

🦋✨ آداب مباشرت✨🦋

Статистика

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آداب مباشرت میں شب زفاف (سہاگ رات)، طریقہ ہمبستری کا سنت طریقہ، عورت کیا چاہے شوہر سے وغیرہ وغیرہ پر تفصیلی گفتگو۔ آپ سے گزارش ہے کہ زیادہ ساتھیوں کوچینل میں ایڈ کر اس کار خیر کے حصہ دار بنیں۔ رابطہ : @AdabeMubashrat_bot

Последний пост
13 авг.
Последнее чтение
14 авг.
Постов за неделю
3
Всего постов
169
Тип
открытый
Язык
ur
Категория
Религия (по похожим)
В каталоге с
13 авг.
Подписчики
2 446
−7 за 5 дн.
Сутки
−1
−0,04%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
344
40 постов
Вовлечённость
14,1%
к подписчикам
Постов в день
0,4
всего 169
Упоминаний
16
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
177
1/48двое суток
202
1/72трое суток
218

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • شوہر اور بیوی کا سب کے سامنے گلے ملنا کیسا ہے؟ مفتی طارق مسعود صاحب Shohar_Aur_Biwi_Ka_Sabke_Samne_Gale_Milna_Kaisa_Hai_? _Ask_Mufti_Tariq_Masood Sahab_

  • *عید کی آمد اور خواتین کا پارلر...!!* *عید کے موقع پر خواتین حساب سے کام لیں۔۔! تاکہ تم ایک اچھی بیوی بن سکو، خواتین سے گزارش ہے کہ اسراف کو رد کرکے اعتدال سے کام لیں اور اپنے شوہروں کی خیر خواہ بیوی کہلائیں...!!* 🤌🏻❤️ *ईद के मौके पर महिलाएं हिसाब से काम लें..! ताकि आप एक अच्छी पत्नी बन सकें, महिलाओं से अनुरोध है कि इस महंगाई के दोर में वे फ़िज़ूलख़र्ची से बचते हुवे चलें..! और अपने पतियों की खे़र ख्वाह पत्नी कहलाएँ...!!*

  • #تربیت #نصائح مجالس علی میاں رحمۃ اللہ علیہ ص۱۳۸ مجلس (۱۰) ۱۴۱۷/۲/۲۵ھ مطابق ۱۹۹۶/۷/۱۲ء آج بعد نماز مغرب حضرت مولانا قاری صدیق احمد صاحب باندوی دامت برکاتھم حضرت مولانا کی ملاقات کے لیے تشریف لائے تھے، ان کے ساتھ ان کے بعض مریدین بھی تھے، دس پندرہ منٹ گفتگو کر کے تشریف لے گئے تو مجلس لگتے ہی حضرت مولانا مدظلہ مولانا برہان الدین صاحب سے فرمانے لگے کہ قاری صدیق صاحب آئے تھے، ان کے کسی مستر شد نے ان کے ملفوظات اور مکتوبات کو جمع کیا ہے ، وہ صاحب ہم سے مقدمہ لکھوانا چاہتے ہیں، بڑے اچھے اصلاحی ملفوظات ہیں۔ * بعض کتب ملفوظات کا ذکر* پھر فرمایا: حضرت نظام الدین اولیاء رح کے ملفوظات کا نام خوب رکھا گیا ہے فوائد الفواد اور اسی طرح تصوف کی ایک کتاب کا نام ہے قوت القلوب ۔ *حضرت تھانوی کے ملفوظات کی جامعیت اور اہمیت* مولانا برہان الدین صاحب نے کہا: اس دور میں حضرت تھانوی کے ملفوظات میں جو بات ہے وہ کہیں نہیں ، ان کے بے ساختہ ملفوظات میں بھی وہ علمی نکتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے، پھر ایک مجلس کا قصہ سنایا کہ ایک شخص نے حضرت سے پوچھا: حضرت شادی کرنے کی استعداد نہیں ہے، کیا کروں؟ ایک شخص نے کہا: ( جیسا کہ بعض لوگوں کو بیچ میں بولنے کی عادت ہوتی ہے ) حدیث میں آیا ہے کہ روزہ رکھنا چاہیے تو تم روزے رکھو۔ اس نے کہا: میں نے روزے بھی رکھ کر دیکھ لیے، مگر وہ کیفیت دور نہیں ہوئی ، *اب حضرت تھانوی نے اس شخص سے جس نے جواب دیا تھا کہا: اب جواب دو۔ وہ شخص پریشان ہو گیا،* اور اس کو بڑی ندامت ہوئی، پھر حضرت تھانوی نے جواب دیا ( یہاں نازک موقع تھا کہ اگر اس کو کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا جاتا تو *وہ حدیث کے سلسلے میں شک میں مبتلا ہو جاتا کہ ایک بات حدیث میں کہی گئی ہے مگر صحیح نہیں لیکن حضرت نے اس کا اشکال دور کیا )* دیکھو یہاں حدیث میں فلیصم نہیں ہے، بلکہ فعليه بالصوم آیا ہے اور علی الزام کے لیے آتا ہے، یعنی جب تک وہ کیفیت دور نہ ہو، یہ کرتے رہو، تو جب تک تمہاری خواہش ختم نہ ہو جائے اور تمھارے جذبات سرد نہ ہو جائیں ، اس وقت تک روزے رکھو۔ حضرت مولانا نے فرمایا: بالکل صحیح فرمایا، اس طرف عموماً ذہن نہیں جاتا، پھر فرمایا: کیا ان کا علمی استحضار تھا! فرمایا: اس آخری دور میں جس اہتمام سے حضرت تھانوی کے ملفوظات مرتب کیے گئے کسی کے نہیں کیے گئے۔ اس میں جامعیت بھی ہے عملیت بھی۔ فرمایا: ہم بھی اس کو پڑھنے کے لیے کہتے ہیں, اور یہی حال ان کی عام تصنیفات کا ہے، ہر تصنیف میں تاثیر اور نافعیت ہے۔

