tgindex
حــــدیثِ رســــــولﷺ

حــــدیثِ رســــــولﷺ

Статистика

آپ تمام سے گزارش ہماری پیش کی گئی احادیث کو پڑھیں عمل کریں اور دوسروں تک بھی پہچائیں یہ چینل حــــدیثِ رســــــولﷺ کے لیے بنا ہے اس میں صحیح حدیث سینڈ کی جاتی ہے •°• ایڈمن ٹیم: حـدیثِ رسولﷺ 🌴°•°

Последний пост
13 авг.
Последнее чтение
15 авг.
Постов за неделю
4
Всего постов
22
Тип
открытый
Язык
ur
Категория
Религия (по похожим)
В каталоге с
13 авг.
Подписчики
4 179
−1 за 3 дн.
Сутки
+2
+0,05%
Неделя
 
Месяц
 
Просмотров на пост
167
22 постов
Вовлечённость
4,0%
к подписчикам
Постов в день
0,6
всего 22
Упоминаний
17
каналов
Охват размещения
оценка
1/24сутки в ленте
90
1/48двое суток
103
1/72трое суток
111

Оценка по просмотрам недавних постов: пост набирает почти всё за первые сутки.

Посты

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: رعایا کے حقوق میں خیانت کرنے والے حکمران کے لئے دوزخ کا بیان حدیث نمبر: 364 حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ دَخَلَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ عَلَی مَعْقَلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنِّي مُحَدِّثُکَ حَدِيثًا لَمْ أَکُنْ حَدَّثْتُکَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ عَبْدًا رَعِيَّةً يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ قَالَ أَلَّا کُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ قَالَ مَا حَدَّثْتُکَ أَوْ لَمْ أَکُنْ لَأُحَدِّثَکَ ترجمہ: یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، یونس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسار ؓ کی بیماری میں ان کی عیادت کے لئے آئے ان کا حال پوچھا حضرت معقل ؓ کہنے لگے کہ میں تجھ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے ابھی تک بیان نہیں کی وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جسے لوگوں کا حکمران بناتا ہے اور پھر وہ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوئے مرتا ہے تو اللہ اس پر جنت حرام کردیتا ہے، ابن زیادہ کہنے لگا کیا تم مجھ سے اس سے پہلے یہ حدیث نہیں بیان کرچکے؟ حضرت معقل ؓ نے فرمایا میں نے تجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی یا یہ فرمایا کہ میں تجھے اس سے پہلے یہ حدیث بیان نہیں کرسکا۔ Translation: Hasan reported: Ubaidullah bin Ziyad went to see Maqil bin Yasir and he was ailing. He (Ubaidullah) inquired (about his health) to which he (Maqil) replied: I am narrating to you a hadith which I avoided narrating to you (before). Verily the Messenger of Allah ﷺ observed: Allah does not entrust to his bondsman the responsibility of managing the affairs of his subjects and he dies as a dishonest (ruler) but Paradise is forbidden by Allah for such a (ruler). He (Ibn Ziyad) said: Why did you not narrate it to me before this day? He replied: I (in fact) did not narrate it to you as it was not (fit) for me to narrate that to you.

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: رعایا کے حقوق میں خیانت کرنے والے حکمران کے لئے دوزخ کا بیان حدیث نمبر: 363 حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَالَ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُکَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُکَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ترجمہ: شیبان بن فروخ، ابواشہب، حسن کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسار ؓ کے مرض الموت میں ان کی عیادت کے لئے آیا تو حضرت معقل ؓ نے فرمایا کہ میں تجھے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنی ہے اگر مجھے اپنے زندہ رہنے کا علم ہوتا تو میں تجھے بیان نہ کرتا میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی آدمی ایسا نہیں کہ اللہ اسے رعایا پر حاکم بنائے اور وہ ان کے حقوق میں خیانت کرے تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا۔ Translation: Hasan reported: Ubaidullah bin Ziyad paid a visit to Maqil bin Yasar Muzani in his illness of which he (later on) died. (At this juncture) Maqil said: I am going to narrate to you a hadith which I have heard from the Messenger of Allah ﷺ and which I would not have transmitted if I knew that I would survive. Verily I have heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is none amongst the bondsmen who was entrusted with the affairs of his subjects and he died in such a state that he was dishonest in his dealings with those over whom he ruled that the Paradise is not forbidden for him

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی کسی کا ناحق مال مارے تو اس آدمی کا خون جس کا مال مارا جا رہا ہے اس کے حق میں معاف ہے اور اگر وہ مال مارتے ہوئے قتل ہوگیا تو دوزخ میں جائے گا اور اگر وہ قتل ہوگیا جس کا مال مارا جا رہا تھا وہ تو شہید ہے۔ حدیث نمبر: 362 حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ترجمہ: محمد بن حاتم، محمد بن بکر، احمد بن عثمان نوفلی، ابوعاصم، ابن جریج ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔ Translation: This hadith has been narrated by Muhammad bin Hatim, Muhammad bin Bakr, Ahmad bin Uthman Naufali, Abu Asim, Ibn Juraij.