  • *غور کیجئے!!!* ہماری عبادتیں *تاج محل* جیسی ہیں۔ اوپر سے خوبصورت سجی ہوئی، *اور اندر سے ایک قبر ایک مردہ کی مانِند ۔۔۔!!* اسی لئے یہ بے اثر ہیں۔ مسجدوں میں نمازی ہیں، قرآن خوانیوں کی محفلیں ہیں، ہر گھر میں قرآن کے سجے ہوئے کئی نسخے ہیں، حرم حاجیوں سے بھر گیا ہے، قربانی کے جانور ہر سال قربان ہوتے ہیں۔ پھر بھی مسلم امت محکوم، مغلوب، ذلت کا شکار، کردار و اخلاق میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔۔۔! *کیا ان عبادات کے نظام میں کوئی کوتاہی ہے ؟؟؟* بالکل بھی نہیں۔۔۔! کوتاہی ہم میں ہے کہ عبادت کو بطور رسم خوب ادا کرتے ہیں، *لیکن یہ روح سے خالی اور اس مردے کی طرح، جس میں تعفن پیدا ہو گیا ہے۔* *اگر ہم سچے دل سے عبادتوں کا اثر ،خود پر اور معاشرے پر چاہتے ہیں تو اسکی روح کو سمجھنا ہوگا۔* *اگر نہیں تو عبادت رسم ہی رہے گی ۔۔۔۔۔۔ _اور وہ رسم ہم ادا کرہی رہے ہیں جیسے ہندو، یہود اور عیسائی بھی کرتے ہیں۔_* #نصائح

  • #تربیت_اولاد *بچوں کو معذرت کہنا سیکھائیے* بہن بھائی سے لڑائی کی صورت میں۔۔۔۔معذرت کھیل کے دوران ایک دوسرے کو دھکا لگنے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معذرت *دوسرے بچوں کی چیزوں کے نقصان پر ۔۔۔۔۔۔۔۔معذرت* *سکول میں ہم جماعت کو تکلیف پہنچانے پر۔۔۔۔۔۔۔۔معذرت* *بڑے اپنی غلطیوں پر بچوں سے بھی معذرت کریں* *تاکہ بچے بھی معذرت کرنے سے نہ ہچکچائیں* *اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں تاکہ وہ بڑے ہو کر آپ کا اور دوسروں کا خیال رکھیں* *ان کے دلوں میں دوسرے لوگوں کے بارے میں ہمدردی، الفت، محبت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔* *ماخوذ تراشے*

  • #مرد_کی_محبت مــرد کمــزور یا بیوقــوفـــ نہیں ہـوتا... بس محبت میں ہار جـاتا ہـے... عــورت کے چہـرے پہ ایکـــ مسـکراہٹ دیکھنے کے لیے جــان بوجھ کے بیوقــوف بن جاتا ہــے.۔. بڑے سے بڑا زخم جسم پہ لگـــ جائے تو نہیں روتا۔۔۔ لیکن۔۔۔ وہ عورت۔۔۔ جسے وہ دل سے چاہتا ہے۔۔۔ اسکی آنکھ کا ایک آنسو بھی مرد کا حوصلہ توڑ کر رکھ دیتا ہے۔۔۔ لوگ کہتے ہیں۔۔ عورت کے آنسو بہت بڑا ہتھیار ہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ اصل میں تو۔۔۔ یہ مرد کی محبت ہے جو وہ اسکی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کرپاتا۔۔۔ عورت کی صرف ایک مسکراہٹ کے لیئے اپنی محنت کی ساری کمائی اس پر لٹا دیتا ہے۔۔۔ ایک آنسو کے روکنے کے لیئے وہ سب کچھ کر لیتا ہے جو عورت چاہتی ہے۔۔۔ اب چاہے وہ مرد باپ ہو بھائی ہو یا شوہر ہو۔۔۔ یہ مرد کی کمزوری یا بیوقوفی نہیں ہے۔۔۔ یہ تو اسکی محبت کا ایک رنگ ہے.. اور۔۔۔سارے رنگوں میں سب سے حسین ہے۔ (کاپی، پیسٹ)