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی کسی کا ناحق مال مارے تو اس آدمی کا خون جس کا مال مارا جا رہا ہے اس کے حق میں معاف ہے اور اگر وہ مال مارتے ہوئے قتل ہوگیا تو دوزخ میں جائے گا اور اگر وہ قتل ہوگیا جس کا مال مارا جا رہا تھا وہ تو شہید ہے۔ حدیث نمبر: 361 حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا کَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَبَيْنَ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا کَانَ تَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ فَرَکِبَ خَالِدُ بْنُ الْعَاصِ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَوَعَظَهُ خَالِدٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ترجمہ: حسن بن علی حلوانی، اسحاق بن منصور، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، سلیمان، ثابت سے روایت ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ اور عنبسہ بن ابی سفیان ؓ دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا دونوں لڑنے کے لئے تیار ہوگئے تو حضرت خالد بن العاص ؓ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی طرف سوار ہو کر آئے اور انہیں سمجھایا تو حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اپنا مال بچاتے ہوئے قتل ہوجائے وہ شہید ہے۔ Translation: It is narrated on the authority of Thabit, that when Abdullah bin Amr and Anbasa bin Abi Sufyan were about to fight against each other, Khalid bin As rode to Abdullah bin Amr and persuaded him (not to do so). Upon this Abdullah bin Amr said: Are you not aware that the Messenger of Allah ﷺ had observed:" He who died in protecting his property is a martyr."

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی کسی کا ناحق مال مارے تو اس آدمی کا خون جس کا مال مارا جا رہا ہے اس کے حق میں معاف ہے اور اگر وہ مال مارتے ہوئے قتل ہوگیا تو دوزخ میں جائے گا اور اگر وہ قتل ہوگیا جس کا مال مارا جا رہا تھا وہ تو شہید ہے۔ حدیث نمبر: 360 حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جَائَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي قَالَ فَلَا تُعْطِهِ مَالَکَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي قَالَ قَاتِلْهُ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي قَالَ فَأَنْتَ شَهِيدٌ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ قَالَ هُوَ فِي النَّارِ ترجمہ: ابوکریب، محمد بن علاء، ابن مخلد، محمد بن جعفر، علاء بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کرنے لگا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ اس آدمی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی میرا مال لینے (چھیننے کیلئے) آئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو اس کو نہ دے، اس نے عرض کیا اگر وہ مجھ سے لڑے تو آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو بھی اس سے لڑ، اس نے عرض کیا اگر وہ مجھے مار ڈالے؟ (قتل کردے) آپ ﷺ نے فرمایا تو شہید ہوگا، اس نے عرض کیا اگر میں اس کو مار ڈالوں (قتل کردوں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ دوزخ میں جائے گا۔ Translation: Abu Hurairah (RA) reported: A person came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, what do you think if a man comes to me in order to appropriate my possession? He (the Holy Prophet) said: Dont surrender your possession to him. He (the inquirer) said: If he fights me? He (the Holy Prophet) remarked: Then fight (with him). He (the inquirer) again said: What do you think if I am killed? He (the Holy Prophet) observed: You would be a martyr. He (the inquirer) said: What do you think of him (Messenger of Allah) If I kill him. He (the Holy Prophet) said: he would be in the Fire.