  • *"نکاح کیا ہے؟* *آئیں! نکاح کے لفظ میں تدبر(Reflect) کرتے ہیں۔* اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اہل ایمان کو نکاح کا حکم دیا ہے۔شادی کےلیے تو "تزوجوا" کا لفظ بھی ذکر ہوسکتا تھا لیکن اللہ تعالی نے "فانکحوا" فرمایا یعنی نکاح کرو۔ میاں بیوی کے رشتے کےلیے اس سے بہتر لفظ کوئی نہیں ہوسکتا۔ اتنا خوبصورت لفظ کہ اپنے اندر ہی میاں بیوی کےلیے زندگی گزارنے کے سنہری اصول رکھتا ہے۔ میں ضمانت کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میاں بیوی اگر اس لفظ کو گہرائی سے سمجھ لیں تو کبھی ایک دوسرے سے نفرت نہیں کریں گے۔ طلاق کی نوبت نہیں آئے گی۔ ہم لوگ قرآن سے اتنے دور ہیں کہ نکاح کی تقریب میں بھی اس دقیق (Profound) لفظ کو نہ سمجھتے ہیں اور نہ سمجھاتے ہیں۔ اگر اس لفظ کو سمجھ لیا جائے تو میاں بیوی کے جھگڑے ختم ہوجائیں،نفرتیں محبتوں میں بدل جائیں اور بے سکونی سکون میں ۔ نکاح اصل میں نام ہے دو چیزوں کا یک جان ہوجانا، دو چیزوں کا ایک دوسرے میں گم ہو جانا۔ عرب لوگوں کے ہاں اس کی چار شکلیں تھیں۔ 1:جب درخت آپس میں گتھ متھ ہوجاتے اور ان کی شاخیں مل کر ایک چھاؤں بنا دیتیں تو وہ کہتے: تناکح الاشجار یعنی درختوں نے آپس میں نکاح کر لیا۔ میاں بیوی اس طرح ایک دوسرے سے مل کر رہیں کہ ان کی چھاؤں میں اگلی نسل بہترین انداز میں پروان چڑھے۔ 2:جب بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں زمین کے سینہ میں جذب ہوجاتیں اور بارش و مٹی ایک ہو جاتے تو عرب کہتے: نکح المطر الارض یعنی بارش نے زمین سے نکاح کر لیا۔ جس طرح بارش زمین سے ملنے کے بعد اپنا وجود کھو دیتی ہے اور مٹی اپنی خشک فطرت سے باہر نکل کر بارش کی طرح گیلی ہوجاتی ہے،اسی طرح نکاح کے بعد میاں بیوی بھی اپنے جذبات و احساسات اور خواہشات و تمناؤں کو ایک دوسرے میں جذب کر دیں اور اپنے حقوق پر کمپرومائز کرنا سیکھ لیں۔ 3:جب نیند آنکھوں پر چھا کر اسے بند کرکے سُلا دیتی تو ،عرب کہتے : نکح النعاس عینیه یعنی نیند/اونگھ نے اس کی آنکھوں سے نکاح کر لیا یعنی دونوں ایک ہوگئے۔ اسی طرح میاں بیوی حسن معاشرت سے ایک دوسرے پر چھا کر ایک دوسرے کو میٹھی اور پرسکون نیند سلائیں۔ 4:جب مرد عورت پر اعتماد کرتا اس حد تک کہ دونوں یک جان ہوجاتے تو عرب کہتے: نکح الرجل المراۃ یعنی مرد نے عورت پر مکمل اعتماد کیا۔ میاں بیوی ایک دوسرے پر اعتماد کرکے زندگی کو خوشگوار اور جنت بنائیں تاکہ یہ رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے ♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ ⌲ ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

  • ایام والی عورتوں کا تکبیرات تشریق پڑھنا؟ مفتی طارق مسعود صاحب

  • *Aaj Ka Muashra* *Talaq Yaafta Beti , Aur Berozgaar Beta* *Gahr Me Alag Kamre Ka Pankha Chalayen To Bijli Ka Bil Ziyada Lagta Hai*