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔ حدیث نمبر: 359 حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا إِنَّ هَذَا انْتَزَی عَلَی أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْکِنْدِيُّ وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِبْدَانَ قَالَ بَيِّنَتُکَ قَالَ لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ قَالَ يَمِينُهُ قَالَ إِذَنْ يَذْهَبُ بِهَا قَالَ لَيْسَ لَکَ إِلَّا ذَاکَ قَالَ فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ إِسْحَقُ فِي رِوَايَتِهِ رَبِيعَةُ بْنُ عَيْدَانَ ترجمہ: زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابی ولید، زہیر، ہشام بن عبدالملک، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر، علقمہ بن وائل ابن حجر کہتے ہیں کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے پاس تھا کہ اتنے میں دو آدمی ایک زمین کے سلسلہ میں جھگڑتے ہوئے آئے ان میں سے ایک نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اس آدمی نے زمانہ جاہلیت میں میری زمین چھین لی وہ امرؤ القیس بن عابس کندی تھا اور اس کا حریف جس سے جھگڑا ہوا وہ ربیعہ بن عبد ان تھا آپ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس اس بات کے گواہ ہیں؟ اس نے کہا میرے پاس گواہ نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا پھر مدعا علیہ پر قسم ہے، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ تو میرا مال دبالے گا، آپ ﷺ نے فرمایا اس کے بغیر تو کوئی چارہ نہیں پھر جب وہ قسم اٹھانے کے لئے کھڑا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی ظلمًا کسی کی زمین دبائے گا تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا اسحاق کی روایت میں ریبعہ بن عیدان ہے۔ Translation: Wail reported it on the authority of his father Hujr: I was with the Messenger of Allah ﷺ that two men came there disputing over a piece of land. One of them said: Messenger of Allah, this man appropriated my land without justification in the days of ignorance. The (claimant) was Imrul-Qais bin Abis al-Kindi and his opponent was Rabia bin Iban He (the Holy Prophet) said (to the claimant): Have you evidence (to substantiate your claim)? He replied: I have no evidence. Upon this he (the Messenger of Allah) ﷺ remarked: Then his (that is of the defendant) is the oath. He (the claimant) said: In this case he (the defendant) would appropriate this (the property). He (the Holy Prophet) said: There is than no other way left for you but this. He (the narrator) said: When he (the defendant) stood up to take oath, the Messenger of Allah ﷺ said: He who appropriated the land wrongfully would meet Allah in a state that He would be angry with him. Ishaq in his narration mentions Rabia bin Aidan (instead of Rabia bin Ibdan).

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔ حدیث نمبر: 358 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَأَبُو عَاصِمٍ الْحَنَفِيُّ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ کِنْدَةَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَی أَرْضٍ لِي کَانَتْ لِأَبِي فَقَالَ الْکِنْدِيُّ هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ أَلَکَ بَيِّنَةٌ قَالَ لَا قَالَ فَلَکَ يَمِينُهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَی مَا حَلَفَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ لَيْسَ لَکَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِکَ فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَی مَالِهِ لِيَأْکُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ ترجمہ: قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، ہناد بن سری، ابوعاصم حنفی، ابوالاحوص، سماک، علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرموت کا اور ایک آدمی کندہ کا دونوں نبی ﷺ کی خدمت میں آئے حضری نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ اس آدمی نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے جو کہ مجھے میرے باپ سے ملی تھی، کندی نے کہا کہ یہ زمین میری ہے میں اس میں کاشت کرتا ہوں اس زمین میں اس کا کوئی حق نہیں، نبی ﷺ نے حضری سے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا تو اس سے قسم لے لے، اس حضری نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ آدمی فاجر ہے جھوٹی قسم کھانے میں بھی کوئی پرواہ نہیں کرے گا اور کسی چیز سے پرہیز بھی نہیں کرے گا ہر طرح اپنی بات منوانے کی کوشش کرے گا، آپ ﷺ نے فرمایا اب تیرے لئے اس کی قسم کے علاوہ کوئی چارہ نہیں پھر وہ آدمی قسم کھانے چلا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی پشت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا کہ اگر اس نے دوسرے کا مال ظلماً مارنے کی خاطر قسم کھائی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے اعراض کرے گا بوجہ ناراضگی اس پر متوجہ نہ ہوگا۔ Translation: It is narrated on the authority of Wail that there came a person from Hadramaut and another one from Kinda to the Apostle ﷺ . One who had come from Hadramaut said: Messenger of Allah, only this man has appropriated my land which belonged to my father. The one who had came from Kinda contended. This is my land and is in my possession: I cultivate it. There is no right for him in it. The Messenger of Allah ﷺ said to the Hadramite: Have you any evidence (to support you)? He replied in the negative. He (the Apostle of Allah ﷺ ) said: Then your case is to be decided on his oath. He (the Hadramite) said: Messenger of Allah, he is a liar and cares not what he swears and has no regard for anything. Upon this he (the Messenger of Allah) ﷺ remarked: For you then there is no other help to it. He (the man from Kinda) set out to take an oath. When he turned his back the Messenger of Allah ﷺ observed: If he took an oath on his property with a view to usurping it, he would certainly meet his Lord in a state that He would turn away from him.

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔ حدیث نمبر: 357 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ وَعَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَعْيَنَ سَمِعَا شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَلَفَ عَلَی مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقِّهِ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ ترجمہ: ابن ابی عمر مکی، سفیان، جامع بن ابوراشد، عبدالملک، ابن اعین، شقیق بن سلمہ، ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو فرماتے ہوئے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس آدمی نے کسی مسلمان آدمی کا مال دبانے کے لئے ناحق قسم اٹھائی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی تصدیق میں اللہ کی کتاب قرآن مجید میں آیت کریمہ پڑھی (اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَ مَنًا قَلِيْلًا الخ۔ ) 3۔ آل عمران: 77) آخر تک جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کے بدلہ میں ثمنا قلیلا لے لیتے ہیں آخرت میں ان کا حصہ نہیں۔ Translation: Ibn Masud says: I heard the Messenger of Allah ﷺ observing: He who took an oath on the property of a Muslim without legitimate right would meet Allah and He would be angry, with him. Then the Messenger of Allah ﷺ in support of his contention recited the verse:" Verily those who barter Allahs covenant and their oaths at a small price.

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔ حدیث نمبر: 356 حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ کَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ شَاهِدَاکَ أَوْ يَمِينُهُ ترجمہ: اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابو وائل، عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ جس آدمی نے کسی کا مال دبانے کی خاطر جھوٹی قسم کھائی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے پھر اعمش کی حدیث کی طرح ذکر کیا مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میرے اور ایک آدمی کے درمیان ایک کنوئیں کا جھگڑا تھا ہم نے یہ جھگڑا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا آپ ﷺ نے مدعی سے فرمایا کہ تو گواہ پیش کر ورنہ مدعا علیہ پر قسم ہے۔ Translation: It is narrated on the authority of Abdullah that he heard the Prophet ﷺ saying: He who took an oath in order to entitle himself (to the possession) of a property, whereas he is a liar, would meet Allah in a state that He would be very much angry with him. Then the remaining part of the hadith was narrated as transmitted by Amash but with the exception of these words: There was a dispute between me and another person in regard to a well. We referred this dispute to the Messenger of Allah ﷺ . Upon this he remarked: Either (you should produce) two witnesses (to support your contention) or his oath (would be accepted as valid).

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔ حدیث نمبر: 355 حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ مَا يُحَدِّثُکُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالُوا کَذَا وَکَذَا قَالَ صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِيَّ نَزَلَتْ کَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ أَرْضٌ بِالْيَمَنِ فَخَاصَمْتُهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ لَکَ بَيِّنَةٌ فَقُلْتُ لَا قَالَ فَيَمِينُهُ قُلْتُ إِذَنْ يَحْلِفُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِکَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَنَزَلَتْ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ ترجمہ: ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن نمیر، ابومعاویہ، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، اعمش ابوائل، عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کسی آدمی نے کسی حاکم کے حکم سے کسی مسلمان کا مال دبانے کے لئے قسم کھائی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس پر اللہ ناراض ہوگا، روای کہتے ہیں کہ اشعث بن قیس ؓ حاضرین کے پاس آکر کہنے لگے کہ ابوعبدالرحمن نے تم سے کیا بیان کیا ہے انہوں نے کہا کہ اس طرح، حضرت اشعث ؓ نے کہا کہ ابوعبدالرحمن نے سچ فرمایا ہے اس حدیث کا تعلق مجھ سے ہے، یمن میں میرے اور ایک آدمی کے درمیان زمین کا جھگڑا تھا یہ جھگڑا نبی ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا آپ ﷺ نے فرمایا اس آدمی سے قسم لے لو میں نے عرض کیا وہ تو جھوٹی قسم اٹھا لے گا رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جو آدمی کسی مسلمان کا مال دبانے کے لئے جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا پھر یہ آیت نازل ہوئی یقینا جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کے بدلہ میں (ثمناً قلیلاً ) تھوڑا مول لے لیتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں یہ آیت کریمہ آخر تک تلاوت فرمائی۔ Translation: It is narrated on the authority of Abdullah (b. Umar) that the Messenger of Allah ﷺ observed: He who perjured with a view to appropriating the property of a Muslim, and he is in fact a liar and would meet Allah in a state that He would be angry with him. He (the narrator) said: There came Ashath bin Qais and said (to the people): What does Abu Abdur-Rahman (the Kunya of Abdullah bin Umar (RA) ) narrate to you? They replied: So and so. Upon this he remarked: Abu Abdur-Rahman told the truth. This (command) has been revealed in my case. There was a piece of land in Yemen over which I and another person had a claim. I brought the dispute with him to the Apostle of Allah ﷺ (to decide) He (the Holy Prophet) said: Can you produce an evidence (in your support)? I said: No. He (the Holy Prophet) observed: (Then the decision would be made) on his oath. I said: He would readily take an oath. Upon this the Messenger of Allah ﷺ remarked: He who perjured for appropriating the wealth of a Muslim, whereas he is a liar, would meet Allah while He would be angry with him. This verse was then revealed:" Verily those who barter Allahs covenant and their oaths at a small price..." (iii 77).