  • ┯━══◑━═━┉─◑━═━━══┯ *●• عورت کی اصلاحی روشنی •●* ╥────────────────────❥ *⊙⇨ عورت کی اصلاح سب سے زیادہ اس کے شوہر سے ہوگی بشر طیکہ مرد بھی نیکی کا راستہ اختیار کرلے:-* *★_ مرد اگر پارسا طبع نہ ہو تو عورت کب صالحہ ہوسکتی ہے۔ ہاں اگر مرد خود صالح بنے تو عورت بھی صالحہ بن سکتی ہے۔ قول سے عورت کو نصیحت نہ دینی چاہئے بلکہ فعل سے اگر نصیحت دی جاوے تو اس کا اثر ہوتا ہے، عورت تو در کنار اور ہے بھی کون جو صرف قول سے کسی کی مانتا ہے۔* *★_ اگر مرد کوئی کمی یا خامی اپنے اندر رکھے گا تو عورت ہر وقت کی اس پر گواہ ہے۔ اگر وہ رشوت لے کر گھر آیا ہے تو اس کی عورت کہے گی کہ جب خاوند لایا ہے تو میں کیوں حرام کہوں۔ غرض کہ مرد کا اثر عورت پر ضرور پڑتا ہے اور وہ خود ہی اسے خبیث اور طیب بناتا ہے۔ اس لیے فرمایا ہے۔* *"_ اَلۡخَبِیۡثٰتُ لِلۡخَبِیۡثِیۡنَ وَ الۡخَبِیۡثُوۡنَ لِلۡخَبِیۡثٰتِ ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیۡنَ وَ الطَّیِّبُوۡنَ لِلطَّیِّبٰتِ ۚ ( النور (۲٦)* *"★_(ترجمہ)_ خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لائق ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لائق ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لائق ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لائق ہیں ۔* *"★_اس میں یہی نصیحت ہے کہ تم طیب بنو ورنہ ہزار کوششیں رو کچھ نہ بنے گا۔ جو شخص خدا سے خود نہیں ڈرتا تو عورت اس سے کیسے ڈرے گی؟ نہ ایسے مولویوں کا وعظ اثر کرتا ہے نہ خاوند کا ۔ ہر حال میں عملی نمونہ اثر کیا کرتا ہے۔* *★_ بھلا جب خاوند رات کو اٹھ اٹھ کر دعا کرتا ہے۔ روتا ہے تو عورت ایک دو دن تک دیکھے گی آخر ایک دن اسے بھی خیال آوے گا اور ضرور متاثر ہوگی۔ عورت میں متاثر ہونے کا مادہ بہت ہوتا ہے۔ ان کی درستی کے واسطے کوئی مدرسہ بھی کفایت نہیں کر سکتا خاوند کا عملی نمونہ کفایت کرتا ہے۔ خاوند کے مقابلہ میں عورت کے بھائی بہن وغیرہ کا بھی کچھ اثر اس پر نہیں ہوتا۔*

  • #نصائح #تربیت_اولاد *(فیشن زدہ حجاب*) آج کل کی نوجوان نسل نے پردے کو کیا بنا لیا ہے ، میری سمجھ میں نہیں آتا یہ پردے کی کونسی شکل ھے۔۔۔۔۔۔۔؟ *ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے ایک کلینک میں جانا ہوا، کافی رش تھا تو نمبر لیکر ایک طرف بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا، اتنے میں تین نوجوان لڑکیاں بھی کلینک میں داخل ہوئیں، خوبصورت میکسی نما عبایا پہنے ہوئے، بالکل چست آستینیں، گلے اور آستینوں پر بہت خوبصورت کام بنا ہوا، سر پہ بڑی خوبصورتی اور نفاست سے چھوٹا سا اسکارف لپیٹا ہوا، سر پہ بائیں طرف اسکارف کے اوپر ایک نگینوں سے مزین پن لگائی ہوئی، اسکارف اتنا چھوٹا کہ بمشکل چہرے سے تھوڑا سا نیچے گلے تک آرہا تھا، اتنا بھی نہیں تھا کہ سینے کو تو ڈھانپ لے، عبایا ایسا کہ جسم کے سب نشیب وفراز کو واضح کررہا تھا، اسکارف صرف خوبصورتی کے لئے پہنا گیا جس میں چہرہ بھی کھلا ہوا تھا، آنکھیں گویا نین کٹارے، سرمہ ، کاجل، لائنر اور ہونٹوں پر لپ اسٹک، دل میں درد کی ایک لہر سی اٹھی، پردے کے نام پر ایسی بے حیائی۔۔۔۔۔۔۔۔؟* *ایسے پردے کو تو خود پردے کی ضرورت ھے.............. !!!* اور کچھ خواتین جو تھوڑا سا چہرے کو ڈھانپنے کا اہتمام کر بھی لیتی ہیں مگر سینے انکے بھی کھلے ہوئے ہوتے ہیں، برقعے ایک سے بڑھ کر ایک اسٹائلش، نت نئے ڈیزائن، کڑھائی، کٹ ورک، موتی ،نگینے، رنگوں سے بھرپور، *پردے اور حجاب کے نام پر کیسے کیسے فیشن متعارف کرائے جارہے ہیں کہ وہ بجائے عورت کو ڈھانپنے کے مزید عیاں کر رہے ہیں،نا دیکھنے والا بھی دیکھنے پر مجبور ہوجائے، ہر ایک نظر کو دعوت نظارہ دیتے ہوئے حجاب ہماری خواتین نے برقعے اور حجاب کو بھی فیشن کے طور پر اپنالیا،* حسن اور خوبصورتی کے مقابلےمیں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ، سب میں نمایاں نظر آنے کا جذبہ، فیشن کا حد سے بڑھتا شوق، *افسوس صد افسوس،،،،* میری قابلِ احترام بہنو!!! یہ کس راستے پر چل پڑی ہو، یہ وہ راستہ ہے جسے شیطان نے ہماری نظروں میں مزین کر کے دکھا دیا ہے، *ذرا سوچیں تو صحیح کیا یہ وہی پردہ ہے قرآن نے جس کا حکم دیا ہے۔۔۔۔۔؟* يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا.* *(سورۃ الأحزاب. 59)* *اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں، اس طرح زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ تعالٰی معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے* قرآن جس پردے کا حکم دیتا ھے وہ تو مومن عورتوں کی زیب و زینت کو چھپانے کے واسطے ہے، تاکہ پہچان لی جائیں کہ یہ شریف باحیا عورتیں ہیں، ان پر کوئی میلی نظر نہ ڈالے، *مگر آجکل جو کچھ پردے اور حجاب کے نام پر ہمارے سماج میں ہورہا ھے اگر اسے نہ روکا گیا تو پردہ خود ایک مذاق بن کر رہ جائے گا،* برقع پہننے کا مطلب کیا ھے، اسکارف پہننے کا مطلب کیا ھے، کیا دوسروں کی توجہ خواہ مخواہ اپنی طرف مبذول کرانا۔۔۔۔؟ *جس طرح کے عبایا اور اسکارف ہم نے استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں، کیا یہ واقعی پردے کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں، یا ہم نے حجاب کے نام پر ایک اور زیب و زینت اختیار کر لی ھے۔۔۔۔۔؟* *اس طرح کے حجاب کا آخر مقصد کیا ھے۔۔۔۔؟* ہم کس کو خوش کررہے ہیں...؟ کس کو متاثر کرنا چاہتے ہیں.....؟ ذرا اپنے دلوں کو ٹٹولیں تو صحیح، *کیا یہ پردہ ہم اللہ کو خوش کرنے کے لئے کر رہے ہیں۔۔۔۔؟* *کیا یہ پردہ ہمارے ایمان کے تقاضوں کو پورا کررہا ھے۔۔۔۔۔؟* پردہ تو عورت کو عزت اور عظمت عطا کرتا ھے، اسے دوسروں کی نظر میں باعزت بناتا ھے، اسے لوگوں میں معزز اور محترم ظاہر کرتا ہے، اسے نامحرم مردوں کی حریص نظروں سے بچاتا ھے، پردہ عورت کی حفاظت کرتا ھے ۔۔۔۔۔ !!! *لیکن جو پردہ آج ہم کررہے ہیں کیا وہ ان سارے تقاضوں کو پورا کررہا ھے۔۔۔۔۔؟* میری مودبانہ اور دردمندانہ درخواست ہے، اپنی مسلمان بہنوں سے، اپنے معاشرے سے، کہ خدارا پردے کو پردہ ہی رہنے دیں، اسے اپنی خواہشات اور فیشن کی بھینٹ نہ چڑھائیں، *اپنے اسلامی وقار کو قائم رکھیں، سادگی کو اپنائیں، سادگی ایمان کا حصہ ھے، فیشن سے عزت نہیں ملتی، اللہ عزت دیتا ھے، اپنی نیتوں کو ٹھیک کرلیں، ڈھیلے ڈھالے اور سادہ حجاب اور برقعے استعمال کریں، اللہ کی رضا و خوشنودی کو پیش نظر رکھیں، اللہ کا حکم پورا کرنے کے لئے پردہ کریں، دین کے احکامات کا تمسخر نہ اڑائیں،،،،،!!!* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

  • #سبق_آموز_پوشیدہ_ازدواجی_مسائل :25 *(مرد کے بغیر عورت زندگی گزار سکتی ہے، جی نہیں سکتی)* شوہر اور بیوی کے مابین غیر ہموار ازدواجی زندگی اور لڑائی جھگڑے کی بنیادی وجہ دونوں میں جنسی ہم آہنگی کا نہ ہونا ہے، شادی کا پہلا مقصد ہی اپنی جسمانی ضروریات اور خواہشات کی، اپنی خوشی اور مرضی کے مطابق تکمیلہے شادی سے پہلے اکثر خواتین مردوں کی بنسبت خود پر بہت قابو رکھتی ہیں اور اپنے وجود کو شوہر کی امانت سمجھتے ہوئے اس میں خیانت نہیں کرتیں، اور اپنے پورے ارمان اور محبت صرف شوہر کے لیے ہی بچائے رکھتی ہیں، جو کہ ایک بہت اہم اور بڑا کٹھن مرحلہ ہوتا ہے، اب اس کٹھن مرحلے کو گذار کر جب شادی ہوتی ہے اور شوہر بیوی کو وہ خوشی اور اطمینان نہیں دے پاتا جو کہ اسے ہر صورت دینا چاہئے اور بیوی کا بنیادی حق بھی ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ پر قابو رکھ کر خود کو محفوظ حالت میں شوہر کے سپرد کیا ہے اب شوہر کسی بھی وجہ سے بیوی کو تسکین نہیں دے پاتا تو عورت کے پاس کیا امید باقی رہ جاتی ہے۔۔۔۔؟ پہلے تو شادی کی امید تھی کہ شادی کے بعد شوہر میری ضرورت پوری کرے گا لیکن اب شادی تو ہوچکی اب بھی اگر وہ مطمئن نہیں ہوسکی تو کوئی شک نہیں کہ اب اس کی طبیعت اور شخصیت میں تبدیلیاں رونما ہوں گی وہ ہر وقت بوجھل اور اداس رہے گی بات بات پر چلائے گی نفسیاتی مریضہ بنتی چلے جائے گی چِڑچِڑی ہو جاۓ گی اب اس کے اس رویے کی وجہ سے ہی آگے مسائل در مسائل پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ گھر والوں کو اس کا یہ رویہ تو نظر آرہا ہوگا لیکن اس کی اصل وجہ کوئی نہیں جان سکے گا اور وقت گزرنے کے ساتھ شاید اسے بدزبان اور بدتمیز کا طعنہ دے کر طلاق بھی دیدی جائے گی اور یوں سارا ملبہ عورت پر ڈال کر اسے چلتا کیا جائے گا،،، *عورت چاہے کتنا ہی الزام دے لے مرد کو چاہے کتنا ہی قصوروار قرار دے لے لیکن وہ ایک بات اچھی طرح سے جانتی ہے کہ اس کا حسن خوبصورتی دلکشی اور سنگ مرمر جیسا تراشا ہوا ریشمی بدن مرد کی نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ کئے بغیر کسی کام کا نہیں عورت کے حسن اور جسمانی نشیب و فراز کی کشش اور خوبصورتی کا سہرا بھی مرد کے سر ہی جاتا ہے، مرد کی توجہ اور اس کا مردمی لمس ہی عورت کی خوبصورتی کو نکھارتا بڑھاتا اور قائم رکھتا ہے، عورت کے جسم کی چمک اور تروتازگی مرد کی قربت کے سبب ہی ہے مرد ہی ہے جو عورت کے وجود اور حسن کو دوام بخشتا ہے عورت کے جذبات احساسات اور لذتوں کا محور مرد ہی ہے عورت کی زندگی اور جسم میں ہر رنگینی لذت و سرور فقط مرد کے دم سے ہی ہے، عورت مرد کے بغیر صرف زندگی گزار سکتی ہے زندگی جی نہیں سکتی ۔۔۔۔۔!* ➖➖➖➖➖➖➖➖➖