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔ حدیث نمبر: 354 حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ کَعْبٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ترجمہ: ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ہارون بن عبداللہ، ابواسامہ، ولید بن کثیر، محمد بن کعب سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی عبداللہ بن کعب سے سنا کہ وہ فرماتے تھے کہ حضرت ابوامامہ حارثی ؓ نے فرمایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سنا۔ Translation: This hadith has been transmitted by another chain of narrators: Abu Bakr (RA) bin Abi Shaiba, Ishaq bin Ibrahim, Harun bin Abdullah, Abi Usama, Walid bin Kathir, Muhammad bin Kab, his brother Abdullah bin Kab and Abi Usama

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔ حدیث نمبر: 353 حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الْعَلَائُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَی الْحُرَقَةِ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ کَعْبٍ السَّلَمِيِّ عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَإِنْ کَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاکٍ ترجمہ: یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، علاء، ابن عبدالرحمن، معبد بن کعب سلمی، عبداللہ بن کعب، ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارا تو اللہ اس کے لئے دوزخ کو لازم کر دے گا اور اس پر جنت کو حرام کر دے گا ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ وہ پیلو درخت کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔ Translation: It is narrated on the authority of Abu Umama that the Messenger of Allah ﷺ observed: He who appropriated the right of a Muslim by (swearing a false) oath, Allah would make Hell-fire necessary for him and would declare Paradise forbidden for him. A person said to him: Messenger of Allah, even if it is something insignificant? He (the Holy Prophet) replied: (Yes) even if it is the twig of the arak tree.

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟ حدیث نمبر: 352 حَدَّثَنَاإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْمُخْتَارِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ إِسْحَقَ لَمْ يَذْکُرْ قَالَ قَالَ اللَّهُ إِنَّ أُمَّتَکَ ترجمہ: اسحاق بن ابراہیم، جریر ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، مختار، انس ایک دوسری سند میں حضرت انس ؓ سے یہ روایت بھی نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح ذکر کی گئی ہے اس میں آپ ﷺ کی امت کا ذکر نہیں ہے۔ Translation: This hadith has been narrated by another chain of transmitters with the exception that Ishaq made no mention of this: Allah said: Verily your people.

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟ حدیث نمبر: 351 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ أُمَّتَکَ لَا يَزَالُونَ يَقُولُونَ مَا کَذَا مَا کَذَا حَتَّی يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ترجمہ: عبداللہ بن عامر بن زرارہ، محمد بن فضیل، مختار بن فلفل، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کی امت کے لوگ ہمیشہ کہتے رہیں گے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہاں تک کہ کہیں گے کہ ساری مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ Translation: Anas bin Malik (RA) transmitted it from the Messenger of Allah ﷺ that the Great and Glorious Allah said: Verily your people would constantly question about this and that till they would say: Well, it is Allah Who created the creation, but who created Allah?

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟ حدیث نمبر: 350 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْأَلَنَّکُمْ النَّاسُ عَنْ کُلِّ شَيْئٍ حَتَّی يَقُولُوا اللَّهُ خَلَقَ کُلَّ شَيْئٍ فَمَنْ خَلَقَهُ ترجمہ: محمد بن حاتم، کثیر بن ہشام، جعفر بن برقان، یزید بن اصم، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے لوگ ہر چیز کے متعلق پوچھیں گے یہاں تک کہ یہ بھی کہیں گے کہ ہر چیز کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ Translation: Yazid bin al-Asamm said: I heard Abu Hurairah (RA) saying that the Messenger of Allah ﷺ observed: people will certainly ask you about everything till they will propound: Allah created every thing, but who created Allah?

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟ حدیث نمبر: 349 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَکَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَتَّی يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَائَنِي نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ فَقَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا اللَّهُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ فَأَخَذَ حَصًی بِکَفِّهِ فَرَمَاهُمْ ثُمَّ قَالَ قُومُوا قُومُوا صَدَقَ خَلِيلِي ترجمہ: عبداللہ بن رومی، نضر بن محمد عکرمہ، ابن عمار، ابوسلمہ، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا اے ابوہریرہ ؓ یہ لوگ تجھ سے ہمیشہ پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ کہیں گے کہ یہ تو اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ دیہاتی لوگ آکر کہنے لگے اے ابوہریرہ یہ تو اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے مٹھی بھر کر کنکریاں ان کو مار کر کہا اٹھو چلے جاؤ۔ میرے دوست ﷺ نے سچ فرمایا۔ Translation: Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said to me: they (the people) till constantly ask you, Abu Hurairah (RA) , (about different things pertaining to religion) the they would say: Well, there is Allah, but after all who created Allah? He ( Abu Hurairah (RA) ) narrated: Once we were in the mosque that some of the Bedouins came there and said: Well, there is Allah, but who created Allah? He (the narrator) said: I took hold of the pebbles in my fist and flung at them and remarked: Stand up, stand up (go away) my friend (the Holy Prophet) told the truth.

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟ حدیث نمبر: 348 حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِسْنَادِ وَلَکِنْ قَدْ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ترجمہ: زہیر بن حرب، یعقوب دورقی، اسماعیل، ابن علیہ، ایوب، محمد، ابوہریرہ ؓ ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں نبی ﷺ کا ذکر نہیں لیکن حدیث کے آخر میں یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا۔ Translation: It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that he said: The people will constantly, and the rest of the hadith is the same as that transmitted by Abdul-Warith with the exception that there is no mention of the Apostle of Allah ﷺ in that, but he observed at the end of the hadith: Allah and His Messenger told the truth

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟ حدیث نمبر: 347 حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَکُمْ عَنْ الْعِلْمِ حَتَّی يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ أَوْ قَالَ سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّانِي ترجمہ: عبدالوارث بن عبدالصمد، ایوب، محمد بن سیرین ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ لوگ تجھ سے ہمیشہ علم کے بارے میں پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ یہ کہیں گے کہ ہمارا خالق تو اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ اس حدیث کی روایت کرتے ہوئے اس آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے مجھ سے دو آدمی سوال کرچکے ہیں اور یہ تیسرا ہے یا فرمایا مجھ سے ایک آدمی سوال کرچکا ہے اور یہ دوسرا ہے۔ Translation: It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: People will constantly ask you questions pertaining to knowledge till they would say: Allah created us, but who created Allah? he (the narrator) says: he (Abu Huraira) was (at the time of narrating this hadith) catching hold of the hand of a man and he said: Allah and the Messenger told the truth. Two persons have already put me this question, and this is the third one, or he said: One man has put me this question and he is the second one.

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟ حدیث نمبر: 346 حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الْعَبْدَ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ کَذَا وَکَذَا مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ترجمہ: عبدالملک بن شعیب، ابن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان بندے کے پاس آکر کہتا ہے کہ اس اس کو کس نے پیدا کیا آگے مذکورہ حدیث کی طرح۔ Translation: It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ may peace be upon him) observed: The Satan comes to everyone. of you and says: Who created this and that? till he questions: Who created your Lord? When he comes to that, one should seek refuge in Allah and keep away (from such idle thoughts).

  • صحیح مسلم کتاب: ایمان کا بیان باب: ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟ حدیث نمبر: 345 حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَکُمْ فَيَقُولَ مَنْ خَلَقَ کَذَا وَکَذَا حَتَّی يَقُولَ لَهُ مَنْ خَلَقَ رَبَّکَ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِکَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ ترجمہ: زہیر بن حرب، عبد بن حمید، یعقوب، زہیر یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے تو کہتا ہے کہ اس طرح اس طرح کس نے پیدا کیا یہاں تک کہ وہ کہتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا تو جب وہ یہاں تک پہنچے تو اللہ سے پناہ مانگو اور اس وسوسہ سے اپنے آپ کو روک لو۔ Translation: This hadith is transmitted by Urwa bin Zubair on the authority of Abu Hurairah (RA) (and the words are): The Satan comes to the bondsman (of Allah) and says: Who created this and that? The remaining part of the hadith is the same.