  • #سبق_آموز_پوشیدہ_ازدواجی_مسائل :24 *(عورت مرد کے لئے ایک عظیم تحفہ)* مرد کے لئے اللہ کی طرف سے عظیم تحفہ عورت ہے، مرد عورت کو پانے کے بعد مکمل ہو جاتا ہے *لیکن عورت کے لئے اللہ کا عظیم تحفہ اولاد ہے* عورت اولاد سے مکمل ہوتی ہے مرد جتنا بھی اسے مکمل کرنے کی کوشش کر لے اولاد کے بغیر عورت ادھوری ہی رہتی ہے کیونکہ ممتا کا احساس تو عورت کی فطرت کا حصہ ہے عورت بانجھ بھی ہو یہ احساس پھر بھی اس میں زندہ رہتا ہے،،، مرد باپ نہ بنے اسکا دنیاوی خسارہ ہوتا ہے لیکن عورت ماں نہ بنے اسکا روحانی خسارہ ہوتا ہے جس کی بھرپائی ناممکن ہے مرد دوسری شادی کرکے بھی اولاد حاصل کر سکتا ہے بانجھ عورت کے پاس یہ آپشن ہو بھی وہ تب بھی اولاد حاصل نہیں کر سکتی اس لئے میں کہتا ہوں بانجھ عورت کا ایک نارمل عورت کی نسبت زیادہ احساس کیا کریں ممکن ہو تو اس کی زندگی میں دوسری شادی نہ کیا کریں اگر کر لیا تو اسے دوسری سے زیادہ اہمیت دیا کریں تاکہ اسے اپنی زندگی بھر کی کمی کا کبھی احساس نا ہو پاۓ ، ماں نہ بننے کا دکھ ایک مرد مر کے بھی نہیں سمجھ سکتا جو سمجھ میں نا آۓ وہ دکھ بہت بڑا ہوتا ہے اس لئے اسکا احساس بھی زیادہ ہونا چاہئے۔۔۔!!! ➖➖➖➖➖➖➖➖➖

  • اگر کوئی طلاق کے بعد بھی ساتھ رہے تو اس سے رشتہ توڑ سکتے ہیں؟ مفتی طارق مسعود صاحب Agar_Koi_Talaq_Ke_Baad_Bhi_Saath_Hai_Toh_Unse_Rishta_Tod_Sakte Hain? Ask_Mufti_Tariq_Masood

  • بیوی کا بار بار طلاق کا مطالبہ کرنا صحیح ہے ؟ مفتی طارق مسعود صاحب Biwi_Ka_Baar_Baar_Talaq_Magna_Kya_Sahi_Hai? Ask_Mufti_Tariq_Masood Sahab

  • لڑکے لڑکیوں کو آسانی سے بیوقوف بناتے ہیں! مفتی طارق مسعود صاحب Ladke_Ladkiyon_Ko_Asani_Se_Bewkoof_Bana_Dete_Hain! Mufti_Tariq_Masood Sahab

  • *میرے ابو plzzz خدا کا واسطہ مجھے زبردستی کسی لڑکے کے ساتھ نہ لگائیں۔ میری زندگی کو جہنم نہ بنائیں ، میں آپ کی عزت کے لئے اس رشتے کو exept کر سکتی ہوں، مگر میں یہ کہوں گی کہ شریعت نے مجھے جو حق دیا ہے آپ نے اسے چھین کر مجھ پر زبردستی کی ہے۔* آپ مجھے جیسے ماحول میں بھیج رہے ہیں میں وہاں جی نہیں سکتی۔ میں نے یونیورسٹی میں ضرور تعلیم حاصل کی ہے مگر خالص یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ کو میں ترجیح نہیں دے سکتی ۔ *مجھے دیندار لڑکا چاہیے، جو نماز کا پابند ہو۔ حافظ و عالم ہو گرچہ روپے پیسے کم ہوں اس کے پاس ، میں برداشت کرلونگی۔ مگر اب ، میں خود کو زمانے کے ماحول سے الگ کرنا چاہتی ہوں، میں رشتوں سے راضی نہیں ہوں۔ اللہ کا واسطہ مجھے کوئی دیندار لڑکے کا سہارا دیں، جو میری باقی کی زندگی کو بہتر کرنے میں میرا ساتھ دے، مجھے سیدھا راستہ بتائے۔* اور اگر ایسا نہ ہؤا، میرے مزاج کو نہ سمجھا گیا تو یہ بات یقینی ہے کہ *میں اپنی زندگی کو موت پر ترجیح دونگی* موت کا جو بھی طریقہ ہو، اسے اختیار کرونگی۔ ہاں مجھے معلوم ہے کہ خود کشی حرام ہے، اس کے نتائج بہت خطرناک ہیں، سب میرے علم میں ہے۔ اب فیصلہ آپ پر ہے۔ والسلام ..... میں آپ کی بیٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *خدا حافظ ابو، بڑے بھائی، بہن، باقی گھر کے لوگ*😢 میں اب زیادہ کچھ نہیں لکھ سکتی ۔ اللہ کا واسطہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شریعت کا خیال کریں اور میری آخرت کا ۔ علماء کرام! *میری باتوں کا اپنی تقریر کا حصہ بنائیں اور خاص طور پر بہار کے امام صاحب لوگ۔ بہت مہربانی ہوگی۔ میں آپ کی بہتر زندگی اور مغفرت کی دعاء کرونگی اور کر رہی ہوں*

  • میں سوچتی ہوں *خود کشی کرلوں*۔ 😭😭 عافیہ ناز (حقیقی نام نہیں ہے) _____ مگر چند سوالات کے جواب چاہتی ہوں علماء کرام، مسجد کے امام، تبلیغ کے امیر اور جلسوں کے مقرر سے۔ (1) *میری خود کشی کا ذمہ دار* کون ہوگا ؟ *میں خود؟* یا میرے گھر کے تمام بڑے لوگ؟ (2)۔ کیا لڑکی اتنی کمتر ہے کہ آپ جہاں چاہیں اسے *شادی پر مجبور کریں؟* (3) کیا میں اپنے پسند کی *شادی نہیں کر سکتی* ؟ یا غریب سے *شادی کرنا منع ہے؟* (4) عرب ممالک میں رہنے والوں(جو دودو سال بیوی سے دور رہیں )سے *شادی کا حاصل ہی کیا ہے* ؟ (5) کیا نکاح کے بعد باہر چلے جانے والے افراد کی *بیوی، اب محفوظ ہے*؟ میری باتیں اور دل کا درد مذکورہ سوالوں کو پڑھ کر آپ نے محسوس کرلیا ہوگا۔ شاید اب زیادہ کچھ لکھنے کی مجھے ضرورت نہیں ۔ *ہاں یہ سچ ہے ہر ایک بات حقیقت اور درست ہے*۔ آج ہوتا یہی ہے جو آپ پڑھ رہے ہیں۔ زمانے کے لحاظ سے میں ایک بڑے گھر کی لڑکی ہوں( جسے میں خود نہیں مانتی) کیونکہ پورے گھر والے کو اپنے بڑے ہونے کا غرور ہے ۔ جبکہ قرآن کا پیغام ہے، بڑا کوئی نہیں ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی نظر میں سب سے اچھے وہ ہیں جو تقوی والے ہیں ۔ اور تقویٰ والا ہونے کا مطلب آج یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ انسان حاجی ہو، نمازی ہو، یا نارمل حافظ و مولانا ہو تو وہ تقوی والے ہیں ۔ میرا ماننا ہے یہ سوچ غلط ہے ، خیر۔۔۔۔۔ علماء پر مجھے کچھ نہیں لکھنا ، یہ بڑے ہیں ، قابل احترام ہیں۔۔۔۔۔۔ بات حاجی صاحب اور نمازی صاحب کی ہے ۔ جو دینی تعلیم سے دوری کے سبب ایسے ایسے فیصلے اپنے گھروں میں نافذ کراتے ہیں جو نہ یہ کہ صرف بچوں پر گراں ہوتا ہے بلکہ شریعت بھی اتنی سختی سے کہیں پیش نہیں آتی ۔ یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر وہی سب، جو، ان کی عقل سمجھ پاتی ہے۔ یہ بات ایمان اور یقین کی خوب کرتے ہیں ، کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں کہ جب بیمار پڑ جائیں تو دوائی نہیں خریدتے کیونکہ ان کا ایمان ہے ، مرض اللہ نے دیا ہے تو شفا بھی اللہ ہی دینگے، اتنا مضبوط ایمان اچھی بات ہے لیکن شریعت کا حکم بیمار ہونے پر علاج کرانے کا ہے۔ *اب ان کا ایمان ، اللہ پر یقین اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل دیکھیں* بات میرے رشتے کی چل رہی ہے،۔ مگر مجھے کوئی خبر نہیں ( مجھ سے پوچھا ہی نہیں گیا) اور کئی کئی لوگ آئے اور دیکھ کر گئے، ہر ایک نے میری تصویر بھی لی ، میرا تماشا بنا ، رشتوں کا انکار ہؤا ، مگر میری تصاویریں ان کے پاس محفوظ ہیں۔ رشت داروں میں اچھا رشتہ موجود ہے، *مگر انہیں اپنے تعلقات وسیع کرنے ہیں، اسی لئے رشتہ داروں یا پھر اپنی برادری کو چھوڑ کر دوسروں میں رشتے کی تلاش ہے* ( یہ جملہ حقیقت ہے میں نے غصے میں نہیں لکھا ہے) ایک خوبصورت لڑکا جو بہتر ہے ، مزاج بھی اچھا ہے، مگر مالی حالت بہت مضبوط نہیں ، اسی لئے اسے ایکسیپٹ نہیں کیا گیا ۔ ایک لڑکا جو انجینئر ہے ، بہت اچھا بھی نہیں ہے، ( مجھے پسند بھی نہیں) مگر اس کی جیب میں اچھی رقم ہے اور وہ سالوں سال باہر رہتا ہے، آپ نے اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند کیا ؟ ایسا کیوں ؟ اب کہا ں گیا ایمان اور اللہ پر یقین ؟ *اب یہ سوچیں نا، کہ نکاح سے برکت ہوتی ہے اسی لئے ایک دیندار لڑکے سے اپنی بچی کا رشتہ کرائیں،* جو آپ کی بچی کو حجاب میں رکھے، اس کی ضرورت پوری کرے، اسے وقت دے اور نکاح کے تقاضوں کے ساتھ زندگی گزارے۔ مگر نہیں کرینگے آپ ایسا ۔ بتاؤں کیوں ؟ کیونکہ آپ کو ترجیح اپنے Ego کو دینا ہے،۔ آپ کو Priority روپے پیسے کو دینا ہے۔ آپ کو یہ شور کرنا ہے کہ میرا داماد Engineer ہے، میرا داماد Businessman ہے، Although وہ دیندار نہیں، گرچہ وہ نماز کا پابند نہیں اس سے کوئی مطلب نہیں آپ کو۔ آپ کو بچہ تو مولانا طارق جمیل صاحب جیسا چاہے، خواجہ نظام الدین اولیاء جیسا چاہیے ، اور ان بچوں کا باپ کیسا ہونا چاہیے یہ آپ سوچیں گے بھی کیوں، کیونکہ آپ کو سارا قصور ہم لڑکیوں کے سر ڈالنا ہے ۔ *جبکہ بچوں کے اچھا ہونے میں ماں اور باپ دونوں کے کردار کو دخل ہے۔* میں بہت کچھ نہیں لکھ پا رہی ہوں، تحریر کے قلم کرتے وقت بھی مجھے ابو کا ڈر ہے، پلیز میری باتوں کو پڑھ لیں اور آپ لوگ اپنی بچی پر ایسا ظلم نہ کریں۔ *اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بچی سے نکاح کی اجازت لی تھی* اور خواہش معلوم ہونے کے بعد رشتہ کو مکمل کیا ۔ مگر آپ ہیں کہ سب کچھ خود کرینگے اور مجھے زبردستی قبول کرنے پر مجبور کرینگے، کیوں کر رہے ہیں آپ مجھ پر ظلم؟

  • #نصائح ”اگر تمہیں اپنے عمل میں لذت نہیں آتی دل میں انشراح نہیں آتا تو پھر تمہیں اپنے دل کا (یا اس عمل کا بھی) جائزہ لینا چاہیے۔ کیونکہ رب ذوالجلال تو بڑا قدردان اور شکور ہے۔ ضروری ہے کہ وہ اپنے بندے کو اس کے عمل کا اسی دنیا میں بھی بدلہ دے۔ یعنی اس عمل کی حلاوت و شیرینی کا ، دل کے انشراح اور آنکھوں کا ٹھنڈا ہونا۔ اگر یہ چیزیں حاصل نہیں ہیں تو اس عمل میں ضرور کہیں کوئی خرابی ہے جو اس محرومی کا باعث ہے!“ منقول ۔۔۔ *(شیخ الاسلام امام ابن تیمیه رحمه الله)*

  • #نصائح *.. ایک تحقیق کے مطابق موبائل مسلسل استعمال کرنے سے انسان اکیلا رہ جاتا ہے آہستہ آہستہ اس کے دوستوں کے ساتھ دوریاں بڑھنے لگتی ہیں وہ اپنے گھر والوں کو کم وقت دینے لگتا ہے اور آخر میں وہ سخت ذہنی دباٶ کا شکار ہو کر ڈپریشن میں چلا جاتا ہے ۔۔ ایک بات یاد رکھیے موبائل کا استعمال صرف وقت گزاری کے لئے کریں اسے اپنا سارا وقت مت دیں ورنہ اس سے باہر کی دنیا خوبصورت ہوتے ہوئے بھی آپکو سکون نہیں دے گی...* *اپنوں کی قدر زندگی میں کریں ورنہ مٹی کی چادر اوڑھنے کے بعد ان کے لئے آنسو مت  بہائیں ..*      *منقول*